Categories
نان فکشن

صالح شاہ کا امام باڑا

ہمارا گھر صالح شاہ کے امام باڑے (امام بارگاہ ) کے ساتھ ہی تھا۔ امام باڑے کے گرد پیلو کی جھاڑیوں کی باڑ تھی۔ امام باڑے کے اندر علم کے علاوہ پیلو کے چند جھاڑ اور دو تین سینگر کے درخت تھے۔پیلو پر پھل آتا تو میٹھے پیلو جلد ہی غائب ہوجاتے۔ سینگر کی پھلیوں کی سبزی آس پاس کے گھروں میں بننے لگتی۔ صالح شاہ کے مزار کے ساتھ چند کچی قبریں بنی ہوئی تھیں۔ ان میں ایک آدھ ننھی قبر بھی تھی۔

امام باڑے کے داخلی دروازے کے دائیں طرف ایک کُٹیا بنی ہوئی تھی جس میں ایک چٹائی، ایک ڈنڈا کونڈا، پانی کا مٹکا، اور دو تین آب خورے پڑے ہوئے تھے۔کٹیا کے درمیان دوتین اینٹیں جوڑ کر ایک چولھا بنا ہوا تھا جو ہمیشہ دن کے وقت چلم گرم کرنے کے لیے سلگتا تھا۔ امام باڑے سے کبھی شور شرابے کی آواز نہیں آتی تھی۔ معمول کے مطابق دو تین افراد ہی کا آنا جانا رہتا تھا۔ وہ اتنے نرم خُو ہوتے تھے کہ ان کے آنے جانے کی چاپ تک سنائی نہیں دیتی تھی، گویا ہوا پر تیرتے آتے اور ہوا ہی پر تیرتے ہوئے چلے جاتےتھے۔ان کی موجودگی کا احساس کبھی کبھار ” یا علی مولا مدد” کے نعرے ہی سے ہوتا تھا۔ آس پاس رہنے والوں کو کبھی ان سے کوئی شکایت نہیں ہوئی۔ ایسا لگتا تھا وہ ہر آدمی کی زندگی سے جٌڑے ہوئے ہیں۔ ان کے مقابلے میں معصوم بچوں سے ہر کوئی نالاں رہتا تھا۔

میں صرف دو افراد ہی کو ناموں سے جانتا تھا۔ ایک محمد بخش اور دوسرا حسین بخش شر بلوچ۔حسین بخش دبلا پتلا اور بہت دھیمے انداز میں ہمیشہ مٹھاس بھرے لہجے میں بات کرتا تھا۔اس کا سر ہمیشہ جھکا ہوا ہوتا تھا اور ہر بات کے ساتھ “بابا یا بابلا ” کہتا تھا۔ وہ پولیس میں سپاہی بھی رہ چکا تھا۔ بعد میں کسی وجہ سے ملازمت چھوڑ دی تھی یا اس سے ہو نہیں پائی، معلوم نہیں۔ اس کی عمر اتنی زیادہ نہیں تھی۔ابھی جوان ہی تھا، نجانے کس دکھ نے اسے گوشہ نشین بنا دیا تھا۔وہ امام باڑے کی کٹیا میں چٹائی پر لیٹ کر، سر اینٹ پر رکھے ایک موٹی کتاب پڑھتا رہتا تھا۔شام کو جاتے وقت کتاب جھونپڑی کی چھت میں لگی لکڑیوں میں اٹکا دیتا۔ میں نے بچوں کے رسالے اور کہانیوں کی کتابیں پڑھنا شروع کر دی تھیں۔ ہر وقت نئی کتاب کی کھوج میں رہتا۔ ایک دن وہ کتاب کو اوپر رکھنا بھول گیا اور کتاب میرے ہاتھ لگ گئی۔ اس ضخیم کتاب کا نام ” مشاہیرِ روما “تھا۔ جس میں مسولینی اور دیگر کئی مشاہیر کی سوانح لکھی ہوئی تھیں۔میں نے بار بار اسے پڑھنے کی کوشش کی مگر مجھے سمجھ نہیں آئی۔ میرے ہاتھ میں ہر وقت کتاب دیکھ کر ایک بار حسین بخش نے میرے بھائی سے کہا،
” دیکھنا یہ کتابیں پڑھ پڑھ کر ایک دن میری طرح پاگل ہو جائے گا”۔

امام باڑے کی فضا میں ہمیشہ پرندوں کی چہچہاہٹ گونجتی رہتی تھی۔ شام کے وقت بچے کھیلتے ہوئے امام باڑے میں چلے جاتے جس کے داخلی راستے پر دروازے کے نام پر چھوٹا سا لکڑی کا تین چار فٹ لمبا اور دو تین فٹ چوڑا ایک پلڑا سا بنا ہوا تھا جس میں لگا ہوا کنڈا بہت کم اپنے درست مقام پر ہوتا تھا۔

امام باڑے کا متولی چاچا اسحاق خاں تھا جو بہت غصیلے مزاج کا تھا۔ غصے کی آنچ کی وجہ سے اس کی آنکھیں ہمیشہ لال دکھائی دیتی تھیں۔ فربہ بدن چھوٹے قد اور چہرے پر گھنی مونچھوں کی وجہ سے اس کی شخصیت رعب دار لگتی تھی۔ شخصی تاثر میں وہ کسی اجڑی ہوئی ریاست کا معزول شدہ نواب لگتا تھا۔گھٹنے میں تکلیف کی وجہ سے ایک ٹانگ پر ہمیشہ زور دے کر چلتا تھا۔ بچے امام باڑے میں آکر شور غُل مچاتے تو وہ لاٹھی یا پتھر لے کر اپنے تھل تھل کرتے بھاری جسم کے ساتھ ان کے پیچھے دوڑتا۔بچے ڈر کر بھاگ جاتے۔کوئی بچہ اس کی گرفت میں آنے لگتا تو وہ یکا یک اپنی رفتار دھیمی کر لیتا۔

بابا کسی سیاسی شخصیت سے ملنے جاتے تو کبھی کبھی اسحاق خاں بھی جناح کیپ پہن کر بابا کے ساتھ جاتا تھا۔ ہمارے گھرانے کے ساتھ ان کا تعلق خاندان کے ایک فرد جیسا تھا۔ وہ سینتالیس کے بعد ہندستان سے آکر یہاں آباد ہوئے تھے۔ ظاہری سخت خول کے باوجود اندر سے وہ ایک ملائم اور دردمند انسان تھے۔ اسحاق خاں کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ان کی اہلیہ ہمارے گھر آتی تو میرے سر پر ہاتھ پھیر کر پیشانی چومتے ہوئے” میرا بچہ، میرا بیٹا” کہتی تھیں۔پان کی گلوری ہمیشہ ان کی منہ میں ہوتی۔ مجھے ہمیشہ ان میں سے اپنی ماں جیسی مہک آتی تھی۔ایک گاؤں میں ایک بچے کی ایک نہیں بہت ساری مائیں ہوتی ہیں۔

پھلاڈیوں ایک چھوٹا سا شہر تھا مگر اس کا مزاج شہری نہیں دیہاتی تھا۔

لوگ صالح شاہ کے امام باڑے کی طرف بھول کر بھی پاؤں کر کے نہیں سوتے تھے۔

محرم کا مہینا آتا تو سارے ریڈیو بند ہوجاتے تھے۔ شہر میں صرف ہمارے گھر پر جنریٹر سے چلنے والا بلیک اینڈ وائٹ فلپس ٹیلی ویژن تھا، جو محرم کے پہلے عشرے میں بند کر دیا جاتا۔

شہر کے لوگ مسلکی تفریق سے آشنا نہیں تھے۔ شہر میں چند ہی گھرانے شیعہ مسلک کے تھے مگر جمعہ کی نماز اسحاق خاں اور ڈاکٹر الیاس سمیت سبھی جامع مسجد میں ہمارے ساتھ ہی پڑھتے تھے۔ سب کے ہاتھ پیٹ پر بندھے ہوتے تھے مگر چند ہاتھ کھلے ہوئے رہتے تھے، جنھیں کبھی کسی نے محسوس نہیں کیا۔ عید کی نماز بھی سب اسی مسجد میں ہمارے ساتھ پڑھتے تھے۔

نو محرم کو صالح شاہ کے امام باڑے میں مجلس ہوتی تھی۔ قریب و دور کے شیعہ اہتمام کے ساتھ شریک ہوتے تھے۔ امام باڑے میں نیا سیاہ پرچم لگ جاتا تھا۔ اسحاق خاں صفائی ستھرائی کے بعد چھڑکاؤ کرواتے تھے اور امام باڑا زندگی سے بھر جاتا تھا۔

مجلس شروع ہوتی تو سارا شہر امنڈ پڑتا۔ کیا ہندو کیا مسلمان کیا سنی، سب کے سب ایک فریکوئنسی پر آ جاتے۔ مجلس کے ذاکر کربلا کا بیان کرتے تو امام باڑے کے باہر کھڑے لوگوں کی آنکھیں بھی بھیگنے لگتی تھیں۔ مجھ سمیت کئی بچے بھی مجلس میں بیٹھ جاتے اور پورا ذکر سنتے اور دل درد سے بھر جاتا۔ ایک عجیب سی کیفیت ہوجاتی تھی۔ نیاز آتی تو افسردگی کی وجہ سے ذائقہ بھی ماتمی سا محسوس ہونے لگتا تھا۔

سہ پہر کے بعد مجلس اپنے اختتام کی طرف جاتی۔عزادار ایک جلوس کی شکل میں امام باڑے سے ماتم کرتے ہوئے نکل کر شہر کے مرکزی چوک پر آکر رک جاتے۔ ان کے ماتم کی” لے” پر سرائیکی نوحے پورے شہر کی فضا کو ماتمی سیاہ لبادہ اوڑھا دیتے۔ جلوس کے ارد گرد شہر کے لوگوں کا ہجوم ہوتا۔چوک پر نیزے اور چھریوں کے ساتھ ماتم دیکھ کر لوگوں کے دل دہل جاتے۔ بھاری بھرکم نیزے بلندی سے آکر سینے پر لگتے تو سبھی کے سینے سے درد کی ٹیس بلند ہونے لگتی۔ میرے کئی شیعہ دوست سینہ پیٹتے دکھائی دیتے۔ یہ جلوس رک رک کر چلتا رہتا۔ کچھ سنی اور ہندو پسینے سے شرابور عزاداروں کو پنکھا جھل کر ہوا دیتے رہتے۔

شہر اپنے آخری کنارے تک ایک چیخ میں تبدیل ہو جاتا تھا۔ سارے عزادار اس نہ سنائی دینے والی چیخ کی سرنگ میں سے گزرتے ہوئے کچھ کلو میٹر دور، ماڑی مٹھو فقیر ڈھیر (درگاہ ) کی طرف رواں دواں رہتے جہاں دس محرم کو مرکزی مجلس ہوتی تھی۔

ہر سال محرم آتا اور ہر سال اسی طرح شہر عزا خانے میں تبدیل ہو جاتا۔

ستر کی دہائی کے اولین برسوں میں باہر کہیں سے ایک مولوی صاحب آئے۔ بہت اچھے خطیب تھے۔ میں نے قرانی قاعدہ انھی سے پڑھا تھا۔ جمعے کو ان کا خطبہ سماں باندھ دیتا تھا مگر رفتہ رفتہ ان کے خطاب میں ایسے مسائل زیر بحث آنے لگے کہ ہاتھ کھول کر نماز پڑھنے والے میرے دوستوں نے مسجد میں آنا بند کر دیا۔ نجانے کہاں سے گرم ہوائیں چلنا شروع ہوگئیں۔ ہمیں کہا گیا نیاز مت کھاؤ۔ اس میں یہ شامل ہوتا ہے، وہ شامل ہوتا ہے۔ وقت کے ساتھ ماحول تبدیل ہونے لگا۔ فاصلے بڑھنے لگے۔مجلس شروع ہوتی تو شہر کا شہر امام باڑے کے گرد ہمیشہ کی طرح کھڑا ہوجاتا مگر مسجد کا لاؤڈ اسپیکر بھی اسی وقت کھل جاتا۔ شہر کی زمین تانبے کی طرح تپنے لگی۔ اب تنفر کے نیزوں اور چھریوں کا ایک متوازی جلوس بھی نکلنے لگا جو دکھائی تو نہیں دیتا تھا مگر محسوس سبھی کو ہونے لگا۔

نجانے کیوں چند افراد ہی ہمیشہ اکثریت پر غالب رہتے ہیں۔ چند برس تناؤ کی یہ کیفیت قائم رہی مگر مخصوص افراد کے منظر سے ہٹتے ہی ماحول دوبارہ سے پرسکون ہونے لگا، مگر اب وہ پہلی سی بات نہیں رہی تھی۔ اب ایک فریکوئنسی پر سارے دل نہیں دھڑکتے تھے۔

میں کئی دہائیوں سے اب میرپورخاص میں رہتا ہوں، اپنے گاؤں نہیں جا پاتا کیوں کہ وہاں بہت کچھ تبدیل ہو چکا ہے۔ میں نہ جانے کیوں اب بھی تبدیل نہیں ہو پایا، اور ہر نویں محرم کو میرا دل صالح شاہ کا امام باڑا بن جاتا ہے۔

Categories
نان فکشن

سدِ سکندری (ایک مولوی صاحب کا خاکہ)

[blockquote style=”3″]

ذکی نقوی کی یہ تحریر اس سے قبل ہم سب پر بھی شائع ہو چکی ہے۔ مصنف کی اجازت سے اسے لالٹین قارئین کے لیے شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

جب تقسیم کے ہنگاموں سے دریا کے کنارے ہنستا بستا شاکر خان تتاری کا کوٹ اُجڑکر، بلکہ سُکڑ کر ایک چھوٹا سا قصبہ ہی رہ گیا تو کئی لوگوں نے اس کے مضافات سے اپنی رہائشیں ترک کر دیں۔ بستی دولت رام اس قصبے کا سب سے متاثرہ حصہ تھی۔ دادا مرحوم نے یہاں سے چند کلومیٹر مغرب کی جانب ریگستان میں آکر سکونت اختیار کر لی جہاں کی ڈھلوان کے ساتھ بہت زرخیز زرعی زمین تھی۔ یہاں اُن کے ہمراہ ایک اور خاندان قصائیوں کا بھی آیا ۔ اُس خاندان میں سالانہ شرحِ پیدائش کی شاندار صلاحیتوں نے جہاں اس ویرانے کو جلد ہی ایک بستی کی صورت دے دی تو وہاں اسی خانوادے نے گاوں کی پہلی مسجد کی بُنیاد بھی رکھی۔ “مسجدِ شیرِ خُدا” کو ان پڑھ لوگ اپنی آسانی کے لئے اس کے بانی کے نام پر “شیرے قصائی دی مسیت” بھی کہا کرتے تھے۔ میری رسمی تعلیم کا آغاز یہیں سے ہوا۔ شیر محمد قصائی کی تمام اولاد اُس کی طرح بہت خوش عقیدہ سُنی تھے اورمسجد کو آباد رکھنے میں ہمیشہ بہت مخلص رہے ہیں۔

 

گھنی بکھری ہوئی ڈاڑھی، بڑا سا دہانہ اور چھوٹی چھوٹی آنکھیں جس کی وجہ سے سنجیدہ بزرگوں میں تو آپ روایتی ‘مولویانہ’ فیشن کی شخصیت لگتے تھے لیکن ہم نو عمر لونڈوں کے نزدیک آپ کوئی فکاہیہ کردار تھے۔
نصف صدی کے گُذرنے میں جب یہ بستی کافی بڑا گاوں بن گئی تو سڑک پار ایک جامع مسجد اور مدرسہء اہل سُنت قائم کیا گیا۔ شیرے قصائی والی مسجد میں پڑھنے والے بچے اُس مدرسے میں منتقل ہو گئے لیکن اس مسجد کو اس کے اولین امام صوفی احمد دین نے تاحین حیات آباد رکھا۔

 

مولوی عارف اللہ عارف انہی دنوں میں جامع مسجد و مدرسہ اہلِ سُنت کے اُستاذ اور امام بن کر آئے۔ آپ کا پسِ منظر اتنا ہی معلوم ہے کہ مرحوم شیرے قصائی کے دُور پار کے رشتے داروں میں سے تھے اور کسی معمولی سے مدرسے سے فارغ التحصیل تھے۔ جوان آدمی تھے لیکن ڈاڑھی اور توند کا حجم عمر رسیدہ، جید مولویوں کا سا پایا تھا۔ بلاشبہ اس ہیئت کی وجہ سے بھی اُنہیں گاوں میں اپنا سکہ بٹھانے میں کافی آسانی ہوئی۔ بھاری بھرکم ڈاڑھی اور توند مولوی کے معتبر ہونے کی علامت ہے اور یہ بات میں اپنے گاوں کے لوگوں کے معیارات کو سامنے رکھ کر پوری سنجیدگی سے کہہ رہا ہوں، اس سے مقصد مولوی عارف اللہ عارف صاحب کا مضحکہ اُڑانا ہرگز نہیں۔ لاریب فیہہ کہ مولوی موصوف کا احترام بلا تخصیصِ مسلک، تمام گاوں والے کرتے تھے۔

 

عربی قرات خوب کرتے لیکن فارسی سے کافی حد تک نابلد تھے، یا کم از کم ہمارا یہ اندازہ ہے۔ دین اور فقہہ کا مطالعہ بنظرِ غائر کر رکھا تھا لیکن چہرے مہرے سے گاودی مُلا لگتے تھے۔ گھنی بکھری ہوئی ڈاڑھی، بڑا سا دہانہ اور چھوٹی چھوٹی آنکھیں جس کی وجہ سے سنجیدہ بزرگوں میں تو آپ روایتی ‘مولویانہ’ فیشن کی شخصیت لگتے تھے لیکن ہم نو عمر لونڈوں کے نزدیک آپ کوئی فکاہیہ کردار تھے۔ ہم نے بچوں کے ایک رسالے میں ملا نصرالدین کے کچھ کارٹون دیکھے تھے جن کی رو سے دُنیا میں مُلا نصرالدین کا واحد ہم شکل مولوی عارف اللہ ہی تھے۔ حقیقی ذندگی میں وہ کوئی فکاہیہ کردار ہرگز نہ تھے لیکن ہنسے ہنسانے کو گناہِ کبیرہ بھی نہ سمجھتے تھے۔ اچھا اخلاق پایا تھا، اگرچہ بات کرنے کے انداز سے سنگ و خشت قسم کے عالمِ دین لگتے تھے، غُصے میں تشیع پر بھی برستے لیکن تب تکفیر کا کلچر عام تھا نہ آپ اس کے قائل تھے۔ اذان کے بعد حضرتِ معین الدین چشتی اجمیری صاحب رحمٗہ اللہ کا مشہور قطعہ پڑھتے لیکن ایک مصرعے میں خوب تحریف فرمائی تھی؛

 

؎ سرداد، نداد دست در دستِ یزید پلید

 

عربی ادب سے بھی دلچسپی تھی اور معلقات کی توضیح پر عبور رکھتے تھے۔اُنہوں نے تمام مسالک اور مکاتبِ فکر کا مطالعہ بالالتزام کیا۔ تشیع کی کتب گاوں کے واحد کتب خانے یعنی ابا جان کے ذخیرہء کتب سے لیتے تھے اور ان پر ابا جان سے بڑے دوستانہ ماحول میں بحث و تمحیص بھی کرتے۔ آپ کے اکثر شاگرد آپ کے مُرید بھی تھے کیونکہ آپ نے تعویذ اور ‘دم درود’ کا ہُنر بھی پایا تھا۔ سر درد کا ‘دم’ زود اثر ہوتا تھا۔

 

پاوں کے تلووں کی ایک بیماری ہے، چنبل، اکثر تھل باسیوں کے ننگے پاوں چلنے کی عادت کی وجہ سے لاحق ہو جاتی تھی۔ مولوی عارف اللہ عارف اس کے لئے سرسوں کے تیل پر دم پڑھ کر دیتے تھے جو کہ چہار دانگ میں مشہور تھا۔ ایک دفعہ باورچی صدیق قصائی کی دُکان کے تختے پر بیٹھے چاول تناول فرما رہے تھے جو آپ کا پسندیدہ مشغلہ تھا، ایک دیہاتی سرسوں کے تیل کی بوتل لے کر آیا، “اُستاد جی، گھر میں پاوں چٹخ گیا ہے، ذرا تیل تو دم کر دیں”، دیہاتی کی استدعا پر چاول کی پلیٹ ایک طرف رکھی، تیل کی بوتل کا ڈھکن کھولا اور زیرِ لب کچھ پڑھنا شروع کردیا۔ آپ کی ڈاڑھی کافی دیر تک ہونٹوں کی خموش جنبش سے تھرتھراتی رہی، پھر آپ نے “شُوں شُوں” اور “پُھوں پُھوں” کی آواز سے بوتل میں پھونک ماری، اور ساتھ ہی “تُھوں تُھوں” کی آواز کے ساتھ تھوڑا سا لعاب شریف بھی بوتل میں تھوک دیا۔ ہم پاس بیٹھے تھے، باچھیں کھِلا کر ہنس دیئے۔ بڑے بھیا، جو اُن کے قریب تر کھڑے تھے، کہنے لگے، “اُستاد جی، پُھونک تو ٹھیک ہے، بوتل میں تھُوکتے کیوں ہیں؟” آپ نے سنجیدگی سے بھیا کی طرف دیکھا اور بڑے تقدس مآبانہ انداز میں بولے؛ “تُھوک کی اپنی تاثیر ہوتی ہے بچے!”

 

جب امام باڑے میں اُن کی نمازِ جنازہ ہو چکی تو مدرسہء اہلِ سُنت کی جانب سے مولوی عارف اللہ عارف نے بھی نمازِ جنازہ پڑھائی اور تمام اہلِ تسنن نے ان کی اقتداء کی۔
دادا مرحوم جو کہ علاقے میں ایک موقر شیعہ عالمِ دین اور مناظر تھے، فوت ہوئے تو ایک بڑی تعداد نے جنازے میں شرکت کی۔ جب امام باڑے میں اُن کی نمازِ جنازہ ہو چکی تو مدرسہء اہلِ سُنت کی جانب سے مولوی عارف اللہ عارف نے بھی نمازِ جنازہ پڑھائی اور تمام اہلِ تسنن نے ان کی اقتداء کی۔

 

انہی دنوں علاقے کے تتاری بلوچوں نے جو کہ مسلکاً شیعہ تھے، ہمارے بزرگوں کے ساتھ مل بیٹھ کر فیصلہ کیا کہ گاوں کی شیعہ مسجد جو کہ مسجدِ ضرار کا حُلیہ پیش کر رہی تھی، آباد کی جائے اور اس کے لئے ایک مولوی صاحب کا بندوبست بھی کیا جائے۔ عملدرآمد ہوا تو کسی بڑے مدرسے کے فارغ التحصیل ایک چھوٹے سے، بُوم نُما شیعہ مولوی جی “ہماری” مسجد کو بھی آباد کرنے آ گئے۔

 

آپ کا نام تو آغا غلام الحسنین جواہری تھا لیکن بلوچوں کے لڑکوں نے کچھ اپنی آسانی کے لئے، کچھ آپ کی ہیئت کو مد نظر رکھ کر آپ کا نام مولبی چُونڈی (اُردو ترجمہ: مُلا چُٹکی) رکھ دیا۔ اب ایک بٹوارے کی سی صورتِ حال پیدا ہو گئی۔ کچھ شیعہ گھرانوں کے جو بچے تھے، اُنہوں نے مولوی عارف صاحب کا مدرسہ چھوڑ کر مُلا چُٹکی کے پاس پڑھنا شروع کر دیا۔ ہمارا ایک خوش اندام دوست جس کے گداز رانوں پر ہاتھ پھیر کر اکثر مولوی عارف اُس کے حُسن اور حُسنِ قرات کی داد دیتے تھے، شیعہ باپ اور سُنی ماں کا بیٹا تھا، وہ اس بٹوارے میں مولوی عارف صاحب کے حصے میں ہی آیا جس کا ہمیں سخت غم و غُصہ تھا۔ اگرچہ مُلا چُٹکی اور مولوی عارف کے درمیان باہمی احترام اور رواداری کا تعلق قائم ہوا اور گاوں میں کسی قسم کی تفریق کو ہوا نہ ملی ، ہم اس بٹوارے پر سخت ناخوش تھے۔ ہم نے ایک دفعہ اپنے اُس دوست کو مُلا چُٹکی کے درس میں آنے کی دعوت دی تو وہ آ گیا۔ مُلا چُٹکی اُسے دیکھتے ہی حافظؔ شیرازی کے اس شعر کی مجسم تشریح بن گئے:

 

؎ بہ مکتب می رَوَد طفلِ پری ذاد
مبارک باد مرگِ نَو بہ اُستاد

 

اُنہوں بھی اُس پر کمال شفقت کی۔ اگلے روز ہمارے اُس دوست کی، بوجہ غیر حاضری مولوی عارف اللہ عارف نے خوب درگت بنائی۔ ہمیں پتہ چلا تو ہم نے انتقامی کارروائی کا سوچا۔ منصوبہ بن گیا۔ بڑے بھائی صاحب قبلہ جو دسویں کے طالب علم تھے اور ہماری کسی حرمزدگی میں شریک یا ہمراز نہ ہوتے تھے، اس منصوبے میں رضاکارانہ طور پر ہمارے ساتھ ہو لئے۔ اُسی شام ہم چند کوئلے اُٹھائے، مسجد و مدرسہء اہلِ سُنت کے عقب میں جا پہنچے۔ بڑے بھیا نے ٹھیکری پہرہ لگایا، میں نے محرابِ مسجد پر کوئلے سے مُلا نصرالدین یعنی مولوی عارف اللہ عارف کا کارٹون بنایا اور اسدؔ نے اپنی خوش خط لکھائی میں سُرخی دی “مولوی عارف اللہ ٹوکرا”۔۔۔ پھر ایک ہی اشارے سے ہم بھاگ نکلے۔

 

میں نے محرابِ مسجد پر کوئلے سے مُلا نصرالدین یعنی مولوی عارف اللہ عارف کا کارٹون بنایا اور اسدؔ نے اپنی خوش خط لکھائی میں سُرخی دی “مولوی عارف اللہ ٹوکرا”۔۔۔ پھر ایک ہی اشارے سے ہم بھاگ نکلے۔
رات تو خیر سے گُذر گئی۔ جب اگلے روزظہر کی نماز سے قبل مدرسے کے بچے حوائج ضروریہ و طہارت کے لئے عقبی ٹیلوں اور کیکر کے جھُنڈوں کی طرف گئے تو اُنہوں نے محراب پر ہمارے مزاحمتی آرٹ کا نمونہ دیکھا تو بھاگم بھاگ آئے مولوی عارف اللہ صاحب کے پاس۔

 

اسی شام مولوی صاحب کو اپنے ڈیرے پر بیٹھا دیکھ کر ہمارا ماتھا ٹھنکا۔مولوی صاحب ابا حضور سے باتیں کر رہے تھے، درمیان میں تفسیر کی کوئی کتاب کُھلی تھی۔ اسی اثناء میں ہمارا بُلاوا اگیا۔ بڑے بھائی صاحب تو فوراً درانتی اُٹھا کر چارہ کاٹنے کے بہانے کھسک گئے، میری اور اسدؔ کی پیشی ہوئی۔ مولوی صاحب کے لبوں پہ مسکراہٹ تھی، ابا جان کے ہونٹوں پر تند و ترش سوالات تھے۔اب کے بر عکس بچپن میں اسدؔ کو ہمیشہ سچ بولنے کی عادت تھی، اُس نے فوراً اقبالِ جرم کر لیا۔ چھوٹے چچا نے ہم دونوں کو گدی پر ایک ایک زناٹے دار تھپڑ رسید کیا تو مولوی عارف صاحب نے ناگواری سے اُن کا ہاتھ روک لیا اور اُنہیں سختی کرنے سے منع کیا۔ ہمیں بہت شفقت سے سمجھایا کہ مسجد کا تقدس بہت مقدم ہے، اس کی دیواروں پہ خاکے بنانا بُری بات ہے۔ پھر ابا نے امام باڑے کے ایک نوحہ خوان کو ہمارے ہمراہ بھیجا کہ مسجد اہل سُنت کی محراب کو اچھی طرح صاف کر کے ہی واپس آئیں۔ نقش گہرے تھے، بیچارہ جعفر ماچھی رات پھیلنے تک محراب پہ سر پٹختا رہا۔

 

مُلا چُٹکی یہاں ذیادہ عرصہ نہ رہ سکے، اور اُن کے بعد ایک دو اور مولوی بھی یہاں کی شیعہ مسجد کی خدمت میں رہے لیکن مولوی عارف اللہ عارف گاوں کے سماجی حلقے میں ایک ہردل عزیز شخصیت کے طور پر مقبول رہے۔

 

یہ سال ایک کرکٹ ورلڈ کپ کے جوش و خروش کا سال تھا اور کرکٹ کا شوق اور حُبُ الوطنی ہمارے دیہاتوں میں بھی عروج پر تھی۔ گاوں میں مولوی عارف صاحب کے کرکٹر بننے کے شوق کا خوب شہرہ ہوا۔ مدرسے کے طلباء کو اور کیا چاہیئے تھا، بڑے خوش ہوئے اور فوراً کرکٹ ٹیم بنا لی۔ آپ کا کھیل دیکھنے لوگ بصد شوق آتے تھے اگرچہ آپ وکٹ پر ایک گیند سے ذیادہ نہ ٹھہر پاتے تھے۔ کچھ معاصر مُلاوں نے اس شنیع و قبیح حرکت پر مولوی عارف صاحب کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا لیکن صدا بصحرا۔۔۔ آپ کے اچھے کرکٹر بننے کی راہ میں آپ خود ایک سدِ راہ تھے، بلکہ چٹان بن گئے تھے جوکہ بلا شبہ بہت بھاری بھرکم تھی اور کرکٹ کے میدان میں نہ لُڑھک سکی لیکن ہم جانتے تھے کہ مولویوں میں آپ چٹان نہیں بلکہ سدِ سکندری تھے جنہوں نے نفرت اور انتہا پسندی سے مُلاوں کی قومِ یاجوج ماجوج کو روک رکھا تھا۔ اُن سے تلمذ حاصل کرنے والے اُن کے شاگردآج کل معمولی پیشوں یا مساجد میں معمولی خدمات سے کسبِ معاش کررہے ہیں اور آج بھی بہت روادار اور متوازن رویوں کے لوگ ہیں۔

 

ہم جانتے تھے کہ مولویوں میں آپ چٹان نہیں بلکہ سدِ سکندری تھے جنہوں نے نفرت اور انتہا پسندی سے مُلاوں کی قومِ یاجوج ماجوج کو روک رکھا تھا۔
یہ 1998ء کا سال تھا غالباً، یا پھر 99ء کا، لیکن تھا موسمِ گرما، جب ایک چلچلاتی دوپہر کو مولوی عارف اللہ عارفؔ صاحب کسی دوسرے گاوں سے آرہے تھے تو راہ میں ایک گدھا گاڑی والے نے اُنہیں احتراماً سواری کی پیشکش کی، آپ شُکریے کے ساتھ سوار ہو لئے۔ گدھا گاڑی یہاں پہنچی تو بستی کے مرکزی تراہے کی چڑھائی چڑھتے ہوئےناتواں گدھے کو کافی زور لگانا پڑ رہا تھا۔ مولوی عارف اللہ عارف ‘ریڑھی’ پر چاروں شانے چِت لیٹے تھے، بازو پھیلے ہوئے اور ٹانگیں پسارے ہوئے۔ گاڑی بان گدھے کو بے دردی سے پِیٹ رہا تھا۔ دُکانوں، چھابڑیوں اور ریڑھیوں والے متوجہ ہوئے۔ ایک قہقہہ بُلند ہوا۔ ایک ناتواں گدھے کی بے بسی اور مولوی صاحب کے لیٹنے کا انداز ، نادر سا منظر تھا۔ کچھ دیر تک پھبتیاں اور جُملے داغے جاتے رہے جن میں بد تمیزی کا تو نہیں، ٹھٹھے مخول کا عنصر ضرور تھا لیکن پھر اچانک تراہے میں خاموشی چھا گئی۔ گدھا رُک گیاتھا، لوگ بھاگے چلے آئے۔ تختے پہ لیٹے مولوی عارف اللہ عارف صاحب کا جسم اس سخت گرمی میں ٹھنڈا پڑا چکا تھا۔ سب آنکھیں تر ہو گئیں، رنگین چارپائی منگوائی گئی۔ عالمِ دین اپنی آخری سواری سے اُتارے گئے اور اسی رات آہوں، سسکیوں اور آنسووں کے ساتھ، جن میں ہر مسلک والوں کے آنسو اور سسکیاں تھیں ۔۔۔۔۔۔ آنسووں اور سسکیوں کا کوئی مسلک، کوئی مذہب نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔ مدرسے کے پہلو والے قبرستان میں دفن کر دیئے گئے۔

 

اُن کی وفات کے کچھ عرصہ بعد عالمی منظر نامے سے لے کر دیہات کی سطح تک سیکڑوں تبدیلیاں آئیں لیکن کچھ تبدیلیاں ایسی تھیں جو اُن کی زندگی میں ممکن نہ تھیں۔ ایک عجیب سا خواب یاد آ رہا ہے۔ دیکھتا ہوں کہ بڑے بڑے کانوں والے بونے ایک قطار میں اُتر رہے ہیں، اُن کی لمبی لمبی زبانیں ہیں۔۔۔ کون جانے اسی کی تعبیر تھی کہ گاوں کے لوگوں میں فرقہ واریت کی پہلی بیل پُھوٹی، کچھ لڑائیاں ہوئیں، کُفر کے فتوے اور کافر کافر کے نعرے لگے تو ایک شیعہ نے سڑک پہ کھڑے تبرا کر دیا۔ کہیں سے اُس پہ قتل کا فتویٰ آیا، شام کو اُسے چُھرا گھونپ دیا گیا، اگلے روز ایک کالعدم تنظیم کے سربراہ اپنی ڈبل کیبن گاڑیوں کے مسلح کاروان کے ساتھ اس چھوٹے سے گاوں میں آئے، بھڑکاو ہوا، شیعوں نے تلواریں سونت لیں، سپیکروں پہ للکارے مارے، ڈاڑھیوں کو رگیدا مگر پُرانے بزرگوں نے بیچ میں پگڑیاں ڈال دیں اور خُدا جانے کیا کیا تماشے ہوئے!

 

اب مَیں سمجھا ہوں کہ شاید مولوی عارف اللہ عارفؔ جیسے لوگ ہی وہ سدِ سکندری تھےجو ہر طرح کے یاجوج ماجوج کے رستے میں حائل تھے اور اگر مَیں نے یہ بات فرطِ جذبات یا زیبِ داستان کے لئے کہہ دی ہے تو یہ بات تو بالیقین کہہ سکتا ہوں کہ قُدرت کو اُن جیسے باصفا لوگوں کی ذندگی میں یہ تماشے دکھانا منظور نہ تھا، بس اُن کے مرنے کا انتظار گیا۔۔۔