Categories
فکشن

سیاہ گڑھے اور دیگر مائکروفکشن (عامر صدیقی)

سیاہ گڑھے

وہ ایک خونی لٹیراتھا۔ اس کے سر پر انعام تھا، اس کی موت یقینی تھی اور اس وقت وہ کسی انجان راستے پر لگاتار کئی دنوں سے بھاگا چلا جا رہا تھا۔اس کے پیچھے تھے مسلح سپاہی اور ان کے خونخوار کتے۔ یہ اس کی بقا کا سوال تھا۔ رکنا مطلب موت۔ وہ رک نہیں سکتا تھا۔ مگر اسے اچانک رکنا پڑا۔ اچانک سامنے آئے دو گہرے سیاہ گڑھوں نے اس کا راستہ روک لیا تھا ۔وہ ٹھٹک گیا، اس نے ان سیاہ گڑھوں اور ان کو پار کرکے آنے والی گھاٹی میں رہنے والے لوگوں کے متعلق مبہم مگر کچھ پراسرارسا سن رکھا تھا۔ سپاہیوں اور کتوں کی آوازیں قریب آتی جا رہی تھیں۔ اس کے پاس کوئی اور چارہ نہیں تھا۔ وہ دونوں گڑھوں کے بیچ بنے تنگ راستے پر چڑھ گیا اور جیسے ہی اس کے پار اترا، اس کے سر پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ اور وہ بے ہوش ہو گیا۔

اس کی آنکھ کھلی تو روشن دان سے چھن چھن کر آتی روشنی میں پایا کہ وہ کسی کوٹھری میں بند ہے ۔ابھی وہ صورتِ حال کا جائزہ لے ہی رہا تھا کہ تبھی کوٹھری کا دروازہ کھلا اور ایک بارعب بوڑھا اندر آیا۔جو قدیم طرز کا لبادہ پہنے تھا، جس نے اس کا پورا منہ ڈھانپ رکھا تھا۔وہ اسے دیکھتے ہی کھڑا ہو گیا اور معذرت خواہانہ لہجے میں کہا۔’’میں معافی چاہتا ہوں میرا قطعی ارادہ یہاں آنے کانہیں تھا۔ پر میرے پیچھے سپاہی پڑے تھے۔میں جلد ہی یہاں سے چلا جاوں گا۔‘‘

’’اب تک تو ایسا ہوا نہیں کہ کوئی یہاں سے زندہ واپس گیا ہو۔تم بھی نہیں جا سکو گے۔ کل صبح تمہیں مار دیا جائے گا۔ ویسے بھی واپس جا کرتمہیں مرنا ہی ہے۔‘‘
’’مجھ پر رحم کرو۔کوئی تو حل ہوگاکہ میں زندہ بھی رہوں اور یہاں بھی رہوں۔ کیونکہ اب میرے لئے واپسی کی راہ مفقود ہو چکی ہے۔‘‘
’’پھر تو ایک ہی حل ہے کہ تم ہمارے جیسے ہو جاو۔‘‘
’’تمہارے جیسے؟ میں تمہارا جیسا ہی ہوں۔‘‘
’’نہیں تم ہمارے جیسے نہیں ہو ۔لیکن اگر تم را ضی ہو، ہمارے جیسا بننے پر تو خوش آمدید۔‘‘
’’میں راضی ہوں۔ مجھے تمہاری ہر شرط منظور ہے۔‘‘ اس نے بیتابی سے کہا۔ ابھی اس کی بات ختم ہی ہوئی تھی کہ گھنٹا بجنے کی تیز آوازیں آنے لگیں ۔
’’یہ آواز کیسی؟‘‘
’’اس کا مطلب کہ بارہ بج گئے اور دوپہر کے کھانے کا وقت ہو گیا ۔میں تمہارے لئے کھانا لاتا ہوں۔ ویسے یہ گھنٹا صرف دن میں کھانے پر بلانے کیلئے بجایا جاتا ہے۔ جب سب کام پر دور دور ہوتے۔ رات کو اس کی ضرورت نہیں پڑتی۔‘‘

سوچوں میں ڈوبے ہوئے اس نے کھانا کھایااور کھاتے ہی اس پر غنودگی سوار ہو گئی۔نیم بیداری ، نیم بے ہوشی کی حالت میں وہ ایک سپنا دیکھ رہا تھاکہ اس کے پیچھے پیچھے سپاہی اور کتے ہیں اوروہ بھاگتا چلا جا رہا ہے۔ بھاگتے بھاگتے اچانک دو سیاہ گڑھے آ جاتے ہیں اور وہ ان میں گر جاتا ہے۔اور گرتا چلا جاتا۔ درد کے شدید احساس کے ساتھ گڑھوں کی کبھی نا ختم ہوسکنے والی تاریکی، اسے ڈرا دیتی ہے۔ وہ چیخنا شروع کر دیتا ہے اور ہڑبڑا کر بیدار ہو جاتا ہے۔کوٹھری میں گھپ اندھیراتھا۔اور گھنٹے کی آواز کوٹھری میں گونج رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نہاری ہاؤس

انورکی اس نہاری ہائوس میں اکثر آنے کی وجہ صرف یہ نہیں تھی کہ یہاں پورے شہر کے مقابلے میں سب سے زیادہ لذیذ اور منفرد ذائقے والی نہاری ملتی تھی۔بلکہ یہاں آنے کی ایک وجہ ا سکے کام کے حوالے سے بھی تعلق رکھتی تھی۔ وہ افرادی قوت فراہم کرتا تھا۔اور اس مد میں کمیشن پاتا تھا۔ اور یہ ہوٹل تو اس کے بڑے کلائنٹ میں شمار ہوتا تھا۔

بڑھتے ہجوم کے باوجود اسے سیٹھ کے کاونٹر کے پاس والی ہی میز مل گئی۔ کافی دیر تک جب کوئی آرڈر لینے نہیں آیا تو اس نے سیٹھ کو آواز لگائی۔
’’اورسیٹھ، سناو کیا حال چال ہیں، دھندہ کیسا چل رہا ہے۔ مجھے اتنی دیر ہوگئی کوئی آرڈر لینے ہی نہیں آیا۔ ذرا ایک اسپیشل نہاری تو منگوا دو۔”

’’ ارے واہ انور،ایکدم بڑھیا۔تم سنائو کیا چل رہا ہے۔ معافی ،دیر لگ رہی ہے تمہیں، ادھر چھوکروں کا ذرا مسئلہ ہے۔ کمی چل رہی ہے۔سالے ٹکتے ہی نہیں۔‘‘

’’ارے کیا سیٹھ وہ جو پچھلے ہفتے آٹھ پہاڑی لڑکے دیئے تھے ۔ انکا کیا ہوا نظر نہیں آرہے۔اور لوچا ووچا کچھ نہیں، یہ آج کل کے لڑکے حرام خور ہوگئے ہیں۔ کھانا جانتے ہیں پر کام نہیں ہوتا ان سے۔ خیر میرے ہوتے تمہیں فکر کرنے کی کیا ضرورت۔ بولو کتنے لڑکے بھیجوں۔ لڑکوں کی تازہ تازہ کھیپ آئی ہے۔‘‘
’’دس پندرہ تو بھیج ہی دو، ہوٹل کا رش تو تم دیکھ ہی رہے ہو ۔گراہکی بڑھتی ہی جا رہی ہے۔‘‘

’’دس پندرہ؟‘‘ وہ ششدر رہ گیا۔ زیادہ لوگوں کا مطلب، زیادہ کمیشن۔ ہال کی جانب اس کی نظریں غیر ارادی طور پر اٹھ گئیں، ہال معمول کے مقابلے میں دگنا بھرا تھا اور اس میں مزید اضافہ ہو رہا تھا۔ ’’سیٹھ کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں۔‘‘اس نے دل ہی دل میں سوچا۔ اور بھاری کمیشن کا سوچ کر مسکرا اٹھا۔
’’ہاں، اتنے تو میں مانگتا ہی ہوں۔ اور ہاں پہاڑی چھوکرے ہی لانا۔‘‘
’’پر سیٹھ، وہ توپھر بھاگ جا۔۔۔‘‘اس کے جملہ ادھورا رہ گیا۔سیٹھ اس کی بات کاٹتے ہوئے بولا۔

’’بولانا، اب سے ادھرپہاڑی چھوکرے ہی چلیں گے اور ہاں پہلے کے طرح ہی ہٹے کٹے اور قد آور ہوں۔ اور ہاں، ان کے بھاگنے کی مجھے پرواہ نہیں، تم ہو نا۔‘‘
اس نے اثبات میں اپنی گردن ہلائی، اور اپنی نہاری کی طرف متوجہ ہو گیا۔ گرم گرم نہاری سے اشتہا انگیز خوشبو اٹھ رہی تھی۔ اس نے لوازمات ڈالتے ہوئے ،بے قراری سے پہلا نوالہ لیا۔

’’واہ سیٹھ۔ تمہاری نہاری تو دن بدن لاجواب ہوتی جارہی ہے۔اب تو گوشت کی بوٹی بھی پہلے سے بڑی دینے لگے ہو، ایک دم رسدار، چربیلی،اور نرم۔‘‘
اس نے نہاری کی تعریف کرتے ہوئے سیٹھ کی جانب دیکھا۔ پر وہ چاروں جانب سے ادائیگی کرتے گاہکوں سے گھرا تھا۔ اس کی نظریں دفعتاً ہال کی جانب اٹھ گئیں ، ہال میں اب تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔اور ہوٹل کے باہر،اپنی باری کا انتظار کرتے گاہکوں کی طویل قطار دور تک چلی گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مرتبان

’’گو کہ صاحب میں بس ابھی دکان بند کرنے ہی والا تھے۔ پھر بھی آپ کا سامان پیک کرتے ہوئے، جلدی جلدی آپ کے سوال کا جواب بھی دیتا جاتا ہوں۔ یہ حقیقت ہے کہ وہ زلزلہ انتہائی بھیانک تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ زمین سے اٹھتی لہریں سب کچھ تلپٹ کرکے رکھ دیں گی۔ جدھر نظریں دوڑائیں، تباہی و بربادی کا عالم تھا، ہر طرف چیخ و پکار تھی،کراہیں تھیں، رونا دھونا تھا۔ اپنے پیاروں کو تلاش کرتے لوگوں کی پکاریں تھیں۔ قیامت اس سے کیا کم ہوگی؟۔۔۔ اورجیسا کے آپ دیکھ ہی ہیں کہ میرا ذریعۂ معاش پہاڑی جڑی بوٹیوں اور ان جانوروں پر ہے ،جو طبّی نقطۂ نظر سے فائدہ مند ہیں۔ سواس دن بھی میں جنگل میں انہیں کی تلاش میں نکلا ہوا تھا۔‘‘

میں بخوبی جانتا تھا کہ میں کہاں بیٹھا ہوا ہوں اور کس مقصد سے آیا ہوں ، پھر بھی غیر ارادی طور پر میری نگاہیں دکان کی اطراف گھوم گئیں۔ نیم تاریکی میں جو کچھ میں دیکھ پایا، وہ تھیں شیشے کے بڑے بڑے مرتبانوں میں بند انواع و اقسام کی جڑی بوٹیاں، سوکھے کیڑے مکوڑے اورشفاف محلول میں ڈوبے جنگلی جانوروں کے مردہ اجسام۔

“زلزلے کے جھٹکے وہاں جنگل میں بھی محسوس ہوئے۔ لیکن اتنے نہیں۔ میں نے اپنی سائیکل اٹھائی اور تیزی سے یہاں آیا۔ میرا مکان بھی ڈھے چکا تھا۔ ممتا سے محروم میرا چھ ماہ کا بچہ اور اس کی خادمہ دونوں ملبے تلے دب چکے تھے۔ میں پاگلوں کی طرح اکیلے ہی ملبہ ہٹانے لگا۔ وہاں میری مدد کرنے والا بھی بھلا کون تھا۔میں دنیاو مافیہا سے بے خبر ۔ اس وقت تک اپنے کام میں جٹا رہا، جب تک میں نے اپنے بچے کو ملبے سے نکال نہیں لیا۔‘‘وہ کچھ دیر تک ہاتھ میں موجود گلاب کی خشک پتیوں کو دیکھتا رہا، پھر کہنے لگا ،’’بس اس دن سے ایسا خوف بیٹھا صاحب کہ اب میں کبھی بھی اپنے بچے کو خود سے جدا نہیں کرتا ہوں۔ اب وہ ہر جگہ میرے ساتھ جاتا ہے ، یہاں تک کے جنگل میں بھی۔ ‘‘

میں سامان لے کر باہر نکلا۔ اتنی دیر میں اس نے بھی شٹر گرا دیا۔اور سائیکل پر بیٹھ کر مجھے سلام کرتا ہوا، جنگل کی جانب جاتی تنگ پگڈنڈی پر چڑھ گیا۔ اس کی سائیکل کے اسٹینڈ پر ایک مرتبان رکھا ہوا تھا۔
ٰImage: Wassily Wassilyevich Kandinsky

Categories
فکشن

سات مختصر کہانیاں: محمد جمیل اختر

قسمت

پہلی سیڑھی پرڈرکم تھا، درمیان میں خوف کچھ اوربڑھ گیااورآخری سیڑھی پراُس کی ٹانگیں کانپنے لگی تھیں۔
’’آخری سیڑھی کے آگے لہراتے پردے کے پیچھے کیا ہوگا، کیوں نا یہیں سے واپس لوٹ جاؤں؟
اب آگیا ہوں تو واپس کیا جاناکچھ نا کچھ تو لے کرہی جاؤں گا‘‘۔اُس نے سوچا
وہ بھوکاتھا اور اُس نے کئی گلیاں چھان ماری تھیں صرف اِسی گھر کا بیرونی دروازہ کُھلا تھاسو اُس نے سوچاکہ اِس سے اچھا موقع چوری کا بھلا کیا ہو سکتا ہے ۔
اُس نے ہمت کرکے آخری سیڑھی کے آگے لٹکتاپردہ سرکایا لیکن کسی نے اُس کا ہاتھ پکڑلیا۔
’’ کون؟‘‘ اُس نے آہستہ سے کہا
’’ تم کون ہو؟‘‘ دوسری طرف سے سرگوشی ہوئی
’’میں مُسافرہوں ‘‘
’’ بکواس، چور ہو تم‘‘ دوسرے شخص نے کہا
’’ ہاں، مگر، نہیں ، وہ پہلی بار، وہ بھوک۔۔۔۔‘‘ اُس کے الفاظ گُم ہوگئے
’’ہاں، ہاں، مجھے سب پتا ہے ، چلو اِدھرسے کہیں اور قسمت آزمائیں، کوئی سالا ہم سے پہلے ہی ہاتھ دِکھا گیا ہے ‘‘۔۔۔

محاذ پر

’’ پہلے کسی محاذ پرگئے ہو؟‘‘
’’نہیں سر‘‘
’’تویہ پہلی دفعہ ہے ؟‘‘
’’جی سر‘‘
’’ ڈر رہے ہو؟‘‘
’’نہیں سر‘‘
’’جھوٹ بولتے ہو؟‘‘
’’نہیں سر، تھوڑا ساڈرہے ‘‘
’’کوئی یاد آتاہے ‘‘
’’جی سر‘‘
’’کون؟‘‘
’’اپنے بچے سر‘‘
’’فائر کھول دو جوان‘‘
’’آگے بچے ہیں سر‘‘
’’خیرہے ، دُشمن کے ہیں ۔۔۔‘‘

پتھرکی سِل

بیٹی کی پیدائش پر اُسے آدھی رات کو گھر سے نکال دیاگیاتھا۔
پیچھے والادروازہ مرنے کے بعدکُھلنا تھااورآگے کا دروازہ بیٹے کے بغیرنہیں کُھل سکتاتھا۔۔۔صبح اُس کے شوہر نے دروازہ کھولاتو باہرایک پتھرکی سِل پڑی تھی جس کے اوپر پتھرکی آنکھیں اورہونٹ بنے ہوئے تھے ۔
شوہر نے کہا ’’ اندرآجاؤ، سردی سے برف ہوجاؤ گی ‘‘
پتھرکی سِل نے کوئی جواب نہ دیا۔
شوہر نے پتھرکی سِل کو اٹھایااور روتے ہوئے کہا
’’ آہ ! میری بیوی کو ٹھنڈ لگ گئی ہے ‘‘ اور اُس نے اُسے اٹھا کرباقی سِلوں کے نیچے رکھ دیا۔۔۔

اُلٹ

’’جج صاحب ! یہ فیصلہ اُلٹ ہے ، آپ نے دائیں سمت کو بائیں اور بائیں کو دائیں لکھ کر تمام فیصلہ تبدیل کردیا ہے اور میں مجرم ثابت ہوگیا ہوں ‘‘ کٹہرے میں کھڑے ملزم نے کہا
’’ فیصلہ درست ہے ‘‘ جج نے کہا
’’ جناب سمتیں غلط ہیں ‘‘
’’ فیصلے میں ہرسمت درست ہے ‘‘
’’ لیکن جناب واردات دوسری سمت سے بڑے صاحب نے کی تھی اور ان کو آپ نے بری کردیا ہے ‘‘
’’ وہ صاحب بے گناہ تھے ‘‘
’’یہ فیصلہ الٹ ہے جج صاحب میرا یقین کریں ‘‘
’’فیصلہ ابھی مکمل نہیں ہوا، قید بامشقت کے ساتھ عدالت یہ حکم بھی سُناتی ہے کہ تمہیں جیل میں روز اُلٹالٹکایا جائے تاکہ تمہیں سیدھا دکھائی دینے لگے ‘‘

گھڑی اور وقت

اُس شخص کا خیال تھا کہ وقت بدلے گااور اُسے اِس بدلاؤ کا اِس شدت سے انتظار تھاکہ وہ گھڑی کے اندر ہی رہنے لگ گیاتھا۔
وہ صبح اٹھتا، وقت دیکھتا، گھڑی کی سوئیاں روز بدل جاتی تھیں لیکن وقت وہیں کا وہیں تھا۔
ساری رات وہ بدلے ہوئے وقت کے خواب دیکھتارہتاتھا۔ گھڑیاں دنوں اور سالوں میں ڈھل گئیں اُس کے بال سفیدہوگئے وہ تھک گیااوراُس نے سوچاا ب وقت کبھی نہیں بدلے گاسو مجھے گھڑی سے باہر نکلنا چاہیے اور وہ چھڑی کے سہارے گھڑی سے باہر نکلاتو اُس کی بدلے ہوئے وقت سے ملاقات ہوئی۔

شیش محل

اُس کو وراثت میں شیشے کا گھر ملا تھاجس کو وہ بہت احتیاط سے سنبھال کر رکھتا تھا لیکن آئے روز کوئی نا کوئی پتھر مار کر چلاجاتا۔۔
صبح کو وہ مرمت کرتاتورات کوکوئی پتھر اُٹھائے آجاتا، حتٰی کہ بعض دفعہ سوتے ہوئے بھی شیشے کے گھر پر حملہ ہوا تھا۔
اُس نے باہر ایک بورڈ لگوا یا۔
’’ براہِ مہربانی یہاں پتھرمت ماریں ‘‘
لوگوں نے بورڈپر لکھی تحریرکو یکسرنظرانداز کردیا۔
ایک روز تنگ آکراُس نے شیش محل کے باہر پتھر کی دیواریں چڑھادیں ۔

چھڑی

’’ مُسکراؤ‘‘
’’ جناب ! آپ کے ہاتھ میں چھڑی ہے ‘‘
’’تمہیں ضروں خوش رہناہوگا‘‘
’’ جی مجھے چھڑی سے ڈر لگتاہے ‘‘
’’میں کہتاہوں ہنسو‘‘
’’یہ دیکھیں میں چھڑی سے زخمی ہوگیاہوں ‘‘
’’ہنسو ورنہ میں مارڈالوں گا‘‘
’’جی اچھا ہنستاہوں ‘‘
ایک قہقہہ کہ جس میں آنسو اوردکھ شامل تھا۔
’’ آہا ! یعنی اب تم خوش ہو‘‘
’’جی ہاں، لیکن میں زخمی ہوگیا ہوں ‘‘
’’ہنسو اور ہنستے رہو‘‘
’’ جناب میں اِس سے زیادہ نہیں ہنس سکتا، تکلیف ہوتی ہے ‘‘
’’کمبخت نوکر تم کوئی بھی کام ٹھیک سے نہیں کرتے ‘‘
Image: Marc Chagall

Categories
فکشن

مظہر حسین سید کی دو کہانیاں

گناہِ کبیرہ

ہمارے چینل کے لیے یہ بات باعثِ اعزاز تھی کہ میں سب سے پہلے خود کش بمبار تک پہنچا تھا ۔ اس سے پہلے کہ کوئی اور رپورٹر یہاں پہنچے میری خواہش تھی کہ اس سے سب کچھ اگلوا لوں ۔
میرے پہنچنے تک پولیس اور عوام اس کی حسب توفیق خاطر مدارت کر چکے تھے ۔

اس کی عمر 17 ، اٹھارہ سال تھی ۔ اور شکل سے انتہائی غریب اور ہونق لگ رہا تھا ۔

تم خود کش دھماکہ کیوں کرنا چاہتے تھے ؟
جی مولوی صاحب کا حکم تھا ۔
مولوی صاحب ! مولوی صاحب سے تم کہاں ملے ؟
وہ پچھلے مہینے ہمارے گاؤں آئے تھے ۔ رات ہمارے گھر ہی رہے تھے اور ہم نے ان کے لیے بکرا بھی ذبح کیا تھا ۔

مولوی صاحب نے لوگوں کو مارنے کا حکم کیوں دیا؟
وہ کہتے تھے کہ یہ سب لوگ کافر ہو گئے ہیں اور ان کے خلاف جہاد فرض ہے ۔
تمہیں نہیں معلوم کہ تم بھی ان لوگوں کے ساتھ مارے جاتے؟
مولوی صاحب نے کہا تھا کہ تم جنت میں جاؤ گے۔ وہاں دودھ اور شہد کی نہریں ہیں اور حوریں تمہارا انتظار کر رہی ہیں ۔

تو مولوی صاحب خود کیوں خود کش حملہ نہیں کرتے ؟
جی پتہ نہیں

ہمہم ، اور کیا کہا مولوی صاحب نے ؟
جی وہ کہہ رہے تھے کہ اپریل فول منانا گناہ کبیرہ ہے اور حرام ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آدمی کی موت

گولی پیٹ کو چیرتے ہوئے گزر گئی تھی۔ شدید درد اور جلن کے احساس کے ساتھ معلوم نہیں وہ کتنے منٹ تک سرپٹ بھاگتا رہا اندھا دھند جھاڑیوں اور درختوں سے ٹکراتے ہوئے وہ مزید زخمی ہو چکا تھا ۔ اُس کی چیخیں پورے جنگل میں گونج رہی تھیں۔ دوڑتے دوڑتے وہ بے دم ہو کر گرا اور بے ہوش ہو گیا۔

جلد ہی وہاں ایک مجمع لگ گیا ۔ فوراَ بوڑھے حکیم کو طلب کیا گیا ۔ زخم کے بغور معائنے کے بعد اس نے سمجھنے کے انداز میں سر ہلا دیا ۔ شاید اس طرح کے زخموں سے اُس کا پالا پڑ چکا تھا ۔ سب اُس کی جانب سے کسی بات کے منتظر تھے ۔ مگر اُس کے چہرے پر گہری پریشانی کے سوا کچھ نہ تھا ۔ تشویش بڑھتی جا رہی تھی۔

سوالیہ نظریں زیادہ دیر تک انتظار نہ کر سکیں ۔

بولتے کیوں نہیں ہو بڈھے ! آخر اس شیر کو کیا ہوا ہے ؟ اور یہ بچ تو جائے گا ناں ! لومڑی نے تند لہجے میں پوچھا ۔
بوڑھے بندر نے نفی میں سر ہلایا ۔ نہیں یہ “آدمی کی موت” مرے گا ۔

Image: Ben Walker

Categories
فکشن

سائن بورڈ اور دوسری کہانیاں

جب چیخوف ہمارے گھر آتا ہے

جب چیخوف ہمارے گھر آتا ہے تب ہمیں اسکی مہمان نوازی سے زیادہ گھر کی چیزوں کی فکر ہونے لگتی ہے۔ اگر آپ سمجھ رہے ہیں کہ چیخوف کوئی چور ہے، تو نہیں، آپ غلط سمجھ رہے ہیں۔ میں بھی آپکی غلط فہمی میں برابر کا شریک ہوں کہ میرا انداز تشکیک آمیز ہے۔ جب چیخوف ہمارے گھر کے نمبر پر فون کر کے کہتا ہے کہ وہ ٹالسٹائی کے پاس گیا تھا اور اس نے سوچا کہ ہماری طرف بھی آ جائے تو ہمارے گھر میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ ہم سادہ سا کھانا بناتے ہیں، جس میں چاول شامل نہیں ہوتے۔ چیخوف کو چاول پسند نہیں۔ انہیں کھانے کے دوران اسے پانی زیادہ پینا پڑتا ہے اور زیادہ تر حصہ پانی ہی گھیر لیتا ہے اور اسے لگتا ہے کہ اس نے کافی کھا لیا ہے، لیکن تھوڑی دیر بعد پھر سے بھوک لگنے لگتی ہے، لیکن وہ اس کا اظہار نہیں کرتا۔

مجھے لگتا ہے کہ میں چیخوف کو سمجھتا ہوں۔ میں چائے بنوانے جاتا ہوں اور ساتھ ہی بسکٹ بھی لیتا جاتا ہوں۔ چیخوف کو چاکلیٹ پسند نہیں۔ اسے چائے میں بسکٹ ڈبونا بھی اچھا نہیں لگتا اور چائے پیتے وقت منہ سے نکلنے والی آواز تو اسے بالکل بھی اچھی نہیں لگتی۔ چیخوف اس بیزاری کا اظہار نہیں کرتا۔ اس کا کہنا ہے کہ تہذیب یافتہ افراد چڑتے نہیں، اور تہذیب یافتہ ہونا فقط چائے میں بسکٹ نہ ڈبونا یا چائے پیتے وقت آواز نہ نکالنا ہی نہیں بلکہ اگر کوئی ایسا کرے تو اس پر شور نہ مچانا بھی تہذیب یافتگی ہی ہے۔ ہم ایسا کر سکتے ہیں، اس لئے کہ ہم جانتے ہیں چیخوف بھی ہمیں سمجھتا ہے۔

دراصل چیخوف جب ہمارے گھر آتا ہے تو ہمارے دادا کی جوانی میں خریدی گئی بندوق، جو دیوار کیساتھ لٹک رہی ہوتی ہے، کو دیکھ کر پوچھتا ہے کہ کیا کبھی اسے استعمال کیا۔

میں کہتا ہوں کہ کبھی نہیں۔

تب وہ کہتا ہے کہ اس وعدے کا کیا فائدہ جو آپ نے کبھی نبھایا ہی نہ ہو۔ یہ بہت عجیب توجیح ہے لیکن اس کے بعد وہ نقلی تصویروں پہ بھی بولنے لگتا ہے اور کبھی تو روغن پر بھی، جیسے وہ سبز رنگ کو دیکھ کر پوچھتا ہے کہ امن صرف رنگ میں ہی نہیں چھپا ہوتا بلکہ اپنی روح کو بھی سبز کرو۔

میں چیخوف کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں، لیکن پھر چھوڑ دیتا ہوں اور خود کو کہتا ہوں کہ آئندہ یہ بندوق یا ایسی فضول چیزیں ہماری بیٹھک کا حصہ نہیں ہوں گی۔

چیخوف مجھے نکولائی کی طرح پیار کرتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ میں نکولائی کی طرح ہوں۔ معصوم اور بے ضرر۔ اسی لئے وہ میری بہت سی بیوقوفیوں کو برداشت کرتا ہے۔

ہم اسی طرح باتیں کرتے ہیں اور پھر اچانک چیخوف مجھ سے ہوچھتا ہے کہ محبت یا نفرت میں کونسی چیز زیادہ مظبوط ہوتی ہے۔ میں نے اسکے ڈرامے پڑھ رکھے ہیں اور میں جواب دیتا ہوں کہ باہمی نفرت۔ چیخوف ہلکا سا ہنستا ہے۔

وہ آگے بڑھتا ہے کہ چائے کپ میں ڈال سکے۔ میں آگے بڑھ کر اشارہ کرتا ہوں کہ میں ڈالتا ہوں۔
وہ چائےکا گھونٹ بھرتا ہے اور پوچھتا ہے کہ سب سے اچھا مہمان کونسا ہوتا ہے۔
میں جواب دیتا ہوں : جیسے آپ

سائن بورڈ

اگر ہم دو کلو میٹر پیدل چل کر “کیفے ہوٹل” جاتے ہیں تو اس کی دو ہی وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ اس ہوٹل کا مینجر ہمیں پسند کرتا ہے۔ دوسری یہ کہ ہم اس کے ایک بیرے کو پسند کرتے ہیں جو بھارتی فلموں کا شائق ہے اور خود کو انوپم کھیر کا پرستار کہتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انوپم کھیر بہترین اداکار ہے، لیکن وہ اکثر بنیاد پرست بن جاتا ہے یا یہ کہ وہ نیشنل سکول آف ڈرامہ کا پڑھا ہے اور نصیر الدین شاہ کے بر عکس ادبی محفلوں میں آنے سے بھی کترا جاتا ہے۔ ہم بھی انوپم کھیر کو پسند کرتے ہیں، ہم نے بھی”سارنش” دیکھ رکھی ہے اور انوپم کو دیکھ کر ہم سوچتے ہیں کہ آپکی شکل اچھی ہو تو گنجا پن کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ جب ہم، یعنی میں، میرا دوست اورحان اور احسن اچھی شکل اور گنجے پن کے بارے بات چھیڑتے ہیں، ایسے میں وہ بیرا، جس کا نام۔۔۔۔( معاف کیجیے ہم نے کبھی اس سے اس کا نام نہیں پوچھا ) اوم پوری کا زکر چھیڑ دیتا ہے، جس کی شکل بھی واجبی سی تھی اور بال بھی چپچپے، تب ہماری بحث یکدم سیاسی ہو جاتی ہے۔ اس دوران ہمارے ذہن سے اس بیرے کا خیال نکل چکا ہوتا ہے۔

میں ثابت کر سکتا ہوں یہ اداس کر دینے والی کہانی ہے

کہانی شروع ہو گئی ہے. آپ نے عنوان کے بارے سوچنا شروع کر دیا ہے. آپ سرورق دیکھنے لگے ہیں اور سوچتے ہیں کہ کیا اوپر موجود تصویر اسکے پہلے صفحہ کی طرح ہے یا بیچ میں بننے والے مناظر کی یا آخری صفحوں میں یکدم سفید ہو جانے والے بالوں کے حامل شخص کی. آپ اپنے دکھوں کو سوچنے لگے ہیں اور اس کہانی کے کرداروں کو بھی. آپ اپنا موازنہ ہیرو کے ساتھ کرنے سے کترانے لگے ہیں. آپ سوچنے لگے ہیں کہ آپکو بھوک نہ لگے اور آپ بنا کھائے ہی سو جائیں. آپکی خواہش ہے کہ کاش آپ یہ کہانی نہ پڑھتے. آپ اس کتاب کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔

آپ اس کے ابتدائی صفحات کو اس لئے پڑھنے لگے ہیں کہ بھول جانے کو طاری کر لیں کہ آپ نے بس یہی پڑھے ہیں اور آگے کیا لکھا ہے آپ نہیں جانتے

آپ کتاب کو بند کر کے نارمل ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور یا تو سو جاتے ہیں یا ماں کے پاس بیٹھ جاتے ہیں اور انتظار کرتے ہیں کہ وہ کوئی ایسی بات کرے گی جسے سن کے آپ ہنسنے لگیں گے اور سوچیں گے وہ کتنی معصوم ہے۔
آپ کے ذہن میں خیالات کا جھکڑ چل رہا ہے. آپ خود کو جہاں دیدہ سمجھنے لگے ہیں.
کہانی ختم ہو چکی ہے.

Categories
فکشن

افسانچے (جنید جاذب)

مزید مائیکرو فکشن پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
عُریاں فاصلے

’’ بھائی تو پہلے سے ہی اس آفت کا مارا تھااب بہن کو بھی چسکا پڑ گیا ہے‘‘ رسوئی سے آواز آئی۔
’’پتھر بنے بیٹھے ہیں۔مجال ہے جو ایک دوسرے سے بھی کوئی بات کر لیں ‘‘رسوئی سے ملحق لِونگ ایریا سے تائیدی سا ردعمل آیا۔
لابی کے اس طرف والے کمرے میں،ایک دوسرے سے گزبھر کی دوری پہ بیٹھے،دونوں بہن بھائی اپنے اپنے فرضی ناموں سے، انٹرنیٹ پر چیٹنگ میں مصروف تھے۔
معروف کی دوستی نفیسہ سے تھی جب کہ عافیہ کسی ساحل سے پینگیں بڑھارہی تھی۔ بات آگے بڑھی تو اپنا اپناایڈریس بھی ایکسچینج کیا گیا۔ساحل کے ایڈرس میں اپنے ہی شہر کا نام دیکھ کر عافیہ کچھ جھجکی ضرور،کیوں کہ ایسے تعلقات میں شہربھر کی دوری کو ترجیح دی جاتی ہے،لیکن اس نے اپنے شہر کا نام کچھ اور بتادیااور چیٹ جاری رکھی۔فرضی ناموں سے چیٹنگ کا یہ فائدہ رہتا ہے کہ کتنا بھی کھُل جائو،ایک دفاعی پردا، یا ایک محفوط فاصلہ، ہمیشہ بنا رہتا ہے۔ کل کلاں بات بگڑ بھی جائے تو کم سے کم ایک دوسرے کو سرِعام گھسیٹنے کی نوبت نہیں آتی۔
ڈِسکشن کچھ کچھ ’ نان ویج‘ رنگ پکڑنے لگی توعافیہ اپنے کمرے میں جانے کے لئے اُٹھ کھڑی ہوئی۔ ایک نظر بھائی کی طرف دیکھا جو اِس کی موجودگی سے بے نیاز اپنے مصروف تھا۔وہ مسکرا کراپنے کمرے میں آ گئی۔دروازہ بند کیا اور چیٹ پہ بحال ہو گئی۔
’’اپنے روم میں آگئی‘‘
’’تو ابھی تک کہاں تھی‘‘
’’بھائی کے روم میں گئی تھی کسی کام سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈونٹ وری، آئی ایم بیک اِن مائی روم ناو۔۔۔بولو کیا پوچھ رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’عافیہ۔۔۔۔۔۔یہ تم!!؟؟؟؟؟؟؟؟‘‘ میسج کے ڈیلیور ہوتے ہی دوسرے کمرے سے معروف چیخا۔

داغ

شادی کے چار سال بعدبھی بے اولادہونے کا صدمہ ہی کچھ کم نہیں تھا کہ اب بیوی بھی طلاق کا مطالبہ کر بیٹھی تھی۔ہزار سمجھانے بجھانے بلکہ منت سماجت تک کرنے کے باوجود وہ اپنی ہٹ دھرمی پہ اڑی رہی اور ایک دن اسے اور اس کے گھر کو لات مار کرچلی گئی۔دبے لفظوں میں لپٹا نامردی کے الزام کا جوگولہ وہ جاتے جاتے اس کی جانب داغ گئی تھی وہ ہائیڈروجن بم کی طرح پھٹ کراس کی انا اور اِمیج دونوں کے چیتھڑے اڑا گیا۔
گو یہ کام اتنا آسان نہیں تھا لیکن وہ کسی بھی طرح اس داغ کو مٹا کر اپنی ساکھ اور سکون بحال کرنا چاہتا تھا۔
والدین اور دوستوں کی رائے اور کوششوں سے بالآخر ایک نو عمر لڑکی کے ساتھ اس کی شادی ہو گئی۔لڑکی نے ڈیڑھ دو سال میں ہی اسے باپ بناکر اس پر لگے بھدے داغ کو دھو ڈالا۔لیکن اس کے اندرون میں جو ایک اور داغ پھیلتا جا رہا تھااسے سمجھ میں نہیں آرہاتھا کہ اس کا ازالہ وہ کیسے کرے۔

ضرورت

اس کے ساتھ قطع تعلق کرنے والوں میں سب سے آخری،لیکن سب سے شدید، اس کی بیوی تھی۔
’’میں آج سے اپنا کمرہ الگ کررہی ہوں اور تمھارے ساتھ کوئی واسطہ نہیں رکھنا چاہتی۔۔۔۔۔‘‘وہ روہانسی ہو گئی لیکن پھر فیصلہ کُن انداز میں بولی،’’۔۔۔۔ میں ایک دہریے کے ساتھ ایک بستر پہ کیسے سو سکتی ہوں۔۔۔۔۔ دہریت کے تمھارے اس اعلان کے ساتھ ہی شرعا ً ہم میں میاں بیوی کا رشتہ ختم ہوچکا ہے‘‘
وہ خود کماتی تھی اس لئے شوہر سے الگ ہونے کے باوجود اس نے تینوں بچوں کو دینی اوراعلیٰ عصری تعلیم دلوائی اور بہترین مسقبل کی خاطر بدیس بھیج دیا۔
برسوں بعدایک دن وہ اسے بازار میں مل گئی تو وہ اسے چھوڑنے گھرتک آگیا۔
’’ آئو۔۔۔۔۔‘‘
’’مگر۔۔۔۔۔۔۔‘‘ وہ جھجھک گیا۔
’’اوہم م م م مم م‘‘ اور وہ بازوسے پکڑکر اُسے اندر لے گئی۔
چائے اور سنیکس کے بعد وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
’’کہاں جا رہے ہو۔۔۔۔۔ رک نہیں سکتے‘‘
’’مگر۔۔۔۔۔۔ شرعاً ایک مومنہ اور ایک دہریہ۔۔۔۔‘‘
’’ایک دہریہ دوسرے دہرئے کے ساتھ تو رہ سکتا ہے نا۔۔۔۔۔‘‘

ارتقا

’’۔۔۔۔اس طرح ان سب شواہد سے اب یہ بالکل واضح ہو چکا ہے کہ ہم انسان، یا یوں کہہ لو کہ زندگی،اپنی موجودہ شکل کوپہنچنے سے پہلے کئی مرحلوں سے گزری ہے۔۔۔۔۔‘‘ نئے تعینات ٹیچر نے بائیو کی اپنی پہلی کلاس میں ہی طلبا کو اپنا گرویدہ بنا لیاتھا۔ اپنی رائے رکھنے اور ٹاپک پر کھل کر تبصرہ کرنے کے لئے اس نے طلبا کی بہت حوصلہ افزائی کی۔
دوسری کلاس میں بھی اس نے نامیاتی ارتقا(EVOLUTION) پر ہی ڈسکشن آگے بڑھائی۔
’’خرد بینی اور یک خلیہ جانداروں سے آہستہ آہستہ بڑے جانداروں نے ترقی پائی۔۔۔سادہ ساخت جانوروں سے پے چیدہ ساخت والے جانوروں نے اور پھر ان سے انسان نے ترقی پائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دوسرے لفظوں میں ہم ایک لمبے پروسس کے بعد جانور سے انسان بنے ہیں اور پھر دھیرے دھیرے جنگلی اور وحشی انسان سے مہذب اور سماجی انسان‘‘
ایک بچہ جو ابھی تک صرف غور سے سن رہاتھا، پہلی بار کچھ پوچھنے کے لئے کھڑا ہوا، ’’سر یہ نامیاتی اِرتقا اب رِیورس (reverse) نہیں ہوسکتا ؟‘‘

گھرکا معاملہ

’’میں نے دروازے پہ کیمرو والی ڈور بیل نہیں لگوارکھی۔ دروازہ کھولنے کے لئے بھی میں زیادہ تر ریمورٹ کا استعمال نہیں کرتی۔ جب بھی کوئی دستک دیتا ہے میں دروازہ کھولنے سے پہلے کی ہول(keyhole) سے ایک نظر دیکھ لیتی ہوں۔آج جب دروازہ ٹھوکنے کی آواز آئی تو میں نے حسبِ معمول کیِ ہول سے باہرجھانکنا چاہا لیکن وہ بند تھا۔ کی ہول میں چابی ڈالے کوئی مسلسل گھمائے جارہاتھا۔میں نے پلٹ کر دیکھا میری چابیاں اپنی جگہ پر موجود تھیں۔
میں نے ہڑبڑاہٹ پر پوری طرح قابو پاتے ہوئے بلڈنگ کے سیکیورٹی گارڈ کا نمبر ڈائل کر دیا۔
دروازے کے باہر اچانک فون کی رِنگ ٹون گونجی اورکوئی ہڑ بڑا ہٹ میں چابی دروازے میں ہی چھوڑکر بھاگ گیا‘‘۔
انسپکٹرنے میرا بیان لکھوایا اور بولا’’ میڈم یہ تو آپ کا گھریلو معاملہ لگتا ہے۔۔۔ گھر کی بات گھر میں ہی نپٹا لو، باہر کیوں پھیلا رہے ہو‘‘

ثواب

’پاپا یہ قربانی کیا ہوتی ہے؟‘ چوں کہ بقر عید قریب آ رہی تھی، قربانی کی اصطلاح ننھا کہیں سکول میں سن کر آیا تھا۔
’بیٹے قربانی۔۔۔۔۔۔مطلب۔۔۔۔۔۔sacrifice۔یعنی خدا کی خوش نودی کے لئے اپنی کسی پیاری چیز کو قربان کردینا‘
’خدا کیوں چاہتا ہے کہ اس کے بندے اپنی عزیز چیز اُسے دے دیں‘
’نہیں بیٹا خدا کو بندوں سے کوئی چیز درکار نہیں ہوتی۔۔۔انسان اپنا یہ عہد تازہ کرنے کے لئے کہ وہ خدا کی رضا کے لئے کچھ بھی کر سکتا ہے،کچھ بھی چھوڑ سکتا ہے،حتیٰ کہ اپنی پیاری سے پیاری چیز بھی قربان کر سکتا ہے۔۔۔۔۔وہ قربانی کرتا ہے تاکہ ثابت کرے کہ وہ دنیوی چیزوں اور خواہشوں کا غلام نہیں بلکہ۔۔۔۔۔۔۔‘
’اچھا ‘ منا نے ایسے کہا جیسے ساری بات سمجھ کرمطمئن ہو گیا ہو۔
بقر عید کے دوسر ے روز مجھے پھر پکڑ لیا
’پاپا آپ کہتے تھے اپنی پیاری چیز قربان کرنا قربانی ہوتا ہے۔‘
ہاں تو‘
’مگر یہاں قربانی تو جانوروں نے دی اپنی پیاری جان کی۔۔۔۔اللہ کے بندوں نے توکچھ بھی قربان نہیں کیا۔۔۔۔مزے لے لے کے کھایا۔۔۔۔۔اب ثواب کس کو ملے گا جانوروں کو یا انسانوں کو؟‘
کیا جانوروں کو ثواب ملے گا‘

Categories
فکشن

ایلکس ایپسٹائن کی کہانیاں

  1. لکھنے کی آخری گائیڈ
    ایک لمبا سانس لیں اور تب تک لکھیں جب تک سفید کاغذ نیلا نہیں ہو جاتا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  2. ایک تقریباً معمولی سی پریم کہانی
    پھولوں کی بجائے اس نے اس کو پھر سے ایک ٹوٹی ہوئی چھتری تحفہ دی۔ اس نے اسے ایک خالی برتن میں رکھا اور پانی ڈال دیا۔ اگلے دن چھتری کھل گئی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  3. امید
    مذہب کے خانے میں روبوٹ نے لکھا تھا : انسان
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  4. بارش کے مزید نام
    گرو کے شاگردوں نے پوچھا: زین کیا ہے؟
    اس نے جواب دیا: اگلے لمحے بارش ہو گی۔ یہ سنتے ہی وہ اسے بھیگنے سے بچانے کی خاطر چھتریاں لے آئے۔
    اگلے لمحے اس نے کہا: اس لمحہ بارش نہیں ہو گی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  5. پاتال
    گلی میں چلتے ہوئے آپ اپنے پیروں میں ایک کنکر محسوس کرتے ہیں۔آپ سستی محسوس کرتے ہیں اور خود کو یہ کہہ کر بہلاتے ہیں کہ گھر پہنچ کر اسے نکال دیں گے۔ اسی دوران آپ اسے بھول جاتے ہیں اور کنکر آپ کی زندگی کا ایک حصہ بن جاتا ہے۔ دوسرے دن آپکے جوتے میں دوسرا لنکر آ جاتا ہے۔ آپ کہتے ہیں گھر پہنچ کر آپ دونوں کنکر نکال دیں گے۔ گھر پہنچنے تک آپ سب کچھ بھول چکے ہیں۔ اگلے دن، اس سے اگلے دن۔۔۔۔اس سے اگلے دن بھی۔ یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ ایک ماہ بعد آپ چل پھر بھی نہیں سکتے، نہ اپنے جوتے ہی اتار سکتے ہیں۔ ابھی تو دنیا میں بہت سے کنکر باقی ہیں۔ آپ فیصلہ کرتے ہیں کہ گھر پہنچ کر آپ اپنے پاؤں ہی کاٹ دیں گے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  6. کروموسومز
    پرانے وقتوں کی بات ہے، کہتے ہیں : ایک لائٹ ہاؤس نے خود کو ایک کشتی میں تبدیل کیا اور سارے سمندر دیکھ ڈالے اور جب وہ واپس آ رہا تھا تو ایک چٹان سے ٹکرایا اور پاش پاش ہو گیا۔ دراصل، میرے لئے یہ قیاس کرنا بہت مشکل ہے کہ ایک شاعر، جس کا نام x ہے وہ سو کر اٹھے اور دیکھے کہ کل رات وہ Y نامی شاعر میں تبدیل ہو چکا ہے۔
Categories
فکشن

قبریں اور دیگر کہانیاں

youth-yell

مزید مائیکرو فکشن پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
قبریں
قبرستان میں بھی کتنی تفریق ہے،
امیر لوگوں کی قبریں،
عالیشان قبریں۔
کسی قبر کا تعویز سنگ مرمر کا تو کسی کا سنگ سرخ کا،
لوح پہ تحریر خوش نویس کاتبوں کے ہاتھ کی،خوش نما رنگوں سے مزین۔
درمیانے طبقے کی قبریں سیمنٹ کا تعویز اوپر چونے کا لیپ،ادھ مٹی لوح،شکستہ ادھ مٹے حروف،
جو پڑھے نہیں جا سکتے
غریب کچی قبریں،
بے سروسامان،بے نام و نشا ن جیسے ان کا کوئ والی وارث نہیں۔
رنگو گورکن جب رات کو
قبریں کھود کر ہڈیاں چراتا ہے،
حکیم بندو خان کو بیچنے کے لئے
تونہ جانے کیوں
ان سے نکلنے والےسب ڈھانچے
ایک جیسے ہوتے ہیں۔
رات
رات جب گاؤں کی گلیوں میں اترتی
تو وہ ایک زندہ رات ہوتی
طاقچے میں دیا روشن ہوتا
دیےکی لو پھڑپھڑاتی
روشنی آنگن میں رقص کرتی
بچپنے کا کھلنڈرا پن
ہم شور مچاتے آنگن میں کھیلتے
خوب ادھم مچتا
آوازوں کا شور آسمان سر پہ اٹھا لیتا
اب بڑھاپے کی دہلیز پہ
شہر کی اداس تنہا راتیں ہیں
ایک مردہ سی چکا چوند ہےاور
یادوں میں کہیں
ایک دیا اور ایک طاقچہ زندہ ہے
علاج
اس کے پاؤں کے تلوے ساری ساری رات جلتے رہتے، سوئے سوئے لگتا جیسے اس کے تلووں سے کسی نے دہکتے ہوئے انگارے چپکا دیئے ہوں۔حلق سوکھ کے کانٹا ہو جاتا ، زبان تالو سے چپکی رہتی، آنکھوں کی بینائی دھیمی پڑتی جا رہی تھی، رات کو پیشاب کے لیے بار بار اٹھنا پڑتا ، اس کی رات کی نیندیں حرام ہو چکی تھیں۔ شوگر نے اس کی زندگی اجیرن کر دی تھی۔ وہ پیر جی کا مرید تھا، پیر جی شوگر کے لیے چینی دم کرتے تھے۔ اس نے دم کی ہوئی چینی خوب کھائی، اس کی تمام تکلیفیں دور ہو گئیں۔۔۔۔ اب آرام سے قبر میں لیٹا ہے۔
Categories
فکشن

سرائے

مزید مائیکرو فکشن پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

رہنما

 

غار سے نکل کر بے نور پتلیوں والے شخص نے رنگ برنگا جھنڈا ایک طرف رکھا!

 

بغیر سروں کے انسانی ہجوم کو بیٹھنے کا اشارہ کیا!

 

پھر دوسرے ہاتھ میں پکڑے چھرے کو کھونٹے سے بندھے نوخیز غزال کے پیٹ میں گھونپ کر آزاد کر دیا۔

 

اس کے رستے خون سے چہرہ تر کیا اور روشنی کی دعا مانگی غزال گیت گاتا، قلانچیں بھرتا رخصت ہوا۔

 

آسمانوں پر پنکھ پھیلائے ساکت گدھ نظریں جمائے ہوے دور کے درندوں کو خبر دے رہے تھے۔

 

میں حیران تھا۔

 

تھوڑی دیر پہلے ہی تو الاؤ روشن ہوا تھا کہ
کارواں ان راستوں میں کھو نہ جائیں جو اندھیروں میں گم ہو رہے تھے۔

 

جب خوشبو دار پھول راہ دکھانے پر مامور کیے گئے۔

 

الاؤ بھڑ کانے کو کتنے خوشبو دار پھولوںٰ کتنی نازک کلیوں اور تروتازہ کونپلوں نے اپنا وجود آگ کے سپرد کیا !

 

مگر افسوس قافلے والے دکانوں سے رنگ برنگے جگنو خرید کر انہی کی پھیکی روشنی میں راستہ بھٹک کر پتھیریلی وادیوں کی طرف نکل گئے۔

 

سرائے

 

وہ دلاویز مسکراہٹ سے ہر آنے والے کااسقبال کرتی۔ اس کا والہانہ انداز ہر مسافر کو یہ باور کرواتا کہ جیسے اس کو بس اسی کا انتظار تھا۔ آنے والا ہر مسافر سرشار تھا کہ وہ اس کا خاص مہمان ہے۔

 

مسافروں کی سرشاری دیدنی ہوتی کہ جب طاقتِ اظہار نہ ہونے کے باوجود وہ ان کی ضرورتوں کو بھانپ جاتیٰ۔ مہمان کو کس وقت کیا چاہیے وہ بن مانگے پیہم خدمت میں ڈٹ جاتی۔

 

مسافروں کو اس کا قطعاً ادراک نہیں تھا کہ اقتصادی اصولوں کے پیش نظر ہر چیز کی ایک قیمت مقرر ہے۔ وہ تو بس اس کی خدمت سے محظوظ ہو رہے تھے۔

 

مسافروں کو سرائے میں ٹھہرے ہوئے جب چند دن گزرے تو ان کو احساس ہوا کہ اب اس کی مسکراہٹ میں ایک اکتاہٹ کا عنصر نمایاں ہو چکا ہے۔

 

وہ آج بھی ان کی خدمت میں کوشاں تھی مگر ایسا لگتا تھا جیسے اب یہ سب بادل ناخواستہ کر رہی ہے وہ نئے آنے والے مسافروں سے خاص عنایت برت رہی تھی جبکہ پرانے مسافر اس کی بے اعتنائی و کج روی کا شکار ہوچلے تھے۔

 

پرانے مسافروں میں سب سے بوڑھا شخص جسے آج بھی اس کی وہ شاندار اسقبالیہ مسکراہٹ روز اول کی طرح یاد تھی اور وہی اس کے بدلے ہوئے رویے پر سب سے زیادہ دلبرداشتہ بھی تھا دھیرے سے اٹھا اور اپنا سامان باندھنے لگا۔ اس کی ڈبڈباتی ہوئی ملگجی آنکھیں تصور میں اپنا پہلا وجود دیکھنے لگیں کہ جس پر اس قتالہ نے ایک نگاہِ غلط انداذ ڈالی اور اسے غیر مرئی زنجیر سے جکڑ لیا تھا۔
بوڑھا مسافر اپنا سامان باندھ کر جھکی ہوئی کمر پر ہاتھ دھرے دروازے کی طرف بڑھا جہاں وہ اپنی روایتی حشر سامانیوں سے لیس نئے مسافروں کا اسقبال کر رہی تھی۔

 

بوڑھا اس کے قریب سے گزرا مگر اس نے اسے یوں نظر انداز کیا جیسے جانتی ہی نہیں بوڑھا مسافر دل گرفتہ ہوکر اس کی بے وفائی پر آنسو بہاتا ہوا دروازے تک پہنچا تو ایک آواز سماعت سے ٹکرائی سنیے !!!

 

یہ اسی کی مدھر آواز تھی۔ مسافر کی آنکھیں فرط مسرت سے جگمگا اٹھیں۔ تمام وسوسے دم توڑ رہے تھے وہ اسے بلا رہی تھی بوڑھے نے خود کو ملامت کیا کہ کیوں کر وہ اسے بے وفا سمجھا وہ تو اسے بلا رہی ہے۔

 

بوڑھے نے گھوم کر اس کی طرف دیکھا وہ اسی طرح شاداب تھیں کئی ہزار سال کی عمر پانے کے باوجود وہ اتنی ہی تر و تازہ تھی بولی حضور معذرت چاہتی ہوں گر خدمت میں کوئی کوتاہی ہوئی ہو اب آپ سے حساب ہو جائے؟

 

بوڑھے نے مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھا اپنی بند مٹھی اس کی طرف بڑھائی اور اپنی روح اس کی ہتھیلی پر رکھ دی۔