Laaltain

دنیا کی تمام عورتوں کو جمع کرلو

عذرا عباس: یہ عورتیں ایسے ہی بین کرتی رہیں گی
اور کھوتی رہیں گی
اپنے بچے
اور روتی رہیں گے ایک آواز میں
ایک ایسی آواز میں
جو ایک دن آسیب بن جائے گی
اور تمھارا خریدا ہواخدا بھی اس کی دہشت سے کانپ رہا ہو گا

خاتون خانہ

ثروت زہرا: میں اپنی اولاد کے لئے
دودھ کی ایک بوتل
اپنے صاحب کے لئے تسکین
گھر کے لیے مشین
اور اپنے لیے
ایک آہٹ بن کے رہ گئی ہوں

میں بالکل ٹھیک ہوں

تنویر انجم: تم پوچھتے ہو کیسی ہو؟
میں کہتی ہوں بالکل ٹھیک
میں پوچھتی ہوں تم کیسے ہو؟
تم ایک نئے قصے کا آغاز کرتے ہو
تفصیلات کے ساتھ

تصویروں سے بھری چھاتی

حسین عابد: تین قدم کے بلیک ہول سے
رنگ نہیں رِستے
خون نہیں رِستا
کورے کینوس اڑتے ہیں خواب گاہ میں

یہ رسم الخظ اگر میں جانتا تو—

گلزار: چمکتی دھوپ میں دیوار کے کونے سے اک پتی نے جھانکا ہے
بہت سینچی ہیں تم نے درد سے مٹی کی دیواریں
اُپج کی کونپلیں اُگنے لگی ہیں!

تم نہیں دیکھتے

ابرار احمد: آنکھیں دیکھتی رہتی ہیں
لیکن تم نہیں دیکھتے
پڑے رہتے ہو عقب کے اندھیروں میں، لمبی تان کر
اور نہیں جانتے
آنکھیں کیا کچھ دیکھ سکتی ہیں

نظم-سرمد صہبائی

سرمد صہبائی: کیسے کھلے گا تیری بانہوں کے کُندن میں
میرا یہ سیال دکھ اور میرے صدمے
تیرے بدن کے ان جیتے سیار سموں میں
میرا لہو کیسے جاگے گا

ایک مجسمے کی زیارت

سید کاشف رضا: میں دکھ اپنے خواب کا
تم نے جس کی مزدوری نہیں دی
میں دکھ اپنے خواب کا
جو تمہارے بدن پر پورا ہو گیا

آخری دلیل

افضال احمد سید: اس کھڑکی کو سبزے کی طرف کھولتے ہوئے
تمہیں محاصرے میں آئے ایک دل کی یاد نہیں آئی

کسی کے سمجھدار ہونے تلک

شارق کیفی:کوئی رکتا نہیں ہے کسی کے سمجھ دار ہونے تلک
سچ کی تہہ میں اترنے کے لائق گنہ گار ہونے تلک

شنگھاؤ غار

زید سرفراز: ہم غار کی دیواروں میں مجسم، وہ تنہائی تھے
جسے صورت دیتے ہوئے
مؤرخ نے تیشے کا استعمال کیا