ہمارے لیے صبح کے ہونٹ پر بددعا ہے

سرمد صہبائی: سنو شہر والو
کہاں ہے ہمارے لہو کی بشارت
ہمارے پراسرار خوابوں کا موسم
کہاں ہے ہمارے لہو کی بشارت
ہمارے پراسرار خوابوں کا موسم
روٹی کے ٹکڑے کے لئے ایک جنگ

سدرہ سحر عمران: جب بارود کا دن آتا ہے
لاشیں گنتی میں بدل جاتی ہیں
لاشیں گنتی میں بدل جاتی ہیں
عریاں بدن کا مستور چہرہ

حسین عابد: وہ عورت
جو سڑک پر اپنا بدن بیچتی ہے
اس کے کئی چہرے ہیں
جو سڑک پر اپنا بدن بیچتی ہے
اس کے کئی چہرے ہیں
نیند پری کی موت

علی محمد فرشی: ننھے نور بھرے ہاتھوں سے
کالی پالش کی ڈبیا گر پڑتی ہے
اور گلوب کی صورت گھومنے لگتی ہے
کالی پالش کی ڈبیا گر پڑتی ہے
اور گلوب کی صورت گھومنے لگتی ہے
قبرستان کے نل پر

شارق کیفی:
سو کون کتنا برا ہے یہ بات بھول کر
صرف نل چلاؤ
چلائے جاؤ
کہ جب تلک بھیڑ میں ہر اک خاص و عام کے
پاؤں نہ دھل جائیں
سو کون کتنا برا ہے یہ بات بھول کر
صرف نل چلاؤ
چلائے جاؤ
کہ جب تلک بھیڑ میں ہر اک خاص و عام کے
پاؤں نہ دھل جائیں
ہماری خاموشی، تمہاری داستانیں

تنویر انجم: ہمیشہ رہے گا
ہماری خاموشی اور تمہاری داستانوں کے درمیان
ایک گہرا ربط
جوتمہیں نہیں معلوم
ہماری خاموشی اور تمہاری داستانوں کے درمیان
ایک گہرا ربط
جوتمہیں نہیں معلوم
ہمیں کروٹ بدلنے کی مہلت بھی نہیں ملتی

عذرا عباس: وقت تشدد کی چوکڑی بھرتا ہوا
ہمارے بیچوں بیچ سے نکل جاتا ہے
ہمارے بیچوں بیچ سے نکل جاتا ہے
عشرہ // ناموسِ رسالت کا ٹھیکیدار

ہمراز سروانی: یہ مذہب نام کی افیم ہمیں کب تک سنگھاو گے؟
کیا کبھی دیکھا ہے

افتخار بخاری: کیا چلچلاتی دھوپ میں کھڑی
بیمار مزدور عورتیں دیکھی ہیں
ثروت مندوں کے دروازوں پر
کھلنے کے انتظار میں
بیمار مزدور عورتیں دیکھی ہیں
ثروت مندوں کے دروازوں پر
کھلنے کے انتظار میں
ریت کے دیس میں

مصطفیٰ ارباب: ہم ایک جگہ سے معدوم ہوکر
دوسری جگہ تجسیم پاتے ہیں
انسانی ٹِیلے
ہمیشہ متحرک رہتے ہیں
دوسری جگہ تجسیم پاتے ہیں
انسانی ٹِیلے
ہمیشہ متحرک رہتے ہیں
نرم گھاس میں سرگوشیاں

ہانس بورلی: تنہا پرندے
سورج کی روشنی میں تیرتے رہتے ہیں
اور تیرتے ہوئے خوشی میں گانے لگتے ہیں
سورج کی روشنی میں تیرتے رہتے ہیں
اور تیرتے ہوئے خوشی میں گانے لگتے ہیں
شاعری میں نے ایجاد کی

افضال احمد سید: کاغذ مراکشیوں نے ایجاد کیا
حروف فونیشیوں نے
شاعری میں نے ایجاد کی
حروف فونیشیوں نے
شاعری میں نے ایجاد کی
مضافِ دریا

علی اکبر ناطق: مضافِ دریا کے رہنے والو تمہیں ہارا سلام پہنچے
مضافِ دریا کے رہنے والوں تمہارے قریوں میں زندگی ہے
مضافِ دریا کے رہنے والوں تمہارے قریوں میں زندگی ہے
کھلونا موت بھی ہے

شارق کیفی: بھلا ایک انساں کے بس میں کہاں موت کو چھیڑنا
پیچھے مڑ کر مت دیکھو

تنویر انجم: مت یاد کرو
ضرورت سے زیادہ کپڑوں کی پاکیزگی
جو بے حجاب لڑکیوں کو دیکھتے ہوئے
تم پر تھوپی گئی۔
ضرورت سے زیادہ کپڑوں کی پاکیزگی
جو بے حجاب لڑکیوں کو دیکھتے ہوئے
تم پر تھوپی گئی۔