Categories
نان فکشن

اسلامی ریاست اور غیرمسلم (شعیب محمد)

کچھ عرصہ قبل ایک فاضل دوست سعدی جان نے “اسلامی ریاست، ذمی اور سیکولر حضرات کی غلط فمہیاں” کے عنوان سے ایک تحریر لکھی اور اس میں کچھ دیگر دعووں کے ساتھ درج ذیل نکات پیش فرمائے:

٭ اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہری ریاست کے وہ ’خصوصی‘ اور ’وی آئی پی‘ شہری ہیں، جن کی خصوصیت، اہمیت اور حساسیت کی بنا پر اسلام نے انہیں ایک الگ معزز نام الاٹ کیا ہے، یعنی ذمی۔

٭ اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہری بھی مسلم شہریوں کی طرح مکمل حقوق کے حامل شہری ہوتے ہیں، جو آج کی جدید دنیا میں شہریت کے لوازم سمجھے جاتے ہیں۔

عرض ہے کہ قرآن و حدیث کے صریح نصوص اور آثار خلفائے راشدین و صحابہ کرام کی موجودگی میں یہ تمام نکات تو محلِ نظر ہی ہیں۔ ایک طرف اسلامی ریاست کی بات کی جاتی ہے جو کہ قرآن و حدیث اور خلفائے راشدین کے طریق پر ہو اور مثالوں میں ان مسلم حکمرانوں کا برتاؤ بھی پیش کر دیا جاتا ہے جسے خود ہمارے علماء و مشائخ مثالی حکومتیں قرار نہیں دیتے۔

کہا گیا ہے کہ مسلم ریاست میں “غیر مسلم بھی ریاست کی نظر میں دوسرے شہری کی طرح ہوتے ہیں” یا انہیں بھی برابر کا باعزت شہری ہونا تسلیم کیا جاتا ہے حالانکہ یہ واضح اسلامی احکامات کے خلاف بات ہے۔ چنانچہ قرآن میں غیرمسلم کفار سے جزیہ کا حکم بیان ہی اس صورت میں ہوا ہے کہ

“یہاں تک کہ وه ذلیل وخوار ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں۔” (التوبہ: 29)

یہ صریح آیت ہے، اس کے ترجمے پر چونکہ اعتراض کر کے ہمارے مذہبی دوست مغالطہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی لئے یہ مشہور ترین تراجم ملاحظہ فرمائیں:

٭جب تک اپنے ہاتھ سے جزیہ نہ دیں ذلیل ہوکر۔ (مولانا احمد رضا خان بریلوی)

٭یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں اور چھوٹے بن کر رہیں۔ (مولانا مودودی)

٭یہاں تک کہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں۔ (مولانا احمد علی لاہوری)

٭یہاں تک کہ ذلیل ہوکر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں۔ (مولانا فتح محمد جالندھری)

٭یہاں تک کہ اپنے ہاتھوں سے ذلّت کے ساتھ تمہارے سامنے جزیہ پیش کرنے پر آمادہ ہوجائیں۔ (علامہ جوادی)

٭یہاں تک کہ وه ذلیل وخوار ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں۔ (مولانا محمد جوناگڑھی)

٭یہاں تک کہ وہ چھوٹے بن کر (ذلیل ہوکر) ہاتھ سے جزیہ دیں۔ (محمد حسین نجفی)

لہٰذا دوسرے درجے کا بلکہ ذلت رسوائی کے ساتھ شہری بن کر رکھنا ہی جزیہ لینے کا مقصد ہے۔ تمام بڑے بڑے مترجمین و مفسرین نے ہرگز آیت کو مداہنت کے ساتھ گول مول کرنے کی کوشش نہیں کی، یہ آج کے دور میں ہی مطلب بدل رہے ہیں۔ امام المفسرین ابن کثیر رح نے اسی آیت کی تفسیر میں بھی لکھا:

“پس (اللہ) فرماتا ہے کہ جب تک وہ ذلت و خواری کے ساتھ اپنے ہاتھوں جزیہ نہ دیں انہیں نہ چھوڑو۔”
(تفسیر ابن کثیر مترجم، ج2 ص550، مکتبہ اسلامیہ لاہور)

حضرت خالد بن ولید نے بھی اہل فارس کے نام خط میں لکھا: “ہم تمھیں اسلام کی طرف دعوت دیتے ہیں، اگر تم انکار کرو تو تم اپنے ہاتھوں جزیہ ادا کرو اس حال میں کہ تم ذلیل ہو کیونکہ میرے ساتھ ایسے لوگ ہیں جو اللہ کی راہ میں قتال کو ایسے پسند کرتے ہیں جیسے فارسی شراب پسند کرتے ہیں۔”
(مجمع الزوائد: 310/5، امام ہیثمی نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔)

لہٰذا ایک اسلامی ریاست و حکومت کے زیر اثر غیر مسلموں کی ذلت حربی و غیر حربی ہونے سے بھی ہرگز مشروط نہیں بلکہ راہ چلتے غیر مسلموں کو بھی ذلیل کرنا اسلامی احکامات میں شامل ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا گیا ہے:

“یہود و نصاریٰ کو سلام میں پہل نہ کرو اور جب ان میں سے کوئی راستے میں مل جائے تو اُسے تنگ راستے کی طرف مجبور کر دو۔”
(صحیح مسلم، حدیث 5546 طبع دارالسلام)

امام ترمذی لکھتے ہیں: “بعض اہل علم کہتے ہیں: یہ اس لیے ناپسند ہے کہ پہلے سلام کرنے سے ان کی تعظیم ہوگی جب کہ مسلمانوں کو ان کی تذلیل کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اسی طرح راستے میں آمنا سامنا ہو جانے پر ان کے لیے راستہ نہ چھوڑے کیوںکہ اس میں بھی ان کی تعظیم ہے۔”
(سنن ترمذی، تحت حدیث 1602)

گویا اسلامی ریاست میں تو غیر مسلم شہریوں کو راستے میں آتے جاتے ذلیل و رسوا کرنا تعلیمات میں شامل ہے اور اسلامی ریاست کے عروج میں پائے جانے والے ہمارے بڑے بڑے آئمہ انہی احکامات کے قائل رہے ہیں۔

ہمارے دوست فاضل کالم نگار نے یہ لکھا کہ حضرت امیر معاویہ، حجاج، عبدالملک مروان وغیرہ کچھ مسلمان حکمرانوں نے غیر مسلموں کو اہم عہدے سونپے تھے تو عرض ہے کہ یہ کام کرنے کو تو صحابی رسول حضرت ابوموسیٰ اشعری نے بھی کیا تھا کہ ایک غیر مسلم کو اپنا کاتب مقرر کیا لیکن خلیفہ راشد دوم حضرت عمر فاروق نے اس پر شدید ردعمل دیا۔ ملاحظہ ہو۔ چنانچہ حضرت عمر نے کہا:

“تجھے کیا ہوا، اللہ تجھے تباہ کرے، کیا تو نے اللہ کا فرمان نہيں سنا: {اے ایمان والو ! تم یہود ونصاریٰ کو دوست نہ بناؤ یہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں، تم میں سے جو بھی ان میں سے کسی ایک کے ساتھ دوستی کرے گا وہ بلاشبہ انہیں میں سے ہے ، ظالموں کو اللہ تعالی ہرگز راہِ راست نہیں دکھاتا } المائدۃ ( 51 )۔ تو نے ملت حنیفی پر چلنے والے کو حاصل کیوں نہ کیا ( یعنی مسلمان کاتب کیوں نہ رکھا)؟”

ابو موسی رضي اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں میں نے کہا: اے امیرالمومنین! مجھے تو اس کی کتابت چاہیے اور اس کے لیے اس کا دین ہے، عمر رضي اللہ عنہ فرمانے لگے :

“جب اللہ تعالی نے ان کی توہین کی اور انہیں ذلیل کیا ہے تو مَیں ان کی عزت و احترام نہيں کرونگا ، اورجب اللہ تعالی نے انہیں دور کیا ہے تو مَیں انہیں قریب نہیں کروں گا۔”

(مجموع الفتاویٰ: 326/25، السنن الکبریٰ للبیہقی: 204/9، أحكام أهل الذمة لابن القيم: 1/ 454، إرواء الغليل: 256/8، محدث و امام ابن تیمیہ نے اس روایت کو صحیح اور محدث علامہ البانی نے “اسنادہ حسن” قرار دیا ہے۔)

باقی مزید کیا کیا عرض کیا جائے؟ جب ایک غیرمسلم کی جان تک کو اسلامی ریاست میں کسی مسلمان کی جان کی برابری حاصل نہیں۔ ہمارے فاضل دوست یہ فرماتے ہیں کہ “غیر مسلم شہریوں کی جان اور ان کا مال ایک مسلمان کی طرح مکمل قانوناً محفوظ ہوتا ہے۔”

یہ بالکل واضح احادیث کے خلاف مئوقف ہے کیونکہ اسلامی احکامات میں ایک مسلمان اور غیر مسلم کی جان بھی ہرگز ایک برابر نہیں اور مسلمان اور غیر مسلم افراد کی جانوں کا فیصلہ بھی برابری کی سطح پر نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ ایک مسلمان اگر کسی غیر مسلم کو قتل بھی کر دے تو اس کے بدلے اس مسلمان کو ہرگز قتل کی سزا نہیں دی جا سکی۔ حدیث میں واضح حکم موجود ہے کہ “کسی مومن کو کسی کافر کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا۔” (سنن ابو داؤد، حدیث 4530)

اسی طرح خلیفہ سوم حضرت عثمان کے بارے صحیح روایت موجود ہے کہ “ایک مسلمان نے ایک ذمی کو جان بوجھ کر قتل کر دیا تو حضرت عثمان کے پاس فیصلہ آیا تو آپ نے اسے قتل نہ کیا بلکہ اس پر (صرف) مسلمان جیسی دیت رکھی۔”
(سنن بیہقی، رقم 15931)

امام بیہقی نے تو اس موضوع پر کئی صحابہ سے روایات جمع کر رکھی ہیں، جن سے یہ ثابت کیا ہے کہ مسلمان کو کسی ذمی کافر کے بدلے ہرگز قتل نہ کیا جائے گا اور خود جمہور فقہاء کا بھی یہی موقف ہے۔

آخر میں صرف حضرت عمر بن عبدالعزیز جو پانچویں خلیفہ راشد کہلاتے ہیں کا ایک خط ان کے عامل کے نام پیشِ خدمت ہے جس سے ایک اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کی مجموعی صورتحال پر خوب روشنی پڑتی ہے:

“اما بعد، جو صلیبیں اعلانیہ نصب ہیں ان کو توڑ دیا جائے۔ اور یہودیوں اور عیسائیوں کو اجازت نہیں کہ وہ سواری کے لیے زین کا استعمال کر سکیں بلکہ انہیں سامان ڈھونے والی کاٹھی رکھ کر ہی سواری کرنا ہو گی اور ان کی خواتین بھی زین پر بیٹھ کر سواری نہیں کر سکتیں بلکہ انہیں بھی سامان ڈھونے والی کاٹھی ہی استعمال کرنی ہے۔ اس کا باقاعدہ فرمان جاری کرو اور عوام کو اس کی نافرمانی نہ کرنے دو اور فرمان جاری کرو کہ کوئی عیسائی قبا نہیں پہن سکتا اور نہ ہی نفیس کپڑا پہن سکتا ہے اور نہ ہی عمامہ پہن سکتا ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ تمہاری عملداری میں بہت سے عیسائی عمامہ پہننے کی رسم میں دوبارہ مبتلا ہو گئے ہیں اور وہ کمر کے گرد پیٹی (زنار) بھی نہیں باندھ رہے ہیں اور اپنے آگے کے سر کو گنجا بھی نہیں کر رہے ہیں۔ اگر تمہاری موجودگی میں یہ سب کچھ ہو رہا ہے تو اس کی وجہ تمہاری کمزوری ہے، تمہاری نااہلی ہے اور تہمارا خوشامدیں سننا ہے، اور یہ لوگ جانتے ہیں کہ وہ کیسے اپنے پرانے رسوم کو جاری کریں۔ تم کس قسم کے انسان ہو؟ ان تمام چیزوں کا خیال رکھو جن کی میں نے ممانعت کی ہے اور ان لوگوں کو ایسا کرنے سے بالکل روک دو۔ والسلام”
(کتاب الخراج لأبي يوسف، صفحہ 145، المكتبة الأزهرية للتراث)

Categories
نان فکشن

غیر مسلموں کی عبادت گاہوں پر پابندی لگانا اور انہیں گرانا

[blockquote style=”3″]

مسلم اکثریتی علاقوں میں غیر مسلموں (یا ایسے مسلم فرقے جنہیں مسلمان تسلیم نہیں کیا جاتا) کے خلاف مذہبی بنیادوں پر امتیازی سلوک، نفرت آمیز تحریر و اشاعت اور قتل و غارت معمول ہے۔ مسلم اکثریتی علاقوں میں اسلامی نظام کے داعی عموماً یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ اس قسم کے واقعات اسلامی خلافت کے موجود نہ ہونے کی وجہ سے وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ مسلم مبلغین یہ تاثر بھی عام کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اسلام غیر مسلموں کو مکمل تحفظ اور حقوق عطا کرتا ہے۔ تاہم یہ نقطہ نظر اسلام کے ابتدائی دنوں کے ان واقعات سے مطابقت نہیں رکھتا جن میں غیر مسلموں کی عبادت گاہوں پر پابندیاں عائد کی گئیں بلکہ انہیں نقصان بھی پہنچایا گیا۔ درحقیقت تمام شہریوں کی برابری اور مساویانہ حقوق کا تصور ایک جدید قومی ریاست کا تصور ہے، مسلم خلفاء کے زمانے میں غیر مسلموں (یا جنہیں مسلمان تسلیم نہیں کیا جاتا) کو دوسرے درجے کا فرد ہی سمجھا جاتا رہا ہے۔ یقیناً بعض مسلم حکمرانوں نے غیر مسلموں کو عہدے بھی دیئے اور مراعات بھی، تاہم اسلام کا غیر مسلموں سے متعلق حکم انہیں سماجی، سیاسی اور مذہبی اعتبار سے مسلمانوں سے کم تر خیال کرنے کا ہی ہے۔ ذیل میں دیئے گئے حوالے اس ضمن میں اہم اور چشم کشا ہیں اور یقیناً ان واقعات کو پڑھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اسلام کو ایک سیاسی نظام یا حکومت کی بنیاد خیال بنانا تمام انسانوں کی مساوی حیثیت اور تمام شہریوں کے یکساں حقوق کے اصول کے کس قدر برعکس ثابت ہو سکتا ہے۔ ان واقعات کو شائع کرنے کا مقصد مسلمانوں کی دل آزاری نہیں بلکہ تاریخ کو اس کے درست تناظر میں پیش کرنا ہے۔

[/blockquote]
1) حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ “زمانہ جاہلیت میں ایک گھر تھا جسے ذوالخلصہ، کعبہ یمانیہ اور کعبہ شامیہ کہا جاتا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: “کیا تم مجھے ذوالخلصہ سے آرام نہیں پہنچاؤ گے؟” میں ایک سو پچاس سوار لے کر گیا۔ اسے ہم نے توڑ پھوڑ دیا اور اس کے مجاوروں کو قتل کر دیا۔ اس کے بعد میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سارا قصہ بیان کیا تو آپ نے ہمارے اور قبیلہ احمس کے لئے دعا فرمائی۔”
(صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ ذی الخلصۃ، حدیث 4355)

دوسری روایت میں ہے: “”ذوالخلصہ یمن میں قبیلہ خثعم اور بجیلہ کا ایک گھر تھا جس میں بُت نصب تھے جن کی عبادت کی جاتی تھی۔، اسے کعبہ کہا جاتا تھا۔ حضرت جریر نے اسے آگ لگا دی اور گرا دیا۔”
(صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ ذی الخلصۃ، حدیث 4357)

2) عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس سے دریافت کیا گیا: کیا مشرکین کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ عرب کی سرزمین پر اپنے عبادت خانے بنائیں؟ حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا: جو شہر مسلمانوں کے ہیں، اُن میں کوئی عبادت خانہ یا گرجا گھر یا آگ کا عبادت خانہ یا صلیب نہیں بنائے جا سکتے۔ وہاں بوق نہیں بجایا جا سکتا، وہاں ناقوس نہیں بجایا جا سکتا۔ ان میں شراب یا خنزیر کو نہیں لایا جا سکتا۔ (ہاں) جب کسی علاقے کے (غیر مسلم) لوگوں کے ساتھ مصالحت ہو گئی ہو تو مسلمانوں پر یہ بات لازم ہے کہ انہوں نے ان کے ساتھ جو صلح کی ہے اسے پورا کریں۔” (راوی) بیان کرتے ہیں: مسلمانوں کے علاقے کی وضاحت یہ ہے کہ جو علاقے عرب کی سرزمین سے تعلق رکھتے ہیں یا مشرکین کی سرزمین سے تعلق رکھتے ہوں اور (مسلمانوں نے) انہیں مقابلہ کر کے حاصل کیا ہو۔
(مصنف عبدالرزاق، 60/6، کتاب اہل الکتاب، باب هدم كنائسهم وهل يضربوا بناقوس؟، رقم 10002)

3) حرام بن معاویہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے ہمیں خط لکھا کہ “تمھارے علاقہ میں کوئی خنزیر نہ آنے پائے اور نہ ہی تمھارے علاقہ میں صلیب کو بلند کیا جائے۔۔۔۔”
(مصنف عبدالرزاق، 60/6، کتاب اہل الکتاب، باب هدم كنائسهم وهل يضربوا بناقوس؟، رقم 10003)

4) وہب بن نافع بیان کرتے ہیں: حضرت عمر بن عبدالعزیز نے عروہ بن محمد کو خط میں لکھا کہ وہ مسلمانوں کے علاقوں میں موجود گرجا گھروں کو منہدم کر دیں۔ راوی بیان کرتا ہے: مَیں عروہ بن محمد کے پاس موجود تھا، وہ سوار ہو کر گرجا گھر کے پاس گئے، پھر انہوں نے مجھے بلایا، مَیں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کے خط کے بارے میں گواہی دی تو عروہ نے اُس گرجا گھر کو منہدم کر دیا۔
(مصنف عبدالرزاق، 59/6، کتاب اہل الکتاب، باب هدم كنائسهم وهل يضربوا بناقوس؟، رقم 9999)

5) مشہور امام حسن بصری سے مروی ہے کہ “سنت یہ ہے کہ شہروں میں موجود پرانے یا نئے تمام گرجا گھروں کو منہدم کر دیا جائے۔”
(مصنف عبدالرزاق، 60/6، کتاب اہل الکتاب، باب هدم كنائسهم وهل يضربوا بناقوس؟، رقم 10001)

6) اسماعیل بن امیہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ وہ (مشہور تابعی) ہشام کے ساتھ حدہ سے گزرے، جہاں ایک نیا گرجا گھر بنا تھا، انہوں نے اسے منہدم کرنے کے بارے مشورہ لیا اور پھر ہشام نے اسے منہدم کروا دیا۔
(مصنف عبدالرزاق، 59/6، کتاب اہل الکتاب، باب هدم كنائسهم وهل يضربوا بناقوس؟، رقم 10000)

ان تمام روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کو ہرگز ان کے عبادت خانے بنانے یا اپنے مذہبی شعائر بجا لانے کی اجازت حاصل نہیں تھی۔ اسی طرح مسلمانوں کے ہاں غیر مسلموں کے عبادت خانوں کو گرانے اور ڈھانے کا عام معمول تھا۔

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ عیسائیوں کے گرجا گھروں کو ڈھانے کے بارے میں فرماتے ہیں: “مسلمانوں میں سے کوئی ایسا نہیں جو اس پر انکار کرے کہ مفتوحہ علاقوں کے گرجا گھروں کا گرانا جائز ہے، اگر اس میں مسلمانوں کو کوئی نقصان نہ ہو۔” (مسألة في الكنائس، 122-123)

دیگر معاشرتی و سماجی پابندیوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں کے عبادت خانوں کی اس تباہی سے صرف وہی علاقے مستثنیٰ تھے جہاں دیگر اقوام نے اسی شرط پر مسلمانوں سے صلح کی تھی۔

7) عمر بن میمون بن مہران بیان کرتے ہیں: حضرت عمر بن عبدالعزیز نے خط میں لکھا کہ شام میں موجود عیسائیوں کو ناقوس بجانے سے منع کر دیا جائے۔ کہا: انہیں اس بات سے بھی منع کر دیا گیا کہ وہ (بالوں کی) مانگ نکالیں یا پیشانی کے بال کاٹیں یا اپنے مخصوص قسم کے پٹکے باندھیں۔ وہ زین پر سوار نہیں ہو سکتے، وہ پٹیاں نہیں پہن سکتے۔ ان کے عبادت خانوں کے اوپر صلیب کو بلند نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کوئی (غیر مسلم) شخص اس میں سے کسی جرم کا مرتکب ہو اور اس سے پہلے اس کی طرف حکم آ چکا ہو تو جو شخص اس پر حملہ کرے گا، اس کا ساز و سامان حملہ کرنے والے شخص کو مل جائے گا۔ کہا: حضرت عمر بن عبدالعزیز نے خط میں یہ بھی لکھا تھا کہ ان (غیر مسلموں) کی عورتوں کو اس بات سے منع کر دیا جائے کہ وہ پالکیوں پر سوار ہوں۔
عمر بن میمون بیان کرتے ہیں: حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ان لوگوں کے عبادت خانے ڈھانے کے بارے مجھ سے مشورہ کیا تو مَیں نے کہا: “انہیں منہدم نہ کریں کیونکہ اس پر ان کے ساتھ صلح ہوئی تھی تو حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اس (ارادے) کو ترک کر دیا۔
(مصنف عبدالرزاق، 61/6، کتاب اہل الکتاب، باب هدم كنائسهم وهل يضربوا بناقوس؟، رقم 10004)

معلوم ہوا کہ غیر مسلموں پر ناقوس بجانے، بالوں کی مانگ نکالنے، کاٹھی و زین وغیرہ پر سواری کرنے حتیٰ کہ ان کی عورتوں کے پالکیوں پر سوار ہونے تک کی پابندی عائد تھی اور اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کے لئے یہ افعال جرم سمجھے جاتے تھے جس کی خلاف ورزی پر کسی کو بھی حق حاصل تھا کہ وہ اس کے مرتکب غیر مسلم پر حملہ آور ہو اور اس کا ساز و سامان لوٹ لے۔ یہاں یہ بھی پیشِ نظر رہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز ہمارے ہاں پانچویں خلیفہ راشد مانے جاتے ہیں اور انتہائی رحمدل اور انصاف پسند اسلامی حکمران کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

علاوہ ازیں شام یا کچھ دیگر علاقوں میں غیر مسلموں کے عبادت خانوں کو گرانا ترک کیا گیا یا انہیں قائم رہنے دیا گیا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے مسلمانوں سے اس پر صلح کی تھی۔ مگر اس میں بھی پابندی تھی کہ وہ نئی عبادت گاہیں نہیں بنا سکتے اور اپنے پہلے سے موجود پرانے عبادت خانوں پر ہی اکتفا کریں گے حتیٰ کہ پرانے اور خستہ ہونے پر ان کی مرمت تک نہیں کر سکتے۔

8) چنانچہ حضرت عمر کے دور میں اہل شام کے محاصرے کے بعد ان کے ساتھ جن شرائط پر صلح نامہ لکھا گیا، ان میں سرفہرست ان سے یہ شرائط لکھوائی گئی تھیں:
★ ہم اپنے ان شہرں میں اور ان کے آس پاس کوئی گرجا گھر اور خانقاہ نئی نہیں بنائیں گے۔
★ مذہبی عبادتگاہوں اور نہ ایسے کسی خرابی والے مکان کی اصلاح کریں گے اور جو پرانے ہو کر گرنے والے ہیں ان کی مرمت نہیں کریں گے۔
(تفسیر ابن کثیر: تحت سورۃ توبہ آیت 29، إرشاد الفقيه لابن کثیر: 340/2، المحلی لابن حزم: 346/7، الاحکام الصغریٰ لعبدالحق الاشبیلی: 600، أحكام أهل الذمة: 1149/3)

یہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ غیر مسلموں کے لئے اگر پرانی ہوتی خستہ حال اپنی عبادت گاہوں کو درست کرنے اور ان کی مرمت کرنے پر بھی پابندی عائد تھی تو پھر اس کا نتیجہ بھی بالآخر ان کے گرنے اور تباہ ہونے کی صورت میں ہی نکل سکتا تھا۔