Laaltain

کفارہ

سعد منیر: ایک شور ہے
ہمارے درمیان
چپ چاپ بیٹھا ہوا
جیسے
کسی کائنات کا وقت ہو

وقت کا چڑیا گھر

ثروت زہرا: سلاخوں کے اندرکا پورا علاقہ میری دسترس میں
دے دیا گیا ہے
مگر تماش بینوں کے روائتی شوق سے پہنچنے والی
اذیت سے تحفظ بھی دیا جا رہا ہے

روئی ہوئی آنکھ سے

ابرار احمد: مٹی میں اترے ہوئے پانی کی طرح
میرا شہر میری مٹی بن گیا ہے

میں ڈرتا ہوں

افضال احمد سید: میں ڈرتا ہوں
تمہیں سوچ کر
دیکھ کر
چھو کر
شاعری بنا دینے سے

تمنا آنکھ بھرتی ہے

عمران ازفر: وہ قصہ رات کی دیوار پر لکھا ہوا ہے
نہ آنکھوں میں سِمٹتا ہے
نہ سانسوں سے سُلجھتا ہے
کوئی گُل آبی ریشم ہے جو پہلو سے لپٹتا ہے

تنہائی ایک ملاقات سے شروع ہوتی ہے

نصیر احمد ناصر: تنہائی کے اعداد و شمار میں فرق نہیں پڑتا
یہ گنتی میں ستاروں کی طرح بے حساب
رقبے میں آسمان جیسی بے کنار
اور حجم میں کائنات سے بڑی ہے
تنہائی کا ٹھور ٹھکانہ بتانا مشکل ہے !

خود کلامی

ابرار احمد: تم نے ٹھیک سمجھا
ہر تعلق ایک ذلت آمیز معاہدہ ہے
تھکے ہارے دلوں کا ، اپنے ارادوں کے ساتھ

میری زندگی کا شیزوفرینیا

تنویر انجم: میری زندگی کا شیزوفرینیا
ناقابل یقین انداز سے
غائب کر دیتا ہے
ہر لمحے میں چھپی بے شمار نظمیں

ہم نے گیت نہیں لکھے

دلاور شفیق: ہم نےگیت نہیں لکھے
نہ ہانپتی ہوئی زبان سے بچھڑنےوالے کوتسلی دی
کیا ہم دونوں اور کہکشاؤں کے بیچ کاخلاترچھی لکیروں سے پرْ کیا جائےگا

انا کا کون سا چہرہ تھا وہ

شارق کیفی: کہا پورا نہ ہو نے کی مری
بے عزتی
کسی کی جان سے بڑھ کر بھی ہو سکتی ہے
مجھ کو یہ نہیں معلوم تھا

تیرے جوبن کے موسم میں

سرمد صہبائی: تیرے جوبن کے موسم میں
دل کے اندر غیبی سورج کے گل رنگ عجائب جاگیں
پنج پوروں پر پانچ حسوں کے پھول کھلیں

بارود گھر

علی محمد فرشی:
بہت دیر کر دی
فرشتوں نے نیچے اترتے ہوئے
فاختہ
اپنی منقا رمیں
کیسے زیتون کی سبز پتی دبائے
جہنم سے پرواز کرتی؟
فلک دور تھا
اور بارود گھر شہر کے وسط میں

مرکزہ اپنی اکائی توڑتا ہے

قاسم یعقوب: عجب عشوہ گری ایام نے سیکھی ہے موسم کے تغیر سے
زمیں پاؤں کی ٹھوکرپرپڑی ہے
آسماں مرضی کا منظر چاہتا ہے
رتجگے کی شب کروموسوم کی ہجرت پہ پہرہ دے رہا ہے