Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – تیرہویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(25)

 

ولیم ہیڈ سلیمانکی سے شام چار بجے جلال آباد پہنچا اور بنگلے پر جانے کی بجائے سیدھا دفترچلا گیا۔دفتر کا اکثر عملہ گھر جا چکا تھا لیکن نجیب شاہ اور دو چار کلرک ابھی موجود تھے۔
نجیب شاہ کو اطلاع مل چکی تھی کہ صاحب اپنا دورہ مختصر کر کے دفتر پہنچ رہے ہیں۔نجیب شاہ نے اپنے ساتھ کچھ کلرک بھی روک لیے تھے کیونکہ کچھ ہی دیر پہلے ڈپٹی کمشنر فروز پور کی طرف سے ولیم کے لیے ایک میٹنگ کال مو صول ہوئی تھی، جس میں ولیم کو فیروز پور طلب کیا گیا تھا۔دوسرا شاہ پور کے کیس کی خبر بھی اُسے مل گئی۔اُس نے محسوس کیا شاید اِن دو وجوہ اور ایمر جنسی میں کچھ کام کرنا پڑ جائے۔ولیم نجیب شاہ سے سلام لیے بغیر سیدھا اپنے کمرے کی طرف بڑھتا چلا گیا۔ اُس کے پیچھے ڈی ایس پی لوئیس بھی تھا،جو ابھی ابھی مگر ولیم کے آنے سے پہلے دفتر پہنچا تھا۔ ولیم اپنی کرسی پر بیٹھا تو سامنے ایک لیٹر پڑا تھا۔ اُسے پڑھتے ہی ولیم کا موڈ مزید خراب ہو گیا۔اُسے کل صبح فیروز پور طلب کیا گیا تھا۔ولیم کچھ دیر تک خاموش بیٹھا رہا۔اس کی طبیعت میں مسلسل سفر کی تھکاوٹ کا بوجھ تھا۔ دوسرا جلال آباد کا چارج لیتے ہی یہاں امن و امان کی خرابی نے اُسے مضمحل کر دیا تھا۔ جو دوسرے کاموں کی طرف سے توجہ ہٹانے کا موجب بن رہا تھا۔ کچھ ہی دنوں کے اندر یہ دوسرا قتل اور لوٹ مار کا واقعہ پیش آگیا۔ غضب یہ کہ دونوں کی ذمہ دار ی ایک ہی شخص پر عائد ہوتی تھی اور وہی شخص ابھی تک گرفتار نہیں ہوا تھا۔ دیر تک خاموشی سے بیٹھے رہنے کے بعد ولیم نے لوئیس کو مخاطب کر کے کہا، مسٹر لوئیس یہ سردار سودھا سنگھ کیا بلا ہے؟ آخر یہ شخص جرم کرنے میں اتنا دلیر کیو ں ہے؟ حالانکہ اچھی طرح جانتا ہے، گورنمنٹ اُس کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کرنے والی۔ یا (لوئیس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے )میں یہ سمجھوں کہ گورنمنٹ کے ساتھ اندر خانے اُس کے کچھ معاملات چل رہے ہیں، جس کی مجھے خبر نہیں ہے۔ اسی وجہ سے وہ ابھی تک جودھا پور والے معاملے میں گرفتار نہیں ہوسکا۔یا یہ کہ اِن مجرموں کو گرفتار کرنے کی ذمہ داری بھی مجھی پر عائد ہوتی ہے؟ حالانکہ مجھے بتایا گیا ہے میں تحصیل کا پولیس افسر نہیں، ا سسٹنٹ کمشنر ہوں۔جس کا کام علاقے میں صرف امن و امان بر قرار رکھنا ہی نہیں، تحصیل کو1935 سے نکال کر 1936 میں داخل کرنا ہے۔ مجھے لگتا ہے جو وزن آپ کے اُٹھانے کے لائق ہیں، وہ بھی میرے سر پر گریں گے۔ لوئیس اگر یہ سب کچھ اِسی طرح چلتا رہا تو لوگ سمجھیں گے،تحصیل میں پولیس افسرکی ضرورت نہیں۔ یہ بات شاید آپ کو اچھی نہ لگے۔ ایسے گاڑی چلنا مشکل ہے۔

 

ڈی ایس پی لوئیس نے ولیم کی دھمکی کی آواز صاف سن لی تھی لیکن کیا کیا جا سکتا تھا کہ غلطی اُسی کی تھی۔ اُس نے ایک دفعہ تو شرمندگی سے آنکھیں نیچی کر لیں اور کچھ لمحے خاموش بیٹھا رہا۔وہ جانتا تھا ولیم اپنی بات میں سچا ہے۔اگر جو دھا پور والے واقعے کے فوراًبعد سردار سودھا سنگھ کو گرفتار کر لیا جاتا تو معاملہ اتنا گمبھیر نہ ہوتا مگر افسوس اُس نے سارا کام تھانیدار پر چھوڑ کر خود چھٹی مکمل کرنے کی ضد پوری کی۔ جس کی وجہ سے سب معاملہ خراب ہو گیا۔ اِس سب سے بڑھ کر اصل خرابی یہ ہوئی کہ ولیم کے آتے ہی دشمنیوں کے پٹارے کھل گئے جس کی وجہ سے جلال آباد میں دنگا فساد شروع ہو گیا اور پولیس کی پے بہ پے سُبکی ہونے لگی۔

 

لوئیس کی خاموشی کو کافی دیر گزر گئی تو ولیم دوبارہ بولا، لوئیس کیا آپ جانتے ہیں مجھے دیوار سے باتیں کرنے کی عادت نہیں۔اگر آپ سمجھتے ہیں کہ میں نے جو کچھ کہا ہے، وہ آپ کی سمجھ میں نہیں آیا تو میں ایک ریکاڈر میں اپنی گزارشات جمع کر دوں تاکہ آپ تسلی سے وہ بار بار سُن کر مجھے ایک دو ماہ کے بعد جواب دے دیں۔

 

سر یہ بات نہیں،لوئیس نے ہمت کر کے ولیم کی طرف دیکھ کہا۔

 

پھر اگر آپ کو میری لفظوں کا مفہوم پہنچ گیا ہے تو میں آپ کے جواب کا منتظر ہوں۔مجھے بتایا جائے سودھا سنگھ ابھی تک کیو ں گرفتار نہیں ہو سکا۔ آخر اِس سارے معاملے کے پیچھے کیا ہے؟

 

سر ایک دو باتیں ہیں،جس کی وجہ سے یہ مسئلہ پیدا ہوا ہے، لوئس بولا۔

 

وہ کیا باتیں ہیں؟ مجھے کھل کر بتائیں ولیم نے آگے جھکتے ہوئے کہا، اور یہ بھی یاد رکھیں کہ میں صبح فیروز پور جا رہا ہو ں ایک میٹنگ کے سلسلے میں۔ میں جانتا ہوں،یہ معاملہ سب سے پہلے زیرِ بحث آئے گا۔مجھے پتا ہونا چاہیے حقیقت کیا ہے ؟

 

حقیقت یہ ہے سر، لویئس تحمل سے بولا، سودھا سنگھ اِس وقت جھنڈو والا میں موجود نہیں ہے۔ پہلے کیس کے معاملے میں ہم سے واقعی غلطی ہوئی کہ بروقت کارروائی نہ کر سکے۔جس میں تھانیدار دیدار سنگھ کا زیادہ ہاتھ ہے۔ وہ غالباً ڈر گیا تھا۔اِدھر میں خود یہاں موجود نہیں تھا۔اس لیے تفتیش میں کافی وقت لگ گیا۔جس وقت آپ جھنڈو والا میں گئے،سردار سودھا سنگھ واقعی گورنمنٹ سے ڈر گیا تھا لیکن اُس نے اُس کا اُلٹا اثر لیا اور اُسی رات غلام حیدر کے خلاف ایک سازش تیار کی۔ جس میں اُس نے دو مسلمان سرداروں کو بھی ملا لیا۔ وہ سردار کسی طرح سے پہلے ہی غلام حیدر کے باپ سے خار کھائے بیٹھے تھے۔ اِس حملے میں سردار سودھا سنگھ خفیہ طور پر عبدل گجر اور شریف بودلہ کا پارٹنر تھا۔ لیکن سودھا سنگھ کے لیے بُرا یہ ہوا کہ اِس میں وہ بندہ مارا گیا جو خاص سودھا سنگھ کا آدمی تھا اور یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ اُس پر عدالت میں پہلے ہی بہت سے مقدمات چل رہے ہیں۔ وہ مرنے والا متھا سنگھ ہے۔ جس نے کئی لوگوں کا پہلے بھی قتل کیا ہے لیکن ظاہراً اُس پر کچھ ثابت نہیں ہو سکا۔اس کی خا ص وجہ سردا ر سودھا سنگھ سے لوگوں کا خوف ہے۔ یہ خوف اُس کی دولت کی وجہ سے نہیں، سردار امر سنگھ کے سبب سے ہے جو مہاراجہ پٹیالہ کے دربار میں معتمد ہے اور سردار سودھا سنگھ کا چچا ہے۔ اِس کے علاوہ سودھا سنگھ کی ایک خصوصیت اور بھی ہے کہ وہ اپنے گاوں کی رعیت کا خاص خیال رکھتا ہے۔ اُن کے دکھ درد میں شریک رہتا ہے۔لہذا وہاں سے کوئی بھی شخص سودھا سنگھ کے خلاف گواہی دینے کے لیے تیار نہیں۔البتہ یہ کام فوجا سیؤ کے بھتیجے کے ذریعے ہو گیا۔

 

یہ تو سودھا سنگھ کا خاص آدمی تھا، ولیم نے لقمہ دیا۔

 

جی سر اور اِسی وجہ سے اختلاف پیدا ہوا، لوئیس نے وضاحت کی، یہ جو کچھ بھی ہوا ہے، فوجا سیؤ اِس تمام واردات کے خلاف تھا لیکن سودھا سنگھ کے دوسرے آدمیوں نے اُس کی نہیں چلنے دی۔ اِسی وجہ سے اُن کے درمیان تلخی پیدا ہوئی۔جس میں فوجا سئیو کے بھتیجے نے اپنی اور اپنے چچا کی سُبکی محسوس کی اور اُس نے تمام حالات کی مخبری تھانیدار دیدار سنگھ کو کردی جو اُس نے میرے گوش گزار کردی۔

 

اب کیا کرو گے اِن کا ؟ ولیم نے بیل کا بٹن دباتے ہوئے کہا۔

 

آپ جو حکم دیں گے ویسے ہی ہو گا، لوئیس نے ولیم کی خوشنودی کے لیے مکمل تابعداری سے کہا۔

 

اتنے میں ولیم کی بیل پر کرم دین اندر داخل ہوا،جس کے آتے ہی ولیم نے حکم دیا،کرم دین دو کپ کافی بنا لاؤ۔حکم سنتے ہی کرم دین باہرنکل گیا۔ولیم لوئیس سے دوبارہ مخاطب ہوا، لوئیس اگر آپ کے خیال میں میرے جھنڈو والا میں دورہ کرنے کی وجہ سے یہ بعد والا سانحہ پیش آیا ہے تو اب میرے حکم دینے کی وجہ سے ایک اور سانحہ پیش آ سکتا ہے۔ چنانچہ بہتر یہی ہے کہ آپ مجھے بتائیں اب آپ کیا کرنے والے ہیں؟لیکن اس سے پہلے دیدار سنگھ کو معطل کر دو۔ہماری حکومت میں ڈرپوک آدمی کا کام نہیں ہے ؟

 

سر ایک بات طے ہے، لوئیس نے ولیم کے لہجے میں چھپی ہوئی گہری طنز کو محسوس کرتے ہوئے کہا، وہاں پر ہمیں سردار سودھا سنگھ نہیں ملے گا۔وہ پٹیالہ چلا گیا ہے لیکن کل میں ایک سخت کارروائی کرنے کے لیے خود جھنڈو والا جا رہا ہوں۔پہلے مرحلے پر سردار سودھا سنگھ کا تمام مال مویشی ضبط کر لیے جائیں گے۔کچھ لوگوں کو ہراساں کرنے کے لیے گرفتار بھی کیا جائے گا تاکہ لوگ خوف میں مبتلا ہو کر حکومت کے سامنے وہ کچھ بول دیں جو وہ عام حالات میں کہنا پسند نہیں کرتے۔یہی کچھ عبدل گجر کے ساتھ کیا جائے گا۔ یقینا وہ خود تو ابھی روپوش ہے لیکن ہمارے پاس اُس کا خاص گواہ بلا کمبو ہ اہم ثبوت ہے۔ جس کو زخمی حالت میں چک شاہ پور سے گرفتار کیا گیا ہے۔ اب رہا تھانیدار دیدار سنگھ، تو اُسے آپ کے حکم کے مطابق ا بھی معطل کر دیا جائے گا۔

 

گُڈ لوئیس،ولیم نے مطمئن انداز سے کافی کا گھونٹ لیتے ہوئے کہا، جو کچھ ہی دیر پہلے کرم دین وہاں رکھ کر چلا گیا تھا، اور یہ بات بھی یاد رہے کہ مَیں آئیندہ کسی بھی ایسے واہیات واقعے کامتحمل نہیں ہو سکتا۔نہ ہی میری سروس اجازت دیتی ہے کہ تحصیل میں روز روز اس طرح کے تماشے ہوتے رہیں۔ میں کل صبح سات بجے ہی فیروز پور نکل جاؤں گا اور کل شام تک لوٹ آؤں گا۔آپ پرسوں پوری تحصیل کی پولیس کے افسران کو میٹنگ پر بلاؤ،۔مَیں دیکھنا چاہتا ہوں،جلال آباد میں کون کون سے سورمے بستے ہیں اور وہ کس طرح یہاں فساد برپا کر رہے ہیں۔ اتنا کہ کر ولیم اُٹھ کھڑا ہوا اور اُس کے ساتھ ہی ڈی ایس پی لوئیس بھی۔
شام کے چھ بج چکے تھے۔ ولیم اور لوئیس کمرے سے باہر نکلے تورات کا اندھیرا چھا چکا تھا۔دونوں جیسے ہی ڈیوڑھیاں پار کر کے کھلی جگہ پہنچے تو انسپکٹر متھرا اور تھانیدار دیدار سنگھ وہاں موجود تھے،جو کئی گھنٹے پہلے ولیم کے دروازے پر آبیٹھے تھے اور بہت خوف زدہ بھی تھے۔دونوں نے آگے بڑھ کر ولیم کو ماتھے پر ہاتھ رکھ کر سلام کیا، جس کا ولیم نے کوئی نوٹس نہ لیا۔گو یا اُنہیں جانتا ہی نہ تھا اور سیدھا آگے کی طرف بڑھتا چلا گیا۔ حالانکہ کچھ دن ہی پہلے انسپکٹر متھرا کے ساتھ ولیم نے ایک لمبا سفر بھی کیا تھا، جس میں بہت سی باتیں بھی ہوئی تھیں۔ سی آئی ڈی انسپکٹر متھرا ولیم کا یہ انداز دیکھ کر بہت گھبرا گیا۔ شاید وہ پیچھے چلنے کی کوشش بھی کرتالیکن اُسے لوئیس نے آنکھ کے اشارے سے منع کر دیا۔ چنانچہ وہ دونوں وہیں رُک گئے اور حیران تھے کہ اِتنے گھنٹے دفتر میں انتظار کروانے کے بعد ولیم نے اُن سے ایک لفظ تک نہیں کہا۔پھر متھرا نے دل ہی دل میں سوچا کہ لوئیس صاحب نے معاملہ کچھ نہ کچھ نپٹا لیا ہو گا۔

 

(26)

 

ملک بہزاد ساٹھ کے پیٹے میں ایک منجھا ہوا شخص تھا۔اُس کا گاؤں جلال آباد کے مشرق میں تیس کلو میٹر کے فاصلے پر عالمکے اُتر تھا۔سر پر کُلے دار بھاری سفید پگڑی تھی۔ چہرہ کافی چوڑا اور ہڈ کاٹھ بھی کھلے کھلے تھے۔رنگ سانولا سے زیادہ اب کالا ہو چلا تھا، جیسا عموماً جنوبی ایشین کا بڑھاپے میں ہو جاتا ہے۔ البتہ آنکھوں میں ابھی تک چمک باقی تھی،جو اس عمر میں بھی اُس کے زندگی میں بھرپور حصہ لینے کی غماز تھیں۔ بیسیوں دفعہ منٹگمری اور فیروزپور جیل کی ہوا کھائی لیکن اپنی کرتوتوں سے منہ نہ پھیرا۔ یوں تو اُس کی اپنی زمین بھی کافی تھی لیکن ساری عمر کام رسہ گیری اور چوری چکاری ہی سے رکھا۔ کوئی دن ہی ہو گا جب اُس کی عدالت اور کچہری میں تاریخ نہ لگی ہو۔کچہری کے وکیل تو ایک طرف تحصیل جلال آباد، تحصیل مکھسر اور فیروز پور کے تمام جج بھی اُس سے واقف ہو چکے تھے۔بعضوں سے تو اُس کے ذاتی مراسم بھی قائم ہوگئے۔جیل میں اُس کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔چنانچہ یہ اُس کے لیے کوئی نئی بات نہیں تھی۔ اگر چہ ملک بہزاد کو بہت دعوے تھے کہ اُس نے سینکڑوں قتل کر رکھے ہیں لیکن اُن قتل کا ثبوت عدالت تو کیا وہ خود بھی کبھی پیش نہیں کر سکا تھا۔لیکن پورے علاقے میں ملک بہزاد کی دھاک ضرور بیٹھ چکی تھی۔ تھانہ، عدالت یادنگے فساد کا کہیں معاملہ پیش آجاتا تو ملک بہزاد کی خدمات مفت میں حاصل ہوجاتیں۔ ایسے ایسے مشورے دیتا کہ مخالف کو ضرور خبر لگ جاتی کہ مدعی کی پشت پر ملک بہزاد کا ہاتھ ہے۔ اِد ھر ملک بہزاد بھی اپنے مدعی کی شکست نہیں دیکھ سکتا تھا۔اگر خدا نا خواستہ معاملہ ہر حالت میں ہاتھ سے نکلتا ہی دکھائی دے رہا ہوتا، پھر وہ جارحیت سے بھی باز نہیں آتا تھا اور مدعی کے ہاتھوں وہ کرا دیتا، جس کی خود مدعی بھی توقع نہ کر سکتا۔اِنہی خدا واسطے کی دشمینوں میں اُس نے خود بھی بہت سی گزند اُٹھا ئی لیکن ملک بہزاد کو اِن کاموں کا ایسا چسکا پڑ چکا تھا کہ اب اُس سے مر کر ہی جان چھٹتی۔ ملک بہزاد کو ایک اور بھی چسکا تھا کہ اُس کے پاس لوگوں کو سنانے کے لیے طرح طرح کی کہانیاں تھیں اور وہ کہانی ایسے سناتا کہ لوگ عش عش کر اُٹھتے۔ملک بہزاد کا شیر حیدر سے پُرانا یارانہ تھا۔ایک دوسرے کے پگڑی بدل بھائی بنے ہوئے تھے۔ شیر حیدر نے بہت سے معاملات میں ملک بہزاد کی مدد کی تھی اور بیسیوں دفعہ عدالت میں اُس کی ضمانت کے مچلکے جمع کروائے تھے۔جو کئی ہزار روپے کے بن جاتے تھے۔ اس کے علاوہ بھی کئی بار ملک بہزاد نے غیر قانونی کارروائی کر کے شیر حیدر کے پاس آ کر پناہ لی تھی اور اس پناہ میں احسان مندی کا جذبہ بالکل نہیں تھا بلکہ ایک برابری کی حیثیت تھی۔ جس کا زیادہ تر تعلق بھائی بندی سے تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ملک بہزاد بہت دفعہ شیر حیدر کے بھی کام آ چکا تھا۔ لہذا یہ بات روشن تھی کہ شیر حیدر کی وفات کے بعد ملک بہزاد کا تعلق غلام حیدر کے ساتھ سابقہ بنیادوں پر ہی استوار ہونا تھا۔ شیر حیدر کی وفات پر ملک بہزاد نے غلام حیدر کو بار بار یہ بات باور کرائی تھی، پُتر میرے لائق کوئی کام ہو تو ضرور بتانا۔تم میرے بھتیجے کی طرح ہو، مجھ سے جو ہو سکا،مَیں کروں گا۔لیکن غلام حیدر اُس وقت پے بہ پے مصیبتوں میں کچھ ایسا حواس باختہ ہو ا کہ اُسے ملک بہزاد کے بارے میں کچھ یاد نہ رہا مگر شاہ پور والے واقعے میں اچانک غلام حیدر کو اپنے اس رفیق کا خیال آیا،جو در اصل اُسے اِس مصیبت سے نکالنے کے لیے صحیح مہرہ ثابت ہو سکتا تھا اور برسوں کی رفاقت کے باعث اُس سے کچھ دھوکے کا اندیشہ بھی نہیں تھا۔

 

ملک بہزاد آج صبح گیارہ بجے ہی جلال آباد غلام حیدر کی حویلی میں پہنچ چکا تھا اور اب آرام سے چار پائی پر بیٹھا حقے کے کڑوے تمباکو کے مزے لینے کے ساتھ ساتھ سب لوگوں کو معمول کے مطابق اپنی ایک کہانی سنا رہا تھا، جو اُسے منٹگمری جیل میں پیش آئی تھی۔کہانی سننے کے لیے ارد گرد چارپائیوں پر بیٹھے تمام لوگ تازہ سانحات کو بھو ل چکے تھے۔ غلام حیدر حویلی میں داخل ہوا تو چار پائیوں پر بیٹھے تمام لوگ اُٹھ کر کھڑے ہو گئے اور بڑھ کر ہاتھ ملانے لگے مگر غلام حیدر سب سے جلدی جلدی فارغ ہو کر آگے بڑھتا گیا۔اُس کی نظر حویلی کا دروازہ پار کرتے ہی ملک بہزاد کو ڈھونڈنے لگی تھی، جو کئی لوگوں کے درمیان بیٹھا اپنی کتھا سنا رہا تھا۔غلام حیدر کو دیکھتے ہی ملک بہزاد بھی اُٹھ کر کھڑا ہو گیااور جیسے ہی غلام حیدر قریب ہوا،اُس نے کھینچ کر سینے سے لگا لیا اور کاندھے پر تھپکی دی۔جوش اور جاذبے سے ملنے کے بعد کچھ دیر ادھر اُدھر کی باتیں ہوتی رہیں اور دونوں نے جان بوجھ کر موجودہ سانحات کی بات نہ چھیڑی۔ہندوستان اور اس میں بھی خاص کر پنجاب میں خیال رکھا جاتا ہے کہ مقصد کی بات کرنے کے لیے کچھ آداب ملحوط رکھیں جائیں اور ملتے ہی اپنا رونا نہ رو دیا جائے۔ اس کے علاوہ رعیت کے سامنے اپنی کمزوری کا ذکر انتہائی بُزدلی تصور کیا جاتا ہے۔کچھ دیر ایک دوسرے کا حال احوال پوچھنے کے بعد غلام حیدر نے تمام لوگوں کو وہاں سے ہٹا دیا۔لوگوں کے ہٹتے ہی ملک بہزاد کو بات کرنے کا موقع مل گیا اور اُس نے غلام حیدر کو تسلی دینا شروع کردی،پُتر گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ تیرا چاچا ابھی زندہ ہے (پھر اپنی ہی چارپائی پر بٹھاتے ہوئے کہا )پُتر غلام حیدر مصیبتیں اگر مردوں پر نہ آئیں تو پھر زنخے تو اِن کا بوجھ اُٹھانے سے رہے۔ بھتیج، مشکلیں اور اوکھے پانڈے مردوں کا زیور ہیں۔تگڑا ہو،میں ہوں نا تیرے ساتھ۔ مجھے دیکھ کئی قتل کر کے اور کئی دفعہ منٹگمری جیل کی کوٹھیوں کی سیر کر کے تیر ے سامنے بیٹھا ہوں۔اب بھی کئی مقدموں کی تاریخیں میرے بوڑھے کاندھوں پر ہیں اور یہ میرے قدموں کو دیکھتا ہے؟ یہ صرف د و ہی جگہوں کا نقشہ پہچانتے ہیں، عدالت کی سیڑھیاں اور دشمن کی جونہہ۔ تیسری جگہ کا کبھی سوچا ہی نہیں۔ یہ کہ کر ملک بہزاد نے حقے کا ایک لمبا گھونٹ لیا اور تائید کے لیے اُس کی طرف دیکھنے لگا۔

 

ملک بہزاد کی بعض باتیں واقعی غلام حیدر کے لیے تسلی کا باعث تھیں۔کیونکہ جتنی مصیبتیں ملک بہزاد نے اپنی زندگی میں دیکھیں تھیں،غلام حیدر پر تو ابھی اُن کا پاؤ پاسک بھی نہیں آئی تھیں۔ اگرچہ وہ مشکلیں اُس کے اپنے کرتوتوں ہی کی وجہ سے تھیں لیکن جیل اور عدالتوں کے عذاب کی تلخی تو سب ایک ہی طرح سے محسوس کرتے ہیں۔

 

کچھ دیر خاموشی کے بعدغلام حیدر بولا، چاچا بہزاد دُکھ اِس بات کا نہیں کہ مجھ پر مصیبت آئی ہے،رونا تو یہ ہے دشمن نے بے وقتی ضرب لگائی ہے اور اگر تحمل سے سوچیں تو ابا کی توہین کی ہے۔ اِدھر اُن کا جنازہ پڑا ہے اُدھر سکھڑے نے چڑھائی کردی۔ یہ کسی دشمن کا نہیں بلکہ نسلی کمینے کا کام ہے۔اور قہر یہ ہے کہ کچھووں نے بھی ابا کے مرنے کے ساتھ ہی چوکیاں بھرنی شروع کر دیں اورمینڈکیاں شراب کے مٹکوں پر پل پڑی ہیں۔اب یہ کون کہ سکتا تھا عبدل گجر اور شریف بودلے جیسے چوہے بھی دُموں پر کھڑے ہو جائیں گے۔

 

غلام حیدر،مجھے فیقے پاؤلی نے سب کچھ سے خبردار کر دیا ہے، ملک بہزاد اپنی سفید مونچھ کو مسلسل بل دینے کے ساتھ مسکرا بولا، تم کیا چاہتے ہو دشمن تمھاری بلائیں لے اور تمھارے سر سے کالے بکروں کے صدقے اُتارے؟ بھائی دشمن دشمن ہوتا ہے۔اُس کے اپنے موڈ ہوتے ہیں۔ اُس سے شکوہ کرنے والے بُزدل ہوتے ہیں۔ تم اپنے ذمہ دار ہو اور سکول میں پڑھنے والیے لاڈلے نہیں بلکہ اپنی رائے اور فیصلوں پر اختیار رکھتے ہو۔اس لیے اب دشمن سے شکوہ یا بچاؤ نہیں۔اُس پر جارحیت کا سوچو۔کیو نکہ بچاؤ کمزور کرتا ہے اور آگے بڑھ کر حملہ کرنامردوں میں حوصلے کا باعث ہوتا ہے۔ یہی شیروں کا کام ہے۔یہ شریف بودلہ اور عبدل گجرتوکیڑوں کی طرح مَسلے جائیں گے۔ افسوس تو اُن تین چاربے گناہوں کا ہے، جو بے چارے تیری دشمنی میں کام آگئے۔ خیر یہ تو ہوتا ہی ہے کہ مردوں کو اپنے رشتوں کے دکھ اُٹھانے پڑتے ہیں۔ اب توُ حکم کر بلکہ پہلے منہ ہاتھ دو اور گھر جا کر اپنی ماں کے پاس کچھ دیر بیٹھ۔وہ پریشان ہورہی ہو گی، اُسے حوصلہ دے اور بتا دے کہ وہ دلیری پکڑے۔ اُس کا بھائی بہزاد ابھی زندہ ہے۔کچھ نہیں ہونے دے گا۔ ملک بہزاد نے غلام حیدر کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوے دوبارہ تھپکی دی۔ جا اُٹھ کر آرام سے کھانا وانا کھا اور جی کو ہلکا کر پھر تسلی سے بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔

 

غلام حیدر چارپائی سے اُٹھا اور حویلی کے زنان خانے میں چلا گیا،جہاں اُس کی ماں انتہائی بے چینی کی کیفیت میں اُس کی منتظر تھی۔ غلام حیدر اپنی ماں فاطمہ بانو کی اکیلی اولاد تھی۔ وہ جانتا تھا، اُس کی والدہ کے پاس نہ تو کوئی اور راستہ تھا اور نہ ہی کوئی اور سرمایہ۔اگر اُسے کچھ ہو گیا تو اُس کی ما ں زندہ ہی مر جائے گی۔ اِس لیے اُسے اپنے سے زیادہ ماں کی فکر تھی۔ غلام حیدر کو دیکھتے ہی اُس کی والدہ اُٹھ کر لپٹ گئی اور صدقے واری جا کر اپنی چارپائی کے سامنے پڑے لال موڑھے پر بٹھا لیا۔ فاطمہ بانو کی چار پائی شادی کے وقت سے ابھی تک اُسی کمرے میں تھی، جس کمرے میں وہ دلہن بن کر آئی تھی۔ کمرہ بیس فٹ چوڑا اور تیس فٹ لمبا تھا اور آرائش کے اعتبار سے اِس قدر شاندار تھا کہ آنکھیں دیکھتے ہی دنگ رہ جائیں۔ لیکن اتنے لمبے اور چوڑے کمرے میں ایک دوہرا پلنگ اور چار پانچ رنگین موڑھوں کے سوا کوئی جگہ بیٹھنے کے لیے باقی نہیں بچی تھی۔ کہیں بڑے بڑے سنگھار آئینے کھڑے تھے اور کہیں رنگ برنگے دھاگوں سے بُنے ہوئے مختلف قلینوں کے ٹکڑے لٹک رہے تھے۔ کسی طرف سندھی، بلوچی اور پنجابی فوک پینٹنگز کے نقش کپڑوں پر کاڑھے ہوئے لکڑی کے مختلف ہینگروں میں ٹنگے تھے،جو تیز رنگوں میں اپنی شکلوں کو پورے کمرے پر حاوی کیے ہوئے تھے۔دیواروں پر بھی کچے رنگوں کی مٹی سے بڑی نفاست سے پینٹنگ کی گئی تھیں۔ اُن پینٹنگزسے پتا چلتا تھا کہ ُان کو بنانے والاآرٹ سے زیادہ آرٹ کا دعوہ رکھتا تھا مگر وہ پھر بھی اچھی لگتی تھیں۔ کمرے میں جو چیز سب سے نمایاں تھی، وہ پڑچھتیوں اور طاقوں میں ترتیب کے ساتھ رکھے ہوئے بے شما ر کانسی اور تانبے کے چھوٹے بڑے برتن تھے۔ جن میں پراتیں، دیگچے، ڈونگے،چھنے، پلیٹیں،گلاس غرض ہر ایک کانسی اور تانبے کا برتن، جو اُس وقت پنجاب کے عام یا خاص بازار میں پایا جاتا تھا،اِس کمرے میں جمع تھا۔ یہی وجہ تھی کہ کانسی اور تانبے کے دہکتے ہوئے زرد اور چمکیلے رنگوں سے کمرہ جگمگ جگمگ کر رہا تھا۔ جو رات کے اندھیرے میں دیے اور لال ٹین جلنے سے اور بھی دمک اُٹھتا اور ایسے محسوس ہوتا کہ پورے کمرے میں گویا سونے کے چراغ جل رہے ہوں۔ دیے کی زرد روشنی کی لَو تمام برتنوں کی دھات سے نکل نکل کر پھوٹ رہی تھی۔جس کی وجہ سے کمرہ دہک رہا تھا۔بلکہ بعض چھوٹے چھوٹے برتن تو واقعی سونے کے تھے۔ جن میں فاطمہ بانو اپنے لیے مصری کی ڈلیاں، بادام یا گری وغیرہ رکھتی تھی۔ رواج کے مطابق ہر والدین اپنی بیٹی کو ایسی دھاتوں کے برتن دینا اپنا فرض خیال کرتا تھا۔لیکن ایسا کم ہی ہوتا کہ یہ برتن زندگی میں کبھی استعمال میں آئیں۔بلکہ کانسی کے برتن میں تو کوئی چیز قلعی کیے بغیر ڈال ہی نہیں سکتے تھے کیونکہ فوراً خراب ہو جاتی اور قلعی کرانے کی صورت میں دھات کی اپنی حیثیت کی وقعت ظاہر نہ ہو پاتی۔ چنانچہ یہ برتن کمروں کی پڑچھتیوں اور طاقوں پر ہی پڑے پڑے رونق دکھاتے رہتے۔جب بیاہ کے وقت اِن برتنوں کو ساتھ لانے والی دُلہنیں اُسی گھر میں زندگی کے تیس چالیس سال گزار کر پوتوں اور نواسوں والی ہوجاتیں تو پھر وہ اپنے نواسوں اور پوتوں پوتیوں کو ایک ایک برتن کے بارے میں تفصیل سے بتاتیں کہ بیٹا یہ پرات آپ کے پڑنانا حیدر آباد سے لائے تھے اور یہ کانسی کا دیگچا اُنہوں نے دہلی کے گنج منڈی بازار سے خریدا تھا۔اِس میں پورے پندرہ کلو چاول پکتے ہیں۔اِدھر آ، مَیں تجھے دکھاؤں،یہ جو کانسی کے چھنے اور گلاسوں کا سیٹ ہے، اِسے میری شادی سے بھی بارہ سال پہلے سندھ سے تمھاری پڑ نانی لائی تھی، جب وہ حج کر کے کراچی بندر گاہ پر بحری جہاز سے اُتری تھی۔وہاں سے تو وہ سندھی چادریں اور شالیں بھی لائی تھی پر وہ تو تمھارے پڑنانا نے ہنڈا لیں۔ اِس چھنے کا وزن دیکھو پورا دو سیر ہے۔ الغرض یہ کمرہ ایک اچھا خاصا نگار خانہ تھا۔جس میں پورے پنجاب کا گھریلو کلچر ایک ہی جگہ جمع تھا۔

 

غلام حیدر کی دو پھپھیاں اور ایک خالہ بھی کئی دن سے یہیں پر تھیں۔جو فاطمہ بانو کی ڈھارس بندھائے ہوئے تھیں۔اُن کے علاوہ بھی خاندان کی کئی لڑکیاں اُسی وقت سے گھر میں موجود تھیں اور اُس کے اکیلے پن کو اُنہوں نے کسی حد تک دور بھی کر دیا تھا۔ مگر بیٹے کے ساتھ مل کر اُسے ایک گونہ سکون سا آجاتا اور دل ہلکا ہو جاتا۔غلام حیدر نے والدہ کی کیفیت سمجھتے ہوئے کہا،اماں گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے۔مَیں نے چاچے بہزاد کو چک عالمکا سے بُلوا لیا ہے۔ وہ خود ہی اِس سارے مسئلے کو سنبھال لے گا۔

 

ملک بہزاد کا نام سن کر فاطمہ بانو ایک دم چونک گئی اور بولی، ہائے ہائے بیٹا اِس غنڈے کو تو صلح صفائی سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ یہ کسی اور ہی پھڈے میں نہ ڈال دے۔ تم نے اس کو کیوں بلایا ہے ؟ یہ تو نہ خود بیٹھتا ہے اور نہ کسی کو بیٹھنے دیتا ہے۔ اس کا معاملہ تو،چور نالوں پنڈ کاہلئی، والا ہے۔ میں کہتی ہو ں اُسے واپس بھیج دے اور اُن ظالموں کو کچھ دے دلا کر صلح کر لے۔ ہمارے پاس اللہ کا دیا سب کچھ ہے۔ اُس کے فضل سے کون سی کمی ہے۔
فاطمہ بانو کی بات ختم ہوئی تو غلام حیدر کی پھو پھی نے اپنا دوپٹا درست کیا اور رنگین موڑھا،جس پر وہ بیٹھی تھی، اُسے مزید آگے سرکا کرجھکی اور اپنی نصیحت چھیڑ دی، بیٹا تیری ماں ٹھیک کہتی ہے۔ تیرے باپ شیر حیدر کی بات اور تھی، تیری بات اور ہے۔یہ غنڈوں سے مقابلہ اور لڑائی بھڑائی ہمارا کام نہیں ہے۔ دیکھ تُو پڑھا لکھا ہے۔یہ لوگ جو تیری جان کے دشمن ہوئے ہیں،اِن ڈنگروں سے تیرا کیا لینا دینا۔ تُو اِن کو اِن کے حال پر چھوڑ اور زمین کسی کو ٹھیکے یا گہنے پر دے کر لاہور چلا چل یا چاہے تو پاکپتن آجا،پر اب فیروز پور اور جلال آباد تیرے رہنے کے قابل نہیں رہا۔ تُونے اندھیر سویر آنا جانا ہوتا ہے اور میں جانتی ہوں تیری ماں کس طرح سولی پر لٹکی رہتی ہے۔یہ سچ کہتی ہے، ملک بہزاد سے تُو کوئی واسطہ نہ رکھ۔ یہ تجھے کسی اور ہی پھڈے میں پھنسا دے گا۔

 

غلام حیدر جانتا تھا کہ اماں اور پھوپھیوں کو سمجھانا بے کار تھا۔ وہ عورتیں ہونے کے ناتے سے اپنی جگہ پر سچی بھی تھیں۔ لیکن اُن کی دی ہوئی صلاح پر سوچنے کی حد تک تو ٹھیک تھا،عمل کرنا ناممکن تھا۔زمینوں،مال مویشی اور رعایا کو بے وارث چھورنے کا مطلب یہ تھا کہ عزت،وقار،زمین سب کچھ سے ہاتھ دھو بیٹھنا اور اپنے باپ شیر حیدر کے نام تک کو ڈبو دینا، جو کسی طرح بھی گوارا نہ تھا۔ مگر اس وقت اُن سے بحث کرنا بھی فضول تھی۔ اس لیے غلام حیدر نے اپنی ماں اور پھوپھی کو دلاسا دیتے ہوئے اپنی ماں کا ہاتھ پکڑ کر کہا، اماں جیسا آپ کہیں گی وہی کروں گا، فکر نہ کریں۔میں ان سے کوئی تعلق نہیں رکھوں گا۔ فی الحال تو مجھے بھوک لگی ہے۔جلدی سے روٹی دے۔ آپ کے ساتھ بیٹھ کر روٹی تو کھا لوں۔

 

فاطمہ بانو نے غلام حیدر کی اِس قدر اطاعت گزاری دیکھی تو باغ باغ ہو گئی۔گویا سارے مسائل ایک لمحے میں حل ہو گئے ہوں۔اِسی خوشی میں اُس نے فوراً ملازمہ کو آواز دی،نی سلامتے جلدی نال غلام حیدر واسطے تے ساڈے واسطے روٹی لے آ، مَیں اپنے پُتر نال بہہ کے روٹی تاں کھا لاں۔

 

سلامت بی بی نے کھانا تپائی پر لگا دیا۔ پھر غلام حیدر،اُس کی ماں،دونوں پھوپھیاں اور خالہ نے مل کر کھانا کھا یا۔ کھانے کے دوران بھی غلام حیدر نے سب سے کافی نصیحتیں سنیں،جن پر وہ ایک فرمانبردار بیٹے کی طر ح ہاں ہاں کرتا گیا۔اِس طرح عصر کا وقت ہو گیا اور فاطمہ بانوسمیت سب گھر والوں کا بھی جی بہل گیا۔ والدہ کے پہلو میں بیٹھ کر غلام حیدر کا بھی کچھ تکد ٌر دور ہو گیا۔گویا ملک بہزاد سے صلاح مشورہ کرنے کے لیے ایک قسم کا تازہ دم بھی ہو چکا تھا۔
عصر کے وقت،جو سردیوں کے موسم میں شام کے قریب پہنچ جاتا ہے،غلام حیدر حویلی کے بڑے صحن کے مہمان خانے میں آ گیا۔مہمان خانہ ڈیوڑھی نما بیس فٹ اُونچی چھت والے بڑے کمرے پر مشتمل تھا۔جس میں دس چار پائیاں بچھ جاتی تھیں۔ سردی کی وجہ سے سب لوگ ڈیوڑھیوں میں بیٹھ چکے تھے اور حقوں کی گڑ گڑاہٹوں کے ساتھ گپوں کے ہانکے چھوڑ رہے تھے۔ غلام حیدر کو دیکھ کر ایک دم خموشی چھا گئی۔ لیکن وہ کسی کے پاس نہ رُکا اور سیدھا مہمان خانے میں جا کر ملک بہزاد کے سامنے والی چار پائی پر بیٹھ گیا۔ ملک بہزاد تسلی سے حقہ پیتا رہا۔ اُس دوران دوچار لوگ ادھر اُدھر کی باتیں کرتے رہے۔

 

غلام حیدر نے اصل بات چھیڑنے کی کئی بار کوشش کی لیکن ملک بہزاد فوراً ہی بات کو پلٹا دے کر کسی اور موضوع کی طرف موڑ دیتا۔جب دو گھنٹے اِسی طرح گزر گئے تو ملک بہزاد نے سب لوگوں کی طرف،جو چھ چار وہاں بیٹھے تھے،اشارہ کر کے کہا، لو بھراؤ اب تم سب باہر جا کر تھوڑی دیر کے لیے تازہ ہوا کھا آؤ،مَیں اپنے بھتیج سے کچھ دکھ سکھ کی باتیں کر لوں۔بڑے عرصے سے مل کر بیٹھنے کا مو قع ہی نہیں ملا۔

 

ملک بہزاد کی بات سن کر سب لوگ اُٹھ گئے حتیٰ کہ رفیق پاؤلی بھی اُٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا،میاں بہزاد میں بھی چلتا ہوں،اب کل ملیں گے۔آج کافی تھک گیا ہوں۔ اِس لیے جلدی نیند آ رہی ہے۔ وہ جان گیا تھا، ملک بہزاد غلام حیدر کے ساتھ در اصل اکیلے ہی میں بات کرنا چاہ رہا ہے۔
سب اُٹھ گئے تو ملک بہزاد نے اُٹھ کر اِس لمبے چوڑے کمر ے کے دروازے کی دونوں بلیاں چڑھا دیں اور آ کر تسلی سے اپنی چار پائی پر بیٹھ کر گیا،جس پر ریشمی گدا بچھا کر پائینتی روئی کی ایک موٹی اور صاف ستھری رضائی رکھی ہوئی تھی۔ملک بہزاد نے گول تکیے کے ساتھ ٹیک لگا کر رضائی اپنے قدموں کے اُوپر سے لا کر کمر تک اوڑھ لی۔ پھر حقے کی نے منہ میں لے کر ایک کیف آفریں سوٹا لگایا۔اِس کے بعدایک دو لمحے خموشی سے غلام حیدر کی طرف دیکھ کر بولا، جی پُتر غلام حیدر اب بتا۔اب صرف دیواریں سن رہی ہیں۔ اور کھل کے بتا کہ اب کیا ارادے ہیں ؟

 

غلام حیدر جو پہلے چارپائی کے کنارے پر پاؤں لٹکائے ملک بہزاد کو دیکھ رہا تھا کہ کب گفتگو شروع کرتا ہے،نے آرام سے اپنے جوتے اتار کر دونوں ٹانگیں اُوپر کر لیں اور کہنے لگا، چاچا بہزاد آپ کو بلانے کا آخر کوئی مقصد تو ہو گا اور جو مقصد ہے اُس کو حاصل کرنے کے لیے آپ کا وجود اِسی لیے ناگزیر ہے کہ مجھے شکست قبول نہیں اور یہ فیصلہ میں نے کافی سوچ سمجھ کے کیا ہے۔

 

ملک بہزاد غلام حیدر کی بات سن کر ہلکا سا مسکرایا پھر نہایت سنجیدگی سے بولا، بھتیجے میں مجھے آپ سے کچھ باتوں کے جواب سیدھے سیدھے چاہییں۔ اُس کے بعد میں اپنی رائے دوں گا کہ اِس قضیے میں کیا کرنا ہے۔ میری طبیعت سے تُو اچھی طرح واقف ہے اگر تیرا باپ بہشتی زندہ ہوتا تو اُس سے یہ باتیں کرنے کی نوبت پیش نہ آتی لیکن سچی بات یہ ہے کہ جب تک میں اپنی راہ آپ کے ساتھ صاف نہ کر لوں، اُس وقت تک یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ مجھے کیا کرنا چاہیے۔ اب پہلے مجھے تُو یہ بتا کہ اگر مَیں تیرے ساتھ نہ ہوں تو پھر تُو کیا کرے گا۔
مَیں نے ایف آئی آر درج کروا دی ہے دونوں قضیوں کے بارے میں۔ڈپٹی کمشنر نے مجھے انصاف کی توقع بھی دلائی ہے۔لیکن مَیں اُس سے زیادہ مطمئن نہیں ہوں اور کچھ مزید کرنا چاہتا ہوں لیکن میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کروں ؟

 

تیرے خیال میں ایف آئی آر کا نتیجہ کیا ہو گا ؟ملک بہزاد نے غلام حیدر کی آنکھوں میں جھانکتے ہو ئے پوچھا۔
۔ اس سے یہ ہو گا کہ حکومت مجرموں کو پکڑنے کی پابند ہو گی۔
پھر اُن ملزموں کو گرفتار کر لیا جائے گا ؟
میرا تو یہی خیال ہے۔
اچھا اب یہ بتا کہ ملزم گرفتار ہونے کے بعد اپنی ضمانت کی کوشش کریں گے یا آرام سے اپنے آپ کو جیل میں سڑنے دیں گے ؟
وہ اپنی ضمانت کروانے کی کوشش تو ظاہر ہے کریں گے
اگر ضمانت ہو گئی تو پھر؟
پھر مقدمہ چلے گا

 

پھر اُس کے بعد ظاہر ہے وکیل کیے جائیں گے، گواہ پیش ہوں گے۔پیشیاں ہوں گی، کبھی تم نہیں جا سکو گے، کبھی ملزموں کی طرف سے حاضری نہیں ہو گی۔ موسم آئیں گے گزر جا ئیں گے۔ جج بدلیں گے۔ پُرانے جائیں گے، نئے آئیں گے۔ سفارشیں چلیں گی۔ کبھی اُن کا پلڑا بھاری، کبھی آپ کا پلڑا بھاری اور یوں برسوں کا پینڈا نکل جائے گا۔یہی ہو گا نا؟ ملک بہزاد نے ایک طنزیہ لہجہ اپناتے ہوئے بات کو ختم کیا۔ پھر حقے کا ایک اور گھونٹ بھرا۔

 

تو کیا مجھے ایف آئی آر درج نہیں کروانا چاہیے تھی؟ غلام حیدر نے ملک بہزاد کی طرف سوالیہ انداز میں دیکھا۔

 

وہ تو ہر حالت میں کروانا چاہیے تھی میرے بھائی کے پُتر،ملک بہزاد نے کمرکو تکیے سے ذرا سا اُٹھاتے ہوئے جواب دیا، مگر میرا سوال یہ ہے کہ صرف یہی کچھ کر کے بیٹھ جاؤ گے؟
پھر اور کیا کروں؟ اسی لیے تو آپ کو زحمت دی گئی ہے، غلام حیدر بولا۔

 

دیکھ غلام حیدر، ملک بہزاد ایک دم سیدھا ہو کر بیٹھ گیا جس کا مطلب تھا کہ اب وہ غلام حیدر کو اپنا مشورہ تفصیل کے ساتھ دینے کے لیے تیار ہو گیا ہے، تیرے تین آدمی قتل ہو چکے ہیں،دو گاؤں پر حملہ ہوا ہے۔تیری فصلیں تباہ کی جاچکی ہیں اور مزید کی تجھے توقع رکھنی چاہیے کہ ابھی توابتدا تھی۔ اب رہی بات ملزموں کی، تو جن ملزموں کو پرچے میں آپ نے نام زد کیا ہے، وہ گرفتار تو ہو سکتے ہیں لیکن اُن کو سزا ہرگز نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ ہزار طرح سے ثابت کردیں گے کہ وہ تو موقع پر موجود ہی نہیں تھے۔ نہ ہی ان قضیوں میں اُن کی ایما شامل تھی۔تیرے گواہ کبھی یہ ثابت نہیں کر سکتے کہ جو تیرے آدمی قتل ہوئے ہیں وہ بالکل عین انہی کی ڈا نگوں اور برچھیوں کے وارسے قتل ہوئے ہیں۔ نتیجہ یہ ہو گا کہ پہلے اُن کی ضمانت ہو جائے گی، پھر سال ہا سال کی پیشیوں کے بعد وہ بَری ہو جائیں گے۔اِس کے بعد ملک بہزاد نے ایک اور حقے کا گہرا گھونٹ بھرا اور دوبارہ بولنا شروع کیا،یہ تو اُس صورت میں ہے جب وہ تجھے آرام سے مقدمے کی پیروی کرنے کا موقع دیں۔ اگر اُنہوں نے آئے دن آپ کی زمینوں،گاؤں اور بندوں کے اُوپر مختلف سمت سے حملوں کا سلسلہ بھی جاری رکھا تو بھتیجے تُو مقدمہ کی پیروی بھی نہیں کر سکے گا۔ یوں ایک آدھ سال میں تیر ی ساری سلطنت کی کمائی لٹ جائے گی اور ٹھٹھہ الگ میں اُڑے گا اور یہ ٹھٹھہ غیر نہیں تیرے اپنے اُڑائیں گے۔ یہی تیری رعایا زمینیں تو تیری کاشت کرے گی اور اُس کا نصف تیرے دشمنوں کو دے گی۔ رہی بات انگریز سرکار کی،تو یہ کبھی ہوتی تھی جب انہوں نے دلی نئی نئی فتح کی تھی۔ اب اِن کے بھی کچھ اور ہی لچھن ہیں۔کیا تو نہیں دیکھتا ؟یہ انگریزی بابو اور میمیں یہاں کتے لڑانے،زمینیں خریدنے،کبوتر اُڑانے اور کوٹھیاں بنانے کا دھندا کُھلے کھیتوں کرتے ہیں۔اور یہ سب عیاشیاں رشوت کے بغیر نہیں ہوتیں۔ میرے بھائی کے بیٹے یہ رشوت کا خون اِن کے منہ کو بھی لگ چکا ہے۔ہاں ایک بات ضرور ہے،جہاں دیسی دلاٌدس لیتا ہے، یہ گورا بیس لیتا ہے۔ مُل میں فرق ہے کرتوت میں نہیں رہا۔کیا تو نہیں جانتا ؟اگر یہاں انصاف کی رتی ہوتی تو میں کب کا پھاہے لگ چکا ہوتا۔پھر اب تیرے معاملے میں تو سکھ اور مُسلے دونوں اکٹھے ہو چکے ہیں۔ بندے اُن کے پاس زیادہ،پیسا اُن کے پاس زیادہ، اور حرامزدگیاں اُن کے پاس زیادہ۔ اِدھر تُو اکیلا، نہ تیرا یہاں دوسرا رشتہ دار اور نہ بازو۔ کب تک گر ہجوں کی کھردری چونچوں سے بچو گے؟

 

غلام حیدر تحمل سے ملک بہزاد کی باتیں سن رہا تھا اور معاملے کی سنجیدگی کا اعتراف اُس کے چہرے سے ظاہر ہو رہا تھا۔ ساری بات سننے کے بعد اُس نے نہایت بردباری سے کہا،چاچا بہزاد ایک بات تو طے ہے کہ نہ میں اپنی سلطنت لٹنے دوں گا اور نہ سودھا سنگھ اور عبدل گجر کی سانسیں زیادہ دیر چلنے دوں گا۔نہ ہی یہ چاہتا ہوں کہ میری رعایا میرے دشمنوں کی چلمیں بھرے۔ مَیں وہ کچھ کرنے کے لیے تیار ہوں کہ لوگ صرف سن کر کانپ جائیں۔بس تُو یہ بتا کہ کرنا کیا ہے؟

 

تو سُن،ملک بہزاد بولا، سب سے پہلا کام جو آپ نے کیا ہے،وہ بہت عمدہ ہوا کہ پرچوں کی ایف آئی آر میں تُو نے سیدھے انہی کے نام لکھوائے جن سے ہمیں غرض ہے۔ اِس سے یہ ہو گا کہ سودھا سنگھ اور عبدل گجر عدالت میں خود آنے کے پابند ہیں۔ یہی بات ہمارے کام کو آسان کر دے گی۔لیکن اِس کے لیے چند باتیں دماغ میں رکھ لو۔ اول بھیگی بلی بن جاؤ۔ چاہے چھ ماہ انتظار کرنا پڑ ئے، پورے صبر سے کرو۔ دوسری بات یہ کہ اپنے دونوں گاؤں میں اپنے لوگوں کو دن رات کے لیے ہشیار کر دو۔اس طرح کے حملے مزیدبھی ہو سکتے ہیں۔ اگر ایک حملہ بھی اور ہو گیا اور اُس میں تمھارا بندہ مر گیا تو رعایا دل چھوڑ دے گی۔ پھر تم چاہتے ہوئے بھی کچھ نہیں کر سکو گے۔ تیسرا کام یہ کرو کہ اپنا تمام مال اور مویشی یا تو اپنے رشتہ داروں کے ہاں بھیج دو یا بیچ دو اور کوئی چیز جو کھلے بازار میں بِک سکتی ہے،وہ تیرے گھر میں نہیں ہونی چاہیے۔چوتھایہ کہ اپنی ریفل کی گولیاں جتنی خرید سکتا ہے خرید لے۔ لیکن اِس کی نمائش کم کر دے اور گورنمنٹ کا بار بار دروازہ کھٹکھٹاؤ۔ اُسے کہو،جو میرے ساتھ ظلم ہوا ہے، اُس کا حساب لے کر دو۔ اِس کے علاوہ بگھیوں پر سفر کرنا چھوڑ دے۔والدہ کو اُن کے پیکے چھوڑ آو بلکہ ایسی جگہ بھیج دو جس کے بارے میں کسی کو بھی پتہ نہ ہو۔تا کہ تجھے دوسری پریشانی کا سامنا نہ ہو۔

 

اتنا کہنے کے بعد ملک بہزاد کچھ دیر کے لیے خاموش ہو گیا۔ اِس خاموشی کے وقفے میں سے جگہ بناتے ہوئے غلام حیدر نے سوال کیا، اس کا مطلب یہ ہے کہ مجھے اپنی ذات کو تنہا کرنا پڑے گا اور تمام مصروفیات کو حویلی تک محدود کر دینا پڑے گا۔لیکن زمین کے معاملات کس کو سونپوں؟

 

زمین کو فی الحال اپنے ہی پاس رکھ اور وقت کے آنے کا انتظار کر،ملک بہزاد نے اپنا پورا جسم لیٹ کر رضائی کے حوالے کرتے ہوئے کہا،کیو نکہ یہی زمین تجھے طاقت بھی فراہم کرے گی اور یاد رکھ اپنے معاملات کے بارے میں اپنے خاص الخاص بندے حتیٰ کہ رفیق پاؤلی کو بھی آگاہ نہ کرنا کیونکہ ملازم خیانت کار نہ بھی ہو،تب بھی کمزور ضرور ہوتا ہے۔ اُس کی طاقت پر کبھی بھروسا نہ کرنا۔ اس لیے کہ ملازم کی طاقت بہر حال مالک سے اُدھار لی ہو تی ہے۔اور ادھار لی گئی چیز کو بعض اوقات استعمال کرنے کا ڈھنگ نہیں آتا۔ اس لیے معاملہ بگڑ جاتا ہے۔زندگی نے مجھے تجربہ سکھایا ہے، انسان وہی کامیاب ہے جو اپنا کام اپنے ہاتھ سے کرے۔ جو اپنی ذمہ داری دوسرے پر ڈالے گا وہ ہمیشہ اُسے ادھورا نبھائے گا۔ اس لیے سودھاسنگھ اور عبدل گجر کا معاملہ کسی دوسرے کے حوالے نہ کرنا اور یہ بھی یاد رکھنا کہ اپنا ہتھیا ر صرف اپنے پاس رکھنا۔ مجھے بہت ایسے سرداروں کے قصے یاد ہیں۔وہ انہی بازؤوں کے ہاتھوں مارے گئے جنہیں اُنہوں نے اپنے دشمنوں کے لیے تیار کیا تھا۔ جب سب کچھ تیرے خلاف جائے گا،اُس وقت تیرا دایاں بازوتیرے بائیں بازو کا ساتھ دے گا۔ یہ بھی یاد رہے کہ تیری مخبری پر تیرے دشمن کی مخبری غالب نہ آئے۔ اب جارحیت کی طرف قدم بڑھانے کا سلسلہ شروع کرواور سب سے پہلے انتخاب طاقتور دشمن کا کرو۔کچہری اور تحصیلوں کے معاملے مجھ پر چھوڑ دو۔ سودھا سنگھ، عبدل گجر اور شریف بودلے کو عدالتوں تک لانا اور غیر محفوظ راہوں پر دوڑانا میرا کام ہے۔باقی موقع آنے پر میں تم کو سب سمجھاتا جاؤں گا۔

 

غلام حیدر اور ملک بہزاد کی اس گفتگوں میں دونوں کو ہی وقت کے گزرنے کا احساس نہ ہوا اور رات کا تیسرا پہر چل پڑا۔جس کی وجہ سے ملک بہزاد کی آنکھوں پر نیند کا بوجھ بڑھنے لگا۔یہی حالت غلام حیدر کی ہوچلی تو بات چیت ختم کر کے غلام حیدر حویلی کے زنانے حصے میں چلا گیا۔
Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – بارہویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(23)

 

ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کے بعد غلام حیدر اگر بہت زیادہ مطمئن نہیں تھا تو غیر مطمئن بھی نہیں تھا۔ کیونکہ پچھلے تین دن سے اُسے ایک تو اپنے سکول کے دوست کے ساتھ رہنے کا موقع مل گیا۔ جسے وہ پچھلے دو سال سے نہیں ملا تھا۔ یہ رفاقت اُسے گزری رُتوں میں لے گئی اور وہ دونوں بچپن کے دنوں کو دہراتے رہے۔ اگرچہ ابھی جوان تھے مگر بچپن کی یاد کچھ اپنا ہی مزا رکھتی ہے۔ نجم سے ملنے کے سبب غلام حیدر کے دل سے بار کچھ ہلکا ہو گیا اور وہ ایک بڑے سردار کی ذمہ داری سے کچھ وقت کے لیے کٹ گیا۔ دوسرا شیخ مبارک حسین کی صحبت نے اُسے باپ کی شفقت کا سا کام دیا۔ شیخ مبارک نے سمجھایا کہ جلدی کرنے کی ضرورت نہیں۔ عقل اور سمجھداری سے کام لو، رعایا کو سنبھالنا تمہاری ذمہ داری ہے لیکن اس طرح نہیں کہ عین انہی کی خواہش کو تکمیل تک پہنچاؤ۔ اپنے حساب سے کام کرو۔ رعایا تو چاہتی ہے،نتیجہ ایک دم نکل کے سامنے آ جائے اور دشمن سے فوراًبھڑ جاؤ۔ تو کیا تم اُن کی خواہش کو پورا کرنے پر قادر ہو گے ؟تم یا تمہاری رعایا جو کچھ بھی کرو گے،اُس کی ذمہ داری کا بوجھ صرف تمھی اُٹھاؤ گے۔ جو نتیجہ نکلا اُس کے مٖفید ثمرات میں تو رعا یا تمھاری شریک ہو گی لیکن اُن کی کڑواہٹ صرف تمھارے حصے میں آئے گی۔اس لیے خودکو سنبھالو اور رعایا کے ہاتھوں میں کھلونا مت بنو۔کیونکہ آج تم اپنی رعایا کی ایک بات مانو گے تو کل وہ دوسری کی خواہش کر دیں گے۔وہ تمھیں یہ تک ثابت کر دیں گے کہ تم وائسرائے سے زیادہ طاقت ور ہو۔ تو کیا تم اُسی سمجھ بوجھ سے کام لو گے ؟بیٹا میری ایک صلاح ہے، اُسے پلّے سے باندھ لو۔انگریزی قانون ایک بم ہے۔ اسے جس گدھے نے دولتی ماری، اُس کے پرخچے اُڑ گئے۔تم نہیں جانتے مگر میرا تجربہ بتاتا ہے کہ انگریز اپنے قانون میں کسی کی مداخلت جائز سمجھ لیتا تو ہندوستان میں ایک لمحے کے لیے راج نہ کر سکتا۔ سردار سودھا سنگھ تو دو ٹکے کا نہیں۔ یہاں نوابوں کی نہیں چلتی۔ غلام حیدر بات ابھی تک تمھارے ہاتھ میں ہے۔ سودھا سنگھ پر قتل اور ڈکیتی کا پرچہ کٹ چکا ہے۔ اُسے نہیں پتا کہ اُس پر کتنا بڑا وزن گِر گیا ہے۔ دیکھ لینا،دو چار دن میں جب اُس پر راستے تنگ ہو جائیں گے تو بلبلا اُٹھے گااور گردن بچاتا پھرے گا۔ تم ابھی حوصلہ رکھو۔ آخر وہ اس قتل کو کس کھاتے میں ڈالیں گے؟ حکومت کو اس کا کُھرا تو نکالنا ہے۔ اب تم آرام سے جلال آبادمیں جا کر حالات کا جائزہ لو اور رعایا کو کسی بھی طریقے سے لگام میں رکھو۔ میرا خیال ہے، جلد معاملہ آگے بڑھے گا۔ ریل میں جانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ میں اپنے ڈرائیور ہاشم کو کہتا ہوں، وہ تمھیں جلال آباد چھوڑ آتا ہے۔ جیپ دو گھنٹے میں پہنچ جائے گی، باقی اگر کچھ مسئلہ پیدا ہوا تو میں حاضر ہوں لیکن اُس وقت تک، جب تک تم قانون کے دائرے میں ہو۔ اگر تم نے خود اپنے فیصلے قانون کے متوازی شروع کر دیے تو بیٹا میرے لیے مشکل ہو جائے گی۔ میں ایک کاروباری آدمی ہوں، زیادہ مسائل میں میرا دماغ نہیں چلتا۔ تم مجھے نجم علی کی طرح ہو اس لیے میں نہیں چاہتا،تمھارا کچھ نقصان ہو۔

 

غلام حیدر کے دل پر شیخ مبارک کی باتوں کا کافی اثر ہوا۔ اُس نے فیصلہ کیا، واقعی اُسے جلدی نہیں دکھانی چاہیے۔ اس کے علاوہ غلام حیدر کے دل میں ایک اور بات بھی تھی کہ اُسے نواب افتخار کو ایک دفعہ ضرور تار دینی چاہیے لیکن فی الحال آرام سے شیخ مبارک کے مشورے کے مطابق چار چھ دن اور انتظار کر لینے میں کوئی ہرج نہیں تھا۔ ویسے بھی اُسے یہ اطلاع تو مل چکی تھی کہ ولیم اپنی طرف سے معاملے کو سنجیدہ لے کر تفتیش کر رہا ہے۔ بلکہ پہلی دفعہ کسی انگریز نے خود جا کر گاؤں میں پوچھ گچھ کی تھی۔ غلام حیدر نے سوچا، ہو سکتا ہے ڈپٹی کمشنر ٹھیک کہتا ہو کہ ولیم میری طرف داری میں ہے اور مجھے کسی وجہ سے ولیم کے ساتھ پہلی ملاقات میں غلط فہمی ہوئی۔ بہرحال اب اُسے جلد ازجلد جلال آباد پہنچنا چاہیے کہ اس حالت میں اتنے دن باہر رہنا زیادہ ٹھیک نہیں تھا۔ ویسے بھی اُس نے جو کچھ کرناتھا اُس حد تک تو کر لیا تھا۔:

 

ٹھیک بارہ بجے وہ شیخ مبارک کی جیپ میں بیٹھ چکا تھا۔ ہاشم علی نے دو اور دوست بھی اپنے ساتھ لے لیے کہ رستے میں کوئی مسئلہ بھی پیش آ سکتا تھا،پھر اکیلا آدمی بہت خجل ہوتا ہے۔
نجم علی نے نہایت تپاک سے غلام حیدر کو رخصت کیا۔ جیپ کی گراری کا رسہ کھینچا گیا۔اُس کے شور سے بازار میں چلنے والے ایک تانگے کا گھوڑا بدک گیا۔ بارہ بجے جیپ فیروز پور سے نکل پڑی۔ غلام حیدر اپنی ر ائفل بائیں کاندھے پر لٹکاکر ہاشم علی کے پہلو میں بیٹھ گیا۔ پف لگی پگڑی،جو چار دن سے اتا رکر رکھی ہوئی تھی، وہ بھی سر پر رکھ لی۔ اب اُسے اپنے علاقے میں ایک بڑے چوہدری کی حیثیت سے ہی داخل ہونا تھا۔ غلام حیدر سر پر پگڑی باندھے، بائیں کاندھے پر رائفل رکھے،ہاشم علی ڈرائیور کے دائیں پہلو میں بیٹھا،رعب داب کی ایک نئی تصویر پیش کر رہاتھا۔ غلام حیدر کو اسلحہ لے کر اور پگڑی باندھ کر جیپ میں بیٹھنا اچھا لگا۔ اُس نے دل ہی دل میں خیال کیا، اب اُسے بھی اپنی ایک جیپ خرید لینی چاہیے۔جیپ کی سواری ایک تو تیز ہے،دوسرا اس دور میں بگھی کی نسبت رعب بھی ذرا زیادہ ہے۔ غلام حیدرکے پیچھے بیٹھے ہوئے ہاشم علی کے دوست مسلسل باتیں کرتے جا رہے تھے۔ جس کی وجہ سے غلام حیدر بار بار اپنے خیالات سے باہر نکل آتا۔ بالآخر اُس نے سیٹ کے ساتھ سر ٹکا لیا اور آنکھیں بند کر لیں۔ کچھ ہی دیر بعد جیپ کے جھولوں میں نیند کے جھولاٹے اُسے اپنی پناہ میں لے گئے۔پھر جو آنکھ کھلی تو وہ جلال آبا دمیں تھا۔

 

جیپ حویلی کے دروازے پر پہنچی تو ایک اور ہی سماں تھا۔ سینکڑوں لوگ حویلی کے باہر کھڑے تھے۔ غلام حیدر جیپ سے نیچے اُتر کر آگے بڑھا تو سب اُس کے گرد جلد بھاگ کر اکٹھے ہونے لگے۔ وہ حیران تھا کہ آخر انھیں کیا ہو گیا ہے۔ اِن کو میری ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کی خبر لینے کی ایسی کیا جلدی ہے مگر ساتھ ہی تمام لوگوں کے چہروں پر تفکرات کی جُھریاں دیکھ رہا تھا۔ جس کی وجہ سے اُس کے دل میں خدشات کے جھکڑ چلنے شروع ہو گئے۔ حویلی میں داخل ہواتو وہاں اور بھی بہت سے لوگ بیٹھے تھے۔لوگ غلام حیدر کو دیکھ کر فوراً اُٹھ کھڑے ہوئے۔ خدابخش نے آگے بڑھ کر غلام حیدر کے پہلو میں چلتے ہوئے کچھ کہنے کی کوشش کی مگر پھر چپ ہو گیا۔ اتنے میں وہ ایک بڑے موڈھے پر بیٹھ گیا اور بیٹھتے ہی پوچھا،چاچا بخشے چاچا رفیق کدھر ہے، نظر نہیں آ رہا اور دوسرے بھی دکھائی نہیں دے رہے؟
خدا بخش فوراً اپنی سفید داڑھی کو مٹھی سے آزاد کرتے ہوئے بولا، سردار غلام حیدر وہ تو اسٹیشن پر تمھیں لینے کے لیے پہنچا ہے۔ اُسے کیا پتا تھا تم جیپ پر آ جاؤ گے۔

 

غلام حیدر نے اپنی خالص اُون کی سرمئی چادر اُتا رکرساتھ کے خالی موڈھے پر رکھی اور کہا، خدا بخش فوراً بندہ بھیج کر اُنھیں واپس بلا لو اور یہ اتنے لوگ یہاں کس لیے اکٹھے ہوئے ہیں اور سب کے چہرے کیوں مرجھائے ہوئے ہیں؟ اس کے ساتھ ہی غلام حیدر کی نظر غلام رسول پر پڑگئی۔

 

غلام رسول پچاس کے پیٹے میں ادھیڑ عمر کا مگر منجھا ہوا شخص تھا۔ ہلکی سفید داڑھی جس میں کچھ بال ابھی تک سیاہ تھے۔ چہرے کی ہڈیاں چوڑی اور کُھلے کُھلے ہڈ کاٹھ۔ چرخے پر کاتے گئے دھاگے سے بُنا ہوا کھدر کا کھیس کاندھے پر تھا۔جس کاایک پلُو اُس نے دائیں بغل سے نکال کر بائیں کاندھے پر ڈال لیا تھا۔اس طرح کھیس کاندھے پر رکھنے کا رواج پنجاب کے اکثر بڈھوں میں تھا۔ کھیس کے دونوں کنارے لال رنگ کے سوتی دھاگے سے بُنے ہوئے تھے۔جو دیکھنے والے کی آنکھوں کو بھلے لگتے۔پاؤں میں دیسی طرز کے جوتے بظاہر سادہ لیکن مضبوط چمڑے کے تھے اور گاؤں کے ہی موچی سے بنوائے ہوئے تھے۔ غلام رسو ل شاہ پور گاؤں میں شیر حیدر کا ہیڈ مُنشی تھا۔ جو شاہ پور کی زمینوں کا حساب کتاب رکھتا۔اس کے ساتھ ہی رعایا کے معاملات کی خبر گیری کا کام بھی اس کے ذمے تھا۔ شاہ پور کے لوگوں کے چھوٹے موٹے جھگڑے چُکا دینا بھی اُس کے دائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ نہایت ایماندار اور بھلا آدمی تھا اور شاہ پور میں بھی اُس سے کسی کو کچھ شکایت یا گلہ کم ہی پیدا ہوا تھا۔پچھلے تیس سال سے شیر حیدر کا اہم ملازم تھا۔

 

غلام حیدر نے غلام رسول کو اچانک دیکھا تو مضطرب سا ہو گیا اور غلام رسول کی طرف منہ کرکے پوچھا،چاچا غلام رسول تم شاہ پور سے کب یہاں پہنچے؟

 

غلام رسول کا جواب سننے سے پہلے ہی غلام حیدر نے پہلی دفعہ لوگوں پر غور سے نظر ڈالی۔ اُسے اور بھی کئی چہرے شاہ پور کے نظر آئے۔ غلام حیدر کا دل دھڑکنے لگا، اُس نے سوچا، کوئی بات ہو گئی۔ اتنے میں غلام رسول بولنے لگا، اُس کا ایک ہاتھ حقے کی نَے پر ہی رہا۔
چوہدری غلام حیدر، “غلام رسول نے نہایت کرب کے ساتھ بولنا شروع کیا” ہم آج گیارہ بجے جلال آباد پہنچے ہیں۔

 

اس دوران تمام لوگ بالکل ساکت وصامت بیٹھے اور کھڑے غلام رسول کی بات سننے کے لیے تیار تھے۔

 

غلام رسول نے اب ہمت کر کے بات سنانا شروع کی”غلام حیدر خیر ہی تو نہیں ہے۔شاہ پور پر رات قیامت ٹوٹ گئی، دشمنوں نے حملہ کر دیا ہے، شاہ پور کاباڑہ اُجڑ گیا، پورے پچاس بندوں نے حملہ کیااور آدھی رات اچانک باڑے میں برچھیوں اور چھوّیوں کا مینہ برسنے لگا۔خدا جانے ویریوں میں اتنا کروہد کس لیے آ گیا؟

 

غلام حیدر ہکا بکا ہو کر غلام رسول کی باتیں سُننے لگا۔ اچانک اُس نے محسوس کیا کہ اتنے بھرے مجمعے میں اُسے کچھ نہیں پوچھنا چاہیے۔ اُس نے ہاتھ کے اشارے سے غلام رسول کو چپ کرا دیا۔پھر خدا بخش سے کہا، خدا بخش تم ایسا کرو جلدی سے شیخ صاحب کے بندوں کے لیے کھانے کابندوبست کرو، اور رفیق کو اسٹیشن سے بلانے کے لیے کوئی بندہ بھیجو۔
خدا بخش نے ہولے سے کہا، فیقے کی طرف تو حبیب کو بھیج دیا ہے چوہدری صاحب۔

 

اتنا کہہ کر خدا بخش وہاں سے اُٹھ کر حویلی کے زنانہ حصے کی طرف چل دیا۔
خدا بخش اور اُس کی بیوی جوانی کے دنوں سے ہی شیرحیدر کے ملازم ہو گئے تھے۔ گھر کے اندر خدا بخش کی بیوی فاتاں کے پاس باورچی خانہ اورنجی قسم کے چھوٹے چھوٹے معاملات کا بندوبست تھا۔جبکہ باہر کی میزبانی کا بار خدا بخش کے ہاتھ میں تھا۔اولاد کوئی نہیں تھی اور دونوں کی عمریں سڑسٹھ سال کے لگ بھگ ہو چکی تھیں۔ میاں بیوی حویلی کے وفادار ملازموں میں سے تھے۔ غلام حیدر کی ماں اور پورا خاند ان ان پر بھروسا کرتے تھے۔ غلام حیدر کے ملازموں میں بھی ہر دلعزیز ہونے کی وجہ سے نوکروں کی چھوٹی موٹی شکایات کو اُوپر ہی اُوپر نپٹا دیتے اوراُن کی رشتے داریوں میں بھی پوری طرح دخیل تھے۔غلام حیدر نے خدا بخش سے فارغ ہو کر غلام رسول اور اُس کے ساتھ آئے ہوئے بندوں کو ڈیوڑھی کے ایک کمرے میں اُس کے پیچھے آنے کو کہا۔ وہ اُٹھ کر اُس کے پیچھے چل دیے،باقی سب وہیں بیٹھے رہ گئے۔

 

غلام حیدر کو پتا تھا کہ غلام رسول سب لوگوں کو کہانی پہلے ہی بتا چکا ہے اور یہ بات کوئی راز نہیں رہ گئی پھر بھی کچھ ایسی بات ہوتی ہے جس کا سب کے سامنے وضاحت کر کے اور کھُول کر بیان کرناٹھیک نہیں ہوتا۔اس لیے یہ قصہ اِن سب کے سامنے نہ ہی دہرایا جائے تو اچھا ہے۔ ڈیوڑھی کے کمرے میں داخل ہو کر غلام حیدر نے وہاں پڑی ہوئی چار پائیوں پر اُن سے بیٹھنے کو کہا اور خود بھی ایک چارپائی پر بیٹھ کر بولا، غلام رسول اب سارا قصہ سناؤ۔

 

غلام رسول نے بات دوبارہ شروع کر دی، اس دوران دوسرے تمام لوگ خاموش بیٹھے سنتے رہے۔
چوہدری غلام حیدر “غلام رسول بولا”یہ آج رات دس بجے کی بات ہے۔ آپ کو تو پتا ہے، پچھلے دس سال سے سارے شاہ پور کا مال مویشی اُسی باڑے میں اکٹھا بندھتا ہے جو شیر حیدر نے بنوا کر دیا تھا۔ اُس باڑے کی پہرے داری روزانہ دس بندے کرتے ہیں۔ جب سے سودھا سنگھ نے جودھا پور پر حملہ کیا، ہم نے یہ پہرہ اور بھی سخت کر دیا تھا بلکہ تیری ہدایت کے مطابق ڈانگ سوٹے کی پوری تیاری بھی وہاں کر کے رکھی ہوئی تھی۔ مگر پتا نہیں تھا کہ دشمن اتنی جلدی ایسی بے شرمی کی چال کھیلے گا۔ یہ آج رات دس بجے کی بات ہے، باڑے میں سارے بندے جاگ رہے تھے اور نذیر بھیکو قصہ شاہ داؤد سنا رہاتھا۔ ہم سوکھا گووہا اکٹھا کر کے آگ جلا کر سارے اُس کے گردبیٹھے ہوئے تھے۔ دُھند کچھ زیادہ نہیں تھی اور تارے چمک رہے تھے اتنے میں ہمیں کچھ لوگوں کے قدموں کی آواز سنائی دی، ہشیار تو ہم پہلے ہی سے تھے۔میں نے فوراً اُٹھ کر حالات کا جائزہ لینے کی کوشش کی،کیا دیکھتا ہوں کچھ لوگ گھوڑوں پر اور بہت سے پیدل، باڑے کے چاروں طرف بندے ہی بندے سر نکالے کھڑے تھے۔ میں فوراًپیچھے ہٹا اور بیلیوں کو کہا کہ تکڑے ہو جاؤ دشمن چڑھ آٗئے ہیں۔ہم نے بھی فٹا فٹ اٹھ کر اپنی ڈانگیں اور چھّویاں کَس کے دشمن کو للکار دیااور دھویں کی آگ پر راکھ ڈال کر اُسے بجھا دیا۔

 

چوہدری صاحب باڑے کی دیوار دو ہاتھ سے زیادہ نہیں۔ منٹوں میں سارے بندے چھلانگیں مارکر اندر آ گئے۔اللہ مولاجانتا ہے، پورا پچاس بندہ تھا۔ پَر میں نے شادھے خاں کو کہا، بھائی شادھے آ ج علی کا نام لے کر پلتھے کے کرتب دکھا دے۔ بس پھر آدھے بندے شادھے خاں کی پشت پر تھے اور آدھے خان دلاور کی چوکی میں کر دیے۔ اس کے بعد بغلوں کے وار چلنے لگے۔ پھٹیت میں تو میرا وار بھی ہلکا نہیں تھا۔ پَر رات شمّے کے دیگی لوہے والی برچھی نہ پورا بھرم رکھا۔ لو جی چودھری صاحب، پچاس بندوں نے ہمیں گھیر لیا،باقی مال کھولنے میں لگ گئے۔ ادھر میں نے للکارا مارا تا کہ جو گاؤں میں سو رہے ہیں وہ بھی آجائیں۔ہم نے کہا مرناتو ایک دن ہے ہی۔کیوں نہ آج مردوں کی طرح جان دے دیں۔ چوہدری جی لوہے پر لوہا ایسے گرتا تھا جیسے فرنگی توپیں چلتی ہیں۔ یہ مندرے( پاس بیٹھے ایک شخص کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جس نے نوک دار مونچھوں کو وٹ دے کر اوپر کی طرف موڑی تھیں اور آنکھیں انگارے کی طرح سرخ تھی )نے بھی کمال کر دیا۔ ہم صرف دس بندے تھے اور دشمن کی تعداد ہم سے سات گُنا زیادہ تھی۔

 

جس کی وجہ سے لڑائی کے شروع میں ہمارے دو بندے گر گئے لیکن اس کے بعد ہم نے باندر کِلًے کی طرح دائرہ باندھ لیا تاکہ کنڈیں بچی رہیں اور کوئی پیچھے سے وار نہ کرے۔ چھوّیوں اور ڈانگوں کااتنا کھڑکا تھا، جس کی آواز فوراً ہی گاؤں والوں نے بھی سُن لی اور تھوڑے ہی وقت میں وہ بھی ڈانگیں پکڑے آ گئے۔دشمنوں کو اتنی امید نہیں تھی کہ ہم اس طرح اُن کا مقابلہ کریں گے۔ جب انھوں نے گاؤں والوں کی للکاریں سنیں تو اُن کے جی چھوٹ گئے اور انھوں نے بھاگنے کاارادہ کر لیا۔ اس وقت مَیں نے شادھے کو کہا، شادھے خاں یہی وقت ہے اِن کے بندے گرانے کا۔عین اُسی وقت میراسامنا بِلّے کمبوہ سے ہو گیا۔ اُس کا مڑاسا گرگیا تھا۔تب میری آنکھیں کُھلیں۔ میں نے کہا رسُولے یہ کیا ہوگیا؟یہ تو عبدل گُجر کا خاص بندہ ہے۔ اتنے میں گاؤں والے سارے باڑے میں داخل ہو چکے تھے۔ بِلاٌ شاید بھاگ ہی جاتا مگر نذیرے بھیکو نے آگے سے رستہ روک لیا اور ایک برچھی کا الٹا ہاتھ بِلُّے کے سر پر مارا۔ سَر تو اُس نے ایک طرف کر کے بچا لیا مگر برچھی دائیں موڈھے میں اُتر گئی اوربِلُّا گر پڑا۔اتنے میں شادھے نے دماسنگھ کو گرا لیا۔

 

اب میں نے ساری کہانی سمجھی۔ چوہدری غلام حیدر، ہم پر سودھا سنگھ اور عبدل گجر دونوں نے مل کر سٹ ماری کیونکہ دَما تو خاص سودھا سنگھ کا بندہ تھا۔ شادھیا کا وار دما سنگھ کی چوٹی پر سیدھا پڑا تو وہ نیچے بیٹھتا ہی چلا گیا۔ اُوپر سے میں نے دووار کرکے اپنے لوہے کو گرم کیا۔ شادھا تو بِلے کو بھی مارنے لگا تھا پر میں نے کہا،فی الحال اِسے پکڑ لو۔کوئی ثبوت تو پاس ہو۔پھر یہ مسلمان بھی ہے۔ اس طرح ایک بندہ ہم نے مار دیا جو سودھا سنگھ کا تھا اور ایک بندہ زخمی پکڑ لیا ہے۔اِس کے بعد غلام رسول نے سر نیچا کر کے کہا، لیکن چوہدری صاحب ہمارے تین بندے لطیف کمھار، دُلّا آرائیں اورباہلی شیر گڑھیا بھی اللہ کو پیارے ہو گئے ہیں اور چار بندے پھٹٹر ہو گئے۔ ان بندوں کے علاوہ پندرہ بھینسیں بھی لے گئے۔( آہ بھر کر )چوہدری، زندگی موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے مگر مرنے والے تینوں ہی بڑی بے جگری سے لڑے ہیں۔

 

اُس وقت ذرا اندھیرا تھا اور وہ دونوں شادھے کی ٹولی میں تھے۔ مجھے تو بعد میں پتا چلا کہ سودھا سنگھ کے اور بھی بندے شامل تھے۔نیک علی نے مجھے بتایاہے۔ لطیف پر جس نے وار کیا وہ متھا سنگھ تھا اور شادھے نے رنگا کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ باقی تو کئی بندے پچھانے گئے جو عبدل گجر کے تھے۔ لڑائی کے دوران ہم مال مویشی پر توجہ نہیں دے سکے اس لیے جب تک لڑائی ختم ہوئی وہ بہت دور لے کر نکل چکے تھے۔ جب مجھے تھوڑا سا ہوش ملا تو میں نے کہا کہ جلدی سے لاھد کراؤ،یوں ہمارے دس پندرہ بندے اُن کے پیچھے لاھد کرتے ہوئے بھاگے۔اس میں اتنا ہوا کہ وہ آدھا مال چھوڑ کر بھاگ گئے کیونکہ لاھد ہونے کی وجہ سے وہ انھیں تیز ہنکا نہیں سکتے تھے۔ پھر بھی نقصان کافی زیادہ ہو گیا ہے۔کم از کم پندرہ بھینسیں چلی گئیں ہیں۔ چوہدری صاحب یہ قصہ ہے، جو آپ کے شاہ پور میں ہوا۔ ہمارے تین بندوں کا نقصان تو ہو گیا ہے پر رب نے شرم رکھ لی۔ اس واقعے کے بعد مَیں تو اطلاع دینے کے لیے صبح ہی اِدھر آ گیا، باقی گاؤں والے سارے اُدھر ہی ہیں۔ زخمیوں کو ہلدی اور دودھ پلایا جا رہا ہے، پٹیاں باندھ دی گئی ہیں۔اُن میں سے خدا کا شکر ہے کسی کی جان کو خطرہ نہیں۔ اب تک پولیس بھی آگئی ہو گی۔ اب ہمارے پاس اُن کے دو بندے ایک سودھا سنگھ کا حقہ بردار اور دوسرا عبدل گجر کا بندہ بِلّاکمبوہ ثبوت کے طور پر ہیں۔ میں نے ساری کہانی چاچے فیقے کو آپ کے آنے سے پہلے ہی بتا دی ہے۔ وہ کہہ رہا تھا،آپ فیروز پور ڈپٹی صاحب بہادر سے ملاقات کے لیے گئے ہوئے ہیں اور آج واپس آنا ہے۔space:

 

غلام رسول اپنی رَو میں کہانی سنا گیا جبکہ غلام حیدر کا سر چکرا رہا تھا۔ اُسے ہرگز یہ گمان نہیں تھا کہ کل کے خارش زدہ کتے اُس پر بھیڑیوں کی طرح پل پڑیں گے۔ سودھا سنگھ تو خیر پھر بھی ایک حیثیت کا مالک تھا مگر عبدل گجر کی یہ جرأت ہو گی، یہ اُسے اندازہ نہیں تھا۔ اس نے اپنے بِل سے باہر نکل کر اتنا زبردست حملہ کیا تھاکہ سچ بات تو یہ ہے، غلام حیدر کے اوسان ٹھکانے پر نہیں رہے تھے اور اُسے غلام رسول کی بات سن کر کچھ سوجھ نہیں رہا تھا۔البتہ یہ حوصلہ ضرور ہوا کہ اس کے بندوں نے کسی بھی محاذ پر پیٹھ نہیں دکھائی تھی۔ یہی بات غلام حیدر کی ہمت بندھانے والی تھی۔ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد وہ ڈیوڑھی سے باہر نکل آیااور کہا، غلام رسول گھبراؤ ناں،دیکھ مَیں اب کیسے سودھا سنگھ اور عبدل گجر کی ایسی کی تیسی پھیرتا ہوں۔

 

اتنے میں رفیق پاولی بھی حویلی میں داخل ہو گیا۔رفیق پاولی غلام حیدر کے ساتھ سلام لے کر چپ چاپ کھڑا ہو گیا۔ اس کے پیچھے باقی بندے بھی خموش کھڑے تھے۔

 

تھوڑی دیر خموش کھڑا رہنے کے بعد غلام حیدر نے رفیق کو مخاطب کر کے کہا، چاچا فیقے جلدی سے شاہ پور چلنے کی تیاری کرو۔ اتنا کہہ کر وہ حویلی کے زنانہ حصے کی طرف بڑھا اور اندر داخل ہو گیا۔ غلام حیدر گھر میں داخل ہوا تو اس کی ماں فاطمہ بانو دوڑ کر بیٹے کے گلے لگ گئی اور ر ونے لگی۔ غلام حیدر کچھ دیر کھڑا ماں کا روناسنتا رہا۔حویلی میں اس تازہ واقعے کی خبر سن کر بہت عورتیں اکٹھی ہو چکی تھیں۔ وہ بھی اُٹھ کر غلام حیدر کے گرد جمع ہو گئیں۔ غلام حیدر نے سب عورتوں سے کہا کہ آپ سب فی الحال اپنے گھروں کو چلی جاؤ۔ پھر وہ اپنی والدہ کو لے کر صحن کے ایک کونے میں بیٹھ گیاجہاں دھوپ کافی چمک رہی تھی۔ فاطمہ بانو نے چارپائی پر بیٹھتے ہی کہا، پتر حیدر میں تجھے خدا کا واسطہ دیتی ہوں تُوشہر واپس چلا جا اور لاہور والے گھر میں ہی رہ۔دشمن اپنی آئی پر آیا ہوا ہے۔ دیکھ، تُوچار دن فیروز پور رہا اور میری جان سوئی پر اٹکی رہی،۔خدا نہ خواستہ تیرے دشمنوں کو کچھ ہو گیا تو میں زندہ مر جاؤں گی۔ میرا تیرے بغیر اب کوئی سہارا نہیں۔

 

فاطمہ بانو کی اس قدر آہ زاری اور سیاپا سُن کر غلام حیدر بولا، لیکن اماں یہ بتا میں اتنی زمینوں اور اتنے لوگوں کو بے سہارا چھوڑ کر کیسے چلا جاؤں؟ سودھا سنگھ اور عبدل گجر میری رعیت کی بوٹیاں نوچ کھائیں گے۔ تمھیں نہیں پتا، میرے باپ کی عزت اور مال داؤ پر لگا ہوا ہے؟

 

فاطمہ بانو نے غلام حیدر کا جواب سنا تو تڑپ کر بولی،پتر آگ لگے اِن زمینوں کو۔ ہمیں یہ نہیں چاہئیں،مجھے تو تیری جان عزیز ہے۔ تمھیں نہیں پتا، جتنی دیر تم حویلی سے باہر ہوتے ہو مَیں انگاروں پر بیٹھی ہوتی ہوں۔( پھر نزدیک ہو کر اپنے پلُو سے غلام حیدر کی چادر پر پڑی گرد کو جھاڑتے ہوئے)دیکھ میرا پتر، یہ ساری زمین رعایا میں بانٹ یا اِس کو تھوڑے بہت ٹھیکے پر دے دے اور لاہور چلا چل۔ مَیں بھی ترے ساتھ وہیں چلی جاؤں گی۔ اب تو یہ حویلی مجھے کاٹ کھاتی ہے۔ زندہ رہیں گے تو عزت بھی آ جائے گی۔ رعیت کا اللہ وارث ہے، جس نے پیدا کیا ہے، وہ اِن کو رزق بھی دے گا اور اِن کی حفاظت بھی کرے گا۔

 

غلام حیدر نے دیکھا کہ اُس کی ماں بہت زیادہ ڈری اور سہمی ہوئی ہے اوراس کی سب سے بڑی وجہ یہ عورتیں ہیں،جو رتی بھر کو سیر کر کے دکھاتی ہیں۔ لیکن فی الحال اُس نے عورتوں کے بارے میں کچھ نہیں کہا بلکہ اپنی ماں کا دل رکھنے کے لیے کہہ دیا،ٹھیک ہے اماں جیسے تُو چاہتی ہے ویسے ہی کریں گے۔ہم بہت جلد لاہور چلے جائیں گے لیکن ا ِس وقت تو جو مصیبت آئی ہے،کسی طرح اُس کا اُپا کریں۔ پھر دوچار دن میں سارا کچھ فیقے پاولی کو سونپ کر ہم یہاں سے نکل جائیں گے۔ بس تو حوصلہ رکھ۔ اتنا کہہ کر غلام حیدر جیسے ہی باہر نکلنے کے لیے اُٹھا، فاطمہ بانو نے غلام حیدر کا بازو پکڑ کر کہا، بیٹا ایک بات تو بتا؟یہ وائسرائے کی بیٹی والا کیا قصہ ہے؟ کہیں یہ سب کچھ اِسی غصے میں سرکار ہی تو تیرے ساتھ نہیں کرا رہی؟ بیٹا مجھے تو ایسے لگتا ہے کہ یہ ساری مصیبتیں اُسی کی وجہ سے آ رہی ہیں۔ دیکھ پتر ہم کتنے ہی زمینوں والے کیوں نہ ہوں، حکومتوں سے مقابلے نہیں ہوتے۔

 

غلام حیدر اپنی ماں کی یہ بات سن کر حیران رہ گیا۔ وہ ہکا بکا ماں کو دیکھنے لگا۔کون سا وائسرائے اور کہاں کی بیٹی؟ غلام حیدر کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا یہ کیا معاملہ ہے اور یہ کون سا نیا قصہ کھل گیا ہے؟ اُس نے حیران ہوکر پوچھا، اماں یہ کیا بجھارتیں کہتی ہو ؟سیدھی بات کرو۔

 

لو بیٹا، اب ماں سے چھپانے کی کوئی ضرورت نہیں، فاطمہ بانو نے غلام حیدر کے منہ پر پیار سے ایک چپت مارتے ہوئے کہا، دیکھ بیٹامَیں ایک سے ایک اچھا رشتہ تیرے لیے ڈھونڈ نکالوں گی۔تُوبس فرنگی کی بیٹی کا پیچھا چھوڑ دے۔ مجھے تیری زندگی چاہیے ورنہ یہ فرنگی تیرے پیچھے پتا نہیں اور کتنے کُتے لگائے گا۔

 

غلام حیدر نے جھنجھلاکر کہا، مگر اماں کون سی فرنگی کی بیٹی ؟مجھے تو کچھ خبر بھی نہیں، یہ کیا اشقلے چھوڑ رہی ہو؟

 

تو کیا یہ ساری عورتیں جھوٹ کہتی ہیں کہ تیرے ساتھ وائسرائے کی بیٹی کے تعلق ہیں؟ اور وہ اپنے باپ کی مرضی کے خلاف تیرے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہے۔

 

غلام حیدر نے غصے سے اٹھتے ہوئے کہا، لاحولا قوۃ، اماں یہ کیا بکواس اور جھوٹ ہے۔ میں نے تو آج تک اُسے دیکھا بھی نہیں(عورتوں کی طرف دیکھتے ہوئے جو دور بیٹھی ماں بیٹے کی گفتگو تو خیر نہیں سن سکتی تھیں مگر دیکھ رہی تھیں)اماں سارے فساد کی جڑ یہ پھپا کُٹنیاں ہیں۔ تُو ان کی باتوں پر دھیان نہ دیا کر۔ اتنا کہہ کر غلام حیدر اٹھ کھڑا ہوا اور چلنے سے پہلے کہا، اماں دیکھ میں شاہ پور جا رہا ہوں۔ آج رات شاید واپس نہ آ سکوں اس لیے بجائے رونے پیٹنے کے میرے لیے دعا کر۔

 

بیٹا، کیا یہ نہیں ہو سکتا، تو شاہ پور فیقے کو بھیج دے اور خود نہ جا۔
یہ جملہ فاطمہ بانو نے ایسی ملتجیانہ نظروں سے دیکھ کر کہا کہ غلام حیدر کا دل بھر آیا۔ اس نے ماں کو گلے سے لگا کر کہا،اماں حوصلہ رکھ کچھ نہیں ہو گا، دشمن تیرے بیٹے کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔ اِتنا کہہ کر غلام حیدر باہر نکل آیا ہے حالانکہ جانتا تھا کہ اس بات سے ماں کی ڈھارس نہیں بندھے گی۔

 

سارے جوان بگھیوں پر تیار بیٹھے ہوئے تھے۔ غلام حیدر کے بگھی پر قدم ر کھتے ہی گھوڑے دوڑ پڑے اور قافلہ شاہ پور کی طرف روانہ ہو گیا۔ اب کے ہر ایک پر خموشی طاری تھی۔ دشمن کے تازہ حملے نے سب پر ایک قسم کا سکتہ کر دیا تھا اور کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہاتھا کہ اب کیا ہوگا۔ رفیق پاولی کا ذہن تو بالکل ہی ماؤف ہو چکا تھا۔ اُس کی زندگی میں ابھی تک ایسی پے در پے چوٹیں کبھی نہیں لگی تھیں۔

 

بگھیاں شاہ پور پہنچیں تو شام کے پانچ بج رہے تھے۔ ایک تو وقت ایسا تھا، اُوپر سے شاہ پور میں تین قتل اور مال کا نقصان الگ۔ہر طرف ایک ماتمی اور سوگوار کیفیت نظر آ رہی تھی۔شاہ پور کے لوگ تو ایک طرف، ایسا محسوس ہو رہا تھاجیسے درخت اور جانور بھی چپ سادھے ہوں۔ فروری کا مہینہ تھا، اس لیے ہوا کی سرسراہٹیں اور پتوں کے مسلسل گرنے نے اُس پر مزید اُداسی پیدا کر دی تھی۔ غلام حیدر فوراً باڑے میں پہنچا جہاں یہ سارا واقعہ پیش آیا تھا۔ لاشیں ابھی تک وہیں پڑی تھیں۔جن پر اُن کے بیوی بچوں کے بین جاری تھے۔جب انھوں نے غلام حیدر کو دیکھا تو بین اور بلند ہو گئے۔ عورتیں اُٹھ کر دوہتھڑ پیٹنے لگیں جو پہلے ہی رو رو کر تھک چکی تھیں۔ غلام حیدر تھوڑی دیر لاشوں کے پاس کھڑا رہا۔ تھانیدار دیدار سنگھ اور کچھ سنتری بھی وہیں پر غلام حیدر کے آنے سے پہلے پہنچ چکے تھے۔وہ لاشوں کا اچھی طرح سے معائنہ اور وقوعے کا جائزہ لے رہے تھے۔ گاؤں والوں نے صبح ہی کھوجی بلا کر پیروں کے نشان محفوظ کرنے کی عقلمندی بھی کر لی تھی۔ تھانیدار کے ساتھ جیسے ہی غلام حیدر کی آنکھیں ملیں، اُس کی آنکھیں خود بخود نیچی ہو گئیں۔وہ جانتا تھا کہ اب عذر خواہی کا وقت گزر گیا۔

 

سودھا سنگھ ابھی تک گرفتار نہیں ہو سکاتھا،جس کی وجہ سے یہ دوسری کارروائی ہو گئی تھی۔ اِس میں زیادہ کردار اگرچہ عبدل گجر کا تھا مگر کُھرے واضح طور پر سودھا سنگھ کی حویلی تک بھی جاتے تھے۔ لوگ جو پہلے کسی حد تک تھانیدار سے سہمے ہوئے دور کھڑے تھے، اب غلام حیدر کے گرد اکٹھے ہو گئے۔ غلام حیدر نے فی الحال تھانیدار کو نظر انداز کر کے گاؤں والوں کی طرف توجہ دی، جو بہت زیادہ بے بس اور ڈرے ہوئے تھے۔وہ اس طرح غلام حیدر کو دیکھ رہے تھے،جیسے پوچھتے ہوں کہ اب کیا ہو گا۔

 

عورتوں اور بچوں کے رونے کی آوازیں اور گاؤں والوں کی حسرت آمیز آنکھیں غلام حیدر کے دل پر چُھرے چلانے لگیں۔ وہ ایک چارپائی منگوا کر اُس پر بیٹھ گیا۔ اُس نے اپنی رائفل کاندھے سے اُتار کر پائنتی رکھنے کی بجائے اپنی جھولی میں ہی رکھ لی اور اُس کی نال پر ہولے ہولے ہاتھ پھیرنے لگا۔ اُس نے نہ تو کسی سے سوال کیا اور نہ ہی کسی نے واقعے کی تفصیل بتانے کی کوشش کی۔البتہ عورتوں کے اُٹھتے ہوئے بین،جن کے اندر ساری کہانی موجود ہ تھی، وہ سنتا رہا۔تھوڑی دیر بعد تھانیدار دیدار سنگھ بھی اس کے سامنے چارپائی پر بیٹھ گیا اور بولا،غلام حیدر مجھے واہگرو کی سونہہ اِس حادثے پر بہت افسوس ہوا ہے۔ میں نے وقوعے کا سارا جائزہ لیا ہے۔ میں نہیں جانتا تھا عبدل گجر اور سودھا سنگھ اتنے گِر جائیں گے۔بس اب آپ چنتا رکھیں۔ میں دونوں کو اُن کے بندوں سمیت گرفتار کروں گا۔ چاہے خون کے چھجے بہہ جائیں۔مَیں نے گورنمنٹ سے اُس کی گرفتاری کے وارنٹ حاصل کر لیے ہیں۔ اِس سے پہلے کہ سودھا سنگھ پٹیالے چلا جائے، مَیں اُسے ٹوکرے کے نیچے سے ہی دبوچ لوں گا۔ مجھے مخبری ہوئی ہے کہ سودھا سنگھ مہاراجہ پٹیالے کے ساتھ رابطے میں ہے اور عبدل گجر منٹگمری میں اپنے رشتے داروں کے پاس جانے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ وقوعے کی ساری تفصیل اور بِلًے اور دماسنگھ کی موجودگی بتاتی ہے کہ یہ کام اُن دونوں کی ہلا شیری سے ہوا ہے۔ میں کل ہی جھنڈو والا میں جاتا ہوں،سودھا سنگھ کی گرفتاری کے ساتھ اُس کا سارا مال بحق سرکار ضبط کر کے لے آؤں گا اور عبدل گجر کی طرف حوالدار شاد علی کو بھیجتاہوں۔ بس تُوحوصلہ رکھ گرفتاری جرور ہو گی۔سودھا سنگھ ابھی پٹیالا نہیں جائے گا کیونکہ ولیم کمشنر بہادر جلال آبا دنے اُس پر پابندی لگائی ہے کہ وہ جھنڈو والا سے باہر نہ جائے۔ اُسے پتا ہے اگر اُس نے صاحب بہادر کے حکم پر عمل نہ کیا تو پکا مجرم ظاہر ہو جائے گا۔ آپ کل یا آج ہی آ کر تھانے گروہرسا اِس واقعے کی ایف آئی آرکٹوا دیں پھر دیکھیں میں کیا کرتاہوں۔

 

غلام حیدر تحمل سے بیٹھا تھانے دار دیدار سنگھ کی باتیں سنتا رہا۔ غلام حیدر کو مسلسل خاموش دیکھ کر تھانیدار گھبراہٹ کا شکار ہو رہا تھا۔ شاید اِسی گھبراہٹ میں وہ کچھ اور بھی بول جاتا کہ اُسی لمحے رفیق پاولی نے تھانیدار کو مخاطب کر کے کہا، تھانیدار صاحب، آپ نے کیا کرناہے ؟بس یہ دیکھیں کہ اگلا حملہ ہم پر کب ہوتا ہے۔اُس کے بعد پھر ایک وقوعے کا معائنہ کرنے آ جانا۔ آپ کا کام ختم ہو جائے گا۔

 

رفیق پاؤلی کے یہ جملے تھانیدار کی چھاتی پر لگے۔اگر معاملہ اتنا سنجیدہ نہ ہوتا جتنا ہو چکا تھا تو وہ پاؤلی کے بچے کو اِس بدتمیزی پر یہیں پر لمبا کر لیتااور اُسے سمجھ آ جاتی کہ انگریزی سرکار کے تھانیدار کے سامنے کیسے بولا جاتا ہے۔ اِدھر جب رفیق پاؤلی کچھ اور بولنے لگا تو غلام حیدر نے ہاتھ کا اشارہ کرتے ہوئے کہا، چاچا فیقے رہنے دے، کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ بھلا تھانیدار کا اس میں کیا گناہ ہے؟( پھر تھانیدار کی طرف منہ کر کے )تھانیدار صاحب مَیں کل سانجرے تھانہ گروہرسا پہنچ جاؤں گا ایف آئی آر درج کروانے۔ اگر آپ نے حالات اور وقوعے کا جائزہ لے لیا ہے تو جا سکتے ہیں۔ غلام حیدر کی بات سن کر تھانیدار اُٹھ کھڑا ہوا اور گھوڑی پر بیٹھتے ہوئے کہا،سردار غلام حیدر آپ لاشوں کو دفنا سکتے ہیں۔ مَیں کل سانجرے آپ کا تھانہ گرو ہرسا میں انتظار کروں گا۔

 

تھانیدار رخصت ہوا تو غلام حیدر نے رفیق پاولی سے کہا، چاچا رفیق اِن تینوں لاشوں کو قبرستان میں دفن کرنے کی بجائے شاہ پور کے چوک میں دفن کردیں۔میں اِن شہیدوں کا جب تک بدلہ نہ لوں گا، میرے سینے کی آگ ٹھنڈی نہ ہوگی۔

 

مگر چوہدری غلام حیدر تم نے تھانیدار کو کچھ نہیں کہا ؟یہ سب کیا دھرا اِسی پیٹو حرامی کا ہے، فیقے نے کہا، یہ سانحہ کبھی پیش نہ آتا اگر یہ سکھڑا سودھا سنگھ کو گرفتار کر لیتا۔ اب حرامی کا پُتر کہہ رہا ہے اُس کے مہاراجہ پٹیالہ کے ساتھ رابطے ہیں۔ میرا توخیال ہے یہ اُس سے ملا ہوا ہے اور اُسی نے اِس کو مشورہ دیا ہے پٹیالہ جانے کا۔

 

غلام حیدر نے تحمل مزاجی سے آہ بھرتے ہوئے کہا، چاچا فیقے اب اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ تھانیدار بچارا تو اُس کے آگے بلی ہے۔ جن کی راجے مہاراجے میزبانیاں کریں وہاں بچارے دیدار سنگھ کو کون پوچھتا ہے ؟لیکن اب یہ نوکری اور عزت بچانے کے لیے ضرور اپنا زور لگائے گا۔ اِس لیے اِسے خلاف کرنے کی ضرورت نہیں بس دیکھتے جاؤ کیا ہوتا ہے۔

 

دلبیر علی جو غلام رسول کا بڑا بیٹا اور ذرا زبان کا تیز تھا، پاس بیٹھا یہ باتیں سن رہاتھا، وہ ہمت کر کے بولا، مگر چوہدری غلام حیدر ہم کب تک بیٹھے منہ دیکھتے رہیں گے؟ہمیں خود آگے بڑھ کے سودھا سنگھ اور اور عبدل گجر پر حملہ کر دینا چاہیے۔

 

دلبیر علی اپنے حواس کو ٹھیک کرو، غلام حیدر نے اُسے ڈانٹتے ہوئے کہا، کیا تم چاہتے ہو مَیں بندے لے جا کر اِن کے گاؤں پر حملہ کر کے اسی طرح اوچھا وار کروں جس طرح اُنھوں نے کیا ہے؟، اس طرح سودھا سنگھ اور عبدل گجر کا تو کچھ نہیں بگڑے گا البتہ ہم ضرور مجرم بن جائیں گے اور وہ خوشی سے بغلیں بجاتے پھریں گے۔

 

پھر چوہدری صاحب آپ ہی بتاؤ کیا کریں؟ “دلبیر علی نے دوبارہ دھیمے لہجے میں سوال کیا” کل وہ سؤر کے پُتر تم پر حملہ کر دیں گے۔پھر خدا نہ کرے تیرے دشمنوں کا بال بیکا بھی ہوا تو ہم جیتے جی مر جائیں گے۔

 

غلام حیدر نے دلبیر کے کاندھے پر ہاتھ رکھا، دلبیر اب اِس کی نوبت نہیں آئے گی۔خدا نے چا ہا تو ہم پہلے ہی نپٹ لیں گے اِن دونوں خنزیروں کو۔ اس کے بعد غلام حیدر رفیق پاولی سے مخاطب ہوا، چاچا فیقے، تم کل منہ اندھیرے ہی چک عالمکے چلے جاؤاورملک بہزاد خان کو لے کر بارہ بجے سے پہلے جلال آباد حویلی پر آ جاؤ۔ مَیں بھی جنازہ پڑھ کے اور اِن لاشوں کو دفنا کے تھانہ گروہرسا پرچہ کٹوا کر بارہ سے پہلے ہی حویلی پہنچ جاؤں گا۔

 

اُس کے بعد تمام لوگ ادھر اُدھر کی باتیں کرتے رہے۔بہت ساری پاتھیوں اور لکڑیوں کو آگ لگا کر اُن کے گرد بیٹھ گئے۔ غلام حیدر سب لوگوں کے درمیان یونہی بیٹھا رہا۔ دونوں لاشیں اُٹھا کر ان کے گھر پہنچا دی گئیں جن پر ساری رات اُن کے بیوی بچے اور رشتے دار رو رو کر بے حال ہوتے رہے۔ شاہ پور کا کوئی فرد ہی ہو گا جو رات سویا ہو۔ لاشوں کو دوسرا دن ہو گیا تھا، مگر سردیوں کی وجہ سے خراب ہونے کا خطرہ نہیں تھا۔ ارد گرد سے بھی بہت سے لوگ، چوہدری اور جاننے والے،جو شیر حیدر اور غلام حیدر کے واقف کار تھے، اکٹھے ہوئے بیٹھے تھے۔ اسی طرح ساری رات گزر گئی۔ دوسرے دن صبح کی اذان سے پہلے ہی فیقا رات کے طے شدہ پروگرام کے مطابق چار بندوں کو لے کر چک عالمکے چلا گیا۔ مولوی اللہ دتہ نے آٹھ بجے ہی جنازہ پڑھ دیا اور نو بجے تک لاشوں کو شاہ پور گاؤں کے چوک میں دفن کر دیا۔لاشیں دفنانے کے فوراً بعد باقی بندوں کے ساتھ غلام حیدر تھانہ گروہرسا پرچہ کٹوانے کے لیے روانہ ہو گیا۔

 

(24)

 

ولیم کی آنکھ صبح چھ بجے ہی کھل گئی۔اُٹھتے ہی اُس نے بوٹ اور جرسی پہنی اور کمرے سے باہر نکل آیا۔ سب لوگ آرام سے سو رہے تھے۔ دن نکلنے میں پون گھنٹہ باقی تھا مگر پرندے،خاص کر کوؤں کی کائیں کائیں اور چڑیوں کے چہکنے کی آوازیں آنے لگیں۔ولیم کمرے سے نکل کر ڈاک بنگلے کے صحن میں آیا۔وہاں ملازم اور سنتری آگ کے گرد جھرمٹ بنا کر بیٹھے ہوئے تھے،جو ولیم سے بھی ایک گھنٹہ پہلے جاگ گئے تھے۔ ڈاک بنگلے کا صحن دو ایکڑ کے قریب تھا۔جس میں ایک طرف مالٹے اور امرود کے اور دوسری طرف ٹاہلیوں اور پیپل کے درخت کھڑے تھے۔گیٹ کے پاس ایک برگد کا بہت ہی بڑا پیڑ تھا۔ اُس کی شاخوں سے داڑھیاں نکل کر زمین میں دور دور تک دوبارہ پیوست ہو کر اُن میں سے بھی شاخیں نکل آئی تھیں۔جس کی وجہ سے مرکزی تنے کے ساتھ کئی ذیلی تنے بن گئے تھے۔ برگد پر پرندوں کی اتنی بہتات اور شور تھا کہ کان پھٹتے جا رہے تھے۔ صبح سے پہلے کی سرمئی خموشی او پرندوں کی چہکار سے ولیم ایک وجد کی حالت میں چلا گیا کہ اُسے کچھ دیر کے لیے سب کچھ بھول گیا۔ وہ ڈاک بنگلے کی مسحور کن فضا میں گم ہو کر رہ گیا اور سوچنے لگا کہ خدا انسان پر اپنی رحمتیں کن کن رنگوں میں نازل کرتا ہے۔ولیم کو دیکھ کر سنتری اور دوسرے ملازم فوراً با ادب ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ ڈر کے مارے اُنہیں کچھ نہ سوجھا کہ کیا کریں؟ صرف ریفلیں پکڑ کر جلدی جلدی ادھر اُدھر بھاگنے لگے۔ ولیم نے اُن کے اِس اضطراری عمل کو نظر اندازکرتے ہوئے سب ا نسپیکڑ کو اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا۔سب انسپیکڑ رام لال جو پہلے آگ کے پاس بیٹھا مسواک کر رہاتھا اور ولیم کو دیکھ اُس کی مسواک ہاتھ سے گر چکی تھی، پُھرتی سے آگے بڑھا، تو ولیم نے نرم مزاجی سے کہا،رام لال اپنے ساتھ تین سنتری لے کر میرے پیچھے آ جاؤ، باقی آرام سے بیٹھو۔یہ کہہ کر چل پڑا۔

 

ولیم بنگلے سے باہر نکلا تو ہرے بھرے کھیتوں نے خوش نگاہی سے اُس کا استقبال کیا۔ جب وہ ڈاک بنگلے پہنچا تھا تو شام کا دھندلکا تھا۔اِس کی وجہ سے صاف نہیں دکھائی دیا تھا۔لیکن آج صبح کے روشن اندھیرے میں اُسے اپنی آنکھوں کی بینائی میں طراوت اُترتی محسوس ہو رہی تھی۔ ایک دفعہ اُس کے جی میں آئی کاش جلال آباد کی تحصیل “بنگلہ فاضل کا،میں ہوتی۔ وہ آگے بڑھتا گیا۔اُس کے پیچھے تین سنتری اوررام لال چلنے لگے۔

 

تو ریے، برسن، مکئی اور گندم کی فصلیں دور تک پھیلی تھیں۔ولیم نے دل میں تہیہ کیا کہ وہ پورے جلال آباد کو ایسا ہی سرسبز کر کے رہے گا۔ اسی رو میں ندی نالے اور ہری بھری فصلوں کے قالینوں پر چلتا گیا۔ چلتے چلتے بغیر پیچھے مڑ کر دیکھے رام لال سے سوال کیا،رام لال، یہاں سے ہیڈ سلمیان کی کتنے فاصلے پر ہے؟

 

رام لال نے تھوڑا سا تیز قدم اٹھاکرولیم کے برابر سے قدرے پیچھے ہو کر جواب دیا،سر ویسے تو کاغذوں میں دو میل ہی لکھا ہے مگر فاصلہ پانچ میل سے کم نہیں ہے۔میں ایک دو دفعہ پہلے بھی یہاں آیا ہوں۔

 

گڈ ہم وہیں پر جا رہے ہیں، ولیم نے مسکراتے ہوئے رام لال کی طرف دیکھا،آپ کو کوئی تکلیف تو نہیں ہوگی؟

 

صاحب جی فاصلہ زیادہ ہے، آپ تھک نہ جائیں،رام لال نے حیران ہوتے ہوئے جواب دیا، اگر حکم ہو تو میں دلبیر کو جیپ نکالنے کا حکم دے دوں اور دوسرے سب افسروں کو بھی خبردار کردوں ؟

 

ولیم نے رُک کررام لال کی طرف دیکھا اور کہا، ہم ان سنتریوں کے ساتھ پیدل ہیڈ سلیمانکی کی طرف چلتے ہیں۔ تم دلبیر سے کہو وہ ناشتہ وغیرہ کر کے آرام سے جیپ لے کر وہاں آ جائے، باقی لوگوں کو بھی اطلاع کر دو، وہ بھی وہیں آ جائیں۔میں ذرا چہل قدمی کر لوں۔
جیسے آپ کا حکم سرکار،”رام لال نے سر نیچے کرتے ہوئے کہا”۔ اُس کے بعد سنتریوں کی طرف مخاطب ہوکر آہستہ سے کہا، مترو ذرا سنبھل کر کے، صاحب نال ہے گے نے” نئیں تاں بُھگتان پے جُو، اور پیچھے کی طرف دوڑ لگا دی تا کہ اُن کو جلدی سے بتا کر واپس آملے
ولیم نے آگے بڑھنا شروع کر دیا۔ قدموں میں پہلے کی نسبت تیزی آ گئی۔ سڑک کچی اور گرد سے اٹی ہوئی تھی جس پر رات بھر اوس پڑنے سے مٹی نم زدہ ہو گئی تھی۔ ولیم کے بوٹ گرد سے اَٹ گئے لیکن وہ چلتا گیا۔ پندرہ منٹ بعد دن کے آثار بہت قریب آ گئے۔ اب لوگ بھی اِکا دُکا فصلوں میں نظر آنے لگے۔ کوئی گڈے میں بیل جوتے کچی سڑک پر رواں دواں تھااورگڈے کے بھاری پہیوں جو لکڑی کے تھے، سے آوازیں چیں چیں بن کر آتیں۔ کوئی کسان فصلوں میں چارا کاٹ رہاتھا، کسی نے کاندھے پر ٹوکی رکھی تھی اور گدھی پر واہنا رکھے ڈھچکو ڈھچکو چلا جاتا تھا۔ وہ کچھ دیر کے لیے ولیم کو حیرانی سے کھڑے ہو کر دیکھتے اور چل پڑتے۔ ولیم نے سوچا اِن بے چاروں کو کیا پتا، اس وقت جلال آبا دکا سب سے بڑا افسر یہاں اکیلا تین سنتریوں کے ساتھ پھر رہاہے جس کی ملاقات کرنے کے لیے بڑے بڑے جاگیرداروں اور چوہدریوں کو وقت لینا پڑتا ہے۔ اب وہ بالکل اُن کے پاس سے گزر رہا ہے بغیر کسی روک ٹوک کے۔ اگر وہ چاہیں اور اُن کو پتا چل جائے تو وہ بغیر وقت لیے اُسے اپنی فریاد یہیں سُنا سکتے ہیں۔

 

ولیم کے پیدل چلنے کی رفتار اتنی تیز تھی کہ سنتریوں اور چھوٹے تھانیدار کو وقفے وقفے سے بھاگنا پڑتا۔جب اُن کا اور ولیم کا فاصلہ بہت کم رہ جاتا،پھر چلنا شروع کر دیتے لیکن دو ہی منٹ بعد ولیم اُن سے پھر کافی آگے بڑھ چکا ہوتا۔ فاصلہ زیادہ ہونے پر پھر دوڑ پڑتے۔ اسی طرح یہ کھیل جاری تھا اور وہ بچارے ہانپ رہے تھے۔ولیم پورا نوجوان، تازہ خون اور خالی ہاتھ تھا۔اِدھر یہ بچارے ادھیڑ عمر سنتری، بال بچوں والے، کچھ پیٹ بھی بڑھے ہوئے، اُوپر سے ستم یہ کہ بھاری بندوقیں کاندھوں پر، جان پر عذاب ہو گیا۔دل ہی دل میں ولیم کو کوسنے دینے لگے اور سوچتے جاتے تھے کہ آج تک ایسا کمشنر نہ دیکھا نہ سنا۔ جدھر جی چاہتا ہے، منہ اُٹھا کر اُٹھ دوڑتا ہے، مجال ہے ڈر اور جھجک اس کی رگوں میں آئے۔

 

رستے میں کئی چھوٹی چھوٹی بستیاں اور ڈھاریاں آئیں جن کے باہر ہی سے گزر جانا ولیم نے مناسب سمجھا۔ کھیت اور سبزہ ہر طرف تھا۔ درخت بھی کافی تھے۔ پگڈنڈیوں اور کھالوں کے کناروں پر ہری ہری گھاس اُگی تھی۔ فصلوں، گھاس اور درخت، ہر شے پر رات کو پڑنے والی اوس کا پانی موتیوں کی طرح بکھرا ہوا عجب دلنشینی اور ٹھنڈک کا احساس پیدا کر رہا تھا۔
اب سورج نکل چکا تھا لیکن اُس کی شعاعوں میں وہ تیزی نہیں تھی، جو گرمیوں کے پیدائشی سورج میں ہوتی ہے۔البتہ ولیم، اور سنتری تیز چلنے کی صورت میں پسینے میں آ گئے تھے۔ خاص کر سنتریوں کے دل ڈوبنے کا سامان بن رہاتھا مگر ولیم اِس صورت حال سے بے نیاز فقط بڑھتا اور چلتا ہی جاتا تھا۔ اچانک ولیم کو ایک کھیت میں گُڑ بنانے والا بیلنا نظر آ گیاجس کے اِدھر اُدھر بہت سے گنے کے کھیت تھے۔ تازہ گڑ بننے کی گرم گرم اور میٹھی خوشبو کے تیز لمس نے ولیم کو مسحور کر دیا۔

 

خوشبو بہت ہی مانوس اور منفرد تھی جس نے ولیم کو بچپن کے دن یاد دلا دیے جو اس نے وسطی پنجاب میں گزارے تھے۔ ولیم نے ایک دفعہ کھڑے ہو کر کھینچ کھینچ کر دوچار سانس لیے۔ اُدھر سنتری دل ہی دل میں دعائیں مانگ رہے تھے کہ وہ کچھ دیر کے لیے یہاں رُک ہی جائے تو اچھا ہے ورنہ جان نکلنے کے قریب تھی۔بالآخر اُن کی سُنی گئی اور ولیم نے بیلنے کی طرف قدم بڑھا دیے۔ کسان جن میں دو عورتیں اور چار پانچ مرد تھے، فرنگی افسر اور سنتریوں کو اپنی طرف آتا دیکھ کر حیرانی سے کھڑے ہو گئے۔ یہ سب کے سب سکھ تھے جو کماد کے گنوں کا گڑ اور شکر بنا رہے تھے۔یہ پاس پہنچے توسب ادب سے کھڑے ہو گئے۔ ولیم نے آگے بڑھ کر ایک سکھ، جو اُن میں کچھ سیانا نظر آ رہا تھا، سے کہا، باباجی آپ اپنا کام جاری رکھو۔ مَیں تھوڑی دیر کے لیے دیکھنا چاہتا ہوں، گڑ کیسے بنتا ہے۔

 

ولیم کے رویے کو دیکھ کر ایک بڈھی عورت جس نے گھگھرا پہن رکھا تھا، نے آگے بڑھ کر اپنے میلے ہاتھوں سے ولیم کے سر پر ہاتھ پھیرا اور بولی آ پُت بیٹھ۔ گُڑکھا، روہ پی، لسی وی ہیگی آ۔ لُون والی آ، مٹھی وی مل جاؤو۔ گرو دی رکھ آ پُت، گڑ شکر بہت آ۔ مینوں لگدا پُت تُوں وڈا تھانیدار آ۔ سویرے سویرے کہنو پھڑن چلے آ؟ لگدا کسے وڈے باغی نوں کن پھڑاون دا ارادہ کیتا( پھر سنتریوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) پُت تُسیں وی بہہ جاؤ، جو کجھ کھانا وا، کھاؤ۔

 

ولیم کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ بوڑھی کیا کہ رہی ہے۔اِس طرح کی گُوڑھی بنجابی سیکھنے کا ابھی اُسے اتفاق نہیں ہوا تھا اور نہ کوشش کے باوجود پنجابی کی کوئی گرائمر کی کتاب اُس کے ہاتھ لگی تھی۔ لیکن وہ یہ ضرور سمجھ رہا تھا کہ بوڑھی اُنہیں دعا دینے کے ساتھ ساتھ کچھ کھانے پلانے کے چکر میں بھی ہے۔ولیم پر کافی عرصے کے تجربات سے یہ بات تو ثابت ہو چکی تھی کہ عام پنجابیوں یا ہندوستانیوں کو،چاہے وہ سکھ تھے یا مسلمان،اس سے کچھ غرض نہیں تھی کہ اُن پر کون حکومت کر رہا ہے او ر یہ کہ حکومت کرنے والے کا مذہب کیا ہے اور وہ کس نسل سے ہے ؟اُسے تو ان عام لوگوں سے امن اور محبت ہی کی خوشبو آئی تھی۔

 

وہی محبت اس بوڑھی خاتون اور گُڑ بنانے والے اُس کے بیٹوں میں نظر آ رہی تھی۔یہ سوچ کر ولیم کو وہ ہندو،مسلمان اور سکھ اشرافیہ کا خیال آگیا جو اِن سادہ لوحوں کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتے ہیں اور اُسی طرح اِن کا استحصال کرتے ہیں جس طرح غیر ملکی ان کا خون نچوڑتے ہیں۔ اِدھر یہ بڈھی ولیم اور سنتریوں کی آؤ بھگت کو لگ گئی، اُدھر دوسرے لوگوں نے اپنا کام دوبارہ شروع کر دیا۔ بیلنے پر ایک سکھ بیٹھا مسلسل گراریوں کے درمیان گنے ڈال رہاتھا۔گنے کی ایک طرف سے روہ (جوس) بہہ کر پیپوں میں جا رہی تھی اور دوسری طرف سے گنے کا پیڑھ نکل کر اکٹھا ہو رہاتھا۔دو بیل بیلنے کی گراریوں کو گھمانے کے لیے پنجالی میں جُتے ہوئے مسلسل ایک چکر میں گھوم رہے تھے۔ انھیں وقفے وقفے سے ایک آدمی چھڑی مار کر ہنکاتا جاتا۔ ایک آدمی چُونبے کے کنارے بیٹھا کُڈھن سے اُس میں پیڑھ پھینک رہا تھا، جس کی تیز آگ کڑاھے میں پڑی ہوئی پت کو پکا رہی تھی۔ چھاننی اور کڑچھے سے اُسے بار بار ہلایا بھی جا رہا تھا۔ گنڈ میں پکی ہوئی راب سے ایک سکھڑا رنبی کی مدد سے گُڑ کی ڈلیاں کاٹ کاٹ کر بنانے لگا۔ یہ پورا منظر ولیم کے لیے انتہائی پر کشش تھا۔ دونوں سنتری بیٹھے لسی پینے کے ساتھ گُڑ بھی کھانے لگے۔

 

ولیم نے ایک سکھ سے کہا کہ وہ اُسے گنے کا جوس صاف کر کے دے۔ سکھ نے ولیم کا اشارہ پاتے ہی اُسی بڈھی سے کہا “بے بے، صاحب واسطے چھنا دھو دے، پھر ایک لڑکے کو آواز دے کر، جو بیلوں کو ہنکانے پر معمور تھاکہا،پُت بھج کے جا، دھیر سنگھ دے بوٹیاں توں دو کینو لَے آ۔ لڑکاحکم سنتے ہی بھاگ اُٹھا۔ بھاگنے کے دوران اُس کی بودیاں کھل گئیں۔ ولیم نے دیکھا کہ دُور ایک کھیت کے کنارے پر پانچ دس مالٹے کے پودے کھڑے تھے۔ لڑکا غالباً اُسی طرف گیا تھا۔ولیم کے دیکھتے ہی دیکھتے وہ تین چا رکینو لے کر آ گیا۔

 

اُس سردار نے اُن میں سے دو کینو ایک صاف ستھرے گنے کے ساتھ ملا کر بیلنے کی گراریوں میں دے دیے اور چھنا نال کے سامنے رکھ دیا۔ کچھ ہی دیر میں سیر بھر کا چھنا گنے اور مالٹے کے جوس سے بھر گیا۔ اُسی بوڑھی عورت نے وہ چھنا ولیم کے ہاتھوں میں دے دیا۔ ولیم نے ڈرتے ڈرتے کہ خدا جانے یہ جوس کیسا ہو گا؟جب ایک گھونٹ لیا تو ایک کیف آفریں لطف اُس کے گلے سے ہوتا ہوا سینے میں اٰترتا چلا گیا۔اُس نے آج تک اِس طرح کا تازہ اور مزے کا شربت نہیں پیا تھا۔ولیم نے دل ہی دل میں سوچا کہ دنیا کی کوئی وہسکی اِس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ اس پورے قضیے میں اُن کو یہاں پر آدھ گھنٹہ گزر گیااور سنتریوں نے خوب آرام کر لیا۔چلتے ہوئے ایک سنتری نے اُسی بوڑھے سکھ سے پوچھا، بابا جی “ہیڈ سلیمانکی” یہاں سے کتنی دور ہے۔ بوڑھے نے بغیر غور وفکر کے فوراً جواب دیا، کچھ زیادہ نہیں پُت ایہا بس دو میل ہو گا۔ ایہہ بیلا پار کرو گے، تاں ہیڈ آ جاؤو۔

 

ولیم بہت حیرا ن ہوا۔ کم از کم چار میل کا سفر وہ طے کر آئے تھے اور بوڑھا ابھی دو میل کہہ رہاتھا، جبکہ نقشے پر “فاضل کا بنگلہ” کا ہیڈ سے فاصلہ محض دو میل درج تھا۔ ولیم نے سوچا یہ کس قسم کے نقشے تھے، جن کا ایک ایک میل چھ چھ کلو میٹر کا ہے۔ اب قریباً ساڑھے آٹھ کا وقت ہو چلا تھا۔ ولیم کو تو ایسا کوئی فرق نہیں پڑتا تھا البتہ سنتریوں نے دو میل مزید کا سن کر دل چھوڑ دیا لیکن چلنا تو بہرحال تھا۔ولیم نے جیسے ہی دوبارہ چلنا شروع کیا اُسی وقت سنتری بھی تیز قدموں سے دوڑ پڑے۔ وہ جانتے تھے کہ ولیم کچھ دیر رُکنے کے بعد بالکل تازہ دم ہو چکا ہے اور اب اُس کا ساتھ دینا مزید مشکل ہو جائے گا لیکن ابھی وہ کھیت سے نکل کر کچی سڑک پر پہنچے ہی تھے کہ ُانہیں دور سے جیپیں گرد اُڑاتی اپنی طرف آتی دکھائی دیں۔ سنتریوں نے جیسے ہی جیپوں کو اپنی طرف آتے دیکھا،بھگوان کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرنے لگے۔کیونکہ ولیم کو تو اُن پر رحم نہیں آ رہا تھا لیکن واہگرو نے اُن کی سُن لی۔

 

جیپیں دس قدم دور ہی آ کر رُک گئیں تاکہ کمشنر صاحب بہادر پر گرد نہ پڑے۔
جیپ رکتے ہی مالیکم چھلانگ مار کر نیچے اُترا اور سلام کے لیے ہاتھ بڑھا تے ہوئے بولا، سر آپ بھی کمال نکلے،ہمیں بھی خبر کر دیتے تو آپ کی ہم رکابی میں کچھ چہل قدمی ہم بھی کر لیتے۔

 

ولیم مسکراکر بولا،مسٹر مالیکم ہماری ہم رکابی جنہوں نے کی ہے پہلے اُن کی حالت کا اندازہ تو کر لیجیے، خیر کوئی بات نہیں دوبارہ موقع آ جائے گا۔

 

مالیکم نے خوشگواری کے تاثر کو کم کر تے ہوئے قدرے سنجیدگی سے کہا، سر ابھی جلال آباد سے ایک خبرآئی ہے ذیلدار متوفی شیر حیدر کے گاؤں شاہ پور پر کچھ شر پسندوں نے بلوا کر دیا۔جس میں تین بندے شاہ پور والوں کے مارے گئے اور ایک حملہ آوروں کی طرف سے مر گیا۔ حملہ کل رات دس بجے کیا گیا۔

 

ولیم خبر سُن کر ایک دم بے لطف ہو گیا۔گویا سارے دورے کا مقصد فنا ہو گیا ہو۔ کچھ دیر کی خموشی کے بعد بے دلی سے جیپ کی طرف بڑھتے ہوئے بولا، مالیکم دورے کو مختصر کرو اور ہیڈ سے ہو کر آج عصر تک جلال آباد پہنچو اور ڈی ایس پی لوئس صاحب کو اطلاع کر دو کہ وہ حلقے کے تھا نیدار کے ساتھ آفس پہنچ جائے اور ہمارے جلال آباد پہنچنے سے پہلے تمام معاملات کی رپورٹ جمع کر لے۔
Categories
فکشن

نعمت خانہ – پانچویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

باورچی خانہ ایک خطرناک جگہ ہے۔

 

ہمارا گھر حویلی نما تھا، جس میں دو دالان تھے۔ ایک اندرونی اور دوسرا بیرونی۔ بیرونی دالان سے ملحق برآمدہ تھا جس میں ٹین پڑا تھا۔ اس کے سامنے ایک وسیع و عریض کچا آنگن جس میں آم کا درخت لگا تھا۔ اندرونی دالان سے ملی ہوئی دونوں اطراف میں کوٹھریاں تھیں، ایک کوٹھری میں بکس ہی بکس رکھے ہوئے تھے۔ نہ جانے کون کون سے زمانوں کے بکس اور ایک کوٹھری میں کتابیں، جو زیادہ تر پرانی اور خستہ حال تھیں۔

 

برآمدے کے ٹین کو لکڑی کے تھموں اور داسے کے ذریعے روکا گیا تھا، داسے میں جگہ جگہ لوہے کے ہُک نصب تھے جن میں لالٹین جلتی رہتی تھی۔ ٹین کے مشرقی حصّے میں مرغیوں کا ڈربہ اور کبوتروں کی کابُک تھی۔ مرغیوں کے ڈربے سے ملا ہوا زینہ تھا۔ چھت پر کوئی عمارت نہیں تھی۔ صرف منڈیریںتھیں جن پر دن میں کوّے، فاختائیں اور جنگلی کبوتر مٹرگشتی کرتے رہتے تھے اور رات میں آوارہ بلّیاں اگرچہ ہمارے گھر میں بھی کئی پالتو بلّیاں تھیں۔

 

آنگن میں دونوں طرف قطار سے چھوٹے چھوٹے پودے لگے ہوئے تھے اور ایک نارنگی کا درخت بھی تھا۔

 

چھتیں سب لکڑی کی کڑیوں کی تھیں اور خستہ حال ہو رہی تھیں،بارش کے دنوں میںجگہ جگہ سے ٹپکتی تھیں۔ کڑیوں میں چھپکلیوں اور چمگادڑوں نے بھی اپنے ٹھکانے بنا لیے تھے۔
آنگن کے مشرقی حصّے میں ہتّھے والا نل لگا تھا جس کے نیچے ایک چھوٹی سی حوضیہ تھی۔ یہاں کپڑے اور برتن دُھلتے رہتے تھے اور گرمیوں کے خشک موسم میں بھڑیں اکٹھا رہتی تھیں۔
اس نل کے سامنے بالکل ناک کی سیدھ میں وہ تھا۔

 

وہ— یعنی باورچی خانہ۔

 

باورچی خانے کی کڑیوں کی چھت، کم از کم جب سے میں نے دیکھا، دھوئیں سے کالی ہی دیکھی۔ ان کڑیوں میں لٹکتے ہوئے مکڑیوں کے جالے بھی دھوئیں سے کالے ہو گئے تھے اور اُن پر دھول اور غبار کی موٹی تہہ جم گئی تھی۔ جب کبھی بھی (ایسا کبھی سالوں بعد ہوتا تھا) انہیں بانس کے ڈنڈے سے صاف کیا جاتا تو وہ فرش پر کالے کپڑے کی پتلی اورباریک دھجّیوں کی طرح نیچے گرتے باورچی خانے کی مکڑیاں اور چھپکلیاں بھی، وہاں زیادہ تر وقت گزارنے والی عورتوںکی طرح کالی پڑ گئی تھیں اور شاید اسی سبب سے اصل سے کچھ زیادہ زہریلی نظر آتی تھیں۔

 

ہر طرف کی دیوار کالی تھی اور ہر کونہ کالا تھا۔ مگر اِس سیاہی سے وہاں ایک مانوسیت اور اپنے پن کا احسا س قائم تھا۔ کبھی کبھار جب باورچی خانے میں چونے سے قلعی کروائی جاتی تو بھی یہ سیاہی، سفید چونے کے پیچھے سے جھانکتی ہی رہتی اور جلد ہی اِس پردے سے نکل کر باہر آجاتی۔

 

باورچی خانے کا فرش کھرنجے کا تھا اور جگہ جگہ سے اُدھڑ رہا تھا، اس میں بڑی بڑی دراڑیں تھیں جن میں چیونٹیاں اور کنکھجورے رہتے تھے اور کبھی کبھی سانپ کے چھوٹے چھوٹے بچّے بھی رینگتے ہوئے اِنہیں دراڑوںمیں گم ہوجاتے تھے۔

 

باورچی خانے کی چھت کے وسط میں ایک کڑی میں چالیس واٹ کا بلب، بجلی کے تار کی ایک ڈوری سے لٹکتا رہتا تھا۔ اُس زمانے میں ہمارے چھوٹے سے شہر میں بجلی آگئی تھی۔ مگر بجلی زیادہ تر غائب رہتی تھی اس لیے باورچی خانے کے دروازے کی چوکھٹ کے اوپر بھی ایک لالٹین ہمیشہ لٹکی رہتی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ یہ لالٹین زیادہ تر بھڑکتی رہتی تھی۔ اس میں کوئی عیب تھا۔ یہ مٹّی کے تیل کو زیادہ مقدار میں برداشت نہیں کر پاتی تھی۔ اکثر اس کی چمنی ایک چھناکے کے ساتھ پھٹ جایا کرتی تھی مگر پتہ نہیں کیوں، باربار چمنی کو بدلتے رہنے کے باوجود، کبھی بھی اس لالٹین کو بدلا نہیں گیا، جس کے پیندے میں ہی کوئی خرابی تھی یا جس کا اپنی ہی بتّی سے کوئی جھگڑا تھا۔

 

بجلی کا تار لال رنگ کا تھا، مگر بعد میں،وہ بھی کالا پڑ گیا تھا اور اُس پر نہ جانے کیوں مکھیاں چپکی رہتی تھیں۔ باورچی خانے کی جنوبی دیوار پر روشندان تھا۔ جو پام کے ایک پیڑ کی طرف کھلتا تھا، کبھی کبھی جب پام کے پتّے پرانے ہوجاتے تو روشندان سے باورچی خانے کے اندر جھانکنے لگتے بلکہ شاید اَندر داخل ہونے کی کوشش کرتے۔ پام کے یہ پتّے بھی خوب تھے، ٹین سے ٹپکتی ہوئی بارش بھی پام کے اوپر سے گزرتی اور بوندیں یہاں الگ انداز سے گونجتیں۔ بے جان دھات، ٹین اور ایک جاندار شئے پتّوںمیں موسیقی کا ایک مقابلہ ہوتا، ایک اُداس جُگل بندی۔ پام کے یہ پتّے جب بہت بڑے ہوجاتے تو انھیں آری سے کاٹ دیا جاتا اور گھر سے باہر پھینک دیا جاتا، جہاں محلّے کے بچّوں کو ایک دلچسپ مشغلہ ہاتھ آجاتا۔ وہ اس دبیز، نم اور سبز غالیچے جیسے پتّے پر بیٹھ جایا کرتے اور دوسرے بچّے ڈنڈی سے پکڑ کر اُس وسیع و عریض پتّے کو سڑک پر گھسیٹتے پھرتے۔

 

مجھے افسوس ہے کہ میں کبھی پتّے پر نہ بیٹھ سکا۔ دراصل میری یادداشت میں پام کا پیڑ اور باورچی خانہ آپس میں اِس طرح گڈمڈ ہیں کہ ایک کے بارے میں بات کرنا دوسرے کے بغیر اگر ناممکن نہیں تو ادھوری اور تشنہ ضرور ہے۔

 

دوسری طرف کی دیوار میں اینٹوں کی ایک جالی لگی تھی جو زینے کی طرف کھلتی تھی۔ زینے کی چوتھی سیڑھی پر بیٹھ کر باورچی خانے کا منظر ایک کالی تصویر کی مانند نظر آتا تھا جس کے وسط میں ایک سرخ دہکتا ہوا دھبّہ تھا۔

 

یہ چولہا تھا، پنڈول سے پُتا ہوا، جس کے عقب میں اونلہ تھا۔ ایک کھانا پک جانے کے بعد اُس کی ہانڈی اونلے پر رکھ دی جاتی، تاکہ گرم رہے۔ لکڑیاں اگر سوکھی ہوتیں تو چولہے میں دھڑا دھڑ جلتیں اور اگر گیلی ہوتیں تو سارا باورچی خانہ دھوئیں سے بھر جاتا۔ چولہے کے سامنے بیٹھیں ہوئی عورتوں کی آنکھوں سے لگاتار پانی یا آنسو بہتے رہتے۔ جو باورچی خانے کی سیاہی میں گیلاپن بھی پیدا کر دیتے تھے۔ کھاناپک جانے کے بعد، چولہے میں بھوبل باقی رہتی۔ ایک سلیٹی رنگ کی راکھ جس کو کریدنے پر شعلے برآمد ہوتے تھے، اکثر رات کو دودھ کا برتن گرم کرنے کے لیے، اسے بھوبھل پر ہی رکھ دیا جاتا تھا۔

 

ہمارے گھر میں گوبر کے اُپلوں کا رواج نہیں تھا۔ وہ نسبتاً غریب اور نچلے طبقوں میں استعمال کیے جاتے تھے۔ مگر مجھے جلتے اور سُلگتے ہوئے اُپلوں پر بنی چائے بہت پسند تھی۔ اُس چائے میں دودھ کی خوشبو بہت خالص اورممتا سے بھری ہوئی محسوس ہوتی تھی۔
میں نے ایسی چائے کئی بار پی ہے۔

 

ہاں مگر ہمارے یہاں بُرادے کی انگیٹھی ضرور تھی، ہر پندرہ دن بعد ایک آدمی ٹھیلے پر بُرادے کی بوری رکھے ہوئے نمودار ہوتا اور بوری کواپنی کمر پر لاد کر تقریباً دہرا ہوتے ہوئے اُسے باورچی خانے کی اندھیری کوٹھری میں لے جاکر پٹک دیتا۔

 

اُس انگیٹھی میں برادے کو بہت ٹھونس ٹھونس کر بھرنا ہوتا جو ایک مشکل اور تکڑم والا کام تھا۔ ورنہ انگیٹھی اچھی طرح نہیں سلگ پاتی تھی۔

 

چولہے سے دو ہاتھ کے فاصلے پر دائیں طرف، دیوار پر اینٹوں کی ایک الماری تھی، جس میں روزمرہ کے برتن اور مسالے وغیرہ رکھے ہوئے تھے۔ اکثر یہاں پیاز سڑتی رہتی تھی، فرش پر ایک طرف آٹا گوندھنے کا پیتل کا تسلہ، کالے رنگ کا بڑا اور بھاری توا جو مجھے کالے سورج کی طرح دکھائی دیتا تھا اور جس پر بڑی بڑی گیہوں کی چپاتیاں پکتی تھیں۔ اُن دنوں چھوٹے چھوٹے پھلکوں کا راوج نہ تھا بلکہ اُنہیں بہت حقارت کی نظروں سے دیکھا جاتا تھا۔
توے کے ساتھ ہی اِدھر اُدھر چمٹا اور پھنکنی بھی پڑے رہتے۔ دونوں کالے رنگ کے تھے اور تشدّد آمیز محسوس ہوتے تھے۔ فرش پر ڈھیر سی، اونچی نیچی، لکڑی کی پٹلیاں تھیں جن پر بیٹھ کر عورتیں کام کرتیں اور جاڑوں کے دنوں میں سب لوگ اُنہیں پٹلیوں پر بیٹھ کر چولہے کے آگے کھانا کھاتے۔

 

شب برات کے دوسرے دن کی صبح تو دیکھنے کا منظر ہوتا۔ گھر کا ہر شخص، ناشتے کے وقت، باورچی خانے میں آکر پٹلیوں پر بیٹھ جاتا اور رات کے باسی حلوے کو چولہے پر گرم کرکے، تام چینی کی رکابیوں میں باسی روٹی کے ساتھ کھاتا۔

 

میں یہ بتانا بھول گیا کہ باورچی خانے کے اندرایک طرف، اندھیری کوٹھری تھی جس میں زیادہ تراناج، غلّہ، گھی، تیل وغیرہ بھرے ہوتے تھے۔ اس میں بجلی کا بلب نہیں تھا اور دن میں بھی یہاں لالٹین یا مٹّی کے تیل کی ڈبیہ لے کر جانا پڑتا تھا۔

 

باورچی خانے میں ہر طرف ایک بکھرائو اور بدنظمی کا منظر تھا۔ جبکہ دیکھا جائے تو کھانا پکانے میں مدد دگار اشیا یا آلات وغیرہ بہت کم تھے۔ صرف توا، پھنکنی، چمٹا، پتھّر کی سِل، ہاون دستہ اور چند چھوٹے بڑے چمچوں یا کفگیر وغیرہ سے ہی کام چلالیا جاتا تھا۔ گرم برتن کو اُٹھانے کے لیے کپڑے کا استعمال کیا جاتا تھا جسے صافی کہا جاتا۔ اگرچہ وہ چکنائی اور سیاہی سے اِس طرح سنا ہوتا کہ عورتوںکی انگلیاں اُس سے چپک جاتیں اور ویسے توتجربہ کار یا منجھی ہوئی عورتیں بغیر صافی کے ہی گرم سے گرم برتن کو چولہے سے اُٹھا لیتیں۔ ان کے ہاتھوں کی کھال سُن ہو چکی تھی۔

 

برتنوں میں زیادہ تر تو بدقلعی تھے۔ دیگچیاں، ہانڈیاں، پتیلے وغیرہ میں نے ہمیشہ بدقلعی ہی دیکھے۔ جہاں تک کھانا کھانے کے برتنوں کا سوال ہے تو باورچی خانے میں تو تام چینی کی رکابیاں ہی تھیں اور چائے پینے کے مگ بھی تام چینی ہی کے تھے۔ اچھے اور قاعدے کے برتن اندر، دالان میں ایک الماری میں رکھے تھے جو مہمانوں کی دعوت وغیرہ میں ہی باہر نکالے جاتے اور دھوکر فوراً دوبارہ اپنی جگہ پر رکھ دیے جاتے۔

 

دعوتوں اور تیوہاروں وغیرہ کے موقعوں پر تو باورچی خانے کی یہ بدنظمی اور بھی بڑھ جاتی۔ خاص طور سے عید کے موقع پر جب چینی کے پیالوں میں سویّاں رکھی جاتیں اور کھرنجے کا فرش ان پیالوں سے ڈھک جاتا جس کو پھلانگ پھلانگ کر اور اپنے غراروں یا شلواروں کے پائینچوں کو اُٹھا اُٹھا کر عورتیں حواس باختہ سی، باورچی خانے میں اِدھر اُدھر بھاگا کرتیں اور اکثرایک دوسرے سے ٹکرا جاتیں۔

 

کیا کبھی اس بات پرسنجیدگی سے غورکیا گیا ہے کہ باورچی خانے کی تقریباً تمام اشیا میں، چند خاص مواقع پر ایک خطرناک ہتھیار بن جانے کے امکانات پوشیدہ ہیں۔ چاہے وہ ترکاری کاٹنے والی چھری ہو، توا ہو، چمٹا ہو، پھنکنی ہو، جلتی ہوئی لکڑی ہو، چولہے میں روشن، دھڑادھڑ جلتی ہوئی آگ ہو، مسالہ پیسنے والی سل ہو، پسی ہوئی مرچیں یا بھبکتی ہوئی بھوبل ہو یا پھر مٹّی کا تیل ہی کیوں نہ ہو۔گھر کے کسی اور حصّے میں اتنی زیادہ تعداد میں ایسی اشیا نہیں تھیں۔ یہاں تک کہ بیرونی دالان کی دیوار پر کیل میں ٹنگی بندوق بھی ان اشیاء کے آگے حقیر اور کمزور نظر آتی تھی۔

 

گھر کے کسی بھی حصّے میں اتنے خطرناک بہروپئے نہیںپائے جاتے جتنے کہ رسوئی میں اور گھر کے کسی بھی اور مقام پر عورتیں اتنی برانگیختہ، برافروختہ، حسد سے بھری ہوئیں، تشدّد آمیز اور چھوٹی ذہنیت کی نہیں ہوتیں جتنی کہ باورچی خانے میں۔

 

باورچی خانہ چاہے گھر کے کسی حصّے میں ہو یا کسی بھی رُخ پر بنا ہو، چاہے واستو شاستر والوں سے کتنی ہی مدد کیوں نہ لے لی جائے، وہاں کے لڑائی جھگڑے نہیں جاتے۔ باورچی خانہ ایک میدانِ جنگ ہے اور پورے گھر، پورے خاندان بلکہ بنی نوع آدم کی قسمت کا فیصلہ اِسی چھوٹے سے اور بظاہر پاک صاف مقام سے ہی ہوتا ہے۔ عدالت یہیں لگتی ہے، مقدمہ یہیں چلایا جاتا ہے۔ اور پورا گھر اپنی خاموش آنکھوں سے یہ تماشہ دیکھتا ہے جب تک کہ آخر وہ کھنڈر نہ بن جائے۔ انسانی آنتوں کی بھوک اور دو وقت کی روٹی میں ایک پُراسرار اور بھیانک شہوت چھپی رہتی ہے۔ یہ شہوت صرف سیاہی اور خون کی طرف بڑھتی ہے۔ اور انجام کار بس ایک فحش اور مغالطہ آمیز بدنیتی بچ جاتی ہے۔ جس کے نشے کے زیر اثر کالی پیلی اور گوری عورتیں، گرم برتنوں کو اپنے سُن ہاتھوں سے اُٹھاتے رہنے کی عادی ہوکر باورچی خانے کے برتنوں سے وہی سلوک کرنے لگتی ہیں جو وہ اپنے مردوں سے کرتی ہیں۔ ان کے مرد آہستہ آہستہ چھوٹے بڑے برتنوں میں تبدیل ہونے لگتے ہیں۔ باورچی خانے میں وہ سب بے حد حاوی اور خود غرض ہو جاتی ہیں۔ اُن کے جسم کی کھال سُن ہو جاتی ہے۔ عورتیں، باورچی خانے کے برتنوں کے ساتھ مباشرت کرتی ہیں۔
Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – گیارہویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(20)

 

شیح صاحب مَیں اس معاملے میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں؟ ڈپٹی کمشنر نے فائل کا سرسری مطالعہ کرنے کے بعد تحمل سے بولنا شروع کیا۔ قتل اور لوٹ مار کی ایف آئی آر کٹ چکی ہے۔ کیانام ہے آپ کا مسٹر………… حیدر( غلام حیدر کی طرف منہ کرتے ہوئے) آپ خود پرچہ کے مدعی بن چکے ہیں۔ سودھا سنگھ نامزد ملزم قرار دیا جا چکاہے اور سب سے اہم بات یہ کہ خود ولیم دلچسپی لے رہا ہے۔ غالباً کچھ دن پہلے اُس نے مجھ سے اس بارے میں سرسری گفتگو بھی کی تھی۔ میرا خیال ہے، وہ اس قصے کو جلد ہینڈل کر لے گا۔ آپ اس بارے میں پریشان نہ ہوں۔

 

شیخ مبارک علی نے مزید گزارش کے سے انداز میں کہا، حضورہمیں گورنمنٹ کے انصاف سے کچھ اندیشہ نہیں مگرصاحب نئے نئے آئے ہیں۔ سُنا ہے ابھی مزاج کے کھُردرے ہیں۔ آپ اس بارے میں ذاتی طور پر کمشنر صاحب کو ہدایات پھر بھی دے دیں تو نوازش ہو گی۔ ڈر ہے اگر دیر ہو گئی تو خدانحواستہ کچھ مزید خرابی نہ ہو جائے۔ آپ تو جانتے ہیں سکھ آخر سکھ ہوتاہے سمجھنے میں دیر کرتاہے۔

 

ڈپٹی کمشنر ہیلے صاحب نے اپنی کُرسی کو ایک دم مکمل گھما کر سیدھا کیا اور شیخ صاحب کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا،شیخ صاحب مجھے تو اپنے تجربے سے کبھی یہ محسوس نہیں ہوا کہ مسلمان اور سکھ الگ الگ دماغ کے مالک ہیں۔بس داڑھیوں کی لمبائی میں فرق ہے۔ آپ فکر نہ کریں، دونوں عقل کے ایک ہی قبیلے سے منسلک ہیں۔

 

شیخ مبارک ڈپٹی کمشنر کی بھرپور طنز کو محسوس تو کر گیا پھر بھی چہرے پر خوشگواری کا تاثر لاتے ہوئے دوبارہ بولا، سر آپ میری بات کہیں اور ہی لے گئے۔ بہر حال آپ ہمارے حاکم ہیں۔اگر ہم آپ کے پاس نہیں آئیں گے تو کہاں جائیں گے ؟ہم تو چاہتے ہیں کہ آپ کے پاس کچھ اپنی بات عرض گزار کر دیں۔ اگر حکم ہو تو یہ غلام حیدر،شیر حیدر کا بیٹا اپنی درخواست آپ کے حضور سنانے آیا ہے ( پھر غلام حیدر سے مخاطب ہو کر) بیٹا آپ صاحب بہادر کو بتاؤ۔جو آپ کی صاحب سے ملاقات ہوئی ( پھر ڈپٹی کمشنر سے ) سر ذرا سن لیں ایک بار۔

 

غلام حیدر نے اشارہ پاتے ہی اپنی ولیم کے ساتھ ہونے والی تمام گفتگو مِن و عن ڈپٹی کمشنر کے گوش گزار کر دی، جسے اُس نے نہایت غور اور تحمل سے سُنا پھر سکون سے بولا،لیکن مجھے تو یہ رپورٹ ہے کہ ولیم سراسر مسٹرحیدر کی طرف داری کر رہاہے۔ کل ہی ولیم نے انتہائی قریب سے واقعات کا جائیزہ لینے کے لیے موقعہ واردات پر جا کر خود حالات کو سمجھنے کی کوشش کی ہے اور تھانیدار کو بُلا کر سرزنش کی۔ اس سب کے باوجود میں کیسے اُسے مزید ہدایات دے سکتاہوں۔

 

پھر تمام رپورٹس کا خلاصہ شیخ صاحب اور غلام حیدر کو سنا دیا۔ جسے سُن کر شیخ مبارک حسین تو شرمندہ اور کھسیانا سا ہوا مگر غلام حیدر کو حیرانی اور پریشانی کی ملی جلی کیفیت نے گھیرلیا۔

 

اُس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ معاملہ کیاہے۔ وہ ڈپٹی کمشنر کی بات پر یقین کرے یا ولیم صاحب اور تھانیدار کے رویے کو سامنے رکھے۔ ایک بات اُسے مطمئن بھی کر رہی تھی۔اور وہ تھی ڈپٹی کمشنر کی معلومات، جو اس کیس کے بارے میں اتنی جلدی اُس تک پہنچ گئیں تھیں۔ اُس نے سوچا،اگر یہ سچ ہے کہ ڈپٹی کمشنر سے لے کر ولیم تک میرے ساتھ منصفانہ رویہ رکھتے ہیں تو کیوں سردار سودھا سنگھ کی گرفتاری کے لیے تھانیدار پر دباؤ نہیں ڈال رہے ؟جبکہ آج اس واردات اور قتل کو آٹھ دن گزر چکے ہیں۔ غلام حیدر یہ سوچتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سے مخاطب ہوا،مگر سر سردار سودھا سنگھ کی گرفتاری کے لیے کون سی مشکل ہے کہ ابھی تک وہ حوالات میں نظر نہیں آتا۔ آپ کی سرکار میں پہلے تو کبھی ایسی تاخیر نہیں ہوئی تھی۔ میری خبرکے مطابق وہ ابھی آرام سے نہیں بیٹھا، نہ بیٹھے گا، مزید کوئی نہ کوئی فساد پیدا کرے گا۔
ڈپٹی کمشنر نے بسکٹ کا ٹکرا منہ میں ڈالتے ہوئے کاندھے اُچکائے،پھر شیخ مبارک حسین کو مخاطب کرتے ہوئے بولا،شیخ صاحب، برخوردار کو سمجھائیں اپنے مزاج کو ٹھنڈا رکھے۔ گورنمنٹ کے کام کرنے کے اپنے طریقے ہیں۔ویسے بھی یہ چھوٹے موٹے کام پولیس انتظامیہ کے حوالے کیے جا چکے ہیں۔ کمشنروں کے کرنے کو اور بہت کچھ ہے ہیں۔ کچھ اصول اور قاعدہ ہوتاہے۔

 

ہمیں معلوم ہے اس معاملے میں تاخیر ہوئی ہے یانہیں۔ سودھا سنگھ جلد گرفتار ہو جائے گا۔ اگر آپ پھر بھی مطمئن نہیں تو میں ولیم سے تاکید کر دیتاہوں۔یہ کہہ کر اُ س نے شیخ مبارک حسین کی طرف الوداعی سلام کے لیے ہاتھ بڑھا دیا۔ اس کامطلب تھا کہ میٹنگ کا وقت ختم ہو گیا ہے۔ مبارک حسین نے اشارے کو سمجھتے ہوئے فوراً اٹھ جانے میں بہتری خیال کی اور ایک مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ ہاتھ ملا لیا کیونکہ مزید بولنا صاحب کا موڈ خراب کرنے کے مترادف تھا۔ جس کا اشارہ اُُس کے آخری رویے سے مل چکا تھا۔ شیخ مبارک کو دیکھ کر غلام حیدر بھی اُٹھ کھڑا ہوا۔ اُس نے بھی صاحب کے ساتھ بے دلی سے ہاتھ ملایا اور کمرے سے باہر نکلنے کے لیے مڑا۔اسی اثنا میں ڈپٹی کمشنر کی آواز دوبارہ سنائی دی، جس کا تخاطب تو شیخ مبارک حسین تھا مگر غلام حیدر نے بھی مڑ کر ڈپٹی کمشنر کی طرف دیکھا،

 

شیخ صاحب ایک بات آپ کے فائدے کے لیے بہت ضروری ہے۔ وہ یہ کہ حیدر کو سمجھائیں قانون کو ہاتھ میں لینے سے گریزکرے۔مجھے افسوس ہوا ہے کہ سودھا سنگھ نے قانون کا مذاق اڑایا ہے۔ جس کا اُسے خمیازہ بھگتنا ہے مگر ایسا نہ ہو کہ اُس کی دیکھا دیکھی ہمارا دوست بھی جھنڈو والا کو میدان جنگ بنادے (پھر غلام حیدر کی طرف دیکھ کر)مسٹر آپ پڑھے لکھے ہیں۔ ذرا آہستہ اورسمجھ داری سے چلیں اور قانون کاساتھ دیتے ہوئے آگے بڑھیں۔ ولیم آپ کے حق میں بُرا نہیں ہے۔کل یا پرسوں آپ کو بہت اچھی خبر ملے گی۔ گڈ بائے

 

ڈپٹی کمشنر ہیلے کے یہ آخری جملے ایسے تھے جنھوں نے چلتے چلتے شیخ مبارک حسین اور غلام حیدر کی ڈھارس بندھا دی۔ خاص کر یہ جملے شیخ صاحب کو بہت ہی پسند آئے جو بڑی دیر سے اپنی خجالت محسوس کر رہاتھا اور سوچ رہاتھاکہ اُس نے ناحق غلام حیدر کے ساتھ ڈپٹی کمشنر کے پاس آکراپنا بھرم گنوا لیا۔ اب کمشنر صاحب کی اِن باتوں نے شیخ صاحب کی کچھ نہ کچھ عزت رکھ لی تھی۔ غالباً کمشنر صاحب نے آخری وقت میں محسوس کر لیاتھاکہ اُس کے ہاتھوں سے شیخ صاحب کی ذلت ہو گئی ہے۔ شاید اسی لیے اس نے یہ چند کلمات ادا کر کے تکدر دُور کرنے کی کوشش کی تھی۔

 

(21)

 

ایس ڈی او جنتا مان نقشے پر درج شدہ تمام معلومات جب ولیم کے گوش گزار کر چکاتو ولیم اُٹھ کر خود دیوار پر آویزاں اُس دس فٹ لمبے اور آٹھ فٹ چوڑے کپڑے پر بنے نقشے کے قریب کھڑا ہو گیا۔ کچھ دیرخاموشی سے اُس کا جائزہ لینے کے بعد بولا، جنتا مان، جلال آباد کے اِس سارے حدود اربعے میں جو بات مجھے سمجھ آئی ہے، وہ یہاں کا ناقص نہری نظام ہے۔یقیناً یہاں کام چوری اور بددیانتی کے سواکچھ پیدا نہیں ہوتا۔(چھڑی سے مختلف مقامات کی نشاندھی کرتے ہوئے) کیاآپ دیکھ رہے ہیں کہ روہی کا تمام علاقہ زیریں اور اپّر اور بنگلہ سے اُوپر کا علاقہ، یہ تمام کا تمام آب پاشی سے یکسر خالی ہے۔ حالانکہ اس پورے علاقے کی زمین نشیبی ہے اور پانی کا بہاؤ نہایت آسانی سے اپنی تہیں بچھا سکتا ہے۔ کیا ہمیں اِس بہت بڑے علاقے کی ضرورت کااحساس نہیں ہونا چاہیے؟ جبکہ آپ کے پاس وسطی پنجاب کی حد پر بہتے ہوئے ستلج کا چوڑا پاٹ اپنی کشادہ پیشانی سے دعوت دے رہاہے۔ کیا ہمارا اس سے فائدہ اٹھانا فرنچ کو ناگوار گزرتا ہے جن کا وجود کم ازکم میری معلومات کے مطابق یہاں نہیں ہے؟ ہم اِس بنگلہ سے جلال آباد تک آنے والے برساتی نالے کو اِس کام کے لیے استعمال کر کے اُسے میٹھے پانی کی بہتی ہوئی نہر میں تبدیل کر سکتے ہیں۔جبکہ ایک ہیڈ برج پہلے سے سُلیمانکی پر موجود ہے۔ اگر ہم تھوڑی سی سر دردی اور زحمت گوارا کریں،جو اس قدر ضروری ہے جس قدر ہمارا اپنا وجود، تو یہ خاکستری زمینیں سبز رنگوں میں بدل جائیں۔ ولیم نے معنی خیز انداز میں جتنا مان کی طرف دیکھ کر پوچھا، کیا خیال ہے آپ کا جنتا مان؟

 

سرآپ کی یہ حکمت تو واقعی ایک اہم قدم ہے جلال آباد تحصیل کے لیے،جنتا مان بولا “مگر میں سرکار کی خدمت میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ اس ہیڈ سے نہر پہلے نکل چکی ہے۔ یہ آپ کی چھڑی کے اُوپر اُسی کی لائن جا رہی ہے لیکن اس کا پانی گورنمنٹ نے ریاست بہاونگر کو سیراب کرنے کے لیے وقف کر دیا ہے۔ ہم دوسری نہر یہاں سے کیسے نکال سکتے ہیں؟
اسی سے، ولیم نے نقشے پر نہر والی جگہ کو چھڑی سے ٹھوہکا دیتے ہوئے کہا، اِسی نہر سے جنتا مان، ہم ایک دوسری نہر نکال سکتے ہیں،جو جلا ل آباد کے زیریں اور روہی کے پورے علاقے کو سیراب کرے گی۔

 

نہر کا تمام عملہ جو میٹنگ میں موجود تھا ولیم کی اس بات پر متعجب ہوا۔وہ جانتے تھے ولیم جو کہ رہا ہے وہ اتنا آسان نہیں ہے۔ اِس کام کے لیے لاکھوں روپے کا فنڈ اور منصوبہ بندی درکار تھی۔ جس کے لیے کم از کم گور نمنٹ اُن کی سروس کے دوران تو اجازت دینے پر ر ضامند نہ ہو گی اور اگر ہو بھی گئی تومنصوبہ بناتے ہوئے کئی برس بیت جائیں گے،لیکن خاموش رہے اور ولیم بولتا چلا گیا۔

 

دیکھیں ہم اس ہیڈ کی گیج کو بڑھا کر دُگنا کر دیں گے اور تین در مزید کھول دیں گے۔ اِسی طرح اِس نہر کا پاٹ بھی دُگنا کر دیں گے۔جو ہیڈ سے لے کر چار کلو میٹر تک چلے گا اور یہاں گونا پور کے مقام پر ہم اپنی نہر کا رُخ روہی کے زیریں علاقے کی طرف موڑ دیں گے۔ یعنی جتنا پانی ہم نے ہیڈ سے ریاست کی نہر کو دیا ہو گا، وہ پانی ہم جلال آباد کی تحصیل کے لیے اس طرف موڑ لیں گے۔ جس کے لیے ہمیں اُس نہر کی ضرورت ہے، جو ابھی تک ہم نے نہیں کھودی۔ یہ نہر روہی کے ساتھ ساتھ فاضلکا بنگلہ کے بالائی حصوں اور اُن علاقوں کو پانی دیتی ہوئی، تارے والی، سے اس برساتی نالے میں گر کر جلال آباد اور سری مکھسر کے درمیان تک پہنچ جائے گی۔پھر جلال آباد شہر کو چُھو لے گی۔ اس نہر کا پاٹ پچاس فٹ ہو گا اور گہرائی آٹھ فٹ۔ جہاں سے ہم ریاست کی نہر کو الگ کریں گے، وہاں ایک گیج لگادیں گے تاکہ اپنا پانی بغیر خیانت کے حاصل کر لیں۔

 

بیر داس، جو تمام گفتگو بہت تحمل سے سن رہاتھا اور نہری سپر وائزر تھا “بولا” سر اس کے لیے بہت بڑے بجٹ کی اور وقت کی ضرورت ہے۔ میں جانتاہوں، اس کام میں کتنا خرچہ اُٹھے گا اور کتنا وقت لگے گا اور کتنے لوگوں کی ضرورت ہو گی۔

 

ولیم مسکراتے ہوئے آگے بڑھ کر اُس کے سامنے آیا اور اُسے مخاطب کرتے ہوئے بولا “ بیر داس مسائل اور مصیبتوں کے آگے صبر اور حرکت کی ڈھال باندھی جاتی ہے۔گھبرایے نہیں۔رہی بات تمھارے سب کچھ جاننے کی تو یہ بہت عمدہ بات ہے۔ ہمیں آپ ہی جیسے لوگوں کی ضرورت ہے،جو اس طرح کی معلومات رکھتے ہوں۔ سرِ دست میں آپ کی ایک کمیٹی بنا رہاہوں، جس کے سربراہ جنتامان ہوں گے۔ آپ کے پاس ایک ماہ ہو گا۔اس عرصے میں سب لوگ سر جوڑ کر بیٹھو، تمام علاقے کی پیمائش کرو اور اخراجات سے لے کر ممکنہ مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے اس کی فائل کو تیار کرو۔ آپ کی مدد کے لیے میں ڈیوڈ صاحب کو آپ کے ساتھ کر دیتاہوں۔یہ نہر کے تیار کرنے میں اتھارٹی کادرجہ رکھتے ہیں۔ تمام لوگ اِن سے ہر طرح کی مدد لے سکتے ہیں۔ ہم ایک مہینے کے اندر یہ تیار شدہ رپورٹ حکومت کو پیش کر دیں اور اُنھیں میرا خیال ہے کوئی اعتراض نہ ہو گا۔لیکن پہلا کام جو نہایت محنت طلب اور جانفشانی کا ہے، وہ آپ کریں گے،جس کے لیے میں ابھی سے آپ کا شکرگزار ہوں۔ اِس کے بعد ولیم بیر داس سے مخاطب ہو کر بولا، بیرداس آپ نہر کے فوائد اور اِس میں گورنمنٹ کو جو کچھ خرچ کے بعد حاصل ہو گا،اُس کا بھی پورا حساب کیجیے گا۔ یہ رپورٹ کسی بھی طرف سے ناقص نہیں رہنی چاہیے۔ کیامیری بات آپ کی سمجھ میں آچکی ہے؟

 

جی سر،جنتا مان نے نہایت گرم جوشی سے جواب دیا۔

 

گُڈ، اب ہم اپنا کام شروع کر سکتے ہیں، ولیم نے میٹنگ ختم کر تے ہوئے کہا لیکن جنتا مان، آپ، بیرداس، ڈیوڈ اور میں کل اس سلسلے میں دورہ کر رہے ہیں۔ ہم یہاں سے بنگلہ، وہاں سے ہیڈ سلیمانکی اور واپسی پر نہر کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے گونا پور،جہاں سے ہماری اصلی نہر کی بنیاد شروع ہو گی، سے روہی کی طرف مڑ جائیں گے۔پھر روہی کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے جلال آباد واپس آئیں گے۔ میرا خیال ہے صبح آٹھ بجے ہمیں یہاں سے نکل جانا چاہیے۔ رات ہیڈ سلیمانکی پر بسر کریں گے۔ وہاں مسٹر میتھیو ہماری مہمان نوازی سے لطف اندوز ہوں گے۔
یہ کہتے ہوئے ولیم دروازے سے نکل کر راہداری سے ہوتا ہوا چائے کے کمرے کی طرف بڑھنے لگا۔جبکہ نجیب شاہ رہنمائی کرتے ہوئے ساتھ چل رہاتھا۔ اُن دونوں کے پیچھے نہر اور مال کا پورا عملہ بھی اُس کمرے سے باہر نکل آیا،جو پچیس افراد پر مشتمل تھا۔

 

چائے کاکمرہ تیس فٹ لمبا اور پندرہ فٹ چوڑا تھا۔ ایک قسم کا کانفرنس ہال کہہ سکتے ہیں لیکن اس کام کے لیے شاید کبھی استعمال نہیں ہو سکا تھا۔ یہاں نہ تو اس قسم کی کرسیاں تھیں اور نہ ہی کانفرنس کے باقی لوازمات، لاؤڈ سپیکر یا اسٹیج وغیرہ۔ ایک لمبی میز ضرور تھی، جس پر چائے کا سامان پڑا ہوا تھا۔ میز پر سفید رنگ کا نہایت نفیس کپڑا اور خوبصورت چائے کے برتن نجیب شاہ کی انتظامی نفاست کی غمازی کر رہے تھے۔ کمرے کی دیوار پر سفید قلعی تھی۔ لیکن دیواروں پر داغ دھبا نظر نہ آنے کے باوجود محسوس ہو رہاتھاکہ کمرے کو بناتے وقت جو رنگ کیاگیا تھا، اُس پر دوبارہ قلعی کرنے کی نوبت ابھی تک نہیں آئی تھی۔ایسے لگتا تھا کہ کمرہ اکثر بند ہی رہتا ہے اور جب زیادہ چائے پینے والے ہوں تو اس کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اب تو نجیب شاہ کو محسوس ہو گیا تھا کہ یہ اکثر کھولنا پڑے گا کیوں کہ پچھلے کئی دنوں میں ثابت ہو گیا تھا کہ ولیم روایتی اسسٹنٹ کمشنروں کی طرح کا نہیں ہے جو محض افسری کرنے آتے ہیں۔ویسے بھی ولیم سے پہلے زیادہ تر تحصیلدار ہی جلال آباد میں پوسٹ ہوتے رہے تھے، جو اکثردیسی لوگ ہی ہوا کرتے تھے۔ گورنمنٹ یا عوام کے لیے کام کرنے کو وہ غالباً ثانوی حیثیت پر ہی رکھتے تھے۔ اُن کا اصل کام تو ہندوستانیوں کو یہ جتلانا تھا کہ وہ اُن کے حاکم بنا دیے گئے ہیں اور وہ اُن کی رعایا ہیں۔اِسی وجہ سے اس کمرے کے کھولنے کی کبھی ضرورت پیش نہیں آئی تھی۔

 

نجیب شاہ نے سوچا، ولیم کا آئے دن علاقے کا دورے کرنے کا سلسلہ بڑھا تو کام کی شدت خود بخود بڑھ جائے گی۔ کیونکہ یہ دورے نہ تو سؤروں کے شکار کے سلسلے میں تھے اور نہ ہی مقامی لوگوں کی عادات وخصائل سے محظوظ ہونے کے لیے۔ جس کا پہلے والے افسروں میں بہت زیادہ رواج تھا۔ چائے کے دوران پندرہ منٹ تک ادھر اُدھر کی گپ بازی کے بعد ولیم اپنے کمرے میں چار پانچ انگریز افسروں کو لے کر آ گیا۔ باقی لوگوں کو اپنی میزوں پر جانے کی اجازت دے دی گئی۔ ان افسروں میں، ڈیوڈ، انجینئر جوزف، ایکسئین سٹیورٹ، مالیکم تحصیل دار اور براہم میتھیومحکمہ مال کا انسپکشن افسر شامل تھے۔

 

جب چاروں سامنے بیٹھ چکے تو ولیم نے سب کو مخاطب کر کے ایک بھرپور تقریر کی۔ اس تقریر سے اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ دلی جذبات کے ساتھ کچھ کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اُس نے اپنے باپ اور دادا کو ماتحت افسروں سے مخاطب ہوتے دیکھا تھا۔ اس لیے کچھ وہ تجربہ اور کچھ ذاتی جوش و خروش نے ایسے الفاظ کا رُخ ڈھال لیا کہ آفیسرز ولیم کا کام کے سلسلے میں ساتھ دینے کے لیے تیار ہو گئے۔اُس نے نے اپناہیٹ میز پر رکھا اور بولا،

 

ڈیئر آفیسرز، میں جانتا ہوں کہ میں جلال پور میں ایک اجنبی، ناتجربہ کار اور نو آموز داخل ہوا ہوں۔ لیکن مجھے یقین ہے آپ کا تجربہ، آپ کا علم اور علاقے کے متعلق آپ کی شناسائی میرا ذاتی سرمایہ ثابت ہو گی۔ اس سلسلے میں آپ میرے پیش رو، مجھے طاقت دینے والے اور کام پر اُکسانے والوں میں سے ہوں گے۔ میرے دوستو، میں آپ ہی کی طرح حکومت سے تنخواہ لینے والا اُس کا ملازم ہوں تاکہ علاقے میں اُس کے قوانین کی عملداری کا فریضہ انجام دوں۔حکومت کے لیے خراج اور مالیہ جمع کروں، نظم و ضبط اور خیر خواہی کا فرض ادا کروں، یہاں کے اَن پڑھ اور گنواروں کو تعلیم، تہذیب اور سماجی معاشرتی اور معاشی اقدار سے آگاہ کروں، جس سے یہ لوگ ایسے ہی دور ہیں جیسے یورپ اِن سے دور ہے۔ لیکن اس کے ساتھ میں آپ سے یہ بھی کہنا چاہوں گاکہ یہ سب کام تب ہی اچھے طریقے سے انجام پا سکتے ہیں جب عوام کی خوشحالی اور اُن کے جان و مال کی حفاظت اور اُن کے روزگار کے مسائل درست ہوں گے۔ آپ مجھے جتنا بھی اِن لوگوں کی آزادی سلب کرنے کے بارے میں لیکچر دیں، مجھے سمجھ نہیں آئے گا۔یہ لوگ تعداد میں زیادہ ہونے کے باوجود صرف اس لیے اپنے سابقہ آقاؤں کے کام نہ آ سکے کہ اِنہیں ہر معاملے میں مکمل طور پر بانجھ رکھا گیا تھا۔چنا نچہ ہمیں پہلے یہاں کے عوام کی فلاح کے لیے اقدام کرنے ہوں گے،بطور حاکم یہ ہما را پہلا کام ہے۔ یاد رکھو،یہاں جگہ جگہ پر اُگی ہوئی خود رو جڑی بوٹیاں اور سرکنڈے اگر عوام کے لیے مُضر ہیں تو ہمارے لیے بھی مُضر ہیں۔ یہاں کی پبلک بھوکی مرے گی تو ہم بھی زیادہ دیر گائے کے تازہ دودھ نہیں پی سکتے۔ گورنمنٹ اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ جس مٹی سے تم سو روپیہ نکالو اُس میں سے بیس روپے اُسی مٹی پر ضرور خرچ کرو تاکہ مزید سو روپیہ حاصل کر سکو۔ یہ طریقہ اُسی مرغی کی مثال ہے جسے آپ ایک دمڑی کا دانہ دے کر درجن انڈے لیتے ہیں۔ آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں کہ ہندوستان ایسی مرغی نہیں جو کُڑک ہو اور ہمیں انڈا دینے سے انکار کر دے۔ ہمارا سابقہ تجربہ بتاتاہے،جس نے اس کی مٹی کے حلق میں پانی کے چند قطرے انڈیلے، اِس کے پستانوں نے اُس کے کٹورے میٹھے دودھ سے بھر دیے،۔عوام کی خوشحالی، حکومت کی عزت اور وقار کا پروانہ ہوتی ہے اور اس کی مفلسی بادشاہ کو بے وقار کر دیتی ہے۔ کوئی بھی حاکم زیادہ دیر تک اپنی رعایا کا گوشت نہیں کھا سکتا،۔ یاد رکھو بیمار رعایا کا گوشت بھی بیمار ہوتا ہے، جس سے کینسر پھوٹتے ہیں اور جو اندر ہی اند ر ہی بادشاہ کو دیمک کی طرح کھا جاتا ہے۔
ہمیں اپنی رعایا کو صحت مند اور باوقار دیکھنا ہے تاکہ ہم خود باوقار نظر آئیں۔ مسٹر جوزف مَیں یہ نہیں کہتا کہ میں افسری کرنا پسند نہیں کرتا اور کام کامجھے بہت شوق ہے۔ یقیناً مجھے اسسٹٹ کمشنر ہونا پسند ہے۔ اگر میں بطور افسر یہاں نہ آتا تو شاید مجھے بھی عوام سے کوئی دلچسپی نہ ہوتی۔مگر میں یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ اب اپنی مصروفیت کا مرکز سیر وشکار کو بنا لوں اور کام بالکل نہ کروں۔ میں یہاں ہر صورت کام کروں گا جس کے لیے مجھے مدد گار اور دوست چاہییں۔ میں نہیں جانتا کہ میں یہاں کتنے دن رہوں گا، مگر جتنے دن رہوں گا، زمینوں کو آباد کرنا اور لوگوں کو تعلیم دینا میری اولین ترجیح ہو گی اور آپ کو اس سلسلے میں میرا ساتھ دینا ہو گا۔ میں دیسی لوگوں پر انحصار نہیں کرتا۔ ان کے اندر کام کی بجائے چاپلوسی اور کام چوری کا مادہ زیادہ پایا جاتا ہے۔

 

مسٹر ڈیوڈ، یہاں کی زمینوں اور لندن کی مٹی میں یہ فرق ہے، اگر یہاں بیج بو کر پانی دو گے تو ہرابھرا پودا سر نکالے گا مگر وہاں بیزار کر دینے والی سردی اُسے برف میں بدل دے گی۔اور وہ مسلسل کی بارش اُسے گلا دے گی جو تمہاری رگوں تک اُتر ی ہوئی ہے۔ ہمارے پاس عقل ہے اور ہندوستان کے پاس وسائل۔یہی ہماری اور ہندوستان کی خوش قسمتی ہے۔ اس لیے جو ذمہ داری مجھ پر ہے، مَیں اپنے حصے کی پوری کروں گا، آپ اس کے لیے مجھے طاقت اور بازو دیں گے۔ کل میرے ساتھ دورے پر چلو۔ہم اِن تمام معاملات کا جائزہ لیتے ہوئے دو دن میں واپس آ جائیں گے۔

 

ولیم ہیٹ دوبارہ سر پر رکھتے ہوئے کرسی سے اُٹھا اور بولا، مسٹر مالیکم آپ کی ذمہ داری سب سے اہم ہے۔ آپ اس معاملے میں کچھ کہنا چاہیں گے؟
مالیکم جو اڑتالیس سال کی عمر کا پختہ تحصیل دار تھا اور پچھلے تین سال سے یہیں پر تھا، نہایت تحمل سے بولا،سر کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ کسی افسر کی خواہش پر اُس کے ماتحت نے کام کرنے سے انکار کیا ہو؟ماتحت کا کام عمل درآمد کرنا ہے۔ افسرجس قدر اپنے حکم میں مخلص ہو گا، ماتحت اُسی اخلاص سے عمل کرے گا۔ ہمیں آپ کی خواہش معلوم ہو گئی، آپ کی محکم رائے کا اندازہ ہو گیا اور حکم کے اخلاص پر یقین آ گیا ہے۔ اب آپ جو چاہیں گے ہم اُسے ہر حالت میں ممکن بنائیں گے۔

 

ولیم خوشی اور مسرت سے اٹھتے ہوئے بولا، بہت خوب مالیکم صاحب، بہت خوب، ہم کل بنگلہ فاضلکا میں جا کر باقی معاملات پر بات کریں گے کیونکہ نقشہ زمین سے بہت زیادہ مختلف ہوتا ہے۔ اب آپ جا سکتے ہیں گڈ بائے۔

 

افسروں کے کمرے سے جانے کے بعد ولیم اپنی کرسی پر دراز ہو کر دیر تک خالی الذہن آنکھیں بند کیے سکون سے پڑا رہا۔ آج اُس نے بہت سے کام نپٹائے تھے۔ تین انتہائی اہم میٹنگز میں دماغ کی حالت بچہ پیدا کرنے والی عورت کی سی ہو چکی تھی۔اس لیے وہ دفتر کے کسی بھی معاملے پر آج کے دن مزید غور کرنے سے کترا رہاتھا۔ولیم نے آنکھیں بند کر لیں اور ان فرصت کے لمحوں میں اُسے کیتھی یاد آنے لگی۔

 

وہ اُس کے ساتھ لندن کے مضافات میں گزارے گئے مسحور کن لمحات میں کھو گیا۔ کیتھی کی نیلی آنکھوں میں بلوریں چمک، ماتھے پر گہرے سنہری بال اور یاقوت کے ریزوں میں گُندھے اور پنکھڑیوں میں تِرشے ہوئے باریک ہونٹ ولیم کی آنکھوں میں چاقو کی سی تیز دھار کے چرکے لگا رہے تھے۔بالائی ہونٹ کے اوپر سُرمئی تِل ولیم کے سامنے تصویریں بن کر گھومنے لگا۔

 

یونیورسٹی کے صحن میں چھو ٹے سے پہاڑی ٹیلے پر جمی ہوئی برف کے اُوپر جب گرتے گرتے وہ اُس کی باہوں میں جھول گئی اور پھر دونوں لڑھکتے ہوئے نیچے تک آ گئے تھے، جس دوران اُس کے بازو کی ہڈی بھی تڑخ گئی۔ اُس وقت کیتھی کا کرب اور تکلیف سے سونے میں گھُلا ہوا چہرہ اور بھی اچھا لگاتھا۔ ولیم کو یاد آیا کہ کرسمس کی رات تو قیامت برپا کر دینے والی تھی، جب لہروں میں گھومتی ہوئی سرد شام کی دُھند میں وہ دونوں لندن کے جنوبی مضافات میں موجو د تاریخی گرجا گھر (ایس ٹی سوویئر )میں گئے تھے۔ جسے بُردت خاندان نے ۱۶۲۲ میں اپنے ذاتی فارم ہاؤس میں بنایا تھا اور اُس خاندان کی بہت سی یادگار بھی اس کے اندر موجود تھیں۔اُس شام چناروں کے زرد پتوٌ ں کے گرتے ہوئے شور اور کھڑکھڑاہٹ میں ہر چیز کس قدر رومان انگیز ہو گئی تھی۔ اُس رومان پرور ماحول میں بھورے آسمان سے اُترتی ہوئی دُھند اور کُہر نے اُن دونو ں کے چہرے اس طرح بھگو دیے تھے جیسے دو فرشتوں کو دُھلا ہوا سفید نور اپنی ٹھنڈک کے حصار میں لے لے اور پھر اُنہیں اُڑائے اُڑائے سفید خو شبو کی وادیوں کی سیر کراتا پھرے۔ گرجا سے واپسی پر وہ اور کیتھی ایک دوسرے کی بانہوں میں جھولتے ہوئے بہت دیر چناروں کے باجتے پتوں کی سر سراہٹ میں دور تک چلتے رہے تھے۔ پھر بگھی پربیٹھ کر اپنے کمرے میں آئے تھے۔اُس وقت کیتھی کا چہرہ کتنا سُر خ اور سبزی گھُلی ہوئی سفید یوں میں دہک رہا تھا۔گرم کمرے میں سُرخ کوئلوں سے اُٹھتی ہوئی حرارت کے پاس چند منٹ تک بیٹھے رہنے کے بعد اُس نے کیتھی کا بوسہ لیااورپھر وہ بیڈ پر لیٹ گئے۔ اُس وقت پہلی دفعہ اُس نے کیتھی کے سنہرے بالوں سے انگلیوں میں خلال کرتے ہوئے سینے پر کَسی ہوئی شرٹ سے اُبھاروں پر ہاتھ رکھ کر اُنہیں ہلکا ہلکا دبایا اور ساتھ ہی اُس کی شرٹ کے عنابی بٹن بالترتیب کھولتا گیا۔ جس کے نیچے دودھیا لمس اور دوبلوریں آئینے اور اُن آئینوں کے درمیان حشر خیز سفید اور نرم و ملائم نشیب تڑپ رہا تھا۔آئینوں پر ہاتھ رکھ کر اُس نے جب اپنے ہونٹ اُس نشیب پر رکھے تو کیتھی کس طرح دوہری ہو ہو کر گرتی تھی۔ ایسے میں اُس کا سینہ اُبھر ُابھر کر ولیم سے لپٹ لپٹ جاتا تھا۔اسی حالت میں کیتھی کی سانسیں تیز تیز حرکت کرنے لگیں تو اُس نے کیتھی کی بلاؤز کے تمام بٹن کھول کر دودھ میں نہائے ہوئے پستانوں کی نرمی اور ناف کے ہیرے میں چمکتی ہوئی بالی کی حدت کو محسوس کیا تھا۔، تب کیتھی کیسے پیار اور شہوت کے ملے جلے جذبے کے ہاتھوں بے قابو ہو کر دوہری ہونے لگی تھی اور اُس کے گرد اپنی بانہوں کو اس سختی سے جکڑ جکڑ لیتی تھی جیسے ابھی مر جاے گی۔وہ وقت تو عین فتنہ تھا، جب اُس نے کیتھی کی سکرٹ اُتار کر یکدم اپنے ہونٹ اُس کی سرین کے اندر پیوست کر دیے تھے۔ تب تو وہ یوں بے حال ہو کر اُس کے ساتھ گھوم گئی تھی جیسے توری کی بیل شیشم کی ٹہنیوں سے لپٹ جائے۔پھر ولیم اُس منظر کو یاد کر کے تھوڑا سا مسکرا دیا جس میں اُس نے بالآخر کیتھی کی ناف کے اُو پر بیٹھ کر اپنی پینٹ کی بیلٹ بھی بٹن سمیت جلد ہی کھول دی تھی۔جبکہ کیتھی انتہائی بے چینی سے اُس کی شرٹ قریب قریب پھاڑ رہی تھی۔ یہ وہ آخری لمحے تھے جب اُس نے ہاتھ بڑھا کر لیمپ کی ہلکی روشنی بھی آف کر کے دو دودھیا جسموں کونورانی اندھیروں کے حوالے کر دیا تھا۔ جس کے بعدوہ دونوں خوابوں کی دنیا میں چَلے گئے تھے۔ پھر ولیم تمام اُن بعد میں مسلسل آنے والے لمحات کو یاد کرنے لگا۔جس میں اُس نے کیتھی کی نیلی رگوں میں سُرخی بھر دی تھی، مگر وہ پہلی رات کا منظر تو کبھی نہیں بھول سکتا تھا۔

 

کرسی پر آرام سے پڑے پڑے وہ کتنی ہی دیر اُن یادوں میں کھویا رہا پھر اچانک سیدھا ہو کر بیل پر ہاتھ رکھ دیا۔کرم دین اندر آیا تو ولیم نے اُسے کہا، کافی کا ایک کپ لاؤ اور نجیب شاہ کو اندر بھیجو۔

 

کرم دین پھُرتی سے باہر نکل گیا۔چند لمحوں بعدنجیب شاہ کمرے میں داخل ہوا تو ولیم نے اُسے ہدا یات دینا شروع کر دیں،نجیب شاہ اِسی وقت لند ن میں ایک تار بھیج دو، میں ابھی پانچ منٹ میں آپ کو ایک لیٹر دے رہاہوں، دوسری بات یہ کہ ہمارے کل کے دورے کے لیے کیا بندوبست کیاہے؟

 

سر تین جیپیں تیار ہیں،نجیب شاہ بتانے لگا، جن آفیسرز کے نام آپ نے بتائے ہیں وہ اور ڈی ایس پی لوئیس صاحب بھی چھٹی سے واپس آچکے ہیں،اگر آپ حکم دیں تو انہیں بھی پیغام بھیج دیتا ہوں۔ ان کے علاوہ انسپکٹررام داس اور چھ سنتری مزیدہیں۔میں نے ضرورت کی تمام چیزیں بھی بالکل تیار کروا دی ہیں جو سفر میں کام آ سکتی ہیں۔

 

گُڈ، ولیم نے مسکراتے ہوئے اظہارِ مسرت کیا پھر ایک کاغذ پر کچھ لکھتے ہوئے اُسے باہر جانے کا اشارہ کر دیا۔ اتنے میں کرم دین کافی لے کر آ گیا۔ کافی کی گرم گرم اٹھتی ہوئی بھاپ نے ولیم کی اشتہا بڑھا دی،۔وہ کافی کی چسکیاں لینے کے ساتھ ساتھ کیتھی کو خط لکھنے لگا۔
پیاری کیتھی تمھیں خط لکھے بہت دن ہو گئے۔ آج سے چار دن پہلے تمھاراخط ملا تو میں پڑھنے کے بعد دیر تک اُسے چومتا رہا پھر سینے پر رکھ کر سو گیا۔ خواب میں تم ملیں اور مَیں نے دیکھا تم میرے سینے پر لیٹی ہوئی ہو۔پیاری کیتھی اب تمھیں یہ کہنا بالکل واہیات لگتا ہے کہ مجھے تم سے بہت محبت ہے۔ اب تو ہم محبت کی خندقیں پاٹ کر کے اشتہاؤں کے قلعے کی فصیلوں کے اندر داخل ہو چکے ہیں۔ جس میں ہم تیسری قوت کا مقابلہ ایک جسم بن کر کریں گے۔ ہم محلوں میں رہیں گے، تکیوں کے درمیان لیٹیں گے اور ریشمی گدٌوں پر بیٹھ کر فانوسوں کی رونق میں چہلیں کریں گے جس میں کوئی تیسرا مخل نہ ہو۔ میں جب سے یہاں آیا ہوں،تمھارے خواب کی تکمیل میں جُتا ہوا ہوں اور سخت محنت کر رہا ہو ں تاکہ تمھاری خوابگاہ تیار کرنے کا خواب پورا کر سکوں۔ یہاں دفتر میں کام بہت بڑھ گیا ہے۔تم جانتی ہو، تمہارا ولیم اب ایک عام اور کھنڈرا لڑکا نہیں رہا۔میں جانتا ہوں تمھیں یقین نہیں آ رہا ہو گا مگر یہ سچ ہے میں اب بڑے بڑے کام کرنے لگا ہوں۔ جیسا کہ کمشنروں کی بہت سی سنجیدہ ذمہ داریاں ہوتی ہیں، میری بھی ویسی ہی سنجیدہ ذمہ داریاں ہیں۔ یقین مانو میں یہاں بڑی بڑی میٹنگیں کر رہا ہوں جن میں اہم فیصلے کیے جاتے ہیں۔ دیسی لوگ تو ایک طرف،یہاں کے انگریز افسر بھی مجھے سلام کرتے ہیں۔ میں نے تمھیں کہا تھا،ایک دن تم ایک بڑے کمشنر کی بیوی ہو گی جو ہندوستان کی کھلی سڑکوں اور شاداب وادیوں کی سیر کو نکلا کرے گی۔ بس وہ دن قریب آ گئے ہیں۔ میں یہاں کچھ اہم کام نپٹا لوں اُس کے بعد چند ماہ میں ہی تمھیں بیاہ کر ہندوستان لے آؤں گا۔ بس چند ماہ اور انتظار میری جان۔ سرِ دست میں یہاں اپنا وجود ثابت کرنا چاہ رہاہوں اور مجھے یقین ہے وہ جلد ہی ہو جائے گا، اُس کے بعد ہم تم ہوں گے اور ہندوستان پر ہمارا اقتدار اور تمہاری نوکرانیوں اور ملازماؤں کے گروہ کے گروہ ہوں گے، ہمارے دو پیارے پیارے تمہارے جیسے بچے ہوں گے۔ اب ایک بوسہ دو

 

تمہارا اور تمہارا ولیم

 

ولیم نے کافی کی آخری چُسکی کے ساتھ ہی خط کی تحریر کو انجام دیا پھر نجیب شاہ کو طلب کر کے خط اُس کے حوالے کیا اور کہا،اِسے ابھی بذریعہ تار کیتھی کو روانہ کردے۔ نجیب شاہ کے کمرہ سے نکلنے کے بعد ولیم نے کلارک کی طرف دیکھا، وہاں چار بج رہے تھے۔ اُس نے سوچا کہ آج تو وقت نکلنے کا احساس ہی نہیں ہوا اور اگر دفتر کی مصروفیات اسی طرح رہیں تو زندگی کے نکلنے کا بھی پتا نہیں چلے گا۔ ایک دو منٹ آج کے گزرے واقعات پر دوبارہ نظر دوڑانے کے بعد وہ کرسی سے اُٹھا اور کمرے سے باہر نکل آیا۔ باہر سامنے ہی کلرکوں کے کمروں کے درمیان والی ساٹھ فٹ لمبی اور دس فٹ چوڑی راہداری عبور کرکے باہر کی چوکی پر پہنچا تو اُسے اپنی پُشت پر کئی آفیسرز اور کلرک کھڑے ہوئے نظر آئے۔ غالباً وہ اسی انتظار میں تھے کہ کب صاحب کمرے سے باہر نکلے اور اُن کی آج کے دن سے جان چُھٹے۔ ولیم نے سب پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ طائرانہ سی نظر ماری اور آگے بڑھ گیا۔کسی کی جُرات نہیں ہوئی آگے بڑھ کر ولیم سے سلام لے یا اُسی کی طرح مسکرا کر جواب دے۔وہ سب فقط ہاتھ باندھ کر کھڑے رہے اور جب ولیم آگے بڑھ گیا تو دو آفیسر بھی اُس کی تائید میں پیچھے پیچھے بنگلے کی طرف پیدل ہی چل پڑے جو دفتر کی عمارت سے زیادہ سے زیادہ دو سو میٹر کے فاصلے پر تھا۔ افسروں کے ساتھ چار سنتری بنگلے تک آئے۔ اس پیدل واک کے دوران ولیم نے کسی سے کوئی بات نہیں کی البتہ بنگلے کے گیٹ کے اس طرف ہونے کے بعد انھیں تھینکس ضرور کہا۔

 

(22)

 

دلبیر سنگھ صبح سات بجے ہی جیپ اسٹارٹ کر کے ولیم کے بنگلے پر آگیا تھا باقی کا بھی تمام عملہ پونے آٹھ بجے تک پہنچ گیا اور پورے آٹھ بجے ولیم اپنے بنگلے سے باہر نکل آیا۔ مالیکم کے ساتھ ہاتھ ملا کر باقی سب کو گڈ مارننگ پر ہی اکتفا کیا اور آگے بڑھ کر جیپ میں بیٹھ گیا۔ ولیم کے بعد دوسرے بھی جیپوں کی طرف بڑھے اور سوا آٹھ بجے ولیم جلال آباد سے نکل پڑا۔

 

یہ دن فروری کے آغاز کے تھے۔ بنگلے کے دائیں طرف کھڑے پیپل کے پتے مسلسل گرتے رہنے سے سڑک پر زردی بکھر چُکی تھی۔سڑک کچی تھی لیکن اُس پر اینٹوں کے بھٹے سے بچ جانے والی پکی اینٹوں کی ملی جُلی کیری اور ریت پوری سڑک پر دور تک پھینکی گئی تھی تا کہ گرد نہ اٹھ سکے۔ یہ سُرخ رنگ کی کیری کمپلیکس سمیت جلال آباد شہر کی قریباًتمام سڑکوں پربھی ڈال دی گئی تھی جو وافر مقدار سے بھٹوں سے مل جاتی تھی۔ روز کی روز اُن پر ماشکی چھڑکاؤ بھی کر دیتے۔جس کی وجہ سے مٹی بیٹھ جاتی۔ اس سڑک پر بھی صبح ہی ماشکی چھڑکاؤ کر کے جا چکا تھا۔ بلکہ تحصیل کا بڑا صاحب ہونے کی وجہ سے ولیم کے گھر کو جانے والی سڑک پر چھڑکاؤ کا خاص خیال رکھا جاتا۔ آج ہوا قدرے تیز اورٹھنڈی چل رہی تھی۔ اس لیے ولیم نے نکلتے وقت گلے میں مفلر بھی لپیٹ لیا۔ جیپ نے جلال آباد کو پیچھے چھوڑا تو مضافات میں کچھ کچھ سبزیوں اور سرسوں کے کھیت کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ وسطی پنجاب کے بر عکس یہاں درختوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی۔ اس لیے نظر دُور تک چلی جاتی تھی اور جیسے ہی جیپیں جلال آباد سے دور ہونا شر وع ہوئیں۔ سبزیوں اور سرسوں کے کھیت بھی کم ہونا شروع ہو گئے۔جب جلال آباد چار میل پیچھے رہ گیا تو ہر طرف ویرانی ہی ویرانی نظر آنے لگی۔ سڑک کے دونوں طرف درختوں کے بجائے دو رویہ سرکنڈوں کے جُھنڈ کے جُھنڈ تھے۔ جن سے کبھی خرگوش اور کبھی گیدڑ یا سؤر جیپوں کے شور سے اچانک نکل کر بھاگ اُٹھتا اور کبھی کانٹوں والی سیہہ سڑک پر جیپ کے آگے آگے تھوڑی دُور تک دوڑ کر دوسری طرف غائب ہو جاتا۔ سورج جیسے جیسے بلند ہو تا جا رہا تھا، سڑک کی گرد جو رات میں پڑنے والی اوس سے جم چکی تھی،وہ غبار بن کر اُٹھنے لگی۔ حتیٰ کہ جیپوں کے پیچھے دھویں اور گردو غبار کے بادل سے چڑ ھ جاتے اور پیچھے کی طرف دیکھنے سے کچھ نظر نہ آتا تھا۔ قافلہ ٹوٹیانوالہ،بدھو کے اور جمالکے سے ہوتا ہوا آگے فاضلکا بنگلہ کی طرف بڑھتاگیا۔

 

ولیم بڑی گہری نظروں سے اِس پورے علاقے کا جائزہ لیتا ہوا جا رہاتھا۔ سڑک پر ریت اور مٹی کی ملی جُلی گرد تھی، جس کا مطلب یہ تھا کہ اس پورے علاقے پر دریا کا کافی اثر تھا۔ اِس وجہ سے کہیں کہیں کیکر اور بہت زیادہ عک، کریر اور ون کے درخت تھے۔ان کیکروں اور جھاڑیوں کے علاقے میں جگہ جگہ چرواہے اپنی بھیڑوں اور بکریوں کے ساتھ بکثرت نظر آ رہے تھے۔ جن کے ہاتھوں میں کاپے اور کاندھوں پر کلہاڑیاں تھیں۔ان کے ذریعے وہ بلند کیکروں کی شاخیں کاٹ کر اُتارتے۔ جن سے ان کی بکریاں تمام پتے اور نرم کونپلیں اس طرح صاف کر جاتیں جیسے کسی مرغی کی کھال کھینچ لی گئی ہو۔ ان چرواہوں کی سادگی اور اپنے حال میں مست رہنے کی کیفیت دیکھ کر ولیم متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔ پاؤں میں عموماً چمڑے کے پھٹے پُرانے جوتے اور سر پر ایک چھوٹا سا پٹکا نظر آتا تھا۔ یہ چرواہے اور ان کی بھیڑ بکریاں تھوڑی دیر تک ولیم کی جیپ کو حیرانی سے کھڑے دیکھتے رہتے،اُس وقت تک جب تک وہ اُن کی نظروں سے اوجھل نہ ہو جاتی۔بکریوں کی حیرانی دو چند ہوتی تھی کہ اُن کے منہ میں گھاس یا شاخ کی پتی بھی وہیں رک جاتی اور منہ اور آنکھیں دیر تک کھلی رہتیں۔ ظاہری ہیئت سے پتا چلتا تھا کہ یہ چرواہے زیادہ تر مسلمان تھے۔ چھوٹی چھوٹی آبادیاں ایک ایک یا دو دو میل کے بعد نظر آ رہی تھیں۔ ان آبادیوں کے لوگ بھی کہیں ننگ دھڑنگ بچے، کہیں عورتیں یا مرد جیپوں کو پاس سے گزرتا دیکھ کر حیرت سے تکنے لگ جاتے۔ کوئی بھی آبادی چالیس یاپچاس گھروں سے زیادہ نہیں تھی بلکہ اکثر اس سے بھی کم پانچ دس جھونپڑوں پر ہی مشتمل تھیں۔ ولیم اس پورے ویران اور غیر سبز علاقے کو دیکھتا اور سوچتا جا رہا تھا کہ یہ لوگ کیا کماتے اور کیا کھاتے ہوں گے۔ اُسے ان غریب آبادیوں پر ترس آنے کے ساتھ ساتھ وحشت ہو رہی تھی،جنھیں کچھ خبر نہیں تھی کہ وہ کس حکومت کی رعایا ہیں اور اُن کے کیا حقوق ہیں اور کتنے فرائض ہیں۔ کبھی کبھی اس ویرانی میں دو چار سبز کھیت بھی نظر آ جاتے تھے،جو رہٹ یا بارش کے لطف کا نتیجہ تھے اور حکومت کا اس میں کوئی دخل نہیں تھا۔ سکول اور مدرسے کا تو دُور دُور تک نام ونشان نہیں تھا۔ ولیم نے سوچا،کاش حکومت برطانیہ دولت سمیٹنے کے علاوہ بھی کچھ کام کر سکتی۔ اُسے اِس علاقے کا بنجر پن دیکھ کر وحشت ہونے لگی۔ وہ دل ہی دل میں اپنے آپ کو ملامت کرنے لگا اور یہاں کے سابقہ ڈپٹی کمشنروں اور اسسٹنٹ کمشنروں کو کوسنے لگا،جنھوں نے کبھی یا تو اپنے دفتر سے نکل کر دیکھنے کی زحمت ہی نہیں کی تھی یا اگر دیکھا بھی تھا تو وہ کسی بھی احساس سے عاری تھے۔ انہوں نے ان لوگوں کی حالت پر کبھی غور نہیں کیا تھابلکہ ان کے لیے کچھ کرنا تو دُور کی بات تھی،سوچا بھی نہیں ہو گا۔

 

ولیم خیالات کی اسی رو میں گم تھا کہ اُسے ایک ٹیلے پر قصبہ نما گاؤں دکھائی دیا جس کی طرف دو تین گَڈے بھوسے اور چارے سے لدے جارہے تھے۔جن کے آگے بیل جُتے ہوئے تھے۔ان گَڈوں کی خصوصیات یہ تھیں کہ پہیوں سے لے کر ہر چیز لکڑی کی تھی۔لکڑی کے بڑے بڑے پہیے چلتے ہوئے ایسی آواز پیدا کر رہے تھے جس سے معلوم ہوتا تھا کہ ان کو کھینچنے کے لیے کسی دیو کا کلیجہ چاہیے۔جنہیں بچارے بیل محض اپنے جانور پن کی وجہ سے کھینچے لیے جا رہے تھے۔یہ سراسر جانوروں کے ساتھ ظلم تھا لیکن یہ گڈے ہی وہاں کی مقبول ترین اور مقامی ترکھانوں کے ہاتھوں سے بنی ہوئی بار برداری کی سستی شے تھی۔ اسے چلانے کے لیے صرف دوبیل اور ایک کسان چاہیے ہوتا۔جس کے لیے ضروری نہیں تھا کہ وہ باقاعدہ تربیت یافتہ ہو۔ بلکہ اُسے ایک چار سال کا بچہ بھی بغیرتجربے کے ہانک کر لے جا سکتا تھا۔ بس وہ گڈے پر بیٹھ سکتا ہو۔ ولیم نے دلبیر سے کہا، دلبیر سنگھ اس قصبے میں جیپ روک دو۔ دلبیر سنگھ نے گاؤں میں داخل ہونے سے چند قدم دُور ہی جیپ روک دی۔ولیم کی جیپ کے پیچھے دوسری دونوں جیپیں بھی آ کر رُک گئیں۔ گاؤں کے ارد گرد ہرے بھرے کھیت لہلہا رہے تھے، جن میں زیادہ تر مکئی، باجرا، گوارہ اور چنے کی فصلیں تھیں۔ ان فصلوں کو دیکھ کر ولیم کو ایک گونہ مسرت اور حوصلہ ہوا۔

 

مالیکم نے آگے بڑھتے ہوئے کہا، سر اس گاؤں کا نام تارے والا ہے۔ قدرے بڑی آبادی ہے اور زراعت میں دلچسپی رکھتی ہے۔ تیس فیصد مسلمان ہیں، چالیس فیصد کے قریب سکھ ہیں، بیس فی صد ہندو اور باقی چوہڑے ہیں۔ یہاں پر ایک پرائمری سکول بھی موجود ہے۔
گڈ، ولیم بولا، ہم کچھ دیر اس گاؤں کو دیکھنا چاہیں گے۔

 

یہ کہہ کر ولیم گاؤں کی طرف چل دیا۔ کچھ لوگ جیپوں کے رُکتے ہی جمع ہو گئے تھے۔ مگر اب تماشا دیکھنے والوں کی تعداد بڑھنے لگی۔ خاص کر بچوں کا جوش اور حیرانی بہت زیادہ ہو گئی تھی۔گاؤں کے مکان زیادہ کچے ہی تھے۔ دو چار پکے مکان بھی تھے مگر وہ بھی ایسے خاص پکے نہ تھے۔ ولیم اور دس دوسرے ملازمین جیسے ہی گاؤں کی طرف بڑھے، مرد، خواتین اور بچے گاؤں کی چوڑی اور کھلی گلیوں میں دو رویہ کھڑے ہو گئے۔ بعض کھسر پھُسر کر کے ایک دوسرے کو سوال بھی کرنے لگے۔ کچھ ڈرے اور سہمے ہوئے بھی تھے۔ غالباً پولیس افسر اور سنتریوں کی وجہ سے یہ کیفیت تھی۔ ولیم کو گاؤں والوں کی حیرانی اور ہیجانی کیفیت سے یہ اندازہ لگانے میں دیر نہیں لگی کہ اِس سے پہلے انگریز افسروں نے کبھی گاؤں میں قدم رکھا بھی ہو گا تو صرف اُن کی گوشمالی کے پیش نظر، اسی لیے اکثر ڈرے ہوئے تھے۔ گلیاں اس قدر کھلی تھیں کہ پچاس فٹ کی ضرور تھیں۔ انہی گلیوں میں جگہ جگہ پر گدھے اور بھینسیں بندھی تھیں جن کے آگے چارہ بغیر کُترے،لمبے لمبے مکئی، چری اور باجرے کے ٹانڈوں کی شکل میں اکثر چبایا ہوا پڑا تھا۔ بعض جانور اُنہی چبائے ہوئے ٹانڈوں کو بار بار چبا رہے تھے۔ اُس کے پتے وہ کھا چکے تھے۔گدَھوں کے سامنے چاولوں کے باریک چھلکے ڈھیر ہوئے پڑے تھے، جنھیں وہ شوق سے کھا رہے تھے۔ ولیم گزرتے ہوئے ایک گدھے کے پاس پہنچا تو وہ اچانک ہینکنے لگا، جس سے ولیم ایک دم ڈر کے پیچھے ہٹا۔ اُسے ڈرتے ہوئے دیکھ کر بچے ہنس دیے اور وہ کھسیانا سا ہو کر آگے بڑھ گیا۔ پورا گاؤں کھیتوں کی نسبت بلندی اور ریتلی زمین پر تھا۔اس وجہ سے نہ تو وہاں بارش کے پانی کے آثار تھے اور نہ ہی گندگی نظر آئی۔البتہ درختوں کی یہاں بھی کمی تھی۔ کہیں کہیں کسی گھر کے صحن میں ٹاہلی یا نیم کا پیڑ ضرور نظر آ رہا تھا۔ مالیکم ولیم کو اس گاؤں کے متعلق اپنی معلومات دے رہاتھاجس کا مطلب تھا وہ یہاں پہلے بھی آچکا ہے۔

 

سر، یہاں ایک مسجد، ایک گوردوارہ اور ایک مندر بھی ہے، یہ گاؤں اصل میں نواب سر شاہنواز ممدوٹ کی ملکیت ہے اور انھی چوراسی گاؤں میں سے ایک ہے جو اُن کی ملکیت ہیں۔ یہاں کے لوگ زیادہ تر محنتی اور جفاکش ہیں۔ ان کو تحصیل جلال آباد ہی لگتی ہے مگر ان کی آمدورفت اور خرید و فروخت تحصیل مکھسر میں رہتی ہے۔ نواب صاحب یہاں کبھی کبھار آتے ہیں۔ یہ جو کچھ اُسے حصہ دیتے ہیں،وہ لے کر چلتا بنتا ہے۔ ادھر اُدھرکھیتوں میں جو رہٹ لگے ہوئے ہیں،یہ سب اُسی نے لگوا کر دیے ہیں۔ گورنمنٹ ان علاقوں پر توجہ اس لیے نہیں دیتی کہ ان کے ذمہ دار نواب صاحب ہیں اور وہ خود دلچسپی کم لیتے ہیں۔ یہاں کے سکول میں بچوں کی تعداد تیس ہے۔

 

مالیکم اس طرح معلومات دیے جا رہا تھا جیسے یہ کوئی نیا ملک تھا جس پر انگریز سرکار حملے کا منصوبہ ترتیب دے رہی ہو۔

 

لوگوں کی تعداد میں تماشائیوں کی صورت کا فی اضافہ ہو چکا تھا جن میں اب مردوں کے علاوہ عورتیں بھی شامل ہو گئی تھیں۔مردو ں کی طرح اکثر عورتوں نے بھی دھوتیاں باندھی ہوئی تھیں۔ ان کے علاوہ بہت سی بڑی بوڑھیوں کے کگھرے بھی بندھے تھے، جن کے گھیرکا پھیلاؤ کم از کم تین گز تک تھا۔اُنہیں دیکھ کر ولیم کے ذہن میں ایسے ہی ایک خیال آیا کہ اتنے کپڑے سے تو دومیموں کا لباس بن جائے۔یہ بوڑھیاں کتنا کپڑا ضائع کرتی ہیں۔

 

ولیم گاؤں کے چوک میں پہنچا تو عجیب سرشاری میں چلا گیا۔چوک بہت ہی بڑا سو مربع میٹر میں پھیلا ہوا تھا۔جس کے عین درمیان میں غلہ پیسنے والا خراس تھا۔ پتھر کے اُوپر نیچے دو بڑے بڑ ے بھاری پُڑ گھرر گھرر کرتے گھوم رہے تھے۔ اتنے بھاری خراس کو چلانے کے لیے ایک اونٹ مسلسل دائرے میں چل رہاتھا، جس کے کوہان کے ساتھ خراس کے آنکڑے بندھے تھے اور آنکڑے کے آخری سرے پر چوڑی تختی پر ایک آدمی بیٹھا اُونٹ کو ہانکتا جاتاتھا۔ اس طرح اونٹ کے دائرے میں گھومنے سے پتھر کے پُڑ گھومتے تھے۔ بالائی پتھر میں ایک سوراخ تھا جس میں غلہ یا گندم متواتر تھوڑی تھوڑی کر کے ڈالی جا رہی تھی، جو آٹا بن بن کر نیچے بوریوں میں گرتا جاتا۔ولیم نے ایسا منظر پہلی دفعہ دیکھا تھا، اس لیے دلچسپی سے دیکھنے کے لیے وہاں کھڑا ہو گیا۔ تھوڑی دیر اُس منظر کو دیکھنے کے بعد ولیم آگے چل دیا۔ اس چوک میں دو چار درخت بھی،بیری اور ٹاہلی کے کھڑے سایہ دے رہے تھے۔ یہ دن سردیوں کے تھے اس لیے کسی نے بھی اُن کے سایے کی طرف دھیان نہیں دیا۔ چوک کے مشرقی کونے میں مسجد تھی۔اُسے ولیم نے دُور ہی سے دیکھنے پر اکتفا کیا۔ مغرب کی طرف ذرا ایک دوسری گلی میں گوردوارہ بھی تھا۔ مندر کہیں دکھائی نہ دیا۔ اب آگے آگے ولیم چل رہا تھا، اُس کے پیچھے ماتحت عملہ اور اُن کے پیچھے تماشا دیکھنے والے چھوٹے بڑے لوگوں کا پورا مجمع تھا۔ اُن کا ڈر مکمل طور پر دور ہو چکا تھا۔ اس لیے پیچھے پیچھے آنے والوں کی آوازیں اب شور کی صورت اختیار کرتی جارہی تھیں۔ بچوں کا کوئی بھی مخصوص لباس نہیں تھا۔کچھ نے محض نیکریں پہنیں ہوئیں تھیں۔ بعض دھوتی قمیض میں تھے اورکچھ ویسے ہی الف ننگے چھڑنگیں مارتے آگے پیچھے بھاگ رہے تھے۔نہ اُنہیں سردی کی پرواہ اور نہ ہی اُن پر سردی گرمی کے موسموں کا اثر تھا۔ یہ سب ولیم سے دُور دُور ہی تھے۔ ولیم نے پاس ہی کھڑے ایک شخص سے سکول کے بارے میں پوچھا تو اُس نے گاؤں کے دوسرے کونے کی طرف اشارہ کیا اور بھاگ کر پُھرتی سے آگے آگے چل دیا۔ گویا وہ انھیں وہاں تک پہنچانے کا پابند ہو گیا ہو۔

 

وہ شخص اُنھیں ایک بہت چوڑی گلی سے گزارتے ہوئے ایک جگہ لے گیا جہاں تین چار درخت ایک دوسرے سے کچھ فاصلے پر کھڑے تھے۔ اُن سے تھوڑا ہٹ کے چار ٹولیوں میں تیس پینتیس کے قریب لڑکے بیٹھے ہوئے تھے۔ پاس ہی ایک بڑا سا کمرہ تھا اور بس۔ اِس کے علاوہ وہاں نہ کوئی دوسرا کمرہ تھا نہ کہیں چار دیواری کے نشان تھے اور نہ ہی اُستاد نظر آ رہا تھا۔ ولیم پاس پہنچا تو سب بچے اُٹھ کر کھڑے ہو گئے۔ اکثر بچوں نے پگڑیاں باندھی ہوئی تھیں۔ یہ سب زمین پر بغیر ٹاٹ یا کپڑا بچھائے بیٹھے تھے۔ اُسی شخص نے آگے بڑھ کر ایک بچے سے پوچھا،پُتر، ماشٹر موتی لال کدھر ہے؟ بچے یک زبان بول اُٹھے، وہ ہگنے گیا ہے۔ ولیم جب اُن کے جوا ب کو سمجھنے سے قاصر رہا تو اُسی دیہاتی شخص نے ولیم کوسمجھاتے ہوئے کہا، صاحب بہادر،ماسٹر جی جھاڑا کرنے گئے ہیں۔ ولیم پھر بھی کچھ نہ سمجھا تو اُس نے کچھ اور وضاحت کی،جی میرا مطبل ہے مُنشی جی جنگل کرنے گیا۔یہ بات ولیم کے لیے مزید پیچیدہ ہو گئی کہ سکول کی بجائے وہ جنگل میں کیا کرنے گیا ہے۔اس کشمکش کو دیکھتے ہوئے بیر داس نے آگے بڑھ کر ولیم سے کہا،سر یہ کہہ رہا ہے،ماسٹر موتی لال لیٹرین میں گیا ہے۔ ولیم یہ جان کر مسکرا دیا۔

 

ولیم پڑھنے والے بچوں اور سکول کی حالت دیکھ کر تذبذب کا شکار ہو گیا کہ یہ بچے بھی کیا پڑھتے ہوں گے؟ اُس نے بیرداس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، بیرداس کیا آپ بھی اسی طرح کے سکولوں میں پڑھتے رہے ہیں؟

 

سر وہ ذرا اِن سے بہتر تھے، مگر کچھ اسی طرح کے تھے، بیر داس نے شرماتے ہوئے جواب دیا۔

 

اتنے میں ایک شخص بھاگتاہوا کھیتوں کی طرف سے آتا دکھائی دیا۔ اُسے دیکھ کر بچے ایک دم بول اُٹھے، وہ آگئے ماشٹر جی، آگئے۔

 

بیرداس نے سب بچوں کو بیٹھنے کا کہا۔ اتنے میں ماسٹر موتی لعل دھوتی اور پگڑی دُرست کرتا اور ہانپتاہوا پاس آ یا اور دونوں ہاتھ باندھ کر ولیم کو سلام کرکے کھڑا ہو گیا۔اُسے ولیم کے عہدے اور اتھارٹی کا تو با لکل پتا نہیں تھا۔ البتہ اتنا ضرور باور ہو گیا کہ فرنگی ہے تو کوئی بڑا افسر ہی ہے۔ جس کے ہاتھ میں میری روزی روٹی کا بھی اختیار ہو گا۔ بچے بالکل سہمے ہوئے خاموش بیٹھ گئے تھے۔ کیونکہ جس قدر اُن کا ماسٹر ڈرا ہوا تھا اُس سے بچوں کو معلوم ہوا کہ کوئی بہت ہی بڑا افسر آیا ہے۔ ولیم نے آگے بڑھ کر موتی لعل سے کہا :موتی لعل، یہاں کتنے اُستاد ہیں؟

 

موتی لعل ہاتھ باندھے ہوئے “سرکار میں ایک ہی ہوں”۔
بچے کتنے ہیں؟
سرکار چالیس ہیں
اور بھاگ کر کمرے سے ایک رجسٹر لے آیا۔ پھراُس کو کھول کر ولیم کے سامنے کر دیا۔
یہ سب بچے اسی گاؤں کے ہیں؟

 

ناں سرکار، اس گاؤں کے تو صرف بارہ بچے ہیں۔باقی ادھر اُدھر کے گاؤں سے آتے ہیں۔
کیوں؟ اس گاؤں میں صرف بارہ ہی بچے ہیں۔ گاؤں تو کافی بڑا نظر آتاہے۔
(سہمے ہوئے انداز میں) صاحب بہادر،مسلمان اپنے بچوں کو یہاں پڑھنے نہیں بھیجتے۔
وہ کیوں؟ ولیم نے حیرانی سے پوچھا۔

 

ولیم کے اس سوال پر موتی لعل گھبرا گیا او ر مزید بولنے سے کترانے لگاکیونکہ مسلمانوں کا ایک بڑا مجمع تماشائیوں کی شکل میں سامنے کھڑا تھا۔ اُس بچارے کی ہمت نہیں تھی، اُن کے سامنے کوئی چغلی کی بات کرتا۔ اُسے جھجکتا ہوا دیکھ کر مالیکم آگے بڑھ کر بولا،سر اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ پنجاب کے دیہاتوں میں ایسے مولوی کثرت سے ہیں، جو جگہ جگہ فتوے جاری کرتے ہیں کہ اپنے بچوں کو گورنمنٹ کے سکولوں میں مت بھیجو کیونکہ پڑھانے والے اکثر ہندو اور سکھ ہیں اور تعلیم نصاریٰ کی ہے۔ وہ انھیں ڈراتے ہیں کہ ان سکولوں میں پڑھنے سے مسلمانوں کے بچے یا تو ہندو اور سکھ ہو جائیں گے یا عیسائی۔ اسی لیے ہمارے سکولوں میں مسلمان بچوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔

 

“ہوں……” ولیم معنی خیز انداز میں ہنکارا اور اگر سکول ہیں بھی تو اسی طرح کے۔ مگر مالیکم آپ نے یہ بات پہلے مجھے نہیں بتائی۔یہ بہت خطرناک بات ہے۔ تُلسی داس نے بھی سرسری پہلے اسی طرح کی کوئی بات کی تھی۔ ہم کیوں ان بچوں کے لیے مسلمان ٹیچر کا بندوبست نہیں کرتے۔ فوراً تلسی داس سے اس بارے میں رپورٹ طلب کرو، خیر اس معاملے پر بعد میں بات کرتے ہیں اور یہ کیا ہے؟ ولیم کمرے کی طرف بڑھتے ہوئے بولا۔

 

سرکار یہ گورنمنٹ کے سکول کی عمارت ہے، موتی لعل نے پہلو میں چلتے ہوئے کہا۔
ولیم کمرے میں داخل ہوا تو چکرا سا گیا۔ وہاں صرف خالی دیواروں پر نہائت بوسیدہ چھت تھی،جو بجائے آنکڑوں کے،سرکنڈوں کے گٹھوں سے تیار کی گئی تھی اور اب اُس میں بھی جگہ جگہ چھید نظر آرہے تھے۔کمرے کو ایک دروازہ لگا ہوا تھا۔اس کے سوا نہ وہاں ڈیسکیں تھیں، نہ کرسی، نہ میز اور نہ خدا کی بھری پُری کائنات میں سے کچھ اور چیز،جو اُس تیس ضرب پندرہ فٹ چار دیواری میں موجود ہوتی۔

 

ولیم نے اس طرح کے سکول کب دیکھے تھے اور نہ ایسے سکول ماسٹر جن کی طرف سے نہ کوئی مطالبہ تھا اور نہ کوئی شکایت۔ ولیم کو شک ہوا کہ شاید اُسے تنخواہ بھی ملتی ہے کہ نہیں۔ اس شبے کو دُور کرنے کے لیے اُس نے آخر موتی لعل سے پوچھ لیا،موتی لعل آپ کی تنخواہ کتنی ہے؟

 

موتی لعل بولا، حضور آپ کے سایہ اقبال سے پچیس روپے ماہ بہ ماہ مل جاتے ہیں۔
اور ان بچوں کو پڑھاتے کیا ہو؟ ولیم کو حوصلہ ہوا کہ چلو خیر سے ایک کام تو ہو رہاہے۔
سرکار سب ہی کچھ پڑھاتاہوں، موتی لعل نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا، ریاضی، ابتدائی انگریزی، اردو، فارسی، تاریخ اور تھوڑا بہت جغرافیہ۔ بس سرکار پانچویں تک یہی کچھ ہے۔ آپ کچھ بھی اِن بچوں سے پوچھ سکتے ہیں سرکار۔

 

ٹھیک ہے موتی لعل،ہمیں آپ پر اعتماد ہے اور کمرے سے باہر آتے ہوئے مالیکم سے مخاطب ہو کر، مسٹر مالیکم میرا خیال ہے،یہ مسئلہ آب پاشی کے نظام سے بھی زیادہ سنجیدہ ہے۔ کیا آپ یہ سب دیکھ رہے ہیں؟ہمیں اس مسئلے کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کرنا ہو گا۔
یہ کہتے ہوئے ولیم واپس مُڑا۔ولیم کے واپس ہوتے ہی مجمع ایسے چھٹ گیا جیسے کسی نے دھویں کا شیل مارا ہو۔پلک جھپکتے میں راستہ صاف ہو گیا اور ولیم اُسی راستے چلتا ہوا اپنی جیپ تک آگیا۔

 

سچ بات تو یہ تھی کہ ولیم کو ایسے تعلیمی نظام کا بگڑا ہوا چہرہ دیکھ کر بہت رنج ہوا۔ اُس پر ایک بددلی کی کیفیت طاری ہو گئی اور وہ جلدی سے پلٹ کر اپنی جیپ کے پاس آیا۔ دلبیر سنگھ نے رولر پر رسا پہلے ہی چڑھا رکھا تھا۔ اُس نے ایک ہی جھٹکے سے رسا کھینچ کر جیپ کو اسٹارٹ کر دیا۔ اُس کے فوراً بعد ہی دوسری دونوں جیپوں کے رسے بھی با لترتیب کھینچ دیے گئے۔اور یکے بعد دیگرے جیپیں روانہ ہو گئیں۔ گاؤں کے تماش بین وہیں کھڑے دیکھتے رہ گئے۔انُھیں اتنے افسروں کا اس گاؤں میں آنے اور اُسی طرح خالی ہاتھ چلے جانے پر تعجب ہو رہا تھا۔ نہ کسی کی سرزنش ہوئی، نہ کسی کو گرفتار کیا گیا اور نہ ہی لگان،ٹیکس یا کسی اور قسم کا مطالبہ یا فوج میں بھرتی کا اعلان ہوا۔اُن کی سمجھ میں نہ آیا کہ یہ کس قسم کا انگریز تھا ا ور انگریز پولیس کا دورہ تھا۔

 

اُنھیں اسی حیرانی میں چھوڑ کر ولیم اور اس کا عملہ آگے بڑھ گیا۔ گاؤں میں کافی وقت صرف ہو گیاتھا اور اب گیارہ بج چکے تھے۔ جیپ کچی سڑک پر دوڑتی جا رہی تھی۔ اُس کے ٹائروں کی موٹی گُڈیاں گرد اُٹھا اُٹھا کر پیچھے آنے والی جیپوں پر پھینک رہی تھیں۔جن میں پولیس کے تھانیدار، سنتری اور دفتر کا دیسی عملہ آ رہا تھا۔ جیپ کی رفتار کے ساتھ ساتھ ولیم کا دماغ بھی دوڑ رہا تھا۔ اب اُسے محسوس ہونے لگا کہ اُس کے کاندھوں پر کِس قدر بھاری ذمہ داری تھی۔ پورے علاقے کی معا شی اور تعلیمی حالت انتہائی ناگفتہ بہ اور اُس پر لڑائی فساد اور ڈکیتی کے کئی واقعات، سینکڑوں مسائل تھے۔ خاص کر دیہاتی علاقوں کی کسمپرسی دل دہلا دینے والی تھی۔ کرنے کے بہت سے کام تھے اور وسائل کم۔لیکن اگر وہ ان سب کو نظر انداز کر کے سابقہ افسروں کی طرح دفتر میں بند ہو جائے تو سب کچھ خود بخود آسان تھا۔ یہ سوچ کر اُس نے جُھرجھری لی، یہ کیسے ہو سکتا ہے کیونکہ اب تو ہندوستان اُس کا اپنا ملک تھا۔ پچھلی چار نسلوں سے اُس کا خاندان اِسی کی مٹی سے اپنا رزق اٹھاتا رہا اور اب تو اُس کی رگوں میں دوڑنے والا خون یہیں کے پانی اور سبزے سے تیار ہوا تھا۔ اُسے لندن سے صرف اتنی ہمدردی تھی جتنی ڈیڑھ سو سال کے مہاجرین کی نسلوں کو اپنے سابقہ وطن سے ہو سکتی ہے۔ ولیم نے اپنی زندگی کے بیشتر سال لاہور کے مال روڈ اور منٹگمری کی نہروں کے کناروں پر دوڑتے ہوئے گزارے تھے۔ اُس نے سوچا اُس کا دادا یہیں پیدا ہوا، باپ نے یہیں پر جنم لیا اور وہ خود اسی مٹی سے پھوٹا۔اب کون ہے، جو اُسے کہے کہ ہندوستان اُس کا اپنا ملک نہیں ہے۔وہ ہر حالت میں یہیں رہے گا اور انہی لوگوں کے لیے کام کرے گا، چاہے کچھ بھی ہو جائے۔

 

جیپ کے مسلسل دوڑتے چلے جانے سے اُس کے خیالات میں بھی تسلسل پیدا ہو گیا۔ دل ہی دل میں بہت سے منصوبے بنانے لگا، تعلیم، زرعی سٹرکچر، سڑکیں،پُل،عدل و انصاف اور شہری آبادیوں کا قیام۔ انہی خیالی منصوبوں کے دوران وہ جلال آباد کی تحصیل کو ہرے بھرے کھیت، باغات، خوشحال گاؤں اور ان کے اندر جگہ جگہ تعلیمی مرکزوں کو دیکھنے لگا۔شاید وہ بنگلہ فاضل کے پہنچنے تک اسی رَو میں بہا جاتا مگر اچانک جیپ کے بریک لگے اور وہ ایک جھٹکے کے ساتھ چونک گیا۔

 

دلبیر سنکھ نے جیپ روکتے ہی چھلانگ لگائی۔ اُس کے ساتھ ہی ڈیوڈ اور جوزف بھی نیچے اُتر کر سڑک کے دائیں کونے پر لیٹے ہوئے سؤر کو دیکھنے لگے، جو اچانک مکئی کے کھیت سے نکل کر اور سرکنڈوں کی باڑ عبور کر کے سڑک پر آتے ہی جیپ سے ٹکرا گیا تھا اور اب مرنے کے لیے ہونک ہونک کر سانس لے رہا تھا۔ اتنے میں پچھلی دونوں جیپوں کے سوار بھی اُتر کر وہیں آ کھڑے ہوئے۔

 

سؤر کی ٹانگ کو ہلاتے ہوئے دلبیر سنگھ بولا، صاحب جی ذرا دیکھیں مِرگی پینا کیسے ادھوانے کی طرح پھولا ہوا ہے؟ گُلیاں کھا کھا کے چربی چڑھی ہوئی ہے۔ پورے دو من گوشت ہو گا۔
اتنے میں تحصیدار مالیکم بھی پاس جا کر کھڑا ہو گیا اور اُسے دیکھنے لگا۔ ڈیوڈ، جوزف، مالیکم سب جی ہی جی میں خوش ہونے لگے کہ غیب سے کیا عمدہ گوشت مفت ہاتھ آ گیا ہے۔ جوزف سنتریوں کو کچھ حکم دینے ہی لگا تھا کہ ولیم نے آگے بڑھ کر دلبیر کو مخاطب کیا، دلبیر! اسے اُٹھا کر اُدھر پھینک دو اور آگے بڑھو۔

 

ٍولیم کے اس حکم کو سن کر تمام سنتری اور انگریز آفیسر حیران رہ گئے۔ پھر اس سے پہلے کہ کوئی بولتا، ولیم نے غصے سے دلبیر کی طرف دیکھا جو تذبذب میں کھڑا دوسرے افسروں کی طرف دیکھ رہا تھا۔ ولیم کو اِس طرح اپنی طرف دیکھتے ہوئے دلبیر سنگھ مٹی اور گرد میں اَٹے اور ہونکتے ہوئے سؤر کو ٹانگوں سے پکڑ کر کھینچے لگا،جِسے دیکھ کر ایک سنتری اور آگے بڑھا اور اس کا ہاتھ بٹانے لگا۔ اتنا موٹا تازہ گوشت ہاتھوں سے نکلتے دیکھ کر مالیکم سے نہ رہا گیا۔ اُس نے آگے بڑھ کر ولیم سے کہا، سر آپ کیا کرتے ہیں؟یہ سؤر ہے،آپ اسے پھینک رہے ہیں۔ ہم اسے جیپ میں ڈال کر بنگلہ فاضلکا میں لے چلتے ہیں۔وہاں مزے سے رات کٹے گی۔
ولیم نے بے پروائی سے اپنی جیپ کی طرف مڑتے ہوئے کہا، لیکن مجھے اس کا گوشت پسند نہیں۔

 

تو سر آپ نہ کھائیں ہم کھا لیں گے،مالیکم نے زور دیتے ہوئے کہا،پھر دلبیر سنگھ کو مخاطب کرتے ہوئے” دلبیر اِسے پچھلی جیپ میں رکھ دو۔

 

اس سے پہلے کہ دلبیر سنگھ اور معاون سنتری مالیکم کا حکم مانتے، ولیم نے ڈانٹ کر دلبیر کو حکم دیا، دلبیر سنگھ میں نے کہا ہے اِسے پھینکو اور آکر جیپ میں بیٹھو (پھر مالیکم کی طرف منہ کر کے) مالیکم صاحب،میں جانتا ہوں،آپ لوگوں کو سؤر بہت پسند ہے لیکن آج تو بہرحال میں آپ کو یہ نہیں کھانے دوں گا۔ مجھے اس سے کراہت آتی ہے۔ جب اکیلے ہوں تو شوق سے کھایئے گا۔آپ جلدی سے جیپ میں بیٹھیں، میں آپ کو بنگلہ میں جا کر اپنی طرف سے بھیڑ کا گوشت کھلاؤں گا۔ فی الحال جلدی کریں،ہمیں بہت سے کام نپٹانے ہیں۔ ولیم کے اس دو ٹوک فیصلے پر مالیکم کو تھوڑی سی کوفت ضرور ہوئی مگر وہ پھر ہلکا سا مسکرا کر جیپ میں ولیم کے پہلو میں آ بیٹھا اور دلبیر سنگھ نے جیپ دوبارہ گیئرمیں ڈال کر اُسے سرپٹ دوڑانا شروع کر دیا۔

 

ولیم نہایت سنجیدگی سے بیٹھا ہوا ارد گرد کا جائزہ لیتے ہوئے مختلف منصوبوں پر غور بھی کر رہا تھا۔ ولیم کی اس قسم کی سنجیدگی کی وجہ سے مالیکم، جوزف اور ڈیوڈ نے اپنا رویہ نہایت محتاط کر لیا۔جیپیں چک پکھی کو کراس کر گئیں اور اب اُن کا رُخ فاضلکا میلوٹ روڈکی طرف تھا۔ مالیکم اب کی بار زیادہ گفتگو کرنے کی بجائے صرف مختلف جگہوں کے نام بتاتا گیا۔چک پکھی سے آگے کی ڈھاریاں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر آنے لگیں اور ولیم کو یہ دیکھ کر کچھ حوصلہ بھی ہوا کہ یہاں کے علاقے کافی حد تک سر سبز تھے۔ آتے جاتے راہگیر جو زیادہ تر گدھوں اور گَڈوں پر چارہ اور غلہ وغیرہ لادے چل رہے تھے، اُن کی حالت بھی کچھ بہتر تھی۔ سامی والا سے بناں والی اور وہاں سے عامی والا کو پیچھے چھوڑتی ہوئی جیپیں جیسے ہی شیخ سبحان میں داخل ہوئیں تو ولیم کو گاؤں کے مغربی کونے پر باغ کے کنارے بہت سے لوگوں کا مجمع نظر آیا۔ ولیم نے دلبیر سنگھ کو حکم دیا، دلبیر یہاں جیپ کو روک دو۔

 

اس گاؤں کا منظر ولیم کو انتہائی دلکش لگا۔ گاؤں بہت ہی چھوٹا تھا مگر سر سبز فصلوں اور درختوں سے گھرا ہوا تھا۔ دلبیر سنگھ نے جیسے ہی باغ کے پاس جا کر جیپ روکی، لوگوں کی توجہ فوراً جیپوں کی طرف ہو گئی۔ وہ سب حیرت سے انھیں دیکھنے لگے۔ ولیم کے ساتھ دوسرا تمام عملہ بھی جیپوں سے اُتر کر مجمعے کی طرف بڑھنے لگا۔ پولیس اور انگریزی اور دیسی افسروں کو اپنی طرف آتا دیکھ کر لوگ گھبرا گئے۔ وہ ڈر کر تتر بتر ہونے لگے اور بھاگ بھاگ کر چھپنے کا بندوبست کرنے لگے۔کچھ بھاگ کر باغ میں چلے گئے۔ باغ امرود اور مالٹے کے ملے جلے پودوں سے نہایت ہرا بھرا اور پھلوں سے لدا پھندا بہاریں دے رہا تھا۔ ساتھ ہی دو رہٹ چل رہے تھے جنھیں بیلوں کی جوڑیاں چلا رہی تھیں۔ بیلوں کے مسلسل دائرے میں گھومنے سے کاریز کی ٹینڈیں کنویں سے صاف اور شفاف پانی بھر بھر کر نالیوں میں انڈیلتی جاتیں، پھر یہ پانی چنے اور گندم کی فصلوں کے درمیان سے ہوتا ہوا باغ کی کیاریوں میں بچھا جاتا۔ ولیم یہ سارا منظر دیکھ کر ایک دفعہ تو پچھلی تمام کوفتیں بھول گیا۔ اُسے فروری کے سرد دنوں میں مشرقی پنجاب میں ایسی کسی جگہ کا تصور بھی نہیں تھا۔ وہ اس سارے منظر کو دیکھتا ہوا جب بھاگے ہوئے مجمعے میں سے اُن چند لوگوں کے قریب آیا جو یا تو بھاگنے سے معذور تھے یا اُنہیں کسی قسم کا ڈر نہیں تھا، تو اُس پر کھلا کہ دراصل کچھ لوگ بانک اور پلتھاکھیلنے میں مصروف تھے۔ باقی سب لوگ اُن کا تماشا دیکھ رہے تھے۔ مجمعے میں زیادہ تر سکھ اور مسلمان شامل تھے۔ ولیم کو دیکھ کر پلتھا بازوں نے کھیل رو ک دیا۔ انھیں ڈر ہوا شاید انگریز صاحب بہادر کو اُن کا یہ کھیل حکومت کے خلاف ایک سازش لگا ہے اور وہ یہاں چھاپا مارنے آیا ہے۔ انہوں نے جلدی سے اپنی ڈانگیں اور گتکے چھپادیے تھے۔ اُنھیں اس قدر گھبرایا دیکھ کر ولیم نے بیر داس سے کہا، بیر داس انھیں مطمئن کرو کہ ہم ان کا کھیل دیکھنے کے لیے رُکے ہیں۔وہ اپناکھیل جاری رکھیں، ہم انھیں انعام دیں گے۔

 

ولیم کا حکم پا کر بیر داس نے ایک سکھ سنتری کو اشارہ کیا۔ سنتری اشارہ پاتے ہی آگے بڑھا اور پکار کر بولا،بھائیو، صاحب سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ صاحب آپ کا کھیل دیکھنے کے لیے یہاں رُکے ہیں۔ہم بنگلہ فاضل کا جار ہے ہیں۔ تمہارے بانک اور پلتھا بازی کا کھیل دیکھنے اور کچھ دیر آرام کرنے کے لیے یہاں ٹھہریں گے، تم اپنا کھیل جاری رکھو۔ صاحب نے یہ بھی کہا ہے کہ جو بھی اچھے کھیل کا نظارادے گا، صاحب اُسے اپنے ہاتھ سے انعام بھی دیں گے۔

 

سنتری کا اعلان سُن کر لوگوں اور پلتھا بازوں کی ڈھارس بندھی۔وہ دوبارہ اکٹھا ہونے لگے،۔اس کے بعد دلبیر سنگھ نے کہا، مترو اپنے گھروں سے صاحب کے بیٹھنے کے لیے دوچار منجیاں لاؤ۔

 

کچھ ہی دیر میں ولیم اور دیگر عملہ چار پائیوں پر آرام سے بیٹھ گیا۔ بھاگتے ہوئے لوگ بھی واپس لوٹ آئے اور کھیل دوبارہ شروع ہو گیا۔دو دو سکھ اور مسلمان پلتھے باز جوان میدان میں آ کر اپنی پُھرتیاں دکھانے لگے۔ گتکوں اور ڈنڈوں کے کھڑاک، ٹھکا ٹھک ہونے لگے۔ دوسری طرف دلبیر سنگھ اور دوسرے سنتری کافی اور کھانے کا سامان جیپوں سے نکال کر ولیم اور افسروں کے لیے تیار کرنے لگے۔ پلتھے بازی کے اس کھیل میں ڈنڈوں کی کھڑاک اور اُن کے تیزی سے گھوم کر ایک دوسرے پر پینترے بدل بدل کر وار کرنے سے ولیم محظوظ ہونے کے ساتھ لرز بھی رہا تھا۔ کھیل انتہائی دلچسپ ہونے کے ساتھ خطرناک بھی تھا۔ ایک دوسرے پر لگائے جانے والے واروں کی کاریگری کے متعلق ولیم کسی قسم کا علم تو نہیں رکھتا تھا۔البتہ سکھوں کے ایک دم واہگرو اور مسلمانوں کے یا علی مدد کے نعروں سے اُسے یہ پتہ ضرور چل رہا تھا کہ اس جوڑ میں دراصل کِس کا پلہ بھاری رہا۔ لوگوں کا شور شرابہ اور جوش و خروش اس قدر تھا کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ جب ایک جوڑ کا مقابلہ ختم ہوتا تو دوسرا شروع ہو جاتا۔ ہر جوڑ کو لڑنے کے لیے دس فٹ اونچی لکڑی کے دو انچ سایہ ڈھلنے کا وقت دیا جاتا،جس میں وہ اپنے گتکے عجب عجب انداز کے مطابق ٹانگوں اور بازؤوں اور بغلوں کے اوپر نیچے سے نکال نکال کر چلاتے۔ ہر جوڑ کا مقابلہ ختم ہونے پر دو سکھ سردا ر اور دو مسلمان پلتھے کی سمجھ رکھنے والے اپنا فیصلہ کسی ایک کے حق میں سنا دیتے جس میں اختلاف بالکل پیدا نہ ہونے پاتا۔
ولیم، ڈیوڈ، جوزف، مالیکم یہ کھیل انتہائی دلچسپی سے دیکھ رہے تھے۔ لوگ جو بھاگ کر باغ یا گاؤں میں گُھس گئے تھے اب وہ بھی پلٹ کر آ چکے تھے۔ دلبیر سنگھ نے اسی دوران کھانا اور کافی وغیرہ ولیم اور دوسرے افسروں کے سامنے رکھ دیا۔ اُن کے لیے یہ ایک عمدہ پکنک بن گئی۔ ایک ڈیڑھ گھنٹے تک یہ کھیل جاری رہا۔ جس میں آٹھ جوڑوں کے مقابلے ہوئے۔ ان میں ایک مقابلہ برابر اور باقی سات میں چارسکھ جوان اور تین مسلمان جوانوں نے جیتے۔ کھیل کے اختتام پر ولیم نے اعلان کیا کہ وہ اس میں شریک تمام جوانوں کو ابھی نقد انعام دینا چاہتا ہے۔ جیتنے والے کو دس روپے اور ہارنے والے کو پانچ روپے اور جو برابر رہے اُنھیں بھی دس دس روپے۔ ولیم کے اس اعلان پر تمام لوگوں نے نعرے اور تالیاں بجانا شروع کر دیں۔ ہر طرف واہگرو اور یا علی مدد کا شور بلند ہونے لگا۔ ولیم حیران تھا کہ یہ دونوں شخص کون ہیں۔ انعام خود اُس نے دیا ہے۔ کھیل میں مختلف ناموں والے حصے لے رہے تھے اور نعرے یا تو واہگرو کے لگ رہے ہیں یا پھر علی مدد کے۔حالاں کہ یہ دونوں یہاں موجود نہیں۔ واہگرو کے بارے میں تو اُسے کچھ معلومات تھیں لیکن یا علی سے آشنائی پہلی بار ہو رہی تھی۔بہرحال کسی سے پوچھے بغیر ہی ولیم نے خیال کیا کہ یہ بزرگ بھی واہگرو کے مقابلے کا کوئی جواں مرد ہوگا۔ولیم نے انعام دینا شروع کیا تو اُس کے نقش قدم پر جوزف، ڈیوڈ، براہم اور مالیکم نے بھی اپنی لاج رکھنے کے لیے جیتنے والوں کو اپنی طرف سے پانچ پانچ روپے دینے کا اعلان کر دیا۔جس کی وجہ سے ایک دفعہ پھر بھرپور نعرہ بازی ہوئی۔ اب ایک دو نعرے انگریز سرکار زندہ باد کے بھی لگا دیے گئے۔جن کو سُن کر ولیم اور انگریز افسروں کو ایک گُونہ مسرت ہوئی مگر اپنے انگریزی وقار کے پیش نظر اُس کا اظہار نہ کرنا ہی بہترخیال کیا۔

 

ساڑھے چار بج چکے تھے اور بنگلہ فاضل کا کافی دور تھا۔ اس لیے یہ صلاح ٹھہری کہ آگے کا سفر مختصر کر کے جلدی سے “بنگلہ فاضل کا” پہنچا جائے۔لہٰذا بستی شیخ سبحان ہی سے دلبیر سنگھ نے جیپ کو دائیں ہاتھ موڑ کر اُس کا رُخ سیدھا بنگلے کی طرف کر دیا۔ جس کا مطلب تھا کہ روہی کے علاقے کا دورہ کل پر ملتوی کر دیا گیا ہے، جو بستی شیخ سبحان سے جنوب میں ریاست بہاول نگر تک اور مغرب میں راجستھان کے ساتھ جا کر ملا ہوا تھا۔ اب شام ہونے میں کچھ ہی دیر تھی اور امید تھی کہ چھ بجے تک وہ بنگلہ پہنچ جائیں گے۔ جہاں ریسٹ ہاؤس میں دن کی تھکن دور کر کے اگلے دن ہیڈ اور نہر کے معاملات کا جائزہ لیا جائے گا۔ اُس کے بعد اگلا فیصلہ کیا جائے گا کہ دورہ مختصر کرنا ہے یا علاقے میں مزید حالات کو دیکھنے کے لیے سیر کرنے کی ضرورت ہے۔البتہ ولیم کے خیال میں کسی علاقے کا دورہ اُس علاقے کی مشکلات پر قابو پانے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا تھا۔
Categories
فکشن

نعمت خانہ – چوتھی قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

میری یادداشت ایک معجزہ ہے۔ مجھے سب یاد ہے بس شرط یہ ہے کہ جو بھی میں نے دیکھا ہو، شاید بصری یادداشت اسی کو کہتے ہیں۔ حالانکہ کچھ ایسا بھی ہے جو مجھے یاد نہیں آتا یا اُسے میں لفظوں کاجامہ نہیں پہنا سکتا، مثلاً مجھے ایک تاریک دُنیا کا بھی احساس ہے جسے آپ عدم کہہ سکتے ہیں، اگرچہ میرا خیال ہے کہ عدم محض ایک واہمہ ہے۔

 

تو مجھے اِس واہمے کا بھی احساس ہے، تاریک دنیا کی پرچھائیاں، وہاں کی اشیا جو چاقو کی نوک پر لرزتی ہوئی اُن شکلوں کی طرح ہیں جو کبھی نظر نہیں آتیں۔ شاید اِس لیے کہ چاقو سے صرف سفید کاغذ پر لکیریں ڈالی گئی ہوں؟

 

اور وہاں کے کھانے، اُن کا کھٹا میٹھا اور تیکھا ذائقہ۔ اور اُن کھانوں کی خوشبو، میرے پیٹ کی آنتوں کو اُلجھن میں مبتلا کرتے ہیں جس کی وجہ سے میرے دماغ کے بائیں حصّے میں کچھ کشمکش کی سی صورت حال پیدا ہوجاتی ہے۔

 

میں کبھی کبھی تنگ آکر اس وبال سے چھٹکارہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہوں مگر میرا حافظہ، وہ میرا وفادار کتّا دبے پاﺅں میرے پیچھے پیچھے چلاآتا ہے۔
بچپن میں اکثر سڑکوں پر چلتے وقت مجھے لگتا تھا جیسے کوئی کتا میرے تعاقب میں ہے، اب جاکر میری سمجھ میں آیا کہ وہ میرا حافظہ تھا۔

 

خیر! اب تو بہت سی باتیں صاف ہو چکی ہیں مثلاً زندگی میں موت کی یاد اور موت میں زندگی کی یاد اس طرح گھلی ملی ہوئی ہیں جیسے بھونے جاتے ہوئے مرغ میں مسالہ۔

 

ویسے بھی زندگی اور موت میں کوئی فرق تو ہوتا نہیں ۔ موت کا چھینا ہوا زندگی میں حاصل ہوجاتا ہے اور موت کے اندھیرے میں کھوئی ہوئی تمام اشیا مل جاتی ہیں۔

 

اسی لیے اِس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ زندہ انسانوں کا خون مُردوں پر چھڑکتے ہیں یا مُردوں کا خون زندہ انسانوں پر۔ دونوں صورتوں میں نتیجہ ایک ہی برآمد ہوتا ہے، یعنی کچھ کھوکر پالینا یا کچھ پاکر کھو دینا۔

 

ریاضی کا ایک معمولی طالب علم بھی اس سے ایک مساوات بنا سکتا ہے۔ مگر اِس مساوات کو حل کرنا یا ثابت کرنا بڑا مشکل ہے۔ یہ ایک ایساعمل ہے جس سے میں لگاتار دوچار ہوں اور شیطان کی آنت کی طرح یہ مساوات پھیلتی اور لمبی ہوتی جا رہی ہے۔ اِس کی وجہ جہاں تک میں سمجھتا ہوں شاید یہ ہے کہ اس سفر میں انسان اپنی روح کے جغرافیے سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ کم از کم میرے ساتھ تو یہی ہوا۔ میں نے بچپن کی اپنی خاکی پتلون میں اپنی روح کے جغرافیے والا بوسیدہ کاغد سنبھال کر رکھ لیا تھا، مگر عمر کے نہ جانے کس پڑاﺅ پر اور پتہ نہیں کون سی بارش میں وہ گل سڑ گیا۔ میں نے اُسے گنوا دیا۔

 

اپنے اس بے رحم حافظے، زچ کرکے رکھ دینے کی حد تک اُس وفادار کتّے سے پیچھا چھڑانے کے لیے میں نے یہ ترکیب بھی سوچی کہ میں مڑ کر جلدی سے اِس کتّے کا پٹّہ پکڑ کر اُسے ناول کے کنویں میں دھکّہ دے دوں یعنی اپنی یادداشتوں کو میں ناول کے قالب میں ڈھال دوں اوراپنی جان چھڑاﺅں۔

 

میں اور ناول؟ یہ خیال کرکے مجھے ہنسی آتی ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ ایک ناول لکھوں۔ مگر میں ناول تو ناول ایک چھوٹی سی کہانی بھی نہیں گڑھ سکتا بلکہ میں ایک پیراگراف تک نہیں لکھ سکتا۔ اس کی ایک، بالکل سامنے کی وجہ تو یہ ہے کہ میرے اندر قابل رحم حد تک تخلیقیت کا فقدان ہے اور دوسری، شاید زیادہ اہم وجہ یہ ہے کہ بچپن سے ہی میری قواعد پوری طرح ٹھپ ہے۔ میں زمانوں میں فر ق نہیں کرسکتا۔ ماضی بعید اور ماضی قریب میرے لیے ایک ہی ہیں بلکہ زمانہ حال اور زمانہ ماضی تو مجھے احساس کی سطح پر ایک دوسرے کے جڑواں نظر آتے ہیں۔ یہی حال مستقبل کا ہے، زمانہ مستقبل مجھے گزرا ہوا زمانہ ہی نظر آتا ہے۔ بچپن میں امتحان میں قواعد کے پرچے میں بس رٹ رٹاکر کام چلا لیا کرتا تھا۔ اس لیے افسوس کہ میں تو صرف مقدموں کی اپیلیں اور عرض داشتیں وغیرہ ہی لکھ سکتا ہوں، اور وہاں بھی اکثر مجھ سے گڑبڑ ہوجاتی ہے، جسے میرا محرّر ٹھیک کر دیا کرتا ہے۔ اس سلسلے میں، میں اگر اتنا ناکارہ اور نااہل نہ ہوتا تو میں تو واقعی ناول لکھتا۔

 

میرا ناول ہی میرا گھر ہوتا۔
میرا گھر، میرا گھر۔
کیا آپ کو معلوم ہے کہ گھر کا سب سے خطرناک حصّہ کون سا ہوتا ہے؟

 

لہٰذا میرا المیہ یہ ہے کہ میں اپنے حافظے کے قدموں کی چاپ سے بھڑک بھڑک کر بھاگ رہا ہوں اور اُن لفظوں کے ساتھ جی رہا ہوں جو ابھی لکھے نہیں گئے۔ ان لفظوں کے شور میں اِس طرح لاپروائی سے ہاتھ پیر پھینک کر چل رہا ہوں جیسے بہرا ہوں۔ میں تو بس اپنی گزری، بھولی بسری یادوں کے اندھیروںمیں لڑکھڑا رہا ہوں۔

 

جائے سب کچھ جہنم میں جائے۔

 

میں لفظوں کی غلامی تو کرنے سے رہا، جس دنیا میں ہر انسان ایک خوفناک راز کی طرح دوسرے انسان کی زندگی پر چھایا ہوا ہو، اُس دنیا کے بارے میں، اور انسانوں کے بارے میں لکھنا ویسے بھی ایک کارِ عبث ہی ہوتا۔

 

ہاں مگر، انسان کی ماہیت کے بارے میں ایک بات کا مجھے بخوبی علم ہے یا احساس ہے، بلکہ میں اسے احساس کی سطح پر ہی رکھنا چاہتا ہوں کیونکہ احساس جیسے ہی علم بنتا ہے۔ لوگ علم کو اپنے دماغ پر اِس طرح باندھ لیتے ہیں جیسے سُوّر کو باڑے میں۔

 

اور وہ احساس یہ ہے کہ انسان اپنی آنتوں کے اندر رہتا ہے۔ انسان کے اعضائے پوشیدہ تو محض انسانوں کے ہونے کے امکان، اُن کی پرچھائیوں کے ٹھکانے ہیں۔
ذہنی اور روحانی طورپر آدمی اپنی آنتوں کے اندر ہی چھپا رہتا ہے۔ اپنی بدنیتی، اپنے چٹورپن اور اپنی بھوک کو، دوسرے کے منھ پر مارتا ہوا، ایک دوسرے کی بھوک کے ذلیل لال رنگ سے دوسرے کا منھ سنا ہوا، یہ خون کی ہولی ہے۔

 

خون؟

 

خون، جس کی بُو میرے بچپن کی جیومٹری کی کتاب میں بنے ایک ایک دائرے، ایک ایک مثلث میں اور ہراُس قضیے میں ایک خفیہ گناہ اور فاش غلطی کی مانند شامل ہے جسے میں کبھی حل نہ کر سکا۔

 

اور یہ بھی ایک خفیہ امر ہے کہ انسان کی آنتیں ہی اُس کا گھر ہےں۔

 

گھر؟؟

 

کیا آپ جانتے ہیں کہ گھر کا سب سے خطرناک مقام کون سا ہے؟

 

یاد رکھیے، ’باورچی خانہ‘ ایک خطرناک اور مخدوش جگہ کا نام ہے۔
Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – دسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(18)

 

سردار سودھا سنگھ سورج چڑھنے سے کافی دیر پہلے بیدار ہو گیا۔ پلنگ سے آہستہ سے اُٹھا اور رضائی آرام سے بینت کور کے اُوپر ڈال دی۔ اِس کے بعد اپنی پگڑی سر پر درست کی، کرپان باندھی اور منہ اندھیرے ہی حویلی سے باہر نکل آیا۔ باہر ڈیوڑھی میں رات کے جتنے پہرے دار تھے سب سو چکے تھے، البتہ چھدّو جاگ رہا تھا۔ وہ ہمیشہ رات کو سردار سودھا سنگھ کے اٹھتے ہی اپنی چارپائی پر جا پڑتا تھا۔اس لیے صبح اُس کی آنکھ جلدی کھُل جاتی۔ اُس نے اشنان تو مہینوں بعد کرناہوتا تھا اس لیے سردی میں صبح کے وقت آگ جلانے کے سوا اُسے کوئی کام نہ تھا۔آج بھی اُس نے صبح گوردوارے کا گھنٹہ بجنے سے پہلے ہی آگ جلا لی تھی۔ سردار کو ڈیوڑھی کی طرف آتے دیکھ کر چھدّو فوراً اُٹھ کر کھڑا ہو گیا اور پرنام کیا۔ سردار نے چھدّو کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا، چھدّو ڈیوڑھی کا دروازہ کھولو۔ چھدّو کو سردار سودھا سنگھ کے معمول کا پتہ تھا، اس لیے سودھا سنگھ کے بولنے سے پہلے ہی دروازے کی بلیاں اُٹھانے لگااور آہستہ آہستہ پانچوں بلیاں اُٹھا دیں۔ دروازے کو دھکیلنے کے لیے تختوں کے نیچے لکڑی کے چھوٹے پہیے لگے ہوئے تھے۔پھر بھی اِس پہاڑ جیسے دروازے کو دھکیل کر ایک طرف کرتے ہوئے چھدّو کو بہت زور لگانا پڑا۔دروازہ اتنا بڑا اور بھاری تھا کہ اُس سے دو دو ہاتھی ایک وقت میں گزرنے کی راہ تھی۔ کالی سیاہ ٹاہلی کی موٹی موٹی چگاٹھوں پر تین انچ کے موٹے اور چھ ضرب دس فٹ کے چوڑے اور لمبے تختے تھے، جن پر کلو کلو بھرکے بے شمار لوہے اور تانبے کے کیل کڑے جَڑے ہوئے تھے۔ تختوں کے علاوہ لوہے کا وزن ہی کوئی تین چار من کے قریب ہو گا۔ سردار سودھا سنگھ نے آگے بڑھ کر چھدّو کا اس معاملے میں ہاتھ بٹایااور دروازہ کھلنے کے ساتھ ہی سردار سودھا سنگھ باہر نکل گیا اورچھدو لنگڑاتا، ہانپتا دوبارہ آگ کے پاس آ بیٹھا۔

 

سردار سودھا سنگھ نے گوردوارہ پہنچ کر سنت سے کہا کہ اُسے اشنان کرائے۔ حوض کے کنارے کھڑے ہو کر کپڑے اتارنے لگا۔حوض کا پانی بہت ٹھنڈا تھا۔رات بھر پڑنے والے پوہ کے پالے اور ٹھنڈی ہوا سے پانی کے اُوپر برف کی کاغذی تہہ جم چکی تھی۔لیکن سردار سودھا سنگھ نے بچپن ہی سے کبھی گرم پانی اشنان کے لیے استعمال نہیں کیا تھا۔ اُس کے خیال میں پانی گرم کر کے نہانا زنانیوں کا کام تھا۔ اس طرح کے لچھن کرنے سے سردار وں کی مردانگی میں فرق آتا تھا۔ سودھا سنگھ کی کمر اور پورے جسم پر ریچھ کی طرح بالوں کے اتنے گچھے اُگے تھے کہ ماس کی ذرا بھی کرن نظر نہیں آتی تھی۔ ان کھردرے بالوں میں چھپے جسم کونہلانے کے لیے سنت نے لسی کی بھری ہوئی گاگر رات کو ہی منگوا لی تھی۔ یہ اُس کا معمول تھا۔ سودھا سنگھ کے جسم کے اوپرکھٹی لسی گرا کر،جو کم از کم چوبیس گھنٹے پُرانی ہوتی،وہ دونوں ہاتھوں سے جسم کو رگڑتا۔پھر ٹھنڈے پانی کے کٹورے بھر بھر کراُس کے اوپر ڈالتا تو جسم کے بال کالے شیشوں کی طرح چمک اُٹھتے اور ایسے لگتا پورے جسم پرچھوٹے چھوٹے باریک سانپ اُگ آئے ہوں۔

 

سر دار سودھا سنگھ نے اشنان کرنے کے بعد آرام سے کپڑے پہنے اور پوجا پاٹ میں مصروف ہو گیاحتیٰ کہ سورج چڑھنے کے آثار ظاہر ہونے لگے۔ اُس کے بعد وہ گوردوارہ سے نکل کر کھیتوں کی طرف چل دیا۔ کھیتوں کی لمبی سیر نے سردار سودھا سنگھ کی طبیعت میں جوانوں کی سی تازگی بھر دی۔ رات بھر اوس پڑتے رہنے سے ہر طرف پھیلی ہوئی فصلوں پر سبزے پر اور پگڈنڈیوں پرٹھنڈک ہی ٹھنڈک اور تریل جمع ہو چکی تھی۔ بہت سارے لوگ ادھر اُدھر اپنے ہل جوتے ہوئے بیلوں کو ہانک رہے تھے۔اِن صبح سویرے ہلوں میں جُتے ہوئے بیلوں کی بجتی ہوئی گھنٹیاں سردار سودھا سنگھ کو گوردوارے کے گھنٹے کی آواز سے کہیں زیادہ مسحور کن لگنے لگیں۔ دُور تک دیسی سرسوں کے پیلے پھول،برسن کا چارہ اور گندم کے کھیت جن پر ابھی خوشے یا سٹے نہیں نکلے تھے، یہ سب اور ان کے درمیان جا بجا بہتا ہوا، کھالوں اور رہٹ کاپانی شیشے پر لڑھکتے ہوئے شفاف پارے کی طرح تیر رہا تھا۔ سردار سودھا سنگھ کبھی کھیتوں کے درمیان پگڈنڈیوں اور کبھی کھال کے کناروں پر چلتا اور چھوٹے موٹے کھڈوں کو پھلانگتا ہوا آگے بڑھتا گیا۔ کبھی کبھی دور سے کوئی واہگرو یا ست سری اکال کا نعرہ بلند کرتا تو سردار صاحب ہاتھ ہلا کر یا اُسی طرح نعرے کے ساتھ اُس کا جواب دے کر بغیر ٹھہرے آگے چلتا گیا۔ اسی طرح سردار سودھا سنگھ، ٹاہلیوں، کیکروں اور شرینہہ کے درختوں کا طواف کرتا، کھیتوں کی اوس اور لمس لیتا سورج کے منہ دکھانے کے ساتھ ہی دوبارہ حویلی کی ڈیوڑھی کے بڑے دروازے پر آ کر کھڑا ہو گیا۔ ڈیوڑھی میں داخل ہوا تو سب نے اٹھ کر سردار صاحب کو پرنام کیا۔ سردار سودھا سنگھ تھوڑی دیر وہاں رُکا، دو ایک لوگوں کے ساتھ ہلکی پھلکی چہل کی پھر زنانے میں چلا گیا۔ اس سیرسے سردار صاحب کی بھوک کافی چمک گئی تھی کیونکہ وہ کم از کم دو میل چلا تھا۔

 

زنانے میں داخل ہوتے ہی سردار سودھا سنگھ نے بینت کور کو آواز دی جو گرنتھ پڑھنے میں مصروف تھی، او بنتے جلدی نال بھوجن دے دے۔ ہُن بُھکھ بڑی لگ گئی آ۔ جد ویکھو گرنتھ پڑھ دی رہندی آ، پتا نئیں گروجی نال کوئی مُک مکا کر لیا وا۔

 

بینت کور نے بیٹھے بیٹھے ہی اجیت کور سے کہا “پت اجیتے چھیتی نال اپنے پِتاجی نوں ناشتہ کروا، میں تھوڑا جہیا رہ گیا، پڑھ لاں۔ اونی دیر وچ کِتے تیرے پِتا جی دی جان نہ نکل جاوے۔

 

اجیت کور، جلدی سے اُٹھ کر ناشتہ تیار کرنے لگی۔اتنی دیر میں چھماں نے دُور تک پھیلے صحن کے ایک کونے میں جہاں دھوپ خوب نکل کر سفید ہو گئی تھی، چار پائی لگا دی،جس پر سردار سودھا سنگھ چوکڑی مار کر بیٹھ گیا۔ کرپان اتار کر اُس نے چارپائی کی ادوائین کی طرف رکھ دی۔ اس عرصے میں بینت کور بھی گرنتھ کو غلاف میں لپیٹ کر اونچے اورمحرابی نما طاق میں رکھ کر پاس آ بیٹھی۔ چند منٹوں میں اجیت کور نے ناشتہ تیار کر کے چھماں کو پکڑا دیا اور خود لسی جگ میں ڈالنے لگی۔ چھماں نے ناشتہ سردار سودھا سنگھ کر سامنے رکھ کر بڑا سا کپڑا اُس کے زانوؤں پر پھیلا دیا تاکہ کپڑے خراب نہ ہوں۔ اسی اثنا میں اجیت کور لسیً لے کر آگئی اورسامنے تپائی پر ناشتہ رکھ دیا گیا۔ دیسی سرسوں کا مکھن میں گُھلا ہوا ساگ اور مکھن میں تیرتے ہوئے پراٹھوں نے،جن سے گرم گرم بھاپ کے لمس اُٹھ رہے تھے،سودھا سنگھ کی مزید بھوک بڑھا دی۔

 

پہلے سردار سودھا سنگھ نے سیر بھر کا پیتل کا گلاس جسے نئی قلعی کرائی گئی تھی، بھر کر گٹا گٹ کر کے پیا۔ ہلکے نمک والی لسی نے سردارجی کے کئی مسام کھول دیے۔ اگر کسی نے سردیوں کی دھوپ میں بیٹھ کر صبح سویرے نمک والی لسی نہیں پی تو وہ نہیں جان سکتا کہ سردار سودھا سنگھ اِس وقت کتنی شرابوں سے مخمور تھا۔ لسی پینے کے بعد سردار صاحب نے ساگ کے ساتھ پراٹھے کا لقمہ لیا اور اُسے کھانے لگا۔ بینت کور سردار سودھا سنگھ کے تین سالہ بیٹے موہن سنگھ کو گود میں لے کر سامنے خموش بیٹھی تھی جبکہ چھماں جو گھر کی ملازمہ تھی،گھر کے بقیہ کام نمٹانے لگی اور اجیت کور نے چولہے پر رکھے دودھ کے نیچے پاتھیوں کی ہلکی آنچ رکھ دی۔ پاتھیوں کی ہلکی آنچ سے ایک تو دودھ برتن سے اُبل کر باہر نہیں گرتا دوسرا یہ کہ تھوڑی تھوڑی آگ کے دُھکنے سے دودھ خوب کڑھ بھی جاتاہے اور اُس پر موٹی با لائی آ جاتی ہے۔

 

سردار سودھا سنگھ نے ناشتہ کرتے ہوئے بینت کور کو دیکھا اور محسوس کیا کہ وہ کچھ پریشان نظر آ رہی تھی۔

 

خیر ہے بنتو کچھ کملائی لگتی ہو؟سودھا سنگھ نے بھاری مونچھوں اور گھنی داڑھی کے درمیان میں کہیں چُھپے ہوئے منہ کے دھانے کی طرف لُقمہ لیجاتے ہوئے پوچھا۔

 

بینت کور نے دھیمے سے، ہاں، میں سر ہلا دیا۔

 

پر ہوا کیا؟ کچھ تو پتا چلے “سردار سودھا سنگھ کھانے سے بغیر ہاتھ روکے بولا”

 

سردار جی مجھے تو ڈر لگ رہا ہے۔ آج کل بُرے بُرے سپنے دیکھتی ہوں، بینت کور نے سر اُٹھا کے آخر سردار جی کو اپنی پریشانی بتانے کی کوشش کی۔
“ پھر بینت کور مزیدآگے ہو کر بولی” کنتا، جودھاں، بلّو اور دوسری کُڑیاں سو سو طریقے کی باتیں کرتی ہیں۔

 

سودھا سنگھ لا پروائی کے ساتھ ایک اور لسی کا گلاس چڑھاتے ہوئے بولا،اسی لیے دن رات گرنتھ اور پاٹھ پوجا کے دوالے رہتی ہو۔وہ کیا باتیں کرتی ہیں کچھ تو پتا چلے بنتے؟

 

بینت کور سرگوشی کے سے انداز میں بولنے لگی، وہ کہتی تھیں غلام حیدر کی وائسرائے کے ساتھ رشتے داری ہو گئی ہے۔ اُس کی کُڑی کے ساتھ اِس منڈے کا یرانہ ہے۔ اندر خانے شادی بیاہ کے قصے بھی چل رہے ہیں۔ سودھے مجھے فکر ہے اگر یہ باتیں ٹھیک ہیں تو پھر بڑے سیاپے پڑ جان گے۔ واہگرو نہ کرے،اگر سردار جی وائسرائے نے غلام حیدر کو اپنی کُڑی دے دی تو پھر،،،؟ بس مجھے یہی پریشانی ہے کہ ہمارا سیدھا سیدھا فرنگیوں سے وَیر پڑ جائے گا۔ مَیں تو کہتی ہوں ان فرنگی عیسائی اور مُسلوں کا اندر سے دھرم بھی ایک ہی ہے۔ دونوں ہی اپنے مُردوں کو گڑھوں میں دباتے ہیں اور کوئی پیغمبروں شغمبروں کو مانتے ہیں۔ ان کو وَیر صرف سرداروں سے ہی ہے۔

 

سردار سودھا سنگھ نے ناشتہ کر کے ایک بڑا سا ڈکار لیا اور بینت کور کی بات سن کر ہلکا سا قہقہہ مارا،پھر مونچھوں سے لسی کی سفیدی صاف کرتے ہوئے بولا۔ بنتو! تُونے اتنی باتیں کہاں سے سیکھ لی ہیں؟ حوصلہ رکھ، یہ فرنگی کسی کے متر نہیں، جتنے سرداروں کے دشمن ہیں اتنے ہی مُسلوں کے بھی ہیں۔ پھر دشمنی تو مردوں کا گہنا ہوتی ہے، بنتو۔وَیر کے بغیر مرد ایسے ہی ہے جیسے اکھاڑوں میں ناچنے والا کُھسرا،جس کے سارے یار ہی یار ہوتے ہیں۔ غلام حیدر کل کا مُنڈا میراکچھ نہیں بگاڑ سکتا۔چاہے ملکہ کے ساتھ بیاہیا جائے۔ اس مُسلے کی دُم تو اب چکی کے پَڑ نیچے آئی ہے۔ کل تک اُس کو سُر لگ جائے گی۔ ایہہ نہیں جانتا سرداروں کی چھوَیوں میں لوہا دیگی ہوتا ہے۔ پتھر کے سینے میں لگے تو خون نکال دے۔یہ تو پھر ایک پڑھاکو چھوہرا ہے۔

 

پھر بھی سودھا سنگھ “بینت کور دوبارہ بولی” سُنا ہے اُس کے پاس ایک پکی ریفل بھی ہے۔ سردار جی تُوں احتیاط ہی کر۔ باہر نکلے تو چار بندے بھی ساتھ لے لیا کر۔ اکیلا ہی نہ سیراں کو نکل جایا کر،تجھ پر گرو جی کی رکھ ہو، مجھے تورات ہَول پڑتے رہے۔ جب آنکھ بند کرتی تھی،میرے منہ میں سواہ، تجھے ہتھ کڑیوں میں دیکھتی تھی۔ات نیند نہیں آئی۔ میری مان سودھا سنگھ، غلام حیدر سے صلح کر لے، یہ فرنگی بڑے بُرے ہیں۔ ظالموں میں ذرا ترس نئیں۔ بڑے سے بڑے سردار سے نہیں ڈرتے۔ سنا نہیں؟ رنجیت سنگھ کی نسلوں تک کو ہتھ کڑیاں اور بیڑیاں لگاکر لے گئے۔سودھے مجھے تو بڑا ڈرا لگتا ہے۔

 

دیکھ بنتو “سردار سودھا سنگھ غصے سے بولا” تم مردوں کے بکھیڑے میں نہ پڑا کرو۔ساری رات سوتی ہو۔سُفنے کدھر سے دیکھتی ہو۔ خراٹے مار مار کے میری نیند حرام کر دیتی ہو۔( کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد دوبارہ بولا) تمہاری مت رونے دھونے سے آگے نہیں بڑھتی۔ اب یا تو غلام حیدر رہے گا یا سردار سودھا سنگھ۔ تُو دیکھتی جا،مَیں نے ڈپٹی کمشنر سے سفارش کابندوبست کر لیا ہے۔ بس تُوں اپنے کام کر اور کسی زنانی کی باتوں پر غور نہ کر۔ یہ ہمارے کرنے کے کام ہیں، ہم بہتر کر لیں گے۔اتنا کہ کر سودھا سنگھ نے کرپان کمر سے باندھی اور پگڑی سر پر رکھ کر بیرونی حویلی میں آ گیا،جہاں بہت سارے سردار جمع ہو ئے بیٹھے تھے۔ سردار سودھا سنگھ کو آتے دیکھ کر سب اٹھ کر کھڑے ہو گئے۔سودھا سنگھ نے چار پائی پر بیٹھتے ہی جگبیر سنگھ کو بلایا۔ جب وہ پاس آ کر سامنے والی چار پائی پر بیٹھ گیا تو سردار نے کہا، جگبیراس سے پہلے کہ تھانیدار یہاں سنتری لے کر پہنچے، ہم اپنی اگلی گوٹی چل دیں۔کیا پورا بندوبست ہو گیا ہے؟

 

جگبیر نے کھنگھار کا گلہ صاف کیا اور بولا، سردار صاحب بس آپ کی اشیرواد چاہیے۔باقی تو ہر شے کی تیاری ہے۔ پیت سنگھ کو میں نے ساری بات سمجھا دی ہے۔ چھ گھوڑیاں تیار کھڑی ہیں شاہ پور کا مُلک لوٹنے کے لیے۔ آج شام گھنٹہ بجنے کے ساتھ ہی پیت سنگھ، پھجا سیؤ، ہرا سنگھ، دمّا سنگھ، چھندا سیؤ اور میں نکل جائیں گے۔ عبدل گجر کے چالیس بندے ہوں گے۔ واہگرو کی منشا ہوئی تو صبح چانن ہو جان گے۔

 

اس کے بعد سودھا سنگھ نے جگبیر کے کان کے پاس ہو کر ہَولے سے کہا، جگبیرے ایک آدھ بندہ ضرور پھڑک جانا چاہیے۔ کم سے کم عبدل گجر کی کَنڈ پر تین سو دو ضرور رکھ آنا۔ اس طرح معاملہ زیادہ گھمبیر ہو جائے گا اور غلام حیدر چوطرفہ نہیں لڑ سکے گا۔

 

سردار جی آپ چنتا رکھیں،بندہ ایک نہیں دو دو لمکیں گے،جگبیر نے شرارت آمیز ہنسی بکھیرتے ہوئے جواب دیا۔

 

آخری بات کسی کو بھی سنائی نہ دی۔ البتہ ہر ایک یہ ضرور جان گیاکہ سردار سودھا سنگھ نے پتے کی بات جگبیر سے آخر ہی میں کی ہے، جس پر جگبیر نے ہنستے ہوئے آنکھ بھی ماری تھی۔ اس کے بعد کافی دیر تک دوسری باتیں ہوتی رہیں، جن کا غلام حیدر کے معاملے سے کوئی تعلق نہ تھا۔یہاں تک کہ سورج چمک کر سامنے آگیا اور سب لوگ اپنے کام کاج کو نکل گئے۔ لوگوں کے جانے کے بعدحویلی دوبارہ چار چھ نوکروں کے علاوہ قریباً خالی ہو گئی اورسردار سودھا سنگھ بھی زنانے میں چلاگیا۔

 

(20)

 

عشا کی نماز پڑھنے کے بعد دس بارہ نمازی،جن میں اکثر بڈھے تھے، سب اپنے گھروں کو چلے گئے مگر مولوی کرامت وہیں بیٹھا رہا۔ اُس نے نہ تو کسی سے بات کی اور نہ ہی دعا مانگنے اور نماز پڑھانے میں طوالت اختیار کی تھی۔ وہ مسجد کی محراب میں بیٹھا اس طرح سوچ میں ڈوبا تھا جیسے صبح سب کچھ لٹنے والا ہو۔ اُس نے اسی مسجد کے احاطے میں ہوش سنبھالے تھے اور آج وہ پچپن کا ہو چکا تھا۔اُس نے وہیں اپنا پہلا سبق پڑھا تھا۔ اسی فرشِ خاک پر پیشانی رکھی تھی،تو یہی خاک اُس کے لیے خاک ِشفابن چکی تھی۔

 

مسجد نہایت چھوٹی، بوسیدہ اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی مگر مولوی کرامت کے لیے کعبۃاللہ سے کم نہیں تھی۔ اُسے مسجد کی ایک ایک شے سے محبت تھی۔یہی وجہ تھی کہ رات اِسی مسجد میں رہ گیا اور باہر جانے کو جی نہ چاہا۔ اُس کے لیے پُرانے طاقوں میں پڑے مٹی کے وہ چراغ جن میں اپنے ہاتھوں سے برس ہابرس تک تیل ڈال کر جلاتا رہا تھا۔ اُن کے اندر پڑے ہوئے روئی کے پھمبے، جوبیسیوں سال تیل اور آگ کے دھویں میں گُھل مل کر نہایت میلے کچیلے ہو گئے تھے۔ مسجد کی چھت کے برسوں پُرانے اور دھویں سے سیاہ ہوئے شہتیر اور آنکڑے، جن پر مکڑی کے سیاہ جالے لگے ہوئے تھے، دیواروں میں ٹیڑھے میڑھے طاق اور اُن میں بوسیدہ غلافوں میں لپٹے قرآن اور قاعدے سپارے، جن کی اپنی حالت بھی غلافوں سے کم نہیں تھی،۔کچے فرش پر بچھی کھجور کے پتوں کی چٹائیاں جو گھِس گھِس کر اتنی پرانی ہو چکی تھیں کہ اُن میں ملائمت اور چمک پیدا ہو گئی تھی۔اُن چٹائیوں کے دھاگے تو کب کے ریزہ ریزہ ہو چکے تھے مگر پتےٌ اپنی ترتیب میں فقط پیروں کے دباؤ کی وجہ سے ہی ایک دوسر ے کے ساتھ جُڑے رہ گئے تھے۔ ان کے علاوہ دیواروں میں جگہ جگہ تنگ روزن۔ اُن روزنوں اور روشندانوں میں بے شمار چڑیوں،فاختاؤں اورلقے کبوتروں کے گھونسلے اس طرح بنے تھے کہ اُن کی وجہ سے وہ بالکل بند ہو چکے تھے۔انہی روزنوں میں پھنسے پرندوں کے پر، تنکے،خس اور بِیٹوں نے سورج کی کرنوں اور ہواکا راستہ ایک عرصے سے روک رکھا تھا۔مسجد کی محراب جو ایک قسم سے مولوی کرامت کے جسم کا حصہ تھی۔اس چھوٹی سی چار فٹ چوڑی، پانچ فٹ لمبی اور آٹھ فٹ اونچی محر اب میں کئی چیزیں مثلاً لکڑی کا پرانا چار سیڑھیوں والا منبر،جس پر بیٹھ کر اُس کا دادا، باپ اور پھر وہ خود جمعہ کا خطبہ دیتے رہے یا کبھی کبھار وعظ کہتے رہے۔ جن میں چند بندھی ٹکی نصیحتوں کا اصرار تھا،جو گاؤں والوں کو کبھی کی ازبر ہو چکی تھیں، جیسے اُن کے دونوں ہاتھوں کی دس انگلیاں۔اُس منبر کا رنگ اب کوئی نہیں بتا سکتاتھاکہ جب وہ نیاتھا تو کیا ہو گا۔ محراب کے اندرکاندھوں کے برابر تین چھوٹی چھوٹی محرابیوں والے طاق اور اُن میں رکھے چراغ۔ جن کے جلانے کی ڈیوٹی بچپن سے اُس کی اپنی ہی رہی۔ اُس کے علاوہ مسجد کے صحن کے مشرقی کونے میں وہ چبوترہ جس پر کھڑے ہو کر پانچ وقت اذان دیتا تھا۔الماریوں میں پڑی لکڑی کی رحلیں، میلاد النبیؐ کے دن مسجد کی چھت اور صحن میں باندھی جانے والی رنگ برنگی کپڑے کی جھنڈیاں، رمضان کے مہینے میں روزہ افطاری کااعلان کرنے والا نقارہ، حتیٰ کہ صحن کے ایک کونے میں پڑی ہوئی مُردوں کو لاد کر لے جانے والی چارپائی، وہ ایک ایک چیز کو غور سے دیکھتا گیا اور اُسے بوسے دیتا گیا۔ غرض صحن سمیت اس تیس فٹ لمبی اور بیس فٹ چوڑی مسجد کی ایک ایک شے مولوی کرامت کے وجود کاحصہ بن چکی تھی، جسے اگر اُس کے بس میں ہوتا تو اٹھا کر جلال آباد لے جاتا۔ کئی دفعہ ذہن میں آیا کہ نہ جائے مگر پھر اُسے فضل دین کا خیال آ جاتاجو محض روٹیاں اکٹھی کرنے اور جھڑکیاں کھانے کے لیے پیدا ہوا تھا۔ اسی عالم میں اُسے صبح نے آ لیا۔

 

مسجد میں صبح کی نماز چھوڑ کر باقی چار وقتوں میں نمازیوں کی تعداد پندرہ بیس سے کبھی نہیں بڑھی تھی۔ صبح کے وقت چالیس پچاس فرد ہر صورت جمع ہو جاتے۔ یہ اصول اسی گاؤں کی مسجد کا نہیں تھا۔ پنجاب کے جتنے دیہات یا شہر ہیں، وہاں کے نمازیوں کی یہی حالت ہے۔ یہ لوگ صبح کی نماز کو عموماً ترجیح دیتے ہیں اور باقی کو اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں۔با لکل اُس نوکر کی طرح جس کا مالک اُسے کوئی کام بتا کر فوت ہو جائے اور وہ نوکر اُس کام کا ایک فی صد کر کے باقی اپنے مالک کے زندہ ہونے تک ملتوی کر دے۔صبح کی نماز پڑھنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اِن دیہاتی لوگوں کو ہمیشہ سے ہی رات کو جلد سو نے کی اور صبح جلد اُٹھنے کی عادت ہوتی ہے۔ چونکہ صبح کے وقت اٹھ کر کرنے کو کوئی اور کام نہیں ہوتااور نماز پڑھنے کے لیے ہاتھ منہ دھونا ضروری ہوتے ہیں۔ اس لیے صبح کی نماز گویا منہ ہاتھ دھونے کا بہانہ سمجھ لیں۔ اس کے علاوہ صبح کے وقت لوگ تازہ دم بھی ہوتے ہیں۔ بہرحال آج فجر کی نماز میں معمول کے مطابق گاؤں کے قریباً سبھی سر کردہ لوگ جمع تھے جن کی تعداد ساٹھ تک تھی۔

 

نماز ختم ہوئی تو مولوی کرامت نے نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ گڑگڑا کر دُعا کی اور اس کو اتنا لمبا کھینچا کہ نمازی فکر مند ہو گئے۔ ہر ایک شخص کا نام لے کر، اُن کی ضروریات کی تمام چیزیں صحت، دولت اورا یمان تک مولوی صاحب نے اللہ سے مانگیں۔ اس کے بعد نمازیوں کی طرف منہ کر کے رُندھی ہوئی آواز میں بولنا شروع کر دیا۔

 

گاؤں والو، خدا تم کو سلامت رکھے اور اس گاؤں پر کبھی کوئی مصیبت نہ آئے۔مجھے یہ کہتے ہوئے بہت دُکھ ہو رہاہے کہ میں آج یہاں سے ہجرت کر جاؤں گا۔ تم نے میری اور میرے باپ دادا کی بہت خدمت کی۔اس مٹی میں جنتا ہمارا رزق تھا،وہ ہم نے کھا لیا۔ اب آگے کا دانہ پانی اللہ نے کہیں اور لکھ دیا ہے۔اب دعاؤں کے ساتھ رخصت چاہتا ہوں۔

 

اتنا کہتے ہوئے مولوی کی آواز ایک دم بھرّا گئی۔ اُس سے آگے نہ بولا گیا اور ہچکی بندھ گئی َمولوی کو روتے دیکھ کر سب لوگوں کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے۔
سچ بات تو یہ تھی کہ آج تک مولوی کرامت کی کسی بھی شخص سے چپقلش نہ ہوئی تھی۔ سب کے گھروں میں آنا جانا کُھلا تھاَ ہر ایک کی ماں بہن کو مولوی کرامت نے اپنی ماں بہن سمجھا۔ کبھی نہ کسی شخص سے منہ بھر کے مانگااور نہ کم زیادہ ملنے پر بُڑبُڑ کی۔جو کسی نے دیا،رکھ لیا، نہ دیا تو خموش ہو گیا۔ گاؤں میں مولوی کی ایک انچ زمین نہ تھی َ۔گھر کا جو احاطہ رہنے کے لیے تھا وہ بھی چوہدری گلزار محمد نے دے رکھا تھا مگر مولوی کرامت گاؤں کی تمام زمین کو اپنی ملکیت ہی سمجھتا تھا۔ جس کھیت سے جی چاہا، ساگ اتار لائے۔ جہاں سے چاہا سبزی، مکئی کے بھٹے، گنا، لہسن، پیاز غرض ہر شے کسی کے بھی کھیت سے مولوی کرامت بغیر پوچھے کاٹ لاتے تھے۔ کسی نے آج تک منہ نہ پھٹکارا۔ کافی عرصہ پہلے ایک دو دفعہ مولوی کرامت کو شہر کی مسجدوں سے پیش امامت کی پیش کش بھی ہوئی۔مولوی صاحب نے انہی سہولیات کے باعث وہاں جانے سے انکار کر دیا تھا مگر اب کے معاملہ الٹ تھا۔ایک تو انگریزی سرکار کی نوکری، اُس پر رحمت بی بی کی دس ایکڑ زمین کی سنبھال۔ مولوی کرامت نے سوچا اُسے چاہے تنگی ہو جائے، مگر فضل دین کا مستقبل ضرور سنور جائے گا۔ اب چونکہ مولوی کرامت کی پیدائش اسی گاؤں کی مٹی کے خون سے ہوئی تھی اس لیے آج گاؤں چھوڑنے پر دل بھر آنا فطری عمل تھا۔

 

جب دن کافی چڑھ آیا اور کُہر نے آنکھوں کا راستہ چھوڑ دیا تو چوہدری گلزار، الہٰ بخش، دین محمد اور دوسرے کئی لوگ مولوی کرامت کو رخصت کرنے کے لیے اُس کے گھر کے سامنے جمع ہوگئے۔ آج شام چار بجے کی ریل سے مولوی کرامت نے جلال آباد کا ٹکٹ لینا تھا۔ اس لیے چار سے پہلے اُسے سامان لے کر ریلوے اسٹیشن پر پہنچنا تھا۔ سامان کیاتھا، دو لکڑی اور ایک لوہے کاصندوق،جن میں پرانے کپڑے، پانچ دس کتابیں اور گھر کے چھوٹے موٹے برتن۔ اس کے علاوہ تین عدد بستر جن میں پرانی رضائیاں اور چٹائیاں تھیں اور باقی اللہ اللہ۔

 

یہ سارا سامان ایک گَڈ پر باندھ دیا گیا جو حسین محمد کا تھا۔ اُس نے اپنے نوکر سے کہا، وہ مولوی صاحب کا سامان ریلوے اسٹیشن پر چھوڑ آئے۔ اُس کے علاوہ دو تین لڑکے مزیدجو کبھی مولوی کرامت کے شاگرد رہ چکے تھے، وہ بھی ریلوے سٹیشن تک جانے کے لیے ساتھ ہو گئے۔ ہر ایک نے اپنی استطاعت کے مطابق اُس کی کچھ نہ کچھ خدمت کی۔ کوئی مولوی کرامت، اُس کی بیوی اور فضل دین کے لیے کپڑے لے آیا۔ کسی نے پیسے دیے۔کسی نے کچھ اور تحفہ۔یوں مولوی کرامت کے پاس ڈیڑھ سو روپیہ اور کپڑوں کے کئی جوڑے جمع ہو گئے۔

 

مولوی کرامت تمام لوگوں کے ساتھ گلے مل مل کر رویا۔ شریفاں بی بی کے گرد عورتوں کا مجمع الگ تھا،جو اُسے بڑی گلوگیری سے دعائیں دے رہی تھیں۔ فضل دین نے آج نئے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ وہ اس سب کچھ سے بے نیاز نئی دنیا دیکھنے کے لیے بے تاب اور خوش خوش سفر کو آمادہ، جی ہی جی میں سوچ رہا تھا کہ وہ ایسی جگہ جا رہاہے جہاں دن کا رنگ ہرا ہرا ہوتا ہے اور راتوں کو جگمگ کرتے تارے کوٹھوں کی چھتوں پر آجاتے ہیں۔ اُسے یہ بھی پتا چل گیا تھا کہ اُس جگہ پر رنگ برنگ کی میٹھی میٹھی برفی، ٹانگر، جلیبی اور کرارے پکوڑے بھی بہت سستے مل جائیں گے۔ اس لیے اب وہ جی بھر کر جلیبی اور پکوڑے کھایا کرے گا،جو ڈیڑھ سال پہلے پیر نتھو شاہ کے میلے میں اُس کے والد مولوی کرامت نے اُسے لے کر دیے تھے۔وہ جلیبی کیسی مزیدار تھی۔ مگر روٹیاں مانگنے کے لیے کہاں جائے گا ؟اس اہم معاملے میں ابھی تک اُس کا دماغ کچھ کام نہیں کر سکا تھا۔ پتا نہیں وہاں کی روٹیاں گھی والی ہوں گی یا سوکھی،خیر جیسی بھی ہوں گی لیکن اب وہ کسی کا کام نہیں کرے گا۔ جلد ہی روٹیاں اکٹھی کر کے گھر بھاگ آیا کرے گا۔ آج اُس نے جوتے نئے پہننے تھے،اس لیے پاؤں خود بخود ادھر اُدھر اٹھ رہے تھے۔ ایسے لگ رہا تھا کہ ابھی ہوا میں اڑ جائے گا۔ان نئے جوتوں کی وجہ سے اُسے یہ بھی پتہ چل گیا تھا کہ وہ سب سے زیادہ تیز دوڑ سکتا ہے۔

 

مولوی کرامت، رحمت بی بی اور فضل دین گڈ پر بیٹھ گئے۔ جس پر اُن کاسامان لد چکاتھا۔ اپنی بکری اور چارپائیاں مولوی نے وہیں پر بیچ دیں کہ اُنھیں کون اُٹھائے اُٹھائے پھرتا۔آخر رمدو نے بیلوں کو ہانک لگادی اور دو بجے سہہ پہریہ قافلہ چک راڑے سے فیروز پور کی تحصیل جلال آباد کی طرف رخصت ہو گیا، جو کم از کم سو میل قصور سے دُور تھااور اب
“جا نی دھیے راوی۔۔۔۔۔نہ کوئی آوی نہ کوئی جاوی”
والا معاملہ تھا۔

 

(جاری ہے)
Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – نویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(16)

 

متھرا صاحب مجھے پانچ دن کے اندر سردار سودھا سنگھ کی گرفتاری چاہیے، ولیم اپنی ٹانگیں میز پر بچھا کراور کمر کو کرسی پر لٹا کر متھراداس سے مخاطب ہوا،کیا خیال ہے آپ کا یہ کام ممکن ہے؟ (پھر تھانیدار کی طرف منہ کر کے )کیا یہ بات مناسب تھی بیر سنگھ، جس شخص پر تم چھ دن پہلے تین سو دو کا پرچہ دے چکے ہو۔ اُس کی گرفتاری کے لیے تم چیونٹی بھر نہیں رینگے۔ اس کے لیے کیا میں لاہور سے تھانیدار بلواؤں؟

 

تھانیدار بیر سنگھ کانپتے ہوئے فائل آگے بڑھا کر بولا، سر یہ دیکھیں میں کارروائی کر رہا ہوں لیکن سودھا سنگھ کی گرفتاری تھوڑا سا مشکل کام ہے۔ مقابلے کا خطرہ ہے مگر میں اُسے نہیں چھوڑوں گا۔

 

کیا اس کے بارے میں تم نے ہمیں رپورٹ دی؟ ولیم کالہجہ انتہائی سخت ہو چکا تھا، یا تم سمجھتے ہو سودھا سنگھ کو گرفتار کرناآپ کے معدے کے لیے بُرا شگون ہے کیونکہ غلام حیدر نے تمھارے لیے کبھی دیسی شراب کے مٹکے نہیں بھجوائے حالانکہ تم اُس کے بہت زیادہ حق دار تھے اور سودھا سنگھ کا ایک آدمی اسی کام پر اُس کا تنخواہ دار ہے۔( پھر متھرا کی طرف مخاطب ہو کر) متھرا صاحب ایک بات طے ہے، مَیں یہاں صرف سکھ مسلمان کے جھکڑے چکانے نہیں آیا۔ مجھے اور بہت سے کام ہیں، اُنہی میں سے ایک یہ بھی ہو سکتا ہے۔ سود ھا سنگھ میرے لیے اور بہت سے مجرموں کی طرح ایک مجرم ہے اور بس۔ اگر آپ دونوں یہ کام نہیں کر سکتے تو گورنمنٹ کی طرف سے آپ کو اجازت ہے کچھ اور کام کیجئے۔ گورنمنٹ کوئی دوسرا آدمی حاصل کر لے گی۔

 

بیر سنگھ نے اپنی خاطر اس انداز سے ہوتے دیکھی تو لرز گیا اور کچھ دیر تک سر جھکاکر سوچنے کے بعد ہمت کر کے بولا “سر ہم گورنمنٹ کی بے عزتی نہیں ہونے دیں گے۔ سودھا سنگھ کو اس کی حویلی میں گرفتار کر کے لاؤں گا۔ آپ با لکل فکر نہ کریں۔میں نے سب تحقیق اچھی طرح کر لی ہے۔ وہ اس معاملے میں صاف مجرم ہے۔جما سنگھ نے مجھے مخبری کر کے سب کچھ بتا دیا ہے۔

 

یہ جما سنگھ کون ہے؟ ولیم نے اب کہ کرسی سے اُٹھتے ہوئے پوچھا اور اپنی بیت ٹھوڑی کے نیچے ٹکاکر اُسے میز کا سہارا دے کر کھڑا ہو گیا۔ اب ولیم کے لہجے میں فوراً نرمی آگئی۔وہ جانتا تھا گھی کو تھوڑا سا گرم کیا ہے تو اُس نے برتن کی سطح چھوڑ دی تھی۔اس لیے ولیم نے تھانیدار کے ساتھ شفقت کا سا انداز اپنا لیا تھا، ہمیں یقین ہے بیر سنگھ آپ نے کوئی بہتر تدبیر سوچی ہو گی لیکن جلدی۔

 

ولیم کو نرم پڑتے دیکھ کر تھانیدار کو مزید بولنے کی ہمت ہوئی۔ سر یہ جما سنگھ سردار فوجا سیؤ کا بھتیجا ہے۔ دونوں جھنڈو والا میں ہی رہتے ہیں۔ فوجا سیؤ سردار سودھا سنگھ کے دن رات کا یا ر ہے۔ حملہ کرنے سے پہلے اُس سے بھی مشورہ لیا گیا تھا اور فوجا سیؤ نے اُسے اس کام سے روکا تھا۔ مگر پیت سنگھ اور جگبیر نے اُسے حملہ کرنے پر اُکسایا اور سر، جب آپ جھنڈو والا گئے تھے۔ آپ کے بعد وہاں فوجا سیؤ اور جگبیر کی منہ ماری ہوئی تھی۔ اُنھوں نے فوجا سیؤ کو بے عزت کر کے حویلی سے نکال دیا۔اِسی بے عزتی کا بدلہ لینے کے لیے اُس کے بھتیجے نے مخبری کر دی۔

 

تو کیا جما سنگھ کو فوجا سیؤ نے آپ کے پاس بھیجا؟ولیم نے مزید ٹٹولتے ہوئے پوچھا۔

 

ناں سر، وہ تو یہ کہہ رہا تھا اِس بات کی خبر چاچے فوجے کو بالکل نہ ہو کہ مَیں نے آپ کو بتایا ہے، تھانیدار نے اب سر آگے کر کے سرگوشی کے انداز میں کہنے کی کوشش کی جیسے کوئی سُن رہا ہو، اُس نے بتایاہے اِن کے اور بھی بہت خطرناک ارادے ہیں۔ اگر سودھا سنگھ کو جلد نہ پکڑا گیا تو وہ غلام حیدر کو برباد کر دے گا۔ اُسے شیر حیدر پر بڑا وَٹ ہے سرکار۔وہ غلام حیدر سے اُس سب کاحساب چُکانا چاہتا ہے جو شیر حیدر سے اُسے ماتیں ہوئی ہیں۔
ہوں! ولیم دوبارہ کرسی پر بیٹھ کر سوچنے لگا۔

 

ولیم تھانیدار کی معلومات سے متاثر ہوا۔ تھانیدار یہ سب کچھ کبھی نہ اُگلتا اگر ولیم اُس کے ساتھ سخت رویہ اختیار نہ کرتا۔ اُسے تو سردار سودھا سنگھ کی خوشی منظور تھی اور اُس نے جما سنگھ کے بارے میں سودھا سنگھ کو مطلع بھی کرنا تھا۔مگر جما سنگھ کی خوش بختی کہ ولیم نے تھانیدار کو دفتر میں جلد طلب کر کے اُس کی ساری خواہش پر پانی پھیر دیا۔

 

ولیم نے کچھ دیر خموشی کے بعد متھرا اور تھانیدار دونوں کو مخاطب کر کے کہا، آپ دونوں کیس کو فوراً ہینڈل کرو۔ مَیں آپ کو سودھا سنگھ کی گرفتاری کے لیے پانچ دن دیتا ہوں۔ اس سے زیادہ میرے پاس وقت نہیں۔ اب آپ جائیں اور دیکھو اگر جما سنگھ کی خبر باہر نکلی تو اُس کے ذمہ دار آپ دونوں ہوں گے۔ گورنمنٹ کا مخبر اُس کی آنکھ ہوتا ہے اور اپنی آنکھ کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔

 

متھرا اور تھانیدار سلام کر کے باہر نکلے تو ولیم کچھ دیر تک کرسی پر سر ٹکائے بیٹھا رہا۔ دس پندرہ منٹ بیٹھنے کے بعد کرسی سے اٹھا، سر پر ہیٹ رکھا اور کمرے سے باہر نکل آیا۔ ولیم کو کمرے سے نکلتے ہوئے افسروں اور کلرکوں نے دیکھا تو سب مؤدب ہو گئے۔ نجیب شاہ بھاگ کر ولیم کے پہلو میں جا کر کھڑا ہو گیا۔ ولیم اُسی خاموشی اور بغیر تأثر کے دفتر کی عمارت سے نکل کر سامنے والے گراؤنڈ میں کھڑا ہو گیا اور پوری عمارت کا بغور جائزہ لینے لگا۔ عمارت سُرخ اینٹوں سے تیار کی گئی تھی، جس کے چاروں طرف پچیس فٹ کھلے دالان در دالان برآمدے تھے۔ برآمدوں کے ستون آٹھ پہلو میں انتہائی صفائی اور کاریگری سے تیار کیے گئے تھے اور اُن کی چھتیں پچیس فٹ اونچی تھیں۔ برآمدوں سے آگے اور کمروں کے سامنے زمین سے تین فٹ اونچی چوکی چلنے کے لیے بنائی گئی۔اسی طرح وہ چوکی برآمدوں سے باہر کی سمت بھی موجود تھی،جو چھوٹی سُرخ اینٹوں ہی کی بنی ہوئی تھی مگر پتھر کی چوکی سے کہیں خوبصورت تھی۔ برآمدوں سے آگے چوکی کے سا تھ ہی دفتر کے کمرے شروع ہو جاتے تھے، جن میں تحصیدار، نائب تحصیلدار، محکمہ مال اور کچہری انتظامیہ کے کمرے تفصیل وار کوئی سو کے قریب ہوں گے۔ آفیسرز کے کمرے قدرے بڑے اور کھلے تھے جبکہ کلرکوں کے کمرے انتہائی تنگ لیکن چھتوں کی اونچائی سب کی ایک جیسی تھی۔ گرمی کے دن اونچی چھتوں کے کمروں میں آسان گزر جاتے ہیں۔ اس عمارت کو اگر غور سے دیکھیں تو باہر سے انتہائی خوبصورت لیکن اندر سے بدنما تھی۔آفیسرز کے کمروں کے سوا ہر کمرہ کاغذوں کے بوسیدہ پلندوں، میل جمی ہوئی فائلوں اور گرد و غبار سے اٹی ہوئی میز کرسیوں کا عجائب خانہ تھا۔ ولیم نے آتے ہی ایک آدھ دفعہ کلرکوں کے کمروں کا جائزہ لے لیا تھا۔ جس میں اُسے شدید ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑا۔ ہر کلرک کی میز جگہ جگہ سے چھدی ہوئی تھی۔ غالباً جو نیا کلرک آتا وہ سب سے پہلے اپنا نام اُس پر کندہ کرنے کی کوشش کرتا۔ ہر میز کی دراز گھی اور تیل سے لتھڑی ہوئی تھی کہ گھروں سے لائے ہوئے کھانے رکھنے کی یہ درازیں بہترین مصرف تھیں۔ گویا میز کی ہر دراز میں میل کچیل اور بدبو کی ایک دنیا آباد تھی۔ اِسی طرح ہر میز یا کرسی پر جا بجا کیلوں اور لوہے کی پتریوں کی ٹھونکا ٹھانکی ہوئی تھی۔ دراصل کسی بھی کلرک نے اس طرف کبھی توجہ نہ دی کہ پرانی کرسی یا میز کو بدل لیا جائے بلکہ وہ خود ہی اُن کی مرمت کرتے رہتے تھے۔

 

اِس سلسلے میں ہتھوڑیاں اور کیلیں جا بجا کمروں سے برآمد ہو سکتی تھیں۔ نئی چیز منگوانے کے لیے چونکہ درخواست دینا پڑتی، یا پھر لمبے چوڑے نوٹ لکھنا ہوتے، جو اگرچہ کرسیوں کی خود ساختہ مرمت سے کہیں آسان تھے مگر وہ کام مشکل ہی تصور کیے جاتے کہ جب تک درخواست اُوپر سے ہو کر واپس محکمہ خزانہ تک آتی، کلرک کا تبادلہ ہو چکا ہوتا۔ اس لیے کوئی بھی یہ ذمہ داری قبول نہ کرتا اور اُسی فرنیچیر پر وقت کاٹ لیتا۔ ولیم نے چلتے چلتے پوری عمارت کا چکر کاٹ لیا۔ چہل قدمی کے دوران قریب قریب تمام آفیسر ولیم کے جلو میں شامل ہو چکے تھے۔ عمارت کو چاروں طرف سے دیکھنے کے بعد ولیم ایک بڑے صحن میں کھڑا ہو گیا۔جس میں سڑی گھاس اور گھاس کے ارد گرد کیاریوں میں گیندے کے سوکھے ہوئے پودے کھڑے تھے۔ کچھ دیر یہاں رکنے کے بعد اُس نے ادھر اُدھر عمارت سے ذرا ہٹ کر چہل قدمی شروع کر دی، جہاں چھوٹے چھوٹے قطعات میں کہیں ٹماٹر اور کہیں پیاز یا لہسن کاشت کیا گیا تھا۔ اکثر جگہیں خالی تھیں، جن میں بے کار جڑی بوٹیاں اور جھاڑ جھنکاڑ تھا۔ جن جگہوں پر سبزیاں تھیں، اُنھیں بھی زیادہ توجہ نہیں دی گئی تھی۔ دراصل یہ سبزیاں افسروں کی بیگمات نے دفتر میں کام کرنے والے اُن چپڑاسیوں کی کام چوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، لگوائی تھیں، جنھیں دفتر کا کام بار محسوس ہوتا لیکن افسروں کے بچے کھیلانا اور اُن کی بیگمات کا کام کرنا ان لوگوں کے دائیں بائیں ہاتھ کے کام تھے۔

 

درخت نہ ہونے کے برابر تھے۔ البتہ جڑی بوٹیوں اور عک کے پودوں کی بہتات سے دفتر کی ویرانی کا ازالہ بہت حد ہو چکا تھا، جو ولیم کی طبیعت پر اچھا اثر نہیں ڈال رہا تھا۔

 

یہ چہل قدمی ایک گھنٹہ تک جاری رہی۔ جس میں ولیم کے ماتحت افسروں نے اپنی خوشی اور نوکری کے جبر کے باعث حصہ لیا۔ ایک جگہ جہاں رہٹ چل رہا تھا،ولیم رُک گیا اور تمام افسروں کی طرف مخاطب ہو کر بولا،مسٹرز میرا خیال ہے، جو کچھ میں دیکھ اور سوچ رہا ہوں آپ اُس سے بے خبر ہیں۔ میں یہاں کام کرنے آیا ہوں۔ گورنمنٹ کے لیے، لوگوں کے لیے اور آپ کے لیے۔ آپ سب گورنمنٹ کے اِس لیے ملازم ہیں کہ احکام پر عمل کرانے میں میرے معاون ہوں۔ (پھر کچھ دیر رُک کر اور بیت کو بائیں ہتھیلی پر مار کر) کیا آپ اس علاقے کو د یکھ رہے ہیں؟ دُور تک ویرانی اور بیزاری نظر آ رہی ہے۔ ایسی صورت میں اگر ہم کام نہ کریں تو ہمارا یہاں کیا جواز بنتاہے ؟مجھے افسوس ہوتا ہے کہ یہاں کے لوگوں کو کاشت کاری سے کوئی دلچسپی نہیں۔ (نائب تحصیلدار مدن لعل کی طرف منہ کر کے) مدن لعل کل صبح نو بجے نہر کے عملے کی میٹنگ بلواؤ اور کچھ سرکردہ زمینداروں کو بھی جمع کرو۔ میں جلال آباد میں لہلہاتے کھیت اور باغات دیکھنا چاہتا ہوں( نجیب شاہ کی طرف دیکھ کر )تحصیل کمپلیکس میں ایک دو رہٹ لگوانے کا بندوبست کرو۔ ہم یہاں چوہوں سے مورچے کھدوانے نہیں آئے۔ مجھے ایسی جگہوں سے وحشت ہوتی ہے، جہاں رات کتوں اور گیدڑوں کے لشکر چوکیاں بھریں۔

 

ولیم کاحکم ملتے ہی ہر ایک نے اپنی نوٹ بکوں پر پُھرتی سے اندراجات شروع کر دیے۔

 

(17)

 

دو بگھیاں اور دس گھوڑے شیخ نجم علی کی کوٹھی کے سامنے رکے تو ادھر اُدھر کے راہگیر حیرت سے دیکھنے لگے۔ اُن کی نظر میں کوئی بہت بڑا رئیس آیا تھا۔ بعض لوگ اپنی دکانوں سے نکل کر بازار میں کھڑے ہو گئے مگر غلام حیدر نے کسی کی طرف توجہ نہ دی، بگھی سے اُتر کر سیدھا دروازے کی زنجیر ہلا دی۔ رفیق پاولی اور دوسرے سب آدمی بھی اپنی سواریوں سے نیچے اُتر آئے۔ رفیق پاولی “علی منزل” کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔کوٹھی کی لمبائی سو میٹر تک پھیلی ہوئی تھی۔جس کے نیچے کپڑے، پرچون اور لوہے والوں کی بیسیوں دکانیں قطار میں دور تک نظر آ رہی تھیں۔کوٹھی انڈے سے زیادہ سفید تھی اور تین منزلوں پر مشتمل اتنی اونچی کہ اُوپر تک دیکھنے کے لیے اُسے اپنی پگڑی سنبھالنا پڑی۔ مرکزی دروازہ مغلیہ قلعے کا ہاتھی گیٹ معلوم ہوتا تھا۔ بیضہ گیر اُوپر نیچے لمبی اور چوڑی ڈاٹوں سے کم از کم تیس فٹ تک چڑھا یا ہوا۔ جس کے اُوپر دونوں سروں پر دو ببر شیرمنہ کھولے دھاڑ رہے تھے۔ شیر سیمنٹ اور چونے کے ہونے کے باوجود اِن کے بنانے میں ایسی کاریگری دکھائی گئی تھی کہ یہ بالکل اصلی لگتے۔ اِس کے علاوہ نیچے سے لے کر اُوپر کی دو منزلوں تک دیواروں میں بے شمار محرابیاں اور ڈاٹیں مزید تھیں۔اِن ڈاٹوں پر اُوپر تلے کئی طاق تھے،جن پر اس قدر نفاست سے کام کیا گیا تھا کہ ایک ایک طاق مہینوں کی محنت کا نتیجہ نظر آ رہا تھا۔ ان تین تین ڈاٹوں کے اندر کہیں محض سجاوٹ کے لیے جالیاں تھیں اور کہیں بیچ بیچ دیو دار کی لکڑی کی لا تعداد کھڑکیاں کھلتی تھیں۔ انھی کھڑکیوں، جالیوں اور الماریوں سے ہوا اور روشنی کوٹھی کے اندر جاتی۔ اس کے علاوہ پوری کوٹھی اُوپر سے لے کر پاؤں کی اینٹوں تک سفید چونے اور ابرق میں نہلا دی گئی کہ دیکھنے والے کی آنکھیں سفید روشنی میں بہہ جاتیں۔ یوں تو غلام حیدر کی حویلی بھی کم نہ تھی مگررفیق پاولی نے سوچا کہ جتنی عمدہ اور شاندار یہ کوٹھی ہے اورجتنا کرایہ شیخ صاحب کو اس ایک ایکڑ سے ماہانہ آ جاتا ہو گاِ اتنی تو شیرحیدر کے دو گاؤں کی آمدنی بھی مشکل سے تھی۔

 

انہی خیالوں میں گم اُسے پتہ ہی نہ چلا کب وہ سب ایک بڑے ہال نما کمرے میں نرم نرم چوڑی اور لمبی کرسیوں پر بیٹھ چکے تھے۔بڑی بڑی لالٹینیں اور کانچ کے بھاری فانوس اونچی سفید چھت سے لٹکے ہوئے تھے۔ قدموں کے نیچے فرش پر بھی بڑی صاف اور لال رنگ کے پھول بوٹوں والی نرم دریاں بچھی تھیں۔ جن کے اندر آدھا پاؤں گھُس جاتا۔ رفیق پاولی کوٹھی اور کمرے کی ہیبت میں ہی گم تھا۔ سوچ رہا تھا کہ غلام حیدر کا دوست بھی کتنے بڑے باپ کا بیٹا ہے۔ سچ ہے بڑے پانیوں میں بڑی مچھلیاں۔ اس سے پہلے اُس کی اتنے بڑے لوگوں سے نہ تو ملاقات ہوئی تھی اور نہ ہی ایسے اچھے گھر دیکھے تھے۔شیر حیدر کے تو جتنے دوست یار تھے، وہ صرف گاؤں اور دیہاتوں میں رہنے والے زمیندار تھے۔ اُن کے گھر وں سے تو شیر حیدر کی حویلی کئی درجے بہتر تھی۔ اُس نے سوچا واپس جا کر وہ غلام حیدر سے بھی ایک اِسی طرح کا بڑا سا کمرہ حویلی کے بیرونی احاطے میں بنوائے گا۔ غلام حیدر کے بڑے بڑے دوستوں کو بٹھانے کے لیے ڈھنگ کی جگہ تو ہونی چاہیے۔ اب چاہے اس پر ایک گاؤں کی سال بھر کی آمدنی ہی کیوں نہ لگ جائے،وہ ایسا کمرہ تو غلام حیدر سے بنوا کر رہے گا۔انہی سوچوں میں اُسے بالکل نہیں اندازہ تھا کون آ رہا ہے اور کون جا رہا ہے۔ اچانک غلام حیدر نے رفیق پاولی سے مخاطب ہو کر کہا، چاچارفیق یہ میرا دوست نجم علی ہے۔ غلام حیدر کی آواز سن کر رفیق پاولی خیالات سے چونکا۔ اُس نے نظریں اُوپر اُٹھا کر دیکھا تو نجم علی اُس کی طرف ہاتھ بڑھائے کھڑا تھا۔ بالکل غلام حیدر کی دوستی کے ہی قابل تھا۔ نجم علی کو دیکھ کر رفیق پاولی تو خیالات کی دنیا سے باہر نکل آیا مگر دوسرے لوگوں کی توجہ ڈرائنگ روم یا بڑے کمرے ہی پر مرکوز رہی۔
نجم نے سب کے ساتھ سلام دعا کے بعد ملازم سے کہا، صاحب کے بندوں کے لیے کھانا پانی کابندوبست کرواور(ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے) یہ نہانے دھونے کا کمرہ ہے،سب منہ ہاتھ دھو لو۔ ان سے فارغ ہو کر نجم علی غلام حیدر کو دوسرے کمرے میں لے گیا اور بیٹھتے ہوئے بولا،خیر ہے غلام حیدر،لاہور سے کب آئے ؟ آج فوجاں کس طرف چڑھی ہیں۔یہ چھوَیاں، ریفلاں؟ کوئی مسئلہ ہو گیا کیا؟

 

غلام حیدر نے مدھم آوازمیں سر اُوپر اٹھاتے ہوئے کہا “ نجمے یاراب تو شائد لاہور مکمل طور پر چھوڑنا پڑ جائے، ابا فوت ہوگیا۔

 

اِنَّ للہ، کب؟ نجم علی نے حیرت سے پوچھا۔

 

آج چھٹا دن ہے۔لیکن اس کے ساتھ ہی ستم یہ ہوا کہ علاقے میں دشمنی مزید پیدا ہو گئی۔ دشمنوں نے میرا ایک بندہ مار دیا، بیس ایکڑ مونگی کی فصل تباہ کر دی، کچھ لے گئے، باقی جلا گئے۔

 

لاحول ولا،َ یہ کس وقت ہوا ؟ نجم علی ہونق سا ہو گیا۔

 

ابا کے قل والی رات، غلام حیدر سیدھا بولتا چلا گیا، سردار سودھا سنگھ ابا کا بڑاواہیات دشمن ہے۔ منڈی گرو ہر سا کے پاس ہمارے گاؤں جودھا پور کے قریب ہی اُس کا گاؤں ہے،جھنڈو والا نام سے۔ ابا سے کئی دفعہ منہ کی کھا چکا تھا۔ اب وہ فوت ہوئے تو اُس نے عین پھوڑے پر ضرب ماری ہے۔ میں تو تعزیت کرنے آئے مہمانوں اور ختم درود میں اُلجھا ہو اتھااور خیال تک نہیں تھا کہ کوئی اس طرح کی حرکت بھی کرے گا مگر اُس نے اپنا کام دکھا دیا۔فصل بر باد کرنے کے ساتھ ساتھ میرا ایک بندہ بھی مار دیا۔

 

پھر اب کیا ارادہ ہے؟ نجم علی نے پوچھا، پرچہ درج کرایا؟

 

پرچہ تو درج کروا دیاہے۔ غلام حیدر نے بتانا شروع کیا، پر نجمے لگتا ہے،سودھا سنگھ کے ہاتھ لمبے ہیں۔ تھانیدار سے لے کر اُوپر تک سب اُسی کے کنویں سے پانی پیتے ہیں۔ ابا کیا فوت ہوا، سب نے نظریں پھیر لیں۔ اب تو خبریں ہیں کہ چوہے بھی شراب کے مٹکوں سے نکل نکل کر سامنے آ رہے ہیں۔
تھانیدار سے بات کی،نجم نے پوچھا۔

 

تھانیدار چھوڑ،اسسٹنٹ کمشنر تک سے بات کی مگروہ اپنی اکڑ میں ہے۔ نیا نیا پہلی دفعہ ہماری تحصیل میں ہی آ لگاہے، یہیں تجربہ سیکھنے کے لیے۔ مجھے لگتا ہے وہ کچھ نہیں سیکھے گا۔ اُس کے سیکرٹری نجیب شاہ نے بتایا ہے کہ اُسے باغوں اور فصلوں کی بیماری ہے۔امن و امان کی طرف ذرا دھیان نہیں۔ اگر اسی طرح چلا تو تھوڑے دن نکالے گا۔ کیونکہ جلال آباد میں چور بھی کھمبیوں کی طرح اُگتے ہیں۔

 

آج فیروز پور کیسے؟ اگر مجھ سے کوئی مدد کی ضرورت ہو تو حاضر ہوں مگر میرا تھانے کچہری میں تو کوئی واسطہ نہیں اور نہ کوئی واقف ہے،نجم نے وضاحت آمیز لہجے میں کہا۔

 

اس تنگ وقت میں آپ کی طرف آنے کا مقصد آپ کی مدد حاصل کرنا ہی ہے، غلام حیدر بولا، تم اپنے والد شیخ مبارک سے کہو،وہ ڈپٹی کمشنر سے میری ملاقات کا بندوبست کروادے تاکہ ہم سودھا سنگھ پر پکا ہاتھ ڈالیں۔ یہ مسئلہ میری عزت اور انا کا بن چکا ہے۔ اگر سودھا سنگھ گرفتار نہ ہو ا تو سمجھ لو شیرحیدر کا نام ابھی اُس کے جسم کے ساتھ دفن ہو جائے گا اور میں جیتے جی ایسا ہونے نہیں دوں گا۔دوسری طرف میری رعایا ہے۔ ابھی تک تو انھیں امید ہے کہ میں بہت کچھ کر گزروں گا لیکن تمھیں یہ نہیں پتا کہ رعایا خود کچھ نہیں ہوتی۔اس کا معاملہ پل میں تولہ اور پَل میں ماشہ والا ہوتا ہے۔ جس طرح یہ لوگ پہاڑ جیسے مضبوط ہوتے ہیں، تھوڑی سی ہمت ماند پڑے تو اُسی لمحے رائی بن جاتے ہیں۔ ابھی تک وہ سمجھے بیٹھے ہیں، مَیں سودھا سنگھ کا گاؤں کھود ڈالنے پر قادر ہوں۔اگر انھیں پتا چل جائے کہ میری تحصیل میں سُبکی ہوئی ہے اور گورنمنٹ میں مجھے کوئی نہیں جانتا تو یہ جتنے بندے میرے ساتھ شیروں کے جگرے والے نظر آتے ہیں،ابھی گیدڑوں سے بد تر ہو جائیں گے۔ اس لیے میں ان پر اپنا بھرم کھونا نہیں چاہتا۔ تم مجھے اپنے والد شیخ مبارک سے ملاؤ، میں اُن سے خود بات کرتا ہوں۔

 

نجم علی نے سنجیدگی سے تمام بات سن کر غلام حیدر کی طرف دیکھا اور بولا،حیدر اصل میں ابا تو لدھیانے میں ہیں۔ وہاں سے وہ پرسوں آئیں گے۔ تم کو دو دن یہاں رُکنا پڑے گا۔یا پھر کل ہم خود ملاقات کی راہ نکال لیتے ہیں۔ میرا خیال ہے کمشنر صاحب بات سُن لے گا۔ اگر چاہو تو اپنے بندوں کو واپس بھیج دو، چاہو تو یہیں رہنے دو۔

 

نہیں ہمارا خود ڈپٹی کمشنر سے ملنا کچھ فائدہ نہیں دے گا۔بلکہ اُلٹا کام بگڑے گا،غلام حیدر نے جواب دیا،یہ کام اتنا مشکل نہیں مگرمصیبت یہ ہے کہ نواب افتخار لندن میں ہے اور اُس سے رابطہ نہیں ہو پا رہا۔ با لفرض رابطہ ہو بھی جائے تو وہ اتنی دور سے مناسب طریقے سے معاملہ سمجھ نہیں سکے گا۔ اس لیے اُس کو اس پنگے میں ڈالنا بہتر نہیں۔رہا اُس کا باپ سر شاہنواز تو اس وقت وہ کشمیر میں گیا ہوا ہے۔اُس سے بھی رابطہ نہیں ہو سکتا۔ ویسے بھی اُن سے اس کام کے لیے کہنا مناسب نہیں سمجھتا۔ان نوابوں شوابوں سے کوئی بڑا کام لیں گے۔ میں چچا مبارک کا یہاں انتظار کر لیتا ہوں لیکن ہاتھ سخت ڈالنا چاہتا ہوں۔

 

ہاں بہتر یہی ہے تم یہاں رُک کر ابّا کا انتطار کر لو۔ اُن کی ڈپٹی کمشنر صاحب سے مل کر بات کرنے کی صورت ذرا الگ ہے، اس لیے انھیں آنے دیں اور اپنے ان بندوں کو واپس جلال آباد بھیج دو،یہ وہا ں کے حالات پر نظر رکھیں۔

 

نجم علی “غلام حیدر دوبارہ بولا” میں کچا ہاتھ ڈالنا نہیں چاہتا لیکن مجھے جلدی بھی بہت ہے۔ اس طرح کی ملاقات جس میں صرف انھیں بات سنانی مقصود ہو، مجھے منظور نہیں۔سرسری ملاقات کرنے میں قباحت یہ ہے کہ ڈپٹی کمشنر زیادہ سے زیادہ اسسٹنٹ کمشنر کولکھ دے گا کہ اس مسئلے کو دیکھو جس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس طرح میں جلال آباد میں مزید بے عزت ہو جاؤں گا اور اسسٹنٹ کمشنر مزید میرے خلاف ہو جائے گا۔

 

ٹھیک ہے پھر ابا کو واپس آنے دو۔ڈپٹی کمشنر سے اُن کے اچھے تعلقات ہیں، نجم علی نے کہا، لیکن ایک بات اگر برا نہ مانو تو کہوں “تم اِن زمین کے دھندوں سے جان چھڑا کیوں نہیں لیتے؟ خواہ مخواہ کی دشمنی میں اُلجھے ر ہو گے، ساری عمر لڑائی اورتھانہ کچہری میں برباد ہو جائے گی۔ اپنی زمین کسی کو ٹھیکے پر دے کر آرام سے لاہور چلے جاؤ۔ یہاں بلا وجہ گنواروں میں پھنسے رہنا کوئی دانش مندی نہیں ہے۔

 

نجم علی مجھے اس طرح کے مشورے کی فی الحال ضرورت نہیں۔ تم میرے بندوں کے سونے کا بندوبست کردو۔یہ بھی تھکے ہوئے ہیں۔کل صبح میں انھیں واپس بھیج دوں گا، غلام حیدر نے غصے سے جواب دیا۔

 

ٹھیک ہے بھائی ناراض نہ ہو،یہ کہہ کر نجم علی وہاں سے اُٹھ کر باہر نکل گیا۔

 

نجم علی نے مہمانوں کے تمام انتظامات بوڑھے ملازم میراں داد کو سونپ کر خاص ہدایت کر دی کہ کوئی شکایت پیدا نہ ہو۔ اس کے بعد خود غلام حیدر کے پاس آ بیٹھا۔ دونوں سکول کے زمانے کی باتیں کرنے لگے،جو مڈل تک گورنمنٹ ہائی سکول فیروز پور میں گزارے تھے۔ چھوٹے چھوٹے واقعات اور بچپن کی شرارتیں یاد کر کے ہنستے رہے۔اِن خوش گپیوں اور یادوں میں غلام حیدر کی طبیعت سے کچھ تکدّر دور ہو گیا اور رات کا ایک بج گیا۔بالآخر باتیں کرتے دونوں وہیں سوگئے۔
اگلے دن صبح سات بجے اُن کی آنکھ کھلی۔ نہانے دھونے اور ناشتہ کرنے میں دس بج گئے۔ ناشتے کے بعد غلام حیدر اپنے لوگوں کے پاس ڈرائنگ روم میں داخل ہوا تو وہ سب اُٹھ کر کھڑے ہو گئے۔اُن کے چہروں سے محسوس ہو رہا تھا کہ نجم علی کے ملازم نے اُن کی کافی آؤ بھگت کی تھی۔سب کی طرف سے خوشگوار تاثر مل رہا تھا۔

 

غلام حیدر نے رفیق پاولی کی طرف دیکھ کر بلا کسی تمہید کے کہا،جو رات کی نسبت کافی ہشاش بشاش نظر آ رہا تھا، چاچا رفیق آپ ایسا کرو، بندوں کو لے کر آج واپس جلال آباد چلے جاؤ اور دونوں گاؤں کے معاملات پر پوری نظر رکھو۔ دشمن کسی بھی طرف سے دوبارہ شرارت کر سکتا ہے۔ کل شیخ صاحب واپس آ جائیں گے تو میں پر سوں ڈپٹی کمشنر صاحب سے ملاقات کر کے شام پانچ بجے یہاں سے جلال آباد کے لیے ریل پکڑ کر سات یا آٹھ بجے ریلوے اسٹیشن پر پہنچ جاؤں گا اور دیکھو کسی کو بھنک بھی نہ پڑے کہ میں کہاں ہوں اورکس وقت یہاں سے نکلوں گا۔بس اب جاؤ اور میرا پرسوں وہاں انتظار کرنا۔با قی کسی قسم کی جلدی کسی بھی کام میں ضروری نہیں۔

 

(جاری ہے)
Categories
فکشن

نعمت خانہ – تیسری قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

یہ ہو گا بعد میں، ہماری موت کے بعد
کہ وہ مُردہ ہو جائے گا
اور گھنٹیاں بجیں گی مرنے والوں کی
اُس کے لیے
ملارے

 

……………..

 

ہوا کو وہ اپنی ہی طرح نظر آرہا تھا۔ وہ پُرانے مُردوں کے پاس آیا تھا اور ہر جذبے، احساس اور کیفیت سے خالی محض ایک چکراتا ہوا بگولا تھا یا ایک ایسی ممی بن چکا تھا جس کے دماغ کو اُس کی ناک کے ذریعے مہارت کے ساتھ باہر نکال کر پھینک دیا جاتا ہے تاکہ جسم سڑ گل نہ سکے۔ دماغ کوڑے دانوں میں بھٹکتا پھرتا ہے اور جسم ہواﺅں میں۔

 

دماغ اور جسم کی اس دائمی جدائی کے سبب دونوں کے درمیان صرف سائے پیدا ہوتے ہیں، جذبوں اور احساس سے خالی، محض تاریک سائے۔

 

یقینا وہ جذبات ہی تو تھے جن کے دریا جیسے پاٹ پر وہ گناہوں اور جرائم کے گھڑے رکھ کر کھینچا کرتا تھا اور وہ دماغ ہی تو تھا جو ان گھڑوں کو بنانے اور پھر چھپانے کی ترکیبیں سجھایا کرتا تھا۔

 

تب یہ گھڑا آسانی سے کھنچتا چلا جاتا تھا کیونکہ اس میں اُس گھڑے کی مٹّی کے خالق اور اس کے دریا کا زور اور بہاﺅ بھی شامل تھا۔ ایک زائد طاقت، ایک بیرونی امداد۔

 

مگراب وہ ایک اکیلا آدمی تھا۔ دنیا کے پہلے آدمی کی طرح اکیلا اور غریب۔ خدا کے رحم و کرم پرمبنی کیونکہ جہاں دریا بہتاتھا وہاں ریت کی ایک لمبی اور گہری کھائی ہے۔ اب اس پاپ کے گھڑے کو اکیلا، ریت پر وہی کھینچتا ہے۔ زوالِ آدم کے اِس تماشے کو ہوا دیکھ رہی ہے اور یہ بھی کہ اُس کے پاﺅں کے نشانوں سے ریت پر سانپ کی سی لکیر بنتی جاتی ہے۔

 

یہ ہے میرا سانپ! مگر تمھارا سانپ کہاں ہے؟

 

اپنا سانپ بھی تو دِکھاﺅ، اے فرشتو اور شریف نیک دل انسانو!

 

اُسے چیخ کر غصّے اور احتجاج کے ساتھ کہنا چاہئیے تھا مگر نہیں کہا۔ اُس کے ہونٹ سڑے ہوئے شہد سے سنے ہوئے تھے اور ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے سے بھنچ گئے تھے تاکہ اب تالو اور حلق میں خاموشی بھی سڑنے لگے۔

 

اُس کا کاکروچ باورچی خانے کی اینٹوں تک پہنچ گیا۔

 

ہوا نے دیکھ لیا کہ ٹھیک یہی وقت تھا جب اُس کا بایاں پیر مٹّی کے گارے میں پھنس گیا اور اندر— گہرائی میں دھنستا ہی چلا گیا۔ اُس نے لوہے کے ایک پائپ کو کس کر پکڑ لیا، ورنہ منھ کے بل اپنے ہی سائے کے اوپر گرپڑتا، اگرچہ سایہ نظر نہ آتا تھا، وہ خود ہی ایک سایہ تھا۔

 

زنگ لگا ہوا لوہے کا یہ موٹا پائپ دراصل گزرے زمانوں کے پانیوں کا نل تھا۔

 

اس کی قسم کھائی جاسکتی ہے کہ ہوا چاہے کتنی بھی دبی کچلی ہو، وہ پھپھوندی لگی ایک چٹان یا پھر خدا کی مہربانی سے پتھّر کی مورت ہی کیوں نہ بن جائے، وہ بارش کی آہٹ کو ہمیشہ، دور بہت دور سے ہی پہچان لیتی ہے۔ بارش سے ہوا کا ایک ابدی اور پُراسرار رشتہ ہے۔ ایک بھید، کچھ کچھ انسانوں کے درمیان کے بھیدوں جیسا۔

 

ہوا نے پہچان لیا کہ بارش آرہی ہے اور اس کے ساتھ ایک دوسری، اجنبی ہوا بھی تھی۔ ایک ایسی ہوا جس کا تعلق اس گھر سے نہیں تھا؛ بارش کے ساتھ چلی آرہی تھی۔ مُردوں کو گھسیٹ کر لے آنے والی ہوا۔

 

چلنے سے معذور، درخت کی سوکھی لاش کے نیچے دبی ہوئی ہوا نے اس غیر، اجنبی اور زور زور سے چلتی ہوئی، آنے والی ہوا کو سونگھا اور اُس کی بے رحمی کو پہچان لیا۔ اُسے اِس پرائی ہوا سے کوئی حسد نہیں ہوا۔ وہ جانتی تھی کہ ہر ہوا کو ایک دن پتھّر بن کر سنّاٹے میں جذب ہوجانا ہے۔

 

اور یقیناً وہ آئی۔

 

بارش آ گئی، کسی دوسری دنیا کی ہوا کے کاندھوں پر سوار۔

 

بے آواز بارش میں اُس کا سر بھیگ رہا تھا۔

 

بارش ہوتی رہی۔ اُ س کا سر بھیگ بھیگ کر جوﺅں سے بھر گیا۔ وہ ایسے ہی، ملبے پر کھڑا رہا، خاموش، مٹّی میں دبے اپنے ایک پاﺅں کے ساتھ ۔ وہ اُس پرائی اور کالی ہوا کی چپیٹ میں آگیا۔ اس کا سرخ سویٹر، نیلی قمیص اور کرمچ کے سفید جوتے کالے پڑ گئے۔ اُ س کی آنکھوں تک میں کالی ہوا بھر گئی، مگر ہر فیصلہ موت تک ہی نہیں منحصر ہوتا۔ وہ بعد میں بھی سنایا جاسکتا ہے، وہ کالی ہوا میں جھومتا اور بارش میں بھیگتا ایک پاﺅں پر اِسی طرح کھڑا رہا۔

 

”گڈّو میاں آ گئے، گڈّو میاں آگئے، “

 

ہوا نے سنّاٹے کی سفید چادرکے تھان سے کٹنے کی آواز کو سن لیا۔ یہ وہی آواز تھی جو کپڑے کی چادر کو تیز دھار والی سفاک قینچی سے کاٹنے پر پیدا ہوتی تھی۔
وہ اس سفید سنّاٹے کی دوگز کی کترن کو اپنے جسم پر لپیٹنا چاہتا تھا۔ وہ موت کا بہی کھاتا تیار کرنا چاہتا تھا، تاکہ اُس میں اپنی موت کے اندراج کے ساتھ دوسروں کا حصّہ بھی لکھ سکے۔ روٹی اور حلوے کے حصّے کی طرح تاکہ جلد ہی لگنے والی عدالت میں ایک ملزم کی حیثیت سے وہ غیر حاضر نہ ہو، چاہے عدالت میں کوئی منصف ہو یا نہ ہو۔

 

”گڈّو میاں آگئے۔“

 

ہوا نے کچھ خوش اور کچھ مغموم ہوکر دیکھا کہ بارش میں بھیگتے ہوئے اُس کے سائے نے اس بار اِس توتلی آواز کو پہچان لیا تھا۔

 

ہوانے مُردوںکے قدموں کی دھمک کو خاموشی سے سنا۔ وہ سب آرہے تھے، ان کی تعداد کو اُن کے قدموں کی دھمک سے نہیں گنا جاسکتا تھا۔

 

لوہے کے پرانے زنگ لگے نل کو بائیں ہاتھ سے پکڑے، وہ اِسی جگہ ساکت و جامد کھڑاتھا اور اُس کا بایاں پیر گیلی لیس دار مٹّی میں پنڈلی تک اس طرح دھنسا ہوا تھا، جیسے اُس پر پیلی مٹّی کا سخت اور مضبوط لیپ چڑھایا گیا ہو اور ٹوٹی ہوئی ہڈی ہِل جُل نہ سکتی ہو۔

 

مگر یہ سب ہوا نے ہی دیکھا۔ وہی اِس المیے یا طربیے کی اِکلوتی عینی شاہد تھی۔

 

اور اگر وہاں ایک بار، بارش کے ساتھ کوندا نہ بھی ہوا ہوتا تو بھی ہوا یہ دیکھ لیتی کہ باورچی خانے کی گرتی ہوئی دیواروں پر بے شمار کاکروچ اکٹھا ہوگئے ہیں۔ عدالت لگ گئی ہے۔

 

باورچی خانہ— ایک خطرناک جگہ ہے۔
Categories
فکشن

نعمت خانہ – دوسری قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

نظر نہ آنے والے ہمارے آباؤاجداد
ہمارے ساتھ ساتھ چلتے ہیں
اُن چھوڑی گئی سڑکوں پر
کاروں کا شور، بچّوں کی کلکاری
جوان لڑکیوں کے جسم اُن کے آر پار جاتے ہیں
دھندلے،غیر مادّی، ہم اُن کے آرپار سفرکرتے ہیں
اوکتاویوپاز

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

مفاد! مفاد کیا تھا؟

 

ہوا کی پتھّرائی ہوئی آنکھیں کیا کیا دیکھیں؟

 

اِن آنکھوں نے دیکھا کہ وہ اپنے ہی گھر میں بھٹک رہا ہے۔ ایک ہاتھ میں مٹّی کی ہانڈی لیے اور دوسرے ہاتھ میں کاغذ کا ایک پیلابوسیدہ نسخہ لیے۔
وہ بھٹک رہا ہے مگر کچھ بھی نہیں دیکھ رہا ہے۔ اس کوّے تک کو نہیں جس کی حادثاتی موت پر نہ جانے کہاں سے، دور دور سے، بہت سارے کوّے چلے آئے تھے اور حیرت انگیز طور پر بغیر کوئی شورمچائے باورچی خانے کی منڈیر پر سر جھکائے بیٹھ گئے تھے۔ ایک گری ہوئی کڑی پر وہی مرا ہوا کوّا خاموش بیٹھا تھا مگر اُس نے نہیں دیکھا۔ قابلِ افسوس حد تک نہیں دیکھا۔

 

ہوا نے دیکھا کہ وہ کن کٹا خرگوش اُس کا ساتھ چھوڑ کر دراصل اپنی ہی قبر پر اُگی ہوئی گھاس کھا رہا تھا اور کاکروچ، اُس کی قمیص سے اُڑ کر، بدنیتی کے ساتھ رینگتا ہوا اُدھر، اس طرف جارہا تھا جہاں باورچی خانے کی اینٹوں اور دیواروں کا ملبہ تھا۔

 

ہوا جانتی تھی کہ سارے گناہوں کو، سارے چٹورپن اور ساری بدنیتی کو اُدھر ہی جانا ہوتا ہے چاہے وہ سب بچپن کے کھیل ہی کیوں نہ ہوں۔ سب کا مقدّر بہرحال ایک ہی ہے۔ شطرنج کی بساط پلٹنے کے بعد بھی، بندر کے مُردہ پنجے کے مانند گزر گئے وقت کو دوبارہ کھینچ کر لانے کے نتیجے میں صرف وہشت اور پشیمانی ہی حاصل ہوسکتے تھے اور کچھ نہیں۔ اصل بات بدنیت اور پیٹ کا کتّا بننا اور پھر مٹ جانا تھا۔ ایک مکمل انہدام کی جانب انسان کا ذہنی اور جسمانی سفر جاری ہے یہاں تک کہ حافظے کا انہدام ہی سب کی معراج ہے۔

 

ہوا اس دنیا کو بھی جانتی تھی کہ وہاں کوئی کسی کو نہیں پہچانے گا۔ خون کی زنجیر محض ایک حافظہ ہے۔ ساری عبادتیں، سارے مذاہب، سارے اخلاقی فعل دراصل حافظے سے پیچھا چھڑانے کی ترکیبیں ہیں۔ وہاں سب اپنی تنہائی میں مسرور ہوں گے۔ ایک بھیانک بے شرمی کے ساتھ۔ ایسی بے شرمی سے تو بھوت بھی پاک ہے۔ بھوت اس لیے ہے کہ وہ اِس دنیا سے بہرحال کوئی نہ کوئی رشتہ تو قائم رکھتا ہی ہے۔ یہ اور بات کہ اس رشتے میں بدنیتی، حسد اور شیطنت بھری ہو، مگر وہ اپنے حافظے سے دست بردار نہیں ہوتا اور اِس کی سزا اُسے نُکیلے ناخنوں اور آنکھوں کے غاروں کے ذریعے دے دی جاتی ہے۔

 

تو اس دنیا کے تمام رشتے، تمام جذبے، محبتیں، نفرتیں، شہوتیں سب کو حافظے سے نکالناہوگا۔ انسان ایسی جنت میں جاکر کیا کرے گا، جہاں اُسے یہ بھی یاد نہ ہوگا کہ اُس کا باپ کون تھا؟

 

اس نفسا نفسی کے عالم کو برداشت کرنا ہوگا۔ صبر کے ساتھ برداشت کرنا۔

 

ہوا کو اُس کا چہرہ پل بھر کو صاف نظر آگیا۔ وہ ایک طویل اور تکلیف دہ سفر کرکے آنے والے کا تھکا ہوا چہرہ تھا۔ بہت طویل سفر، اتنا ہی طویل جتنا کہ گرم اور سرد ہوائیں طے کرتی ہیں۔ وہ ایک چلتی ہوئی ہوا کی طرح اپنے گھر آیا تھا۔

 

گھر؟

 

اگرچہ گھر شاید کہیں نہ تھا، بس ایک کالاپانی تھا اور ایک بہتا ہوا مہیب کنارہ تھا جو ملبہ نظر آتا تھا۔ جس پر وہ ٹھوکریں کھاتا اِدھر سے اُدھر گھوم رہا تھا۔ ایک اندھے اور حواس باختہ شخص کی طرح ایک بار تو وہ اس طرح گرتے گرتے بچا جیسے کوئی سوکھا پتّہ اپنی ہی پرچھائیں پر گرتا ہے۔ یہ خواب کی مانند تھا، مگر خواب دیکھتے وقت کوئی اپنی ایک آنکھ تک نہیں دیکھ سکتا۔ کاش کہ وہ دیکھ سکتا۔ ہوا کی مانند دیکھ سکتا اپنی اُس ایک آنکھ کی بدنصیبی، اُس کی خشکی اور اس کی نمی۔ افسوس کہ یہ کہاں ممکن تھا کہ جو آنکھ خواب دیکھے، اُس آنکھ کو خواب دیکھنے والا بھی دیکھے۔ کہرے کی مار سے،اپنے آخری اسٹیشن پر بہت دیر سے پہنچنے والے، شکست خوردہ، ایک شرمندہ اور تھکے ہوئے ریلوے انجن کا سا چہرہ دیکھے جو بس اُداس ہوکر سیٹیوں کی مُطلق خاموشی میں دھواں پھینکے جاتا ہے ۔
ہوا کو وہ اپنی ہی طرح نظر آیا۔
Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – آٹھویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

سردار سودھا سنگھ مجبوراً ولیم کو رخصت کرنے کے لیے جیپ تک آیا اور اُس کو سوار ہوتے دیکھتا رہا۔ جیپ جب تک رخصت نہیں ہوئی، وہیں کھڑا رہا۔ کسی نے کوئی بات بھی نہ کی۔ دلبیر سنگھ نے گاڑی کواسٹارٹ کر کے اُ سے گئیر میں ڈال دیا اور وہ رفتہ رفتہ گاؤں والوں کی نظروں سے اوجھل ہو گئی۔جیپ کے گاؤں سے نکل جانے کے بعد سودھا سنگھ نہایت بے چینی سے حویلی کی طرف مڑا۔ مجمع جو چند لمحوں میں قریب دو سو نفوس پر مشتمل ہو گیا تھا، وہ بھی سودھا سنگھ کی حویلی کی طرف چل دیا تاکہ پتہ چلے فرنگی گورنمنٹ کیسے آئی تھی اور سردار سودھا سنگھ کے ساتھ کیا بات چیت ہوئی مگر فوجا سیؤ نے سب لوگوں کو جھڑک کر پیچھے کر دیا۔

 

حویلی میں داخل ہو کر فوجا سیؤ نے پھاٹک بند کروا دیا۔پھر دیر تک خاموشی چھائی رہی۔ آخر سودھا سنگھ نے سکوت توڑا اور فوجا سیؤ کی طرف مخاطب ہو کر بولا، فوجے لگتا ہے معاملہ کچھ گھمبیر ہو گیا ہے۔ اس کلکٹر کے ارادے ٹھیک نہیں لگ رہے۔

 

فوجا سیؤ خاموشی سے کان کھجاتا رہا اور سودھے سنگھ کی بات کا کوئی جواب نہ دیا۔ کچھ دیر کے لیے پھر خاموشی چھا گئی۔ حویلی کو جیسے سانپ سونگھ گیا ہو۔ کسی دوسرے کے بولنے کی ہمت اس لیے نہیں تھی کہ سودھا سنگھ غصے سے بھرا بیٹھا تھا۔ نہ جانے کیا ہنگامہ کھڑا کر دیتا۔ آخر جگبیر نے ہمت کی اور بولا، سردار جی واہگرو جی شرماں رکھُو، ہمت سے کام لے۔ غلام حیدر یا انگریز کے پاس کوئی ثبوت تو ہے نہیں۔ کلکٹر آگیا ہے تو کوئی قہر نہیں ٹوٹ پڑا، دیکھی جائے گی۔

 

فوجا سیؤ جو پہلے ہی کلکٹر کی طرف سے کی گئی توہین سے سخت برہم تھا اور جودھا پور پر حملہ بھی اس کے مشورے کے برخلاف ہوا تھا۔جس میں جگبیرنے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا، جگبیر کے ان جملوں پر ایک دم بھڑک اٹھا اور بولا۔

 

جگبیرے تیرے جیسے بارہ تالیے شراب کے چوہے ہوتے ہیں، جو دوگھونٹ چڑھا کر اپنی دُم پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور شیر کو للکار دینا ان کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ یہ تم ہی تھے جنھوں نے سودھا سنگھ کو الٹی مت دی ہے اور جودھا پور پر دھاوا بول دیا۔اسی وجہ سے فرنگی کو ہمت ہوئی کہ وہ میری اور سردار سودھا سنگھ کی بے عزتی میں ہاتھ ڈبو کر چلا گیا ہے۔ اُس وقت سے ڈر جب چراغ دین مُسلے کا پھندا سودھا سنگھ کے گلے میں فٹ ہو جائے۔ مگر تجھے کیا، تو کوئی اور کڑاھا ڈھونڈ لے گا جہاں پرانے گُڑ کی پت چڑھی ہو گی۔ مسئلہ تو ہمارا ہے کہ جینا مرنا سودھا سنگھ کے ساتھ ہے۔

 

جبگیر نے فوجا سیؤ کے آگ لگا دینے والے جملے سنے تو کرپان کھینچ کر فوراً اُٹھ کھڑا ہوا۔ غصے سے نتھنے پھڑکنے لگے اور چہرہ انگارے کی طرح دہک گیا۔
تیری تو میں دو گز لمبی زبان کھینچ لوں گا۔ واہگرو کی سونہہ تیرا قتل نہ کروں تو سمجھ لینا میری ماں پھیروں پر رہی ہے۔ بڈھا پاگل ہو گیا ہے۔ اِسے کسی نے سمجھایا نہیں کہ جگبیر سے بات کن محاوروں میں کی جاتی ہے۔

 

جگبیر کو مشتعل ہوتے دیکھ کر سب اٹھ کھڑے ہوئے اورپیت سنگھ نے آگے بڑھ کر جگبیر کو جپھا ڈال لیا۔ بیدا سنگھ نے اس کے ہاتھ سے کرپان پکڑ لی۔
مگر اسی اثنا میں جما سنگھ بھڑک اٹھا۔ پیتے چھوڑ دے اس سورمے کو، میں اس کی وراچھیں چیر دوں گا۔ خنزیر چاچے فوجے کو للکارتا ہے۔حرامی کیا یہ نہیں جانتا سردار فوجا سئیو کون ہے؟

 

اس کے ساتھ ہی تلوار کھینچ لی اور بیدا سنگھ کی طرف بھاگا۔ساتھ گالیوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ا ِدھر نکل رانی خاں کے سالے تیری ایسی تیسی پھیر دوں گا۔تو نے سمجھا تھا یہاں جھانجھروں والے بیٹھے ہیں۔ لیکن دو تین جوانوں نے اُٹھ کر فوراً جما سنگھ کو پکڑ لیا۔

 

مگر اُدھر سے للکار سُن کر جگبیر دوبارہ پلٹا،چھوڑ دے بیدے مجھے۔یہاں آج لہو کی چکیاں چل ہی لینے دے۔ لاف سرداروں کو مہنا ہے۔ لیکن لوگوں نے جگبیر کو مضبوطی سے پکڑے رکھا۔ اس دنگے میں شور اور واویلا اتنا بلند ہوا کہ باہر کھڑا مجمع حواس باختہ ہو کر حویلی کا پھاٹک پیٹنے لگا۔ سودھا سنگھ یہ تماشا دیکھ کر انتہائی کرب اور بے بسی سے چیخا۔ مترو واہگرو کا خوف کرو۔یہ کیا اودھم مچا دیا تم نے۔ کیا جھنڈو والا میں آگ لگ گئی؟ سودھا سنگھ کی آواز میں اس قدر غیظ تھا کہ تمام لوگ حویلی کے اندر اور باہر والے سب ایک ہی دفعہ خاموش ہو گئے۔ اس خموشی سے سودھا سنگھ کو ذرا سکون ملا۔ وہ دوبارہ قدرے دھیمے لہجے میں بولا، فوجے اب لڑنے اور طعنے مہنے دینے کا کوئی فائدہ نہیں۔ جو ہوا سو ہوا۔ کیے پر پچھتانا مورکھوں کا شیوہ ہے۔ بس آگے کی سوچو۔

 

فوجا سیؤ نے جب دیکھا کہ سودھا سنگھ بالکل ہی ہتھیار پھینک چکا ہے تو وہ قدرے سکون سے بولا۔ دیکھ بھئی سردار سودھا سنگھ اب میں تب بولوں گا جب میرا مشورہ جڑ سے پرامبلوں تک مانو گے۔ ورنہ(طنز سے جگبیر کو دیکھتے ہوئے ) تیری اور اِن سورموں کی اپنی راہ اور میری اپنی راہ۔

 

سودھا سنگھ نے بڑے سکون سے پگڑی کو درست کیا اور سننے کے لیے ہمہ تن گوش ہو گیا۔پھرفوجا سیؤ نے آگے جھک کر اپنی بات شروع کی۔

 

سردار سودھا سنگھ میری دو باتیں غور سے سن اور اس کو پلے باندھ لے۔ ایک یہ کہ اب جھنڈو والا سے باہر قدم نہ نکالنا، چاہے قیامت آ جائے۔کچھ سمے تک یہ حویلی ہی تیرا مرن جیون رہنا چاہیے۔اس کے علاوہ جتنی جلدی ہو سکتا ہے، مہاراجہ پٹیالہ کے دربار سے کسی سفارش کا بندوبست کر بلکہ میں تو کہتا ہوں دو چار مہینوں کے لیے وہیں پٹیالہ چلا جا اور اُدھر ہی بیٹھ کے سارا مقدمہ لڑ۔دوسری صلاح میری یہ ہے کہ ڈُلھے بیروں کا کچھ نہیں گیا،عبدل گجر کی طرف فوراً بندہ بھیج کے انھیں شاہ پور پر حملے سے روک دے۔

 

فوجا سیؤ کی بات سن کر جگبیر اور پیت سنگھ نے منھ بسورا لیکن کچھ بولے نہیں مگر سودھا سنگھ نے تحمل سے سوال کیا، اس کی کیا وجہ ہے کہ ہم اتنی بزدلی کا ثبوت دیں؟

 

فوجا سیؤ دوبارہ بولا،وجہ یہ ہے سردار سودھا سنگھ اس دفعہ دو کام ایسے ہوئے ہیں جو آج تک نہیں ہوئے تھے۔ اُن کا شگون اچھا نہیں۔ ایک یہ کہ تیری کمر پر غلام حیدر نے قتل کا پرچہ رکھ دیا ہے۔ دوسرا کلکٹر ایسا آ گیا ہے جس کے تیور شینہہ کی طرح خونخوار ہیں۔ وہ سمجھ چکا ہے کہ یہ سب کیا دھرا تیرا ہی ہے۔ ورنہ وہ جھنڈو والا کبھی نہ آتا۔ اب شاہ پور پر حملہ ہوا تو اس میں چاہے تو جتنا بھی پلہ چھڑائے باٹوں کی جگہ تجھے ہی رکھا جائے گا۔ ادھر انگریز راج میں قتل معاف نہیں ہو سکتا۔ رہی غلام حیدر کی بات، وہ بھوکے شیر کی طرح باولا ہوا ہے۔تھانیدار نے جو حالت اس کی بتائی ہے،اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسے پرچے ورچے سے کچھ غرض نہیں۔ وہ تو بس تیرا سامنا چاہتا ہے اور یہ اچھی بات نہیں۔

 

تو کیا بزدلوں کی طرح چوڑیاں پہن لوں؟ سودھا سنگھ ذرا تپ کر بولا۔

 

میں نے کب کہا ہے چوڑیاں پہن لے۔ بس ذرا کوئلوں کو سیاہ ہونے دے اور حالات کا رخ دیکھ۔

 

واہ حالات کا رخ دیکھ “اب کے پیت سنگھ بولا”تاکہ پُلس آرام سے آکر سودھا سنگھ کو بیل کی طرح نتھ ڈال کر لے جائے اور پھر جیل میں چکی پر جوت دے۔
اس کا ایک حل ہے، فوجا سیؤ اسی تحمل سے بولا۔

 

وہ کیا؟ سودھا سنگھ نے پوچھا۔

 

دیکھ سردار سودھا سنگھ معاملہ ابھی زیادہ بگڑا نہیں ہے۔ایک قتل کی بات سنبھالی جا سکتی ہے اور مونگی کا تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ اِس سے تھوڑا سا بھی آگے بڑھے تو سمجھ لو دودھ کا چھنا گوبر میں جا گرے گا۔( پھر تھوڑی دیر رُک کر )میری مان غلام حیدر سے صلح کر لیں اور چراغ دین کا قصاص دے دیں۔ فوجا سیؤ نے لجائے ہوئے لہجے میں کہا۔

 

فوجے سیؤ کی بات سن کر تمام لوگوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔ کسی کو بھی توقع نہیں تھی کہ فوجا سیؤ اتنی بزدلی کی بات کرے گا۔ خاص کر جگبیر کے تو گویا سر پر فوجے نے راب کی اُبلی اُبلی دیگ ڈال دی۔ ادھر سودھا سنگھ اور پیت سنگھ بھی غصے سے سرخ اور لال پیلے ہو گئے لیکن ان کے جواب دینے سے پہلے ہی فوجا سیؤ اٹھ کھڑا ہوا کیونکہ اُسے پتہ تھا کہ وہ جو جواب دیں گے، وہ اس سے سنا نہیں جائے گا۔اس لیے بہتر ہے حویلی سے نکل جائے اور انھیں ان کے حال پر چھوڑ دے۔

 

فوجا سیؤ کے ساتھ ہی جما بھی حویلی سے نکل گیا۔ اگرچہ فوجا سیؤ کا سردار سودھا سنگھ کو یوں بات سُنے بغیر چھوڑ کے جانا اچھا فیصلہ نہیں تھا۔ مگر سودھے سنگھ کو بھی فوجا سیؤ کی یہ بات بہت گھٹیا اور شوہدی لگی۔ یہ بزدلی کی حد تھی جو فوجا سیؤ نے کی تھی۔ اس لیے سودھا سنگھ نے اسے روکنے کی ذرا بھی کوشش نہ کی۔ اُس نے سوچاجگبیر سنگھ اور پیتا ٹھیک کہتے ہیں۔ ابھی کون سی قیامت آگئی ہے کہ مُسلوں کے آگے گھٹنے ٹیک دیں۔ خاص کر کل کے چھوکرے کے آگے،جو ابھی سکول کا مُنڈا ہے۔ پوری سکھ برادری میں نا ک کٹ جائے گی اور شریکے میں کیا منہ دکھائیں گے۔ بَیر اور لڑائی توجوانوں کا سنگھار ہے ورنہ مر تو وہ بھی جاتے ہیں جو ساری عمر اکھاڑے میں ناچتے ہیں اور کیکر کا نٹاچبھنے سے بیہوش ہو جاتے ہیں۔پھر سودھا سنگھ جگبیر کی طرف منہ کر کے بولا،، جگبیرے اب تیرا مشورہ ہی چلے گا۔ بول واہگرو کے نام سے کیا کہتا ہے۔ فوجا سیؤ نے تو زنخوں والی بات کی ہے،، میرے لیے تو دما،رنگا اور آپ ہی اب سب کچھ ہو۔
جگبیرنے جو ابھی یہ سوچ رہا تھا کہ کہیں سودھاسنگھ کو فوجا سیٔو کے بھرے مجعمے سے اٹھ کر جانے کا افسوس نہ ہوا ہو،،سودھا سنگھ کی طرف سے حوصلہ پا کر کہا،سردار سودھا سنگھ پندرہ جوان میرے ساتھ کر دے اور عبدل گجر کو پیغام بھیج کر پوچھ،اگر وہ کل تک شاہ پور پر حملہ کرتا ہے تو ٹھیک ورنہ یہ کام بھی میں ہی کرتا ہوں۔ وہ راضی ہو جائے تو میں اس کی فوج میں شامل ہو جاتا ہوں۔ کل رات ہی ہم اور گجر مل کر یہ کام کر دیں تو یہ انگریزی بابو اور غلام حیدر دونوں پاگل ہو جائیں گے اوربول کی جھاگ کی طرح نہ بیٹھ جائیں تو مجھے کہنا۔

 

سودھا نے پیت سنگھ کی طرف دیکھا تو وہ بولا،سردار صاحب، دیکھ شاہ پور پر حملہ اس وقت بڑا مفید ہے۔ جگبیرے نے بڑی ٹھیک صلاح دی ہے۔ شاہ پور میں میرا یار فضلو میو موجود ہے۔بندہ بھیج کر اُسے بلا لے۔ سو روپیہ دے کر سب مخبری لے لیتے ہیں۔

 

سودھا سنگھ کو پیت سنگھ کی بات پسند آئی۔ ہرے سنگھ کو آواز دے کر سودھے نے پاس بلایا اور اسے فوراً شاہ پور جانے کے لیے کہا کہ جا کر عشا تک فضلو کو لے آئے۔ دوسری طرف نتھا سنگھ کو ہدایات بھیج کر عبدل کی طرف روانہ کر دیا کہ ان کو سودھے کے فیصلے سے آگاہ کر دے اور جو کچھ بھی وہ کہیں وہ آ کر خبر دے لیکن انھیں کہہ دے کہ حملہ ہر صورت کل ہونا چاہیے۔

 

(14)

 

مولوی کرامت کو جودھا پور میں تیسرا دن تھا۔ چراغ دین کے ساتے کو دو دن گزر چکے تھے۔ اُسے فضل دین کی فکر کھائے جا رہی تھی، جسے اکیلا پیچھے چھوڑ آیا تھا۔مگر اب وہ کمشنر صاحب سے ملے بغیر واپس نہیں جا سکتا تھا۔ دوسری طرف رحمتے اور اس کی بیٹی جودھا پور میں بالکل اکیلی تھیں۔تیسری طرف غلام حیدر نے دس ایکڑ زمین چراغ دین کی بیوی کے نام کرنے کا اعلان کر کے ایک عجیب کشمکش پیدا کر دی تھی۔ شریفاں رحمت بی بی اور اُس کی بچی کے ساتھ چولہے کی انگنائی میں بیٹھی باتیں کر رہی تھی۔مولوی کرامت دو قدم دور بان کی چارپائی پر بیٹھا حقہ پی رہا تھا۔ اُس کے ذہن میں سہ طرفہ تفکرات کی آندھی چل رہی تھی۔ خدا جانے صاحب کمشنر اُسے تحصیل بلا کر کیا کہنا چاہتا تھا۔ اُس نے کوئی ایسی ویسی بات تو کی نہیں تھی جس سے صاحب کو کچھ شک پیدا ہوا ہو۔ شاید انگریز بہادر اُس سے چراغ کی کسی خفیہ دشمن داری کی بابت سوال کرنا چاہتا تھا ؟ کچھ چیز سمجھ میں نہیں آ رہی تھی۔ اس نے تنگ آکر سر جھٹک دیا اور دس ایکڑ زمین پر غور کرنے لگا، جو رحمتے کے نام ہونے والی تھی۔ لیکن رحمتے اس زمین کو کیا کرے گی۔ چراغ دین تو مر چکا تھا جبکہ وہ اتنی دور قصور میں رہ کر اُسے کیسے کاشت کر سکتا تھا۔ بہرحال یہ بعد کی باتیں تھیں۔ اول تو اُسے کل ہر حالت تحصیل جانا تھا۔ خیر دین ٹانگے والے سے اُس نے بات کر لی تھی۔ جو روزانہ جودھا پور سے جلال آبادسواریاں لے کر جاتا تھا۔ اُس نے کرایہ زیادہ مانگا تھا۔ پو رے ایک روپیہ وصول کر رہا تھا۔مگر پندرہ کوس پیدل طے کرنا بھی تو مشکل تھا۔ سارا دن سفر میں کٹ جاتا۔ اس طرح ایک روپے کا نقصان تو ہو جاتا مگر خیر دین کا ٹانگا اُسے دن نکلتے ہی جلال آباد پہنچا سکتا تھا۔ اگر صبح کاذب سے پہلے چل نکلتا۔ وہ انہی نے سوچوں میں گم تھا کہ رحمت بی بی نے مولوی کرامت کو مخاطب کر کے کہا۔

 

بھائی کرامت کچھ پتا ہے کہ سرکار بہادرنے تمہیں کیوں تحصیل بلایا ہے؟ مجھے تو لگتا ہے سرکار صلح کرانا چاہتی ہے، تمہیں بیچ میں ڈال کے۔

 

مولوی کرامت نے داڑھی کھجاتے ہوئے کہا، دیکھ رحمتے، سرکار کا اُس وقت تک کوئی پتا نہیں چلتا جب تک بات کھل کر نہ کرے۔ میرا خیال ہے سرکار کو اتنی خبر تو ہو گئی ہو گی کہ یہ قتل سودھا سنگھ نے ہی کرایا ہے۔ اب رہی صلح کی بات،وہ تیری مرضی کے بغیر کیسے ہو سکتی ہے ؟پھر میں نے سنا ہے کہ پرچے کا مدعی غلام حیدر خود بنا ہے اور آج کی خبر یہ ہے کہ وہ فیروز پور بڑے صاحب کو ملنے گیا ہے۔

 

رحمت بی بی نے سرد آہ بھرتے ہوئے کہا، بھائی کرامت سنا ہے، وائسرا ئے کی بیٹی کا غلام حیدر سے یارا نہ ہے۔ آج مجھے فاتاں اور شیداں نے بتایا ہے۔ انھوں نے کہا ہے سودھا سنگھ کو فکر پڑگئی ہے کہ غلام حیدر بدلہ لے کے رہے گا۔ اس لیے وہ صلح کی کوشش کر رہاہے۔ میرا تو خیال ہے چھوٹے صاحب نے سکھوں سے رشوت کھا لی ہے۔وہ تم کو بلا کر دھونس دھاندلی سے سودھا سنگھ کے ساتھ صلح کروا دے گا۔

 

“مولوی کرامت نے فکر مند ہوتے ہوئے سر ہلایا۔

 

“شریفاں رحمت بی بی کی بات سن کر ہونٹوں پر انگلی رکھ کر بولی” ہائے ہائے کیا زمانہ ہے بہن رحمتے۔ یہ تو تم نے بڑی ناہونی سنائی۔ پر وائسرائے کی دھی غلام حیدر سے ملی کہاں؟ نا پر وائسرائے کو پتا ہے اس کہانی کا؟

 

رحمت بی بی چولہے میں جلتی لکڑیوں کو پھونک مارتے ہوئے بولی”اے ہے شریفاں اب بھلا مجھے اس کا کیا پتا؟” بڑے لوگوں کے ملن ملاپ کوئی ہم غریبوں سے پوچھ کر ہوتے ہیں۔ سنا ہے، اُدھر لاہور میں اونچے اونچے بنگلوں میں دونوں کی ملاقاتیں ہوئیں۔ فاتاں کہتی تھی، وائسرائے کی بیٹی بے حد چٹی گوری اور سوہنی سنکھنی ہے۔ یونہی آنکھ سے دیکھے میلی ہو جائے۔ ایسی کُڑی تو پورے ولایت میں نہیں۔

 

شریفاں نے فوراً رحمتے کی بات کاٹ کر لقمہ دیا، پر دیکھ رحمتے،اپنا غلام حیدر بھی تو چاند کا ٹکڑا ہے۔ اس جیسا گبھرو اُسے بھلا پورے ولایت میں ملے گا؟ آنکھوں سے خداسلامت رکھے خون چھوٹتا ہے اور رنگ مکھنوں پلے کا گلابوں میں ڈھلتا ہے۔

 

رحمت علی چپکے بیٹھا دونوں کی گفتگو سن رہا تھا، اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی۔ اس نے حقے کی نَے ایک طرف کی اور اُٹھ کردروازے کی کُنڈی کھول دی۔ سامنے خیر دین کھڑا تھا ہاتھ میں چابک لیے۔ مولوی کرامت نے پیچھے مڑ کر رحمتے اور شریفاں سے رخصت لی۔ اپنی پگڑی درست کر کے باندھی اور باہر نکل آیا۔دونوں عورتیں دروازے پر آ کر مولوی کرامت کو تانگے پر بیٹھتے ہوئے دیکھ کر دعائیں دینے لگیں کہ خیر سلامت سے واپس لوٹے۔ مولوی کرامت کے بیٹھتے ہی تانگا چل پڑا۔

 

(15)

 

ولیم نے اپنے کمرے میں داخل ہوتے ہی ہیٹ اتار کر کھونٹی پر رکھا اور فوراً گھنٹی دی۔ گھنٹی سنتے ہی کرم دین اندر داخل ہو کر باادب کھڑا ہو گیا۔
نجیب شاہ کو بلاؤ، ولیم نے کرم دین کی طرف دیکھے بغیر نہایت سپاٹ لہجے میں حکم دیا۔

 

کرم دین کے باہر نکلتے ہی چند ثانیوں بعد نجیب شاہ کمرے میں داخل ہوا اور ابھی اُس نے سانس بھی نہ لی تھی کہ ولیم نے ہدایات دینا شروع کر دیں،جنھیں نجیب شاہ کھڑے کھڑے نوٹ بک پر اُتارنے لگا۔

 

نجیب شاہ،تحصیل جلال آباد میں جس قدر سکول ہیں، اُن کا تمام ریکارڈ مجھے جلد از جلد چاہیے۔وہاں پر اساتذہ کی تعداد سے لے کر طلبااور اُن کی تعلیم کے معیار سے متعلق ہر چیز تحصیل ایجوکیشن افسرسے کہو، دو گھنٹے کے اندر لے کر میرے پاس میٹنگ کے لیے پہنچے۔ اِس کے علاوہ انسپکٹر متھرا داس اور منڈی گرو ہرسا کے تھانیدار کو بلواؤ اور غلا م حیدر کے معاملے کی فائل میز پر پہنچا دو۔

 

نجیب شاہ نے ہدایات نوٹ کیں اور پچھلے قدموں پُھرتی سے ُمڑا۔

 

اور سنو! ولیم دوبارہ بولا،آج ایک شخص مولوی کرامت کسی وقت آئے گا، اُسے مجھ سے ملے بغیر نہیں لوٹنا چاہیے۔

 

جی سر جیسے ہی آیا،اُسے سرکار میں حاضر کر دوں گا۔ اِس کے بعد نجیب شاہ نے نہایت ادب سے سلام کیا اور باہر نکل گیا۔

 

نجیب شاہ کے باہر نکلنے کے بعد کمرے میں پھر سناٹا چھا گیا۔ اس خموشی میں ولیم کا دماغ ایک دفعہ پھر سودھا سنگھ اور غلام حیدر کے بارے میں الجھ گیا۔ ولیم کو اس کیس پر کام کرتے چوتھا دن تھا۔ وہ تمام حاصل شدہ حقائق اور معلومات سامنے رکھتے ہوئے ایک نتیجے پر یقین سے پہنچ چکا تھا۔ چراغ دین کا قتل اور مونگی کے کھیت کی تباہی کا ذمہ دار سودھا سنگھ ہی تھا۔چنانچہ اُس کی گرفتاری بہت ضروری تھی۔ ولیم کمرے میں ٹہلنے لگا اور معاملات کے نشیب و فراز پر مزید غور کرنے لگا۔اسی اثنا میں کمرے کی دیواروں پر اُس کی نظر پڑی،جہاں سابقہ تحصیلداروں اور ایک اسسٹنٹ کمشنر زکی تصاویر آویزاں تھیں،جو یکے بعد دیگرے جلال آبادمیں پوسٹ کیے گئے تھے۔ولیم نے پہلے دن جب اس کمرے میں قدم رکھا تو ان تصویروں پر اُس کی نظر پڑی تھی لیکن وہ نہ جانے کیوں انھیں کمرے کی فالتو چیز سمجھ کر نظر انداز کر گیا تھا۔ اب اُس نے خیال کیا آخر ایسا کیوں ہوا۔ اُس نے ان تصاویر پر کیوں توجہ نہیں دی؟ شاید پہلی پوسٹنگ کی وجہ سے اُسے یہ گمان نہ گزرا ہو کہ اب وہ بھی ان میں سے ایک ہے۔ اُس نے سوچا شاید نئے افسروں کے ساتھ ایسا ہو جاتا ہے، انھیں کافی عرصہ تک باور نہیں آتا کہ وہ افسر بن چکے ہیں۔ اسی لمحے اُسے خیال آیا اُس کی اپنی تصویر پر بھی اب یہاں آویزاں ہو جانی چاہیے۔یہ خیال آتے ہی وہ ہلکا سا مسکرادیاپھر آگے بڑھ کر گھنٹی پر ہاتھ رکھ دیا۔ گھنٹی سن کر کرم دین دوبارہ کمرے میں داخل ہوا تو ولیم نے اس کی طرف دیکھے بغیر کافی کا آرڈر دیا اور کرسی پر بیٹھ گیا۔ کرم دین نے کمرے سے نکلنے سے پہلے ایک چٹ سامنے رکھ دی، جس پر مولوی کرامت لکھا تھا۔

 

ہاں اس کو اندر بھیجو۔ ولیم نے چٹ کو ہاتھ میں پکڑتے ہوئے کہا۔

 

کرم دین کے جانے کے ایک منٹ بعد ہی مولوی کرامت کمرے میں داخل ہو ااور سلام کر کے کھڑا ہو گیا۔ جیسے نماز میں قیام کی صورت ہو۔ ولیم نے مولوی کرامت کو سامنے بیٹھنے کا حکم دیا پھر کچھ دیر خموشی چھائی رہی۔ اس دوران ولیم نے محسوس کیا کہ مولوی کرامت اندر سے سہما اور ڈرا ڈرا تھا۔ ماتھے پر پسینے کے قطرے اُبھر آئے تھے۔اُنہیں حدِ ادب کی وجہ سے صاف کرنے سے گریز کر رہا تھا۔علاوہ ازیں ولیم سے آنکھیں بھی نہیں ملا رہا تھا اور نہ ہی پورے کمرے کو دیکھنے کی جرات کر سکا۔مولوی کرامت نے اپنی آنکھوں کو صرف اتنی اجازت دی تھی کہ وہ کسی شے سے ٹھوکر نہ کھا سکے۔اُس نے اُن کا دائرہ اپنے قدموں سے لے کر ولیم کی میز تک رکھا۔ کمرے میں میز اور ولیم کے سوا کیا کچھ تھا؟ یہ سب کچھ مولوی کرامت نہیں دیکھ سکا۔اِدھر سفید لٹھے کا سوٹ اور سفید پگڑی کی شفافیت نے ولیم کو ایک دفعہ پھر متاثر کیا۔ اسی اثنا میں کرم دین کافی کاکپ رکھ کر چلا گیا، جس کی ولیم چسکیاں لینے لگا۔ ولیم کی احساس تھا کہ اُس کی خموشی مولوی کرامت کے اضطراب کو بڑھا رہی ہے مگر وہ جان بوجھ کر اس عمل سے لطف لے رہا تھا، جو کچھ دیر تک مزید جاری رہا۔ جب ولیم نے کا فی کے گھونٹ کے ساتھ چھ سات چُسکیاں مزید لے لیں اور مولوی صاحب کی بے چینی بھی کافی بڑھ گئی، تو اُس نے بات کا آغاز کر ہی دیا۔
مولوی صاحب کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ کچھ لکھ پڑھ سکتے ہیں؟

 

حضور، غلام کچھ کچھ عربی اور فارسی کی سُدھ بُدھ رکھتا ہے۔ عرفی کے قصیدے اور حافظ کی کئی غزلیں بھی یاد ہیں۔ اس کے علاوہ سعدی کی گلستان،بوستاں اور اُردو کے میر تقی اور غالب کے کچھ شعر اور انیس کے دو مرثیے بھی یاد ہیں۔ ہیر وارث شاہ اور بابا بلھے شاہ کی ساری شاعری تو الف سے یے تک سب زبانی یاد ہے۔ بس انگریزی سے بے بہرا ہوں۔ سرکاریہ مجھے نہیں آتی حضور۔

 

عربی، فارسی اور اردو کیا لکھ بھی لیتے ہو یا صرف پڑھنا ہی جانتے ہو؟ ولیم نے دوبارہ کافی کا گھونٹ لیتے ہوئے پوچھا۔

 

مولوی کی جھجھک اب کچھ دور ہو چکی تھی اس لیے کھل کر تیزی سے بولا،سرکار فَرفَر پانی کی طرح لکھتا ہوں۔ آپ کا غلام مولوی کرامت یہ کام تو بڑے ڈھنگ سے کر سکتا ہے اور سرکار میری خوش خطی کی دھوم توقصور شہر تک ہے۔دو قُرآ ن میں نے اپنے ہاتھ سے لکھے ہیں۔ بہشتی والد نے نستعلیق، نسخ، خطِ کوفی، ہر طرح کی اِملا سکھا دی تھی۔

 

اگر ہم چاہیں کہ آپ انگریزی سیکھو تو کتنے مہینے لگیں گے؟ ولیم نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔

 

مولوی کرامت ایک دم سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور بولا، صا حب بہادر آپ مہینوں کی بات کرتے ہیں، میں کوئی بوند لایا ہوا تھوڑی ہوں۔ تھوڑا بہت لکھنے پڑھنے کا تو دنوں میں کر لوں گا۔لیکن سرکار آخر انگریزی بادشاہوں کی زبان ہے اورسب زبانوں کی بادشاہ ہے۔اس کو سیکھنے میں کچھ وقت تو لگے گا۔ مَیں اگر اِس عمر میں لکھنے پڑھنے لگ گیا تو بچوں کو کیا کھِلاؤں گا؟

 

اُس کی پرواہ نہ کرو۔ اُسی کا بندوبست ہم آپ کے لیے کرنے والے ہیں،ولیم نے کہا

 

پھر تو حضور بندہ دنوں میں ہی یہ سب کچھ سیکھ جائے گا،،مولوی کرامت انتہائی بے تابی سے بولا،، اور جو کچھ سرکار کی طرف سے کام ملے گا،وہ پورا پورا منشا کے مطابق ہو گا۔

 

او کے مولوی “ولیم نے کہا” ہم تم کو یہاں جلال آباد میں ایک ہیڈ منشی رکھتے ہیں۔تم بچوں کو اردو، فارسی اور عربی پڑھا یا کرو۔ اس جلال آباد کے بڑے سکول میں تمھاری پوسٹینگ کے آرڈر کروا دیتا ہوں۔ ہم نے تمھیں اسی لیے یہاں بلایا کہ تم سرکار کی نوکری میں آجاؤ۔ ہم تمہارا چالیس روپے مہینہ مقرر کروا دیتے ہیں۔
مولوی کرامت ولیم کی بات سن کر حیرانی اور خوشی کی ملی جلی کیفیت سے کانپنے لگا اور اُٹھ کر دونوں ہاتھ جوڑ کر ولیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اُس کی درازی ٔ عمر کی دعا میں مصروف ہو گیا،سرکار بہادر آپ کا احسان میری نسلوں کے ساتھ چلے گا۔ یہ آپ نے مجھ ناچیز پر ایسی عنایت کی ہے،جس کا صلہ خدا وند مسیح آپ کو دے گا اور میرا خدا آپ پر برکتیں نازل کرے۔ حضور برطانیہ کا سایہ ہندوستان پر تاقیامت رہے۔

 

ولیم نے ہاتھ کے اشارے سے مولوی کرامت کو خاموش ہو جانے کے لیے کہا پھر نجیب شاہ کو کمرے میں بلا کر حکم دیا، نجیب شاہ جب تک ٹی ای او نہیں آتا، مولوی کو باہر بٹھاؤ۔

 

مولوی کرامت کے جانے کے بعد ولیم نے نجیب شاہ کو کچھ اور بھی ہدایات دیں اور اُس کی طرف سے پیش کی گئی بقیہ فائلوں کا ایک ایک کر کے مطالعہ کرنے لگا۔ ان فائلوں میں محکمہ مال، فوجداری،نہری اور تحصیل کے انتظامی معاملات کے متعلق بہت معلومات افزا چیزیں تھیں، جن کا مطالعہ کرنے میں ولیم کو کم ازکم ڈیڑھ گھنٹا لگ گیا۔اس عرصے میں، ٹی ای او، تلسی داس خاکی رنگ کی بڑی بڑی جیبوں اور نصف بازؤوں والی شرٹ اور سفید رنگ کا بغیر بیلٹ کے پاجامہ پہنے تحصیل کے ایجوکیشن ریکارڈ کی فائل بغل میں دابے آچکا تھا۔ لیکن اُسے ولیم کے کمرے میں اُس وقت تک جانے کی ہمت نہیں تھی،جب تک صاحب خود دوبارہ یاد نہ فرماتے۔ وہ سر پر دو پلی ٹوپی رکھے،نجیب شاہ کے کمرے ہی میں بیٹھ کر صاحب کے مکرر بُلاوے کا انتظار کرنے لگا۔نجیب شاہ کے کمرے کے باہر مولوی کرامت بھی چپڑاسیوں کی بینچ پر بیٹھا ہوا تھا۔جس کو ولیم کے حکم کے مطابق باہر بٹھا تو رکھا تھا لیکن اُس کے بارے میں نجیب شاہ کو ابھی کوئی ہدایت نہیں ملی تھی۔ کافی دیر بیٹھنے کے بعد اندر سے بیل کی گھنٹی بجی تو تُلسی داس کی سانس میں سانس آئی کہ صاحب کو یاد تو آیا۔گھنٹی بجنے کے فوراًبعد نجیب شاہ کمرے میں داخل ہو گیا جبکہ تُلسی داس نے پہلے تو اپنی عینک اُتار کر اُس کے شیشوں کو اچھی طرح اپنی شرٹ کی جیب میں اڑسے ہوئے رومال سے صاف کیا۔پھر اُسے آنکھوں پر چڑھا لیا۔اُس کے بعد قمیض کے کالر درست کر کے اُٹھ کھڑا ہوا اور فائل کو کھول کر اُس پر ایک سرسری نظر مارنے لگا۔ اتنے میں نجیب شاہ باہر آ گیا۔ اُس سے پہلے کہ تُلسی داس آگے بڑھ کر اندر جانے کی کوشش کرتا،نجیب شاہ نے اُسے بڑی سنجیدگی سے صاحب کا اگلا حکم سنا دیا،،صاحب کہتے ہیں میٹنگ لنچ کے بعد ہو گی۔پھر انتہائی بے نیازی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔

 

صاحب کا حکم سن کر تُلسی داس دوبارہ اپنے آفس کی طرف چلا گیااورسب عملے نے بوسیدہ میزوں کی درازوں سے اپنے اپنے کھانے کے برتن اور گھی سے لپڑے ہوئے رومالوں میں بندھی روٹیاں نکال لیں اور کھانے میں مصروف ہو گئے۔ جبکہ مولوی کرامت وہیں بنچ پر بیٹھا اُن کو دیکھتا رہا، جس سے تمام لوگ اس طرح بے نیاز ہو چکے تھے جیسے وہ مولوی کرامت نہیں بلکہ صاحب کے آفس میں آج ہی کسی نے لکڑی کا پُتلا لا کر رکھ دیا ہو۔کرم دین چپڑاسی نے ایک رومال میں بندھا ہوا اپنا کھانا کھول لیا،جو محض دو سوکھی روٹیوں پر مشتمل تھا۔ اُن کے اُوپر پِسی ہو ئی لال مرچیں رکھی تھیں۔ کرم دین اپنا کھانا لے کر مولوی کرامت کے پاس آ بیٹھا اور اُسے اپنے ساتھ کھانے کی دعوت دے دی۔مولوی کرامت بھوکا تو تھا ہی،اشارہ پاتے ہی شریک ہو گیا۔ دونوں نے ایک ایک روٹی کھا کر خدا کا شُکر ادا کیا اور مٹی کے گھڑے سے پانی پی کر دوبارہ ایک طر ف ہو کر بیٹھ گئے۔ دو بجے نجیب شاہ کو دوبارہ بُلاوا آ گیا۔ نجیب شاہ نے باہر آ کر تُلسی داس کو اندر جانے کا اشارہ کر دیا جولنچ کے بعد آ کر بیس منٹ سے نجیب شاہ کمے کمرے میں بیٹھا ہوا تھا۔تُلسی داس نے آگے بڑھ کر آہستہ سے کمرے کا دروازہ کھولا اور بڑے احترام کے ساتھ ولیم کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ فائل اُس نے اپنے سینے کے ساتھ لگا رکھی تھی۔ولیم نے اُسے کچھ دیر تک خموشی سے دیکھا، پھر آنکھ کے اشارے سے بیٹھنے کا حکم دیا۔

 

ولیم نے تُلسی داس کا بھرپور جائزہ لینے کے بعد آخر گفتگو کا آغاز کر ہی دیا،،مسٹر تُلسی مجھے کچھ سوالوں کے جواب جلداور بہت مختصر چاہییں۔
، جی سر، تُلسی داس نے ولیم کی طبیعت کو بھانپتے ہوئے کہا۔

 

جلال آباد میں پرائمری، مڈل اور اپر درجے کے کتنے اسکول ہیں؟ وہاں کے طلبا اور مُنشیوں کی تعداد اور حالات کے بارے میں مجھے بتاؤ،،ولیم نے دو ٹوک لہجہ اپناتے ہوئے سوال کیا۔

 

سرتحصیل جلال آباد میں اس وقت ایک سو ستر پرائمری کے درجے کے، آٹھ مڈل اور دو اپر درجے کے اسکول ہیں۔ جن میں مُنشیوں اور طلبا کی تعداد(فائل کھول کر اُس کا مطلوبہ صفحہ آگے بڑھاتے ہوئے)اِس میں تفصیل کے ساتھ درج ہے۔ اِس کے علاوہ بورڈنگ ہاؤس،لائبریریزاوراور دوسری بہت سی معلومات سر اس فائل میں صحیح اندراج کے ساتھ جمع کی گئی ہیں۔

 

ولیم فائل سامنے رکھ کر اُس کا غور سے مطالعہ کرنے لگا۔ اس عرصے میں تُلسی داس غالباً ولیم کے اگلے سوالوں کا دل ہی دل میں اندازہ لگانے میں مصروف ہو گیا۔اسی کیفیت میں پندرہ منٹ گزر گئے۔حتیٰ کہ ولیم نے سر اوپر اُٹھا یااور بولا

 

تُلسی داس اِن اسکولوں میں مسلمان طُلبا اور مُنشیوں کی تعدادتشویشناک حد تک کم ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے ؟کیا سرکار کی طرف سے اُن کے لیے کوئی رُکاوٹ ہے؟

 

حضور،سرکار کی طرف سے اُن کے لیے کوئی رُکاوٹ نہیں۔خود اُنہی کی طرف سے رُکاوٹ ہے۔

 

مثلاً؟ ولیم نے مختصر پوچھا۔

 

اب تُلسی داس نے وضاحت کرتے ہوئے جواب دیا،،مسلمانوں کے مُلا وں نے انہیں روک رکھا ہے کہ گورنمنٹ کے اسکولوں میں نصاریٰ کی تعلیم دی جاتی ہے اور بچوں کو زبردستی عیسائی بنا دیا جاتا ہے۔وہ اسی لیے مسلمان اپنے بچوں کو گورنمنٹ کے اسکولوں میں بھیجنے سے کتراتے ہیں۔

 

لیکن وہ یہ پراپیگنڈہ اتنے وسیع پیمانے پر کس طر ح کر سکتے ہیں؟،ولیم نے فائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا،آپ کی اس رپورٹ کے مطابق پوری تحصیل میں مسلمان طلبا کی تعداد محض ایک سو پینتیس ہے، جن میں اپر درجے کے صرف اٹھارہ بچے ہیں۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے ؟

 

تُلسی داس نے سیاہ ڈوری سے بندھی ہوئی اپنی عینک آنکھوں سے اُتار کر گلے میں لٹکائی لی اور دانشوارانہ انداز میں جواب دیا،،سر،گورنمنٹ کے اسکولوں میں مسلمان طلباکی یہ حالت اسی تحصیل میں نہیں بلکہ ہر جگہ یہی کیفیت ہے۔اُن کے مُلا کے وسیع پرپیگنڈاہ کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے ہر گاؤں میں ایک مسجد ہوتی ہے، جس میں ایک دن میں پانچ بار یہ لوگ جمع ہو کر نماز پڑھتے ہیں اور جمعہ کے روز تو ہر شخص نماز کے لیے وہاں حاضر ہوتا ہے۔ جہاں یہ اپنے مولویوں کے خطبے سنتے ہیں۔اُن خطبوں میں اِسی طرح کے درس دیے جاتے ہیں۔ اکثر لوگ اَن پڑھ ہوتے ہیں لہذا وہ اپنے مولویوں کی بات کو سچ مان کر اُس پر پورا پورا عمل کرتے ہیں اور حکومت کی بار بار تاکید کے باوجود اپنے بچوں کو اسکول نہیں بھیجتے۔

 

اوں وووہوں، ولیم فکرمندی سے ہنکارہ بھرتے ہوئے بولا، اوکے مسٹر داس، ہمیں اس پر غور کر کے اس کا کوئی حل نکالنا ہے۔

 

اس کے بعد کچھ دیر خموشی چھا گئی اور ولیم اپنی کرسی سے اُٹھ کر کمرے میں ٹہلنے لگا، جسے دیکھ کر تلسی داس بھی احتراماًاُٹھ کھڑا ہوا۔ پھر چند ثانیوں کے بعد ولیم دوبارہ بولا، تُلسی داس ابھی آپ جا سکتے ہواور یہ فائل یہیں چھوڑ دو۔

 

تُلسی داس سلام کر کے کمرے سے نکلنے لگا تو ولیم اُسے دوبارہ مخاطب کر کے بولا،اور سنو
تُلسی داس آواز سُنتے ہی واپس مڑا،حکم سر

 

باہر ایک مُلا بیٹھا ہو گا نجیب شاہ کے پاس۔اُسے جلال آباد ہائی سکول میں مُنشی کی حیثیت سے نوکر کر لو،چالیس روپے ماہوار پر،،ولیم نے اپنا حکم دوٹوک سناتے ہوئے کہا، اور آج ہی اُس کا لیٹرجاری کر کے میرے پاس لاؤ۔کسی فارسی دان سے کہنا،اُس کا انٹرویو بھی کرلے۔

 

جی بہتر سر، تُلسی داس سلام کر کے کمرے سے نکل گیا
Categories
فکشن

نعمت خانہ – پہلی قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

ہر آنے والا ضروری نہیں کہ آیا ہی ہو
کہ خود نہ آیا ہووہ صرف اس کا سایہ ہی ہو
(فرحت احساس)

 

میں پُر اسرار ہوں
مگر صرف جسم کے تعلق سے
میری روح عام اور معمولی ہے
اور سوچتی نہیں ہے
(فرنانڈو پیسوا)

 

ہوا ہی وہ چشم دید گواہ تھی جس نے دیکھا کہ وہ اپنے ہی گھر میں ایک اکیلے مگر اُداس کالے چور کی طرح داخل ہوا۔ گھر پتہ نہیں بن رہاتھا یا گر رہا تھا یا کہ کھنڈر بن رہاتھا۔ یہ بھی کوئی نہیں جانتا، صرف ہوا جانتی تھی۔

 

اُس کی اُداسی اُس کے پیروں سے گر گر کر زمین پر اکٹھا ہوتی جاتی تھی۔ یہ اُداسی بھی کیسی تھی؟ یہ کسی بند کنویں میں جھانکنے کے بعد آسمان کی طرف اُٹھنے والی ایک افسردہ نظر کی طرح تھی اور آسمان لامتناہی طو رپر بے رحم تھا۔ یہ لامتناہیت صرف خوف پیدا کر سکتی تھی۔ سارے معنی، سارے مفہوم اسی لامتناہیت میں ڈوب ڈوب جاتے تھے۔

 

اس وسیع تر، بھیانک منظر میں محبت سے پکائی گئی دو روٹیاں ہی تھیں جو پرچم بن کر لہرا رہی تھیں۔ مگر یہ روٹیاں اب کسی معدے کے لیے نہ تھیں، یہ خون بن کرجسم میں دوڑنے کے لیے نہ تھیں۔ یہ فُضلہ بن کر جسم سے نکل کر تاریک موریوں میں بہہ جانے کے لیے بھی نہ تھیں، یہ تو دو گواہیاں تھیں۔ روح کی گواہیاں، ریاضی کے دو شفاف ایماندار ہندسوں کی مانند— لُٹی پٹی، اُجاڑ شکل دنیا کے ماتھے پر، لافانی اور پاکیزہ بندیا کی طرح چمکتی ہوئی، چولہے کی راکھ تک ٹھنڈی ہوئی مگر یہ لافانی ہیں اور گرم ہیں۔

 

اِس لیے ہوا نے دیکھا کہ وہ صرف اُداس ہے ۔وہ رو نہیں رہا، وہ شاید روئے گا بھی نہیں۔ وہ اپنے نمک کو سنبھال کر رکھے گا، نمک میں لاشیں دیر سے سڑتی ہیں۔ اُسے ابھی کتنا کچھ بچا کر رکھنا ہے۔

 

ہوا نے بہت سائے دیکھے تھے، ایک زمانے سے وہ صرف سائے ہی دیکھتی آئی تھی۔ کتنے سائے گہری، چوڑی اور ایک تاریک ندی میں چلتے چلے گئے ہیں۔ اُن کے پاؤں ریت سے اُتر کر گہرے پانیوں میں چلے گئے اور تب وہ اور بھی دبیز گہرے سایوں میں بدل گئے۔ ہر سفر سے واپسی پر پانی ہی کی طرف جانا ہوتا ہے۔ خلا نام کی کوئی شے نہیں، سب کچھ پانی ہے جو نظر نہیں آتا، مگر وہ ہر اُس جگہ موجود ہوتا ہے جہاں محبت ہوتی ہے، یا پھر نفرت۔

 

وہ اکیلا نہیں تھا، اس کے ساتھ دو نفس اور بھی تھے، ایک کن کٹا اورلنگڑاتا ہوا خرگوش کا سایہ جو اُس کے پیچھے پیچھے تھا اور ایک کاکروچ تھا جو اُس کی قمیص کے کالر پر تتلی کی طرح بیٹھا تھا۔

 

ہوا، اس گھر کی یا اِس مقام کی پرانی ہوا، یہاں کی ازلی مکین، ایک گرے ہوئے بھاری اور سوکھے درخت کے نیچے دبی کچلی پڑی تھی اور اب تقریباً پتھّر بن چکی تھی۔

 

درخت اپنے پتّوں، اپنی شاخوں کو نہ جانے کب کا کھو چکا تھا۔ صرف کچھ سوکھی جڑیں رہ گئی تھیں۔ زمین کے اندر ایک بے معنی اور مضحکہ خیز حد تک قابل رحم انداز میں پیوست، اور ہاں درخت کا تنا بھی تھا جو ایسی لکڑی بننے کے بہت قریب آچکاتھا جس سے گھر کے دروازوں کے جوڑ اور چوکھٹیں بنائی جاسکتی تھیں۔

 

ایسی ہوا چلتی نہیں ہے ۔یہ نہ کسی کے جسم کو لگتی ہے نہ الگنی پر لٹکے کپڑے سکھاتی ہے۔ یہ بس پتھّر بن کر اُس ملبے کے نیچے سے جھانکتی ہے۔ یہ اُس درخت کا ملبہ ہے جس سے نکل نکل کر وہ باہر آتی تھی۔ جھونکوں کی صورت چلتی تھی یا میلوں لمبی مسافت طے کرکے، جس کے پتّوں اور ٹہنیوں تک وہ آتی تھی۔ وہ درخت!

 

وہ آم کا درخت جو گزرے زمانوں کے آنگن میں لگا تھا، ہوا کو معلوم تھا کہ درخت کی کب کی موت ہو چکی۔ پھر بھی وہ اُسے چھوڑ کر نہیں گئی۔ جس طرح ایک بدنصیب بندریا اپنے مُردہ بچّے کی لاش کو لادے لادے، اپنے قابلِ رحم پیٹ سے چپکائے چپکائے پھرتی ہے، بالکل اُسی طرح ہوا اپنے درخت کی لاش کو ڈھو رہی تھی اور اُس کے ملبے کے نیچے پتھّر بن گئی تھی۔

 

پتھّر سے بڑا چشم دید گواہ کون ہے؟

 

وہ لڑھکتا، ٹھوکر کھاتا، بچتا بچاتا چل رہا تھا۔ ہوا نے محسوس کیا، زمین کے سینے پر پڑے پڑے، کہ اب زمین اپنا رونا نہیں روک پائی ۔ زمین اس کے کرمچ کے جوتوں پر رو رہی تھی جو گیلی مٹّی پر پھسل رہے تھے، وھنس رہے تھے ۔ ہوا کو یہ بھید بھی جلد ہی معلوم ہوگیا کہ وہاں ایک سنّاٹا بھی اپنی کہانی لکھ رہا تھا۔ ہوا کے لمبے لمبے کانوں میں سناٹا اپنی کہانی اُنڈیل رہا تھا۔

 

اور وہ —؟ اس نے سنّاٹے کو اپنے ٹھنڈے، گیلے جوتوں میں بھر لیا— اُسے شاید معلوم تھا کہ کیا رُونما ہونے والا ہے۔ ایک پتلی ندی کا شکار کرنے کے لیے، کہیں سے گھوم کر ایک بھیانک دریا چلا آرہا تھا۔ اور ندی، ٹھاٹھیں مارتے ہوئے اس دریا میں ملنے کو اپنا مقدّر مانتی ہوئی آہستہ آہستہ خود ہی اُس کی طرف رینگ رہی تھی۔ یہ ایک جال تھا جس میں وہ خود ہی پھنستی جاتی تھی۔

 

ہوا نے دیکھا کہ وہ سائے کی طرح، ایک کونے میں کھڑا ہے۔

 

اُسی لمحے وہ سو سال پرانا سانپ جس کی پھنکار سے گھر کی مرغیاں دہشت زدہ ہوکر مر جاتی تھیں، لہراتا ہوا، تقریباً اُسے چھوتا ہوا گزر گیا۔ یہ سانپ بھی اس گھر کا پرانا مکین تھا، مگر اُس نے نہ اُسے دیکھا نہ محسوس کیا۔ اُس نے اُن بے شمار بندروں کے سائے بھی نہیں دیکھے جن سے یہ گھر بھرا ہوا تھا۔
ہوا نے دیکھا کہ ایک جھولتے ہوئے وزنی مگر دیمک زدہ شہتیر کے نیچے سے نکلتے وقت شہد کی مکھّیوں کا ایک خالی چھتّہ اُس کے سر سے ٹکرایا تھا مگر اُسے پتہ نہ چلا۔ چھتہ جس میں کوئی مکھی نہ تھی۔ وہ ویران پڑا تھا، اس لیے اب وہ کتھئی سنہرے رنگ کا نہ ہوکر خالی اور سوکھے اجسام کی ایک سفید صورت تھا۔ اس کی مکھّیاں بھٹکتی ہوئی کسی دوسرے سیارے پر پہنچ گئی تھیں۔ وہ اب چھتہ نہ ہوکر چھتّے کا کفن نظر آتا تھا۔ اتنا ہلکا، اتنا کمزور اوربے وقعت کہ بے حد حبس میں بھی، وہ آہستہ آہستہ ہلتا اور کانپتا تھا۔

 

مایوس کُن حد تک خطرے سے خالی یہ چھتہ جب اُس کے سائے سے ٹکرایا تو گر جانے سے بال بال ہی بچا۔

 

ہوا نے دیکھا کہ اُس نے ٹھوکر کھانے سے بچتے ہوئے، درخت کے مردہ، سوکھے تنے کو پھلانگا ہے اور ٹھیک اُسی جگہ سے جہاں وہ تنہا اور سنسان کھوکا ہے جس میں لوسی اور جیک بارش سے پناہ لینے کے لیے آکر بیٹھ جاتے تھے۔

 

کھوکا اُس تنے کے ”اکیلے پن“ پر گدا ہوا ایک دوسرا اکیلا پن ہے۔ خالی گھونسلہ جو ایک بار چھوڑ د یئے جا نے کے بعد پھر کبھی آباد نہیں ہوتا، وہ لوہے کا گھونسلہ بن جاتا ہے، اور درخت کا تنا اپنے پھولوں، پھلوں، پتّیوں اور شاخوں سب سے الگ، اکیلا اور اُس کے نیچے ایک کچلی ہوئی مگر زندہ ہوا، ہوا کو موت نہیں آتی کیونکہ وہ ہمیشہ سے اکیلی ہے۔ وہ جم کر پتھّر بن سکتی ہے یا برف۔

 

ہوا چشم دید گواہ ہے کہ وہ اس طرح بھٹک رہا تھا جس طرح اگھوری سادھو شمشان میں بھٹکتے رہتے ہیں تاکہ کسی لاش میں اپنی روح داخل کرکے اُسے اپنے مفاد کے لیے استعمال کر سکیں۔

Image: Mathew Borrett

Categories
فکشن

پستان-آخری قسط

[blockquote style=”3″]

ایروٹیکا ایک ایسی نثری صنف ہے جس میں بڑے فنکارانہ انداز کوئی جنسی کہانی یا قصہ تحریر کیا جاتا ہے، دوسری بعض بڑی اصناف کے ساتھ یہ بھی مغرب سے ہمارے یہاں درآمد ہوئی۔ اس صنف میں لیکن بدقسمتی سے سنجیدگی کے ساتھ کچھ زیاده نہیں لکھا گیا جبکہ اردو میں پھوہڑ اور غیر دلچسپ جنسی کہانیوں کی بہتات ہے، پہلی سنجیده اور قابل ﺫکر ایروٹیکا اردو کے اہم افسانہ نگار بلراج مین را نے لکھی جس کا عنوان تھا، ‘جسم کے جنگل میں ہر لمحہ قیامت ہے مجھے’، اس کے بعد ابھی تک ایسی کوئی سنجیده کوشش نہیں دیکھی جا سکی ہے۔ تصنیف حیدر نے اسی صنف میں ایک ناولٹ لکھنے کا اراده کیا ہے جسے قسط وار لالٹین پر اپ لوڈ کیا جا رہا ہے

[/blockquote]

باب-12
اس ایروٹیکا کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

این اور صدر کی جس بات پر علیحدگی ہوئی تھی، وہ ایک ایسی بات تھی، جس پر کم از کم الگ ہوجانے کا تو خیال کسی کو نہیں آنا چاہیے۔لیکن ان دونوں کی ہی فطرت میں شاید محبت کا ویسا خمیر موجود نہ تھا، جس میں کسی ایک شخص کے ساتھ زندگی بھر کے تعلق کی خواہش ہو۔محبتیں بعض اوقات بڑی بے پروا بھی ہوا کرتی ہیں، ضروری نہیں ہے کہ انسان جس سے محبت کرے، اس سے کرتا ہی چلا جائے، محبت تو عین وصل کے درمیان بھی پھوٹتی ہے اور ہجر کے بیچ بھی اگتی ہے۔کسی کا حاصل ہوتا ہوا بدن اور دماغ پر تیرتی ہوئی اس کے جسم کی بھینی یادیں، یہ سب مل کر ایک عجیب و غریب کیفیت پیدا کرتی ہیں۔محبت کا دوامی تصور عام ذہنوں کا پیدا کیا ہوا ہے، ورنہ محبت تو وہ شے ہے، جو ایک وقت کے بعد اگر اپنا اثر نہ کھوئے تو بوجھ بن جائے۔کسی چیونگم میں موجود مٹھاس کی طرح یا پھر پھول میں موجود خوشبو کی طرح محبت کو ایک روز مرنا ہوتا ہے۔ختم ہونا دراصل ہر شے کا انتہائی حسن ہے، اختتام سے زیادہ بہتر بات اور کوئی ہوہی نہیں سکتی۔صدر نے انہی دنوں ایک تصویر بنائی تھی، جب وہ این کے بہت قریب تھا، جس میں ایک مرد اپنے ہاتھوں میں کسی لڑکی کے دو پستان لیے کھڑا تھا، اور دونوں پستان آہستہ آہستہ پگھلتے ہوئے معلوم ہورہے تھے۔این جاننا چاہتی تھی کہ پستانوں کے پگھلنے کا کیا مطلب ہے۔صدر کا موقف تھا کہ پگھلتے ہوئے پستان دراصل لڑکی کے پستانوں کے پنرجنم کی داستان بیان کررہے ہیں۔ہر بار جب ایک نیا تعلق لڑکی کسی سے بناتی ہے تو اس کے پستانوں کا ایک نیا جنم ہوتا ہے، ان کی سختی کا، وہ ایسی مٹھیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں، جن کے اندر بے انتہا شکنیں ایک دوسرے سے لپٹی ہوئی، ایک دوسرے کو کاٹتی ہوئی موجود ہوں۔جیسے جیسے یہ مٹھیاں صنف مخالف پر کھلتی ہیں ، پگھلتی جاتی ہیں۔ان کی تیزی، چستی اور ایک آسیبی و تیزابی کیفیت میں فرق آتا جاتا ہے۔تو این سوچنے لگی کہ کیا اس مختصر سے عرصے میں اس کے پستان بھی گھل رہے ہیں، پگھل رہے ہیں، کیا اسے اس عمل سے خود کو بچانا چاہیے۔اس نے اضطراری طور پر صدر سے پوچھا، پھر انسان کسی کے فراق میں پاگل کیوں ہوجاتا ہے۔کیا تمہارے نزدیک کسی کی دوری سے پڑنے والے شدیدنفسیاتی اثر کا کوئی وجود ہی نہیں ہے، کیا وہ متھ ہے، یہ گتھی تم کس طرح سلجھائو گے۔صدر کہتا تھا کہ گتھیاں سلجھانے والی چیز نہیں ہیں، وہ تجربے سے خود بخود سلجھنے لگتی ہیں،دنیا کی کوئی ایسی محبت نہیں، جس میں ایک وقت کے بعد بیزاری نہ پیدا ہوجائے۔این کا اصرار اس بات پر تھا کہ یہ ایک سخت گیر قسم کا بیان ہے، جس کا اطلاق تمام زندگیوں اور ذہنوں پر نہیں کیا جاسکتا۔مگر صدر کہتا تھا کہ فطرت ایک ہی چیز کا اطلاق کرتی ہے، اور جب کسی شے پر ایک ہی بات کا اطلاق نہیں ہوپاتا تو پھر اس سے دوسری چیز پیدا ہوجاتی ہے۔عورت، دراصل مرد کی ہی ایک بگڑی ہوئی شکل ہے۔جس کے بگاڑ نے ہی اسے مرد سے علیحدہ کیا ہے، اسی طرح جس طرح دوسرے چرند پرندانسان سے الگ ہیں۔این کو اس لفظ’بگڑنے’ پر شدید اعتراض تھا۔وہ سمجھتی تھی کہ صدر عورت کے معاملے میں کسی ناقد کا سا رویہ اختیار کررہا ہے۔اس نے اس بات پر شور مچانا شروع کردیا۔’عورت ہی کیوں بگڑی ہوئی شکل ہوگی، مرد بھی تو ہوسکتا ہے، مرد کے پاس ویسے بھی عورت سے زیادہ جنسی کشش کا سامان نہیں ہے، اس حساب سے تو عورت مرد کی ایک ارتقائی شکل ہے، عورت کا پورا بدن ایک جنسی آبجیکٹ کے طور پر ہمارے معاشروں میں قبول کیا جاچکا ہے۔کوئی اوپر سے کتنی بھی شرافت کا اظہار کرے، کھوکھلے بیانات یا اخلاقیات کی فہرست کو سینے پر ٹائی کی طرح ٹانگ کر گھومتا رہے، مگر عورت کے معاملے میں ہر مرد ایک ہی قسم کا ہوتا ہے، اسے بستر پر عورت کے مسکراتے یا چیختے ہوئے پستانوں کا انتظار رہتا ہے۔یہ اس لیے ہے کیونکہ مرد کو اس معاملے میں پوری طرح عورت پر منحصر ہونا پڑتا ہے اور جب وہ عورت پر سے اپنا انحصار ختم کردیتا ہے تو دنیاکے مہذب معاشرے اسے بری نگاہوں سے دیکھتے ہیں، ان تمام باتوں سے یہ ثابت ہی نہیں ہوتا کہ عورت مرد کی ہی کوئی بگڑی ہوئی شکل ہے۔صدر کہتا تھا کہ بگاڑ کا لفظ منفی نہیں ہے۔اسے منفی اس ذہنیت نے بنایا ہے، جس نے تمہیں عورت اور مجھے مرد کا خطاب دیا ہے۔ہم نے لفظوں کو چیزیں کی شناخت کے لیے ایجاد کیا تھا، لیکن پھر ہم ان شناختوں سے گھبرانے لگے۔این نے کہا کہ ظاہر ہے اگر تم مرد کو عورت کی بگڑی ہوئی شکل نہیں کہتے یا اس کی ارتقائی شکل نہیں مانتے ہو تو تم بھی تو اس شناخت سے گھبراہی رہے ہو۔صدر کو اب اپنا مقدمہ دوسری طرح بیان کرنا پڑا۔اس نے بتایا کہ وہ سمجھتا ہے کہ لفظ بگاڑ کی جگہ ہم اسے عورت کا ارتقائی عمل بھی کہہ سکتے ہیں اور پھر مرد بھی تو کسی نہ کسی جانور کی بگڑی ہوئی شکل ہی ہے۔بگڑنا دراصل بننے کا ابتدائی مرحلہ ہے، ایک شے جب دوسرے سے بگڑتی ہے تو وہ بغاوت کرکے اپنا ایک نیا راستہ پیدا کرتی ہے، یہ فطرت کا اصول ہے، میرا نہیں۔ایک ہی وقت میں کئی چیزیں ہمارے آس پاس بگڑ رہی ہوتی ہیں، مگر ہم ان پر دھیان نہیں دیتے۔جیسے کہ ہمارا جنسی عمل ، باقی لوگوں کے جنسی عمل سے جتنا کچھ بھی مختلف ہوا ہے، اس کی بڑی وجہ وہی بگاڑ یا بغاوت ہے جو ہمیں ایک ہی جیسا ہونا یا دوسروں جیسا ہونے سے روکتی ہے۔سو عورت نے بھی کسی ایک وقت میں فطرت کے اسی رویے سے بغاوت کرکے اپنے سینے پر ان دو گنبدوں کو ابھارا ہوگا، سوچو ابتدا میں جب آدمی نے عورت کا سینہ بدلتا ہوا دیکھا ہوگا، جب اسے محسوس ہوا ہوگا کہ کوئی تبدیلی آرہی ہے، یہ تبدیلی کیا ہے اور کیسی ہے، ان سوالوں نے چاہے اسے ڈرایا ہو یا چونکایا ہو، لیکن بعد میں رفتہ رفتہ عورتوں نے اور مردوں نے اس تبدیلی کو نہ صرف قبول کیا بلکہ اسے بطور حسن بھی تسلیم کیا، اندرونی بغاوتیں ہوں یا بیرونی، ظاہری ہوں یا باطنی ، ایک وقت کے بعد اپنے شباب پر آتی ہیں، خود کو منواتی ہیں اور ان کی جدو جہد کا راستہ جتنا کٹھن اور کانٹوں بھرا ہوتا ہے، ان کی خوبصورتی بھی اسی حد تک تسلیم کی جاتی ہے۔مشرقی سماجوں نے پستانوں کو بہت زیادہ اہمیت دی، ان کے ساتھ جنسی عمل کے جتنے طریقے دریافت کیے گئے، اتنے تو عورت کی گلابی یا سیاہ جھلیوں کے ساتھ بھی وجود میں نہ آسکے۔اور پھر جدید اور مہذب قسم کی روایتیں، ان پستانوں سے خوف کھانے لگیں، یعنی وہی پستان جو ایک طویل اور خوفناک قسم کی بغاوت کا نتیجہ تھے اور جن کو حسن کی دو عظیم آماجگاہوں کے طور پر ہمارے ذہنوں نے قبول کیا تھا۔جدید معاشرے نے انہیں بھٹکانے والا، پریشان کردینے والا اور مرد کے لیے خطرناک حد تک مضر ثابت کیا۔یہاں تک کہ عورتوں کو بھی یہ باور کرادیا گیا کہ ان کے سینے ، ان کے ابھار سمیت ، معاشرے کے لیے ایک ایسی لعنت ہیں، جن کا ظاہر ہوجانا خود ان کے لیے بھی سفاک ترین حد تک مصیبت میں ڈالنے والا عمل ہے۔

 

اس بحث نے این پر یہ بات روشن کردی تھی کہ صدر پستانوں کے بارے میں ایک اساطیری قسم کی منطق کا شکار ہوگیا ہے۔وہ اس دنیا میں نہیں رہ رہا ہے، جہاں پستانوں کا جنون دھیرے دھیرے ختم ہورہا ہے، عورت کو عورت تسلیم کیا جارہا ہے۔جنس کو وہ بھی اہمیت دیتی تھی ،لیکن لطف لینے کی حد تک، اسے سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اس دور میں، اتنے روشن خیال عہد میں جہاں صنفی امتیاز ختم ہوتا جارہا ہے۔عورت اب ایک جنسی آبجیکٹ نہیں رہ گئی ہے،و ہاں صدر کو ایسی پینٹنگز بنانے سے کیسے روکا جائے۔وہ کبھی کبھی سوچتی تھی کہ کیا وہ مکمل طور پر صدر کو غلط قرار دے سکتی ہے، پھر اسے خیال آتا کہ غلط یا صحیح کا پتہ نہیں لیکن اب اسے صدر سے ڈر لگنے لگا تھا، رفتہ رفتہ اس کے اندر سے وہ جنسی ہیجان بھی غائب ہورہا تھا جو پہلے اس سے مختلف قسم کے تجربے کرواتا تھا، انہوں نے اب تک بہت سے مختلف مقامات پر عجیب عجیب طرح سے جنسی عمل کو انجام دیا تھا، کبھی برسات میں بھیگتے ہوئے، کبھی جان بوجھ کر فلیٹ کی سلائڈنگ کھول کر ، وہ پڑوس کے ایک بالکل نوجوان لڑکے کو یہ خوبصورت عمل دکھایا کرتے تھے، وہ کنکھیوں سے اس پورے عمل کو دیکھا کرتا، اس کے اوپری ہونٹ پر جگمگاتے ہوئے بھورے روئیں تن جایا کرتے تھے، انہوں نے اپنے وصال میں بہت سی دوسری قدرتی اور غیرقدرتی چیزوں کو شامل کرلیا تھا، جیسے وہ اکیلے نہ ہوں، جیسے اب وہ دنیا کو ، دیکھنے اور سونگھنے والی صلاحیتوں کو اپنی سسکیاں سنانا چاہتے ہوں۔مگر این سمجھتی تھی کہ صدر کا پستانوں کے ساتھ خاص قسم کا لگائو اسے جنونی بنارہا تھا، وہ این کے داہنے پستان کو منہ میں بھر کر اس پر دانتوں کی تیز ضربیں لگایا کرتا، اپنی مٹھیوں سے انہیں ایسے بھینچتا ، جیسے کوئی طاقت ور دیو ، کسی کلی کو مسل رہا ہو۔تنے ہوئے پستانوں کے ساتھ ساتھ بعض اوقات وہ اس کے جھولتے ہوئے ، نرم اور گدگدے ابھاروں کو بھی نہیں بخشتا تھا، وہ اپنے عضو تناسل کو این کے پستانوں کے درمیان رکھ کر دو ابرقوں میں پیدا کی جانے والی رگڑ کی طرح اسے گھسنے کی کوشش کرتا۔این ہانپنے ہی نہیں، کانپنے بھی لگتی، اس کی بانچھوں سے اففف کی لمبی لکیروں کے جھاگ نکلا کرتے اور فضائیں اس کی چیخوں اور گھٹی ہوئی سسکیوں سے محبوس ہوجاتیں۔مگر وہ نہ مانتا تھا۔آدھے بدن کے اس عجیب بڑھتے ہوئے شور میں اس کی ننھی سی جان دہک دہک کر ہلکان ہوئے جارہی تھی،جب بستر آگ روشن کرتے، سانسیں، پھنکاروں میں بدل جاتیں، لفظ غائب ہوجاتے اور پیروں پر پیروں کے آہنی گرز اپنا بوجھ اتار دیتے تو بمبجوری این کو اپنی جھلیوں میں اپنی ہی انگلی کو اتارنا پڑتا، وہ وہاں سے نکلتی ہوئی دھار میں اپنے چیختے ہوئے وجود کی پتلی سی لکیر کو تر کرتی، کئی بار اس نے کوشش کی کہ صدر کا وجود اس کی شرمگاہ کے غاروں میں بھی اترے، لیکن اول تو وہ ادھر کا رخ بھولتا جارہا تھا، وہ غاروں سے نکل کر چٹانوں کی سیر کرنے میں زیادہ خوشی اور کرب محسوس کرتا، بہت دفعہ ایسا بھی ہوا کہ وہ پستانوں کو کستے کستے رونے لگا، انہیں بھینچتے بھینچتے اس کی سانسیں پھولنے لگیں اور اس کی آنکھوں میں ڈھیروں لعل دھڑ دھڑ کرنے لگے۔مگر ان آتشیں نگاہوں، ان برق رفتار آنسوئوں کی وجہ سے بھی اس کا وجود تھمتا نہیں تھا، وہ جب نڈھال ہوتا تو اکثر اوقات این کی بھوک اپنے شباب پر ہوا کرتی تھی، وہ اس ادھورے عمل سے اکتاتی جارہی تھی اور اسے خوف آنے لگا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ صدر کا جنون اس کی بھوک بڑھادے اور اس کے پستانوں کو ایک روز کھینچ کر اس کے سینے سے علیحدہ کردے۔

 

حالانکہ یہ ڈر بھی اتنا ہی غیر معقول سا تھا جتنی کہ صدر کی پستانوں کے متعلق منطق۔وہ واقعی ایک ایسی متھ تھی، جو اس نے خود گڑھی تھی، وہ اس کتاب میں لکھے ہوئے غیر معروضی قصوں سے بہت آگے بڑھنے لگا تھا، جن کو وہ کچھ عرصے تک خود ہی بے ڈھب اور بے مصرف خیال کرتا تھا۔مگر پستان ، اب اس کے وجود کا حصہ بنتے جارہے تھے ، این نے ایک روز دیکھا کہ بھیانک رات ہے، وہ پلنگ پر اوندھی لیٹی ہے، سامنے سے ایک بھورے بالوں والی ریچھنی پر سوار ہوکر صدر اس کی طرف بڑھ رہا ہے، صدر کے سینے پر دو بہت بڑے بڑے پستان اگ آئے ہیں، وہ ریچھنی کے پستانوں میں اپنے سینے کو انڈیلنے کی کوشش کررہا ہے، یہ سارا منظر اس کی نگاہوں کے سامنے دھندھکتا ہوا موجود تھا، وہ خود بھی تھوڑی دور پر اوندھی لیٹی تھی، مگر وہ وہیں موجود تھی، بالکل عین اس ریچھنی اور صدر کے سامنے۔صدر کے اس پاگل پن کو دیکھتے ہوئے، وہ اچانک اسے روکنے کے لیے اٹھی ، مگر یہ دیکھ کر اس کی گگھی بندھ گئی کہ اس کا سینہ سپاٹ ہے، بالکل سپاٹ۔اس نے ررھیاتے ہوئے صدر کی طرف دیکھا، وہ این کے پستانوں کو ریچھنی کے کولہوں پر باندھ رہا تھا، عجیب سی رنگ برنگی دھجیوں کی مدد سے۔اپنے سپاٹ سینے کو دیکھ کر این بہت دیر تک چیخنے کی کوشش کرتی رہی، مگر ایسا لگتا تھا، جیسے کسی نے اپنے انگوٹھے کے نیچے اس کی حلق کے عین درمیان آواز کو دبایا ہوا ہے، اور جب وہ چیخی تو دیکھا کہ آس پاس کوئی نہیں تھا، نہ صدر، نہ ریچھنی ،دو چمکتے ہوئے پھسلواں گلابی رنگ کے گول گول کٹوروں کے نیچے اس کے پستان محفوظ تھے۔صدر کمرے میں نہیں تھا اور یہ سناٹا بھائیں بھائیں کرکے، اس کی وحشت کو اور بڑھا رہا تھا۔رات کا پتہ نہیں کون سا پہر تھا، وہ اٹھی، اس نے کرتا پہنا اور سلائڈنگ میں جاکر کھڑی ہوگئی، اب وہ شعوری طور پر اپنے ذہن کی آنکھ کھلی رکھ کر اپنے پستانوں کا مستقبل طے کرنے جارہی تھی۔

 

پستان جو اس ہلکے خنک ماحول میں دھڑکنوں کے ہنڈولے میں پڑے خراٹے لے رہے تھے۔

 

نیچے اندھیرا تھا۔شفاف اندھیرا، جس میں سے جھانکتے ہوئے چھدرے کمپائونڈ کی آنکھیں اسے گھور رہی تھیں۔نہ جانے کب تک وہ یونہی کھڑی رہی۔اس کا جی چاہا کہ وہ سگریٹ پیے، مگر اسے ڈھونڈنا پڑتا اور اس وقت وہ ہلنے ڈلنے کے موڈ میں نہیں تھی۔وقت بیتتا رہا، جیسے اس کا تمام بدن اپنے پستانوں کی موجودگی پر خوش ہے اور ہوائیں، اس کی زلفوں، گردن کے روئوں اور پستانوں کو لوریاں سناتی رہیں۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

صدر کی آنکھ کھلی تو این جاچکی تھی۔ایک چھوٹا سا نوٹ فرج کے اوپر لگا ہوا تھا، جس میں لکھا تھا۔

 

‘میں جارہی ہوں، کیونکہ میں ابھی تک اپنے پستانوں کی موجودگی پر مطمئن ہوں۔بس تم سے اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ تم جس کتاب کو پڑھ کر بہک رہے ہو، اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے، وہ سائنس سے زیادہ ایک فکشن کی کتاب ہے۔اور وہ کتاب تمہارے ساتھ ساتھ تمہارے آرٹ کو بھی خود میں ضم کرتی جارہی ہے۔ہوسکے تو اس وہم سے خود کو باہر نکالو۔میں صرف تمہاری اتنی ہی مدد کرسکتی تھی کہ وہ کتاب تمہاری نگاہوں سے دور لے جائوں۔شاید یہی تمہارا علاج ہو۔اب ہم کبھی نہیں ملیں گے۔’

 

صدر نے ایک ٹھنڈی آہ بھری۔اسے یاد نہیں آرہا تھا کہ اس نے این کے پستانوں کے ساتھ کوئی وہمی قسم کا سلوک کیا ہو۔
Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – ساتویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(12)

 

شاہ پور جلال آباد کے شمال میں دس کلو میٹر کے فاصلے پر واقع تھا۔ اس گاؤں کی آبادی تین سو کے لگ بھگ تھی۔ ساری آبادی مسلمانوں پر مشتمل تھی۔ پورا گاؤں شیر حیدر کی ملکیت تھا اس لیے جوں کا توں غلام حیدر کی طرف منتقل ہو گیا۔ دراصل یہی وہ گاؤں تھا جو اُن کی آبائی جاگیر تھی۔ جو دھا پور شیر حیدر کو بیوی کی طرف سے ملا تھا اور جلال آباد کے مضافات میں جو دوہزار ایکڑ ز مین تھی، وہ یا تو آلاٹی تھی یا پھر خریدی ہوئی تھی۔ غلام حیدر کا آبائی گھر بھی شاہ پور میں تھا۔ گھر کیا تھا، چھوٹی اینٹوں سے بنی قلعے جیسی حویلی تھی جس کا بیرونی دروازہ گویا ہاتھیوں کے لیے بنایا گیا تھا۔ دروازے کے سامنے دائیں بائیں ڈیوڑھیاں تھیں۔ اُن کی چھتوں پر ٹاہلی کی سیاہ لکڑی کے موٹے شہتیر اور ٹاہلی ہی کے آنکڑے تھے۔ صحن میں تین چار نیم کے درخت اتنے بڑے تھے کہ پورے صحن اور حویلی کی چھتوں کے اُوپرتک اُن کی شاخیں پھیلی ہوئی تھیں۔ گرمیوں میں ان کا سایہ جس قدر راحت بخش تھا، سردیوں میں اتنا ہی تکلیف دہ ہو جاتا، جو ارد گرد کے گھروں میں بھی جا نکلتا۔غلام حیدر نے اُن کی شاخیں کبھی کٹوائی نہیں تھیں۔ کچھ حویلی کے کمروں اور دیواروں کا رعب اور کچھ اِن نیم کے پیڑوں کی جلالت اور بزرگی نے اِسے شاندار ہیئت سے نوازا تھا جو دیکھنے والے کو مرعوب کر دیتی۔ حقیقت میں یہ گاؤں ارد گرد کے تمام گاؤں سے زیادہ خوشحال تھا۔اسی گاؤں میں ایک پرائمری کے درجے تک اسکول بھی تھا۔ اسکول کی عمارت تین ہی کمروں پر مشتمل تھی لیکن اس عمارت اور سکول کی بیرونی دیوار سے بھی انگریزی وقار جھلکتا تھا۔تمام عمارت اور دیوار پختہ سُرخ اینٹوں سے بنی تھی۔

 

دیوار کے ساتھ ساتھ پاپلر اور سنبل کے بے شمار درخت بھی تھے، جن کی شاخوں اور چھاؤں کے گھیراؤ میں ساری عمارت چھپ گئی تھی۔مگر مولویوں کی کرم فرمائی سے بچوں کی تعداد بیس سے نہ بڑھ سکی۔ وہ بھی زیادہ تر ادھر اُدھر سے کچھ چو ہڑوں اور کراڑوں کے بچے تھے۔ گاؤں کے ایک دو بچے ہی پڑھنے آتے۔ گاؤں میں پیپلوں اور ٹاہلیوں کی بھرمار تھی۔ کئی مکان پکے تھے لیکن اکثر آبادی کچے گھروں میں مقیم تھی۔ مگر تھے وہ بھی صاف ستھرے۔ الغرض جودھا پور کی نسبت شاہ پور ایک خوشحال گاؤں تھا۔ لوگوں کے پاس مال مویشی بے انت تھا۔ شیر حیدر جب تک زندہ رہا، اس کی ساری توجہ اپنے آبائی گاؤں شاہ پور پر رہی۔ اُس نے خصوصی ہدایت کی تھی کہ گاؤں صاف ستھرا اور کوڑا کرکٹ سے پاک رہنا چاہیے جس پر پورا عمل کیا گیا۔ وہ اُسے ایک ماڈل گاؤں بنانا چاہتا تھا تا کہ آس پاس کے چوہدریوں پر اُس کی مزید دھاک بیٹھ جائے۔ اسی سلسلے میں اُس نے ایک دفعہ کسی سے کہہ کہلا کر اسسٹنٹ کلکٹر جلال آباد کو بھی وہاں مدعو کیا تھا،جو گاؤں کی صفائی دیکھ کر بہت خوش ہوا، شیر حیدر کے انتظام کی بہت تعریف کی اور ایک سکول کا اعلان کر گیالیکن اسے ماڈل گاؤں کا درجہ حاصل نہ ہو سکا تھا۔ خیر انہی وجوہات سے گاؤں میں مال مویشی رکھنے کی ممانعت ہو گئی۔ ان کے لیے شیر حیدر نے یہ انتظام کیا کہ گاؤں کے ساتھ ہی ایک پانچ ایکڑ کا احاطہ تعمیر کروا کے اُس کے گرد کچی دیوار کرا دی۔ تمام لوگ، جن کے پاس مال تھا، اُنھیں حکم دیا کہ وہ ڈھور ڈنگر وہیں باندھا کریں۔ اُس وقت سے پورے گاؤں کے مویشی وہیں بندھتے اور اُن کی حفاظت کے لیے ہر گھر کا ایک فرد رات کو وہاں ٹھہرتا۔ چوری چکاری کا ڈر اس لیے نہیں تھا کہ شیر حیدر کادبدبہ بہت تھا۔ غلام حیدر اپنے باپ کی وفات کے بعد ابھی تک شاہ پور نہیں جا سکا تھا۔ اُسے چراغ دین کے قتل اور دوسرے معاملات سے فرصت ہی نہ مل سکی۔البتہ شاہ پور کے اکثر مزارع جلال آباد آ کرتعزیت ضرور کر چکے تھے۔ غلام حیدر شاہ پور جانا تو چاہتا تھا لیکن وہ مونگی اور چراغ کے قتل میں ہی الجھ کررہ گیا اور اتنا وقت نہ مل سکا کہ شاہ پور کا ایک چکر لگا لے۔ سردار سودھا سنگھ پر تین سو دوکا پرچہ تو کٹ چکا تھا مگر اُس کی گرفتاری آسان بات نہ تھی۔اُس کے خیال میں اسسٹنٹ کمشنر اور تحصیل کے متعلقہ عملے نے اس مسئلے کو کچھ خاص اہمیت نہ دی تھی اورولیم کے ساتھ پہلی نا خوشگوارملاقات دوسری ملاقات میں رکاوٹ تھی۔ لہٰذا اُسے ملاقات کا وسیلہ نکال کر اِس معاملے کو اُس ڈپٹی کمشنر فیروز پور کے علم میں لانا تھا۔جس کے لیے اُس نے رات سونے سے پہلے چاچے رفیق کو سمجھا دیاتھا کہ وہ تیس جوانوں کو تیار رکھے تاکہ صبح کی نماز کے فوراً بعد فیروز پور روانہ ہو جائیں۔ غلام حیدر کو فکر یہ تھی کہ رعایا اپنے آپ کو بے بس اور لاوارث سمجھنا نہ شروع کر دے۔ وہ جانتا تھا کہ اُس کا باپ شیر حیدر جس طرح زمینوں اور رعایا کے معاملات کو سلجھاتا آیا اور پیدا ہونے والی دشمنیوں سے نبٹتا آیا تھا، اگر وہ اُس وقار کو برقرار نہ رکھ سکا تو یقیناًاُس کا اپنا مستقبل اور ذاتی ملکیت بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

 

صبح سات بجے کے قریب غلام حیدر باہر نکلا۔ دس گھوڑے اور دو بگھیاں تیار کھڑی تھیں۔ شیرا کمبو، حمیدا ماچھی، جانی چھینبا،گاموں کبوتر والا، شادھا کھوکھر، رنگو چھینبا اور دوسرے کئی جوان برچھیوں اور چَھویوں سے لیس بیٹھے حُقوں کے سوٹے لگا رہے تھے۔ ہر ایک جوش اور جذبے سے بھرا ہوا تھا کہ وہ آج فیروز پور میں بڑے صاحب سے ملاقات کریں گے اور یہ بات پہلی بار واقع ہونے والی تھی۔ شیر حیدر کے دور میں تو کبھی تحصیلدار سے نہیں مل سکے تھے۔ تحصیل جلال آباد سے فیروز پور کی راہ ساٹھ کلو میٹر تھی جس کے لیے کم از کم آٹھ یا نو گھنٹے لگ سکتے تھے۔ ریل کے اپنے اوقات تھے۔ پھر غلام حیدر نے فیروز پور میں کئی اور لوگوں سے بھی ملنا تھا۔ اس لیے سفر گھوڑے اور بگھیوں پر ہی مناسب معلوم ہوا۔ اس کے علاوہ کھلی فضا میں دشمن کے حملے کا خوف بھی کم تھا،بہ نسبت ریل کے تنگ ڈبوں کے۔

 

غلام حیدر کا خیال تھا، وہ شام سے پہلے ہی فیروز پور میں پہنچ جائے گا۔ رات شیخ نجم علی کے پاس گزارے گا کہ وہ اس کے سکول فیلو ہونے کے علاوہ گہرا دوست بھی تھا۔ فیروز پور کی عدالت میں اُس کے والد شیخ مبارک علی کا اچھا خاصا رسوخ تھا،جو ڈپٹی کمشنر کے ساتھ اُس کی ملاقات کا بندوبست بھی کر سکتا تھا۔ غلام حیدر نے ریشمی لاچا اور بوسکی کی قمیض پہن رکھی تھی۔ لاچے کا لمباؤ ایک فٹ تک زمین پر گھسٹتا تھا۔سر پر لٹھے کی کھڑکی دار پگڑی تھی۔ جسے پف لگا کر یوں اکڑا دیا جیسے سانپ کا پھن لہراتا ہوا ڈسنے کو آتا ہو۔ پاؤں میں سنہری تلے کا کُھسا چرر چررکی آواز کے ساتھ قدموں کو ہلکی ٹھاپ دے رہا تھا،گویا شیر حیدر کا دوسرا جنم ہو۔ بائیں کاندھے پر لش لش کرتی پکی رائفل اس پر مستزاد تھی۔ حویلی کے باہر اور بھی بہت سے لوگ جمع تھے۔ کچھ بوڑھی عورتیں آ کر غلا م حیدر کا سر چومنے اور دعائیں دینے لگیں۔ عورتوں کے اس طرح غلام حیدر کے گرد گھیرے نے فضا کو رقت آمیز کر دیا۔ غلا م حیدر جانتا تھا کہ وہ اُس سے بہت بڑی توقعات رکھے ہوئے ہیں۔ جنھیں اس کی دلی خواہش تھی کہ وہ پورا کرے لیکن دل میں اُس خوف کی کیفیت غالب تھی جو ولیم کے ساتھ ملاقات میں پیش آ چکی تھی۔ غلام حیدر سوچ رہا تھا، اگر ڈپٹی کمشنر نے بھی اُسی بے اعتنائی کا ثبوت دیا تو اُس کا بھرم جاتا رہے گا۔پھر بھی وہ کسی صورت بیٹھے گا نہیں۔ یہ فیصلہ اس نے دل میں کر رکھا تھا مگر اس کے بعد کیا کرے گا ؟اِس امر کی بابت اُس نے بھی نہیں سوچا تھا۔ فی الحال اُسے جلد فیروز پور پہنچ کر ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کا وسیلہ نکالنا تھا اور حکومت سے اس ناحق قتل کے سخت مواخذے کا عمل درآمد کرانا تھا۔جس نے مونگی کی فصل کو ثانوی حیثیت دے دی تھی۔

 

صبح سات بجے غلام حیدر نے بگھی پر قدم رکھ دیا۔ ایک بگھی آگے اور تھی باقی جوان گھوڑوں پر سوار غلام حیدر کی بگھی کے پیچھے جلال آباد سے نکل کھڑے ہوئے۔اِدھر بگھیاں فیروز پور کی طرف روانہ ہوئیں،اُدھر جلال آباد میں بوڑھے گپوں کے ہانکے لگانے لگے۔

 

حویلی کے دالان میں حقوں کی چلمیں انگاروں سے دہک اُٹھیں اور نمکین لسی کے دور چلنے لگے۔ آدھ آدھ سیر کے پیتل کے گلاس مجمعے کے درمیان کھنک رہے تھے۔ پوہ کی سردی میں لسی پی کر صبح کے عالم میں دھوپ سیکنا اوّل تو خود ایک طرح کی ایسی عیاشی ہے جس کا جواب نہیں لیکن اگر گپ ہانکنے کو نیا موضوع مل جائے تو سونے پہ سہاگہ ہے۔ ایسے عالم میں خاص کر پنجاب کا طبقہ اپنے نقصان پر بھی مزے لے کرتبصرے کرتا ہے اور یہی حالت اِن کی تھی۔ جودھا پور میں چراغ دین کا قتل اور مونگی کا نقصان ثانوی حیثیت اختیار کر چکا تھا۔اب تجزیے اور تبصرے کا سارا مرکز غلام حیدر کی ذات تھی۔وہ بھی اس پر کہ اُس کی پہنچ کہاں تک ہے۔ کوئی غلام حیدر کے تعلقات گورنر سے پیدا کر رہا تھا۔ کسی کا خیال تھا کہ وائسرائے خود اس معاملے میں دلچسپی لے رہا ہے کیونکہ ایک دفعہ لاہور میں اُن کے خیال میں غلام حیدر سے وائسراے کی خفیہ ملاقات ہو چکی تھی۔

 

امیر سبحانی نے تو اس سلسلے میں ایک نہایت ہی عجیب خبر نکالی۔ اُس نے ملک نظام کے کان کے نزدیک منہ کر کے کہا، ملک جی یہ بات باہر نہیں نکلنی چاہیے۔ اپنے غلام حیدر کا وائسرائے کی بیٹی سے یارانہ ہے۔ وہ اپنے شیر غلام حیدر کے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہے لیکن غلام حیدر اُسے ابھی تک ٹال رہا ہے۔ اس معاملے میں غلام حیدر کا دل جیتنے کے لیے اُس نے خود ڈپٹی کمشنر فیروز پور کو تار بھیجی ہے کہ میں اس کیس میں پورا انصاف چاہتی ہوں۔ اصل میں ڈپٹی کمشنر نے غلام حید ر کو فیروز پور بلایا ہے لیکن غلام حیدر بڑا چالاک ہے۔ اُس نے یہ بات کسی کو نہیں بتائی حتیٰ کہ اپنے فیقے کو بھی۔ دیکھنا یہ بات سچ نہ نکلے تو میری داڑھی مونڈ دینا بیچ اس مجمعے کے۔ یہ کہہ کر امیر سبحانی تسلی سے دوبارہ حقہ گڑگڑانے لگالیکن ملک نظام اس انکشاف پر ایک دفعہ اُچھل گیا۔ وہ سوچنے لگا، واقعی غلام حیدر اس چھوٹی عمر میں کتنا چالاک ہے۔ یہ سوچ کر جی میں خوش ہونے لگا کہ اب سکھوں کی موت آئی کہ آئی۔ مگر یہ ایسی خبر تھی جس کا شیدے کو پتا چلنا بہت ضروری تھا۔ وہ اس کی تہہ تک پہنچ کر آنے والے وقت کا صحیح نتیجہ نکال سکتا تھا۔ شیدا کونے والی چار پائی پر بیٹھا حالات کی گتھیاں سلجھا رہا تھا۔ جس کی بات ارد گرد بیٹھے لوگ بڑے غور سے سن رہے تھے۔ ملک نظام نے آواز دے کر اُسے اپنے پاس بلایا اور ساری کہانی سامنے رکھ دی۔ شیدے نے بات نہایت توجہ سے سنی اور کہا،دیکھ نظام بھائی، یہ بات اپنے درمیان ہی رکھنا۔اس لیے کہ اِس میں گورنمنٹ کی بے عزتی ہے اور سرکار طیش میں بھی آ سکتی ہے۔کیونکہ دھی بہن کی عزت ہر ایک کو پیاری ہوتی ہے۔البتہ اتنا ضرور ہے کہ اب سودھا سنگھ کی موت یقینی ہے۔ میں نے تو پہلے ہی کہا تھا کہ سکھوں نے شیر کی دُم پہ پاؤں رکھ دیا ہے۔ اب دیکھنا انھیں کیسا بھگتان دینا پڑے گا۔ اس کے بعد شیدا دوبارہ اُٹھ کر اپنی چارپائی پر جا بیٹھا۔ سب کو پتہ تھا نظام دین نے کوئی بات رشید سے کی ہے۔ اس لیے وہ سب اس کی ٹوہ لینے لگے۔ کافی دیر تک وہ بات کو دبائے بیٹھا رہا لیکن اس شرط پر اُس نے یہ راز کھول دیا کہ خبردار بات حویلی سے باہر نہ جائے۔

 

یہاں تو یہ کچھ چل رہا تھا، اتنے میں نظام دین کو چوکیدار نے آکر بتایا کہ جودھا پور سے رحمت علی بلوچ آیا ہے کچھ خاص خبریں لے کر۔ یہ سُن کر تمام لوگ اُٹھ کھڑے ہوئے۔ سلام دعا کے بعد اُسے درمیان کی چار پائی پر بیٹھ کر لسی کے دو گلاس دیے۔ مجیدے نے حقہ سامنے رکھ دیا، جسے دوچار دفعہ رحمت علی نے گڑ گڑایا اور مجمعے کی بے صبری کا امتحان لیے بغیر بولا،، بیلیو مَیں غلام حیدر کو ایک بڑی ضروری خبر دینا چاہتا ہوں، اُسے خبر دو کہ رحمت علی جودھا پور سے آیا ہے۔

 

نظام دین نے رحمت علی کی بات سُن کر کہا،پر غلام حیدر تو بھائی رحمت آج صبح ہی فیروز پور بڑے صاحب سے ملنے کے لیے نکل گیا ہے۔اب شاید اسے دو دن لگ جائیں واپس آنے میں۔جو بھی خبر ہے،ہمیں بتا دو۔ ہم غلام حیدر کو بتا دیں گے۔اگر خفیہ بات ہے تو غلام حیدر کا انتظار کر لو۔

 

رحمت علی نظام کی بات سن کر بجھ سا گیا۔ اس کا سارا جوش جذبہ اسی میں تھا کہ جودھا پور انگریز بہادر کے آنے کی خبر غلام حیدر کو بتائی جائے لیکن اب کیا ہو سکتا تھا۔اُسے اتنے دن یہاں رکنا گوارابھی نہیں تھا،ناچار یہ خبر نظام ہی کو سنانا پڑی اور اپنی چادر کا پلو درست کر کے کاندھے پر ڈالتے ہوئے بولا،، بھائی نظام خبر یہ ہے کہ کل انگریز بہادر جودھا پور میں آیا تھا۔اُس نے کہا کہ اُسے اُوپر سے حکم آیا ہے کہ وہ خود جا کر موقع پر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرے۔

 

نظام، رشید ماچھی اور دوسرے تمام لوگ حیران ہوئے”کیا انگریز بہادر خود جودھا پور میں آیا تھا”

 

رحمت علی نے بلائی ہونٹ سے نیچے لٹکی ہوئی مونچھ کے سفید اور کالے بالوں سے لسی کی ٹھنڈائی کو ہاتھ سے صاف کیا پھر سب لوگوں کو گھورتے ہوئے بولا، تو کیا میں دس کوس چل کر یہاں ٹھٹھہ مذاق کرنے آیا ہوں؟ مَیں آیا ہوں کہ ساری خبر چوہدری غلا م حیدر کو دوں۔اِدھر سامنے تم بیٹھے مجھے جھوٹا بنا رہے ہو۔

 

ایسے معلوم ہو رہا تھا کہ غلام حیدر کو وہاں نہ پا کر رحمت علی کا سارا مزاکِرکرا ہو گیا تھا کہ اُس خبر کی داد وہ براہِ راست غلام حیدرسے نہ لے سکا۔اور اب اس کا غصہ ان پر نکال رہا تھا۔

 

صاحب بہادر سکھوں پہ بہت غصے میں تھا، رحمت علی دوبارہ اپنی کہانی کی طرف لوٹا، کہہ رہا تھا، میں سودھا سنگھ کو چوراہے کے بیچ پھانسی نہ دوں تو ولیم نام نہیں۔ ہماری سرکار میں یہ ظلم نہیں ہو سکتا۔

 

ادھر رحمت علی یہ باتیں کر رہا تھا، اُدھر امیر سبحانی آہستہ آہستہ مسکرانے لگا گویا اپنی بات کی تصدیق ہو رہی ہو۔ آخر سب لوگ امیر سبحانی کو رشک کی نظروں ے دیکھنے لگے۔ جس نے بیچ کی خبر پہلے ہی دے دی تھی اور یہ سب کچھ وائسرائے کی بیٹی کی وجہ سے ہو رہا تھا کہ انگریز بہادر دوڑے دوڑے خود ہی انصاف کے لیے تفتیشیں کر رہے تھے۔ورنہ کہاں جودھا پور اور کہاں انگریز سرکار۔اب امیر سبحانی نے ا پنی مونچھوں کو تاؤ دیا اور اُٹھ کر اکڑتا ہوا ایک طرف جا بیٹھا۔ اُسے پتا تھا اُس کی بات کی تصدیق ہو چکی ہے۔چنانچہ مزید کریدنے کے لیے لوگ اُس کے مرہون ہیں۔ بالآخر وہی ہوا۔ لوگ اُٹھ اُٹھ کر امیر سبحانی کے پاس بیٹھنے لگے اور وہیں ایک ٹولی بندھ کر کُھد بُد ہونے لگی۔ ادھر رحمت علی کو اپنی خبر کی یوں بے وقعتی پر تاؤآ گیا۔ کچھ دیر تو وہ صبر سے بیٹھا رہا لیکن اُس سے نہ رہا گیا اور بولا، وہاں کیا تماشا ہے، بھائی اب اس مسئلے پر غور کرو کہ آگے کیا کرنا ہے ؟تھوڑی دیر کے بعد رحمت علی کو بات اپنے تک رکھنے کی شرط پر سب کہانی سنا دی گئی کہ ولیم کو آخر اُوپر سے حکم کس وجہ سے ملا تھا اور اسی بنا پر آج غلام حیدر ڈپٹی کمشنر سے ملنے فیروز پور گیا تھا۔ اب آگے جو کچھ ہو گا اُس کا اندازہ خود لگا لو۔رحمت علی اس خبر کو سن کر واقعی حیران رہ گیا۔چنانچہ اس کی کوفت کچھ دور ہو گئی کہ وہ ایک نئی خبر جودھا پور لے کر جا رہا تھا۔
Categories
فکشن

سرخ شامیانہ۔ ساتویں قسط

ناول “سرخ شامیانہ” کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

راشد کا دماغ لاچارگی، دکھ، غصے اور بائیں جبڑے سے اٹھتے تیز درد نے منتشر کر رکھا تھا لیکن وہ شکستہ یادداشت کے سہارے اور لوگوں سے پوچھتا پرانے لاہور کی گلیوں میں چلتا رہا۔ جاڑے کی سردی سے لاہور کی فضا میں پھیلا گرد، دھویں اورلید کا مرکب منجمد ہو رہا تھا اور اس گھاڑی ہوا کا سانس اس کے قدم بوجھل کررہا تھا۔ موچی دروازے میں اقبال کی دکان تک پہنچتے اس نے کئی بار سوچا کہ اس حالت میں وہ شاہد کے دکھی عزیزو اقارب کے درمیان پہنچ کر ان کی پریشانی میں اضافہ کرے یا نہ کرے لیکن اس کے پاس اور کوئی راستہ نہ تھا۔ لاہو ر میں اس کے جو چند جاننے والے رہ گئے تھے ان سے رابطہ کئی برسوں سے معطل تھا۔

 

اقبال کی دکان بند تھی، وہ یقیناً شاہد کے جنازے کے ساتھ تھا، لیکن اب تو شاہد کو دفنائے ہوئے بھی کئی گھنٹے گزر چکے ہوں گے، راشد نے افسردگی سے سوچا۔

 

شاہد کے آبائی گھرکی گلی میں لوگ ٹولیوں میں کھڑے تھے، ایک طرف اینٹوں کے چولہے پر دیگ پک رہی تھی، گھر سے عورتوں کے رونے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ اس نے نیم روشن گلی میں محوِگفتگو لوگوں پر نظر ڈالی، ان میں اس کا کوئی شناسا نہ تھا۔ وہ گھر کے دروازے پر پہنچا تو اندر سے نکلتا ایک نوجوان اسے دیکھ کر ٹھٹھک گیا۔

 

“راشد چچا، یہ آپ ہیں؟” وہ رندھی ہوئی ٓواز میں بولا”میں، میں بھیڈُو ہوں”۔

 

راشد کے حلق سے ایک بلند دھاڑ نکلی جسے وہ دن بھر ضبط کرتا رہا تھا۔ یہ ایک جانور کی دھاڑ تھی جو گلا کٹنے پر نکلتی ہے۔

 

وہ بیٹھک میں داخل ہوا تو چند لوگوں کے درمیان بیٹھا عرفان اٹھ کر اس سے لپٹ گیا۔وہ ایک دوسرے سے لپٹے سسکیوں اور ہچکیوں میں روتے رہے۔

 

“تمہارا حلیہ کیا بنا ہوا ہے؟” عرفان کو اچانک اس کے سوجھے ہوئے جبڑے کا احساس ہوا تو اس نے پوچھا۔

 

“پھر بتاؤں گا، اس حالت میں یہاں نہیں آنا چاہتا تھا لیکن میرے پاس کوئی چارہ نہ تھا”، اقبال اور خاور کے استفسار پربھی اس نے یہی دُہرایا۔

 

عرفان جنازے کے وقت تک پہنچ گیا تھا، اس نے فلوریڈا ہی سے لاہور ہلٹن میں کمرہ بُک کروا لیا تھا جہاں سامان چھوڑنے کے بعد وہ یہاں آ گیا تھا۔ قبرستان زیادہ دور نہیں تھا، اس کے اصرار پر کہ راشد رستے میں تھا اور اس کا انتظارکرنا چاہیے، خاور نے کافی دیر جنازہ اٹھنے نہیں دیا تھا۔

 

“تمہیں فون کر کرکے تھک گئے، فون بند، تمہاری کوئی اطلاع نہیں، کب تک جنازہ روکے رکھتے۔ ہوا کیا ہے تمہارے ساتھ؟” خاور نے پھر پوچھا

 

“کوئی بڑی بات نہیں، خیر ہے، پھر بتاؤں گا، بس یار کا آخری دیدار بھی نہیں کرسکا۔” راشد نے تاسف سے کہا۔

 

راشد کی درخواست پر عرفان اور اقبال اس کے ساتھ قبرستان روانہ ہوئے۔ بھیڈُو نے ان کا ساتھ دینے کا ارادہ کیا لیکن خاور کے حکم پر کہ اسے پُرسہ دینے والوں کی تواضع کے لیے گھر پر رہنے کی ضرورت تھی، وہ خاموشی سے انہیں جاتے دیکھتا رہا۔

 

اقبال نے اسے بتایاکہ قاتلوں کے بارے کچھ پتہ نہیں چلا تھا، موٹرسائیکل پر دو آدمی تھے، پیچھے والے نے فائرنگ کی اور موٹر سائیکل دوڑا کر وہ غائب ہوگئے۔ پرچہ درج ہوگیاتھا اور پولیس تفتیش کررہی تھی۔ لاش انہیں پوسٹ مارٹم کے بعد مل گئی تھی۔

 

“لیکن شاہد جیسی روح سے کسے دشمنی ہوسکتی تھی؟” راشد نے پوچھا

 

“قتل ہونے کے لیے دشمنی کی یہاں کیا ضرورت رہ گئی ہے، راشد صاحب‘‘، اقبال نے کہا،”دہشت گرد کسی کا نام پتہ کب پوچھتے ہیں”۔

 

“حالات کا کچھ اندازہ تو مجھے بھی ہو گیا ہے اسلام آباد سے لاہور پہنچتے،” راشد نے کہا

 

وہ علی الصبح اسلام آباد پہنچ گیا تھا۔ کسٹم کاوٗنٹر پر اس کے اکلوتے بیگ کی تلاشی میں وہسکی کی ایک چھوٹی بوتل برآمد ہوئی جو اس نے فرینکفرٹ ایئرپورٹ پر اپنے حواس قابو میں کرنے کے لیے خریدی تھی اور جسے چند گھونٹ لینے کے بعد وہ اسی بد حواسی میں اپنے بیگ میں رکھ بیٹھا تھا۔

 

“شرم نہیں آتی، مسلمان ہو کر شراب پیتے ہو؟ کسٹم افسر نے بوتل برآمد کرتے ہوئے رعونت سے فرمایا۔

 

“بے خیالی میں ساتھ آگئی، حواس درست نہیں میرے”

 

“باہر سے سب ایسے ہی آتے ہیں، یہاں آکر حواس درست ہوجاتے ہیں”

 

“میرا ایک دوست قتل ہوگیا ہے، میرا دماغ ماؤف ہے اور مجھے جنازے میں پہنچنے کی جلدی ہے”۔

 

“جنازوں کو کندھا دینے ہی آتے ہیں سارے، کسی کو بچانے تو کوئی نہیں آتا”

 

“او جناب ٹھیک ہے، اب کرنا کیا ہے؟”

 

“قانونی کارروائی ہو گی، بوتل ضبط ہوگی، واپسی پر لے لینا”

 

“ٹھیک ہے آپ بوتل رکھیں اور مجھے رسید دے دیں”۔ راشد نے غصے سے کہا

 

قانونی کارروائی کے لیے رسید بک کی تلاش شروع ہوئی اور اسے گھنٹہ بھر وہاں رکنا پڑا۔ اس نے لاکھ کہا کہ اسے رسید کی ضرورت نہیں تھی، وہ یونہی بوتل ضبط کرسکتے تھے لیکن رسید کا معاملہ کسی بڑے افسر تک پہنچ گیا تھا اور اب گلوخلاصی ممکن نہیں تھی۔آخروہ بڑا افسربذاتِ خود نمودار ہو۔ “تم لوگوں کے پاس اسٹیشنری تک نہیں تو کیوں لوگوں کو تنگ کر رکھا ہے یہاں، جانے دو انہیں”۔ افسر کی گرجدار آواز گونجی۔

 

تلاشی لینے والے نے بوتل بیگ میں واپس رکھی اور بیگ بند کرتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا،” ایک بوتل علیحدہ رکھ لیا کریں ہم غریبوں کے لیے، لگتا ہے پہلی بار واپس آئے ہو”۔

 

ائیرپورٹ پر ہونے والے اس سلوک نے اسے اتنا بد دل کیا کہ اس نے لاہور کی فلائٹ کا پتہ کرنے کی بجائے بس میں جانے کا فیصلہ کیا، دن ابھی شروع ہوا تھا اور وہ جنازے کے وقت تک کوچ یا بس کے ذریعے لاہور پہنچ سکتا تھا۔ ٹیکسی میں کوچ سٹیشن کی طرف سفر کرتے اس کی نظر ایک جگہ کھڑی دن میں روشنیاں چمکاتی اور باجے بجاتی لاری پر پڑی جس کے ماتھے پر لاہور لکھا تھا۔ اس نے ٹیکسی رکوائی اور وہیں اس لاری میں سوار ہوگیا۔ اس نے اپنے کوفت زدہ ذہن کو ڈھیلا چھوڑنے کی کوشش کی، سفر کی تھکن اور دل کے بوجھ میں وہ جلد ہی اونگھ گیا۔ اس کی آنکھ کھُلی تو لاری دینہ کے قریب سے گزر رہی تھی، اس قرب و جوار میں اس کا آبائی گاؤں تھا جہاں وہ بچپن میں گرمیوں کی چھٹیوں میں ٓیا کرتا تھا۔
گرم دوپہروں میں پرندوں پر غلیل چلاتے کھلنڈرے لڑکے اور ایک سرد ملک میں شیشے کے کمرے میں کمپیوٹر سے سر پھوڑتے آدمی کے بیچ زمانوں کا فاصلہ تھا۔

 

اس سے ملحقہ نشست پر ایک نوجوان طالبعلم بیٹھا تھا جس کا تعلق راولپنڈی کے کسی گاؤں سے تھا اور وہ لاہور کے کسی کالج میں زیرِ تعلیم تھا۔یہ جاننے کے بعد کہ راشد یورپ سے آرہا تھا اس نوجوان کی دلچسپی صرف اس موضوع سے رہی کہ
باہر جانے کے کیا کیا طریقے ہو سکتے ہیں۔ اس کا بیان تھا کہ وہ اس ملک سے جلد از جلد نکل جانا چاہتا تھا۔
وہاں تو زیادہ تر یہ پڑھنے سننے میں آتا ہے کہ پاکستانیوں کی اکثریت مغربی تہذیب کے خلاف ہے،” راشد نے کہا
“سب بکواس ہے جی، یہاں وہی مغربی دنیا کو گالیاں دیتے ہیں جو یہاں رہنے پر مجبور ہیں یا جن کے ہاں حلوے کی دیگیں چڑھی رہتی ہیں”، نوجوان نے تلخی سے کہا۔

 

چناب کے پُل پر سے گزرتے اسے اپنے باپ کی تلاش میں کیا سفر یاد آیا۔ کئی برس پہلے اسے ایک دور کے رشتہ دار سے اطلاع ملی تھی کہ اس کا باپ انتقال کر گیا تھا، راشد نے نہیں پوچھا تھا کہ جمیل احمد کا انتقال کب، کہاں اور کیسے ہوا اور اسے کہاں دفن کیا گیا تھا۔

 

وہ انہی خیالوں میں گُم تھا کہ اچانک لاری میں بھگدڑ سی مچی، تین نوجوان مختلف جگہوں سے اٹھے اور ان میں سے ایک نے دروازے کے ساتھ بیٹھے مسلح گارڈ کے سر پر پستول رکھ دی، دوسرے نے اس کی گن چھین لی، تیسرا راشد کے پاس ہی کھڑا چاروں طرف پستول لہرا رہاتھا۔

 

“ڈاکو، ڈاکو،”راشد کے ساتھ بیٹھے نوجوان کے حلق سے پھسی پھنسی آواز نکلی۔

 

“خاموش، کیا ہے تیرے پاس، نکال،” پستول بردار نے طالبعلم کو للکارا

 

لوٹ مار شروع ہوگئی، راشد کے قدموں میں پڑا بیگ کھُلنے پر شراب کی بوتل برآمد ہوئی۔

 

“شرم نہیں آتی، شراب پیتے ہو؟ شکل سے تو مسلمان لگتے ہو”، پستول بردار نے بوتل پر قبضہ کرتے ہوئے شدید نفرت اور غصے سے راشد کے جبڑے پر پستول کا دستہ رسید کیا۔ اچانک وار اور تکلیف کی شدت سے یکلخت راشد کا دماغ ماؤف ہو گیا، اندھیرے میں چنگاریاں اُڑ رہی تھیں اور ناقابلِ فہہم آوازوں کے جھکڑ۔

 

اس کے حواس درست ہوئے تو ڈاکو مالِ غنیمت کے ساتھ لاری سے باہر نکل رہے تھے۔ اسے معلوم ہوا کہ اس کی ساری جیبیں خالی تھیں، نقدی، پاسپورٹ، واپسی کا ٹکٹ اور موبائل فون، سب کچھ لوٹا جا چکا تھا۔ دن کا بقیہ حصہ پولیس کی پوچھ گُچھ اور آہ وزاری میں گزرا، طویل منت سماجت اور بیگ کی کسی جیب سے نکلنے والے اس کے وزیٹنگ کارڈ کی بنا پر پولیس افسر نے اس کے کاغذات چوری ہونے کی رپورٹ درج کی۔

 

“معلوم نہیں کیسے لاری اڈے سے پیدل چلتا یہاں پہنچا ہوں، اتنا کچھ بدل چکا ہے، کوئی سڑک پہچانی نہیں جاتی”، راشد نے اپنی روداد ختم کرتے ہوئے کہا۔

 

نیم تاریکی میں ڈوبے قبرستان پہ طاری موت کے سناٹے کو ارد گرد کی سڑکوں سے آتی آوازوں نے ایک ایسے مقام میں تبدیل کردیا تھا جو زندگی اور موت کے درمیان بے ترتیبی سے بکھری مٹی کی ڈھیریوں پر مشتمل کوئی سیارہ معلوم دیتا تھا۔

 

بوڑھے اورکھردرے درختوں کے درمیان چلتے وہ شاہد کی قبر پر پہنچے۔ راشد نے قبر کے قدموں میں بیٹھ کر پھر سے ایک بچے کی طرح رونا اور بلکنا شروع کردیا۔ اقبال اس کے پاس کھڑا حوصلہ دینے کے انداز میں اس کے شانے سہلاتا رہا۔

 

عرفان پتھر کے بُت کی طرح کھڑا تھا، اس کی آنکھوں کا خلا اندھیرے میں نظر آتا تھا۔

 

“پتہ نہیں کب کے اور کس کس کے لیے آنسو جمع تھے میرے اندر، مر کے مجھے تو ہلکا کردیاتم نے”، راشد نے بالآخر طویل سانس لیتے ہوئے کہا۔

 

“شاہد کو آخر کوئی کیوں قتل کرسکتا تھا، تم تو یہاں اس کے قریب ترین تھے اقبال”؟ اس نے کھڑے ہوتے ہوئے اقبال سے استفسار کیا۔

 

“میرا تو دماغ ہی بند ہو گیا ہے ڈاکٹر، “اقبال بولا،”میری دکان سے چند دکانیں آگے اس کا کلینک تھا، اس نے اگرچہ اپنی رہائش تبدیل کر لی تھی مگر ہمارا روز کا اٹھنا بیٹھنا تھا۔ شاہد کی بہت عزت تھی علاقے میں، کلینک مریضوں سے بھرا رہتا، لوگ اس کے لیے تحفے لے کر آتے تھے، اتنا سنجیدہ اور ماہر ڈاکٹر تھا میرا یار، کسی سے دشمنی کا تو سوال ہی نہ تھا۔”

 

وہ تینوں بہت دیر خاموش بیٹھے رہے، سوال تھے اور دکھ، جواب کہیں نہ تھا، قرار کہیں نہ تھا۔

 

ایک مریل سا کتا خاموشی سے ان کے پاس آکر بیٹھ گیا۔ نیم اندھیرے میں ایک آدمی نمودار ہوا، موسم گو ابھی سرد نہ ہوا تھا لیکن اس نے خود کو پوری طرح چادر میں لپیٹ رکھا تھا، صرف آنکھیں نظر آرہی تھیں۔ ان کے بالکل قریب پہنچ کر اس نے چہرے سے چادر ہٹائی، یہ غلیظ بالوں کی لٹوں اور پچکے گالوں پر بے طرح الجھی داڑھی میں چھپا چہرہ تھا، اس کی آنکھوں میں بیک وقت کرب اور دیوانگی کی چمک تھی۔

 

“توفیق؟” اچانک راشد کے منہ سے نکلا

 

“اس حلیے میں بھی پہچانا جاتا ہوں”، توفیق نے ایک کھوکھلی، دور سے آتی آواز میں کہا۔

 

(جاری ہے)
Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – چھٹی قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(11)

 

ولیم جھنڈو والا پہنچا تو ایک بج چکا تھا۔ دُھند چھٹ چکی تھی۔اس لیے گاؤں اور ارد گرد کا منظر صاف دکھائی دے رہا تھا۔ ویسے بھی سردی کی دھوپ جب چمک کر نکلتی ہے تو کچھ زیادہ ہی سفید ہو جاتی ہے۔ ولیم کا یہ چھوٹا سا قافلہ اُس کی ایما پر پانچ چھ منٹ تک جھنڈو والا سے ڈیڑھ سو گز پیچھے ہی رکا رہا۔ جیپ پر بیٹھے بیٹھے ولیم جائزہ لینے لگا۔ گاؤں کے ارد گرد زیادہ تر کماد، ہری ہری برسن کے کھیتوں کے بیچ دُور تک پھیلے ہوئے توریے کے زرد زرد پھول اور چری کی فصلیں تھیں۔ ایک دو جگہ گُڑ بنانے کے بیلنے لگے ہوئے تھے اور آگ پر چڑھی ہوئی گنے کی پت سے اٹھنے والی حرارت کی خوشبو ہوا میں گھل مل کر سانسوں کو مہکارہی تھی۔ کچھ سکھ گڈوں پر چارہ لاد کر گاؤں کی طرف جا رہے تھے۔ جگہ جگہ رہٹ اور کاریزیں تھیں۔جن کا شفاف پانی کھالیوں میں تیرتا ہواتوریے اور برسن کی فصلوں میں پھیلتا جا رہاتھا۔ اس کے علاوہ کھالیوں کے کناروں پر ٹاہلیوں اور پیپلوں کے سایہ دار درختوں کی قطاریں آگے پیچھے جمی ہوئی تھیں۔ فصلوں کی سرسبزی اور پانی کی طراوت آنکھوں سے ہو کر ولیم کے دل میں اُترنے لگی۔ اُسے جھنڈو والا کے مضافات دیکھ کر وسطی پنجاب کی ہریالیاں شدت سے یاد آئیں۔ گاؤں کے درمیان کھڑے گُردوارے کا منارہ دور ہی سے نظر آ رہا تھا۔ مختصر یہ کہ پورے گاؤں کا ظاہری ماحول پرامن اور اطمینان بخش تھا۔جس سے ولیم چند لمحے کے لیے متاثر ضرور ہوا۔ جودھا پور کی نسبت یہ گاؤں زیادہ خوش حال دکھائی دیتا تھا لیکن اس سب سر سبزی کو دیکھ کر ولیم نے کسی خیال کے پیشِ نظر انسپکٹر متھرا سے اچانک ایک چُبھتا ہوا سوال کر دیا۔متھرا کہیں ایسا تو نہیں، جھنڈو والا کی ہریالی اور فصلوں کی شادابی کی جڑوں میں ارد گرد کے گاؤں کا خون سینچا جاتا ہے۔

 

متھر داس ولیم کی طرف دیکھ کر فقط مسکرا دیا۔ غالباً متھرا جانتا تھا کہ ولیم اس کی کسی بھی بات سے اب کچھ بھی اخذ کر سکتا ہے چنانچہ خاموش رہنا ہی زیادہ بہتر تھا۔

 

کچھ ہی دیر میں ولیم نے محسوس کیا کہ کام کرنے والے کچھ لوگوں کی نظر اُن پر پڑ چکی ہے اور وہ اُسے اپنا کام چھوڑ کر بغور دیکھنا شروع ہو گئے ہیں۔ ولیم کو ان کی یہ عادت بری لگی۔ خاص کر ہندوستانیوں کی، چاہے وہ مسلمان ہوں یا سکھ، اُن کی اس مشترکہ عادت سے اُسے سخت نفرت تھی۔ وہ کسی بھی چیز کو عجوبے کی طرح دیکھنے کے عادی ہیں۔ پھر اس کے بارے میں انتہائی بیہودہ اور غلط مگر حتمی تاویلیں کرنے کے ماہر بھی۔ ولیم نے دلبیر کو حکم دیا کہ وہ گاڑی آگے بڑھائے۔ لہٰذا جیپ گاؤں کی طرف بڑھنے لگی۔ متھرانے ایک دوبار پیچھے نظر ڈالی۔ لوگ جوں کے توں کھڑے دیکھتے رہے حتٰی کہ جیپ جھنڈو والا میں داخل ہو گئی۔ ولیم کو یقین تھا کہ یہ لوگ اپنا کام چھوڑ کر یا جلد نپٹا کر تماشا ضرور دیکھنے آئیں گے۔

 

دلبیر سنگھ نے جیپ گاؤں کے عین وسط میں کھڑی کر دی۔ سو فٹ قطر کا چوک تھا۔جس کے ایک طرف وہی گوردوارہ تھا جس کا منارہ اور گھنٹا ولیم گاؤں سے باہر ہی دیکھ چکا تھا۔ بعض مکان چھوٹی اور پکی اینٹوں کے تھے مگر اکثر کچے ہی تھے۔ کچے مکانوں پر چکنی مٹی کے ساتھ نہایت صفائی سے لیپ ہوا تھا۔ چوک کے عین درمیان میں ایک شرینہہ، تین چار شیشم کے پیڑ اور ایک پیپل کا درخت تھا۔ سب کے پتے جاڑے کے سبب یا تو جھڑ چکے تھے یا ٹہنیوں پرپیلے اور خاکستری رنگوں میں تبدیل ہوئے کسی ہوا کے جھونکے کے منتظر تھے۔ عورتیں جو ادھر اُدھر آ جا رہیں تھیں،زیادہ تر لہنگے پہنے ہوئے تھیں۔ مرد چھوٹوں سے لے کر بڑوں تک قریباً ایک ہی ہیئت میں جُوڑا اور پگڑ میں نظر آئے۔ ولیم نے یہ بات بار بار سنی تھی کہ سکھ مسلمانوں کی نسبت کم متعصب ہیں لیکن ظاہری ہیئت میں اُسے سکھ زیادہ بنیاد پرست لگے۔

 

مسلمانوں کی اکثریت نہ تو داڑھی رکھتی تھی اور نہ ہی نماز کی طرف توجہ دیتی تھی۔ اِن کے مقابلے میں سکھ داڑھی اور بالوں سے بھرے رہتے۔ گاؤں کی گلیاں تنگ ضرور تھیں مگر مکانوں کے احاطے کُھلے کُھلے تھے۔ چاہے وہ پکے تھے یا کچے۔احاطوں میں شیشم اور کیکر کی لکڑی کے بڑے بڑے پھاٹک تھے۔ دیواریں قد آور نہ تھیں اس لیے احاطوں کے اندر تک نظر جاتی۔ اکثر احاطوں میں مال مویشی بندھا تھا جنھیں دیکھ کر لکڑی کے بڑے پھاٹکوں کی سمجھ آ جاتی تاکہ گڈ اور مویشی آسانی سے گزر جائیں۔

 

ہر گھر میں نیم، بیری، شیشم، شرینہہ یا اسی طرح کوئی نہ کوئی سایہ دار درخت ضرور تھا۔ گلیاں جو تھوڑی دیر پہلے قریب قریب خالی تھیں، ولیم کے گاؤں میں داخل ہونے سے کچھ ہی دیر بعد سکھوں کو اپنے گھروں سے باہر کھینچنے لگیں۔ اُن کے لیے گاؤں میں کسی گورے کی آمد طوفان سے کم نہیں تھی۔ لوگ گھروں سے باہر نکل تو آئے تھے مگر جودھا پور کی نسبت اِن کے ہاں خوف کی کیفیت زیادہ تھی۔ ہر ایک جانتا تھا کہ مونگی کی تباہی اور قتل تو بہرحال جھنڈو والا نے ہی کیا ہے۔ ولیم دیکھ رہا تھا،لوگ آپس میں کچھ کھُسر پھُسر کر رہے ہیں۔خوف کے باوجود ولیم کے ارد گرد کچھ لوگ جمع ہو گئے۔ اُن میں سے ایک شخص سے متھرا داس نے پوچھا،او بُڈھے،سردار سودھا سنگھ کا کچھ پتا ہے؟

 

اس شخص نے جس کی داڑھی ناف تک آتی تھی اور ہاتھ میں سیر بھر کا لوہے کاکڑا تھا، ہاتھ جوڑکر پرنام کیا اور کہا، صاحب جی وہ سامنے سودھا سنگھ کی حویلی ہی تو ہے۔پھر ایک طرف ہاتھ کا اشارہ کر کے،لو جی وہ سردارصاحب خود ہی آ رہے ہیں۔ ولیم نے سامنے دیکھا، سو فٹ کے فاصلے پر سردار سودھا سنگھ آ رہا تھا۔ اُس کے آگے پیچھے آٹھ دس جوان کرپانیں اور برچھیاں لیے ہوئے تھے۔ سردار کا جسمانی ڈیل ڈول، مونچھوں کا تاؤ، داڑھی کا لمباؤ اور ہاتھ میں پندرہ تولے سونے کا کڑا دیکھ کر ولیم کو ایک دفعہ کپکپاہٹ سی آ گئی۔ مگر ہر حکمران کے اندر چونکہ ایک غیر مرئی طاقت کا حوصلہ موجود ہوتا ہے۔ اس لیے ولیم نے اپنی کیفیت پر جلد ہی قابو پا لیا اور چہرے پر کسی بھی احساس سے عاری نقش واضح کر لیے۔ اتنے میں سردار سودھا سنگھ نے نزدیک ہو کرہاتھ جوڑے اور پرنام کیا۔ ولیم نے اس کا جواب انتہائی سرد مہری سے ویلکم کہہ کر دیا۔ اس کے بعد متھرا سے مخاطب ہو کر کہا، متھرا ہم کچھ دیر سودھا سنگھ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ اِن سے کہو، بیٹھنے کا انتظام کرے۔ ولیم نے سودھا سنگھ کو براہ راست مخاطب نہیں کیا تھا اور گفتگو کا انداز بھی دو ٹوک تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ صاحب کمشنر بہادر کے موڈ ٹھیک نہیں تھے۔

 

سودھا سنگھ سے بالواسطہ مخاطب ہونا اور بے پروائی سے پرنام کا جواب دینا ایسی گستاخی تھی جس نے اُس کی طبیعت کو نہایت منغض کیا۔ اُس نے سوچا سب قسمت کے کھیل ہیں،ورنہ اس گوری چمڑے کے چھ فٹ بالکے کی کیا حیثیت تھی۔ ابھی زمین میں کِلّے کی طرح گاڑ کر ساتھ ڈاچی باندھ دیتا۔یا پھر چھدّو سے کہتا کہ اِسے ذرا جھانبڑ پھیر اور بیلنے پر بیلوں کی جگہ اِس فرنگی کو جوت دیتا۔ مگر اب کیا کیا جا سکتاتھا آخر سرکار انگریز تھی۔ چنانچہ غصے کے باوجود سودھا سنگھ نے چہرے پر خوشگوار سی کیفیت پیدا کرتے ہوئے کہا، سرکار کا جھنڈو والا میں قدم رکھنا ہمارے بھاگ ہیں۔ صاحب بہادر کو برا نہ لگے تومیری حویلی حاضر ہے،وہیں بیٹھ کے بات کر لیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی سردا ر جی کے چہرے پر ہلکے پسینے کے قطرے نمودار ہو گئے۔ ولیم نے قدم بڑھائے تو متھرا فوراً باہر کی طرف ہو کر تعظیم سے چلنے لگا۔ دونوں سنتری بندوقیں لیے ولیم کے پیچھے ہو گئے۔ ولیم تھوڑا سا آگے بڑھا تو دلبیر سنگھ نے جیپ اسٹارٹ کر کے آہستہ آہستہ حویلی کی طرف بڑھا دی۔

 

ولیم جیسے ہی حویلی میں داخل ہوا، اُس کی ہیبت نے ایک دفعہ پھر اُسے اپنی جکڑ میں لے لیا۔اتنے بڑے اور وسیع احاطے میں چاروں طرف سینکڑوں برآمدے اور برآمدوں میں چھوٹی اینٹوں سے بنائئے گئے سینکڑوں ستون ایک کے بعد ایک،اس طرح پھیلے تھے جیسے ستونوں کے جنگل آْباد ہوں۔ یہ تمام ستون نوے کے زاویے کی خمدار ڈاٹوں کا بار اُٹھائے ہوئے تھے۔ان ڈاٹوں کے سروں پر گول اور چُوڑی دار محرابوں والے بام پَر پھیلائے ہوئے آگے کی طرف جھکے تھے۔ برآمدوں کے اندر بیس بیس قدم ہٹ کر کمرے تھے۔جن کے دروازے اور کھڑکیاں شیشم کی سیاہ لکڑی کی اِس خوبصورتی سے تیار کی گئیں تھیں کہ کاری گروں کو داد دیے بغیر نہیں رہا جاتا تھا۔ یہ کمرے بھی اتنی ہی تعداد میں تھے جتنی تعداد میں دروازے تھے۔ انہی برآمدوں کے ایک طرف سے کافی کھلا رستہ چھوڑ کر ایک بڑا دروازہ مزید نکال دیا گیا تھا۔جو حویلی کے زنانہ حصے کا راستہ تھا اور سردار سودھا سنگھ کے گھر کا حصہ تھا۔ ولیم اس ساری ہیبت کو دیکھنے کے بعداپنی حکومت کی ہیبت کا اندازہ لگانے لگا جس نے اس پورے ملک کی تمام حویلیوں کی گردن اپنے پاؤں کے نیچے رکھ لی تھیں۔ ولیم نے فوراً ہی اِن خیالات کو سر سے جھٹک دیا اور موجودہ صورت حال کی طرف دماغ کو لے آیا۔
جب بیٹھ چکے تو سردار سودھا سنگھ نے انسپیکڑ متھر داس ا کو مخاطب کر کے پوچھا، تھانیدار جی، کلکٹر بہادر کیا لسی وسّی پیئیں گے یا کوڑے پانی کا بندوبست ہو جائے؟متھرا کافی حد تک ولیم کا مزاج سمجھ چکا تھا اس لیے فوراً منع کر دیا۔ حویلی میں بہت سے آدمی جمع ہو گئے تھے، جنھیں سردار سودھا سنگھ نے باہر جانے کا اشارہ کر دیا۔ تمام لوگ چند ایک کے سوا جو سودھا سنگھ کے صلاح مشورے کے لیے ہر وقت کے لیے حاضر باش تھے، حویلی سے باہر جا چُکے تو سودھا سنگھ نے حویلی کا بڑا دروازہ بند کروا دیا۔

 

سودھا سنگھ نے ولیم کو بیٹھنے کے لیے ایک بڑے موڈھے کی طرف اشارہ کر دیا۔ یہ تین فٹ چوڑاپرشکوہ موڈھا بید کی شاخوں کو ریشم سے بُنی ہوئی رسیوں سے باندھ کر بنایا گیا تھا۔ اِسے ہمیشہ سودھا سنگھ کی چارپائی کے سامنے رکھا جاتا اور وہی بندہ اس پر بیٹھ سکتا تھا،جو سودھا سنگھ کا خاص آدمی ہوتاورنہ یہ خالی پڑا رہتا۔ اِس کے دائیں طرف سامنے ہی سودھا سنگھ کی چارپائی تھی۔ یہ بھی پانچ فٹ چوڑی، سات فٹ لمبی اور اڑھائی فٹ اونچی صندل کی لکڑی کے پایوں اور بازووں سے تیار کی گئی تھی۔جسے ریشمی بان سے بُنا گیا تھااور پائنتی پر کھدّر کی موٹی دوہریں تھیں۔سرھانے دیسی کپاہ سے بھرا ہوا ریشمی تکیہ پڑا تھا۔ اُس کے ساتھ سودھا سنگھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔باقی مُوڈھے اور چارپائیاں دو رُویہ بچھے تھے،جو ایسے قیمتی تو نہ تھے جیسے چارپائی یا موڈھا مگر بُرے بھی نہ تھے۔ یعنی عام گھروں کی چارپائیوں اور مُوڑھوں کی نسبت تو اچھے خاصے مہنگے تھے۔ ولیم سامنے اُسی بڑے موڈھے پر بیٹھ گیا۔ اِس کے بعد سودھا سنگھ نے بڑی چار پائی پر ٹانگیں پسار لیں اورکرپان کمر سے کھول کر سرہانے کے ساتھ رکھ دی۔اسی طرح سودھا سنگھ کے آدمی بھی چار پائیوں پر بیٹھ گئے مگر سنتری بندوقیں لیے ویسے ہی ولیم کے دائیں بائیں کھڑے رہے۔ چند لمحے خاموشی سے گزر گئے جیسے ہوا کا دم حبس کی وجہ سے گُھٹ جاتا ہے پھر فوراً ہی ولیم نے گفتگو کا آغاز کر دیا۔ اُسی لمحے متھرا نے محسوس کیا کہ ولیم کے چہرے پر ایسارعب تھا کہ ابھی تک اُس نے اِسے ایسی حالت میں نہیں دیکھا تھا۔اب وہ محض ایک نو آموزاسسٹنٹ کمشنر نہیں لگ رہا تھا بلکہ ایک منجھا ہوا انگریز سرکار کا نمائندہ معلوم ہوتا تھا۔

 

سودھا سنگھ ہم آپ کے جھندو والا میں آئے ہیں، براستہ جودھا پور۔ کیا آپ کو ہمارا اس راستے سے بغیر اطلاع دیے آناپسند آیا؟

 

سودھا سنگھ جو پہلے ہی بے قراری کی کیفیت میں تھا، کو ولیم کے پہلے ہی سوال کی تیز کاٹ نے ہلا کے رکھ دیا۔ اُسے اول تو ولیم کا اس کے نام سے سردار کا لفظ ہٹا دینا ہی بُرا لگا کہ اپنے بندوں کے درمیان اس کی یہ صاف توہین تھی۔ اس پر ستم یہ کہ سوال جس چابکدستی سے کیا گیا تھا،اِس طرح کی بجھارتوں اور چالبازیوں کے سننے کی اُسے عادت نہیں تھی۔ یہ سب عمل سودھا سنگھ پر بہت گراں گزرا۔ اِس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتا، فوجا سیؤ جو سودھا سنگھ کی ہر مشکل معاملے میں مدد کر گزرتا تھا، نے سوچا، کہیں سودھا سنگھ کوئی بونگی نہ مار دے، فوراً بولا، سرکار یہ ملک آپ کا ہے۔ ہم آ پ کی رعا یا ہیں، آپ جب اور جس وقت چاہیں اپنی رعایا کی سیوا کو آ سکتے ہیں۔ اس میں ہمارے پسند اور نا پسند کی کون سی بات ہے۔

 

ولیم کو فوجا سیؤ کی اس طرح دخل اندازی پر شدید غصہ آیا۔ وہ جانتا تھا،اِس طرح کے لوگ بات سنبھالنے کے بہت ماہر ہوتے ہیں۔ کسی بھی معاملے کو چھپانے اور مجرم کو بچانے میں ان سے زیادہ کارآمد کوئی نہیں ہوتا۔
فوجا سیؤ کا جواب سن کر ولیم نے اپنی بیت سامنے پڑی میز پر رکھ دی اور دوبارہ بولا، لیکن اُس نے فوجا سیؤ کی طرف دیکھا بھی نہیں مخاطب سودھا سنگھ کو ہی رکھا۔

 

سودھا سنگھ میرے پاس اتنا وقت نہیں کہ میں جھنڈو والا کے ہر شخص سے الگ الگ پرنام لوں۔ میں یہاں بیس منٹ ٹھہروں گا۔اِس دوران صرف آپ ہی سے بات کرنا میرے لیے عزت کا باعث ہوگی۔ جب اِن کی ضرورت پڑے گی تو انھیں تحصیل بلوا لوں گا۔ (پھر فوجا سیؤ کی طرف منہ کر کے) اور میرا خیال ہے، یہ بُڈھا بخوشی آ جائے گا۔ولیم کی بڑبڑاہٹ سن کر فوجا سیؤ تو بالکل ہی بیٹھ سا گیااور اُس کی ساری پُھرتیاں ہوا ہو گئیں۔

 

اُدھر سودھا سنگھ کو کلکٹرکی اس بات سے آگ لگ گئی، گویا کسی کے کلیجے پر سُرخ کوئلے رکھ دیے ہوں مگر جو مجرم کے اندر ایک ڈر بیٹھ جاتا ہے اور اُس کی وجہ سے دل مسلسل خوف کی حالت میں چلا جاتا ہے اور قانون ایک ایسے کالے ناگ کی طرح دکھائی دیتاہے، جس کے آگے پیجھے ڈنک ہی ڈنک ہوں۔ یہی حالت اِس وقت سودھا سنگھ کی تھی۔ اُسے نہیں معلوم تھا اس چھوٹے سے واقعے پر انگریز کمشنر خود آ جائے گا۔ دیسی تھانیداروں کی تو یہ جرأت نہیں تھی کہ وہ اس طرح بات کریں لیکن وہ اس سے پہلے کسی انگریز افسر سے کبھی دو بدو نہیں ہوا تھا اور طاقت ور حکومت کا ڈر بھی سر پر کھڑا تھا۔ اس لیے کچھ ایسا ویسا عمل کرنے سے عاجز تھا۔اگر کوئی اور ہوتا اور یہی کچھ بولتا جو یہ ولایتی مُنڈا بول رہا تھا تو وہ جھنڈو والا کی یادیں عمر بھر نہ بھولتا۔

 

آخر سودھا سنگھ نے ہمت کر کے اپنے اوسان مجتمع کیے، مونچھوں پر ہاتھ کی انگلیاں سرکائیں اور بولا،صاحب بہادر، سردار سودھا سنگھ کو کیا پتا کہ سرکار اتنالمبا چکر کاٹ کر جلال آباد سے جھنڈو والا کیوں تشریف لائی اور ہماری عزت افزائی کی۔ واہگرو کی جَے سے سرکار کی مہمانی ہمارا فرض ہے، جو ہو سکا کریں گے۔

 

ویل سودھا سنگھ”ولیم دوبارہ بولا”آپ کا گاؤں دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی۔ کنویں چلتے ہیں، گنے اور گندم ہے، ہر طرف سبزے ہی سبزے ہیں۔ سودھا سنگھ، یہاں مکئی اور برسن بھی بہت ہے، دو چار ایکڑ مونگی بھی ہوتی تو کچھ بُرا نہیں تھا۔ اِدھر اُدھر سے لوٹنے کھسوٹنے کی حاجت نہ رہتی، خواہ مخواہ کی پریشانی اٹھانا پڑتی ہے۔

 

اس جملے کے ادا کرنے کے ساتھ ہی ولیم نے سودھا سنگھ سمیت دوسرے سرداروں کے چہروں پر بھی بھرپور نظر دوڑائی اور محسوس کیا کہ سب کے رنگ واضح تبدیل ہو گئے تھے۔

 

سودھا سنگھ اپنے آپ کو فوراً سنبھال کر بولا،صاحب بہادر آپ کی باتیں کچھ میرے اُوپر اُوپر سے گزر رہی ہیں۔ واہگرو کی جَے ہو، کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں۔

 

سودھا سنگھ، ولیم نے اُسی رَو میں کہنا شروع کیا، آپ کے ہمسائے میں عجیب طرح کے کام ہوتے ہیں۔ قتل وتل تو شاید سرداروں کا معمول ہے لیکن مونگی تو ہندو کھاتے ہیں۔خاص کر بنیے، کیا میں نے غلط کہا سودھا سنگھ؟ آپ تو شاید جھٹکے کا گوشت کھاتے ہیں۔

 

میں سمجھا نہیں صاحب بہادر “سودھا سنگھ نے دونوں پاؤں چارپائی سے نیچے لٹکاتے ہوئے کہا،، آپ مجھ سے اس طرح کی باتیں کیوں کر رہے ہیں۔ کون سی مونگی اور کون سے قتل؟

 

ولیم اب اُٹھ کھڑا ہوا اور سودھا سنگھ کی چار پائی پرپائنتی کی طرف بیٹھ گیا۔ولیم کے اس عمل سے سودھا سنگھ ایک دفعہ تو لرز کر رہ گیا۔ اتنی جرأت تو جھنڈو والا میں خدا ہی کر سکتا تھا۔ سودھا سنگھ سمجھ چکا تھا کہ ولیم اُس پر ثابت کر رہا ہے کہ اب بات سیدھی سیدھی ہو گی۔

 

سردار صاحب،یہ بتائیے، اس وقت پنجاب میں کس کا راج ہے؟ولیم نے نہایت بے تکلفی دکھاتے ہوئے سوال کیا۔

 

سودھا سنگھ نے حیرت سے ولیم کی طرف دیکھا اور کہا، انگریز سرکار کا، کلکٹر صاحب، بھلا مجھے اتنا بھی نہیں پتہ؟ “ہلکا سا مسکرا کر” آج صاحب بہادرآپ عجیب طرح کی باتیں کر رہے ہیں( موڈھے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے )کمشنر صاحب یہ موڑھا میں نے آپ ہی کے لیے رکھوایا ہے۔

 

ولیم سودھا سنگھ کے آخری فقرے کو جان بوجھ کر نظر انداز کرتے ہوئے مسکرا کر بولا، چلو یہ بات تو طے ہوئی کہ رنجیت سنگھ کا راج ختم ہو چکا اور اب پنجاب پر ہمارا راج ہے۔

 

سودھا سنگھ آخر کار گھبرا کر ذرا تلخی سے بولا، سرکار آپ بجھارتیں بھجواتے ہیں۔

 

ولیم نے سودھا سنگھ کی تلخی کومزے سے محسوس کیا اور اُس کی حالت سے لُطف اُٹھاتے ہوئے دوبارہ بولا، سودھا سنگھ مَیں نے سمجھا تھا، جودھا پور جویہاں سے صرف پانچ کلو میٹر پر ہے، وہاں ایک بندہ قتل ہوجائے، بیس ایکڑ مونگی کی فصل ویران ہو جائے اور سردار سودھا سنگھ کو پتہ نہ چلے،تو ہو سکتا ہے اُسے ڈیڑھ سو میل دُور لاہور میں ابھی تک انگریزی راج قائم ہونے کی بھی خبر نہ ملی ہو۔وہ یہی سمجھے بیٹھا ہو کہ لاہور تخت ابھی تک مہاراجہ رنجیت سنگھ کے وارثوں کے پاس ہے۔ اس میں سردار صاحب بجھارتوں والی کیا بات ہے؟

 

سودھا سنگھ کے ماتھے پر دوبارہ پسینہ آگیا مگر جلدہی اپنے آپ کو سنبھالااور بولا”صاحب بہادر، مَیں لائل پور گیا ہوا تھا، کل آیا ہوں۔ رات پتہ چلاکہ جودھاپور میں ایک بندہ قتل ہو گیا ہے اور مونگی کو آگ لگ گئی ہے لیکن میں نے پورا سیاپا نہیں سنا۔

 

ولیم نے سودھا سنگھ کی طرف بھرپور طنز سے دیکھا اور کہا، سیاپا سردار جی گورنمنٹ آپ کو بتا دے گی۔ اسی لیے تو ہم آئے ہیں کہ آپ لائل پور میں تھے۔آپ کی غیر حاضری میں یہ سانحہ ہوااورآپ کو کچھ پتہ نہیں۔اب ہمارا کام ہے، اِس پورے قصے کی تفصیل بتائیں کہ آپ کی غیر موجودگی میں بدمعاشوں کا ٹولہ جودھاپور میں داخل ہوا۔ایک بندہ قتل کر دیا، مونگی کاٹ کر گڈوں اور چھکڑوں پر لاد لی اور باقی کو آگ لگا دی۔ حالانکہ یہ سب کام آپ کی موجودگی میں ہونے چاہییں تھے۔

 

سردارسودھا سنگھ گفتگو کے اس اُلٹ پھیر کے انداز سے بالکل واقف نہ تھا اور نہ ہی اسے یہ پتا چل رہا تھا کہ ولیم اِس طرح باتیں کیوں کر رہا ہے۔کس لیے سیدھی سیدھی واردات اس پر نہیں ڈال دیتا جبکہ ولیم سودھا سنگھ کو ذہنی طو رپر اذیت پہنچانا چاہتا تھا۔ جس میں وہ کامیاب ہو رہاتھا۔ اُدھر فوجاسیؤ ڈانٹ کھا کر خاموش دُور بیٹھا یہ سمجھ چکا تھا کہ سودھا سنگھ کے ہاتھ پُڑوں کے نیچے آنے ہی والے ہیں۔ اُسے پتا چل گیاتھا کہ یہ فرنگی چھوہرا واقعی ٹیڑھی کھیر ہے۔ جس کو گھمانا ممکن نہیں۔چنانچہ اُس نے خموشی ہی میں غنیمت سمجھی اور چپ چاپ بیٹھا رہا۔البتہ سودھا سنگھ نے یہ سمجھ لیا کہ اب بات کھل کر کی جائے، جو ہونا ہے وہ تو ہو ہی جائے گا۔کیونکہ سرکار کو اُس کے کرتوت کا پتہ چل گیاہے۔ ایسے ہی تویہ فرنگی چھوکرا اوکھی اوکھی باتیں نہیں کر رہا۔ لہٰذا وہ اب صاف صاف جواب دینے لگا اور کچھ دلیری سے بولا،کمشنر صاحب، غلام حیدر ابھی مُنڈا ہے۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ شیر حیدر کی مجھ سے پرخاش تھی۔پر اس کی موت کا واہگرو کی سونہہ مجھے بہت افسوس ہوا۔ لیکن یہ بات اس چھوکرے کو کون سمجھائے کہ بزرگوں پر اتنے بڑے کُوڑ ے الزام سوچ سمجھ کے لگانے چاہئیں۔ پھر بھی جو ہو سکا جودھا پور کے معاملے میں آپ کی سیواکروں گا۔ کمشنر صاحب کسی نے یہ کام کر کے شیر حیدر اور مجھ سے پرانی دشمنی کا حساب چُکایا ہے۔

 

سودھا سنگھ، ولیم نے گفتگو کا سلسلہ آگے بڑھایا” وہ کون لوگ ہو سکتے ہیں جنھوں نے شیر حیدر اور آپ سے پُرانی دشمنی کا حساب چُکایا ہے؟ کیا آپ سرکار کو اس بارے میں کچھ بتائیں گے؟

 

صاحب بہادر “اپنی داڑھی میں ہاتھ پھیرتے ہوئے سودھا سنگھ بولا” سرکار کو سمجھنے میں مشکل نہیں ہو گی۔ کمشنر صاحب، اکثر یہ کام خود ہی کیا جاتا ہے۔ہو سکتا ہے غلام حیدر نے اپنے بندے کو خود قتل کر دیا ہو۔ آپ اس معاملے پر بھی غور کر لیں۔

 

“بہت اچھا سودھا سنگھ” ولیم دوبارہ بولا،آپ بہت جلد اس الزام پر اُتر آئے ہیں جو آپ کے خیال میں بغیر ثبوت کے آپ پر لگ چُکا ہے لیکن آپ یہ بھول رہے ہیں کہ اس کے ایک دن پہلے شیر حیدر فوت ہوا ہے اور اُس کا بیٹا غلام حیدر جسے میرے خیال میں اس علاقے اور آپ سے بھی کوئی تعلق نہیں تھا، لاہور سے اسی روز پہنچا ہے۔ ہو سکتا ہے اتنی بڑی اور فوری منصوبہ بندی کی اس کو ضرورت پیش آ گئی ہو لیکن آپ کا اتنی جلدی اس پر ایسا الزام لگا ناآپ کے منہ پر نہیں پڑتا کیونکہ ابھی ابھی آپ اسے ایک ‘ندان منڈا’ کہہ چکے ہیں۔

 

اس کے بعد ولیم موڈھے سے اُٹھ کر کھڑا ہو گیا اور بولا ”ویسے سردار صاحب، آج یہاں آنے کامقصد آپ سے اعترافِ جرم کروانا نہیں تھا۔ یہ کام پولیس کا ہے۔ میں تو بس آپ کے درشن کرنے آیا تھا اور یہ بتانے کہ گورنمنٹ کی ابھی اجازت نہیں ہے کہ کوئی اپنی مرضی سے حملے کر کے قتل اور لوٹ مار کرتا پھرے۔ دوسری بات سودھا سنگھ یہ ہے کہ چارپائی بھی گورنمنٹ کی ہے اور موڈھا بھی گورنمنٹ کا۔جس پر اُس کا جی چاہے بیٹھے اور جہاں جی چاہے عدالت لگا دے۔آپ رعایا ہیں، رعایا کی طرح رہیے۔ اب حکم یہ ہے کہ آپ سر کار کی اجازت کے بغیر جھنڈو والا سے باہر نہیں جائیں گے۔

 

یہ کہہ کر ولیم چل پڑا اور اس کے ساتھ متھرا داس بھی اٹھ کھڑا ہوا۔

 

سردار سودھا سنگھ اِس کھلی دھمکی کو برداشت نہ کر سکا۔وہ اٹھ کر بولا، سرکار آپ زیادتی کر رہے ہیں۔

 

سودھا سنگھ کی بات سن کر ولیم ایک دفعہ رُکا اور پیچھے مُڑ کر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہنے لگا”سودھا سنگھ یہی بات میں کہنا چاہتا ہوں کہ سرکار نہ زیادتی کرتی ہے نہ کرنے دیتی ہے۔ چاہے قاتل سردار سودھا سنگھ کے بندے ہی کیوں نہ ہوں اور قتل ہونے والا چراغ دین ماچھی ہی کیوں نہ ہو۔

 

اس کے بعد ولیم جلد ہی حویلی سے باہر نکل آیا۔ متھرا داس ولیم کی اس تیزی اور پھرتی پر حیران ہی نہ تھا، پریشان بھی تھا۔ وہ اچھی طرح جان گیا تھا کہ ولیم کے ساتھ کام کرنا کتنا مشکل ہو گا۔چنانچہ اُسے ہر طرف سے چوکنا رہنا تھا اور اس کیس میں نہ چاہتے ہوئے بھی غیر جانبدار فیصلے کرنا تھے۔ اُس نے اپنے آپ سے کچھ عہد کیے اور کیس کی تفتیش صحیح پیمانے پر کرنے کا تہیہ کرلیا۔کیونکہ ملازمت ہر چیز سے زیادہ عزیز تھی۔ وہ بھی انگریز سرکار کی ملازمت، جس کا سکہ آدھی دنیا پر چلتا تھا۔

 

(جاری ہے)