Categories
نان فکشن

زندگی کی تاریکی پر فتح پانے والی حسینہ؛ فاطمہ سیاد

دنیا خوبصورت لوگوں کے اشتراک سے حسین بنی ہے، کسی نے اپنے جمال کا حصہ ڈالا، تو کسی کے بلند حوصلوں نے۔ افریقہ کے ایک غریب ترین ملک صومالیہ میں پیدا ہونے والی کم عمر لڑکی نے کچھ خواب دیکھے، اس کے راستے میں وحشتیں، قتل و غارت، غربت، فاقہ کشی سمیت سارے کانٹے قدرت نے بوئے، وہ ایک ایک کر کے انہیں عبور کرتی چلی گئی، اب بھی وہ راستے میں ہے، لیکن اپنی ہمت سے منزل کی طرف رواں دواں ہے، اس کا نام’’فاطمہ سیاد‘‘ ہے، والدہ کا تعلق صومالیہ سے جبکہ والد کا ایتھوپیا سے ہے۔

فاطمہ کبھی ہمت نہیں ہاری اور ہمیشہ اپنی خوبصورتی کو سمیٹے رکھا

’’فاطمہ سیاد‘‘ عالمی فیشن کی دنیا میں اس وقت نمبرون ہے۔ عہد حاضر میں فیشن کی دنیا سے مقبول ترین سیاہ فام ماڈلز میں ممتاز ترین ہے، اس کا شمار سیاہ رنگت والی دس معروف ترین ماڈلز میں سے دوسرے نمبر پر ہوتا ہے۔ اس کا کیرئیر مختصر اور عمر کم ہے، مگر ہر گزرتے دن کے ساتھ کامیابیوں کا تناسب بڑھتا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے یہ شہرت کی نت نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ اس میں ایک حد تک اس کی ہمت اور حوصلہ کا کمال ہے، لیکن سب سے دلکش پہلو اس کی خوبصورتی ہے، اس نے اپنے اندر اور باہر کی خوبصورتی کے امتزاج سے ایک ایسی کشش پیدا کر لی ہے، بہت غور سے دیکھنے پر فنی کمال کا یہ سحر محسوس ہوتا ہے۔

فاطمہ سیاد ووگ سمیت متعدد موقر جرائد کے سرورق کی زینت بن چکی ہیں

افریقہ کے ایک غریب ملک میں پیدا ہونے والی’’فاطمہ سیاد‘‘ کی پیدائش کا سال 1986 ہے، اس کا ملک طویل عرصے سے خانہ جنگی کا شکار ہے، جب اس نے ہوش سنبھالا، تو یہی ماحول اس کے اردگرد تھا۔ ابھی کم عمر ہی تھی، تو والدین کے درمیان طلاق ہوگئی، زمانے کی تلخیاں، گھر سے ملنے والے ذاتی دکھ کم نہ ہوئے تھے کہ ملک میں جاری خانہ جنگی نے اس کی دو بہنوں کی جان لے لی، وہ صومالی فوج کے ہاتھوں ماری گئیں، اس کے بعد زندہ رہ جانے والی ماں بیٹی اپنی جان بچا کر امریکا پہنچیں، اس وقت یہ صرف 13 برس کی تھی، اس کو بالکل اندازہ نہیں تھا، زندگی اس کے بارے میں کیا طے کر رہی ہے۔ اتنی کمسنی میں جھیلنے والے عذاب نے اس کی شخصیت کو وقتی طور پر کم گو اور خاموش بنا دیا۔

امریکا میں قیام کے دوران اس نے تعلیم حاصل کرنا شروع کی، تو اس کی شخصیت میں اعتماد آنا شروع ہوگیا اور یہ ایک نارمل زندگی گزارنے کی طرف لوٹنے لگی۔ اس نے امریکی شہروں بوسٹن اور نیویارک سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد فیشن کی صنعت میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اپنی خواہش کو عملی جامہ پہنانے کے لیے راہیں تلاش کرنا شروع کیں، یوں اس کو فیشن کی دنیا میں داخل ہونے کا راستہ مل گیا۔ سب سے شاندار بات یہ تھی، اس نے ہمت نہ ہاری اور اپنی ظاہری و باطنی خوبصورتی کو سمیٹے رکھا، یہی حسن اس کی زندگی میں مشعل راہ بنا۔ چند برسوں کی جدوجہد کے بعد فیشن کی طرف جانے والے راستوں اور حوالوں سے اس کی شناسائی بڑھنے لگی، جس کے نتائج بھی جلد برآمد ہونے لگے۔

’’فاطمہ سیاد‘‘ نے جہاں ایک طرف اپنے کیرئیر کو آگے بڑھانے کے لیے کوششیں کی اور ماڈلنگ سے عملی زندگی کا آغاز کیا، وہیں کچھ ایسے منصوبوں کا بھی حصہ بنی، جس کو کہا جا سکتا ہے، اس نے زندگی کے چیلنج کے طور پر قبول کیا، اس میں سے ایک امریکی ٹیلی وژن کا مقبول پروگرام’’America’s Next Top Model-ANTM‘‘ تھا، جس میں سخت مقابلے کے بعد اس نے تیسری پوزیشن حاصل کی، اس پروگرام پر امریکی نوجوان نسل کی نظریں تھیں، یہاں سے اس کی شاندار شہرت کی ابتدا ہوئی۔

اس وقت وہ جرمنی میں رہائش پذیر ہے، شادی کر چکی ہے، د وبیٹے ہیں اور کامیابی کے ساتھ کیرئیر کو آگے بڑھا رہی ہے اور ایسی عورتوں کے لیے مثال ہے، جنہیں زندگی میں بیک وقت کئی محاذوں کا سامنا ہوتا ہے، مگر وہ پھر بھی فاتح رہتی ہیں۔ امریکا، جرمنی، فرانس، برطانیہ، یونان سمیت دنیا بھر کی فیشن کمپنیوں کے ساتھ کام کر رہی ہے، اب تک کئی بڑے معروف فیشن برانڈز اور مصنوعات کی تشہیری مہم میں شامل ہے، اس میں کوکا کولا کا اشتہار سرفہرست ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ کئی فیشن میگزین کے سرورق کی زینت بھی بن چکی ہے۔ ان رسائل میں امریکا کا معروف جریدہ ووگ، آسڑیلیا کا ہارپر بازار اور کاسموپولیٹین اور برطانیہ کالُک میگزین شامل ہیں۔ ان ممالک کے علاوہ یورپ، افریقہ اور ایشیا کے کئی ممالک میں شائع ہونے والے جرائد کے سرورق بھی اس کی تصاویر سے مزین ہو چکے ہیں۔ سوئزرلینڈ کی مصنوعات سمیت دنیا کے بڑے بڑے برانڈز کے ساتھ اس کا اشتراک اور کیا جانے والا کام قابل رشک ہے، دنیا کے تمام بڑے فیشن شوز میں بھی اس کی شمولیت لازمی ہوتی ہے۔ اتنی کم عمری میں جس برق رفتاری سے کامیابیاں سمیٹی ہیں، وہ بے مثال ہے۔

زندگی میں اتنی کامیابیاں سمیٹنے کے بعد یہ اب ایک مکمل طور پر بدلی ہوئی اور پراعتماد لڑکی ہے، پوری دنیا سے اس کے مداحین سوالات پوچھتے ہیں، جن کے جوابات یہ بڑی خندہ پیشانی سے دیتی ہے۔ اپنے اب تک کیے ہوئے فوٹو شوٹس میں اس کو وہ فوٹوشوٹ بہت پسند ہے، جس میں اس کے سیاہ بدن کو ہرے لال اور پیلے رنگوں میں نہلایا گیا۔ رنگوں کے امتزاج سے اس کی سیاہ رنگت بھی دو آتشہ ہو جاتی ہے۔ امریکی اداکار آرنلڈ شوازنیگر اور پاکستان سے تعلق رکھنے والی ملالہ یوسف زئی بطور شخصیات اسے بہت پسند ہے۔

زندگی نے جب اس کو راحت لوٹائی، تو اس نے اپنی جڑوں کے بارے میں سوچا، پھر ایک بار اپنے آبائی ملک صومالیہ گئی، وہاں کے مقامی افراد میں گھل مل گئی، اس دورے میں اس نے اپنے آپ کو ایک نئے سرے سے تلاش کیا۔ زندگی کا دیا ہوا اعتماد اب بھی اس کے کام آرہا ہے، یہ دنیا بھر کے اہم موضوعات پر بات کرتی ہے، امریکی اور یورپی فیشن انڈسٹری کی منافقت اور گروہ بندیوں کو بھی زیربحث لاتی ہے، سب سے بڑھ کر اس نے خود کو ہر طرح کے اسکینڈل سے بچا کر رکھا ہوا ہے اور پوری توجہ کام پر ہے، یہی وجہ ہے، وہ بہت کم وقت میں تیزی سے اپنے خوابوں کی تعبیر حاصل کر رہی ہے، یہی اس کی کامیابی کا راز ہے، جس کو اس نے کامل ایمان سے اپنی زندگی کا حصہ بنا رکھا ہے۔

شہرت پانے کے بعد فاطمہ سیاد نے صومالیہ میں اپنی جڑوں کو پھر سے تلاش کیا

سیاہ رنگت والی اس حسینہ نے، زندگی کی تاریکیوں پر مکمل فتح حاصل کرلی ہے۔ اب یہ جرمنی کے پوش علاقے میں اپنے خاندان کے ہمراہ رہتی ہے، کبھی کبھار ماضی کی پرچھائیاں، والدین کی جدائی، بہنوں کا دردناک قتل اور ایسی کئی یادیں اس کو پریشان ضرور کرتی ہیں، مگر وقتی طور پر۔۔۔۔ اب اس نے تقدیر سے ہر کام کا حساب اپنی محنت کے ذریعے وصول کرلیا ہے۔ زندگی کی تاریکیوں پر فتح پانے والی ایسی سیاہ حسینہ، جس نے زندگی کی سیاہ راتوں کا مقابلہ اپنے حوصلہ اور حسن کی طلسمی سیاہی سے کیا اور اس جادو کااثر،کامیابیوں کی شکل میں تا حال جاری ہے۔۔۔۔۔۔

Categories
فکشن

حکمرانوں کاحسین انتخاب: للی لینگٹری

‘بدن کی بینائی’ سلسلے کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

صورت میں خوب کا اضافہ ہوجائے ،تو خوبصورتی جنم لیتی ہے، اس میں قسمت اورمحنت دونوں کاحصہ ہوتا ہے، بہت کم ایسے لوگ دنیا میں گزرے ہیں، جن کو یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ ملی ہوں۔ للی ایسی ہی خوبصورت عورت تھی،جس کی قسمت میں حُسن تھااورمزاج میں محنت کاجذبہ بھی۔ شہرت کی دیوی اس پر مہربان رہی اوراس نے اپنے خوابوں کے تعاقب میں کئی دنیائوں کاسفر کیے۔ برطانیہ کی شاہی زندگی پر بھی اس کے حسن کا جادو سرچڑھ کر بولتا رہا۔

 

للی 1853کو’’جرسی‘‘نامی جزیرے کے ایک نمایاں گھرانے میں پیدا ہوئی۔ اس کے والد اپنے علاقے کے ناظم تھے۔ اس کی شادی آئرش زمیندارسے ہوئی، جس کانام”ایڈورڈ لینگٹری۔ ۔للی نے اپنی ذاتی اورپیشہ ورانہ زندگی میں کئی معاشقے کیے،جس میں سرفہرست معاشقہ جس سے چلا،اس عاشق کانام پرنس لوئس آف بیٹنبرگ۔Prince Louis of Battenberg”تھا۔ دونوں نے شادی تو نہ کی، مگر ان میں محبت کی گواہی کے طورپر ایک بیٹی کی پیدائش ہوئی اوربرطانیہ میں یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی۔

 

للی لینگٹری ایک کافی کمرشل میں

 

پرنس لوئس کی شادی برطانیہ کی ملکہ وکٹوریہ کی پوتی سے ہوئی،جس سے پیدا ہونے والی اولاد میں سے ایک بچہ آگے چل کر برصغیر کی سیاست پر بھی اثر انداز ہوا،اس کانام “لارڈ مائونٹ بیٹن۔Lord Mountbatten‘‘تھا،جوبرصغیر کا پہلا وائسرراے اور انڈیا کا پہلا گورنرجنرل بنا۔ جواہر لال نہرو نے اس کی بیوی سے معاشقہ بھی چلایا تھا، جس کی تفصیلات مورخین نے بیان کیں۔ایک طرح سے للی کو مائونٹ بیٹن کی سوتیلی ماں بھی کہا جا سکتا ہے، جبکہ للی کی حقیقی بیٹی”جینی مائر۔Jaenne Marie” بھی لارڈ مائونٹ بیٹن کی سوتیلی بہن ہوئی۔

للی کے دیگر معاشقوں میں ایک اور معروف معاشقہ ملکہ وکٹوریہ اول کے بیٹے،پرنس آف ویلز”البرٹ ایڈورڈ۔Alber Edward”سے ہوا، جو آگے چل کر برطانیہ کا بادشاہ”ایڈورڈ ہفتم۔Edward VII”بنا۔اس کاایک اورعاشق”رابرٹ پیل۔Robert Peel”تھا،جو برطانوی وزیراعظم بھی رہا۔ان کے علاوہ معروف آئرش ادیب “آسکر والڈ۔Oscar Wilde”اورامریکی آرٹسٹ “جیمزمیکنلی ویسلر۔James McNeill Whistler”بھی بہت قریبی دوستوں میں شامل رہے۔ان کے علاوہ کئی معروف شخصیات اس سے متاثر رہیں،جن میں سے بہت سارے طبقہ اشرافیہ سے تعلق تھے۔ پرنس لوئس اورایڈورڈ ہفتم سے معاشقوں میں للی نے جیسی شاہانہ زندگی گزاری،ا س طرح سے دیکھا جائے تو یہ شاہی خاندان کا حصہ ہوتے ہوئے بھی نہیں تھی۔ اس حسین خاتون کی زندگی کا یہ بیک وقت روشن اور تاریک پہلو تھا۔

ایک زمیندار کی بیوی تھی، زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کو اس سے اچھی ابتدا اور بھلا کیا ہو گی۔ اس میں بھرپور اداکارانہ صلاحیتیں تھیں، جن کا استعمال اس نے پیشہ ورانہ اورذاتی زندگی میں بھرپورطریقے سے کیا۔ تھیٹر کے شعبے سے وابستہ رہی اوراسٹیج پر حکمرانی کی۔شاعری کے ذریعے دلوں کوبھی فتح کیا۔اس وقت کے سماج میں اعلیٰ رتبے پر فائز رہی ،ہرتقریب کی رونق اورشمع محفل بنی۔

 

للی نے پیشہ ورانہ زندگی میں بڑے کامیاب فیصلے کیے،اس نے تھیٹر کمپنی بنائی،جس کی تشہیر اورکام کے لیے وہ امریکا تک جاپہنچی،اس نے ہر وہ طریقہ اختیارکیا،جس سے اس کی شہرت اورطلب میں اضافہ ہوسکتاتھا۔اس کی شخصیت میں ذہانت اور مزاج میں شگفتگی نے اس کے حسن کو دوآتشہ کردیا۔وکٹوریہ سماج میں اپنے خوابوں کو پانے کے لیے للی نے اپنی شخصیت کو کئی تنازعات میں الجھا دیا، مگر اپنے اہداف نہ بھولی۔محفلوں کی جان بننے والی اکثر اپنے گھر کے باغیچے میں تنہا اپنی زندگی کے نشیب وفرازکے بارے میں سوچتی تھی۔

 

آدھی صدی تک دلوں پر راج کرنے والی اس حسین خاتون نے کبھی ہمت نہ ہاری۔ ایک مرتبہ بیماری نے اس طرح آن گھیرا کہ بڑی مشکل سے یہ موت کے منہ سے واپس آئی۔ بنفشی آنکھوں والی اس حسینہ نے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کربات کی۔ فیشن کی دنیا میں بھی اپناحسن ثابت کیا،ایک وقت ایسا آیا،جب اس کے انداز اورادائیں ہی فیشن کے طورپر قبول کی جانے لگیں۔معاشرے میں بسنے والے ہرطبقہ اس کے جمال کی تپش محسوس کرتااورمنتظر رہتا،اب یہ اپنا جلوہ کس پر گرائے گی اوروہ خوش قسمت کون ہوگا،جس کویہ نگاہ بھر کے دیکھے گی۔1887میں للی نے امریکا کی شہریت حاصل کرکے کیلیفورنیامیں سکونت اختیار کرلی۔آئرش شوہر سے طلاق کے بعد اس نے اپنے سے کم عمر اورامیر ترین شخص “ہوگوگیرلڈ ڈی بیٹھ۔Hugo Gerald De Bathe”سے کی،جس کی شہرت گھوڑوں کے ریس سے وابستہ ممتاز کاروباری شخصیت کی تھی۔

 

للی کی زندگی پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالی جائے،تو دکھائی دیتاہے،1867میں جب یہ صرف ابھی 14برس کی تھی،اس کو شادی کا پہلا پیغام ملا۔اس کے حسن کا چرچا کم عمری میں ہونے لگاتھا۔1876میں شادی کی اوراگلے برس ہی پرنس لوئس کے ساتھ معاشقہ چلالیا۔1878میں ملکہ وکٹوریہ کے دربارتک رسائی بھی حاصل کرلی۔1881میں ،جب یہ ابھی صرف 27برس کی تھی،اس کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی،اس کی پیدائش کو خفیہ رکھاگیا،یہ اس عرصے میں فرانس کے شہر پیرس میں مقیم تھی۔اسی برس میں تھیٹر سے اس کی باقاعدی وابستگی ہوئی۔1882میں یہ اپنی زندگی کے پہلے اشتہار میں بطورماڈل زینت بنی۔1885میں اپنی تھیٹر کمپنی کے سلسلے میں امریکا کادورہ کیا اوراگلے 2سال میں یہ وہاں کی شہریت بھی حاصل کرلی، جبکہ ابھی تک اس کی عمر صرف 33برس تھی۔1901میں یہ تھیٹرریٹائرڈمنٹ لے لی۔ 1905میں 51برس کی ہوچکی تھی،جب اپنے محبوب برطانوی شہزادے کی بادشاہ بننے کی تاج پوشی کی رسم میں شریک ہوئی۔1925میں پہلی جنگ عظیم کے سلسلے میں امدادی رقم جمع کرنے کی خاطر اپنے تھیٹر کے میڈیم کا استعمال بھی کیا۔

 

للی لینگٹری کی زندگی پر بننے والا برطانوی ڈرامہ

 

زندگی بھرللی نے شاعری کی، تھیٹر کے اسٹیج پر خود کو اداکاری سے جوڑے رکھا، ادکاری کے علاوہ پروڈکشن میں بھی اپنی صلاحتیں آزمائیں۔ ماڈل کی حیثیت میں فیشن کے منظر نامے پر رہی۔کئی حکمرانوں کے تنہائی کی رازداں بنی۔ ایک فلم میں بھی کام کیا۔ ایک ناول بھی لکھا، اپنی خودنوشت بھی قلم بند کی۔ غرض کہ صرف اپنے حسن پر تکیہ نہیں کیا، بلکہ خوشبو کی طرح ایک سے دوسری جگہ اپنی مہک سے آگے بڑھتی چلی گئی۔ اس پر کئی کتابیں لکھی گئیں۔مصوروں نے اس کو پینٹ کیا، فلمیں اور ڈرامے بنے۔ غرض کہ ہر طرح سے للی کی شخصیت کو دریافت کیاگیا۔

 

1929کو امریکا میں ہی اس کاانتقال ہوا،اس کی میت برطانیہ لائی گئی،جہاں اس کوآبائی قبرستان میں دفن کیاگیا۔اس کی رحلت سے برطانوی تاریخ کا ایک اہم باب ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا۔ جس میں شاہی کرداروں کے تذکرے تھے اور زمانے کی غلام گردشوں کے قصے بھی، جس کو للی نے بے حد دلیری، بے باکی اورہمت سے جھیلا۔ حسین لوگ نازک ہوتے ہیں،مگر اس نے جس طرح وکٹوریہ سماج کی سختی میں اپنی نزاکت کو بے باکی کے لبادے میں چھپائے رکھا،وہ قابل تحسین ہے۔یہی وجہ ہے،برطانیہ کی شاہی تاریخ ہو یافنی تذکرے اورحسن کابیان،اس کے ذکر کے بغیر سب کچھ ادھوراہے۔
Categories
نان فکشن

گیلے ہونٹوں کا خشک جہان

میں نے ان لبوں کا ذائقہ چکھا ہے۔ وہ لب جو نیم سرخ اور نیم گلابی ہیں۔جن کی گدازی اور غیر معمولی ملائمیت بلا کی حیرت انگیز ہے۔ میں ان لبوں کا پر ستار،ان کا محافظ، ان کے قرب و جوار سے آگاہ، ان کی سرحدوں کا نگہ بان ہوں۔ جب کبھی ان لبوں کی زمین پر اپنے ہونٹوں کے ہمراہ اترتا ہوں تو وادئ رنگ و نور کی پر کیف فضا میں آشفتہ خاطر بھٹکتارہتا ہوں۔ایک عجیب و غریب بے چینی کےساتھ، جس میں اضطراب کی دبیز لہر،تسکین کا متزلزل وجود ہوتا ہے اور طالع بیداری کا موہوم احساس ہوتا ہے۔ میں ان لبوں کے ساحلوں پر گشت کرتا ہوں۔ ان کو چھوتا ہوں،چھیڑتا ہوں۔ ان کی سرخ زمین پر دور تک سفر کرتا ہوں۔ ان کے پیچیدہ اور کھردرے نقش و نگار کا نظارہ کرتا ہوں۔ اپنے لبوں کے دریا سے ان کی سطح زمین کی گلاب مٹی کو شفاف کرتا ہوں۔ میں ان لبوں کی شناخت قائم کرنے میں اپنے دن رات، صبح و شام صرف کرتا رہتا ہوں۔ لمحوں اور صدیوں کی تقسیم کے فرسودہ تصورات کو ان لبوں کی ہمسایگی سے منقطع کرتا ہوا۔میں ان دلدلی ریگستانوں میں چند ساعتوں میں ہزاروں سال کی مسافت طے کرتا ہوں۔ان کے طلول بلد اور عرض بدل کی تمام لکیروں کواپنے قدموں تلے روندتا ہوا گزرتا چلا جاتا ہوں۔ وہ لب میرے وجود کو ایک قسم کا تحرک بخشتے ہیں۔ میں ان پر سفر کرتا ہوا ان کی سطح زمین کو اپنے ہونٹوں کی طلسماتی صفات سے لپیٹتا ہوا ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر گردش کرتا رہتا ہوں۔

 

وہ لب جو میرا حاصل زندگی ہیں۔جن کو میں اپنی خردبیں نگاہوں سے آٹھوں پہر تکتا رہتا ہوں۔جس کی رنگت اور تمازت،شفقت اور تمکنت، روشنی اور نورانیت، بے قراری اور سکونت کا میں چشم دید گواہ ہوں۔ جن کی شاہراہ عام پر میں حیراں و پریشاں، مضمحل اور تنہا کھڑا کائنات کی رنگینوں کا مظاہرہ کرتا رہتا ہوں۔ وہ لب میرے دونوں جہانوں کی الجھی ہوئی گتھی کو مزید الجھا کر اپنی بساط کی دو رنگی چادر پر پھیلا دیتے ہیں اور میں ان میں کبھی زمین سے آسمان اور آسمان سے زمین کے چکر لگاتا ہوا اپنی ژولیدہ نگاہی کے نخچیر میں مقید ہو جاتا ہوں۔

 

میں جب کبھی ان لبوں کی کائنات میں بہتے آبشاروں، خشک ہو تے دریاوں، پھٹتی اور ادھٹرتی زمینوں، بے رنگ پانیوں اور ریگستانی ہواوں کے بے ترتیب جھکڑوں کو بنتے بڑگڑتے دیکھتا ہوں تو ان کی وسیع و عریض اور مختلف المزاج شناخت پر مخنونانہ انداز میں چیخ پڑتا ہوں۔ ایک تیز آواز جس سے ان لبوں کی سطح زمین متزلز ل ہو جاتی ہے۔ اس کے آتش فشاں پھوٹ پڑتے ہیں اس کے آسمان پر چاروں پر تاریک دھواں منتشر ہو جاتا ہے اور میں اس کائنات نما ہونٹوں کودوبارہ زندگی سے آشنا کرانے کے لیے اپنی زبان کی نمکین چارد کے ریشمی جال کو ان کے چو طرفہ وجود پر پھیلانےمیں مصروف ہو جاتا ہوں، جس سے ان ہوٹنوں کے مشرق، مغرب، شمال اور جنوب دوبارہ اسی آب و تاب سے جی اٹھتے ہیں۔

 

میں ان لبوں کوجن کے اندر ایک ناقابل فہم رمز پایا جاتا ہے اپنے ہوٹنوں سے کچلتا ہوں۔ ان کی بے ترتیب بستوں کو ملیا میٹ کرتا ہوں۔ ان پر اپنے خدا نمائی قہر کو برساتا ہوں۔ ان ہوٹنوں کی دنیا میں موجود وحشت ناک قوموں کو موت کی ہیبت سے آشنا کرواتا ہوں۔ ان کے حشو و زوائد کو تراشتا ہوں۔ ان پر اپنی اجارہ داری قائم کرتا ہوں۔ ان کی زندگی کے آداب مرتب کرتا ہوں۔ان کو زندگی کے اصل معنی سے روشناس کرواتا ہوں۔ میں ان کا آقا بن کر ان پر براجمان ہو جاتا ہوں۔ ان کی دنیا میں پانی برسا کر ان کی قوموں سے اپنے حصے کا خراج وصول کرتا ہوں۔ ان کی سانسوں کو اپنے خدا نمائی لبوں کی زنجیر میں قید رکھتا ہوں۔ ان پر جبر کرتا ہوں اور ان پر قابض ہو کر اس وقت تک انہیں اسی طرح تڑپاتا اور ستتا رہتا ہوں جب تک وہ اپنی سنانسوں کےحصول کی استعدا نہیں کرتے۔جب تک وہ میرے سامنے اپنے گھٹنے ٹیک کر میرے ہونے کو اپنے ہونے پر مقدم نہیں جانتے۔جب تک وہ اپنی زندگی کو میری زندگی پر قربان کرنے کا عزم نہیں کرتے۔

 

میں ان ہونٹوں کی دنیا میں رحم اور ظلم، وفا اور جفا،جنت اور دوزخ، کفر اور ایمان، زہر اور قند، اچھائی اور برائی ان تمام تصورات کو قائم رکھتا ہوں۔ان کے ویران جزیروں پر عذاب نازل کرتا ہوا ان کی آباد بستیوں پر رحم بھیجتا ہوں۔ ان کو اعتدال کے معنی عطا رتا ہوں اور اپنے خدائی وجود کو ان پر نازل کر کے ان کے اعتقادات سے اپنی زندگی کو قائم اور دائم بنا لیتا ہوں۔ میں ان ہوٹنوں کی دنیا کا حاکم ہوں۔ ان کا فرشتہ ان کا عزازیل ان کا شاعر ان کا نغمہ نگار ان کا مالک اور ان کا بندہ ہوں۔

 

میں ان سے اپنے ہونے کا ادراک حاصل کرتا ہوں۔ وہ ہونٹ جو میرے ہوٹنوں سے مس ہوتے ہی کانپنے اور لرزنے لگتے ہیں۔ پھیلنے اور سکڑنے لگتے ہیں۔ بننے اور بگڑنے لگتے ہیں۔ بھیگنے اور خشک ہونے لگتے ہیں۔ میں ان سے اپنے ہوٹنوں کی سردی مائل حرارت اخذ کرتا ہوں۔ وہ لب مجھ سے مل کر مجھ سے جدا ہوتے ہیں،بالکل اسی طرح جس طرح وہ اپنے شمال اور جنوب کو ایک دوسرے سے ملا کر خود سے الگ کر لیتے ہیں۔ میں ان کے شمالی اور جنوبی خطوں کے درمیان اپنے لبوں کے خشک جزیروں کا جہان آباد کرتا ہوں اور ان لبوں کے شمال سے اپنے لبوں پر آباد قوموں کے لیے پانی وصول کرتا ہوں اور جنوب سے ان کا اناج حاصل کرتا ہوں۔ وہ اناج جو انہیں اپنے جنوبی دیوتا کی کھردری اور ادھڑی ہوئی زمین سے حاصل ہوتا ہے۔ میرے لبوں کی دنیا ان لبوں کی کائنات کے بگھرے ہوئے خداوں کی حمد و ثنا کرتی ہے۔

 

ان لبوں کے اندھے غاروں سے آنے والے گرم ہوا کے جھوکے میرے لبوں کے شہر سراوں میں آباد ضعیف العقیدہ عوام کو اپنے آگے سجدہ ریز ہونے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ میں ان لبو ں کو زندگی کی آخری علامت جانتا ہوں کیوں کہ میرا وجود ان میں آباد ہے۔ میرے خدا ان سے قائم ہیں۔ میرے دیوتا ان میں جیتے ہیں۔میرے شاعر ان پر اپنے نغمے لکھتے ہیں۔میرے مصور ان پر اپنی رنگینی تراشتے ہیں۔میرے لوہار ان پر تلوریں بناتے ہیں۔میرے سنار ان پہ اپنے زیورات تیار کرتے ہیں۔ وہ لب میرے لب ہیں۔ وہ ہونٹ میرے معبود ہیں۔ میں ان کا بندہ ہوں اور وہ میرے منتشر وجود کو مرتب کرنے والے، میرے اجزائے بدن کو تشکیل دینے والے میرے آقا ہیں۔میری حرارتوں کو زندگی بخشنے والے میرے سب سے قیمتی دو جام ہیں۔ جن جاموں کو پیتے ہوئے میرے ذہن میں اختر حسین جعفری کے یہ مصرعے رقص کرتے رہتے ہیں کہ:

 

عجیب وہ سیل تھا کہ جس نے
کنار دریا کی سرحدوں میں نئے اضافے کیے ہیں تازہ زمین
آباد کر گیا ہے
عجیب وہ دھوپ تھی جو پیش از سحر کی ساعت کے گھر میں اتری

Image: Hue Bucket