Categories
فکشن

ایک مردہ فلسفی کا روزنامچہ

میں ان شاعروں اور فلسفیوں کو کیا جواب دوں گا جو پہلے سے مر چکے ہیں کہ میری زندگی کا سب سے خوش کن لمحہ کون سا تھا اور کس بات نے مرتے وقت مجھے سب سے زیادہ رنجیدہ کیا۔
میں مر چکا ہوں، شاید یہ واحد خواہش ہے جو میری پوری ہوئی اور آخری بھی کہ اس کے بعد میں کوئی خواہش نہیں کر سکوں گا۔ میں اب بھی خوش نہیں ہوں اس لئے نہیں کہ ‘مرنا ہمیشہ ہی ناخوشگوار ہوتا ہے’، اور حادثاتی موت تو انسان کے ساتھ رونما ہونے والا بد ترین فعل ہے یا مر کے جو حساب دینا ہے اس کے لئے کیا جمع خرچ کیا ہے اور نہ ہی اس لئے کہ میں میرے پیاروں سے بچھڑ چکا ہوں، اس لئے بھی نہیں کہ میں میرے لوگوں کو یکجا ہوتے نہیں دیکھ سکا۔ میری ناراضی یا یوں سمجھ لیجئے کہ پریشانی یہ بھی نہیں کہ میرے دوست جنہیں میں خود کو یاد کرنے کے قابل کوئی موقع نہ دے سکا بہت جلد مجھے بھول جائیں گے، بلکہ مجھے افسوس ہے تو اس لمحہ کا جو میں نہیں دیکھ سکا یا مجھے دیکھنا نصیب نہ ہوا۔ اور میرے قاتل کو سزا ملنی چاہیے تو فقط اسی وجہ سے کہ اس نے مجھے اس لمحہ سے محروم کر دیا جو کسی انسان کی زندگی کا کل اثاثہ ہوتا ہے۔ اس نے مجھے اس معلومات سے بھی محروم کر دیا جو صرف ایک مرنے والا ہی جان سکتا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ مرنے کے بعد لوگ زیادہ تر مردے کے بچھڑنے سے زیادہ اس بات پہ افسوس کرتے ہیں کہ وہ نجانے کتنی خوشیوں سے محروم رہ گیا جو مستقبل میں اس کو ملنا تھیں اور یہ بھی کہ کسی غم کی صورتحال کے دوران وہ کس طرح کا برتاؤ کرتا۔ انسان کا رویہ ایک ہی قسم کی خوشی اور غمی کے دوران بدلتا رہتا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ میں بھی اسی طرح سوچا کرتا تھا۔ اور اسی طرح بہت سی اور باتیں جو اکثر لوگ ایک ہی طرح سے سوچتے ہیں۔ جیسے ایک دن جب میں نے اپنے دوست کو کہا کہ ٹرک کی چھت پہ بیٹھے انسان ہوائی جہاز پہ بیٹھنے والوں سے زیادہ خوش قسمت ہیں کہ کم اونچائی سے ہی سہی انہیں فضائیں دیکھنے کیلئے شیشوں میں مقید نہیں ہونا پڑتا اور نہ انہیں جہاز سے اترنے والے کی طرح اڈے پر انتظار کرنا پڑتا ہے اور نہ ہی اس رسم کی غلامی کہ جہاز سے اترو اور لوگوں سے ایسے ملو کہ دنیا فتح کر کے آئے ہو، بس اڈے پہ پہنچے نیچے اترے اور گھر چلے گئے۔ اور میری یہ بات سن کر وہ دوست بھی اچھل پڑا کہ وہ بھی ایسے ہی سوچتا تھا۔

 

کیا کروں کہ میں نے جو دوست بھی بنایا یا وہ بالکل میری ہی طرح تھا۔ یہ بھی اکثر مجھے احساس کمتری میں مبتلا کر دیتا تھا کہ ایسی فطرت کہ باوجود بھی میں انفرادی نہیں تھا۔ اور دلچسپ یہ کہ میری ٹرک پہ بیٹھنے کی خواہش بھی کبھی پوری نہ ہو سکی۔

 

ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ باوجود مرنے کے بھی میں خوش نہیں تھا۔ میں خوش کیسے ہو سکتا تھا کہ میں میری زندگی کی فلم نہ دیکھ سکا۔ میں ان شاعروں اور فلسفیوں کو کیا جواب دوں گا جو پہلے سے مر چکے ہیں کہ میری زندگی کا سب سے خوش کن لمحہ کون سا تھا اور کس بات نے مرتے وقت مجھے سب سے زیادہ رنجیدہ کیا۔ میں یہ بھی نہ جان سکا کہ دوستوں میں کون مجھے سب سے زیادہ پیارا اور کس سے بچھڑنا سب سے دردناک ہو تا۔ میں فارسی ادب کے ستاروں سعدی اور رومی کے سامنے بھی نہیں جا سکوں گا کہ ان میں سے کس کیساتھ یہ بحث کر سکوں کہ مرتے وقت جان ہونٹوں یا ناخنوں میں کس سے نکلتی ہے اور یہ کہ ان کو بول سکوں کہ آپ میں سے جان نکلنے کے حوالے سے ایک شخص غلطی پہ تھا اور یہ بھی قانون قدرت ہے کہ اس نے میرے سامنے انکی لاج رکھ لی تھی کہ کسی کو بھی غلط ثابت نہیں ہونے دیا۔

 

۔ زندگی اس دن بھی چڑچڑاہٹ میں بدل گئی جب میں لائبریری میں اس بوڑھے پڑھاکو سے ملا جس کے رشتہ دار آزادی کے وقت مار دیے گئے تھے اور ستر سالوں میں کسی نے اس کے اوپر دست شفقت نہیں رکھا تھا۔
بچپن میں زندگی میرے لئے خدا کی سب سے بڑی نعمت تھی، میں جو چاہتا کر سکتا تھا، کسی روک ٹوک کے بغیر اور پھر ایک دن مجھے سکول بھیج دیا گیا۔ میں پریشان نہیں تھا بلکہ اس کو زندگی کی خوبصورتی سمجھتا تھا، میں ٹی وی بھی دیکھتا تھا اور یہی سمجھتا تھا کہ میری زندگی کی اگلی قسط شروع ہو گئی ہے۔ ہر روز نئے نئے لوگوں سے ملنا، نئی نئی باتیں سیکھنا جس میں جھوٹ بولنا بھی تھا کسی طلسماتی کہانی جیسا لگتا تھا۔ اور بعد میں میں نے محسوس کیا کہ یہ جھوٹ ہی تھا کہ زندگی اور زمانے کے متعلق میں شک بھری نظروں سے دیکھنے لگا۔ میں جب نئی پود کو دیکھتا ہوں تو پریشان ہو جاتا ہوں کہ کیا وہ مجھ سے بھی پہلے زندگی سے تائب ہونے کا سوچ لیں گے کہ ان کے پاس زندہ رہنے کے جواز کم سے کم ہوتے جا رہے ہیں۔ پھر جوں جوں میں بڑا ہوتا گیا میرے اندر جینے کی خواہش کم اور نہ جینے کی بڑھتی گئی۔ یونیورسٹی کے دوران تو میں نے اپنے آپ کو مکمل طور پہ ملامتی ادب اور اس کے پس منظر میں محدود کر لیا۔ میں نے ورجنیا وولف اور ہیمنگوے کے متعلق بھی پڑھا کہ کس طرح انہوں نے موت کے مقابل زندگی کو ٹھکرا دیا تھا۔ اور ایسی ویڈیو بھی دیکھی جس میں ایک شخص سوئٹزرلینڈ میں خودکشی کے قانون کے لاگو ہونے کے بعد گھر والوں کے سامنے اپنی جان دے دیتا ہے۔ مشینوں نے اس کی جان اس انداز سے نکالی کہ مرتے وقت اس کے چہرے پہ مسکراہٹ تھی اور میں سوچ میں پڑ گیا کہ لمحہ موجود میں وہ شخص کس بات پہ مسکرا رہا تھا۔ کیا وہ ایسا شخص تھا جو نیا گھر لینے پر پہلے اس میں جاتا ہے اور گھر والوں کے لیے اس کو سجاتا ہے اور انتظار کرتا ہے کہ وہ جلد ہی آنے والے ہیں۔ یونیورسٹی کے بعد زندگی بالکل رک سی گئی تھی، وہ راستے جن پر میں کبھی دوستوں کے ساتھ پھرتا تھا میرے لئے بالکل اجنبی بن چکے تھے۔ اس کے اوپر چلتی بسیں کسی منزل سے محروم ہو چکی تھیں، ان سے اترتے لوگ یوں لگتے کہ اتریں گے اور غائب ہو جائیں گے اور چڑھنے والے تب تک ہی زندہ ہیں جب تک وہ اترتے نہیں اور اسی نہ ختم ہونے والے سفر کی دلدل میں دھنس جائیں گے جس سے واپسی ممکن نہیں۔ زندگی اس دن بھی چڑچڑاہٹ میں بدل گئی جب میں لائبریری میں اس بوڑھے پڑھاکو سے ملا جس کے رشتہ دار آزادی کے وقت مار دیے گئے تھے اور ستر سالوں میں کسی نے اس کے اوپر دست شفقت نہیں رکھا تھا۔ لیکن وہ تو زندگی اور موت دونوں سے باغی تھا۔ وہ موت سے باغی تھا کہ اس نے اس کا سب کچھ چھین لیا اور زندگی سے بھی کہ وہ اس کے خاندان کی حفاظت نہ کر سکی۔ کہتے ہیں موت تنہائی ہے تو کیا وہ پہلے ہی سے مر چکا ہے، شاید وہ مر چکا ہے اس لئے تو اسے کبھی زندوں کے پاس نہیں بیٹھتے دیکھا تھا۔

 

مجھے محسوس ہوا کہ میں ان کے نزدیک ایک درخت کی سی حیثیت اختیار کر چکا ہوں، جسے انہوں نے اگایا ہو، اس کی نوک پلک سنواری ہو اور کیڑے مار ادویات ڈالی ہوں کہ پھل دے سکوں
میرے مرنے کی خواہش کا ایک سبب میرا زندہ لاشوں کے بیچ رہنا بھی تھا۔ میں لکشمی چوک کی پچھلی طرف ایک ایسے ہاسٹل میں رہتا تھا جہاں صرف جراثیم ہی رہ سکتے ہیں اور جراثیم اگر انسان ہوتے تو یہ ہاسٹل ڈیفنس ہوتا۔ اس ہاسٹل کے بارے میں سب سے دلچسپ یا قابل نفرت اس کا ایسی جگہ پہ ہونا تھا جہاں ہر طرف لوہے کے کوٹے جانے، ویلڈنگ کے جوڑے جانے اور پرنٹنگ پریس کی چھپ چھپ کرتی مشینوں کا شور تھا۔ اکثر جب میں تھک ہار کر شام کو یہاں آتا تو سب سے پہلے جو چیز نظر آتی وہ غسل خانوں کے اندر سے نکلتا گندا پانی اور اس کی نتھنے جلا دینے والی بو ہوتی۔ یہاں پانی کبھی اس وقت نہیں آتا تھا جب اسکی ضرورت ہو اور جب اس محلہ میں پانی کی ضرورت نہ رہتی تب وہ سارا یہاں آ جاتا تھا۔ اس کے رہائشی بالکل ایسے افراد نہیں تھے جن کا میں نے کبھی سامنا کیا تھا۔ اور ان کو دیکھ کر مجھے اور بھی احساس ہوتا رہا کہ زندگی ملنا اور گزارنا کس جرم کی سزا تھی۔ ابھی دیکھیے نا میرے سامنے ایک ایسا بڈھا رہتا تھا جس نے اپنی زندگی کی ساری کمائی ایک شخص کو اس وجہ سے دے دی کہ وہ کسی کاروبار میں لگا دے اور اس کو ہر ہفتہ اس کا منافع دیتا رہے اور وہ بھی نوسرباز نکلا۔ یا میرا پڑوسی “ہیپی” جو گاؤں سے یہاں اداکار بننے آیا تھا، اور جسے میں نے سارے عرصہ میں کبھی نہاتے نہیں دیکھا تھا، ایک بار جب میں نے اس کی اداکاری کی تعریف کردی جب کہ میں نے کبھی اس کو اداکاری نہیں کرتے دیکھا تھا تو اس نے سوچ لیا کہ شاید میں بھی اداکار بننا چاہتا ہوں اور مجھے اپنا پرستار سمجھ کر پیش آتا رہا۔ حد تو اس دن ہو گئی جب اس نے کہا کہ اگر تم اداکاری کرو تو میں تمہاری بات کرتا ہوں۔ اور وہ پٹھان جس نے اپنے بارے میں کبھی سچ نہیں بولا تھا۔

 

میں کیا کرسکتا تھا کہ میرے پاس اتنے بھی پیسے نہیں تھے کہ میں کسی اچھی جگہ جا کر رہ سکوں۔ اور ایک دفعہ جب میں نے کسی سے سگریٹ مانگا تو وہ اس قدر گھٹیا قسم کا تھا کہ پوری رات مجھے چکر آتے رہے اور سینہ درد کرتا رہا۔
میں گاؤں بھی گیا کہ کچھ چین پا سکوں، دوستوں کے پاس بھی مگر میں جہاں گیا، جس جگہ بیٹھا مجھے محسوس ہوا کہ میں ان کے نزدیک ایک درخت کی سی حیثیت اختیار کر چکا ہوں، جسے انہوں نے اگایا ہو، اس کی نوک پلک سنواری ہو اور کیڑے مار ادویات ڈالی ہوں کہ پھل دے سکوں مگر انہیں کیسے بتاتا کہ اس اسپرے نے میرا بیج پیدا کرنے والا عنصر جلا دیا ہے۔ میں وہ کھوکھلا درخت بن چکا ہوں جسے بس جلانے کے ہی کام لایا جا سکتا ہے۔ میں چپ رہا کہ وہ میری چھاؤں سے بھی نہ نکل جائیں کہ یہ اور بھی تھکا دینے والا ہو گا۔

 

میں نے جلد وہاں سے نکلنے کی کوشش کی اور واپس شہر چلا آیا اور بالآخر آج کا دن آن پہنچا جب میں نے جلدی سے سڑک پار کرنے کی کوشش کی اور اس جلدی میں ایک ٹرک نے مجھے نیچے دے کر کچل دیا اور یہ سارا عرصہ میں یہی سوچتا رہا کہ آخر کس چیز نے مجھے اتنا سوچنے پہ مجبور کیا کہ میں اب کچھ بھی نہیں سوچ سکوں گا۔

 

مجھے اس زندگی سے نجات دلانے پر میں میرے قاتل کو معاف کرتا ہوں، ہو سکے تو آپ بھی کر دیجیے گا
Categories
فکشن

ریفری‎

‘م’ نامی سڑک کے کنارے پر واقع ‘ص’ نامی رہائشی پلازے کی پہلی منزل کے نکڑ والے کمرے میں جو اپنے مثلث نما یعنی ٹیڑھے نقشے کی وجہ سے وکٹر ہیوگو کے عظیم ناول کبڑے عاشق کے مرکزی کردار کواسمودو کی یاد دلاتا تھا، میں، کیکاوس، سوموار کی صبح تقریباً ساڑھے چھ بجے پیشاب کرنے کےلئے بستر سے اٹھا اور پیشاب کر کے واپس آیا تو اس نے دیکھا کہ وہ تو چارپائی پہ سویا ہوا ہے۔ سونے والے نے یعنی اس نے خود ہی سبز رنگ کا ٹراؤزر پہن رکھا تھا جس کی پنڈلی کی باہرلی طرف پیلے اور سیاہ رنگ کی دھاریاں بنی ہوئی تھیں۔ عام طور پر اس طرح کے ڈیزائن دار ٹراؤزر کھلاڑی پہنتے ہیں جن میں سے زیادہ تر کرکٹ اور ہاکی کے ہوتے ہیں۔ اس ٹراؤزر کے اوپر اس نے نیلے رنگ کے کپڑے کی ڈھیلی شرٹ پہن رکھی تھی جس کے ڈیزائن سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ بازار سے کم قیمت کسی ایسے درزی سے سلی ہوئی ہے جو زمانے کی رفتار سے تھک کر بڑھے بوڑھوں کے کپڑے سینے تک محدود ہو چکا ہے۔

 

اگر وہ دوسرے مذہب سے تعلق رکھتا اور جتنا بھی صاف ہوتا تو وہ اس بو کو نہ بھگا سکتا جو صرف ایک غیر مذہب ہی سونگھ سکتا ہے۔
تقریباً پانچ فٹ آٹھ انچ کا بائیس سالہ نوجوان ستتر کلو کی جسامت سے کسی آلو کی بوری کی طرح بستر پہ پڑا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ اس نے اسے یعنی خود کو جگانے کی ناکام کوشش کی اور بالآخر دیوار کے ساتھ لگ کر بیٹھ گیا۔ اس نے سگریٹ جلائی جو وہ اکثر رات کو دوستوں سے چوری چھپے اپنے بستر کے نیچے رکھ دیا کرتا تھا تاکہ صبح نہار منہ اس کو پی سکے۔ ایک دن کلاس میں اس نے ایک لیکچرر سے سنا تھا کہ سگریٹ دو ہی وقت مزہ دیتی ہے، ایک بستر سے اٹھ کر نہار منہ اور دوسرا رات کو سوتے وقت۔ اگر چہ لیکچرر کے بر خلاف اس نے دو سے زیادہ پینے والی عادت کو نہ چھوڑا مگر اس کے ٹائم ٹیبل کو مان لیا اور اب اس پہ ہی عمل پیرا تھا۔ ایک دو کش لیتے ہی سگریٹ نے اس کے دماغ کے غنودگی زدہ گھوڑے کو جگا دیا جو کہ اکثر نوجوان اور فلسفی سوچتے ہیں اور اس کا رخ اس نوجوان کے چہرے کی طرف مڑ گیا۔ اگر وہ سگریٹ نہ پی رہا ہوتا تو یہ کہا جا سکتا تھا کہ یقینناً اسے بستر پہ اپنے آپ کو پڑے دیکھ کر جھر جھری آ جاتی۔ پتلے بغیر کنگھی کیے ہوئے بال جن کو دھوئے ہوئے نجانے کتنے دن ہو چکے تھے، کھلا منہ اس کے اندر بغیر برش ہوئے پیلے دانت اور بڑھی ہوئی داڑھی اور مونچھیں جو موٹے نقوش پہ اور بھی بھدی لگنے لگتی ہیں۔۔۔۔ بالکل داتا دربار کے باہر فٹ پاتھ پر پڑے کسی ملنگ کی مافک جس کے بالوں سے مٹی نکال دی گئی ہو اور صاف اور مکمل کپڑے پہنا دیے گئے ہوں۔۔۔۔ اسے اس کے دوستوں کے متعلق تشویش ہونے لگی کہ کیا یہ ہم مذہبی تھی جو وہ اسے اس حال میں بھی برداشت کر رہے تھے یعنی اگر وہ دوسرے مذہب سے تعلق رکھتا اور جتنا بھی صاف ہوتا تو وہ اس بو کو نہ بھگا سکتا جو صرف ایک غیر مذہب ہی سونگھ سکتا ہے۔ اس نے گئے دنوں میں اس کے ہاں کام کرنے والے عیسائی جونی سائی کو یاد کیا جس کے برتن اس کے گھر والوں نے باقی مزارعوں کے برعکس علیحدہ رکھے تھے یا وہ نوجوان مارکسسٹ جن کے نزدیک دوسرے انسان سے نفرت صرف طبقاتی تقسیم کے معاملے میں ہوتی ہے جیسا عظیم کامریڈ میکسم گورکی نے کہا تھا کہ لوگ یا تو ہمارے دوست ہیں یا دشمن۔۔۔ تمام محنت کش ہمارے دوست ہیں اور تمام سرمایہ دار و جاگیر دار ہمارے دشمن۔۔۔۔ کیا سب ہاسٹل میں رہنے والے مارکسی نقطہ نظر سے سوچتے ہیں؟ نہیں مگر زیادہ تر!

 

وہ ایسے ہی بہت ساری باتیں سوچ رہا ہوتا مگر اتنے میں اس کے بستر پہ لیٹے نوجوان کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے کسی لمحے کا انتظار کیے بغیر اس سے پوچھا کہ وہ کون ہے اور اس کے بستر پہ کیا کر رہا ہے؟ اس نے اس سے پوچھا کہ کیا وہ کوئی بہروپیا ہے جس نے ٹی وی اور تھیٹر کی وجہ سے اپنا اصل کام چھوڑ کر چوری چکاری شروع کر دی ہے اور اب بھی اپنے پرانے فن سے مدد لیتا ہے۔۔۔ مگر اس نے اسے بالکل نظرانداز کر دیا جیسے اس نے کچھ سنا ہی نہ ہو۔ اس نے اس کے ساتھ والے بستر پہ لیٹے وسیم کو جگانے کی کوشش کی جو اس کی ہی یونیورسٹی میں ماحولیات میں گریجوایشن کر رہا تھا مگر اس نے بھی کوئی جنبش نہ کی۔ تھک ہار کر وہ بیٹھ گیا اور اپنے آپ کو باتھ روم جاتے دیکھا۔ دس پندرہ منٹ بعد وہ باہر نکلا اور کپڑے پہننے لگ گیا۔ اس نے اسے کہا کہ آج حبس اور گرمی بڑھ گئی ہے تو کیا ہی اچھا ہو کہ وہ نہا لے لیکن جواب ندارد اسے رہ رہ کر اس پہ غصہ آ رہا تھا۔۔ تھوڑی دیر کے بعد اس لڑکے نے وسیم کو جگایا کہ دروازہ بند کر لے اور باہر نکل گیا۔

 

اسے لگا کہ اس کا وزن اس کے گناہوں سے بھی زیادہ ہے اور شاید اس کی بخشش صرف اپنا آپ اٹھائے رکھنے سے ہی ہو جائے گی۔
سڑک پر پہنچنے پر اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے دوست کا انتظار کیے بغیر جو گاڑی سے یونیورسٹی جاتا تھا، بس پر جائے گا اور ٹکٹ کاؤنٹر کی طرف بڑھ گیا۔ ٹکٹ لینے کے بعد جب وہ بس کی طرف جانے کے لئے سیڑھیوں کی جانب بڑھا تو دیکھا کہ بجلی نہ ہونے کے سبب وہ بند پڑی ہیں اور پیدل اوپر جانے کے خیال سے اس کا سانس رکنے لگا۔ اسے لگا کہ اس کا وزن اس کے گناہوں سے بھی زیادہ ہے اور شاید اس کی بخشش صرف اپنا آپ اٹھائے رکھنے سے ہی ہو جائے گی۔ وہ اکثر آخرت میں ملنے والی سزا کا دنیا ہی میں ہونے والی معمولی قسم کی چیزوں سے موازنہ کیا کرتا تھا جیسے وہ اپنے ایک دوست بلال کو کہتا تھا کہ وہ آخرت کا عذاب دنیا میں گھٹیا موبائل استعمال کرنے کی صورت میں بھگت رہا ہے۔۔۔۔۔ آخر اس نے ہمت باندھی اور اوپر چڑھنے لگا۔ اوپر پہنچ کر اس نے ٹوکن چیک کروایا اور آگے بڑھ گیا۔ ابھی پلیٹ فارم پہ پہنچا ہی تھا کہ گاڑی آ گئی. دروازہ کھلا اور اندر داخل ہو گیا. کیکاؤس بھی ساتھ ہی تھا مگر کوئی بھی اسے دیکھ یا محسوس نہیں کر رہا تھا۔ گاڑی کے اندر تل دھرنے کی جگہ نہ تھی اور رش کی وجہ سے اے سی بھی کام کرنا چھوڑ چکے تھے۔ یہ تمام بھیڑ جس میں زیادہ تر تعداد داتا صاحب، شاہ عالمی چوک اور اردو بازار میں کام کرنے والوں کی تھی اپنی وضح قطح سے صاف پہچانی جا سکتی تھی۔ ان میں سے زیادہ تر ایسے رنگوں والی شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جن کے بارے آسانی سے بتایا نہیں جا سکتا اکثر دیہاتوں میں اسے سفیانے یا ٹسری رنگ کی طرز کے نام دیے ہوتے ہیں اور پاؤں میں چائنہ کے جوتے، سستی چپلیں اور اکثر کے موبائل نوے کے عشرے کے ہندی گانوں کی ٹیون لیے بج اٹھتے۔ ان میں سے کوئی بھی سارے راستہ نہ اترا اور بالآخر اس کا سٹاپ آ گیا۔ کیکاؤس بھی بھیڑ کو کاٹتے ہوئے باہر نکلا اور خود کے ساتھ ہو لیا۔ نیچے اتر کر اس نے سڑک پار کی۔ بے ہنگم اژدھام کی وجہ سے سڑک پار کرنا اسے فتح کرنے جیسا لگتا تھا اور یونیورسٹی میں داخل ہو گیا۔ داخل ہوتے ہی ایک چوکیدار نے اسے روک لیا اور کارڈ دکھانے کا تقاضہ کیا۔ اس نے کارڈ نکالا اور بغیر کسی تاثر کے چوکیدار کے آگے کر دیا۔ کیکاؤس نے خود کو انتہائی غصہ سے دیکھا اور کہا کہ اسے چوکیدار کو بتانا چاہیے تھا کہ وہ بہت عرصہ سے یہاں سے گزر رہا ہے اور اس کا یوں اس طرح روکے جانا اس کے وجود کی نفی ہے کہ کوئی بھی اس کے بارے میں نہیں سوچتا۔ مگر اسے کوئی جواب نہ دیا گیا۔

 

چوکیدار سے نپٹ کر وہ غسل خانے گیا تاکہ کلاس میں داخل ہونے سے پہلے منہ دھو لے کہ کچھ تازہ لگ سکے اور اس شیشے کے سامنے کھڑا ہو گیا جس کے بارے میں اسے لگتا تھا کہ وہ اسے کافی اچھا دکھاتا ہے۔ وہ شیشوں کی نفسیات اور شکل کے معاملے میں اکثر پریشان رہا کہ اس کا چہرہ کیسا ہے کیا وہ اتنا ہی پیارہ ہے جتنا اس شیشہ میں نظر آتا تھا یا اتنا ہی بھدا جتنا کہ ساتھ والے شیشہ میں۔ منہ دھو کر وہ باہر نکلا اور اس راستے سے کلاس میں جانے لگا جہاں وہ کم سے کم کسی کو نظر آسکے۔ اور کلاس میں چلا گیا۔ کلاس ختم ہونے پر بغیر کوئی لمحہ ضائع کیے وہ باہر نکلا اور صحن میں لگے ہوئے بینچ کے پاس آکر کھڑا ہو گیا جہاں اور بھی لڑکے جمع تھے۔ اس خوف سے کہ کوئی اسے مذاق کا ہدف بنائے اس نے کوشش کی کہ باتوں کو کسی اور موضوع کی طرف موڑ دے اور کامیاب ہو گیا۔

 

چوکیدار سے نپٹ کر وہ غسل خانے گیا تاکہ کلاس میں داخل ہونے سے پہلے منہ دھو لے کہ کچھ تازہ لگ سکے اور اس شیشے کے سامنے کھڑا ہو گیا جس کے بارے میں اسے لگتا تھا کہ وہ اسے کافی اچھا دکھاتا ہے۔
کیکاؤس کا غصہ اب چرچراہٹ میں تبدیل ہونے لگا تھا۔ وہ باقی لڑکوں کو ورغلانے لگا کہ اسے بےعزت کریں، جگتیں لگائیں مگر کوئی بھی اس کی باتوں میں نہ آیا۔ بالآخر وہ ان کے پاس سے اٹھا اور لائبریری چلا گیا اور فلسفہ وجودیت کے اوپر لکھی ایک کتاب پڑھنے لگا۔ وہ بھی اس کے پاس بیٹھ گیا اور اس نظریہ کے اوپر لکھے ناولوں کے ورق کھنگالنے لگا۔ وہ جوں جوں انہیں پڑھتے گیا توں توں اسے ان کے کرداروں سے نفرت ہونے لگی۔ ایک ایک کردار اسے منافقت کا مینار لگ رہا تھا جسے جاننے اور نا جاننے والے سبھی پر شکستہ (رشک اور حسد کے ملے جلے تاثر) نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ اگر وہ سب زندگی سے اتنے تنگ تھے تو مر کیوں نہیں گئے انہوں نے دوسروں کو کیوں ورغلایا کہ زندہ رہنا قابل نفرت ہے۔ آخر دوستوئفسکی اور چیخوف نے ان سے بدتر زندگی گزاری تھی لیکن اس کے باوجود اس سے محبت کی حالانکہ وہ دونوں اپنے سے زیادہ دوسروں سے پیار کرتے تھے۔ اس نے دعا کی کہ اے پروردگار اس لڑکے کو جلدی سے اس سنسان کونے سے اٹھا تاکہ یہ ناامیدی کے اس حصار سے جو ان کتابوں نے کھینچ دیا تھا باہر نکلے۔ وہ یہ دعا مانگ ہی رہا تھا کہ لڑکے نے جیب سے موبائل نکالا۔ اس پہ ایک پیغام آیا ہوا تھا جس میں لکھا تھا کہ نیچے آؤ کھانا کھانے چلتے ہیں۔ اس نے کتاب بند کی اور نیچے دوست کے پاس چلا گیا۔ اس کے پہنچنے پر دو اور لڑکے جمع ہو گئے جو ان کے مشترکہ دوست تھے اور چاروں کینٹین کی طرف چل پڑے۔کینٹین پہنچ کر انہوں نے کھانے کا آرڈر دیا اور کھانے لگے۔ اس سب کے دوران کیکاؤس اپنے آپ کو ایک طرف بیٹھ کے دیکھتا رہا۔ کھانا کھانے کے بعد اس نے باقیوں سے اجازت لی اور اپنی رہائش گاہ پر جانے کے لئے چل پڑا۔

 

رہائش گاہ پر جا کر آرام کرنے کے خیال سے وہ خاصا پرجوش لگ رہا تھا، اس نے دعا مانگی کے بجلی نہ ہو تاکہ سیڑھیاں چڑھنے کے بہانے اس کا کھانا ہضم ہو جائے اور تھک بھی جائےلیکن اب کی بار اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا، بجلی ہونے کی وجہ سے وہ ان پر کھڑا ہوا اور یک لخت اوپر پہنچ گیا۔ ٹکٹ کاؤنٹر پہ کوئی مسافر کھڑا نہ ہونے کی وجہ سے اس نے آسانی سے ٹکٹ لی اور بس پہ سوار ہو گیا۔ صبح کے قابل نفرت مسافر اب اتنے باعث نفرت نہیں لگ رہے تھے۔ شاید اسکی وجہ کم رش ہی تھا۔ سٹاپ پر پہنچ کر وہ نیچے اترا اور فلیٹ کی طرف بڑھ گیا۔ فلیٹ کے لالچی چوکیدار نے جو اکثر اس سے سو پچاس مانگ لیا کرتا تھا اسے سلام کیا جس کا جواب اس نے ہاتھ ہلا کر دیا۔

 

کمرے میں پہنچتے ہی اس نے دروازہ بند کیا۔ کنڈی لگائی اور کپڑے اتار کے سو گیا۔ کیکاؤس نے کچھ دیر اس کے سونے کاانتظار کیا اور آنکھ لگتے ہی اس کے جسم میں گھس گیا۔

 

کچھ دیر بعد پورے دن کے حالات کو لے کر ان دونوں کرداروں نے آپس میں باتیں شروع کردیں جیسے فلسفی اوشو اور سوال کرنے والوں کے درمیان ہوتی ہیں۔ اس دوران اس کے جسم نے آخری سوال کیا کہ کب تک ہمیں اس طرح جینا ہو گا؟ یہ بوجھ کب تک اٹھائے رکھنا ہے؟

 

جب تک چار آدمی تمہیں اٹھا کر قبرستان تک نہیں چھوڑ آتے۔ اس نے جواب دیا اور دونوں خاموش ہو گئے۔

Image: Rook Floro

Categories
فکشن

لکھاری اور رہگیر

حکومت مخالف تحریک پورے زوروں پر تھی۔ اخبارات، ٹی وی چینلز اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس قائدین کی تقریروں اور بیانات سے بھرے ہوئے تھے۔

 

چائے خانوں، ڈھابوں، حماموں، دفاتر اور تعلیمی اداروں میں ایک ہی بات موضوعِ بحث تھی کہ حکومت ختم ہونی چاہیے مگر جب اس سے اگلے لائحہ عمل کی بات چھڑتی تو بحث تاش کے پتوں کی طرح بکھر جاتی۔

 

باتیں کرنا ایک آسان مشغلہ ہے اس شخص کے لئے اور بھی زیادہ جسے کوئی ہنر نہیں آتا۔۔۔۔ تم لکھاری سب سے بے ہنر قوم ہوتے ہو اور اس لئے صرف بولتے رہتے ہو چپڑ چپڑ
دن بھر سیاسی کارکن تقاریر سنتے، احکامات لیتے، جن میں سے زیادہ تر طاقت سے اگلے کو کچلنے کے ہوتے، اور کسی بھی چوک چوراہے میں ان احکامات پر عملدرآمدشروع کر دیتے۔

 

انقلابیوں اور رد انقلابیوں کی تقسیم اس قدر واضح ہو چکی تھی کہ حکومت نے اولین کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ فہرستیں تیار ہونے لگیں، سراسیمگی کا عالم کے لوگ اپنے سائے سے بھی خوف کھانے لگے۔ اس بات کا خوف کہ کہیں کوئی ذاتی دشمنی کی بنا پر مخالف کوانقلابی کہہ کر گرفتار نہ کروا دے۔ اس سلسلے میں حکومت کے لئے سب سے بڑا درد سر وہ لکھاری تھے جو پرانے انقلابات کو پڑھ چکے تھے اور اپنی تحریروں میں آگ بھرنے کے لئے انہی سے چنگاری لیتے تھے۔
شورش کے ان اوقات میں رات دن کا فرق ختم ہو چکا تھا۔ پولیس کسی بھی وقت مخالفین کو پکڑنے کے لئے پہنچ جاتی اور چوراچوری کے برعکس دن دیہاڑے تھانوں کو آگ لگائی جا رہی تھی۔

 

اس بھیانک دن سے چند روز پہلے جب بیسیوں بیمار لوگوں نے شہر میں کرفیو کی وجہ سے اسپتال نہ پہنچنے کی بدولت جانیں دے دی تھیں شہر سے کچھ دور ہائی وے کے ساتھ متصل ایک حویلی میں دو اجنبی آپس میں محو گفتگو تھے۔

 

گفتگو ہر گز روایتی نہ تھی۔کبھی کبھار وہ دونوں ایک دوسرے کے اوپر چلاتے،کبھی تحمل سے بولنے لگتے اور کبھی ایک دوسرے سے دور ہٹ کر سگریٹ پینے لگ جاتے۔ گفتگو اتنی بے ہنگم تھی کہ ہر تیسرے سوال پر اس کا موضوع تبدیل ہو جاتا اور اگر کوئی بعد میں چلا جاتا تو ہر گز نہ جان سکتا کہ ابتداء کہاں سے ہوئی تھی۔

 

“یہ حویلی تو ایک دم شیکسپئیر کے کسی المیے کا حصہ معلوم ہوتی تھی۔۔۔” دوسرے شخص نے کہا جو باہر سے اس جگہ آیا تھا۔۔۔۔ایک راہگیر جس کا مال واسباب لٹ چکا تھا اور اس نے رات گزارنے کے لئے قریب ترین جگہ کا رخ کیا تھا کہ صبح تھانے جا کر اس کی رپورٹ درج کرائے گا:

 

جب تمہیں ایک دن کا پتہ نہیں کہ جیو گے یا مرو گے تو اس ایک دن کے لئے تم نے اپنے دو سال ضائع کیوں کر دیے۔
تم نے شیکسپئیر کو پڑھا ہے؟ حویلی کے مالک نے، جو کسی چھوٹے سے مارکسی رسالے کا ادیب تھادریافت کیا۔
“نہیں”۔ اس نے جواب دیا۔

 

تو تم اسے ایسا کیسے کہہ سکتے ہو؟

 

“اس لئے کہ میں نے شیکسپئیر کے بارے میں کافی سن رکھا ہے، اور میں اس طرح سے بول بھی سکتا ہوں” اس نے کسی اداکار کی طرح بولتے ہوئے کہا۔

 

کیا سن رکھا ہے؟ لکھاری نے دریافت کرنا چاہا۔

 

“یہی کہ دنیا ایک اسٹیج ہے اور ہر انسان ایک اداکار!!”
“اس بات کا اس کے ساتھ کیا تعلق ہے؟”

 

“تم نے کبھی حویلی اور اس میں پھیلی اداسی کو محسوس نہیں کیا۔۔۔۔۔کیا دنیا اتنی اداس نہیں بنتی جا رہی جتنی کہ یہ حویلی ہے۔ تم بھی تو ایک اداس شخص کا کردار ادا کر رہے ہو۔ اگر تم اداس نہ ہوتے تو ہر گز یہاں رہنا گوارا نہ کرتے، اور ابھی تو بہت خون بہنے والا ہے۔ کیا تمہیں نہیں لگ رہا؟” راہ گیر نے پوچھا۔

 

“الوؤں کے مرنے سے حویلیاں ویران نہیں آباد ہوتی ہیں” لکھاری نے فلسفیانہ ہوتے ہوئے جواب دیا۔

 

“تم رائٹر لوگ دنگا فساد کو اتنا گلیمرائز کیوں کرتے ہو؟” راہگیر نے پوچھا۔

 

“اس لئے کہ شاید اسی طرح تم لڑنے کے لئے تیار ہو جاؤ” لکھاری نے جواب دیا…

 

“غسل خانہ کس طرف ہے؟”

 

“لڑائی کے نام سے ہی پیشاب آ گیا۔۔۔” ادیب نے سگریٹ مسلتے ہوئے کہا اور انگلی سے ایک طرف اشارہ کر دیا۔

 

“تم لوگ کہاں سے ایسی باتیں نکال لیتے ہو؟ اور یہ سگریٹ تم ادیبوں کی سلاجیت ہوتا ہے کہ سلگائی اور باتیں پیدا کرنا شروع ہو گئے”
“باتیں کرنا ایک آسان مشغلہ ہے اس شخص کے لئے اور بھی زیادہ جسے کوئی ہنر نہیں آتا۔۔۔۔ تم لکھاری سب سے بے ہنر قوم ہوتے ہو اور اس لئے صرف بولتے رہتے ہو چپڑ چپڑ۔۔۔۔۔ اور میری نظر میں تو لکھاری زمین کا بوجھ ہوتے ہیں اور یہ بوجھ اور بھی بڑھ جاتا ہے جب وہ کتابیں پیسہ کمانے کے لئے لکھنے لگتے ہی ۔کیا تمہاری باتوں کا اثر کسی مزدور،کسان یا تاجر پر ہوتا ہے؟ نہیں بلکہ چند طالب علموں پر جنہوں نے اپنی جوانیاں ان لوگوں کے لئے داؤ پر لگا رکھی ہیں جن کا مستقبل ایک وقت سے اگلے تک روٹی کے بارے میں سوچنا ہے۔ جب تک یہ نوجوان لڑتے رہیں گے ان کو روٹی ملتی رہے گی اور بالآخر وہ بھی تھک کے بیٹھ جائیں گے کہ ان کے گھر والوں نے انہیں دوسروں کے لئے نہیں جنا۔۔۔ اور پھر سب ختم۔۔۔۔کیا میں نے کچھ غلط کہا؟” راہگیر نے میز پر مکا مارتے ہوئے کہا۔

 

“تمہارے پاس کیا تھا جو چھین لیا گیا؟”لکھاری نےبات بدلتے ہوئے کہا۔

 

“ایک موٹر سائیکل اور کچھ پیسے تھے۔”اس نے جواب دیا۔

 

“تنخواہ کتنی ہےتمہاری؟” ادیب نے پوچھا

 

“بارہ ہزار۔۔۔۔جتنی ایک مزدور کی ہوتی ہے۔”

 

“اسکوٹر کتنے کا تھا؟”

 

“چالیس ہزار کا”

 

“اتنے پیسے کہاں سے آئے تمہارے پاس؟”

 

“بچت کر رہا تھا۔۔۔۔ دو سال سے کہ موٹر سائیکل خریدوں گا اور جب لی تب یہ ہو گیا۔۔۔ ایسوں کے لئے تم لوگوں کو لڑنے کا کہتے ہو؟ ان کے ساتھ یہی ہونا چاہیے جو ہو رہا ہے۔۔۔مرنے دو سالوں کو!!” راہگیر نے غصے اور دکھ کے ملے جلے تاثرات میں کہا۔

 

“تمہیں پتہ ہے تم کب تک زندہ رہو گے؟ مطلب تم کسی حادثے کا شکار ہو سکتے ہو، کسی پولیس مقابلے میں مارے جا سکتے ہو، کیا ایسا نہیں ہو سکتا؟” لکھاری نے استفسار کیا۔

 

“ہاں ہو سکتا ہے” راہگیر نے تائید کرتے ہوئے کہا۔

 

“جب تمہیں ایک دن کا پتہ نہیں کہ جیو گے یا مرو گے تو اس ایک دن کے لئے تم نے اپنے دو سال ضائع کیوں کر دیے۔کیا ان دو سال کے بے شمار گھنٹے جو تم نے پیسہ کمانے میں ضائع کیے ایک دن سے زیادہ نہیں بنتے اور بنتے ہیں تو تم نے اتنا گھاٹے کا سودا کیوں کیا؟ تم نے ایک دن بچانے کی خاطر دو سال ضائع کر دیے” لکھاری نے جذباتی انداز میں کہا۔

 

کیا ماحول تمہیں اپنے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی اجازت دیتا ہے، خاص کر کہ اس وقت جب تم میں سے ایک پیسہ اور عہدہ کے لحاظ سے دوسرے سے بہتر ہے۔
اس کے ایسا کہنے پر راہگیر نے کوئی جواب نہ دیا۔ شاید اسے اپنی بیوقوفی پر شرمندگی ہو رہی تھی یا پھر اس فلسفی کی حقیقت سے ناآشنا باتوں نے اسے چپ رہنے پر مجبور کر دیا تھا۔

 

“تم لوگ کہاں سے ایسی باتیں نکال لیتے ہو؟ اور یہ سگریٹ تم ادیبوں کی سلاجیت ہوتا ہے کہ سلگائی اور باتیں پیدا کرنا شروع ہو گئے”

 

“ہاں ہوتا ہے اور یہ باتیں تم لوگوں کے لئے پیدا کی جاتی ہیں، اتنی کہ ایک آدھ بھی تم لوگوں کو سمجھ آجائے تو کچھ پل چین سے گزر سکیں۔ مگر یہ باتیں کہاں تم لوگوں کی سمجھ میں آئیں گی۔ تمہارے کان یہ سننے کے لئے بنے ہی نہیں اور نہ تمہاری زبانیں یہ کہنے کے لئے۔ اور یہی فرق ہے تم میں اور ہم میں” لکھاری نے متکبرانہ انداز میں کہا۔

 

“ہاہاہا! تم بہت معصوم ہو، لاقانونیت میں حکمران اور عوام کے فرق کے علاوہ سب برابر ہوتے ہیں، تم کوئی اصول توڑو تو سہی,فرق خود ہی دیکھ لو گے۔ اور ہم تم پہ کیا اعتبار کریں؟ کیا تمہیں اپنے اوپر بٹھا لیں؟ لوگ بھوک سے مر رہے ہوں اور تمہیں تمباکو کے علاوہ کچھ سجھائی نہ دے؟” راہگیر نے رعونت سے کہا…

 

“ایسا میں نے کب کہا؟”لکھاری نے استفسار کیا۔

 

“تمہارا مطلب تو یہی ہے۔” راہ گیر نے جواب دیا۔

 

میرا مطلب ہے کہ ایک دفعہ دل کی سنو، دل کیا کہتا ہے، ضمیر کی کیا پکار ہے۔ کیا ماحول تمہیں اپنے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی اجازت دیتا ہے، خاص کر کہ اس وقت جب تم میں سے ایک پیسہ اور عہدہ کے لحاظ سے دوسرے سے بہتر ہے۔ اگر نہیں تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟ لکھاری نے کہا۔

 

لکھاری نے اسے روکنے کے لئے آوازیں دیں، چلایا کہ وہ اس کے ساتھ اسٹیشن جائے گا مگر وہ نہ رکا اور آن کی آن میں غائب ہو گیا۔
اس طرح بات کبھی مذہب پہ چھڑ جاتی تو کبھی کشمیر، اور فلسطین اسرائیل کی حالیہ لڑائی پر۔۔۔۔

 

باتیں کرتے ہوئے انہیں پتہ ہی نہ چلا کہ ستارہ کب ان کے سر کے اوپر سے گزر چکا تھا۔

 

وقت کیا ہو گیا ہے؟ راہ گیر نے پوچھا۔ “اذان ہوتے ہی میں یہاں سے چلا جاؤں گا۔”

 

“اذان ہونے میں تھوڑا وقت رہ گیا ہے۔” لکھاری نے گھڑی دیکھتے ہوئے کہا۔

 

تھوڑی دیر میں اذانیں ہونا شروع ہو گئیں اس نے جلدی سے ہاتھ ملایا اور حویلی سے باہر نکل گیا۔ لکھاری نے اسے روکنے کے لئے آوازیں دیں، چلایا کہ وہ اس کے ساتھ اسٹیشن جائے گا مگر وہ نہ رکا اور آن کی آن میں غائب ہو گیا۔
اگلے دن دوپہر کو اس کے چوکیدار نے اطلاع دی کہ انسپکٹر صاحب آئے ہیں،کل رات ہونے والی ڈکیتی کے سلسلے میں بات کرنا چاہتے ہیں۔ اس نے اسے اندر آنے کا کہا۔

 

انسپکٹر کے اندر داخل ہوتے ہی لکھاری کے اوسان خطا ہوگئے۔ انسپکٹر وہی راہگیر تھا جو ساری رات اس کے ساتھ رہا تھا۔
“مجھے پتہ چلا تھا کہ تم غیر ریاستی حرکات میں ملوث ہو۔ اس لئے مجھے بھیس بدلنا پڑا۔”

 

 

تو پھر تمہیں کیا لگا؟” لکھاری نے پوچھا۔
“سب الٹ!”

 

یہ کہہ کر وہ پیچھے مڑا اور بغیر ہاتھ ملائے باہر نکل گیا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

پس نوشت: یہ کہانی محمد علی نیکو کار جیسے افسران کے نام ہے۔ جو نوکری سے زیادہ اصولوں کو اہمیت دیتے ہیں۔ انہوں نے نوکری کی قربانی تو دے دی مگر عوام کے اوپر آنسو گیس چلانے سے انکار کر دیا کہ وہ ان کے جذبات کی ترجمانی قرار رہے تھے۔ حکومت سے زیادہ ریاست اہم ہوتی ہے۔ اور ریاست عوام کے بغیر وجود نہیں رکھتی۔