Categories
شاعری

جبر کی دنیا

جبر کی دنیا
زندگی کا ہیولہ سرچ ٹاور پر گھومتے سورج کی طرح
سیاہ پٹی سے ڈھکی آنکھوں کے سامنے
رات جیسے دن میں کئی بار گزرتا ہے
دن کو کرۂ ارض پر بچھی سرد ٹائلیں تلووں سے گننے میں صرف ہوتا ہے
کرۂ ارض جس کا شمالی قطب اس کے جنوبی قطب سے نو قدم دور ہے
رزق کا دروازہ مجھے کل تک زندہ رکھنے کے لیے دن میں تین بار کھولا جاتا ہے
میں من و سلویٰ کی چھلکتی پلیٹ ہتھکڑی لگے ہاتھ سے سنبھالنے میں مہارت حاصل کر چکا ہوں
مجھے یہ بھی معلوم ہو چکا ہے کہ شہادت کی انگلی گلے پر پھیری جائے تو پسینہ پیشانی سے پھوٹتا ہے
پیشاب کی بوتل جس نل کے نیچے خالی کی جاتی ہے اس سے پینے کا پانی بھرنا مشکل ہوتا
اگر گالیوں اور کراہوں کے بیچ کی خاموشی پر مجھے موت کا گمان نہ ہوتا
انگلیوں کی پوریں دیوار پر کھدے وہ سب نام یاد کر چکی ہیں
جنھوں نے جبر کی دنیا مجھ سے پہلے دریافت کی
Categories
شاعری

خاموش۔۔۔۔خبردار

[blockquote style=”3″]

نور الہدیٰ شاہ کی یہ نظم اس سے قبل معروف اردو ویب سائٹ “ہم سب” پر بھی شائع ہو چکی ہے۔

[/blockquote]

خاموش۔۔۔۔خبردار!
یہ کون ہے جو کہہ رہا ہے دربارِ شاہ میں کہ شاہ کانوں سے بہرہ ہے!
یہ کس نے کہا کہ شاہ کی نظر کمزور ہے اور اسے دھندلا دکھتا ہے!
یہ کون ہے جو مسندِ شاہ کو کھینچ رہا ہے اپنی زباں کی جکڑ سے؟
گستاخ بھرے دربار میں رقصِ جنوں کر رہا ہے اور کہہ رہا ہے
کہ مجھے اطلس و کمخواب کے اندر شاہ ننگا دکھ رہا ہے!
یہ کون ہے جو سر نگوں درباریوں کی جیبوں سے اشرفیاں نکال رہا ہے
اور خدا کو دکھا رہا ہے کہ دیکھ
تیرے اشرف المخلوقات لہو سے مایا بناتے ہیں
اور وضو شاہ کی تھوک سے کرتے ہیں
اور تجھے کہتے ہیں کہ تیرے سجدہ گزار ہیں!

نہیں نہیں!
یہ مشرک و کافر ہیں، انہیں معاف مت کر، یہ تیرے نہیں شاہ کے وفادار ہیں
ان کے سجدے و تسبیح، وضو و فتوے، سب کاروبارِ دربار ہیں

یہ کون گستاخ و کافر ہے جو یہ سب کہتا جاتا ہے اور ہاتھوں سے پھسلا جاتا ہے؟

عالی جاہ!
یہ غدّار ہے ۔۔۔۔۔ غدّار ہے ۔۔۔۔ غدّار ہے

سب درباری و مداری اٹھو اور اسے پھانسی چڑھا دو

ممکن نہیں ہے عالی جاہ!
یہ جسم نہیں روح ہے
اور ہزاروں، لاکھوں، کروڑوں جسموں میں چکر کاٹتی رہتی ہے
مگر پھانسی کے پھندے میں سماتی نہیں ہے
Categories
شاعری

غیر جانبدار سرزمین کے نقشے میں

غیر جانبدار سرزمین کے نقشے میں
جہاں چھتوں پر
کبوتروں کی گٹکتی ہوئی آوازوں میں
مدغم ہوتی
پروں کی پھڑپھڑاہٹ کے بجائے
سوختنی قربانیوں کا دھواں پھیلا ہے
میں دو گھروں کے درمیان
نومینز لینڈ” میں ہوں”
ہوا کے رحم و کرم پر
ایک ناکارہ وجود
جسے سانس لینے کے لیے
ہوا کا دم بھرنا پڑتا ہے

اسی “نومینز لینڈ” میں
ایک گھر تھا
جسے اُنہوں نے پہلے دو حصوں میں تقسیم کیا
پھر بلا اجازت
اُن حصوں کی دیواریں بدل دیں
اور
چھتریوں پر موجود
قاصد کبوتروں کی گردنوں سے
محبت کے تعویذ نکال کر
اُن میں ناموں کے کتبے لٹکا دیے

قاسموں کی کلائیوں سے
جڑے پنجے
دہکتی سلاخوں کی طرح
دونوں کے آنگنوں پر تن گئے
آنگنوں کے چھتنار پیڑ
کیاریوں میں کھلے پھول
اور اُن پر اُڑتی رنگ برنگی تتلیاں
اُن سلاخوں کی تپش سے راکھ ہوتے گئے

سبز رنگ کا منتظر
دنیا کا جادوئی نقشہ
پیلا پڑتے پڑتے سرمئی اور بھورا ہو گیا
مگر
سرخ کی قید سے آزاد نہ ہو سکا

میں چلاتا رہا
تم نے میرے گھر کا
یہ کیا کیا؟
یہ میرا گھر تھا
میرا آنگن ،کیاریاں اور کبوتر

میں پوچھتا رہا
تم نے میرے کبوتروں کی گردنوں میں
محبت کے سندیسوں کے بجائے
ناموں کے کتبے کیوں لٹکا دیے؟؟

لیکن
ہر بار میرے پھیپھڑے
دھوئیں سے بھر دیے گئے
اور چھتوں سے
سوختنی قربانیوں کی مہک اٹھتی رہی
Categories
شاعری

میں لاپتا ہوگیا ہوں

میں لاپتا ہوگیا ہوں
کئی ہفتے ہوئے
پولیس کو رپورٹ لکھوائے
تب سے روز تھانے جاتا ہوں
حوالدار سے پوچھتا ہوں
میرا کچھ پتا چلا؟
ہمدرد پولیس افسر مایوسی سے سر ہلاتا ہے
پھنسی پھنسی آواز میں کہتا ہے
ابھی تک تمھارا کچھ سراغ نہیں ملا
پھر وہ تسلی دیتا ہے
کسی نہ کسی دن
تم مل ہی جاؤ گے
بے ہوش
کسی سڑک کے کنارے
یا بری طرح زخمی
کسی اسپتال میں
یا لاش کی صورت
کسی ندی میں
میری آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں
میں بازار چلا جاتا ہوں
اپنا استقبال کرنے کے لیے
گل فروش سے پھول خریدتا ہوں
اپنے زخموں کے لیے
کیمسٹ سے
مرہم پٹی کا سامان
تھوڑی روئی
اور درد کشا گولیاں
اپنی آخری رسومات کے لیے
مسجد کی دکان سے ایک کفن
اور اپنی یاد منانے کے لیے
کئی موم بتیاں
کچھ لوگ کہتے ہیں
کسی کے مرنے پر
موم بتی نہیں جلانی چاہیے
لیکن وہ یہ نہیں بتاتے
کہ آنکھ کا تارہ لاپتا ہو جائے
تو روشنی کہاں سے لائیں؟
گھر کا چراغ بجھ جائے
تو پھر کیا جلائیں؟
Categories
شاعری

حمل بھری ماؤں کی خاطر رو دے

جاں نچوڑتے دردِ زہ سے گزر کر جس لمحے جنما تھا میں نے تجھے
اور لیبر روم کی سرکاری ڈاکٹرنی نے ہاتھوں میں لیا ہی تھا ابھی تجھے
اور میرے کان تیری آواز سننے کے ابھی منتظر ہی تھے
کہ سرکاری ڈاکٹرنی نے نرس سے کہا
بچے کو رونے مت دینا
سرکار نے رونے پر پابندی لگا دی ہے
اور حکم نامہ جاری کر دیا ہے کہ رونے والے بچوں کو دریا بُرد کر دیا جائے
آتشِ نمرود میں بٹھا دیا جائے
تب سے میرا ہاتھ تیرے منہ پے دھرا ہے
اور تب سے اس دیس کی کئی نسلیں دریا برد ہو چکی ہیں
آتشِ نمرود میں خاکستر ہو چکی ہیں
تب سے اس دیس میں نہ موسیٰ ہے، نہ عصا ہے
مگر آج تیرے منہ پر رکھا اپنا ہاتھ ہٹاتی ہوں میں
ماں بن کے تجھے اجازت دیتی ہوں میں
تو آج رو دے
حمل بھری ماؤں کی خاطر رو دے
حمل میں ٹھہری نسلوں کی خاطر رو دے
آنسو بہا
اس بانجھ ہو چکی دھرتی کو ہرا کر دے
سوکھ چکے دریا بھر دے
بھرے دریاؤں پر چپّوُ چلا
نیّا بن جا
دریا کاٹ اور دوسرے کنارے اتر
اور کہہ دے کہ فرعون مردہ باد
کہہ دے کہ موسیٰ زندہ باد

Image: Naji Al Ali

Categories
شاعری

فیصلہ کچھ نہ اُگلو

فیصلہ کچھ نہ اُگلو
۔۔۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا
اُسے تم نے دیکھا نہیں
فقط یوں ہوا ہے
ہر اک کان کے حلق میں
اُس کی آواز کے شبنمی گھونٹ
اُنڈیلے گئے ہیں
آنکھ کی پُتلیوں میں تو سناٹوں کی فصل ہی
اُگ رہی ہے
کان اور آنکھ کا یہ طلسمی تضاد
ٹوٹنے ہی کو ہے
تب تلک
ذہن کے دانت سے
فکر کے دانے
یونہی چباتے رہو
فیصلہ کچھ نہ اُگلو

Image: Safwan Dahoul

Categories
شاعری

ایک دلاسہ جو ہم پر تهوکا گیا

ایک دلاسہ جو ہم پر تهوکا گیا
دکھ سایوں کی طرح ہمارا پیچھا کرتے ہیں
ہمارا قتل ہماری پیدائش کے دن ہمارے چہرے پر لکھ دیا جاتا ہے
ہم اپنے بے نشان چہرے اوڑھے ان قاتلوں کا انتظار کر رہے ہیں
جنہیں جانتے بوجھتے نامعلوم لکھا جائے گا
بندوقیں ہم پر قہقہے لگاتی ہیں
لیکن تکلیف تسلی کے ان لفظوں سے ہوتی ہے
جو بارود تھوک دینے والی گولی کے خول کی طرح
ہر قتل کے بعد زمین پر لڑھکتے ہیں
اس انتظار میں کہ انہیں دوبارہ استعمال کے لیے اکھٹا کر لیا جائے۔۔۔۔
Categories
شاعری

کوئلا

کوئلا
صحرائے تھر کا کوئلا
ہیرا نہیں بن سکا تو
اس میں سے
ہماری زندگی تخلیق کر دی گئی
کوئلے سے بنا آدمی بھی
ہیرے کی ابتدائی شکل ہوتا ہے
وہ
ہر قیمت پر ہیر ے چاہتے ہیں
ہم
کوئلے کی دنیا میں رہتے ہوئے
کوئلے کی طرح دکھائی دیتے ہیں
زمین تنگ ہونے لگے تو
لوگ خواب میں چلے جاتے ہیں
ہمارے خواب اور خوشیاں بھی
کوئلے سے لکھی جاتی ہیں
مرنے کے بعد بھی ‏
ہمارے حصے میں زمین نہیں آتی
ہمارے آبا و اجداد کی ہڈیاں بھی
انھوں نے کھود کر گم کر دی ہیں
تا کہ ثابت کر سکیں
ہم گوشت پوست کے انسان نہیں
ہمیشہ سے ایسے ہی ہیں
ہم
اپنے آنسوؤں سے
پوری دنیا کو غرق کر سکتے تھے
مگر ہماری آنکھوں سے
کوئلے کے ٹکڑے نکلتے رہتے ہیں
ہم سلگتے ہوئے
جل اٹھتے ہیں تو
وہ
ہماری روشنی چرا کر لے جاتے ہیں
ہمارے پاس صرف دھواں
کوئلے سے رستے تیزابی پانی کا ایک ڈیم رہ جاتا ہے
اس ڈیم میں چھلانگ لگا کر
ہمیں
مرجانے کی سہولت مہیا کی گئی ہے

Image: GEO TV