Laaltain

تم نہیں دیکھتے

ابرار احمد: آنکھیں دیکھتی رہتی ہیں
لیکن تم نہیں دیکھتے
پڑے رہتے ہو عقب کے اندھیروں میں، لمبی تان کر
اور نہیں جانتے
آنکھیں کیا کچھ دیکھ سکتی ہیں

تم نے اسے کہاں دیکھا ہے؟

نصیر احمد ناصر: کبھی تم نے پوچھا ہے
چلتے ہوئے راستے میں
کسی اجنبی سے
پتا اس کے گھر کا
ہوا جس کے قدموں کے مٹتے
نشاں چومتی ہے
نگر در نگر گھومتی ہے

وہ خوشبو بدن تھی

سوئپنل تیواری: تبھی سے تعاقب میں ہوں تتلیوں کے
کئے جا رہا ہوں انہیں جمع ہر دم
کہ اک روز ان سے دوبارہ میں تخلیق اس کو کروں گا
جو خوشبو بدن تھی