Categories
شاعری

روئی ہوئی آنکھ سے

ابرار احمد: مٹی میں اترے ہوئے پانی کی طرح
میرا شہر میری مٹی بن گیا ہے

روئی ہوئی آنکھ سے
دنیا بہت صاف دکھائی دیتی ہے
بچہ بہت خوبصورت ہے
اس کی وردی میلی ہو جائے گی
دن بہت اجلا ہے
اسے گدلا کر دیں گے یہ ہاتھ
رات بھر ہوا چلے گی
ٹھنڈی، تاریک، مونھ زور
رگوں میں اتر جائے گی
پھر بھی —-
بارش ہو رہی ہے
بارش میں بھیگتے کپڑے اور راستے مجھے اچھے لگتے ہیں
کیوں نہ بارش میں کہیں دور نکل جاؤں
لیکن رات ہو گئی ہے
اور ابدی جدائی کی سمت کھلنے والی یہ کھڑکی
اور تمہاری آنکھیں
بھر جائیں گی اندھیرے سے
محبت دکھ تو دیتی ہے
لیکن یہ دکھ بہت گہرا ہے ۔۔۔۔۔ نیند کی طرح
مٹی میں اترے ہوئے پانی کی طرح
میرا شہر میری مٹی بن گیا ہے
مجھے زمین مل گئی ہے
رہنے اور اوڑھنے کے لیے
یہ ہارا ہوا دل
ایک مرتبہ تمھارے سینے میں دھڑک لینا چاہتا ہے
تم کہاں ہو ؟
دنیا میری باتوں پر ہنستی ہے, اور میری پرانی گاڑی چھینٹے اڑاتی ہے
جو سب سے زیادہ
میرے اپنے لباس پر پڑتے ہیں

Image: Hossein Zare

By ابرار احمد

ابرار احمد 1980ء سے شعر کہہ رہے ہیں۔ ان کی شاعری کے دو مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ ایک نظموں کا مجموعہ "آخری دن سے پہلے" (1997)، اور دوسرا غزلوں کا مجموعہ "غفلت کے برابر" (2007)۔ ان کی شاعری میں وجودی کرب، زندگی کی لایعنیت، فریب کی پردہ کشائی اور نقل مکانی کے موضوعات کو چھیڑتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *