Categories
شاعری

ہم نے گیت نہیں لکھے

دلاور شفیق: ہم نےگیت نہیں لکھے
نہ ہانپتی ہوئی زبان سے بچھڑنےوالے کوتسلی دی
کیا ہم دونوں اور کہکشاؤں کے بیچ کاخلاترچھی لکیروں سے پرْ کیا جائےگا

گلےمیں مضمحل آوازیں ساقط کر دی گئیں
اجداد نے خون کے ساتھ الفاظ تھوکے
خودکشی کرنے والے نے صحرا میں معنی اُگایا
جس کے پتوں پر سلائی جا سکتی ہیں
بھنبھناتی اُمیدیں
زائل شدہ معنی طاق میں پڑی کتاب کےنیچےدب چکے ہیں
بوسیدہ لاشوں کی طرح
جن کی پوسٹ مارٹم رپورٹ
بیرک میں پڑے کسی صدوقچے میں گل چکی ہو
ہم نےگیت نہیں لکھے
نہ ہانپتی ہوئی زبان سے بچھڑنےوالے کوتسلی دی
کیا ہم دونوں اور کہکشاؤں کے بیچ کاخلا ترچھی لکیروں سے پرْ کیا جائےگا

Image: Joan Miró

By دلاور شفیق

دلاور کا تعلق ضلع راجن‌پور سے ہے اور وہ ایف‌سی کالج یونیورسٹی سے عبرانی اور علم اناجیل کی تحصیل کر رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *