Categories
نان فکشن

غیر مسلموں کی عبادت گاہوں پر پابندی لگانا اور انہیں گرانا

[blockquote style=”3″]

مسلم اکثریتی علاقوں میں غیر مسلموں (یا ایسے مسلم فرقے جنہیں مسلمان تسلیم نہیں کیا جاتا) کے خلاف مذہبی بنیادوں پر امتیازی سلوک، نفرت آمیز تحریر و اشاعت اور قتل و غارت معمول ہے۔ مسلم اکثریتی علاقوں میں اسلامی نظام کے داعی عموماً یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ اس قسم کے واقعات اسلامی خلافت کے موجود نہ ہونے کی وجہ سے وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ مسلم مبلغین یہ تاثر بھی عام کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اسلام غیر مسلموں کو مکمل تحفظ اور حقوق عطا کرتا ہے۔ تاہم یہ نقطہ نظر اسلام کے ابتدائی دنوں کے ان واقعات سے مطابقت نہیں رکھتا جن میں غیر مسلموں کی عبادت گاہوں پر پابندیاں عائد کی گئیں بلکہ انہیں نقصان بھی پہنچایا گیا۔ درحقیقت تمام شہریوں کی برابری اور مساویانہ حقوق کا تصور ایک جدید قومی ریاست کا تصور ہے، مسلم خلفاء کے زمانے میں غیر مسلموں (یا جنہیں مسلمان تسلیم نہیں کیا جاتا) کو دوسرے درجے کا فرد ہی سمجھا جاتا رہا ہے۔ یقیناً بعض مسلم حکمرانوں نے غیر مسلموں کو عہدے بھی دیئے اور مراعات بھی، تاہم اسلام کا غیر مسلموں سے متعلق حکم انہیں سماجی، سیاسی اور مذہبی اعتبار سے مسلمانوں سے کم تر خیال کرنے کا ہی ہے۔ ذیل میں دیئے گئے حوالے اس ضمن میں اہم اور چشم کشا ہیں اور یقیناً ان واقعات کو پڑھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اسلام کو ایک سیاسی نظام یا حکومت کی بنیاد خیال بنانا تمام انسانوں کی مساوی حیثیت اور تمام شہریوں کے یکساں حقوق کے اصول کے کس قدر برعکس ثابت ہو سکتا ہے۔ ان واقعات کو شائع کرنے کا مقصد مسلمانوں کی دل آزاری نہیں بلکہ تاریخ کو اس کے درست تناظر میں پیش کرنا ہے۔

[/blockquote]
1) حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ “زمانہ جاہلیت میں ایک گھر تھا جسے ذوالخلصہ، کعبہ یمانیہ اور کعبہ شامیہ کہا جاتا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: “کیا تم مجھے ذوالخلصہ سے آرام نہیں پہنچاؤ گے؟” میں ایک سو پچاس سوار لے کر گیا۔ اسے ہم نے توڑ پھوڑ دیا اور اس کے مجاوروں کو قتل کر دیا۔ اس کے بعد میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سارا قصہ بیان کیا تو آپ نے ہمارے اور قبیلہ احمس کے لئے دعا فرمائی۔”
(صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ ذی الخلصۃ، حدیث 4355)

دوسری روایت میں ہے: “”ذوالخلصہ یمن میں قبیلہ خثعم اور بجیلہ کا ایک گھر تھا جس میں بُت نصب تھے جن کی عبادت کی جاتی تھی۔، اسے کعبہ کہا جاتا تھا۔ حضرت جریر نے اسے آگ لگا دی اور گرا دیا۔”
(صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ ذی الخلصۃ، حدیث 4357)

2) عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس سے دریافت کیا گیا: کیا مشرکین کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ عرب کی سرزمین پر اپنے عبادت خانے بنائیں؟ حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا: جو شہر مسلمانوں کے ہیں، اُن میں کوئی عبادت خانہ یا گرجا گھر یا آگ کا عبادت خانہ یا صلیب نہیں بنائے جا سکتے۔ وہاں بوق نہیں بجایا جا سکتا، وہاں ناقوس نہیں بجایا جا سکتا۔ ان میں شراب یا خنزیر کو نہیں لایا جا سکتا۔ (ہاں) جب کسی علاقے کے (غیر مسلم) لوگوں کے ساتھ مصالحت ہو گئی ہو تو مسلمانوں پر یہ بات لازم ہے کہ انہوں نے ان کے ساتھ جو صلح کی ہے اسے پورا کریں۔” (راوی) بیان کرتے ہیں: مسلمانوں کے علاقے کی وضاحت یہ ہے کہ جو علاقے عرب کی سرزمین سے تعلق رکھتے ہیں یا مشرکین کی سرزمین سے تعلق رکھتے ہوں اور (مسلمانوں نے) انہیں مقابلہ کر کے حاصل کیا ہو۔
(مصنف عبدالرزاق، 60/6، کتاب اہل الکتاب، باب هدم كنائسهم وهل يضربوا بناقوس؟، رقم 10002)

3) حرام بن معاویہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے ہمیں خط لکھا کہ “تمھارے علاقہ میں کوئی خنزیر نہ آنے پائے اور نہ ہی تمھارے علاقہ میں صلیب کو بلند کیا جائے۔۔۔۔”
(مصنف عبدالرزاق، 60/6، کتاب اہل الکتاب، باب هدم كنائسهم وهل يضربوا بناقوس؟، رقم 10003)

4) وہب بن نافع بیان کرتے ہیں: حضرت عمر بن عبدالعزیز نے عروہ بن محمد کو خط میں لکھا کہ وہ مسلمانوں کے علاقوں میں موجود گرجا گھروں کو منہدم کر دیں۔ راوی بیان کرتا ہے: مَیں عروہ بن محمد کے پاس موجود تھا، وہ سوار ہو کر گرجا گھر کے پاس گئے، پھر انہوں نے مجھے بلایا، مَیں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کے خط کے بارے میں گواہی دی تو عروہ نے اُس گرجا گھر کو منہدم کر دیا۔
(مصنف عبدالرزاق، 59/6، کتاب اہل الکتاب، باب هدم كنائسهم وهل يضربوا بناقوس؟، رقم 9999)

5) مشہور امام حسن بصری سے مروی ہے کہ “سنت یہ ہے کہ شہروں میں موجود پرانے یا نئے تمام گرجا گھروں کو منہدم کر دیا جائے۔”
(مصنف عبدالرزاق، 60/6، کتاب اہل الکتاب، باب هدم كنائسهم وهل يضربوا بناقوس؟، رقم 10001)

6) اسماعیل بن امیہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ وہ (مشہور تابعی) ہشام کے ساتھ حدہ سے گزرے، جہاں ایک نیا گرجا گھر بنا تھا، انہوں نے اسے منہدم کرنے کے بارے مشورہ لیا اور پھر ہشام نے اسے منہدم کروا دیا۔
(مصنف عبدالرزاق، 59/6، کتاب اہل الکتاب، باب هدم كنائسهم وهل يضربوا بناقوس؟، رقم 10000)

ان تمام روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کو ہرگز ان کے عبادت خانے بنانے یا اپنے مذہبی شعائر بجا لانے کی اجازت حاصل نہیں تھی۔ اسی طرح مسلمانوں کے ہاں غیر مسلموں کے عبادت خانوں کو گرانے اور ڈھانے کا عام معمول تھا۔

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ عیسائیوں کے گرجا گھروں کو ڈھانے کے بارے میں فرماتے ہیں: “مسلمانوں میں سے کوئی ایسا نہیں جو اس پر انکار کرے کہ مفتوحہ علاقوں کے گرجا گھروں کا گرانا جائز ہے، اگر اس میں مسلمانوں کو کوئی نقصان نہ ہو۔” (مسألة في الكنائس، 122-123)

دیگر معاشرتی و سماجی پابندیوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں کے عبادت خانوں کی اس تباہی سے صرف وہی علاقے مستثنیٰ تھے جہاں دیگر اقوام نے اسی شرط پر مسلمانوں سے صلح کی تھی۔

7) عمر بن میمون بن مہران بیان کرتے ہیں: حضرت عمر بن عبدالعزیز نے خط میں لکھا کہ شام میں موجود عیسائیوں کو ناقوس بجانے سے منع کر دیا جائے۔ کہا: انہیں اس بات سے بھی منع کر دیا گیا کہ وہ (بالوں کی) مانگ نکالیں یا پیشانی کے بال کاٹیں یا اپنے مخصوص قسم کے پٹکے باندھیں۔ وہ زین پر سوار نہیں ہو سکتے، وہ پٹیاں نہیں پہن سکتے۔ ان کے عبادت خانوں کے اوپر صلیب کو بلند نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کوئی (غیر مسلم) شخص اس میں سے کسی جرم کا مرتکب ہو اور اس سے پہلے اس کی طرف حکم آ چکا ہو تو جو شخص اس پر حملہ کرے گا، اس کا ساز و سامان حملہ کرنے والے شخص کو مل جائے گا۔ کہا: حضرت عمر بن عبدالعزیز نے خط میں یہ بھی لکھا تھا کہ ان (غیر مسلموں) کی عورتوں کو اس بات سے منع کر دیا جائے کہ وہ پالکیوں پر سوار ہوں۔
عمر بن میمون بیان کرتے ہیں: حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ان لوگوں کے عبادت خانے ڈھانے کے بارے مجھ سے مشورہ کیا تو مَیں نے کہا: “انہیں منہدم نہ کریں کیونکہ اس پر ان کے ساتھ صلح ہوئی تھی تو حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اس (ارادے) کو ترک کر دیا۔
(مصنف عبدالرزاق، 61/6، کتاب اہل الکتاب، باب هدم كنائسهم وهل يضربوا بناقوس؟، رقم 10004)

معلوم ہوا کہ غیر مسلموں پر ناقوس بجانے، بالوں کی مانگ نکالنے، کاٹھی و زین وغیرہ پر سواری کرنے حتیٰ کہ ان کی عورتوں کے پالکیوں پر سوار ہونے تک کی پابندی عائد تھی اور اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کے لئے یہ افعال جرم سمجھے جاتے تھے جس کی خلاف ورزی پر کسی کو بھی حق حاصل تھا کہ وہ اس کے مرتکب غیر مسلم پر حملہ آور ہو اور اس کا ساز و سامان لوٹ لے۔ یہاں یہ بھی پیشِ نظر رہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز ہمارے ہاں پانچویں خلیفہ راشد مانے جاتے ہیں اور انتہائی رحمدل اور انصاف پسند اسلامی حکمران کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

علاوہ ازیں شام یا کچھ دیگر علاقوں میں غیر مسلموں کے عبادت خانوں کو گرانا ترک کیا گیا یا انہیں قائم رہنے دیا گیا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے مسلمانوں سے اس پر صلح کی تھی۔ مگر اس میں بھی پابندی تھی کہ وہ نئی عبادت گاہیں نہیں بنا سکتے اور اپنے پہلے سے موجود پرانے عبادت خانوں پر ہی اکتفا کریں گے حتیٰ کہ پرانے اور خستہ ہونے پر ان کی مرمت تک نہیں کر سکتے۔

8) چنانچہ حضرت عمر کے دور میں اہل شام کے محاصرے کے بعد ان کے ساتھ جن شرائط پر صلح نامہ لکھا گیا، ان میں سرفہرست ان سے یہ شرائط لکھوائی گئی تھیں:
★ ہم اپنے ان شہرں میں اور ان کے آس پاس کوئی گرجا گھر اور خانقاہ نئی نہیں بنائیں گے۔
★ مذہبی عبادتگاہوں اور نہ ایسے کسی خرابی والے مکان کی اصلاح کریں گے اور جو پرانے ہو کر گرنے والے ہیں ان کی مرمت نہیں کریں گے۔
(تفسیر ابن کثیر: تحت سورۃ توبہ آیت 29، إرشاد الفقيه لابن کثیر: 340/2، المحلی لابن حزم: 346/7، الاحکام الصغریٰ لعبدالحق الاشبیلی: 600، أحكام أهل الذمة: 1149/3)

یہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ غیر مسلموں کے لئے اگر پرانی ہوتی خستہ حال اپنی عبادت گاہوں کو درست کرنے اور ان کی مرمت کرنے پر بھی پابندی عائد تھی تو پھر اس کا نتیجہ بھی بالآخر ان کے گرنے اور تباہ ہونے کی صورت میں ہی نکل سکتا تھا۔

Categories
نان فکشن

انسانی جان کی حرمت اور مقدس قربانیوں کے بیانیے

انسانی جان دنیا کی سب سے قیمتی متاع ہے۔ اتنی قیمتی کہ اس کے خالق نے ایک جان کی قیمت پوری انسانیت کی قیمت کے برابر قرار دی۔ اس نے کہا کہ جس نے ایک جان کو بچایا، اس نے گویا پوری انسانیت کو بچایا، اور جس نے ایک جان کو ناحق قتل کیا، اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا۔ اتنی قیمتی متاع کو لیکن کیسے کیسے ادنی مقاصد کے لیے سستا کیا جاتا ہے، آئیے دیکھتے ہیں۔ ایک نظر زبان زد عام ان نعروں اور اشعار پرڈالیے:

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
سینے پہ گولی کھائیں گے
پاکستان بنائیں گے
قائد تیرا ایک اشارہ
حاضر حاضر لہو ہمارا
چیف تیرے جانثار
بے شمار بے شمار
جوانیاں لٹائیں گے
انقلاب لائیں گے
یہ بازی خون کی بازی ہے یہ بازی تم ہی ہارو گے
ہر گھر سے بھٹو نکلے گا تم کتنے بھٹو مارو گے
نہ جب تک کٹ مروں میں خواجۂ بطحاؐ کی حرمت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا
پنجابی کے یہ اشعار ملاحظہ کیجیے:
چڑیا نل میں باز لڑاواں
گدڑاں توں میں شیر بناواں
سوا لکھ سے اک لڑاواں
تب گوبند سنگھ نام دھراواں

(میں چڑیا کو باز سے لڑا دوں، گیدڑوں سے شیر بنا دوں، ایک آدمی کو سوا لاکھ لشکر سے لڑا دوں، تب دہراؤں کہ ہاں میرا نام گوبند سنگھ ہے)
یعنی وہی دیرینہ بیماری کہ:

اٹھا ساقیا پردہ اس راز سے
لڑا دے ممولے کو شہباز سے
اور
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

انسانی جان کی حرمت کا پاس، حقیقت ہے کہ خدا کی کتاب کے علاوہ، ہمارے سماج سمیت دنیا بھر بلکہ تاریخ میں اکا دکا مثالوں کے کسی دور میں بھی صحیح معنوں میں کہیں نہیں پایا گیا۔ خدا کا ارشاد کہ جس نے ناحق ایک انسان کو قتل کیا، اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا، اس جیسا مہیب ارشاد ایک کلیشے بن کر رہ گیا ہے۔ ساری انسانیت کے قتل پر ہمارا جو رد عمل ہو سکتا ہے، اس کا تصور کیجیے، یہی تصور ایک خون ناحق پر ہمارا ہونا چاہیے تھا۔
اس تحریر میں ہمارا محل تنقید وہ بے ضمیر ظالم نہیں جو انسانوں کا قتل اپنی درندگی کی پیاس مٹانے یا اپنے ذاتی مقاصد کے لیے کرتے ہیں، ان کی مذمت تو سبھی کرتے ہیں، یہاں اس مضمون میں میرا ہدفِ تنقید انسانیت اور انسانی اقدار کے وہ پرچارک جو رہنما ہیں اپنے ادنی اور خود ساختہ “بلند نظریات” اور “اعلی مقاصد” کو انسانی جان پر فوقیت دیتے ہیں جس کا کوئی اختیار اور جواز ان کے پاس نہیں، ان خود ساختہ نظریات اور مقاصد کی خاطر وہ اپنے پیروکاروں کی جانیں ایسے بے دریغ قربان کرواتے ہیں جیسے یہ ان کا ادھار تھا جس کا چکانا ان اندھے مقلدین پر فرض تھا۔

اپنے پیروکاروں کی ان رائیگاں قربانیوں پر ان مذہبی اور سیاسی رہنماؤں کے ماتم اور مذمت کے پیچھے ان کا اطمینان قلب ان کے چہروں سے جھلکتا صاف دکھائی دیتا ہے۔ پھر بغیر کسی اختیار کے وہ ان ضائع ہونے والی جانوں کے لیے شھادت جیسا مقدس خطاب اختیار کرتے ہیں اور یوں دوسرے کارکنوں اور پیروکاروں کے لیے مزید ترغیب کا انتظام کرتے ہیں۔ یہ سب ان کا ذاتی ایجنڈا ہوتا ہے جسے یہ قوم کا ایجنڈا باور کرا دیتے ہیں۔ خدا اور اس کے دین کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں، اس لیے ان کے لیے دین کے مقدس تصورات استعمال کرنا اپنی حد سے تجاوز کرنا ہے۔

انسانی جانوں کی قربانی کے لیے ان بتوں میں سے ایک بت قومیت کے نام سے تشکیل دیا گیا۔ عام لوگوں کو باور کرایا گیا کہ ان پر ان کے ہم نسل، ہم وطن لوگوں کی حکمرانی بہت ہی ضروری قسم کی چیز ہے، غیر قوم حکمران ہوگی تو یہ غلامی ہو گی، لیکن ہم وطن حکمران ہوں گے تو یہ غلامی نہیں ہوگی۔ اور غلامی ایسی ذلت ہے کہ انسان مر جائے مگر غلامی قبول نہ کرے۔ عوام نے یہ پوچھے بغیر کہ غیر قوم کے زیرِ حکومت رہنا اگر غلامی ہے تو اپنے لوگوں کے زیرِ حکومت رہنا غلامی کیوں نہیں، اور اگر اپنوں کے زیر حکومت رہنا غلامی نہیں تو غیر قوم کے زیر حکومت رہنا غلامی کیوں ہے، وہ اپنی جانوں کے نذرانے لے کر غیر قوموں کی بندوقوں کے آگے کھڑے اور ٹینکوں کے نیچےلیٹ گئے۔ پھر جب وہ غیر قوم ان کو چھوڑ کر اپنے ملک چلی گئی تو یہ خود روزی روٹی کی خاطر جو ان کے ہم قوم رہنما بھی انھیں مناسب طور پر مہیا نہیں کر رہے تھے تھے، اپنا ملک چھوڑ کر ان غیر قوموں کے ملک میں ان کی غلامی کرنے جا پہنچے۔ اب وہاں رہنا اور ان کی غلامی میں رہنا ان کے لیے اعزاز بن گیا۔ یعنی اپنی مٹی پانی سے بنی ایک جغرافیائی سرحد جسے وطن کہا گیا اس پر کوئی غیر قوم حکمران ہو تو یہ غلامی ہے، ذلت ہے، لیکن خود یہ اپنے جسموں پر غیر ملک غیروں کی حکومت قبول کر لیں تو یہ اعزاز ہے! چنانچہ غیروں کو اپنے ملک سے نکالنے کے لیے بھگت سندھ، منگل پانڈے اور اشفاق (اور اب برہانی وانی جیسے نوجوان) کو بتایا گیا کہ اپنی جان دے کر انھیں یہاں سے نکالو۔ وہ جانیں ہتھیلی پر لے کر نکل پڑے۔ عوام نے یہ بھی نہیں پوچھا کہ اگر حکومت ان کے ہم نسلوں کے ہاتھ میں آجائے گی تو کیا ہو جائے گا۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ انبیا بھی غیر قوموں کے زیرِ حکومت رہے تھے۔ حضرت یوسف علیہ السلام مصر کے بادشاہ کے زیرِ حکومت تھے۔ قرآن میں سورہ یوسف میں لکھا ہے کہ وہ بادشاہ کے قانون کے خلاف کوئی اقدام نہیں کر سکتے تھے۔ تو کیا یہ غلامی تھی، ذلت تھی؟

بات یہاں نہیں رکی۔ غیر قوم کی تعریف پھر غیر زبان اور غیر مذھب کی تعریف میں سمٹ آئی۔ غیر نسل والوں سے نجات پا کر اب ایک بار پھر انسانوں سے کہا گیا کہ پھر اپنی جانوں کو سستا کریں کہ غیر زبان اور غیر مذہب کی حکمرانی بھی دراصل غلامی ہوتی ہے، ہم مذہب اور ہم زبان کی غلامی اخیتار کریں کہ وہ غلامی نہیں ہوتی۔ لوگ پھر جانیں دینے چل پڑے، پھر نہیں پوچھا کہ ہم مذہب اور ہم زبان کو حکومت مل جائے گی تو کیا ہو جائے گا؟ کہا گیا کہ غیر قوم، غیر مذہب، اور غیر زبان والے تمھارا استحصال کرتے ہیں، لیکن یہ نہیں پوچھا گیا کہ اس کی کیا ضمانت ہے ہم قوم، ہم زبان اور ہم مذہب حکمران استحصال نہیں کریں گے۔ کہا گیا کہ غیر تمھارے حقوق نہیں دیں گے۔ غریب نے پوچھا ہی نہیں کہ کون سے حقوق۔ روزی روٹی تو اسے خود پیدا کرنی تھی، نماز اور مورتی پوجا، حج اور گنگا یاترا، مندر اور مسجد جانے کی اجازت تو سب دے رہے تھے، تعلیم اور صحت کے مواقع بقدر وسائل سب کو ملتے تھے، تو کون سے حقوق تھے جو غیر نے نہیں دینے تھے۔ کہا گیا کہ دراصل پارلیمنٹ میں تمھیں مناسب نمائندگی نہیں ملے گی۔ غریب مگر سمجھا نہیں کہ یہ اس کا مسئلہ تھا ہی نہیں، پارلیمنٹ کی نمائندگی کا ڈھونگ اقتدار کے حصول کے لیے اس کے ہم قوم، ہم زبان اور ہم مذہب اشرافیہ کا اقتدار کے حصول کے لیے گھڑا ہوا ہتھکنڈا تھا۔ انھوں نے اپنا مسئلہ عام آدمی کا مسئلہ بن دیا تاکہ عوام کی طاقت اور اس کی قربانیوں کی ناؤ پر بیٹھ کر ایوان اقتدارتک پہنچ سکیں۔ عام آدمی خواہ مخواہ، خوشی خوشی جان دینے کے لیے تیار ہو گیا۔ اس نے اپنے ہم قوم، ہم مذہب اور ہم زبان اشراف کو اپنی لاش کے کاندھوں پر بیٹھا کر اپنے خون کی ندی میں سے گزر کر اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھایا اور خود پھر اپنے حقوق کے حصول کے لیے لائن میں کھڑا ہوگیا۔ عام آدمی نے اپنا اتنا سارا قتل محض اس لیے کرایا کہ اس کا استحصال غیر نہیں اپنا ہم قوم، ہم مذہب اور ہم زبان حکمران کر سکے۔ اس نے سمجھا ہی نہیں یہ جنگ اس کی تھی ہی نہیں جس کے لیے اس کا خون بہایاگیا۔ منگل پانڈے، بھگت سنگھ، اشفاق، ان سے پہلے اور ان کے بعد آج تک یہ سب حریت کے لڑاکے اپنی نہیں اپنے اشراف کی جنگ اپنے خرچ اور اپنے جان کے خرچ پر لڑ رہے ہیں۔ وہ ایک کی غلامی سے نکل کر دوسرے کی غلامی میں جانے کے مر رہے ہیں۔

انیسویں صدی سے قومیت کے نام سے شروع ہونے والی یہ حماقت تاحال جاری ہے، اور انسانی جانوں کو اس بت کے چرنوں میں آئے دن بڑے فخر سے قربان کیا جاتاہے۔ انیسویں صدی سے پہلے انسانی جانوں کی قربانی اس لیے مانگی جاتی تھی کہ بادشاہ کا موڈ بن جاتا تھا کہ وہ اپنے ملک سے نکل کر دیگر علاقوں کو فتح کرے۔ کیوں؟ کبھی تو اس کا سبب بھوک، اور وسائل سے محرومی ہوتی تھی، گویا منظم ڈاکے کی یہ شکل تھی، جس کے لیےلوگ ایک باداشاہ کے جھنڈے تلے اپنے جیسے دوسرے انسانوں سے ان کی روزی روٹی چھیننے کے لیے ان پر حملہ کرتے اور یوں اپنی جانیں بھی دیتے اور ان کی جانیں بھی لیتے، اور کبھی اس کی وجہ محض اپنی قوم کی ناموری ہوتی تھی کہ ہمارے بادشاہ نے اتنا علاقہ فتح کیا، اتنا خراج وصول کیا۔ اس کے لیے سپاہی اپنی ماؤں، بہنوں، بھائیوں، بیوی، بچوں اور دوستوں کے پیارے رشتے چھوڑ کر، انھیں اپنی جان کی دائمی جدائی کا دکھ دینے چل پڑتے تھے۔ اس حماقت کو بہادری کا خطاب دیا جاتا تھا، جس طرح آج اسے شھادت کا نام دیا جاتا ہے۔ سماج کی ذہنی تربیت ایسے کی جاتی تھی کہ مائیں بھی فخر سے اپنے بچوں کو ان کے باپ کی بے شعور قربانی کی داستان، بہادری کا نام دے کر سناتیں، اور بچے بھی تمنا کرتے کہ وہ بھی اسی راستے پر چلیں۔ یوں بادشاہوں کو اپنی بے مقصد فتوحات کے لیے تازہ خون مسلسل مہیا ہوتا رہتا تھا۔ یہی سلسلہ ناموں کی تبدیلی سے اب بھی جاری ہے۔ مرنا اتنا مقدس بنا دیا جاتا ہے کہ لوگ تمنا کرتے ہیں کہ کسی شہید کے ماں باپ کہلوائیں۔ وہ لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ کہ شہید ہونے سے پہلے ان کے فرزند کو کسی دوسرے کی ماں کو اس کے بیٹے کی جدائی کا غم بھی تو دینا ہوگا، کسی دوسرے کی بیوی کو بیوگی اور اس کے معصوم بچوں کو یتیمی کے داغ دینے ہوں گے، جن کی دکھن سے نفرت اور بدلے کے الاؤ سلگائے جاتے رہیں گے، جن کے شعلوں میں نئی نسلوں کو پھر سے جان دینے کے لیے تیار کیا جاتا رہے گا۔ یوں اشراف کی فتوحات کی کہانیاں قوم کا فخر قرار پائیں گی، اور سیکیورٹی کے حصار میں بیٹھے جند سینوں پر تمغے سج جائیں گے۔ شاعر ان کی بہادری پر نغمے لکھیں گے، اور گلوکار ان کو گا کر ہمارا لہو گرمائیں گے۔ مگر یہ چراغ جن کے لہو سے جلیں گے، انھیں بھی جینا تھا، انھیں بھی اپنے ماں باپ کے بڑھاپے کا سہارا بننا تھا، اپنی بیوی کے ساتھ جوانی کی لطف اٹھانے تھے، غیر کی نظر بد سے اس حفاظت کرنی تھی، اپنے بچوں کے ساتھ کھیلنا تھا، اور کبھی جو وہ ڈر جاتے تو انھیں اپنے مضبوط بازوؤں کی پناہ کا یقین دلانا تھا۔ لیکن کسی طالع آزما کے مزاج کا اضطراب زندگی کا یہ سارا جوبن چھین لیتا ہے۔

غیروں کی حکومت کو غلامی باور کرا کر انسانوں کے خون بہانے کی ہر رہنما نے حوصلہ افزائی کی۔ مہاتما گاندھی اس میں کچھ بہتر تھے کہ وہ عدم تشدد کے قائل تھے۔ ان کے طریقہ احتجاج میں انسانی جانوں کے قتل کرنے کے لیے حکومت کے پاس اخلاقی جواز نہیں بن سکتا تھا، مگر لوگوں کو غیر قوم کی حکومت سے نکال کر، ہم نسل اور ہم وطنوں کے زیر حکومت لانا کوئی اتنا بڑا انسانی مسئلہ نہیں تھا کہ نہتے لوگوں کو ڈنڈوں اور بندوقوں کے آگے ڈال دیا جاتا۔ غریب جو انگریز کے دور میں بھاڑ جھونکتا تھا اس نے اپنے ہم قوم، ہم مذہب، ہم زبان کے زیرِ حکومت بھی بھاڑ ہی جھونکنا تھا۔
قومیت کی بنیاد پر جمہوری جہدوجہد کے پیچھے ہم قوم اور ہم مذہب اشرافیہ کا سیاسی یا روحانی حکمران بننے کا خواب پنہاں ہوتا ہے۔ جمہوریت کے دور سے پہلے یہ مقصد اپنے قبیلے اپنی قوم کی تلواروں کی طاقت سے حاصل کرنے کی سعی کی جاتی تھی، جمہوریت میں یہی مقصد ان کے ووٹ کی طاقت سے حاصل کیا جاتا ہے۔ جس طرح اس وقت کے رہنماؤں کا ایک ذاتی ایجنڈا ہوتا تھا جس کی خاطر عام آدمی کا جانیں دینا عبث تھا، اسی طرح آج کسی کے اقتدار کی خاطر جانیں دینا فضول ہے۔

یہاں جدوجہد کی نفی ہرگز نہیں کی جارہی، اگر کسی کو شوق ہے کہ اپنے ملک کی حکومت میں اپنی جلد کے رنگ والے لوگوں کو بیٹھا دیکھے، کسی دوسرے کو شوق ہے کہ وہ اپنے ہم زبان کو ایوان اقتدر میں براجمان دیکھے، چاہے وہ وہاں بیٹھ کر انگریزی میں خطاب کرے، اور اسی طرح کسی کو شوق ہے کہ وہ اپنے ہم مذہب ہی نہیں بلکہ ہم مسلک کو حکومت چلاتا دیکھے تو وہ شوق سے ان کے اقتدار کے لیے جدوجہد کرے، مگر اس کے لیے انسانی جان کی قربانی مانگنا، اور ایسے حالات پیدا کرنا کہ انسانی جانیں ضائع ہو کر رہیں، اس کا کیا جواز ہے؟ یہ جو اسلام کے نمائندوں کو اقتدار میں لانے کے لیے جانوں کی قربانیاں مانگتے ہیں، وہ بتائیں کہ اس کی کیا ضمانت ہے کہ یہ نمائندے کرپشن نہیں کریں گے؟ اسلامی نظام قانون میں بے انصافی نہیں کریں گے، اپنا ضمیر نہیں بیچیں گے؟ جب اس سب کی کوئی ضمانت نہیں تو یہ پیغمبرانہ شان سے اپنے پیروکاروں کی جانوں کی قربانی کیسے مانگ سکتے ہیں؟ وہ تو ایسا خدا کی اتھارٹی پر کرتے تھے، ان کے پاس ایسا کون سا اختیار ہے؟ انسانی جان اس سے بہت بلند ہے کہ موہوم مقاصد میں ضائع کی جائے۔

رہنما اس بات پر کبھی پشمان نہیں ہوتے کہ ان کے کارکنوں، پیروکاروں کو اپنی جانیں نہیں دینی چاہیں تھیں۔ جان لینے پر ظالم کی مذمت تو کی جاتی ہے لیکن اپنی جان یوں ہتھیلی پر سجا کر بندوق کے آگے رکھنے والے کو کس بات کی شاباش دی جائے؟ سوچے تو سہی کہ وہ جان دے کس لیے رہا ہے؟ محض اس لیے کہ اس کی پارٹی کا رہنما اقتدار میں آجائے؟ کیا یہ خدا کا حکم ہے یا رسول کا فرمان؟ وہ آ بھی گیا تو کیا ہو جائے گا؟ یہی وہ سوال ہے جو کبھی نہیں پوچھا گیا ، اور بڑی بڑی تحریکیں برپا کر دیں گئیں اور لاکھوں بلکہ کروڑوں لوگ مروا دیے گئے۔

انسانی جان تو کیا کسی جانور کی جان بھی صرف اس کے خالق کی حکم پر ہی لی یا دی جا سکتی ہے۔ ہم جانوروں پر بھی خدا کا نام لیے بغیر ان کی جان نہیں لے سکتے، ایسا ہم اس لیے کرتے ہیں کہ خود کو باور کرائیں کہ اس کی جان لینے پر ہمارا کوئی اختیار نہ تھا، یہ جان خدا کی اجازت سے لی گئی ہے۔ جب کہ یہاں معاملہ انسانی جان کا ہے، جس کی حرمت تمام انسانیت کی جان کے برابر ہے۔ اس کی جان ہم خدا کے حکم اور اس کے اصولوں کے بغیر کیسے لے سکتے ہیں؟ طاقت و اقتدار کی طاقت کے نشے میں چور وہ ظالم جو سیاسی اورمذہبی رہنماؤں کی برین واشنگ کے شکار انسانوں کی جان لیتے ہیں، وہ تو ظالم ہیں ہی، لیکن درحقیقت یہ سیاسی اور مذہبی رہنما ہی ہیں جو اپنے کارکنون کا پیروکاروں کے پہلے اور حقیقی قاتل ہیں۔

انسانی جان کی ارزانی کی حالت دیکھیے کہ کبھی ایک انچ زمین کو بچانے کے لیے انسانی خون پانی کی طرح بہا دیا جاتا ہے، اور پھر معلوم ہوتا ہے کہ حاکم نے اپنے ایک دستخط سے زمین کا وہ ٹکڑا خود ہی دشمن کے حوالے کر دیا! ہمارے ہاں ایک مذہبی رہنما کے گھر کے آگے لگی رکاوٹیں ہٹانے پر ان کے پیروکاروں نے اپنی جانیں وار دیں تھیں۔ بعد میں وہ رکاوٹیں عدالتی حکم پر ہٹا دی گئیں۔ پھر ان مظلوموں کا مقدمہ لڑنے کے لیے پورا ملک کئی بار یرغمال بنایا گیا، لیکن ایک بار بھی اس رہنما یا کسی اور کی زبان پر یہ نہیں آیا کہ رکاوٹیں ہٹانا غلط تھا یا درست، یہ بتاؤ کہ کیا یہ اتنی بڑی بات تھی کہ انسان مروا دیے جاتے؟ ذرا ذرا سی بات پر ایسی جانثاری کی تربیت دینے والا رہنما درحقیقت ان مقتولین کا پہلا قاتل ہے۔ ندامت درکنار، بغیر حکومت کے انسانوں پر ایسا اختیار پانا، وہ سرشاری ہے کہ وہ بار بار اپنے پیروکاروں کو مروانا چاہے گا۔درحقیقت، ایسے رہنما چاہے مذہبی پیشوا ہوں یا ہٹلر کی طرح کے ڈکٹیٹر، ایک ہی نفسیات کے حامل ہوتے ہیں، اپنے ادنی اشارے پر جانیں قربان ہوتے دیکھنا ایک لطف ہے، جس کی لت پڑ جاتی ہے ان رہنماؤں کو۔

ہمارے ہاں ایک سیاسی پارٹی کے سربراہ نے اسلام آبادمیں ایک احتجاجی دھرنے کے دوران ایک چوک سے دوسرے چوک تک جانے کی ضد میں اپنے کارکنوں کو بے دریغ مروایا تھا، لیکن پھر یہ سوچ کر کہ نہیں پہلے والی جگہ ہی ٹھیک تھی واپس اسی جگہ آ گئے اور پھر دھرنے ہی سے واپس آگئے۔ اب وہ انسانی جانیں جو پارٹی سربراہ کے تخیل کی بھینٹ چڑھیں، ان کا کیا ہوا؟ ان کا رائیگاں خون کس کے سر ہے؟ یہ سوال کبھی اٹھتا ہی نہیں۔ انھیں شہید قرار دے کر دامن جھاڑ کر پھر ایک نئی مہم جوئی شروع ہو جاتی ہے پھر خون کے نذرانے مانگے جاتے ہیں۔ کارکنو ں کا ہر بار وہ حال ہوتا ہے کہ

آواز دے کے چھپ گئی ہر بار زندگی
ہم ایسے سادہ دل تھے کہ ہر بار آگئے

حکومتی اشاروں پران گولی چلانے والوں کی درندگی میں تو کوئی شبہ نہیں ان کی مذمت تو مشرق سے لے کر مغرب تک سب کرتے ہیں، لیکن اپنے جانثاروں کو ایسی بے جا جانثاری کی تربیت دینے والے انسانوں کے پہلے قاتل ہیں۔

کسی رہنما کو اگر کہا جاتا ہے کہ سیکیورٹی کے خطرات ہیں، جلسہ نہ کیجیے، تو یہ لوگ اپنے لیے سیکیورٹی کے مکمل انتظامات کر لینے کے بعد اپنے پیروکاروں کا لہو گرماتے ہیں کہ چاہے کچھ بھی ہو، جلسہ ہو کر رہے گا۔ پھر جب کوئی دھماکا یا فائرنگ وغیرہ ہو جاتی ہے تو ان کی سیاست مزید چمک اٹھتی ہے، حکمرانوں کے خوب لتے لیے جاتے ہیں لیکن کہیں ایک بار بھی کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ یہ جلسہ نہ ہوتا یا موخر ہو جاتا تو کیا ہو جاتا؟ کیا آپ پر بزدلی کا الزام لگ جاتا؟ مگر یہ بہادری تو آپ نے اپنے کارکنوں کے عدم تحفظ کی بل بوتے پر دکھائی ہے۔ آپ تو مقدور بھر محفوظ رہنے کو کوشش کرتے رہے۔ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ یہ جلسہ انسانی جان سے بڑا کیوں تھا؟ یہی سوال نہ پوچھنے کی بنا پر انسانی جانوں کی پروا کیے بغیر بڑی بڑی تحریکیں برپا کر دی جاتی ہیں اور لوگ مروا کر بجائے شرمندگی کے فخر کیا جاتا ہے۔

اسلامی تاریخ میں میرے محدود مطالعے میں دو ایسے بے مثال کردار ہیں جن کے ہاں انسانی جان کے تقدس کا احساس، جو خدا کی کتاب اور انسان کی فطرت میں پایا جاتا ہے، بہت نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے، وہ دو لوگ حضرت حسن اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنھما ہیں۔ حضرت حسن، عہدِ علی رضی اللہ عنہ سے جاری جنگوں کے نتائج دیکھ چکے تھے، اپنے عہدِ حکومت میں انھیں اپنی اور اپنے مخالف کی قوت کا اندازہ بھی ہو گیا تھا۔ وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ اقتدار ہمیشہ طاقت ور کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ پہلے ادوار میں یہ اقتدار زیادہ جنگی طاقت رکھنے والے حاصل کر لیا کرتے تھے ،اور اب جمہوریت کے دور میں بھی یہ وہی حاصل کرتے ہیں جن کے پاس ووٹ کی زیادہ طاقت ہوتی ہے، یعنی اصول اب بھی وہی ہے۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے دستیاب حالات میں اقتدار پر طاقت ور کے ناگزیر حق حکمرانی کو تسلیم کیا۔ بے فائدہ جنگ کرنے کو عبث جانا۔ جو نتیجہ لڑ کر نکلنا تھا وہ انھوں نے بغیر لڑے ہو جانے دیا۔ لیکن اس برتر بصیرت کو آج بھی کم لوگ سمجھتے ہیں چہ جائیکہ اس وقت ان کے پیروکار سمجھ پاتے کہ حضرت حسن نے ان کی جانوں کو بے مقصد کشت وخون سے بچایا ہے۔ لیکن اقتدار کے ہوس میں انسانی جانوں کی پامالی کو عام سی بات سمجھنے والے عراقیوں نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو اس پر ذلیل کیا، مسجد میں ان کے پاوں کے نیچے سے مصلی نماز کھینچ لیا، برا بھلا کہا۔ مگر حضرت حسن نے ان نا سمجھوں کو کوئی جواب نہ دیا۔ یہ برتر شعور و بصیرت ہر کسی کا نصیب کہاں تھا۔

حضرت حسن کا فیصلہ تو طاقت و کمزوری کے درست مطالعہ کے بعد درست فیصلہ تھا، حضرت عثمان کا معاملہ تو اس سے بھی آگے کا ہے۔ پوری انسانی تاریخ میں انسانی جان کی عظمت و احساس کی اس سے بڑھ کر کوئی مثال ملنا میرا خیال ہے کہ مشکل ہے۔ خلیفہ وقت نے، تمام طاقت کا اختیار رکھتے ہوئے بھی چند باغیوں کے ہاتھوں محض اس لیے اپنی جان دینا گوارا کر لیا کہ اپنی ذات کا تحفظ و بقا ان کے لیے اتنا اہم نہیں تھا کہ وہ اس کے لیے انسانی خون بہانے کی اجازت دے دیتے۔ یہ ہابیل کی سرشت تھی۔ ہابیل جانتا تھا کہ قابیل اسے قتل کر دے گا، قابیل کھلی دھمکی دے چکا تھا۔ ہابیل نے اپنے دفاع کی مقدور بھر کوشش کی ہوگی، مگر حفظ ماتقدم کے طور پر بھی اس نے آگے بڑھ کر قابیل کو قتل نہیں کیا اور خود قتل وہ گیا۔ حضرت عثمان مذاکرات سے زیادہ اپنے دفاع کے لیے کوئی جنگی اقدام نہیں کیا۔ اور طاقت رکھتے ہوئے بھی مظلومانہ قتل ہو جانا گوارا کر لیا مگر اپنی جان کو اتنا قیمتی سمجھا نہ ایسا بنا کر پیش کیا اور نہ لوگوں کو ابھارا کہ ان کی حفاظت ک لیے وہ اپنی جانیں لٹا دیں، اگرچہ لوگ ایسا کرنے کے لیے بے تاب تھے، مگر آپ نے اجازت نہ دی، اور یہاں ایک عام سا لیڈر اپنے ہم وطن، ہم قوم پیروکارں اور کارکنوں کو اپنی جان کے لیے یا اپنے مذہبی یا سیاسی ایجنڈے کے لیے جانیں قربان کرانا گویا شرط وفاداری سمجھتا ہے۔ حضرت عثمانی غنی رضی اللہ عنہ کا انسانی جان کی حرمت کے پاس کا یہ فقید المثال مظاہرہ انسانیت کے ماتھے کا وہ جھومر ہے جس پر خالق کائنات کو بھی فخر ہوگا۔ اس آئینے میں ہر چھوٹے موٹے افسر سے لے کر بڑے سے بڑے رہنما کا کردار ناپیے جو اپنی بے مقصد قسم کی جان کی حفاظت اور اپنے نام نہاد سیاسی اور مذہبی ایجنڈوں کے لیے انسانی جانیں ضائع کرانے پر تیار رہتے ہیں، اور جب وہ ضائع ہو جاتی ہیں تو ان کے قتل کو قابل فخر قربانیاں بنا دیتے ہیں اور یوں مسلسل قتل انسانی کے مرتکب ہوتے رہتے ہیں۔

ہم دنیا میں زندہ رہنے کے لیے آئے ہیں۔ مرنا مجبوری یا ناگریر تقاضے کے بنا روا نہیں۔ شہادت اتنا سستا منصب نہیں کہ ہر بے شعور قربانی کو اس کا مستحق قرار دے دیا جائے۔ انسان کی قدر کیجیے۔ زندگی کی قدر کیجیے۔

Image: Adam Neate

Categories
نان فکشن

دشمن پر حملے میں بلا ارادہ عورتوں اور بچوں کا مارا جانا

[blockquote style=”3″]

حال ہی میں قندوز میں ایک مدرسے پر حملے میں بچوں اور عام شہریوں کی ہلاکت کا اندوہناک واقعہ پیش آیا۔ جنگ یا حالت امن کے دوران بچوں، عورتوں، بزرگوں اور عام شہریوں کی ہلاکت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اس کے ذمہ داروں کو سخت سزا دی جانی چاہیئے۔ اس واقعے پر بحث کے دوران بعض حلقوں کی جانب سے اس قسم کے حملوں کو جدید دور کی پیداوار اور ایک “غیر مسلم رواج” کے طور پر پیش کیا گیا۔ گو جدید جنگی ٹیکنالوجی کے نتیجے میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کے خطرات اور واقعات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے تاہم اس موقع پر یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ مسلم فقہاء اور آئمہ کرام بھی جنگ کے دوران بلاارادہ بچوں اور عورتوں کی ہلاکتوں کی تاویلات پیش کرتے آئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم، جنگ جہاں بھی ہوئی اس کے نتیجے میں بچے اور عورتیں ہی سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ ہمارے نزدیک جنگ کوئی بھی ہو، کہیں بھی ہو، کبھی بھی ہو، کسی بھی عقیدے کے افراد کے مابین ہو، اس کے دوران عام شہریوں خاص کر بچوں اور عورتوں کی ہلاکتیں غیر انسانی فعل ہیں اور جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔ درج ذیل حوالے شعیب محمد کی تحقیق کے ذریعے سامنے آئے ہیں، ان حوالوں کا مطالعہ قندوز کے حملے میں مارے جانے والے عام شہریوں کی ہلاکت کا غم تو کم نہیں کر سکتا مگر اس حملے نتیجے میں ہونے والی بحث کا معیار بہتر کرنے کے لیے ضرور مفید ثابت ہو گا۔

[/blockquote]

1) جلیل القدر اسلامی فقیہ و امام شافعی فرماتے ہیں: “جب دشمن پہاڑ، قلعے، خندق، کانٹے دار جھاڑیوں یا کسی بھی محفوظ جگہ پناہ لے تو اس پر منجنیق یا عرادہ کے گولے، آگ، بچھو، سانپ اور تکلیف دینے والی کوئی بھی چیز پھینکنا جائز ہے۔ اسی طرح انہیں غرق کرنے یا کیچڑ میں دھنسانے کے لئے ان پر پانی کھول دینے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ ان کے ساتھ عورتیں، بچے یا راہب ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔”
( کتاب الام ، ج4 ص257)

امام شافعی کفار پر اچانک حملہ کرنے کی بابت فرماتے ہیں: “یہ ممکن ہے کہ شبِ خون یا اچانک حملہ میں بچے اور عورتیں بھی کام آ جائیں (یعنی مارے جائیں)، لہٰذا ان کے بارے میں گناہ یا کفارہ یا دیت و قصاص ساقط متصور ہو گا کیونکہ شبِ خون اور اچانک حملہ ان کے لئے مباح کر دیا گیا ہے اور ان کے حق میں اسلامی حرمت نہیں رکھی گئی۔”
(کتاب الرسالہ مترجم، ص191، طبع محمد سعید اینڈ سنز کراچی)

2) فقہ حنفی کے مشہور امام علامہ سرخسی فرماتے ہیں: “اہل حرب کے شہر میں پانی چھوڑنے، انہیں آگ سے جلا ڈالنے اور ان پر منجنیق سے گولے برسانے میں کچھ حرج نہیں، اگرچہ ان کے درمیان بچے اور مسلمان قیدی یا مسلمان تاجر موجود ہوں۔”
(المبسوط، ج10 ص64)

3) فقہ مالکی کے عالم امام ابو عبداللہ المواق لکھتے ہیں: “ابن القاسم نے فرمایا: کفار کے قلعوں پر منجنیق سے گولہ باری کرنے اور ان کی خوراک اور پانی روک دینے میں کچھ حرج نہیں ، خواہ ان کے درمیان مسلمان یا چھوٹے بچے ہی کیوں نہ موجود ہوں۔یہی بات (امام) اشہب نے بھی فرمائی ہے۔”
(التاج والإكليل لمختصر خليل، ج4 ص544)

4) قفہ حنبلی کے عالم علامہ منصور بن یونس البہوتی منجنیق کے بارے لکھتے ہیں: “امام احمد بن حنبل کی رائے سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا استعمال ضرورتاً اور بلا ضرورت دونوں طرح جائز ہے۔ (اور) ان پر (آگ کے) گولے پھینکنا جائز ہے، (ان کا راستہ کاٹنا) جائز ہے۔ ان کا (پانی) کاٹنا یا کھول دینا جائز ہے۔ (ان کی آباد عمارتوں کو منہدم کرنا) بھی جائز ہے خواہ عورتیں اور بچے وغیرہ بھی ضمناً مارے جائیں کیونکہ یہ شبِ خون مارنے کی ہی مانند ہے۔”
(شرح منتهى الإرادات، ج1 ص623)
نوٹ: اس عبارت میں بریکٹوں کے الفاظ خود عبارت کا ہی حصہ ہیں کہ جن کی تشریح بریکٹ کے باہر ساتھ ساتھ علامہ بہوتی نے کی ہے۔

5) مشہور امام ابن حجر الہیتمی لکھتے ہیں: “(کفار کو ان کے علاقوں میں محصور کرنا جائز ہے) اور ایسے ہی دیگر حصار (نیز ان پر پانی چھوڑ دینا) اور ان کا پانی کاٹ دینا ، (ان پر آگ یا منجنیق کے گولے برسانا) اور ایسے دوسرے افعال جائز ہیں، اگرچہ ان میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہوں اور خواہ ہم یہ سب تدبیریں استعمال کئے بغیر بھی ان پر قبضہ پا سکتے ہوں۔”
(تحفة المحتاج في شرح المنهاج، ج9ص241)
نوٹ: اس عبارت میں بریکٹوں کے الفاظ خود عبارت کا ہی حصہ ہیں کہ جن کی تشریح بریکٹ کے باہر ساتھ ساتھ علامہ ابن حجر الہیتمی نے کی ہے۔

6) مشہور و معروف محدث امام بیہقی باب باندھتے ہوئے فرماتے ہیں: شبِ خون (اچانک حملہ) اور چھاپہ مار کاروائیوں میں عورتوں اور بچوں کا بغیر قصد قتل ہونا اور جو اس کے جواز کے بارے میں وارد ہوا ہے۔
(سنن کبریٰ بیہقی، ج9 ص78، قبل حدیث 18091)

7) مشہور محدث و فقیہ امام نووی باب باندھتے ہوئے فرماتے ہیں: شبِ خون میں بلاارادہ عورتوں اور بچوں کے قتل ہو جانے کا جواز
(صحیح مسلم، کتاب الجہاد والسیر، قبل حدیث 1745)

امام نووی مزید لکھتے ہیں: “ہمارا (یعنی شوافع)، امام مالک، امام ابوحنیفہ اور جمہور کا نظریہ یہ ہے کہ جب رات کو کافروں پر حملہ کیا جائے اور رات کے اندھیرے میں مردوں، عورتوں اور بچوں میں امتیاز نہ ہو سکے اور وہ اچانک مارے جائیں تو اس میں کچھ حرج نہیں ہے۔”
(شرح صحیح مسلم،ج12ص49-50، تحت حدیث 1745،1746)

نوٹ: ان تمام عبارات و نظریات سے ہمارا ہرگز اتفاق نہیں ہے بلکہ ہماری نظر میں بلاامتیاز مذہب و مسلک یا رنگ و نسل معصوم عوام بالخصوص خواتین اور بچوں کا خون بہانا اور انہیں نقصان پہنچانا ہرگز کسی صورت کوئی جواز نہیں پا سکتا۔

درج بالا عبارات کا پیش کرنے کا مقصد محض تصویر کا وہ دوسرا رخ دکھانا ہے کہ جب ہم سُپر پاور تھے تو تب ہمارے اسلاف اور اکابرین جنگی اخلاقیات کا کون سا نظریہ پیش فرماتے تھے۔ واللہ اعلم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مندرجہ بالا حوالوں کی عربی عبارات
1) وإذا تحصن العدو في جبل أو حصن أو خندق أو بحسك أو بما يتحصن به فلا بأس أن يرموا بالمجانيق والعرادات والنيران والعقارب والحيات وكل ما يكرهونه وأن يبثقوا عليهم الماء ليغرقوهم أو يوحلوهم فيه وسواء كان معهم الأطفال والنساء والرهبان أو لم يكونوا

2) ولا بأس بإرساله الماء إلى مدينة أهل الحرب وإحراقهم بالنار ورميهم بالمنجنيق وإن كان فيهم أطفال أو ناس من المسلمين أسرى أو تجار

3) ابن القاسم: لا بأس أن ترمى حصونهم بالمنجنيق ويقطع عنهم المير والماء وإن كان فيهم مسلمون أو ذرية وقاله أشهب.

4) فظاهر كلام أحمد جواز مع الحاجة وعدمها.(و) يجوز رميهم (بنار، و) يجوز (قطع سابلة) أي طريق.(و) قطع (ماء) عنهم (فتحه ليغرقهم، و) يجوز (هدم عامرهم) وإن تضمن إتلاف، نحو نساء وصبيان ; لأنه في معنى التبييت۔

5) (ويجوز حصار الكفار في البلاد والقلاع) وغيرها (وإرسال الماء عليهم) وقطعه عنهم. (ورميهم بنار ومنجنيق) وغيرهما وإن كان فيهم نساء وصبيان ولو قدرنا عليهم بدون ذلك

6) باب قتل النساء والصبيان في التبييت والغارة من غير قصد، وما ورد في إباحة التبييت

7) باب جواز قتل النساء والصبيان في البيات من غير تعمد

Categories
فکشن

جہاد النکاح

“اپنے دین کو بچا نے کے لئے ہم ہر طرح کی قربانی دینے کی قسم کھاتے ہیں”

 

المدینہ نے باقی دس لڑکیوں کے ساتھ آواز میں آواز ملائی لیکن اس کی آواز کا جوش الگ ہی سنائی دے رہا تھا ۔
عائشہ نے المدینہ کا کندھا پیار سے تھپتھپایا۔

 

“تم پر خدا کی رحمت ، ہو مجھے یقین ہے کہ تم اللہ کی پسندیدہ ہو”
عائشہ جو ان لڑکیوں سے عمر میں کافی بڑی تھی اب اس نے کچھ اور بلند آوا ز میں لڑکیوں کو مخاطب کیا

 

میں نے آپ کو یہ قسم دہرانے کو اس لئے کہا کہ آپ کی آواز کی سچائی اور جوش نہ صرف اللہ پاک کے حضور سربسجود ہے بلکہ امیر ابو ربا ب بھی سن رہے ہیں اور گواہ ہیں آ پ کی ہمتوں کے، آپ نے چھ ماہ میں اپنا ہر مشن نہایت شاندار کامیابی سے پورا کیا اور اب اللہ کی منتخب عورتوں میں سے ہیں۔ ہمارے امیر حضرت ابورباب نے بہت خا ص لڑکیوں کا انتخاب کیا ہے اس محترم کام کے لئےجو آپ کو جنت میں اعلی درجہ پر فائز کر ے گا اور وہ دس خوش نصیب آپ ہیں۔

 

امیر ابورباب کا نام سنتے ہی لڑکیوں نے ادب سے اپنے ہاتھ سینے پر باندھ کے سر جھکا لئے تھے ۔
“آپ سب کو معلوم ہے کہ ہمارے مرد اپنے دین کی حفاظت کے لئے اپنے جسموں سے بارود باندھ کےخود کو قربان کرنے میں بھی ذرا سی دیر نہیں کرتے ،،
وہ ایمان کے اعلی درجے پر فائز ہیں۔ کیا ہماری جان، ہمارے جسم ہمارے مال کی اللہ کی راہ میں جہاد کے آگے کوئی اہمیت ہے؟
“نہیں ہے، ہمارا سب کچھ قربان اس کے نام پر” لڑکیوں نے جوش سے کہا ۔
“جو بھی اللہ کی راہ میں جہاد کر رہا ہو ہم اس کے لئے اپنا سب کچھ قربان کر دیں گے”
“یہی ہے نا ہماری قسم؟”عائشہ نے اونچی آواز میں پوچھا۔
“یہی ہمارا ایمان ہے مادام”ا لمدینہ نے بلند آواز میں جواب دیا۔
“تو اب یہ قسم پوری کرنے کاوقت آ گیا ہے”
لڑکیوں نے جوش سے تالی بجائی ۔

 

“ہمارے مرد اپنے بیوی بچوں سے دور رہ کے خدا کی راہ میں جہا د کررہے ہیں۔اللہ ان کو اپنے خاص بندے مانتا ہے اور آپ کو منتخب کیا گیا ہے اس سعادت کے لئے کہ ان کے کام آئیں حضرت ابورباب نے اللہ کی ہدایت پر فتوی جاری کیا ہے ۔ آپ سب جانے کی تیاری کریں سعادت کا یہ سفر بہت مبارک ہو آپ کو۔”

 

ہم کہاں جارہے ہیں مادام ؟ فروا کی آواز سے خوشی کی جھلک رہی تھی ۔
عائشہ گہری نظروں سے کچھ سیکنڈ فروا کو دیکھتی رہی پھر غصہ کی ہلکی سی آمیزش سے فروا سے مخاطب ہوئی۔

 

“کیا آپ کو تاکید نہیں ہے کہ کبھی غیر ضروری سوال نہیں کریں؟

 

فروانے گھبرا کے ہاتھ سینے پہ باند ھ لئے اوراقرا رمیں سرہلایا ۔

 

ماہم کچھ کہنا چاہ رہی تھی لیکن اس سے پہلے فروابول پڑی تھی اورعائشہ نے یہ دیکھ لیا تھا لہذا اب وہ ماہم سے مخا طب ہوئ ی۔
“ ماہم جوسوال ادھورا چھوڑدیا تھا پوچھیں “

 

ماہم گھبرا گئی اوراٹک اٹک کے بولی۔ “ جی۔۔۔ نہیں۔۔ مادام۔۔ کوئی سوال نہیں ہے“
“مجھ سے ادھوری بات کرنے کی اجازت نہیں ہے آپ لوگوں کو، کیا کہہ رہی تھیں آپ ؟ “ عائشہ نے غصہ سے ایک ایک لفظ پر زور دے کے کہا ۔

 

ماہم ؔنے نظریں جھکا کے اور ہاتھ سینے پر باندھ کے ڈری ڈری سی آواز میں سوال کیا
“ہمارے سپرد کیا کام ہے مادام؟”

 

عائشہ نے ایک گہرا سانس لیا ۔ اب وہ مسکرا رہی تھی ۔

 

“آپ سب کو جہاد کی سعادت کے برابر سعادت نصیب ہوئی ہے ۔ ہمارے جہادی اپنے جسم اللہ کی راہ میں قربان کرنے کی طلب میں بے چین ہیں لیکن کتنا عرصہ لگ جائے اس قربانی کی قبولیت میں اس کا انہیں اور ہمیں علم نہیں ۔ میرے لئے اور آپ سب کے لئے اس سے بڑی سعادت کیا ہوگی کہ ہم دل و جان سے ان کی ہر خدمت کے لئے مستعد رہیں”

 

عائشہ نے جوش سے کہا ۔پھر کچھ سوچ کے وہ چند سیکنڈ ماہم کے چہرے پر نظریں گاڑے اسے کڑی نظروں سے دیکھتی رہی اور اس کے قریب آ کے اس کاجھکا ہوا سر ایک جھٹکے سے اوپر کیا ، اب اس کا لہجہ میں چنگاریاں سی بھڑک رہی تھیں ۔

 

“کیا تمہارے دل میں شیطانی وسوسے جگہ لے رہے ہیں ؟ ماہم نے جلدی سے انکار میں سر ہلایا اس کے لہجہ میں خوف کی کپکپاہٹ تھی ۔

 

“ مجھے معاف کردیں مادام ، میں نادم ہوں ، مجھ سے بڑا گناہ سرزد ہواہے “

 

“ درست کہا ، اللہ کے حکم پر کسی سوال کی گنجائش نہیں، آپ کو کہاں جانا ہے، کیا کرنا ہے اللہ کی اطاعت اورامیر ابورباب کے پیغام کے بعد کسی سوال کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ کیا ہماری تربیت میں میں کمی رہ گئی اورکیا ہم نے جہاد کے لئے آپ کا انتخاب غلط کیا؟”
عائشہ اپنی جگہ پر واپس گئی اور پھر ساری لڑکیوں سے مخاطب ہوئی:

 

“آپ کو مجاہدین کے لئے امیر ابوربا ب نے اللہ کے حکم سے حلال قرار دیا ہے۔ یاد رہے ہم نے دین کی رسی کو مضبوطی سے پکڑا ہوا ہے ہمارا سب کچھ اس کا ہے اور یہ سب کچھ آپ اللہ کے حکم پرکر یں گی”
ماہم کے اندر بے چینی کی ایک اونچی لہر اٹھی، وہ پھرکچھ کہنا چاہتی تھی مگر اس کی آواز اس میں ٹوٹ ٹوٹ کے بکھر گئی۔
“میں تو شادی شدہ۔۔۔۔ اور میرا شوہر؟”پھراس نے جلدی سے اپنا سرجھٹکا ۔دل میں توبہ کا ورد کیا
“میری توبہ قبول کرمالک، میرے وسوسے شیطانی ہیں، امیر ابور باب کے فتوی پر صدقِ دل سے ایمان رکھتی ہوں “
عائشہ اپنی بات ختم کرچکی تھی ۔
لڑکیوں نے اللہ اکبر کاپر جوش نعرہ لگایا اور بلند آواز سے کہا ۔
“پرور دگار دین کے لئے ہماری رضا قبول کر”
ماہم نے آنکھوں سے آنسوپوچھے اور آنکھیں بند کرکے صدق دل سے آمین کہا ۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

گاڑی کے شیشوں پر گہرے سیاہ شیشے ہونے کے سبب باہر کا منظر لڑکیوں کو نظر نہیں آ رہا تھا ۔ان کی تربیت ہنسی مذاق کی اجازت نہیں دیتی تھی اور ایک دوسرے سے صرف ضروری بات کرنے کی اجازت تھی لہذا سب خاموشی سے سفر کررہی تھیں لیکن ان کے چہرے سے تھکن عیاں تھی ۔اس گاڑی میں صرف چار لڑکیاں تھیں اور انہیں بالکل علم نہیں تھا کہ باقی لڑکیوں کو الگ الگ گاڑیوں میں اورمختلف اوقات میں سفر کرنا تھا ۔ تربیت کیمپ میں لڑکیوں کو گھڑی پہنے کی اجازت نہیں تھی ۔ کیوں نہیں تھی نہیں تھی؟ انہیں ایسا کوئی سوال پوچھنے کی اجازت نہیں تھی ۔ تھکن سے چور اونگھتی ہوئی ایک لڑکی نے دوسری سے پوچھا
“ ہم کتنے گھنٹوں سے سفر کررہے ہیں ؟”

 

“ آرام کرو آنکھیں بند کرکے فضول سوال مت کروـ” اس لڑکی نے درشت لہجہ میں کہا جس کو عائشہ نے “ٓآپ سب کی رہنما” کہہ کے تعارف کرایا تھا اور جس کو ان لڑکیوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔

 

رات کے گہرے اندھیرے میں گاڑی اونچی اونچی دیواروں والے احاطہ میں داخل ہوئی اورگیٹ کو واپس بند کردیا گیا ۔ڈرائیور نے گاڑی ورانڈے کے قریب لا کے کھڑی کی ۔ لڑکیوں کی رہنما لڑکی سب سے پہلے اتری اوراس کے پیچھے با قی لڑکیاں ورانڈے سے ملحق ہال میں داخل ہوئیں ۔ ہال کےاندرسامنے کی دیوار میں ایک دردوازہ تھا جوبند تھا اور ایک نقاب پوش شانے سے بندوق لٹکا ئ کھڑا تھا اس نے دروازہ کھولا اور رہ نمالڑکی کے ہاتھ میں ایک لال ٹین تھما دی ۔ وہ سب ایک سرنگ نما راستے پر چلتی ہوئی ایک اورلق ودق ہال میں پہنچیں جس کے چارونطرف چھوٹی چھوٹی کو ٹھریان بنی ہوئی تھیں ۔ ہال میں لالٹینوں کی ہلکی ہلکی روشنی میں لڑکیوں نے چار عورتوں کواپنی طرف آتے دیکھا۔ان عورتوں نے قریب آ کے بھی اپنے چہرے سے نقاب نہیں ہٹا ئی اوربنا کچھ بولے ایک ہاتھ سینے پر رکھ کے لڑکیوں کی محافظ کوجھک کے تعظیم پیش کی پھر باری باری سب نے لڑکیوں کے ہاتھ پکڑکے اپنے ماتھے سے چھلائے تھوڑا سا جھک کے بہت ادب سے اپنے پیچھے آنے کی اشارے سے درخواست کی ۔ چاروں لڑکیاں الگ الگ کوٹھریوں میں پہنچا دی گئیں۔ان کوٹھریوں میں ایک جیسا سامان تھا۔۔ کوٹھری کی ۔ایک دیوار کے ساتھ بچھا ہوا گدا جس پر ہرے رنگ کی چادر بچھی ہوئی تھی ۔سامنے کی دیوار کے ساتھ لکڑی کے کھوکھے پر جائے نماز اور قرآن مجید، اورسلے ہوئے کپڑوں کا ایک پیکٹ جس میں ہرے رنگ کے دو جوڑے کپڑے ۔اسی کے ساتھ ذرا ہٹ کے دیوار پر کپڑا ٹانگنے کی کھونٹی سب کوایک سی ہری چا دریں اورایک سا ہرے رنگ کالباس دیا گیا تھا ۔

 

لڑکیاں تھکن سے چور تھیں اپنے اپنے کمرے میں پہنچ کے بے سدھ ہوکے گدے پر گریں اور سو گئیں۔

 

ناشتہ کے وقت تمام لڑکیوں کی ان ہدایات کی ایک ایک کاپی بانٹ دی گئی جس میں ان کی دن بھر کی مصروفیات کی تفصیل اور دیگر ہدایات درج تھیں ۔اس ہدایت نامہ میں دن کو چار گھنٹہ سونے کو بھی دیا گیا تا کہ رات کو جہاد کی عبادت ادا کرتے وقت ان کے چہروں پر تھکن نہ ہو۔

 

المدینہ دس لڑکیوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھی ۔ اس کی گہری سبز آنکھیں، سو رج کی کرنوں جیسےسنہرے، گھنے اورلمبے بال، بہت مہارت سے تر اشے ہو ئے سنگ مرمر کے مجسمے جیسا دودھیا بدن بھوکے جہادیوں کے لئے جنت کے توشے جیسا تھا سو سب کی بھوک اس پر ٹوٹ پڑی وہ سب اس کو نوالہ نوالہ توڑ کے کھا رہے تھے۔ ۔جس کا جی چاہتا تین بار اللہ اکبر کہہ کے اسے حلال کرلیتا ۔ پندرہ دن گزر چکے تھے ۔ المدینہ اپنے سوندھے بدن کی خوشبو ایک کے بعد دوسری پلیٹ میں دھرتے دھرتے اب خود کو کسی جھوٹی پلیٹ جیسا ہی محسو س کرنے لگی تھی ایسی پلیٹ جس کو وہ جیسے ہی دھوتی پھر جھوٹی ہو جاتی ۔وہ گھبرا گھبرا کے استغفار کی تسبیح پڑھتی جب اس کے اندر کے فخر پر اسے کائی جمتی محسو س ہوتی ۔”پروردگار دیں کے لئے میری رضا قبول کر ، مجھے خود پر فخر کرنے کی توفیق عطا کر، یہ کون سا بے دینی کا گدھ ہے جو مجھے اندر سے نوچ نوچ کے کھا رہا ہے؟ میں اپنے فرض کو ادا کرتے ہوئے اپنے وعدوں سے مکرتا کیوں محسو س کررہی ہوں خود کو۔ میری مدر فرما میرے معبود”اس کا چہرہ آنسووں سے تر ہو جاتا توبہ استغفا ر کرتے ہوئے ۔ لیکن دن رات کی مشقت اس کی تر بیت کو پھر سے ادھ موا کرنے لگتی ۔

 

المدینہ ، ماہم ، دعا اور باقی ساری لڑکیاں صرف کھانا کھانے ، با جماعت نماز پڑھنے یا جنگی مشقوں کے لئے اکھٹا ہوتی تھیں باقی وقت وہ کب کس کے تصرف میں ہوں گی انہیں خود معلوم نہیں ہوتا ۔ لیکن جب وہ ایک جگہ موجود ہوتیں تو ان کی آ نکھون کی ویرانی اور بدن کی تھکن ایک دوسرے سے مخا طب رہتی تھی ۔ انکے اندر کا خوف انکی زبانیں کا ٹ چکا تھا انکی تربیت انہیں اپنی زنجیروں میں جکڑ کے خا موشی کی کال کوٹھڑی میںبند کرچکی تھی ۔ لیکن بدن چیخ چیخ کے فریاد کرتا سنا ئ دیتا ایک دوسرے کو جس کو وہ استغفار کی تسبیح کے ورد سے چپ کرا دیتیں۔ اس دن ساری لڑکیا ں مغرب کی نمازکے لئے اکٹھا تھیں ماہم بھی مو جود تھی لیکن اس حال میں جیسےاس پر کوڑے برسائے گئے ہوں اس کے ہونٹوں کے کنا رے پر خون جما ہوا تھا ،چہرے پر نیل اور آنکھیں سوجی ہوئی تھیں ۔ اس نے نہ وضو کیا نہ نما ز پڑھی نہ ہی کسی کے سوال کا کوئی جواب دیا بس سر جھکائے اپنی سوچوں میں غرق بیٹھی رہی ۔نماز ختم ہوتے ہی عائشہ دو مجاہدین کے ساتھ تیزی سے اندر داخل ہوئی اور ماہم کو گھسیٹے ہوئے وہ لوگ باہر لے گئے ۔ دوسری صبج لڑکیا اس گرا ونڈ میں لے جائی گئیں جہاں ماہم کے سر پہ شیطانی سایہ ہو جانے اور دیں کے احکامات سے روگردانی کرنے کے سبب موت کی سزا سنا ئی جانی تھی ۔ ما ہم سر سے پیر تک سیاہ برقعہ میں لپٹی دو برقع پوش عورتوں کی ہمراہی میں لڑ کھڑاتی ہوئی بیچ میدا ن کے لا ئی گئی گھٹنوں کے بل اسے زمیں پر بیٹھایا گیا ایک مجاہد آگے بڑھا اس نے بلند آواز سے ماہم کے گناہ گنوائے ”یہ اللہ کے فرمان پر سوال اٹھاتی ہے، اس نے ایک جہادی کے منہ پر طمانچہ مارکے دین کے منہ پر طمانچہ مارا ہے اور جہاد النکا ح کے نام پر چیخ چیخ کے گالیاں بک کے توہینِ فرمانِ رسالت کی مرتکب ہوئی ہے اور ایسے مرتد کی سزا موت ہے ۔بیشک بیشک اور اللہ اکبر کے پر جو ش نعروں سے میدان گونج رہا تھا ۔ ایک جہا دی کی بندوق نے ماہم کے سر کا نشانہ لیا ۔ لڑ کیوں نے گھبرا کے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ لیا ان کا بدن تھر تھر کانپ رہا تھا ۔ نشانہ گو ماہم کے سرکا لیا گیا تھا لیکن حقیقت تو یہ تھی کہ اس ایک گولی نے باقی لڑکیوں کے بچے کھچے وجود کو بھی پھٹکی پھٹکی کرکے ان کے اندر دور دور تک بچھے خوف کے کوڑے دان پر ڈال دیا ۔ المدینہ کی عجب کیفیت تھی اسے لگ رہا تھا کہ ماہم کا خون زمیں پہ نہیں بلکہ اس کی رگوں میں جم رہا تھا۔ ماہم کی آخری چیخ اسے اپنے سینے میں تڑپتی محسوس ہورہی تھی ۔ المدینہ اس واقعہ کے بعد وہ المدینہ نہیں رہی جو جہا د کےجذبہ سے سر شار تھی اب وہ اپنی سوچو ں پر گھبرا گھبرا کے استغفار کی تسبیح نہیں پڑھتی تھی بلکہ اب تو اسے اپنے بدن سے سڑے ہوئے مردار جیسی بو آتی محسو س ہوتی تھی مقدس گدھ جتنا نوچ نوچ کے اس کا بدن کھاتے اس کی روح میں نئی سوچوں کے اتنے ہی اکھوے پھوٹ رہے تھے۔ ماہم کے سانحے پر کسی لڑکی نے کوئی ردعمل نہیں دکھایا سوا ئے اس کے کہ اب ان کی آنکھوں میں خوف کی تہہ کچھ اور دبیز ہو گئی تھی ۔

 

تمام معاملا ت اس سانحے کے فوراً بعد ہی معمول پر آگئے یوں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ مگرالمدینہ کواپنے بدن سے کٹر کی بدبوابلتی محسوس ہو رہی تھی اوراندر کوئی آ گ تھی جواسے پھونکے دے رہی تھی ۔وہ اپنے کمرے میں دیوانہ وار چکرلگا تی اوردعا کرتی “ کوئی راستہ سجھا دے مرے معبود یہاں سے نکلنے کا یا مرجانے کا ۔ اس کی ہرسانس دعا بن گئی تھی مگر وہ جانتی تھی کہ یہاں سے زندہ نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے ۔اسے ہررات مرنا ہوگا اورہرصبح اس خبیث گدھ کا شکرانہ ادا کرنا ہوگا جس نے اس کی جسم کونوچ نوچ کے کھایا ہو ۔المدینہ کوہرچیز سے نفرت ہوتی جارہی تھی ۔جانمازپربیٹھتی توصف ایک ہی گردان ہوتی اس کے اندر۔” میرے معبود اس ذلت کی زندگی کے بجائے مجھے موت دے دے۔”

 

۔ المدینہ کے حسین بدن کا ذائقہ جب مجاہدین کانشہ بڑھاتا تو وہ ایک دوسرے کو اپنی اپنی سرشاریاں اور اپنی اپنی فتوحات کی دا ستان مزے لے لے کے سناتے ۔ یوں امیرابو رباب تک بھی اس حسن بے مثال کی دا ستان پہنچ گئی ۔انہیں افسوس تھا کہ سا ت مہینے سے تربیت کیمپ میں موجود ہونے کے باوجود انہوں نے ا س کی ایک جھلک بھی نہیں دیکھی ان کے اندر کی بیتا بی ہاتھ مل رہی تھی، بپھر رہی تھی، ڈکار رہی تھی ۔وہ کئی دنوں تک گہری سو چ میں غرق رہے اور پھر ان کی آنکھوں میں وہی مخصوص چمک در آئی جو ہر فتوی سے پہلے نظر آتی تھی ۔انہوں نے مادام عائشہ کو فوراً طلب کیا ۔

 

“آج لڑکیوں کی نشانہ بازی کی تربیت کا ہم خود جائزہ لینا چاہتے ہیں۔ ہمیں اطلا ع ملی ہے کہ المد ینہ نامی لڑکی سر کش ہے اور وہ جہاد کی تر بیت میں خاطر خواہ دلچسپی نہیں رکھتی؟
عائشہ نے حیرانی سے جواب دیا ۔

 

“ایسا نہیں ہے میرے آقا ۔ بلکہ اسک ا نشانہ تو کبھی چوکتا ہی نہیں ۔ یہ اطلا ع بالکل غلط ہے آپ خود جائزہ لےسکتے ہیں”

 

“ٹھیک ہے ۔ ہم خود جائزہ لیں گے”

 

ٹریننگ کے وقت لڑکیاں سر پرصرف حجاب لیتی تھیں ۔ عائشہ نے ابورباب کی مو جودگی کی خوشخبری سنائی لڑکیوں کو اور سب سے پہلے المدینہ کا نام پکارا گیا ۔

 

المدینہ بندوق کا نشانہ باندھے زمیں پر مخصوص پوزیشن میں لیٹی تھی اور ابورباب کی بھوکی آنکھیں اس کی چا ندی کی صراحی جیسی گردن سے ہو تی ہوئی جسم کے چپہ چپہ کی سیر میں مصروف تھیں ۔ ابو رباب کو ایسا مدہوش کن نظارہ اس قیامت خیز حسن کی طلب کی بھٹی میں ڈال بھون رہا تھا ۔ المدینہ کا ایک بھی نشانہ خطا نہیں ہوا تھا ۔ ابو رباب مرحبا مرحبا کو ورد کرتے ہوئے المدینہ کے بالکل قریب پہنچ گئے۔ ان کا جی چا ہ رہا تھا کہ اسی وقت اسے اپنے سینے سے لگا کے اپنی خواب گاہ میں لے جا ئیں لیکن اپنے مر تبے کا خیال صرف المدینہ کے سر پا ہا تھ رکھنے پر مجبور کررہا تھا ۔ دوسرے دن ابورباب نے پھر ما دام عائشہ کو طلب کیا ۔
“مادام عائشہ ۔ ہمیں المدینہ کے بارے میں خا ص ہدا یات سر کار دوعالم کی جانب سے مل رہی ہیں ۔ میری جان فدا ہو میرے سرکار کے فرمان پر۔ میں ان کے غلا موں کا غلام بہت گڑ گڑایا ان کے حضور کہ مجھے سوائے ان کی غلامی کے اور کو ئی کام نہ سونپا جائے مگر آقا کا حکم ماننا غلام کا فرض اولین ہے ۔ اس لڑکی کو اپنے مشن کی کامیابی کے لئے ہمیں بذات خود تر بیت دینے کی تاکید فرمائی ہے آقا نے ۔ اسے ہماری خدمت میں پیش کیا جا ئے مادام عائشہ ۔ امیرابورباب کی لہجے میں رقت آمیز جلال تھا ۔

 

“جو حکم میرے آقا”عائشہ نے جھک کے تعظیم پیش کی ۔

 

المدینہ نے عائشہ کا سنایا امیرابو رباب کاپیغام سر جھکا کے سنا لیکن اس کے چہرے پر کسی قسم کے تا ئثرات نہیں تھے نہ غم کے نہ خوشی کے نہ فخر کے ۔ عائشہ نے حیرانی سے سوال کیا “المدینہ کیا تم اتنے بڑے اعزاز پر خو ش نہیں ہو”

 

“ما دام۔۔۔ خوشی اور غم موت اور زندگی سب کے معنی اب بدل چکے ہیں میرے لئے ۔ میں اس خبر کو اپنی کسی مراد کی قبولیت جیسا سمجھ کے اندر سے سر شا ر ہوں ۔ میں اپنے کسی فیصلے کے سامنے سرخرو ہونے جا رہی ہوں اس سے بڑی خوشی اور کیا ہوگی ، میری دعا قبول ہوئی، ما لک کی شکر گزار ہوں ، میں اس حکم کو خدا وند کا ایک عظیم فیصلہ سمجھ رہی ہوں ۔

 

عائشہ نے خوشی سے اسے سینے سے لگا لیا ۔

 

“یاد رہے کہ یہ بہت بڑا اعزاز ہے ۔تمہارے لئے خاص لباس منگوایا گیا ہے کل کے لئے تا کہ تمہارے حسن میں چار چاند لگ جائے”

 

جمعہ کے نماز کے بعد امیرابو رباب کا خطبہ تھا لہذا مجاہدین کا اشتیاق لائق دید تھا کہ انہیں ان کی ذیارت کا شرف کم کم نصیب ہوتا تھا ۔وہ بہت خاص مو قع پر تشریف لا تے تھے ۔
امیر ابورباب نے خطبہ دیا اور ایمان کے حرارت سے دلوں کو گرما دیا ۔ انہوں نے آ خر میں رقت آمیز لہجے میں المدینہ کے بارے میں سر کار دو عالم کی ہدایات کا ذکر ا یسے دلگیر اورایمان افروز لہجے میں کیا کہ فضا اللہ اکبر ک نعروں سے گونج اٹھی۔ سر سے پیر تک سیاہ عبایا میں لپٹی المدینہ کو بہت احترام سے امیر ابورباب کے روبرو لا کے کھڑا کیا گیا ۔
امیرابو رباب نے تین بار اللہ اکبر کہا کہ وہ کسی غیر محرم عورت کو اپنی ذاتی تربیت میں نہیں رکھنا چا ہتے تھے ۔ المدینہ اب ان پر حلال تھی۔ فضا اللہ اکبر کے نعروں سے گونج رہی تھی اور ابورباب کا چہرہ خو شی سے تمتما رہا تھا ۔ المدینہ نے اچا نک اپنا نقاب الٹ دیا اپنا برقع اتار کے مجمع کی طرف پھینکا اور پوری قوت سے جنونی انداز میں چلائی ۔”تو نہیں جانتا ابو رباب کہ مجھے میرے اللہ نے کیا
ہدایت فرمائی ہے”

 

اس نے پورے جلال کے ساتھ اپنا ہا تھ بلند کیا اور پلک چھپتے میں وہ ہو گیا جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا ۔۔۔ اس کا نشانہ کبھی خطا نہیں ہوتا تھا۔ المدینہ کی پہلی گولی امیر ابورباب کے سینے کو چیرگئی اورپھر عائشہ سمیت وہ سب جو اسے اپنے واسطے جب جی چاہے حلال قرار دے دیتے تھے اپنے خون میں نہائے فرش پر پڑے تھے۔ المدینہ ہررات مرتی تھی اورہرصبح اپنی زندگی ختم کرنے کی ترکیبیں سوچا کرتی تھی۔ ابو رباب کا پیغام اسے اس جہاد کو اپنی ذات سے نوچ کے پھینک دینے کا پیغام دے گیا جس نے اسے عورت سے کیچڑ میں بدل دیا تھا۔ المدینہ نے ایک گولی اپنے لئے بچا لی تھی، اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ المدینہ نے پلٹ کے لڑکیوں کی طرف دیکھا، اس کی آواز غصہ سے کانپ رہی تھی “ تم سب گواہی دینا کہ المدینہ نے اس جہاد کو ٹھوکر ماردی جس نے اسے عورت سے رنڈی بنا دیا۔ اس نے پستول اپنی کنپٹی پر رکھی اور سر آسمان کی طرف سر اٹھایا”پر وردگار میں تجھے ان مقدس شیطانوں کے مکروہ کرتوتوں پر گواہ کرتی ہوں”

 

اور اس کا واحد گواہ، اس کا معبود ! شاید اپنی بنائی ہر مورت میں اس مورت کو سب سے اونچے طاق پہ رکھ کے مسکرارہا ہوگا
Categories
نقطۂ نظر

Reframing the Narrative: If not Now, When?

If there has to be a single incident that must get us alert, focused, and united to defeat terrorism in Pakistan, it is the deadly act of terror and butchery of 16/12 on APS children in Peshawar. And it is indeed our 9/11. But, unfortunately, there is no end in sight of the deadly “jihad” on Pakistani men and women, religious minorities, and now innocent children unless there is an express agreement on the diagnosis of the problem, its underlying causes and perpetrators, and unless there is a strong resolve to fix it both on individual and state levels. The problem is that we are under siege by our own religious thugs some of whom are allegedly patronized by the state’s military establishment, religious political elites, mullahs and mosques, and the public in general. Our own power-hungry religious psychotics are killing our school children by using unrestrained violence justified through their perverted narrative of religion. We must understand now that this is a war within us, a war within Islam. We must realize that the enemy is not from the outside. Rather it is from within.

But the critical question is that how do we build consensus around this problem? It is extremely challenging to do so, as, at this point, our leaders, state machinery, political parties, media, and people are awfully fragmented on what our problem is and who and what causes it. Pathetically, many still strongly believe that Indians, Israelis, and the Americans are behind the attack on school children in Peshawar. It is an adaptive challenge, which requires deeper thinking and sound understanding. Here is how, I think, we can address such a challenge.

We must understand now that this is a war within us, a war within Islam. We must realize that the enemy is not from the outside. Rather it is from within.

First, we will not get any traction with solving this problem unless we deconstruct our decades or perhaps centuries-old dangerous hate narrative — that this is a war between Islam and infidelity, and that anything that happens to us is caused by the infidels — and reconstruct a more inclusive discussion in which we spot on our own predicaments and educate our fellow citizens about them.

This poisonous narrative, constructed after the wahabi and salafi teachings of Ibn Taymiyyah and Syed Wahab and then the schoolings of right wing political Islamist or Islamic fundamentalist thinkers such like Modoudi and Qutub, which is overtaken now by their virulent and violent cousins, the neo-fundamentalists like Taliban, Qaeda, and IS, is a fundamental hindrance in achieving peace and prosperity in the country.

For deconstructing such story, a number of things need to be done. One, the state must give up on sponsoring religious extremism. Two, religion and state must be separated i.e. its role must be either faith blind or faith neutral, as the columnist Faisal Bari rightly asserts. Three, the government needs to reform syllabi both in schools and madrassas, which perpetuate inter-and-intra-religious hate speech. Most importantly, madrassas whose number, according to the most conservative state record and certainly without the mention of unregistered ones, in Pakistan goes pass 24000 now, need serious scrutiny by the state. Each year, about over half a million young people graduate from madrassas, who are taught to obey, not to question anything told in the name of religion. Many of these unskilled young, unemployed men have nothing to do but to be employed in religion and serve the jihad industry.

Each year, about over half a million young people graduate from madrassas, who are taught to obey, not to question anything told in the name of religion. Many of these unskilled young, unemployed men have nothing to do but to be employed in religion and serve the jihad industry.

Four, both the government and the public have to keep a check on sermons from the mosque, which have been promoting this dangerous narrative by spitting venom against religious minorities and non-Muslims in general. I really doubt that the Taliban will be called thugs, criminals, and murderers in the coming Juma sermons.

Second, the Pakistani state relies heavily on conspiracy theories. In fact, these conspiracy theories are deliberately constructed and used as a political tool to confuse the public and manipulate their opinion. It is clear now that this unholy and deadly “jihad”, having been tamed in our land and in the region for over three decades, is not in Pakistan’s national interest. It serves the interests only of a few individuals and institutions they run and their religious proxies. After this tragic episode, it must be clearer to all Pakistanis that their “jihad” is about killing and bleeding our innocent children.

This was made clearer in 1980s by the visionary Pashtun political leader Wali Khan of Awami National Party who warned that the fire that the Pakistani state was setting alight in Afghanistan will one day cross the Attock Bridge and burn us. They did not listen to him then and instead continued sponsoring for longer the so-called “jihad” by making a distinction between the “good” and ‘bad’ Taliban, which they, some say, claim to have abandoned now. Yet, I do not think that they have completely abaondoned such narrative or are willing to invent an alternative national discourse and a robust course of action to put an end to terrorism.

Seemingly, the establishment is still creating confusions for the nation through their stooges in religion, in media, and in politics. In the wake of the recent incident, it seems that TV channels, by inviting Maulana Aziz to guide the nation on how to counter jiahadism and terrorism, propagate and further strengthen the extremist narrative. Similarly, jihadi groups like Lashkar-e-Taiba and Sipha-e-Sahaba enjoy state’s patronage to help it further spread its narrative by terrifying people and teaching jihadi Islam. Madrassas and even public schools and universities serve not as learning centers but as factories of conspiracy theories. Many madrassas, in particular, function as the wheels and machines of jihad industry, ideologically, materially, and logistically.

This suffocation and silence has to break down and the state’s conspiracy theories and half truth are to be debunked if Pakistan is resolved to create an agreement that the creeping religious extremism is our problem.

Most importantly, not only this, but that the state is also controlling opinion through its coercive antennae or secret services, the harsh and inhuman blasphemy laws, and religious proxies which have free license to harm, silence or kill those who try to counter their monopoly on the discourse.

This suffocation and silence has to break down and the state’s conspiracy theories and half truth are to be debunked if Pakistan is resolved to create an agreement that the creeping religious extremism is our problem. And that this contagious disease is breeding among us and killing our people. In this regard, we, both on state and societal levels, need to challenge our overblown fear and paranoia with India and the West which is keeping us from recognizing and accepting the problem. If we still fail to do so, this narrative will further plunge us into darkness. We need to be one and united to defeat the deadly lies and come up with our own clear and true narrative.

Third and most importantly, we have to test our utter and frantic confusions. It is extremely pathetic that the whole nation, even after the deaths of over 50,000 Pakistanis by Taliban in over a decade, is still confused about its main enemy. Taliban still enjoy sympathy among people and religious, political, and military bigwigs. This tragic incident in Peshawar must act as a wake-up call for the people and the government.

It is high time now that we, on individual level, reject conspiracy theories, give up relying on dangerously loaded inherited beliefs, ask the right questions, read and rely on credible sources, and make our own opinion that truly reflects the right use of reason and wisdom. We have to rise up and raise our voices. The Taliban’s and their backers’ narrative is very powerful. Ours is still weak. We have to fight back and have to remember that the Taliban and their version of religion is our problem and a serious threat to our survival. We do not have to wait for the state to do so because we have already wasted much time doing so.