Laaltain

سماج کا ننگا دیباچہ

تصنیف حیدر: آپ اس کتاب کا کوئی بھی حصہ پڑھ جائیے، یہ کتاب آپ کو پریشان کرے گی، پریشان اس معاملے میں کہ اتنی اچھی باتیں سمجھنے سے آپ کو کیوں روکا جاتا ہے۔والدین کیوں اپنے بچوں کی پرابلم نہیں سنتے۔سیکس آخر ہے کیا چیز؟

طلاق کی روایت اور مسلمانوں کا رویہ

تصنیف حیدر: طلاق ہرگز بری چیز نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب آپ کسی کے ساتھ زبردستی زندگی گزارتے ہیں، تو اس سے قبل آپ کو یہ یقین کرلینا ہوتا ہے کہ آپ کی ازدواجی زندگی پہلے ہی ختم ہوچکی ہے

پستان-آخری قسط

تصنیف حیدر: اس بحث نے این پر یہ بات روشن کردی تھی کہ صدر پستانوں کے بارے میں ایک اساطیری قسم کی منطق کا شکار ہوگیا ہے۔وہ اس دنیا میں نہیں رہ رہا ہے، جہاں پستانوں کا جنون دھیرے دھیرے ختم ہورہا ہے، عورت کو عورت تسلیم کیا جارہا ہے۔

پستان ۔ بارہویں قسط

تصنیف حیدر: جب این کی زبان صدر کے تالو سے چپکتی، اس کی زبان پر پھانکے گئے سفوف کا نیلا افسوں پھونکتی تو وہ بھی لڑکھڑانے لگتا، اس کی سنجیدہ سانسوں کے غار سے آوازوں کی چیاؤ چیاؤں کرتی چمگاڈریں نکل کر ہوائوں میں رقص کرنے لگتیں۔

پستان۔ گیارہویں قسط

تصنیف حیدر: آنکھ کھلی تو کال کوٹھری کے باہر ایک سپاہی سلاخوں پر ڈنڈا بجا کر اسے جگا رہا تھا۔ پتہ نہیں کیسے مگر صدر نے اسے ڈھونڈ نکالا تھا۔

اور جب لکھنوی تہذیب سے پردہ اٹھتا ہے

تصنیف حیدر: شجاع الدولہ عیاشی میں بجز شراب نوشی کے منہمک رہتے تھے۔ اکثر عورتوں کی مباشرت میں راغب اور لہو ولعب میں مصروف رہتے تھے۔ لیکن مزاج میں حیا و شرم اور عفو و اغماض اور ترحم تھا

کیا واقعی مدارس کی اب بھی ضرورت ہے؟

تصنیف حیدر: مدرسوں کو مکمل طور پر تالا لگا کر ان کی جگہ ایسے سکولوں کی بنیاد ڈالنے کی ضرورت ہے، جو آئندہ نسلوں کے لیے کارگر ثابت ہوسکیں اور انہیں دنیا کے باقی بچوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر بہتر مستقبل کا نقشہ تیار کرنے میں مدد دے سکیں۔

ماں ہونا ضروری نہیں

تصنیف حیدر: عورت کا عورت ہونا کافی ہونا چاہیے، جبکہ ماں بنا کر ہم اس کی صنفی کشش اور ضروریات کو دبانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔

پستان ۔ نویں قسط

تصنیف حیدر: وہ کہا کرتی تھی کہ دنیا اس کمرے کی طرح ہے، جس میں ہمیں بند کرکے لاک کردیا گیا ہے، اس لیے رونے دھونے سے بہتر ہے کہ ہم اپنی ضرورت اور پسند کی چیزیں حاصل کریں یا چھین لیں۔

پستان۔ آٹھویں قسط

تصنیف حیدر: این جب صدر سے بچھڑی تھی تو وہ وجہ اس قدر معمولی تھی کہ کوئی سوچ بھی نہ سکے۔ لیکن ان کا ملنا ایک عالیشان محل کے پھاٹک کی طرح ہمیشہ شاندار اور جاذب نظر معلوم ہوتا تھا۔

پستان – ساتویں قسط

تصنیف حیدر: دھوپ زخموں اور چھالوں پر مرہم لگانے لگی۔آخری منظر جو میں نے دیکھا وہ سلائڈنگ میں اڑتی ہوئی ایک بھنبھیری تھی۔ہرے رنگ کی، پھرپھر کرتی، تیز اور آزاد، بالکل کچ اور صدر کی طرح۔

دس برسوں کی دلی ۔ قسط نمبر 11

تصنیف حیدر: اردو بازار تو غالب کے عہد میں ہی ختم ہوچکا تھا۔یہ کچھ اور ہے اور اس کچھ اور میں، ایک نقالی موجود ہے، جس کو دیکھنے اور محسوس کرنے کے لیے بس ایک ایسی آنکھ چاہیے، جو روز کے ان ہنگاموں میں مل کر یہیں کا ایک منظر بن کر نہ رہ جائے۔

میں جنگ کے خلاف ہوں لیکن۔۔۔۔

تصنیف حیدر: جب بھی کہیں کوئی موت ہوتی ہے، ہمیں اس کا دکھ منانا چاہیے، دکھ اس معاملے میں کہ آج ایک پھول پک کر، سڑ کر، پچک کر زمین پر گرپڑا ہے۔

دس برسوں کی دلی – قسط نمبر 9

تصنیف حیدر: سڑک پر ہر آدمی صر ف آدمی ہونا چاہیے، اس کا عہدہ، اس کا کردار، اس کی ذہانت، اس کی خوبصورتی یا بدصورتی سب کچھ ایک سیال میں ڈوبے ہوئے برادے کی طرح گھل مل جانا چاہیے لیکن ایسا یہاں نہیں چل سکتا تھا۔

دس برسوں کی دلی۔ قسط نمبر 6

اصولوں کی اس منڈی میں جس بری طرح اس کی خواہش کو رگیدا اور بے عزت کیا گیا ہے، وہاں اگر اس نے چاند چھونے کا کوئی چور راستہ دریافت کربھی لیا ہے تو اس میں کوئی برائی نہیں۔