Categories
تبصرہ

کہانی چل رہی ہے: صنف، تصنیف اور مصنف

نام کتاب: کہانی چل رہی ہے
مصنف: شہزاد نیر
قیمت: 1000 روپے
ناشر: نگارشات پبلشرز، میاں چیمبر، 3-ٹیمپل روڈ، لاہور

اگر میں زیر نظر افسانوی مجموعے کا تعارف شعری قالب میں بیان کروں تو وہ کچھ یوں ہوگا:

کہانی چل رہی ہے، زندگانی چل رہی ہے
رکے لفظوں میں قرنوں کی روانی چل رہی ہے

اس شعر کے پہلے چار الفاظ تو متذکرہ کتاب کا عنوان بناتے ہیں جبکہ شعر کے بقیہ حصے میں کتاب کی روح کا خاکہ کھینچنے کی کاوش کی گئی ہے۔ ویسے کتاب کے عنوان کا لوک پنجابی متبادل ذہن میں کچھ اور ہی تصویر اجاگر کرتا ہے اور اسی باعث عنوان کی معنوی گہرائی اور وقعت کچھ مزید بڑھ جاتی ہے۔

شہزاد نیر جی ان احباب میں شامل ہیں جن کے ساتھ قلمی و قلبی تعارف کو زمانی اکائیوں کے تناظر میں دیکھنا ممکن بھی نہیں اور مناسب بھی نہیں۔ ان کا بنیادی تعارف تو جدید شاعری میں ایک قد آور نام کے طور پر ہے ہی لیکن اگر آپ ان سے قدرے تفصیلی ملاقات کریں تو آپ پر ہمہ جہتی کے حقیقی اور پورے معانی کھل کر سامنے آئیں گے۔ ان سے اولین ملاقات میں ہی ایک فخر آمیز اندازہ ہوا کہ بہت ہی صاحبِ علم و ہنر ہستی سے دوستی ہونے لگی ہے۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ شہزاد نیر کی ہشت پہلو شخصیت کے پراسرار در مزید کھلتے چلے گئے۔ کچھ سالوں سے یہ جدید فکشن نگاری پر سنجیدگی سے کام کرنے کے تخلیقی جرم میں ملوث پائے گئے تو کوئی خاص تعجب تو نہ ہوا لیکن ایک تجسس سا ضرور پروان چڑھنے لگا۔

مختصر تر افسانہ نگاری جس کے لیے تین چار اصطلاحات رائج ہیں جیسے پوسٹ کارڈ فکشن، فلیش فکشن اور مائکرو فکشن۔

مائکرو فکشن اپنی مختصر تاریخ میں غالباً مقبول ترین اصطلاح اور صنفِ مختصر نگاری کی معروف ترین شکل ہے۔ اس صنفِ افسانہ نگاری میں چند سو الفاظ میں باقاعدہ افسانہ لکھا جاتا ہے۔ فکشن نگاری کی اس شکل میں الفاظ کی تعداد کی پابندی ہی مصنف کا امتحان اور قاری کی دلچسپی کا سامان بہم کرتی ہے ۔اگر قلم و قرطاس شہزاد نیر جیسے مشاق لکھاری کے ہاتھ لگ جائے تو بلا مبالغہ شہ پارے اور یادگار تحریریں اردو ادب کے دامن میں جمع ہو سکتی ہیں۔ میری رائے میں مائکرو فکشن کی ضخامت کو مزید کم کرنے سے شاید اتنی دلچسپی کا سامان نہ پیدا ہوگا ۔ ہاں استثنائی صورتیں تو ہمیشہ رہتی ہیں، جیسے کچھ عرصہ قبل مبشر زیدی صاحب نے “سو لفظوں کی کہانی“ باقاعدہ متعارف کرا دی ہے لیکن میں پھر یہی کہوں گا کہ اتنے چھوٹے کینوس پر افسانہ نگاری کے ناگزیر اجزا یعنی تحیر، تجسس، کنفلکٹ یا نفسیاتی کشمکش اور ڈرامائیت کو سمونا کارِ محال ہے۔ میں نے جب اس صنف کا مطالعہ شروع کیا تو انگریزی میں دو مختصر ترین اور شاید عالمی سطح پر معروف دہشت ناک یا خوف ناک یا ہارر کہانیوں نے مسحور کر لیا تھا:

پہلی کہانی:

The last man on the earth was sitting in
‏a room and the door was locked

اردو ترجمہ یوں ہوگا:

زمین پر موجود آخری انسان ایک کمرے میں بیٹھا تھا اور کمرے کا دروازہ مقفّل تھا۔

دوسری کہانی جو پہلی سے زیادہ خوفناک منظر پیش کرتی ہے:

The last man on the earth was sitting in a room and the door was knocked

یعنی :زمین پر موجود آخری انسان ایک کمرے میں بیٹھا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی.

کرونا کے آسیبی دور سے کچھ سال پہلے فیس بک پر “انہماک” نامی فورم پر سید تحسین گیلانی نے مائکرو فکشن کو مائکروف کا نام دیتے ہوئے کئی قلم کاروں سے بہت معیاری مائکرو فکشن لکھوائے اور انھی دنوں شہزاد صاحب کی لکھی کچھ کہانیوں نے خاصا چونکا دیا لیکن ساتھ ہی یہ آفاقی اصول یاد آ گیا کہ اچھا نثر نگار لازم نہیں کہ اچھا شاعر بھی ہو لیکن کسی بھی اعلیٰ درجے کے شاعر میں ایک معیاری نثر نگار فعال یا حالتِ تنویم میں رہتا ہے جو کسی بھی لمحۂ یوریکا میں بیدار ہو کر معاصر نثر نگاروں کو چیلنج کرنے اور اپنا آپ منوانے کی مکمل صلاحیت و اہلیت رکھتا ہے۔

سو شہزاد نیر کے ہاں بھی کچھ یہی معاملہ دکھائی دیا۔ عسکری پس منظر رکھنے کے سبب انھوں نے اسپِ قلم کو فکشن نگاری کی طرف موڑا تو کوئی ڈیڑھ سو کے قریب مائکرو فکشن کے فرسنگ طے کر ڈالے۔ گویا یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ مائکرو فکشن ان کے میکرو مائنڈ/ macro mind کے سامنے واقعی مائکرو ثابت ہوا۔ اسی پس منظر نے انھیں پاکستان کے کئی دور دراز علاقوں اور مقامی ثقافتوں سے آشنائی کا وسیلہ دیا جسے انھوں نے زبردست قوتِ مشاہدہ و متخیلہ کا عمل انگیز استعمال کرتے ہوئے متنوع موضوعات پر کہانیوں کے قالب میں ڈھالنے کا عمل سکھایا۔ اس پر مستزاد یہ کہ بلا لحاظِ عمر انھوں نے آموزش کا عمل ترک نہیں کیا اور یوں ان سارے عناصر کی قبولیت کی کسی خاص گھڑی میں آمیزش نے ایک طرف شہزاد نیر کو تحریک دی کہ مسحور کن غزلیں اور نظمیں لکھیں تو دوسری طرف انھیں پیہم اکسایا کہ فکشن نگاری کی نسبتاً پتھریلی زمین کو اپنے سدا بہار افسانوں سے سرسبز و زرخیز کر ڈالیں۔

شہزاد نیر کے نثری اسلوب کا بہت نمایاں پہلو یہ ہے کہ الفاظ و تراکیب ان کے تخیل کے اسلحے کے سامنے سہمے کھڑے رہتے ہیں اور ان کی نشست و برخاست اسی اسلحے کے زور پر طے پاتی ہے۔

ہم سب جانتے ہیں کہ انسان کی مصروفیات اور کہانی کے حجم میں تناسبِ معکوس صدیوں پر محیط ایک پیہم ارتقائی عمل ہے۔ داستان سے ناول، ناول سے افسانہ، افسانے سے افسانچے اور پھر مختصر افسانے کے پڑاؤ سے گزرتی ہوئی یہ صنفِ نثر آج نہایت مختصر ہوکر مائکرو فکشن کی صورت میں ادب کے قاری کے سامنے خواجہ شیکسپئیر کی ساڑھے چار صدی پہلے کی گئی پیشگوئی کو پورا کر رہی ہے:

Brevity is the soul of wit

یعنی اختصار ہی اختراع و اظہار کی روح ہے۔

اختصاری اظہار میرے نزدیک نثر میں سہلِ ممتنع کا درجہ رکھتا ہے اور کسی بھی اعلیٰ پائے کے شاعر کے لیے یہ صنف یوں آسان ہو جاتی ہے کہ اسے طویل سے طویل مضمون کو دو مصرعوں میں بیان کرنے کی عادت اور سہولت حاصل ہوتی ہے۔
شہزاد نیر کے پہلے مجموعے میں متن اور ورائے متن مشاہدے کی گہرائی، احساس کی شدت و نزاکت، جبر و استحصال کے خلاف زبردست مزاحمت، مذہبی اور سماجی سطح پر دیکھی جانے والی منافقت اور عدم برداشت کا استہزا اور کچھ ایسے موضوعات کی طرف قاری کو متوجہ کرنے کی کامیاب کوشش دکھائی دیتی ہے جو چند عشرے قبل ممنوعہ موضوعات یا taboo کی ذیل میں آتے تھے اور جن پر سعادت حسن منٹو نے اس دور میں بھی خاصے بے باک انداز میں لکھا تھا اور مقبول ہونے کے ساتھ متنازعہ بھی ہوتے چلے گئے۔ شاید اسی مناسبت سے “لالٹین” نامی مجلّے میں شہزاد نیر کی چھ کہانیاں “سیاہ تر حاشیے“ کے عنوان سے کچھ عرصہ قبل شائع ہوئیں۔ ممکن ہے بیشتر احباب اس سے اتفاق نہ کریں لیکن میں اپنے تنقیدی بیانیے لکھتے ہوئے متن اور ماتن دونوں کو اپنے ذہن میں رکھتا ہوں اور ماتن کے دریچے سے مجھے متن کے خدوخال زیادہ کھل کر دکھائی دیتے ہیں اور اس دریچے سے کسی طور بھی تعصب یا جانبداری کی ناخوشگوار ہوا کا گزر نہیں ہوتا.

“کہانی چل رہی ہے” کی کم و بیش ہر کہانی میں شہزاد نیر کے قلم کا نشتر ہمارے عمومی سماجی رویوں کے زخموں کو کریدتا ہے تو اس پر انکشاف ہوتا ہے کہ یہ ناسور بن چکے ہیں۔ ایسے میں یہ نشتر قاری کو ایسا عدسہ دیتا ہے جسے استعمال کرتے ہوئے قاری کم از کم ان ناسوروں کو اس زاویے سے دیکھتا ہے کہ اس کے ذہن میں نہ صرف ان کے ممکنہ علاج کا تصور ابھرتا ہے بلکہ وہ مستقبل میں ایسے مزید ناسوروں کی افزائش کے خلاف حفاظتی تدابیر پر غور بھی کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اس سے بڑھ کر یہ ہر شعبۂ زندگی کا قاری کسی نہ کسی کہانی کے کسی خاص حصے کو پڑھتے ہوئے غیر ارادی طور پر خود احتسابی اور شاید کچھ خود ملامتی کی کیفیت سے گزرنے لگتا ہے۔ میرے خیال میں یہیں مصنف کو اس کی محنت کا اصلی پھل ملنے کی منزل آتی ہے اور اس پر خود اپنی تحریروں کے کچھ پوشیدہ مقاصد آشکار ہونے لگتے ہیں اور اس کے تخلیقی سفر کی رفتار میں عجب سا اسراع آجاتا ہے۔

شہزاد نیر کی کم و بیش تمام کہانیوں کے اختتامی جملے ہی کہانی کو نقطۂ عروج تک لے جاتے ہیں اور یہی ڈرامائی عنصر مائکرو فکشن کی جان ہوتا ہے ۔ ان میں سے کچھ جملے تو اتنے کاٹ دار ہیں کہ انھیں بار بار پڑھنے اور سنانے کا دل کرتا ہے ۔ مثلاً چند اقتباسات ملاحظہ کیجیے:

۱: پھر بہن کی تو شادی ہوگئی لیکن لیکن مجھے دنیا کی ہر لڑکی بہن لگنے لگی ۔ کسی میں وہ والی کشش ہی محسوس نہیں ہوتی۔۔۔

کہانی: “نیلی عینک” جس میں ایک چھوٹے گھر کے گھٹن آلود ماحول میں ایک عنفوانِ شباب کے نازک دور سے گزرنے والے لڑکے کی ذہنی کشمکش دکھائی گئی ہے۔ یہ لڑکا اپنی بہن اور بھائیوں کے ساتھ ایک چھوٹے سے کمرے میں سونے کی کوشش کے دوران ضبطِ نفس کے عمل کے دوران اپنے اندر پلنے والے مرد کی مردانگی کو قتل کر بیٹھتا ہے۔ زن گریزی یا misogyny کے ساتھ ساتھ نامردی / impotence کا تشکیلی عمل سمجھنے کیلئے مجھے یہ بہت اہم کہانی لگی۔

۲: ”انچ سال بعد ہماری شراکت ختم ہو گئی۔ بس اتنا ہوا کہ میرا سرمایہ اس کے پاس چلا گیا اور اس کا تجربہ میرے پاس آ گیا۔”

کہانی: شراکت کا دھوکہ۔ یہ کہانی ہمارے گردوپیش میں جگہ جگہ بکھری ہوئی ملے گی ۔ شراکت داری کے کاروبار کے شاخسانے۔

۳: “تیسرا اشتہار: شیمپو۔ ناچتی ہوئی لڑکیاں ۔مختلف ہئیر سٹائل، ڈرم کی تھاپ پر اچھلتے ہوئے بال، تیز موسیقی۔

میزبان: بریک کے بعد خوش آمدید ناظرین ۔جی مولانا صاحب اگلا سوال لیتے ہیں ۔”

کہانی: میڈیا منڈی چینل

یہ اقتباس ایک بہت دلچسپ کہانی سے لیا گیا ہے جس میں ایک ماڈرن میزبان خاتون کے پروگرام میں ایک عالمِ دین کو بلایا جاتا ہے جن سے لوگ دین کی حجاب وغیرہ کی تعلیمات پر سوال کرتے ہیں اور عالم صاحب جواب بھی دیتے ہیں اور پروگرام میں وقفوں کے دوران اتفاق سے ایسے اشتہارات دکھائے جاتے ہیں جو عالمِ دین کے جوابات کی شدید نفی کرتے ہیں۔
۴: “جب میں نے گزارش کی کہ دعا اس طرح کرو کہ جس کی محنت اور قابلیت زیادہ ہے وہی اول آئے۔ سب حیرت سے میرا منہ تکنے لگے ۔ایک ساتھی نے کہا: ”بھئی جب مقابلہ ہوتا ہے تو دعا صرف اپنے لیے کی جاتی ہے، دوسرے کے لیے نہیں۔”

یہ اقتباس اس کہانی سے لیا گیا ہے جس کا عنوان ہے: “غیرمنصفانہ ذرائع” اور یہ میرے پسندیدہ ترین مائیکروفس میں سے ہے کیونکہ اس میں ایک ایسا سوال اٹھایا گیا ہے جو اللہ کی رحمت کا موازنہ اللہ کے انصاف کی صفت سے کرتا ہے۔ امریکہ میں کچھ افسروں کا مقابلے کا امتحان ہے اور اس میں کچھ مسلم اور غیر مسلم امیدوار ہیں۔ مسلم امیدوار محنت کے ساتھ مسلسل دعائیں بھی کرتے ہیں اور غیر مسلم یا ملحد افسران ہمہ وقت صرف محنت میں مصروف دکھائے گئے ہیں۔

کہانی کے اختتام تک تحیر و تجسس کی فضا قائم رکھنا ہی فکشن نگار کی کامیابی کی سب سے بڑی دلیل ہوتی ہے اور یہ فضا آپ کو اس کتاب کی ہر کہانی میں ملے گی۔ مجھے تو ایسا اختتام دیکھ کر منیر نیازی کی لکھی سہ مصرعی پنجابی نظم یاد آنے لگتی ہے جس کا آخری مصرع ہی قاری کو پہلے دو مصرعوں اور پوری نظم کا مضمون و مفہوم سمجھاتا ہے۔ مثلاً:

اپنے ای ڈر توں
جُڑے ہوئے نیں
اک دوجے دے نال
نظم کا عنوان: شہر دے مکان

احبابِ گرامی ! ادب معاشرے کے ہر شعبے کا عکاس ہوتا ہے بلکہ بقول میتھیو آرنلڈ ادب زندگی پر تنقید کا نام ہے۔ سو ادب کا براہِ راست یا بالواسطہ تعلق سیاست، مذہب، معیشت اور سماجی اقدار سے ہوتا ہے۔ ایک کامیاب فکشن نگار انھی موضوعات کو قدرے مختلف نگاہ سے بغور دیکھتا ہے اور پھر آنکھیں مل کے یہ سوچتے ہوئے دیکھتا ہے:

“تو قریب آ تجھے دیکھ لوں تو وہی ہے یا کوئی اور ہے“۔

پھر وہ اپنے مشاہدات کو اس طرح تشکیل دیتا ہے کہ انھیں قاری تک محض اخباری رپورٹ کی طرح نہ پیش کرے بلکہ وہ اپنی مشاہداتی کیفیات اور اختراعی صلاحیتوں کے امتزاج سے کچھ مسالے دار چیز پیش کرے جس میں “ صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں “ کا سماں باندھا گیا ہو۔

سو “ کہانی چل رہی ہے” کے مشمولات ایسے ہی اجزائے ترکیبی و تخلیقی کے پراسرار کیمیائی عمل کے نتیجے میں کہیں ایک اور کہیں ڈیڑھ یا دو صفحوں پر مشتمل چھوٹے چھوٹے افسانچوں کی صورت سامنے آتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ نہایت متنوع موضوعات کی اتنی رنگ برنگی اور اتنی طویل مالا تشکیل دیتے ہوئے کہیں نہ تو یکسانیت کا احساس ہوتا ہے اور نہ کسی کہانی میں تکرار کے عنصر کا ہلکا سا بھی شائبہ ہی ہوتا ہے۔ بس تمام کہانیوں میں بین السّطور فلسفۂ جبر وّ قدر کی کبھی نہ الجھنے والی گتھی اور تشکیک پسندی کی جھلکیاں بہت حساس اور باریک بین قاری دیکھنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ انسان اور اس کے معبود کے رشتے کی پیچیدگیاں اس دور میں چونکہ پیچیدہ تر ہوتی جا رہی ہیں، اس لیے متذکرہ بالا قلمی رویوں کی توجیہ و توضیح بہت حد تک ممکن ہے۔ “الدّعویٰ مع الدّلیل “ کے مصداق ایک دو مزید اقتباسات پیش کرنا کافی ہوگا:

۱: “اس طرح وہ قادرِ مطلق انسانوں کو کم اور زیادہ کرتا رہا اور صدیاں گزرتی رہیں ۔” (کہانی: عہدنامۂ موجود)
۲: “یار تمھارے بغیر مزا نہیں آئے گا۔ تم یہی سمجھو نا کہ عمرے کر کے اس نے پچھلا کھاتہ صاف کرا لیا ہے۔۔۔ اب نئے سرے سے آغاذ کر رہا ہے۔” ( کہانی: دین اور دنیا)

ایسے مختصر افسانوں میں سب سے زیادہ دلکش اور دلچسپ خاصیت یہ ہوتی ہے کہ محض منٹوں میں آپ تین چار افسانے پڑھ چکے ہوتے ہیں۔

پوری کتاب پڑھتے ہوئے جابجا محسوس ہوتا ہے کہ مصنف نے مکمل دیانتداری کی مائکروسکوپ سے معاشرے کے قابلِ اصلاح و توجہ پہلوؤں کا تادیر مشاہدہ کیا اور پھر اتنی ہی احتیاط سے ان پہلوؤں کا تجزیہ تخلیقی تجربہ گاہ میں کرنے کے بعد اپنے قارئین کو نبّاض و معالج گردانتے ہوئے ۱۴۴ مائیکروفی اور ۵ افسانوی رپورٹیں کتابی شکل میں پیش کر دی ہیں۔ امیدِ واثق ہے کہ جناب شہزاد نیر کا یہ پہلا مائیکروفی پتھر مختصر اردو افسانہ نگاری کے بظاہر سست رو پانی میں ایسا ارتعاش و تموج پیدا کرے گا جسے جلد ہی عصری ناقدین رحجان سازی گرداننے پر مجبور ہوں گے۔

کتاب کے دوسرے حصے میں پانچ عدد افسانوں کا تڑکا جدید ترین مختصر تر افسانہ نگاری کے رحجان کو روایتی افسانے کی جڑوں سے پیوند کاری کا عمل لگتا ہے اور یہاں بھی شہزاد نیر کا قلمی بارود خانہ پوری طرح بھرا دکھائی دیتا ہے۔ ذاتی طور مجھے “روحوں کا ملن“ نامی افسانے نے نہ صرف متاثر کیا بلکہ مصنف کی غیر معمولی فلسفیانہ فکر نے شدید حیران بھی کیا ۔ کس سہولت سے زمان و مکان کی صدیوں پرانی پہیلی کو روح و بدن کے تعلق کی آڑ میں حل کر کے مصنف نے ایک تشنگی آمیز آسودگی یا آسودگی آمیز تشنگی کا ایسا پراسرار ماحول تشکیل دیا ہے کہ قاری ازخود بار بار اس موضوع پر غور کرتا اور سر دھنتا ہے۔

مجھے یقین ہے کہ شہزاد نیر نے اپنے اندر چھپے ہوئے تخلیقی جن کو مکمل طور پر قابو کرنے کیلئے جو چلہ کشی شروع کی ہے وہ کامیابی سے ہم کنار ہوگی اور ہمیں بہت سے حیران کن جھٹکوں کے لیے اپنے آپ کو تیار رکھنا پڑے گا۔

Categories
فکشن

آواز (عظمیٰ طور)

آواز

آوازوں کی تاریخ کہاں سے شروع ہوئی اس کن سے اس کے کن سے اور سلسلہ پھیلتا گیا ۔
اس نے لمبا سانس کھینچ کر کرسی سے ٹیک لگا لی.
قلم کو بے جان انگلیوں میں تھامے وہ کرسی پہ ڈھیلے ڈھالے انداز میں بیٹھی تھی۔
میز پر رکھے دو تین طرح کے ہیڈ فونز اسے منہ چڑھا رہے تھے.
سرخ رنگ کے وائرلیس ہیڈ فونز اس نے مری کی ایک موبائل شاپ سے ایک ہزار میں خریدے تھے ۔
سفید گچھ مچھ ہینڈ فریز اس کے موبائل کے ڈبے میں اس کے موبائل کے ساتھ ملی تھیں.
تیز سبز رنگ کے ہینڈ فری جس کی کانوں کی ٹوٹیاں اس کے کانوں سے بڑی تھیں ۔
یہ سلسلہ فقط دو چار سننے کے آلات پہ مشتمل نہیں تھا ۔ گیارہ برسوں میں اس نے کئی آلے خریدے اور ان کی معیاد ختم ہونے سے پہلے کئی آلے نئے خرید لاتی ۔
ہیڈ فونز کی ٹوٹیوں سے بہتی ایک آواز ہر آلے سے ایک ہی طرح اور ایک ہی زاویے سے برآمد ہوتی تھی
اس نے موبائل کے ساتھ لگے ہینڈ فریز کانوں میں اڑیس کر موبائل کے سیو ڈیٹا سے ریکارڈنگ نکالی اور کاغذ پہ جھک گئی
اس آواز کی تاریخ شاید باقی آوازوں سے بڑی حقیقت تھی
اس کے قلم سے نکلتے لفظ اس کے ہاتھوں پہ چڑھ آئے
کانوں میں بہتی آواز در و دیوار سے لپٹ گئی
زندہ ہونے کے بجائے دیواریں رسنے لگیں
گہری شدید گہری دراڑیں ابھر آئیں
دو مسکراتے لب سامنے کی دیوار پہ ابھرے
اس نے آنکھیں میچ لیں
اسے اس آواز سے رغبت تھی
وہ اس آواز سے ڈرتی تھی بے انتہا چاہ کے باوجود ایک رعب اس کے دل میں بیٹھا تھا
اس نے آنکھیں کھولیں تو آواز نے اس بالوں کو زور سے جکڑ لیا
سارا وجود تھر تھر کانپنے لگا
وہ مسکرانے لگی
پوروں سے شہد رسنے لگا
آنکھوں میں بجلی کوند گئی
اس کی سماعت کم ہونے لگی
سبھی حسیں فقط آواز میں بدلنے لگیں
اس نے کن کے بعد اس آواز کے ساتھ سفر کیا تھا
اس کے بھنور میں گھومتے گھومتے اسے گیارہ برس ہو گئے
اس کی آنکھیں کان تھے
اس کے ہونٹ کان تھے
اس کے ماتھے اس کی پوریں سبھی کانوں سے بھر گئیں
اسے سماعتوں سے گلہ تھا
محدود سماعتوں سے
اندھیرے کمرے میں آواز پورے وجود کے ساتھ ٹہل رہی تھی
اس نے چھپ کر اس آواز کے وجود کو چھوا
اس کی پوروں پہ ننھے ننھے لفظ ابھر آئے
کاغذ بھرنے لگے
تم __ آپ _ سنو _ کہو __
ننھے ننھے لفظوں میں جان پڑ گئی
وہ ان لفظوں، نقطوں کی بے وقعتی سے عاجز حیران تھی۔ یہ ننھے ننھے لفظ اسے سہلاتے اسے نیند آ جاتی
اس نے اندھیرے میں ٹہلتی آواز کو سنا وہ اسے کسی الجھے ہوئے ریشم میں سلجھی ہوئی سوچ کا عندیہ دے رہی تھی
اس نے سرابوں کو پیروں میں باندھا اور گھومنے لگی
سماعتیں گلے شکووں سے نکل کر مسکرا رہی تھیں
ہر پرانی بات نئی بات کے پیرہن زیب تن کئے ہوئے تھی
گھڑی پہ رات کے چار بج رہے تھے
اس نے ہیڈ فونز سے بہتی آواز کی تاریخ کو صفحوں پر اتارا
کئی پلندے کئی حاشیے سیاہ ہونے لگے
اس کا دل بجھ رہا تھا
پوروں پر کانٹے تھے
سرخ ہیڈ فون کے کانوں پہ دو مسکراتے ہونٹ اسے تک رہے تھے
وہ آواز کن کا جادو تھی
وہ آواز رہتی دنیا تک خلا میں رہنے والی تھی _

Categories
فکشن

ہندسوں میں بٹی زندگی اور دیگر کہانیاں (محمد جمیل اختر)

ہندسوں میں بٹی زندگی

’’ وارڈ نمبر چار کے بیڈ نمبر سات کی مریضہ کے ساتھ کون ہے ؟‘‘
’’ جی میں ہوں”
’’مبارک ہو ، آپ کا بیٹا ہوا ہے‘‘

اُس لڑکے کو کمیٹی کے اُس سال کے رجسٹر میں تین ہزار بارہ نمبر پردرج کردیا گیاتھا۔

سکول میں وہ لڑکا ۸۰ اور ۹۰ نمبر لینے کی دوڑ میں لگا رہا، نوکری حاصل کی تو بے تحاشا کامیاب رہا اور قریبی لوگ اُسے اُس کی تنخواہ کی رقم ، موبائل نمبر، گاڑیوں اور بنگلوں کی تعداد سے جانتے تھے، وہ رقم کی گنتی کو بڑھانے کے لیے دن رات دوڑتا رہا حتٰی کے بوڑھا ہوکرہسپتال میں داخل ہوگیا۔۔۔

’’ وارڈ نمبر ۵ کے بیڈ نمبر چھ کے مریض کے ساتھ کون ہے؟‘‘
’’ جی فرمائیے‘‘
’’ سوری ہم نے بہت کوشش کی لیکن۔۔۔۔۔‘‘

گورکن نے پلاٹ نمبر چھ میں قبر نمبر پانچ سو بارہ تیار کرلی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اصل چہرہ

گزشتہ دس سال سے اُس نے اتنے چہرے تبدیل کئے تھے کہ وہ خود بھی تقریباً بھول گئی تھی کہ اُس کا اصل چہرہ کون سا ہے۔ ہر کچھ عرصہ بعد وہ اپنے چہرے سے اُکتا جاتی یا پھر اُس کے اِردگرد موجود لوگ ایسی صورت حال پیدا کردیتے کہ اُسے نئے ماحول میں ڈھلنے کے لیے اپنا چہرہ بدلنا پڑتا۔
گھر کے ایک کونے میں جہاں وہ اپنے بچوں کو نہیں جانے دیتی تھی، مختلف طرح کے چہروں کا ڈھیر پڑا رہتا تھا، وہ گھر سے نکلنے سے پہلے جگہ اور لوگوں کی مناسبت سے چہرہ پہن لیتی۔
لیکن اب پچھلے دو ماہ سے وہ جس نئی کمپنی میں کام کررہی تھی وہاں اُسے مسلسل ایک ہی مسکراہٹ بھرا چہرہ سجائے کاونٹر پر بیٹھنا پڑتا تھا۔۔۔
اُس کی تنخواہ کم تھی اور مسائل زیادہ تھے وہ وہاں بیٹھے اپنے مسائل کے بارے سوچتی رہتی لیکن اُسے ہر آنے والے کسٹمر کو مسکرا کر خوش آمدید کہنا پڑتا تھا۔
ایک روز جب وہ بے حد پریشان تھی ، اُس نے چہروں کے ڈھیر سے اپنا اصل چہرہ نکالا اور پہن کر دفتر آگئی۔۔۔

اُس دفتر میں یہ اُس کا آخری دن تھا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دو منظر

پہلا منظر:

یہ ایک کوڑا کرکٹ کا ڈھیر ہے اور چند بچے اِس میں سے اپنا رزق تلاش کر رہے ہیں۔ بچوں کے بال گردآلود ہیں اور مَیل کی وجہ سے موٹی رسیوں کی مانند ہوگئے ہیں۔
تلاش کے دوران ایک بچے کو جوس کا پیکٹ مل جاتا ہے ، جس کے استعمال کی مدت ختم ہوچکی ہے لیکن وہ بچہ یہ بات نہ جانتا ہے اور نہ پڑھ سکتا ہے سو فوراً جوس پینے لگ جاتا ہے۔۔۔باقی بچے اُس کی اچھی قسمت پر رَشک کرتے ہیں اور سوچتے ہیں ، کاش اُن کی نظر پہلے اِس ڈبے پر پڑجاتی۔۔۔۔

دوسرا منظر :

یہ شہر کی سب سے اونچی بلڈنگ ہے جس کا افتتاح آج وزیر اعظم صاحب نے کیا ہے ، اُنہیں بلڈنگ کے مختلف حصے دکھائے گئے ۔ جدید طرز کے ہوٹلز ، ہسپتال ، سینما۔۔۔غرض کیا تھا جو اُس بلڈنگ کے اندر نہیں تھا۔۔۔
اب وزیر اعظم صاحب بلڈنگ کی چھت پر موجود ہیں اور شہر کا جائزہ لے رہےہیں۔۔۔ دور دور تک بڑی عمارتوں نے شہر کو گھیر لیا ہے اور کچی آبادیوں کے ڈھیر آنکھ سے اوجھل ہوگئے ہیں۔۔۔۔
” سب کس قدر خوش گوار ہے ” وزیر اعظم صاحب نے کہا
اور ارد گرد سارے لوگ تالیاں بجانے لگ گئے۔۔۔۔

مجھے دوسرے منظر سے فوراً پہلے منظر کی طرف لوٹنا ہوگا دراصل وہ بچہ کہ جس نے جوس پیا تھا وہ پیٹ پکڑے درد سے کراہ رہا ہے لیکن اُس بستی میں کوئی ڈاکٹر نہیں ہے۔۔۔

دوسرے منظر میں پرتکلف کھانے کا آغاز ہوچکا ہے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گونگا وائلن نواز

اُس شخص سے اُس کی زبان چھین لی گئی تھی سووہ بول نہیں سکتا تھا، اُس نے ایک وائلن خریدا اور شہر کی گلی گلی میں بجاتا پھرتا،ایسا اُس نے روزی روٹی کمانے اور اپنا دل بہلانے کی خاطر کیاتھا تاکہ وہ اپنا ماضی بھول جائے لیکن اُس کے وائلن سے ہمیشہ دُکھی ساز نکلتے تھے۔ جب وہ گلیوں میں سازبجاتا ہواچلتا تو لوگ غمگین ہوجاتے۔شہر کے لوگ اُسے ’’غمگین نغمہ ساز‘‘ کہہ کر بلاتے تھے اور کہتے کہ اِس کے وائلن میں کوئی خاص پرزہ ہے جس کی وجہ سے اِس سے نکلنے والے ساز اِس قدر دُکھی ہوتے ہیں۔

بہت دفعہ لوگوں نے اُس سے وائلن لے کر خود بجانے کی کوشش کی لیکن عجیب بے ڈھنگی آوازیں ہی برآمدہواکرتی تھیں۔
’’اِس قدر دکھی نغمے ہم نہیں سُن سکتے ، یہ آوازیں ہمارے بچوں کے لیے نقصان دہ ہیں ‘‘ لوگوں نے اُس کے خلاف شکایت درج کرادی اور پولیس اُسے پکڑ کر لے گئی۔

عدالت میں معزز جج نے اُس کا پرانا ریکارڈ پڑھا اور کہا’’اِس سے پہلے بھی تمہیں زیادہ بولنے کے جرم میں اپنی زبان سے محروم ہونا پڑاتھا لیکن پھر بھی تم باز نہیں آئے اور اب دکھی نغمے چھیڑنے لگ گئے ہو، تمہیں نقصِ امنِ عامہ کے جرم میں مذید سزا ملے گی‘‘

چونکہ اُس کی زبان نہیں تھی سووہ اپنے دفاع میں کچھ نہ کہہ سکا حالانکہ وہ کہنا چاہتا تھا کہ قید میں لگائے گئے قہقہوں سے آزادی میں بہتے آنسوزیادہ معتبر ہیں لیکن وہ نہ کہہ سکا اور اگر وہ کہہ بھی دیتا تووہاں سننے والے کان نہیں تھے۔
عدالت نے اُس سے وائلن چھین لینے کا حکم دیا اور ایک سال کی قید بامشقت کی سزا سنائی۔
جب وہ جیل سے رہا ہوا تو گلی گلی گھومتا اور لوگ اُس سے خوف کھاتے کہ اب کی باراُس کے ہاتھ میں وائلن نہیں تھا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بوجھ

وہ ایک کلرک تھا جو فائلوں میں گُم ہوگیا تھا۔۔۔ردی کاغذ کی فائلیں جن کے اندر ایک پورا آدمی گُم ہوگیا تھا اور یہ بات کلرک کی بجائے فائلوں کو معلوم تھی ۔وہ سارا دن دفتر میں فائلیں اُٹھائے پھرتا اور اُن میں سے چندایک گھر بھی اُٹھا کر لے آتا۔دن رات فائلیں اُٹھانے کی وجہ سے اُس کے کندھے جُھک گئے تھے ۔دراصل اُس پرفائلوں کے علاوہ اور بھی بہت سے بوجھ تھے جن کو اُتارنے کے لیے وہ دن رات فائلوں میں گُم رہتا۔

کلرک کی چاربیٹیاں تھیں اوراُس پر معاشرے کے رسم ورواج کابوجھ تھا۔۔۔ وہ اکثر رات کو سونے سے پہلے سوچتا تھا کہ وہ کتنی دیر روز اوورٹائم کام کرے تو چار دفعہ جہیز کا انتظام کرسکتا ہے۔۔۔جواب میں اُسے اگلے کئی سال دن رات فائلوں کے بوجھ تلے دبے رہنا تھا۔

ایک شام کلرک اپنے گھر آیا تو اُس کی بیوی صحن میں بیٹھی رو رہی تھی، ایسا رونا کہ جس میں آواز شامل نہیں تھی لیکن آنسوندی کی مانند بہہ رہے تھے۔
کلرک کے پوچھنے پر بیوی نے ایک کاغذ اُس کے ہاتھ تھمادیا،یہ اُس کی بڑی بیٹی کا الوداعی خط تھااوراُس نے لکھا تھا کہ
’’میں اِس دن رات کی غربت سے تنگ آگئی ہوں ، اوراپنی مرضی سے شادی کرکے جارہی ہوں ۔برائے مہربانی مجھے مت ڈھونڈیں‘‘

کلرک جو دن رات دس پندرہ فائلیں بغل میں لیے گھومتا تھا ، ایک کاغذ کے بوجھ تلے دبتا چلاگیا۔۔
حتٰی کہ اُس کی بیوی نے دیکھا کہ وہ زمین سے صرف ایک فٹ اوپر رہ گیا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بوتل میں قید آدمی

محبت میں ناکامی کے بعد اُس نے سوچا کہ وہ ایک بوتل بنائے گا۔
سو وہ ایک عرصے تک بوتل بناتا رہا، لوگ پاس سے گُزرتے تو اُسے سمجھاتے کہ یہ پاگل پن ہے سو اُسے یہ کام ترک کر دینا چاہیے لیکن وہ لگاتار بوتل بناتا رہا۔۔۔۔۔
کئی سال گزرگئے ، اب اُس کے سینے میں سانس چلتی تھی تو کھر ، کھر کی آواز آتی تھی ، بال بڑھ گئے تھے اور لوگوں نے اُس پر افسوس کرنا چھوڑ دیا تھا۔
جب بوتل مکمل بن گئی تو اُس نے خود کو اُس میں قید کرلیا، اب وہ بوتل میں سما گیا تھا۔
کتنے موسم گُزرے ، کئی بارشیں آئیں اور بہت سی مئی ، جون کی تپتی دوپہریں گزریں ، وہ بوتل نالی کے پاس بنے ایک دکان کے تھڑے کے ساتھ پڑی رہتی اور آہستہ آہستہ ہلتی رہتی۔
پھر ایک دن بوتل نے ہلنا چھوڑ دیا اور لوگوں نے بوتل اُٹھا کر سمندر میں پھینک دی اور ناک پر رومال رکھے واپس آ گئے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شعبدہ گر

وہ ایک شعبدہ باز تھا , سرکس میں منہ سے آگ نکال کر دکھاتا تھا۔۔۔ لوگ خصوصاً بچے اُس کا کرتب دیکھ کر خوب تالیاں بجاتے۔۔۔ شہر شہر ، قریہ قریہ سرکس کا تماشا چلتا رہتا۔ وہ سٹیج پر ہاتھ میں جلتی ہوئی لکڑی اور پٹرول کی بوتل تھامے نمودار ہوتا ، وہ جتنی دور تک آگ نکالتا اُتنی ہی تالیوں کی گونج میں اضافہ ہوجاتا ، پہلے پہل جب وہ ایک لڑکا تھا ، تالیوں کا شور اُس کے اندر بہت ہوا بھردیتا تھا اور وہ اور زور لگا کر آگ نکالتا تھا لیکن پھر رفتہ رفتہ اُس کی عمر بڑھتی گئی اور اُسے تالیوں کی آواز سنائی نہ دیتی تھی حتٰی کہ اُسے سامنے بیٹھے لوگ بھی دکھائی نہیں دیتے تھے ، اُسے صرف اور صرف داد میں آنے والے پیسوں سے غرض تھی تاکہ وہ اپنے بچوں کے خواب پورے کرسکے۔۔۔

وہ جب گھر لوٹتا تو اُس کے بچے اور بیوی اُس کے منتظر ہوتے ،اُس کا خواب تھا کہ اُس کے بچے پڑھ لکھ جائیں تاکہ انہیں منہ سے آگ نہ نکالنی پڑے ، اُس نے بچوں کو اپنے آگ نکالنے کے سامان کو ہاتھ لگانے سے منع کر رکھا تھا۔۔

اِسی شعبدہ گر کا بیٹا جس سکول میں جاتا تھا ، ہر سال اول پوزیشن حاصل کرتا تھا لیکن کوئی اُسے داد نہ دیتا ، وہاں سب لوگ اُسے منہ سے آگ نکالنے کا کہتے کہ اُس کے والد سے وہ یہ کرتب دیکھ چکے تھے۔۔۔
آخر ایک روز جب شعبدہ باز گھر سو رہا تھا ، اُس کا بیٹا لکڑی اور پٹرول کی بوتل لے کر دوستوں کے پاس پہنچ جاتا ہے کہ وہ آج اُنہیں منہ سے آگ نکال کر دکھانا چاہتا تھا۔۔
لیکن آگ نکالتے ہوئے اُس کا بازو جل جاتا ہے ، شعبدہ گر پریشانی میں اپنے بچے کو ہسپتال لےکر جاتا ہے۔۔۔مرہم پٹی کے بعد ڈاکٹر ، شعبدہ گر سے پوچھتا ہے کہ وہ کیا کام کرتا ہے۔
” جی میں سرکس میں کرتب دکھاتا ہوں ” شعبدہ گر نے جواب دیا
” کون سا کرتب ؟” ڈاکٹر نے پوچھا
” جی وہ ، وہ منہ سے آگ نکالتا ہوں ” وہ کچھ شرمندہ ہوکر بولا
” اوہ اچھا ! تو آپ کے بچے نے آپ ہی سے یہ ہنر سیکھا ہے”

ڈاکٹر نے کہا اور ایسے میں وہ شعبدہ گر کی آنکھوں کے خواب نہ دیکھ سکا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تقسیم

یہ ایک بڑا ہال ہے جہاں ایک مشہور فلاحی ادارے کا سیمینار ہورہا ہے۔ سٹیج پر بیٹھے دانشوروں نے معاشرے میں دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم پر بہت عمدہ گفتگو کی۔ اُن میں سے کئی افراد بیرونِ ملک سے آئے تھے سو وہاں کی مثالیں بھی پیش کیں۔
سلیم ہال میں موجود ایک ویٹر ہے ، اُسے محسوس ہوتا ہے کہ وہ وقت کی قید میں آگیا ہے ۔ وقت جو اُس کے پیدا ہونے سے پہلے بھی تھا اور بعد میں بھی رہے گا ، درمیان میں وہ قید بامُشقت کاٹ رہا تھا۔
معزز دانشور نے تقریر کے دوران سٹیج پر بیٹھے چاروں مقررین سے سوال کیا
’’کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ کتنے دن آپ کام کریں تو ایک اچھی گاڑی خرید سکتے ہیں ؟‘‘
’’چار ماہ‘‘ پہلے دانشور نے جواب دیا۔
’’چھ ماہ‘‘ دوسرا دانشور بولا
’’مجھے شاید ایک سال لگ جائے‘‘ تیسرا دانشور بولا
’’میرا خیال ہے کہ مجھے ڈیڑھ سے دو سال لگیں گے کہ میں ایک اچھی گاڑی خرید سکوں ‘‘چوتھا دانشور تھوڑا شرمندہ ہوکربولا
’’ تو سامعین دیکھا آپ نے کہ یہاں چاروں مقررین کے جواب کس قدر مختلف ہیں ، ہم نے اِسی غیر منصفانہ تقسیم کو ختم کرنے کے لیے آج کا اجلاس بلایا ہے‘‘ مقرر نے کہا.
’’ کتنے دن تم بطور ویٹر کام کرو تو ایک گاڑی خرید لو گے؟‘‘ سلیم نے خود سے سوال کیا۔
’’ دو زندگیاں اور کچھ مذید دن——” اندر سے ایک آواز آئی جواُس کے علاوہ ہال میں کسی نے نہ سُنی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الزام

یہ کمرہِ عدالت ہے جہاں ایک چوری کا مقدمہ زیرِسماعت ہے۔ بشیر پر گاڑی چوری کا الزام ہے۔
مُعزز جج نے مقدمے کا فیصلہ سنانے سے پیشتر بشیر کو نصیحت کرتے ہوئے کہا۔
’’اِس سے پہلے کہ میں تمہیں اِس چوری کی سزا سُناؤں ، تمہیں سمجھانا چاہتا ہوں کہ چوری ایک بُرا فعل ہے, اب نہ صرف تم سزا پاؤ گے بلکہ تمہارے گھر والے بھی اِس سزا کی وجہ سے مشکل دن گزاریں گے، تمہیں ضرور وہ کام کرنا چاہیے تھا جو تم چور بننے سے پہلے کیا کرتے تھے۔ کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ تم چوربننے سے پہلے کیا کام کرتے تھے ؟‘‘
’’جی میں چور بننے سے پہلے بھی چور تھا‘‘ بشیر نے گھبرا کر کہا۔
اُس کا جواب سُن کر معززجج سمیت کمرہِ عدالت میں موجود بیشترافراد ہنس پڑتے ہیں۔
’’چوربننے سے پہلے چور بھلا کیسے بنا جاسکتا ہے؟‘‘ جج نے سوال کیا۔
’’ جی دیکھیں یہ آج مجھے دوسری دفعہ سزا ہونے والی ہے، کئی سال پہلے میں ایک اسٹورمیں مُلازم تھا جہاں پر ایک رات چوری ہوگئی تو اسٹور کے مالک نے شک کی بنیاد پر مجھے پولیس کے حوالے کردیا، پانچ سال بغیرجرم کے جیل کاٹنے کے بعد جب میں واپس آیا تومجھے معلوم ہوا کہ ساری دنیا مجھے چور ہی سمجھتی ہے حالانکہ میں چور نہیں تھا لیکن رفتہ رفتہ مجھے محسوس ہوا کہ میں چور بننے سے پہلے بھی چورہی تھا… کیا میں چور نہیں تھا جج صاحب؟”
’’ ٹھیک ہے، ٹھیک ہے ہم فیصلے کی جانب آتے ہیں، دفعہ تین سو اکاسی (اے) کے مطابق عدالت مُلزم بشیر کو پانچ سال قید بامشقت کی سزا سُناتی ہے ‘‘ معزز جج نے فیصلہ سنایا اور پولیس والے چورکو دھکا مارکر کمرہ عدالت سے باہر لے جاتے ہیں ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک نابینا محبت کی سرگزشت

میں نورالعین ہوں لیکن میری آنکھوں کا نور ختم ہو چکا ہے، مجھے خود کو اندھا کہتے ہوئے جھرجھری سی آ جاتی ہے سو خود کو نابینا نہیں کہتی ۔مجھے ہر وقت سوچتے رہنے کا مرض لاحق ہے۔ اگر کسی انسان کا دماغ سوچ کے مرض میں مبتلا ہو تو کیا وہ پھر بھی اندھا کہلائے گا ؟ میرا نہیں خیال لیکن دنیا والوں کو میں نے خود کو اندھا کہنے سے کبھی روکا نہیں۔۔۔

میں نورالعین ہوں اور پارک میں ایک بنچ پر بیٹھی ہوں ، میں نے تین سال قبل دنیا کو اِسی پارک میں ایک بنچ پر ایک اور شخص کی آنکھوں سے دیکھنا شروع کیا تھا۔۔۔
یہ بتاتے ہوئے میں کچھ شرما رہی ہوں لیکن اب اِس بات کو چھپانے کا کچھ خاص فائدہ بھی نہیں ، زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ جب باتوں کا بتانا اور چھپانا ایک برابر ہوجاتا ہے اور اس کہانی کے اختتام پر یقیناً آپ خود کو میرا ہم خیال پائیں گے۔۔۔

میں نورالعین جو اب اِس بنچ پر بیٹھی ہوں اور تین سال قبل دنیا کو ایک اور شخص کی آنکھوں سے دیکھنا شروع کیا تھا۔ وہ مجھے کہتا تھا دنیا کس قدر حسین ہے ، تتلیوں کے رنگ نیلے ، سبز اور سرخ ہیں اور بنچ کے ساتھ درخت کے اوپر چڑیا جو گارہی ہے ،اس کا رنگ سنہرا یاقوتی ہے۔
پارک کے سبھی راستوں کے گرد گیندے کے بڑے بڑے پیلے پھول کھلے ہیں اور جب خزاں آتی ہے تو درخت سوکھ جاتے ہیں ، پھولوں کی پتیاں بکھر جاتی ہیں لیکن ان کی خوشبو محبت کرنے والوں کے دلوں کو معطر کیے رکھتی ہے اور سنہری چڑیا اپنا گیت گانے کسی اور دیس کو اڑ جاتی ہے۔۔۔
میں نے یہ سب کچھ اُس شخص کی آنکھوں سے دیکھا اور یقین کر لیا۔۔۔

میں نورالعین نابینا کہ جس نے دنیا کو ایک ایسے شخص کی آنکھوں سے دیکھا تھا جو ابھی ابھی یہاں بنچ سے اٹھ کر گیا ہے اور میرے ہاتھوں میں موجود سنہری بالوں والی لڑکی کی تصویر اُسی کی دی ہوئی ہے ، اس تصویر کو میں نے اُسی کی آنکھوں سے دیکھا ہے ، یہ وہ لڑکی ہے جس سے اُسے محبت ہے اور آپ سب کی آنکھیں ہیں سو آپ دیکھ سکتے ہیں کہ میرے بال سنہری نہیں ہیں۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رُکا ہوا آدمی

رُکا ہوا آدمی

’’آنکھیں اور کان بند کرو اور چھتری تان لو، بارش سے بچ جاؤ گے اور بجلی کی چمک تمہاری آنکھوں میں نہ پڑے گی، کانوں میں روئی ڈال لو کوئی آواز نہ سنائی دے گی‘‘
’’تو پھر میں آگے کیسے بڑھوں گا؟‘‘
’’ چھتری بارش سے بچاتی ہے‘‘
’’ لیکن وہ آگے کا سفر؟‘‘
’’بجلی کی چمک سے آنکھیں چندھیا سکتی ہیں سو بند ہی رکھو‘‘
’’ لیکن وہ میں کہہ رہا تھا کہ سفر؟‘‘
’’ کان بند رکھو اور کسی بات پر دھیان نہ دو‘‘
’’لیکن پھر؟‘‘
’’بس تم چھتری تانے ، آنکھیں اور کان بند کیے یہیں کھڑے رہو‘‘
’’ اخبار لے لو ، اخبار‘‘
” آج کی تازہ خبر پڑھنے کے لیے
اخبار لے لو ، اخبار”
’’اخبار والے رکو، کیا نئی خبر ہے ؟‘‘

’’ تمہیں کیا، تم تو رُکے ہوئے آدمی ہو‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Imzge: Banksy

Categories
فکشن

سمندر، ڈالفن اورا ٓکٹوپس (عامر صدیقی)

مزید مائیکرو فکشن پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

’’یوپی، ناگن چورنگی، حیدری، ناظم آباد، بندر روڈ۔۔۔۔۔۔۔۔ کرن۔۔”
کنڈیکٹر کی تکرار سن کر اچانک وہ اپنے خیالات سے باہر نکل آیا۔
’’کرن؟ کیا اس کی منزل آگئی۔۔ـ‘‘ اس نے سیٹ پر سیدھا ہوتے ہوئے باہر جھانکا۔۔۔۔
’’بندر روڈ سے اگلا اسٹاپ بولٹن مارکیٹ کا ہی ہوتا ہے۔ سمندر تو ابھی کچھ دور ہے۔۔۔ مگر پھر میرے ذہن میں کرن کا نام کیوں آیا۔ کیا کنڈیکٹر نے صدا لگائی تھی؟ یابس یوں ہی۔۔۔۔۔‘‘
بس ابھی بھی بولٹن مارکیٹ پر ہی رکی ہوئی تھی۔۔۔ وہ دوبارہ سیٹ پر ڈھے گیا۔۔ پھر، ایک گہری سانس بھرتا ہوا۔۔۔ گہری سوچوں میں گم ہو گیا۔۔۔۔۔۔

’’تم تو سمندر تھے۔‘‘
’’تم بھی تو اس سمندر کی واحد ڈالفن۔‘‘

’’تم سمندر نہ رہے۔‘‘
’’تم نے اور پانیوں کی تلاش کر لی۔ اس سمندر کو چھوڑ کر۔ اور میں شاید بھول گیا تھاکہ سمندر کے اطراف آکٹوپس بھی تاک میں کھڑے ہیں۔‘‘

سیٹ یکایک، ایک ہائی ٹیک سیٹ میں اور بس خلائی راکٹ تبدیل ہوچکی تھی اور بے پناہ رفتار سے کرہ ارض سے باہر نکل کر اب چاند کے پاس سے گزر رہی۔۔۔۔۔۔
“چاند۔۔۔۔۔۔۔کرن۔۔۔۔ چاند۔۔۔”
اس نے بے اختیار ہو کر دروازہ کھولا اور باہر نکل کر اسے اپنی گرفت میں لینا چاہا۔۔۔۔۔۔ مگر چاند اس کا ارادہ بھانپ چکا تھا۔ وہ کنی کاٹ گیا۔۔۔ اورکچھ فاصلے پرجاکر طنزیہ انداز میں ہنسنے لگا۔۔۔۔۔اچانک خلا کی یخ بستہ تاریکی اس کے اندر سما گئی۔۔۔ وہ منجمد ہو گیا اور تیزی سے نیچے گرنے لگا۔۔۔۔
“ٹاور۔۔ ٹاور ”
وہ چونک پڑا۔منزل تک لے جانے والا اسٹاپ یعنی سمندر اب سامنے ہی تھا، وہ تیزی سے نیچے اتر گیا۔۔۔اسے نیچے اترتا دیکھ کر اس کے اور کرن کے درمیان حائل خون آشام آکٹوپس چاروں جانب سے اس کی سمت لپکنے لگے۔ اور اسے نگل گئے۔۔۔۔۔
Image: Vasko Taskovski

Categories
فکشن

سیاہ گڑھے اور دیگر مائکروفکشن (عامر صدیقی)

سیاہ گڑھے

وہ ایک خونی لٹیراتھا۔ اس کے سر پر انعام تھا، اس کی موت یقینی تھی اور اس وقت وہ کسی انجان راستے پر لگاتار کئی دنوں سے بھاگا چلا جا رہا تھا۔اس کے پیچھے تھے مسلح سپاہی اور ان کے خونخوار کتے۔ یہ اس کی بقا کا سوال تھا۔ رکنا مطلب موت۔ وہ رک نہیں سکتا تھا۔ مگر اسے اچانک رکنا پڑا۔ اچانک سامنے آئے دو گہرے سیاہ گڑھوں نے اس کا راستہ روک لیا تھا ۔وہ ٹھٹک گیا، اس نے ان سیاہ گڑھوں اور ان کو پار کرکے آنے والی گھاٹی میں رہنے والے لوگوں کے متعلق مبہم مگر کچھ پراسرارسا سن رکھا تھا۔ سپاہیوں اور کتوں کی آوازیں قریب آتی جا رہی تھیں۔ اس کے پاس کوئی اور چارہ نہیں تھا۔ وہ دونوں گڑھوں کے بیچ بنے تنگ راستے پر چڑھ گیا اور جیسے ہی اس کے پار اترا، اس کے سر پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ اور وہ بے ہوش ہو گیا۔

اس کی آنکھ کھلی تو روشن دان سے چھن چھن کر آتی روشنی میں پایا کہ وہ کسی کوٹھری میں بند ہے ۔ابھی وہ صورتِ حال کا جائزہ لے ہی رہا تھا کہ تبھی کوٹھری کا دروازہ کھلا اور ایک بارعب بوڑھا اندر آیا۔جو قدیم طرز کا لبادہ پہنے تھا، جس نے اس کا پورا منہ ڈھانپ رکھا تھا۔وہ اسے دیکھتے ہی کھڑا ہو گیا اور معذرت خواہانہ لہجے میں کہا۔’’میں معافی چاہتا ہوں میرا قطعی ارادہ یہاں آنے کانہیں تھا۔ پر میرے پیچھے سپاہی پڑے تھے۔میں جلد ہی یہاں سے چلا جاوں گا۔‘‘

’’اب تک تو ایسا ہوا نہیں کہ کوئی یہاں سے زندہ واپس گیا ہو۔تم بھی نہیں جا سکو گے۔ کل صبح تمہیں مار دیا جائے گا۔ ویسے بھی واپس جا کرتمہیں مرنا ہی ہے۔‘‘
’’مجھ پر رحم کرو۔کوئی تو حل ہوگاکہ میں زندہ بھی رہوں اور یہاں بھی رہوں۔ کیونکہ اب میرے لئے واپسی کی راہ مفقود ہو چکی ہے۔‘‘
’’پھر تو ایک ہی حل ہے کہ تم ہمارے جیسے ہو جاو۔‘‘
’’تمہارے جیسے؟ میں تمہارا جیسا ہی ہوں۔‘‘
’’نہیں تم ہمارے جیسے نہیں ہو ۔لیکن اگر تم را ضی ہو، ہمارے جیسا بننے پر تو خوش آمدید۔‘‘
’’میں راضی ہوں۔ مجھے تمہاری ہر شرط منظور ہے۔‘‘ اس نے بیتابی سے کہا۔ ابھی اس کی بات ختم ہی ہوئی تھی کہ گھنٹا بجنے کی تیز آوازیں آنے لگیں ۔
’’یہ آواز کیسی؟‘‘
’’اس کا مطلب کہ بارہ بج گئے اور دوپہر کے کھانے کا وقت ہو گیا ۔میں تمہارے لئے کھانا لاتا ہوں۔ ویسے یہ گھنٹا صرف دن میں کھانے پر بلانے کیلئے بجایا جاتا ہے۔ جب سب کام پر دور دور ہوتے۔ رات کو اس کی ضرورت نہیں پڑتی۔‘‘

سوچوں میں ڈوبے ہوئے اس نے کھانا کھایااور کھاتے ہی اس پر غنودگی سوار ہو گئی۔نیم بیداری ، نیم بے ہوشی کی حالت میں وہ ایک سپنا دیکھ رہا تھاکہ اس کے پیچھے پیچھے سپاہی اور کتے ہیں اوروہ بھاگتا چلا جا رہا ہے۔ بھاگتے بھاگتے اچانک دو سیاہ گڑھے آ جاتے ہیں اور وہ ان میں گر جاتا ہے۔اور گرتا چلا جاتا۔ درد کے شدید احساس کے ساتھ گڑھوں کی کبھی نا ختم ہوسکنے والی تاریکی، اسے ڈرا دیتی ہے۔ وہ چیخنا شروع کر دیتا ہے اور ہڑبڑا کر بیدار ہو جاتا ہے۔کوٹھری میں گھپ اندھیراتھا۔اور گھنٹے کی آواز کوٹھری میں گونج رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نہاری ہاؤس

انورکی اس نہاری ہائوس میں اکثر آنے کی وجہ صرف یہ نہیں تھی کہ یہاں پورے شہر کے مقابلے میں سب سے زیادہ لذیذ اور منفرد ذائقے والی نہاری ملتی تھی۔بلکہ یہاں آنے کی ایک وجہ ا سکے کام کے حوالے سے بھی تعلق رکھتی تھی۔ وہ افرادی قوت فراہم کرتا تھا۔اور اس مد میں کمیشن پاتا تھا۔ اور یہ ہوٹل تو اس کے بڑے کلائنٹ میں شمار ہوتا تھا۔

بڑھتے ہجوم کے باوجود اسے سیٹھ کے کاونٹر کے پاس والی ہی میز مل گئی۔ کافی دیر تک جب کوئی آرڈر لینے نہیں آیا تو اس نے سیٹھ کو آواز لگائی۔
’’اورسیٹھ، سناو کیا حال چال ہیں، دھندہ کیسا چل رہا ہے۔ مجھے اتنی دیر ہوگئی کوئی آرڈر لینے ہی نہیں آیا۔ ذرا ایک اسپیشل نہاری تو منگوا دو۔”

’’ ارے واہ انور،ایکدم بڑھیا۔تم سنائو کیا چل رہا ہے۔ معافی ،دیر لگ رہی ہے تمہیں، ادھر چھوکروں کا ذرا مسئلہ ہے۔ کمی چل رہی ہے۔سالے ٹکتے ہی نہیں۔‘‘

’’ارے کیا سیٹھ وہ جو پچھلے ہفتے آٹھ پہاڑی لڑکے دیئے تھے ۔ انکا کیا ہوا نظر نہیں آرہے۔اور لوچا ووچا کچھ نہیں، یہ آج کل کے لڑکے حرام خور ہوگئے ہیں۔ کھانا جانتے ہیں پر کام نہیں ہوتا ان سے۔ خیر میرے ہوتے تمہیں فکر کرنے کی کیا ضرورت۔ بولو کتنے لڑکے بھیجوں۔ لڑکوں کی تازہ تازہ کھیپ آئی ہے۔‘‘
’’دس پندرہ تو بھیج ہی دو، ہوٹل کا رش تو تم دیکھ ہی رہے ہو ۔گراہکی بڑھتی ہی جا رہی ہے۔‘‘

’’دس پندرہ؟‘‘ وہ ششدر رہ گیا۔ زیادہ لوگوں کا مطلب، زیادہ کمیشن۔ ہال کی جانب اس کی نظریں غیر ارادی طور پر اٹھ گئیں، ہال معمول کے مقابلے میں دگنا بھرا تھا اور اس میں مزید اضافہ ہو رہا تھا۔ ’’سیٹھ کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں۔‘‘اس نے دل ہی دل میں سوچا۔ اور بھاری کمیشن کا سوچ کر مسکرا اٹھا۔
’’ہاں، اتنے تو میں مانگتا ہی ہوں۔ اور ہاں پہاڑی چھوکرے ہی لانا۔‘‘
’’پر سیٹھ، وہ توپھر بھاگ جا۔۔۔‘‘اس کے جملہ ادھورا رہ گیا۔سیٹھ اس کی بات کاٹتے ہوئے بولا۔

’’بولانا، اب سے ادھرپہاڑی چھوکرے ہی چلیں گے اور ہاں پہلے کے طرح ہی ہٹے کٹے اور قد آور ہوں۔ اور ہاں، ان کے بھاگنے کی مجھے پرواہ نہیں، تم ہو نا۔‘‘
اس نے اثبات میں اپنی گردن ہلائی، اور اپنی نہاری کی طرف متوجہ ہو گیا۔ گرم گرم نہاری سے اشتہا انگیز خوشبو اٹھ رہی تھی۔ اس نے لوازمات ڈالتے ہوئے ،بے قراری سے پہلا نوالہ لیا۔

’’واہ سیٹھ۔ تمہاری نہاری تو دن بدن لاجواب ہوتی جارہی ہے۔اب تو گوشت کی بوٹی بھی پہلے سے بڑی دینے لگے ہو، ایک دم رسدار، چربیلی،اور نرم۔‘‘
اس نے نہاری کی تعریف کرتے ہوئے سیٹھ کی جانب دیکھا۔ پر وہ چاروں جانب سے ادائیگی کرتے گاہکوں سے گھرا تھا۔ اس کی نظریں دفعتاً ہال کی جانب اٹھ گئیں ، ہال میں اب تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔اور ہوٹل کے باہر،اپنی باری کا انتظار کرتے گاہکوں کی طویل قطار دور تک چلی گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مرتبان

’’گو کہ صاحب میں بس ابھی دکان بند کرنے ہی والا تھے۔ پھر بھی آپ کا سامان پیک کرتے ہوئے، جلدی جلدی آپ کے سوال کا جواب بھی دیتا جاتا ہوں۔ یہ حقیقت ہے کہ وہ زلزلہ انتہائی بھیانک تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ زمین سے اٹھتی لہریں سب کچھ تلپٹ کرکے رکھ دیں گی۔ جدھر نظریں دوڑائیں، تباہی و بربادی کا عالم تھا، ہر طرف چیخ و پکار تھی،کراہیں تھیں، رونا دھونا تھا۔ اپنے پیاروں کو تلاش کرتے لوگوں کی پکاریں تھیں۔ قیامت اس سے کیا کم ہوگی؟۔۔۔ اورجیسا کے آپ دیکھ ہی ہیں کہ میرا ذریعۂ معاش پہاڑی جڑی بوٹیوں اور ان جانوروں پر ہے ،جو طبّی نقطۂ نظر سے فائدہ مند ہیں۔ سواس دن بھی میں جنگل میں انہیں کی تلاش میں نکلا ہوا تھا۔‘‘

میں بخوبی جانتا تھا کہ میں کہاں بیٹھا ہوا ہوں اور کس مقصد سے آیا ہوں ، پھر بھی غیر ارادی طور پر میری نگاہیں دکان کی اطراف گھوم گئیں۔ نیم تاریکی میں جو کچھ میں دیکھ پایا، وہ تھیں شیشے کے بڑے بڑے مرتبانوں میں بند انواع و اقسام کی جڑی بوٹیاں، سوکھے کیڑے مکوڑے اورشفاف محلول میں ڈوبے جنگلی جانوروں کے مردہ اجسام۔

“زلزلے کے جھٹکے وہاں جنگل میں بھی محسوس ہوئے۔ لیکن اتنے نہیں۔ میں نے اپنی سائیکل اٹھائی اور تیزی سے یہاں آیا۔ میرا مکان بھی ڈھے چکا تھا۔ ممتا سے محروم میرا چھ ماہ کا بچہ اور اس کی خادمہ دونوں ملبے تلے دب چکے تھے۔ میں پاگلوں کی طرح اکیلے ہی ملبہ ہٹانے لگا۔ وہاں میری مدد کرنے والا بھی بھلا کون تھا۔میں دنیاو مافیہا سے بے خبر ۔ اس وقت تک اپنے کام میں جٹا رہا، جب تک میں نے اپنے بچے کو ملبے سے نکال نہیں لیا۔‘‘وہ کچھ دیر تک ہاتھ میں موجود گلاب کی خشک پتیوں کو دیکھتا رہا، پھر کہنے لگا ،’’بس اس دن سے ایسا خوف بیٹھا صاحب کہ اب میں کبھی بھی اپنے بچے کو خود سے جدا نہیں کرتا ہوں۔ اب وہ ہر جگہ میرے ساتھ جاتا ہے ، یہاں تک کے جنگل میں بھی۔ ‘‘

میں سامان لے کر باہر نکلا۔ اتنی دیر میں اس نے بھی شٹر گرا دیا۔اور سائیکل پر بیٹھ کر مجھے سلام کرتا ہوا، جنگل کی جانب جاتی تنگ پگڈنڈی پر چڑھ گیا۔ اس کی سائیکل کے اسٹینڈ پر ایک مرتبان رکھا ہوا تھا۔
ٰImage: Wassily Wassilyevich Kandinsky

Categories
فکشن

دائرہ

مجھے وہاں تقریر کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ میں یہ نہیں جانتا تھا کہ مجھے کس نے بھیجا ہے اور نہ ہی یہ کہ میرے سامع کون ہوں گے۔ بس مجھے تقریر کرنی تھی کہ اسی لئے مجھے مبعوث کیا گیا تھا۔ میں نے ان ساری صدیوں کو یاد کیا جس میں میں نے اس تقریر کی تیاری کی تھی۔ ان ساری زبانوں کے متعلق سوچا جس مین مجھے یہ تحریر مرتب کرنی تھی۔ مجھے یاد ہے بہت سی باتوں کے لئے مجھے کسی زبان میں بھی الفاظ نہیں ملے تھے سو میں نے جیومیٹری کی کچھ اشکال بنا رکھی تھی۔ جہاں جہاں اشکال سے بات نہیں چل سکتی تھی وہاں میں نے خالی سانسیں رکھ چھوڑی تھی اور بعض جگہوں پر تو محض خلا تھا۔ مجھے رسی کے ذریعے مجمع کے عین بیچ وبیچ اتارا گیا۔ میں ابھی تقریر کے ابتدائیے کے متعلق سوچ رہا تھا کہ ایک سُرخ بالوں والا بچہ پکارا۔۔۔تم کون ہو۔۔۔۔۔۔میں نے جلدی سے تقریر کے صفحات سے تن ڈھاپنے کی کوشش کی مگر وہ تو سارے کورے کاغذ تھے۔ میں نے جلدی سے رسی کو تھاما اور سوچا کہ مجھے واپس اوپر جانا چاہیے مگر یہ کیا۔۔۔۔۔رسی تو اوپر سے کاٹی جا چُکی تھی۔

Image: Pawel kuczynski