جبر کی دنیا

سلمان حیدر: زندگی کا ہیولہ سرچ ٹاور پر گھومتے سورج کی طرح
سیاہ پٹی سے ڈھکی آنکھوں کے سامنے
رات جیسے دن میں کئی بار گزرتا ہے
سیاہ پٹی سے ڈھکی آنکھوں کے سامنے
رات جیسے دن میں کئی بار گزرتا ہے
خاموش۔۔۔۔خبردار

یہ جسم نہیں روح ہے
اور ہزاروں، لاکھوں، کروڑوں جسموں میں چکر کاٹتی رہتی ہے
مگر پھانسی کے پھندے میں سماتی نہیں ہے : نورالہدیٰ شاہ
اور ہزاروں، لاکھوں، کروڑوں جسموں میں چکر کاٹتی رہتی ہے
مگر پھانسی کے پھندے میں سماتی نہیں ہے : نورالہدیٰ شاہ
غیر جانبدار سرزمین کے نقشے میں

جمیل الرحمان: ہر بار میرے پھیپھڑے
دھوئیں سے بھر دیے گئے
اور چھتوں سے
سوختنی قربانیوں کی مہک اٹھتی رہی
دھوئیں سے بھر دیے گئے
اور چھتوں سے
سوختنی قربانیوں کی مہک اٹھتی رہی
میں لاپتا ہوگیا ہوں

مبشر علی زیدی: کچھ لوگ کہتے ہیں
کسی کے مرنے پر
موم بتی نہیں جلانی چاہیے
لیکن وہ یہ نہیں بتاتے
کہ آنکھ کا تارہ لاپتا ہو جائے
تو روشنی کہاں سے لائیں؟
کسی کے مرنے پر
موم بتی نہیں جلانی چاہیے
لیکن وہ یہ نہیں بتاتے
کہ آنکھ کا تارہ لاپتا ہو جائے
تو روشنی کہاں سے لائیں؟
حمل بھری ماؤں کی خاطر رو دے

نور الہدیٰ شاہ: سرکار نے رونے پر پابندی لگا دی ہے
اور حکم نامہ جاری کر دیا ہے کہ رونے والے بچوں کو دریا بُرد کر دیا جائے
اور حکم نامہ جاری کر دیا ہے کہ رونے والے بچوں کو دریا بُرد کر دیا جائے
فیصلہ کچھ نہ اُگلو

سلیمان خمار: اُسے تم نے دیکھا نہیں
فقط یوں ہوا ہے
ہر اک کان کے حلق میں
اُس کی آواز کے شبنمی گھونٹ
اُنڈیلے گئے ہیں
فقط یوں ہوا ہے
ہر اک کان کے حلق میں
اُس کی آواز کے شبنمی گھونٹ
اُنڈیلے گئے ہیں
ایک دلاسہ جو ہم پر تهوکا گیا

سلمان حیدر: لیکن تکلیف تسلی کے ان لفظوں سے ہوتی ہے
جو بارود تھوک دینے والی گولی کے خول کی طرح
ہر قتل کے بعد زمین پر لڑھکتے ہیں
جو بارود تھوک دینے والی گولی کے خول کی طرح
ہر قتل کے بعد زمین پر لڑھکتے ہیں
کوئلا

مصطفیٰ ارباب: وہ
ہماری روشنی چرا کر لے جاتے ہیں
ہمارے پاس صرف دھواں
کوئلے سے رستے تیزابی پانی کا ایک ڈیم رہ جاتا ہے
اس ڈیم میں چھلانگ لگا کر
ہمیں
مرجانے کی سہولت مہیا کی گئی ہے
ہماری روشنی چرا کر لے جاتے ہیں
ہمارے پاس صرف دھواں
کوئلے سے رستے تیزابی پانی کا ایک ڈیم رہ جاتا ہے
اس ڈیم میں چھلانگ لگا کر
ہمیں
مرجانے کی سہولت مہیا کی گئی ہے