Categories
نان فکشن

انسانی جان کی حرمت اور مقدس قربانیوں کے بیانیے

انسانی جان دنیا کی سب سے قیمتی متاع ہے۔ اتنی قیمتی کہ اس کے خالق نے ایک جان کی قیمت پوری انسانیت کی قیمت کے برابر قرار دی۔ اس نے کہا کہ جس نے ایک جان کو بچایا، اس نے گویا پوری انسانیت کو بچایا، اور جس نے ایک جان کو ناحق قتل کیا، اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا۔ اتنی قیمتی متاع کو لیکن کیسے کیسے ادنی مقاصد کے لیے سستا کیا جاتا ہے، آئیے دیکھتے ہیں۔ ایک نظر زبان زد عام ان نعروں اور اشعار پرڈالیے:

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
سینے پہ گولی کھائیں گے
پاکستان بنائیں گے
قائد تیرا ایک اشارہ
حاضر حاضر لہو ہمارا
چیف تیرے جانثار
بے شمار بے شمار
جوانیاں لٹائیں گے
انقلاب لائیں گے
یہ بازی خون کی بازی ہے یہ بازی تم ہی ہارو گے
ہر گھر سے بھٹو نکلے گا تم کتنے بھٹو مارو گے
نہ جب تک کٹ مروں میں خواجۂ بطحاؐ کی حرمت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا
پنجابی کے یہ اشعار ملاحظہ کیجیے:
چڑیا نل میں باز لڑاواں
گدڑاں توں میں شیر بناواں
سوا لکھ سے اک لڑاواں
تب گوبند سنگھ نام دھراواں

(میں چڑیا کو باز سے لڑا دوں، گیدڑوں سے شیر بنا دوں، ایک آدمی کو سوا لاکھ لشکر سے لڑا دوں، تب دہراؤں کہ ہاں میرا نام گوبند سنگھ ہے)
یعنی وہی دیرینہ بیماری کہ:

اٹھا ساقیا پردہ اس راز سے
لڑا دے ممولے کو شہباز سے
اور
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

انسانی جان کی حرمت کا پاس، حقیقت ہے کہ خدا کی کتاب کے علاوہ، ہمارے سماج سمیت دنیا بھر بلکہ تاریخ میں اکا دکا مثالوں کے کسی دور میں بھی صحیح معنوں میں کہیں نہیں پایا گیا۔ خدا کا ارشاد کہ جس نے ناحق ایک انسان کو قتل کیا، اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا، اس جیسا مہیب ارشاد ایک کلیشے بن کر رہ گیا ہے۔ ساری انسانیت کے قتل پر ہمارا جو رد عمل ہو سکتا ہے، اس کا تصور کیجیے، یہی تصور ایک خون ناحق پر ہمارا ہونا چاہیے تھا۔
اس تحریر میں ہمارا محل تنقید وہ بے ضمیر ظالم نہیں جو انسانوں کا قتل اپنی درندگی کی پیاس مٹانے یا اپنے ذاتی مقاصد کے لیے کرتے ہیں، ان کی مذمت تو سبھی کرتے ہیں، یہاں اس مضمون میں میرا ہدفِ تنقید انسانیت اور انسانی اقدار کے وہ پرچارک جو رہنما ہیں اپنے ادنی اور خود ساختہ “بلند نظریات” اور “اعلی مقاصد” کو انسانی جان پر فوقیت دیتے ہیں جس کا کوئی اختیار اور جواز ان کے پاس نہیں، ان خود ساختہ نظریات اور مقاصد کی خاطر وہ اپنے پیروکاروں کی جانیں ایسے بے دریغ قربان کرواتے ہیں جیسے یہ ان کا ادھار تھا جس کا چکانا ان اندھے مقلدین پر فرض تھا۔

اپنے پیروکاروں کی ان رائیگاں قربانیوں پر ان مذہبی اور سیاسی رہنماؤں کے ماتم اور مذمت کے پیچھے ان کا اطمینان قلب ان کے چہروں سے جھلکتا صاف دکھائی دیتا ہے۔ پھر بغیر کسی اختیار کے وہ ان ضائع ہونے والی جانوں کے لیے شھادت جیسا مقدس خطاب اختیار کرتے ہیں اور یوں دوسرے کارکنوں اور پیروکاروں کے لیے مزید ترغیب کا انتظام کرتے ہیں۔ یہ سب ان کا ذاتی ایجنڈا ہوتا ہے جسے یہ قوم کا ایجنڈا باور کرا دیتے ہیں۔ خدا اور اس کے دین کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں، اس لیے ان کے لیے دین کے مقدس تصورات استعمال کرنا اپنی حد سے تجاوز کرنا ہے۔

انسانی جانوں کی قربانی کے لیے ان بتوں میں سے ایک بت قومیت کے نام سے تشکیل دیا گیا۔ عام لوگوں کو باور کرایا گیا کہ ان پر ان کے ہم نسل، ہم وطن لوگوں کی حکمرانی بہت ہی ضروری قسم کی چیز ہے، غیر قوم حکمران ہوگی تو یہ غلامی ہو گی، لیکن ہم وطن حکمران ہوں گے تو یہ غلامی نہیں ہوگی۔ اور غلامی ایسی ذلت ہے کہ انسان مر جائے مگر غلامی قبول نہ کرے۔ عوام نے یہ پوچھے بغیر کہ غیر قوم کے زیرِ حکومت رہنا اگر غلامی ہے تو اپنے لوگوں کے زیرِ حکومت رہنا غلامی کیوں نہیں، اور اگر اپنوں کے زیر حکومت رہنا غلامی نہیں تو غیر قوم کے زیر حکومت رہنا غلامی کیوں ہے، وہ اپنی جانوں کے نذرانے لے کر غیر قوموں کی بندوقوں کے آگے کھڑے اور ٹینکوں کے نیچےلیٹ گئے۔ پھر جب وہ غیر قوم ان کو چھوڑ کر اپنے ملک چلی گئی تو یہ خود روزی روٹی کی خاطر جو ان کے ہم قوم رہنما بھی انھیں مناسب طور پر مہیا نہیں کر رہے تھے تھے، اپنا ملک چھوڑ کر ان غیر قوموں کے ملک میں ان کی غلامی کرنے جا پہنچے۔ اب وہاں رہنا اور ان کی غلامی میں رہنا ان کے لیے اعزاز بن گیا۔ یعنی اپنی مٹی پانی سے بنی ایک جغرافیائی سرحد جسے وطن کہا گیا اس پر کوئی غیر قوم حکمران ہو تو یہ غلامی ہے، ذلت ہے، لیکن خود یہ اپنے جسموں پر غیر ملک غیروں کی حکومت قبول کر لیں تو یہ اعزاز ہے! چنانچہ غیروں کو اپنے ملک سے نکالنے کے لیے بھگت سندھ، منگل پانڈے اور اشفاق (اور اب برہانی وانی جیسے نوجوان) کو بتایا گیا کہ اپنی جان دے کر انھیں یہاں سے نکالو۔ وہ جانیں ہتھیلی پر لے کر نکل پڑے۔ عوام نے یہ بھی نہیں پوچھا کہ اگر حکومت ان کے ہم نسلوں کے ہاتھ میں آجائے گی تو کیا ہو جائے گا۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ انبیا بھی غیر قوموں کے زیرِ حکومت رہے تھے۔ حضرت یوسف علیہ السلام مصر کے بادشاہ کے زیرِ حکومت تھے۔ قرآن میں سورہ یوسف میں لکھا ہے کہ وہ بادشاہ کے قانون کے خلاف کوئی اقدام نہیں کر سکتے تھے۔ تو کیا یہ غلامی تھی، ذلت تھی؟

بات یہاں نہیں رکی۔ غیر قوم کی تعریف پھر غیر زبان اور غیر مذھب کی تعریف میں سمٹ آئی۔ غیر نسل والوں سے نجات پا کر اب ایک بار پھر انسانوں سے کہا گیا کہ پھر اپنی جانوں کو سستا کریں کہ غیر زبان اور غیر مذہب کی حکمرانی بھی دراصل غلامی ہوتی ہے، ہم مذہب اور ہم زبان کی غلامی اخیتار کریں کہ وہ غلامی نہیں ہوتی۔ لوگ پھر جانیں دینے چل پڑے، پھر نہیں پوچھا کہ ہم مذہب اور ہم زبان کو حکومت مل جائے گی تو کیا ہو جائے گا؟ کہا گیا کہ غیر قوم، غیر مذہب، اور غیر زبان والے تمھارا استحصال کرتے ہیں، لیکن یہ نہیں پوچھا گیا کہ اس کی کیا ضمانت ہے ہم قوم، ہم زبان اور ہم مذہب حکمران استحصال نہیں کریں گے۔ کہا گیا کہ غیر تمھارے حقوق نہیں دیں گے۔ غریب نے پوچھا ہی نہیں کہ کون سے حقوق۔ روزی روٹی تو اسے خود پیدا کرنی تھی، نماز اور مورتی پوجا، حج اور گنگا یاترا، مندر اور مسجد جانے کی اجازت تو سب دے رہے تھے، تعلیم اور صحت کے مواقع بقدر وسائل سب کو ملتے تھے، تو کون سے حقوق تھے جو غیر نے نہیں دینے تھے۔ کہا گیا کہ دراصل پارلیمنٹ میں تمھیں مناسب نمائندگی نہیں ملے گی۔ غریب مگر سمجھا نہیں کہ یہ اس کا مسئلہ تھا ہی نہیں، پارلیمنٹ کی نمائندگی کا ڈھونگ اقتدار کے حصول کے لیے اس کے ہم قوم، ہم زبان اور ہم مذہب اشرافیہ کا اقتدار کے حصول کے لیے گھڑا ہوا ہتھکنڈا تھا۔ انھوں نے اپنا مسئلہ عام آدمی کا مسئلہ بن دیا تاکہ عوام کی طاقت اور اس کی قربانیوں کی ناؤ پر بیٹھ کر ایوان اقتدارتک پہنچ سکیں۔ عام آدمی خواہ مخواہ، خوشی خوشی جان دینے کے لیے تیار ہو گیا۔ اس نے اپنے ہم قوم، ہم مذہب اور ہم زبان اشراف کو اپنی لاش کے کاندھوں پر بیٹھا کر اپنے خون کی ندی میں سے گزر کر اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھایا اور خود پھر اپنے حقوق کے حصول کے لیے لائن میں کھڑا ہوگیا۔ عام آدمی نے اپنا اتنا سارا قتل محض اس لیے کرایا کہ اس کا استحصال غیر نہیں اپنا ہم قوم، ہم مذہب اور ہم زبان حکمران کر سکے۔ اس نے سمجھا ہی نہیں یہ جنگ اس کی تھی ہی نہیں جس کے لیے اس کا خون بہایاگیا۔ منگل پانڈے، بھگت سنگھ، اشفاق، ان سے پہلے اور ان کے بعد آج تک یہ سب حریت کے لڑاکے اپنی نہیں اپنے اشراف کی جنگ اپنے خرچ اور اپنے جان کے خرچ پر لڑ رہے ہیں۔ وہ ایک کی غلامی سے نکل کر دوسرے کی غلامی میں جانے کے مر رہے ہیں۔

انیسویں صدی سے قومیت کے نام سے شروع ہونے والی یہ حماقت تاحال جاری ہے، اور انسانی جانوں کو اس بت کے چرنوں میں آئے دن بڑے فخر سے قربان کیا جاتاہے۔ انیسویں صدی سے پہلے انسانی جانوں کی قربانی اس لیے مانگی جاتی تھی کہ بادشاہ کا موڈ بن جاتا تھا کہ وہ اپنے ملک سے نکل کر دیگر علاقوں کو فتح کرے۔ کیوں؟ کبھی تو اس کا سبب بھوک، اور وسائل سے محرومی ہوتی تھی، گویا منظم ڈاکے کی یہ شکل تھی، جس کے لیےلوگ ایک باداشاہ کے جھنڈے تلے اپنے جیسے دوسرے انسانوں سے ان کی روزی روٹی چھیننے کے لیے ان پر حملہ کرتے اور یوں اپنی جانیں بھی دیتے اور ان کی جانیں بھی لیتے، اور کبھی اس کی وجہ محض اپنی قوم کی ناموری ہوتی تھی کہ ہمارے بادشاہ نے اتنا علاقہ فتح کیا، اتنا خراج وصول کیا۔ اس کے لیے سپاہی اپنی ماؤں، بہنوں، بھائیوں، بیوی، بچوں اور دوستوں کے پیارے رشتے چھوڑ کر، انھیں اپنی جان کی دائمی جدائی کا دکھ دینے چل پڑتے تھے۔ اس حماقت کو بہادری کا خطاب دیا جاتا تھا، جس طرح آج اسے شھادت کا نام دیا جاتا ہے۔ سماج کی ذہنی تربیت ایسے کی جاتی تھی کہ مائیں بھی فخر سے اپنے بچوں کو ان کے باپ کی بے شعور قربانی کی داستان، بہادری کا نام دے کر سناتیں، اور بچے بھی تمنا کرتے کہ وہ بھی اسی راستے پر چلیں۔ یوں بادشاہوں کو اپنی بے مقصد فتوحات کے لیے تازہ خون مسلسل مہیا ہوتا رہتا تھا۔ یہی سلسلہ ناموں کی تبدیلی سے اب بھی جاری ہے۔ مرنا اتنا مقدس بنا دیا جاتا ہے کہ لوگ تمنا کرتے ہیں کہ کسی شہید کے ماں باپ کہلوائیں۔ وہ لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ کہ شہید ہونے سے پہلے ان کے فرزند کو کسی دوسرے کی ماں کو اس کے بیٹے کی جدائی کا غم بھی تو دینا ہوگا، کسی دوسرے کی بیوی کو بیوگی اور اس کے معصوم بچوں کو یتیمی کے داغ دینے ہوں گے، جن کی دکھن سے نفرت اور بدلے کے الاؤ سلگائے جاتے رہیں گے، جن کے شعلوں میں نئی نسلوں کو پھر سے جان دینے کے لیے تیار کیا جاتا رہے گا۔ یوں اشراف کی فتوحات کی کہانیاں قوم کا فخر قرار پائیں گی، اور سیکیورٹی کے حصار میں بیٹھے جند سینوں پر تمغے سج جائیں گے۔ شاعر ان کی بہادری پر نغمے لکھیں گے، اور گلوکار ان کو گا کر ہمارا لہو گرمائیں گے۔ مگر یہ چراغ جن کے لہو سے جلیں گے، انھیں بھی جینا تھا، انھیں بھی اپنے ماں باپ کے بڑھاپے کا سہارا بننا تھا، اپنی بیوی کے ساتھ جوانی کی لطف اٹھانے تھے، غیر کی نظر بد سے اس حفاظت کرنی تھی، اپنے بچوں کے ساتھ کھیلنا تھا، اور کبھی جو وہ ڈر جاتے تو انھیں اپنے مضبوط بازوؤں کی پناہ کا یقین دلانا تھا۔ لیکن کسی طالع آزما کے مزاج کا اضطراب زندگی کا یہ سارا جوبن چھین لیتا ہے۔

غیروں کی حکومت کو غلامی باور کرا کر انسانوں کے خون بہانے کی ہر رہنما نے حوصلہ افزائی کی۔ مہاتما گاندھی اس میں کچھ بہتر تھے کہ وہ عدم تشدد کے قائل تھے۔ ان کے طریقہ احتجاج میں انسانی جانوں کے قتل کرنے کے لیے حکومت کے پاس اخلاقی جواز نہیں بن سکتا تھا، مگر لوگوں کو غیر قوم کی حکومت سے نکال کر، ہم نسل اور ہم وطنوں کے زیر حکومت لانا کوئی اتنا بڑا انسانی مسئلہ نہیں تھا کہ نہتے لوگوں کو ڈنڈوں اور بندوقوں کے آگے ڈال دیا جاتا۔ غریب جو انگریز کے دور میں بھاڑ جھونکتا تھا اس نے اپنے ہم قوم، ہم مذہب، ہم زبان کے زیرِ حکومت بھی بھاڑ ہی جھونکنا تھا۔
قومیت کی بنیاد پر جمہوری جہدوجہد کے پیچھے ہم قوم اور ہم مذہب اشرافیہ کا سیاسی یا روحانی حکمران بننے کا خواب پنہاں ہوتا ہے۔ جمہوریت کے دور سے پہلے یہ مقصد اپنے قبیلے اپنی قوم کی تلواروں کی طاقت سے حاصل کرنے کی سعی کی جاتی تھی، جمہوریت میں یہی مقصد ان کے ووٹ کی طاقت سے حاصل کیا جاتا ہے۔ جس طرح اس وقت کے رہنماؤں کا ایک ذاتی ایجنڈا ہوتا تھا جس کی خاطر عام آدمی کا جانیں دینا عبث تھا، اسی طرح آج کسی کے اقتدار کی خاطر جانیں دینا فضول ہے۔

یہاں جدوجہد کی نفی ہرگز نہیں کی جارہی، اگر کسی کو شوق ہے کہ اپنے ملک کی حکومت میں اپنی جلد کے رنگ والے لوگوں کو بیٹھا دیکھے، کسی دوسرے کو شوق ہے کہ وہ اپنے ہم زبان کو ایوان اقتدر میں براجمان دیکھے، چاہے وہ وہاں بیٹھ کر انگریزی میں خطاب کرے، اور اسی طرح کسی کو شوق ہے کہ وہ اپنے ہم مذہب ہی نہیں بلکہ ہم مسلک کو حکومت چلاتا دیکھے تو وہ شوق سے ان کے اقتدار کے لیے جدوجہد کرے، مگر اس کے لیے انسانی جان کی قربانی مانگنا، اور ایسے حالات پیدا کرنا کہ انسانی جانیں ضائع ہو کر رہیں، اس کا کیا جواز ہے؟ یہ جو اسلام کے نمائندوں کو اقتدار میں لانے کے لیے جانوں کی قربانیاں مانگتے ہیں، وہ بتائیں کہ اس کی کیا ضمانت ہے کہ یہ نمائندے کرپشن نہیں کریں گے؟ اسلامی نظام قانون میں بے انصافی نہیں کریں گے، اپنا ضمیر نہیں بیچیں گے؟ جب اس سب کی کوئی ضمانت نہیں تو یہ پیغمبرانہ شان سے اپنے پیروکاروں کی جانوں کی قربانی کیسے مانگ سکتے ہیں؟ وہ تو ایسا خدا کی اتھارٹی پر کرتے تھے، ان کے پاس ایسا کون سا اختیار ہے؟ انسانی جان اس سے بہت بلند ہے کہ موہوم مقاصد میں ضائع کی جائے۔

رہنما اس بات پر کبھی پشمان نہیں ہوتے کہ ان کے کارکنوں، پیروکاروں کو اپنی جانیں نہیں دینی چاہیں تھیں۔ جان لینے پر ظالم کی مذمت تو کی جاتی ہے لیکن اپنی جان یوں ہتھیلی پر سجا کر بندوق کے آگے رکھنے والے کو کس بات کی شاباش دی جائے؟ سوچے تو سہی کہ وہ جان دے کس لیے رہا ہے؟ محض اس لیے کہ اس کی پارٹی کا رہنما اقتدار میں آجائے؟ کیا یہ خدا کا حکم ہے یا رسول کا فرمان؟ وہ آ بھی گیا تو کیا ہو جائے گا؟ یہی وہ سوال ہے جو کبھی نہیں پوچھا گیا ، اور بڑی بڑی تحریکیں برپا کر دیں گئیں اور لاکھوں بلکہ کروڑوں لوگ مروا دیے گئے۔

انسانی جان تو کیا کسی جانور کی جان بھی صرف اس کے خالق کی حکم پر ہی لی یا دی جا سکتی ہے۔ ہم جانوروں پر بھی خدا کا نام لیے بغیر ان کی جان نہیں لے سکتے، ایسا ہم اس لیے کرتے ہیں کہ خود کو باور کرائیں کہ اس کی جان لینے پر ہمارا کوئی اختیار نہ تھا، یہ جان خدا کی اجازت سے لی گئی ہے۔ جب کہ یہاں معاملہ انسانی جان کا ہے، جس کی حرمت تمام انسانیت کی جان کے برابر ہے۔ اس کی جان ہم خدا کے حکم اور اس کے اصولوں کے بغیر کیسے لے سکتے ہیں؟ طاقت و اقتدار کی طاقت کے نشے میں چور وہ ظالم جو سیاسی اورمذہبی رہنماؤں کی برین واشنگ کے شکار انسانوں کی جان لیتے ہیں، وہ تو ظالم ہیں ہی، لیکن درحقیقت یہ سیاسی اور مذہبی رہنما ہی ہیں جو اپنے کارکنون کا پیروکاروں کے پہلے اور حقیقی قاتل ہیں۔

انسانی جان کی ارزانی کی حالت دیکھیے کہ کبھی ایک انچ زمین کو بچانے کے لیے انسانی خون پانی کی طرح بہا دیا جاتا ہے، اور پھر معلوم ہوتا ہے کہ حاکم نے اپنے ایک دستخط سے زمین کا وہ ٹکڑا خود ہی دشمن کے حوالے کر دیا! ہمارے ہاں ایک مذہبی رہنما کے گھر کے آگے لگی رکاوٹیں ہٹانے پر ان کے پیروکاروں نے اپنی جانیں وار دیں تھیں۔ بعد میں وہ رکاوٹیں عدالتی حکم پر ہٹا دی گئیں۔ پھر ان مظلوموں کا مقدمہ لڑنے کے لیے پورا ملک کئی بار یرغمال بنایا گیا، لیکن ایک بار بھی اس رہنما یا کسی اور کی زبان پر یہ نہیں آیا کہ رکاوٹیں ہٹانا غلط تھا یا درست، یہ بتاؤ کہ کیا یہ اتنی بڑی بات تھی کہ انسان مروا دیے جاتے؟ ذرا ذرا سی بات پر ایسی جانثاری کی تربیت دینے والا رہنما درحقیقت ان مقتولین کا پہلا قاتل ہے۔ ندامت درکنار، بغیر حکومت کے انسانوں پر ایسا اختیار پانا، وہ سرشاری ہے کہ وہ بار بار اپنے پیروکاروں کو مروانا چاہے گا۔درحقیقت، ایسے رہنما چاہے مذہبی پیشوا ہوں یا ہٹلر کی طرح کے ڈکٹیٹر، ایک ہی نفسیات کے حامل ہوتے ہیں، اپنے ادنی اشارے پر جانیں قربان ہوتے دیکھنا ایک لطف ہے، جس کی لت پڑ جاتی ہے ان رہنماؤں کو۔

ہمارے ہاں ایک سیاسی پارٹی کے سربراہ نے اسلام آبادمیں ایک احتجاجی دھرنے کے دوران ایک چوک سے دوسرے چوک تک جانے کی ضد میں اپنے کارکنوں کو بے دریغ مروایا تھا، لیکن پھر یہ سوچ کر کہ نہیں پہلے والی جگہ ہی ٹھیک تھی واپس اسی جگہ آ گئے اور پھر دھرنے ہی سے واپس آگئے۔ اب وہ انسانی جانیں جو پارٹی سربراہ کے تخیل کی بھینٹ چڑھیں، ان کا کیا ہوا؟ ان کا رائیگاں خون کس کے سر ہے؟ یہ سوال کبھی اٹھتا ہی نہیں۔ انھیں شہید قرار دے کر دامن جھاڑ کر پھر ایک نئی مہم جوئی شروع ہو جاتی ہے پھر خون کے نذرانے مانگے جاتے ہیں۔ کارکنو ں کا ہر بار وہ حال ہوتا ہے کہ

آواز دے کے چھپ گئی ہر بار زندگی
ہم ایسے سادہ دل تھے کہ ہر بار آگئے

حکومتی اشاروں پران گولی چلانے والوں کی درندگی میں تو کوئی شبہ نہیں ان کی مذمت تو مشرق سے لے کر مغرب تک سب کرتے ہیں، لیکن اپنے جانثاروں کو ایسی بے جا جانثاری کی تربیت دینے والے انسانوں کے پہلے قاتل ہیں۔

کسی رہنما کو اگر کہا جاتا ہے کہ سیکیورٹی کے خطرات ہیں، جلسہ نہ کیجیے، تو یہ لوگ اپنے لیے سیکیورٹی کے مکمل انتظامات کر لینے کے بعد اپنے پیروکاروں کا لہو گرماتے ہیں کہ چاہے کچھ بھی ہو، جلسہ ہو کر رہے گا۔ پھر جب کوئی دھماکا یا فائرنگ وغیرہ ہو جاتی ہے تو ان کی سیاست مزید چمک اٹھتی ہے، حکمرانوں کے خوب لتے لیے جاتے ہیں لیکن کہیں ایک بار بھی کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ یہ جلسہ نہ ہوتا یا موخر ہو جاتا تو کیا ہو جاتا؟ کیا آپ پر بزدلی کا الزام لگ جاتا؟ مگر یہ بہادری تو آپ نے اپنے کارکنوں کے عدم تحفظ کی بل بوتے پر دکھائی ہے۔ آپ تو مقدور بھر محفوظ رہنے کو کوشش کرتے رہے۔ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ یہ جلسہ انسانی جان سے بڑا کیوں تھا؟ یہی سوال نہ پوچھنے کی بنا پر انسانی جانوں کی پروا کیے بغیر بڑی بڑی تحریکیں برپا کر دی جاتی ہیں اور لوگ مروا کر بجائے شرمندگی کے فخر کیا جاتا ہے۔

اسلامی تاریخ میں میرے محدود مطالعے میں دو ایسے بے مثال کردار ہیں جن کے ہاں انسانی جان کے تقدس کا احساس، جو خدا کی کتاب اور انسان کی فطرت میں پایا جاتا ہے، بہت نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے، وہ دو لوگ حضرت حسن اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنھما ہیں۔ حضرت حسن، عہدِ علی رضی اللہ عنہ سے جاری جنگوں کے نتائج دیکھ چکے تھے، اپنے عہدِ حکومت میں انھیں اپنی اور اپنے مخالف کی قوت کا اندازہ بھی ہو گیا تھا۔ وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ اقتدار ہمیشہ طاقت ور کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ پہلے ادوار میں یہ اقتدار زیادہ جنگی طاقت رکھنے والے حاصل کر لیا کرتے تھے ،اور اب جمہوریت کے دور میں بھی یہ وہی حاصل کرتے ہیں جن کے پاس ووٹ کی زیادہ طاقت ہوتی ہے، یعنی اصول اب بھی وہی ہے۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے دستیاب حالات میں اقتدار پر طاقت ور کے ناگزیر حق حکمرانی کو تسلیم کیا۔ بے فائدہ جنگ کرنے کو عبث جانا۔ جو نتیجہ لڑ کر نکلنا تھا وہ انھوں نے بغیر لڑے ہو جانے دیا۔ لیکن اس برتر بصیرت کو آج بھی کم لوگ سمجھتے ہیں چہ جائیکہ اس وقت ان کے پیروکار سمجھ پاتے کہ حضرت حسن نے ان کی جانوں کو بے مقصد کشت وخون سے بچایا ہے۔ لیکن اقتدار کے ہوس میں انسانی جانوں کی پامالی کو عام سی بات سمجھنے والے عراقیوں نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو اس پر ذلیل کیا، مسجد میں ان کے پاوں کے نیچے سے مصلی نماز کھینچ لیا، برا بھلا کہا۔ مگر حضرت حسن نے ان نا سمجھوں کو کوئی جواب نہ دیا۔ یہ برتر شعور و بصیرت ہر کسی کا نصیب کہاں تھا۔

حضرت حسن کا فیصلہ تو طاقت و کمزوری کے درست مطالعہ کے بعد درست فیصلہ تھا، حضرت عثمان کا معاملہ تو اس سے بھی آگے کا ہے۔ پوری انسانی تاریخ میں انسانی جان کی عظمت و احساس کی اس سے بڑھ کر کوئی مثال ملنا میرا خیال ہے کہ مشکل ہے۔ خلیفہ وقت نے، تمام طاقت کا اختیار رکھتے ہوئے بھی چند باغیوں کے ہاتھوں محض اس لیے اپنی جان دینا گوارا کر لیا کہ اپنی ذات کا تحفظ و بقا ان کے لیے اتنا اہم نہیں تھا کہ وہ اس کے لیے انسانی خون بہانے کی اجازت دے دیتے۔ یہ ہابیل کی سرشت تھی۔ ہابیل جانتا تھا کہ قابیل اسے قتل کر دے گا، قابیل کھلی دھمکی دے چکا تھا۔ ہابیل نے اپنے دفاع کی مقدور بھر کوشش کی ہوگی، مگر حفظ ماتقدم کے طور پر بھی اس نے آگے بڑھ کر قابیل کو قتل نہیں کیا اور خود قتل وہ گیا۔ حضرت عثمان مذاکرات سے زیادہ اپنے دفاع کے لیے کوئی جنگی اقدام نہیں کیا۔ اور طاقت رکھتے ہوئے بھی مظلومانہ قتل ہو جانا گوارا کر لیا مگر اپنی جان کو اتنا قیمتی سمجھا نہ ایسا بنا کر پیش کیا اور نہ لوگوں کو ابھارا کہ ان کی حفاظت ک لیے وہ اپنی جانیں لٹا دیں، اگرچہ لوگ ایسا کرنے کے لیے بے تاب تھے، مگر آپ نے اجازت نہ دی، اور یہاں ایک عام سا لیڈر اپنے ہم وطن، ہم قوم پیروکارں اور کارکنوں کو اپنی جان کے لیے یا اپنے مذہبی یا سیاسی ایجنڈے کے لیے جانیں قربان کرانا گویا شرط وفاداری سمجھتا ہے۔ حضرت عثمانی غنی رضی اللہ عنہ کا انسانی جان کی حرمت کے پاس کا یہ فقید المثال مظاہرہ انسانیت کے ماتھے کا وہ جھومر ہے جس پر خالق کائنات کو بھی فخر ہوگا۔ اس آئینے میں ہر چھوٹے موٹے افسر سے لے کر بڑے سے بڑے رہنما کا کردار ناپیے جو اپنی بے مقصد قسم کی جان کی حفاظت اور اپنے نام نہاد سیاسی اور مذہبی ایجنڈوں کے لیے انسانی جانیں ضائع کرانے پر تیار رہتے ہیں، اور جب وہ ضائع ہو جاتی ہیں تو ان کے قتل کو قابل فخر قربانیاں بنا دیتے ہیں اور یوں مسلسل قتل انسانی کے مرتکب ہوتے رہتے ہیں۔

ہم دنیا میں زندہ رہنے کے لیے آئے ہیں۔ مرنا مجبوری یا ناگریر تقاضے کے بنا روا نہیں۔ شہادت اتنا سستا منصب نہیں کہ ہر بے شعور قربانی کو اس کا مستحق قرار دے دیا جائے۔ انسان کی قدر کیجیے۔ زندگی کی قدر کیجیے۔

Image: Adam Neate

Categories
نقطۂ نظر

عجب جنونِ مسافت میں گھر سے نکلا تھا

جب اس نے سنا کہ عراق اور شام میں اسلامی خلافت قائم ہوگئی ہے تو یہ خبر اس کے لیے کسی خوشی کا باعث نہیں نہ بنی ،ایک زمانہ تھا جب خلافت کا قیام اور عالمی جہاد کا پھیلاؤاس کی زندگی کا مقصد تھا لیکن نجانے کیوں آج عراق اور شام میں لڑنے والے اس کے لیے مجاہدین نہیں رہے تھے،صرف “شدت پسند دہشت گرد اور بھٹکے ہوئے” رہ گئے تھے ۔
انہوں نے بتایا کہ قیامت کے روز یہ سب ڈگریاں، دکانیں ملازمتیں کام نہیں آئیں گی وہاں صرف شہادت کام آئے گی۔اس محفل سے وہ کتنا پرجوش اٹھا تھا، اس نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ یونیورسٹی میں داخلہ نہیں لے گا اوراپنی زندگی جہاد کے لیے وقف کردے گا۔
اسے وہ وقت اب بھی یاد تھا جب ترجمہ قرآن کی کلاس میں کچھ نوجوانوں سے اس کی ملاقات ہوئی، کیسی متاثر کن شخصیت تھی ان سب کی، یقین اور امید سے بھرے ایسے لوگ جیسے انھیں معلوم ہو کہ ان کی زندگی کا مقصد کیا ہے۔ ان کی باتوں میں ہر وقت دنیا کو بدل دینے کی تمنا تھی، اور دین کے بارے میں ان کے خیالات کتنے واضح تھے، بات بات پر قرآن کی آیات اور احادیث سناتے تھے۔ یہ لوگ اس کی مسجد کے مولوی صاحب اور باقی نمازیوں سے سے بہت مختلف تھے وہ بھی انھی جیسا بننا چاہتا تھا۔ نماز کے بعد دیر تک وہ ان کے حلقے میں بیٹھا رہتا اور ان کی باتیں سنتا اور جب وہ کشمیر، چیچنیا و بوسنیا کے مجاہدین کے قصے سناتے تو اسکے لہو کی گردش بڑھ جاتی، اور وہ کچھ لمحوں کے لیے خود کو میدان جنگ میں عیسائیوں، ہندوؤں اور ناپاک کافروں کو قتل کرتے دیکھتا۔ وہ کافر جواس کے مظلوم مسلمان بھائیوں کا خون بہاتے ، ماؤں بہنوں کی عزتیں لوٹتے اور دین کے غلبہ کی راہ میں رکاوٹ بنے بیٹھے تھے۔ ان دنوں میں وہ خود کو دنیا کا خوش قسمت ترین انسان سمجھتا تھا، جسے سیدھی راہ نظر آگئی تھی۔ وہ خود کو خدا کا پسندیدہ اور چنیدہ محسوس کرنے لگا تھا۔پھر وہ جماعت کا فعال رکن بن گیا، جماعت کا لٹریچر پڑھنا اور بانٹنا ، دروس میں حصہ لینا اور چندہ اکھٹا کرنا اس کے معمولات تھے، اس کا حلیہ بھی ان جیسا ہوگیا، جماعت میں سب ایک دوسرے کے بھائی تھے اور دعوۃ و جہاد ان کا واحد مقصد تھا۔ تب زندگی کتنی بامقصد معلوم ہوتی تھی ۔
وہ گلابی آنکھیں جو کتنے اشتیاق سے اسے دیکھتی تھیں اسے قید کرنے سے قاصر رہیں، وہ دامن چھڑا کر چلا آیا، دین کی سربلندی اور جنت کی طلب اس مہ رخ سے زیادہ طاقتور تھی (بہت سالوں بعد اب وہ سوچتا ہے کہ کیا وہ گلابی آنکھیں اب بھی اس کی منتظر ہوں گی۔) پھر اسے اپنا دوست بھی یاد آتا جو گھر بار اورتعلیم چھوڑ کر مجاہدین کے ساتھ خود کو راہ خدا میں شہادت کے لئے وقف کر چکا تھا اورکسی نامعلوم مقام پر معرکہ حق و باطل میں شہید ہوگیا تھا، اس کا غائبانہ نماز جنازہ کتنا شاندار تھا کیسے رو رو کر اس کی شہادت کی قبولیت کی دعا مانگی گئی تھی۔اس کی ماں کا رو رو کر برا حال تھا اور اس کے والد کہتا تھا کہ ان خبیثوں نے میرے بچے کو بھٹکا کر خود قتل کیا ہے۔لیکن اسے اپنے دوست کے ماں باپ کی نا سمجھی پر شدید غصہ آیا جو اپنے بیٹے کی شہادت پر شکوہ کنا تھے،اس نے تو سنا تھا کہ شہادت سعادت ہے، شہیدوں کے خون سے خوشبو آتی ہے ، آگ ان کے جسم کو نہیں چھوتی اور شہادت کے بعد بھی ان کے چہرے پر مسکراہٹ ہوتی ہے۔
برسات کی ایک شام اس کے ایک قریبی جماعتی بھائی نے اس سے ملاقات کی اوربڑے رازدارانہ انداز میں کہا کہ ایک خاص چیز آپ کو دینی ہے لیکن آپ نے آگے کسی سے ذکر نہیں کرنا۔ وہ ذرا چوکنا ہوگیا،پھر انھوں نے ایک سی ڈی اس کے حوالے کی۔ اس سی ڈی کے اند رجو تھا وہ اسے دل تھام کر دیکھنا پڑا، وہ فلسطین میں صابرہ ،شتیلہ کے کیمپوں میں اسرائیلی مظالم، مشرقی تیمور اور احمد آباد کے مسلم کش فسادات کی وڈیو تھی، توربورا کی داستانیں تھیں۔اس کے تصور میں بھی نہیں تھا کہ انسانوں پر اتنا ظلم بھی کیا جاسکتا ہے، وہ زندہ انسان کو جلائے جانے کا منظر، وہ نہتے بندے کے پیچھے تلوار لے کر بھاگتے لوگ، وہ انسانوں کی مسخ شدہ لاشیں۔ یہ مناظر اس کے دل و دماغ میں کھب گئے ، اور اس کے ذہن میں یہود وہنود، امریکہ، بھارت اور اسرائیل سے انتقام کا تصور رہ گیا۔ پھرایک روز درسِ خاص میں امیر صاحب خود تشریف لائے اور انھوں نے دعوت و جہاد کا منہج سمجھایا ، دنیا داروں پر لعنت بھیجی جو ڈگریوں اور ملازمتوں کے حصول کے پیچھے وقت برباد کررہے ہیں اور دین و آخرت کو بھلا بیٹھے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ قیامت کے روز یہ سب ڈگریاں، دکانیں ملازمتیں کام نہیں آئیں گی وہاں صرف شہادت کام آئے گی۔اس محفل سے وہ کتنا پرجوش اٹھا تھا، اس نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ یونیورسٹی میں داخلہ نہیں لے گا اوراپنی زندگی جہاد کے لیے وقف کردے گا۔
دس سال بیت گئے ، کئی تنظیمیں منطر عام پر آئیں اور گئیں، کئی آپریشن ہوئے ، ہر طرف کسی نہ کسی بنیاد پر قتل عام ہے۔ اور وہ اکثر سوچتا ہے کہ کیا مسلمانوں کا مقدر صرف جہالت ، جذباتیت ، فرقہ پرستی، قتل وغارت گری، اقتدار کے لیے نا ختم ہونے والی لڑائیاں اور مذہب کا معاشی و سیاسی استعمال ہی ہے؟
اب وہ جماعت کے اندرونی حلقوں میں اٹھنے بیٹھنے لگا، لیکن یہاں اسے قرآن و حدیث کے ذکر سے زیادہ چندہ جمع کرنے، کھالیں اکٹھی کرنے ،اسلحہ کے زور پر مخالف فرقہ کی مساجد پر قبضہ کرنے جیسے مسائل پر زیادہ سننے کا موقع ملا۔ وہ لوگ جو اسے زندگی اور رزق کے لیے اللہ پر بھروسے کا کہتے تھے خود چند روپوں، چند کھالوں اور مسجدوں پر قبضہ کی خاطر لڑائیاں کرتے دکھائی دیے۔سب سے حیرت انگیز بات یہ تھی کہ جہاد کی دعوت دینے والا کوئی بھی شخص اپنی اولاد کو جہاد پر نہیں بھیجتا تھا ۔دوسروں کے بچوں کو ڈگریوں سے روکنے والے اپنے بچوں کو ڈاکٹر انجینیئر بناتے تھے اور نوکریاں بھی کرواتے تھے۔ایک امیر کے بعد امیر بننے کی سیاسی کشمکش جاری رہتی اور اکثر اختلاف ہونے پر ایک جماعت ٹوٹ کر دو یا تیں جماعتوں میں بٹ جاتی۔ اور جو چیز سب سے بڑا راز تھا کہ جماعت کو چلانے کے لیے کروڑوں کہاں سے آتے تھے، ٹریننگ کے لیے جگہ، اسلحہ اور تحفظ کہاں سے ملتا تھا۔ ان سب باتوں کے بہت سادہ جواب دیے جاتے تھے کہ دیکھیں میرے بھائی جب آپ دین کا کام کرتے ہیں تو اللہ آپ کی مدد کرتا ہے کبھی کبھی تو آپ کے دشمن بھی آپ کے مددگار بن جاتے ہیں جیسے اقبال نے کہا ہے کہ ” پاسبان مل گئے کعبہ کو صنم خانے سے”۔ افغان جہاد کی مثال دیکھ لو کیسے امریکہ کی مدد سےاسلام کا دفاع ہوا، تو میرے بھائی اللہ اپنے دین کی حفاظت کے لیے مسلمانوں کا محتاج نہیں ہے۔اب اس کے دل میں جماعت اور دعوت و جہاد کے بارے میں شکوک اٹھنے لگے۔
پھر اس نے اپنے شہر میں خود کش دھماکے ہوتے دیکھے جن میں معصوم لوگ شہید ہوتے، جب اس نے جماعتی بھائیوں سے پوچھا تو ان کا جواب بڑا سادہ تھا کہ خود کش حملے اسلام میں جائز ہیں اور جو بے گناہ مارے جاتے ہیں ان کو جنت ملے گی اور بڑے مقصد کے لیے چھوٹی چھوٹی قربایناں تو دینی ہی پڑتی ہیں۔ پھر اس نے سنا کہ کچھ جہادی جماعتیں بنک ڈکیتیاں اور اغواء برائے تاوان کی کاروایاں بھی کرتی ہیں اور اس کا جواز بھی یہی بتایا گیا کہ اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے ایسا کرنا جائز ہے وہ آپ نے واقعہ تو سنا ہوگا، جب ۔۔۔
انھی شکوک و شبہات کے دنوں میں کئی ایسے لوگوں سے بھی ملنے کا اتفاق ہوا جو جہادی تنظیموں کا حصہ رہ چکے تھے مگر پھر متنفر ہوکر چھوڑ گئے ، وہ راشد جو عالم دین تھا اور نوئے کی دہائی میں طالبان کے ساتھ مل کر لڑ چکا تھا، اسے حیرانی تھی کہ اتنے مسلمان روسیوں نے نہیں مارے جتنے طالبان اور دوسرے گروہوں نے آپس میں لڑ کر مار دیے ہیں۔ وہ قاسم جو قرآن وحدیث کے مطالعہ کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا کہ دین اور جہاد کا جو تصور یہ تنظیمیں رکھتی ہیں وہ صحیح نہیں ہے، وہ عبداللہ جو نفسیات کا شوقین تھا اور برین واشنگ کے سارے طریقے اسے معلوم تھے جس نے اسے سمجھایا کہ ذہنوں میں حقیقت کا تصور کیسے بنایا جاتا ہے،اسد جو تاریخ کا طالب علم تھا اور پچھلے 1300 سال میں اٹھنے والی ہر مسلح تنظیم اور گروہ کے منہج اور انجام سے واقف تھا۔، مخدوم جو صحافی تھا اور تنظیموں کے اندرونی حالات سے واقف تھا ۔ لیکن ہر وہ شخص جو سوچنے لگا تھا وہ اس وحشت اور پاگل پن سے دستبردار ہو چکا تھا۔ مقصد کا نہ ہونا برداشت ہو سکتا ہے مگر مقصد ایک دھوکا، ایک فریب اور ایک غلطی ثابت ہو جائے ، یہ کیسے برداشت کیا جا سکتا ہے؟
دس سال بیت گئے،کئی تنظیمیں منطر عام پر آئیں اور گئیں، کئی آپریشن ہوئے،ہر طرف کسی نہ کسی بنیاد پر قتل عام ہے۔ اور وہ اکثر سوچتا ہے کہ کیا مسلمانوں کا مقدر صرف جہالت،جذباتیت،فرقہ پرستی، قتل وغارت گری، اقتدار کے لیے نا ختم ہونے والی لڑائیاں اور مذہب کا معاشی و سیاسی استعمال ہی ہے؟