Categories
نان فکشن

اپنی ہم جماعت کے نام ایک خط

کل جب کئی دنوں بعد تم سے دوبارہ بات ہوئی تو مجھے محسوس ہوا کہ وہ بہت سی باتیں جو مجھے، تم سےاپنی روز کی شام کی بیٹھک میں کرنا تھیں، یا کلاس ختم ہو جانے کے بعد یا پھر یوں ہی تم کیمپس میں کہیں ٹہلتی نظر آ جاتیں تو وہ باتیں ہو جاتیں جو میں نے صرف تم سے کہنے کے لیے بچا رکھی تھیں، مگرپھر اچانک یوں ہوا کہ تم کہیں غائب ہو گئی۔ کچھ لوگوں کی باتیں سن کر اور کچھ مجھ سے بد گمان ہو کر۔ یہ لوگ بھی عجیب ہیں ایسی ایسی باتیں بناتے ہیں کہ انسان بھونچکا رہ جائے، اب یہ ہی بات لے لو کہ ایک روز کسی نے مجھے تمہارے ساتھ کیمپس کی گلیاروں میں بھٹکتے کیا دیکھ لیا کہ فوراً یہ خبر عام کر دی کہ میں تمہارا عاشق زار ہوں اور تم سے اپنے عشق کا اظہار کر چکا ہوں، جب کے رد عمل میں تم نے انکار کیا یا اثبات اس سے انہیں کوئی غرض نہیں، حالاں کہ نہ کبھی ایسا ہوا اور نہ ہونے کا تصور ہے۔ تم سے میں نے اول روز ہی یہ بات کہہ دی تھی کہ تمہاری ذات میں دوستی کی صفت پائی جاتی ہے، عشق ایک مختلف جذبہ ہے، جبکہ دوستی اس کے مقابلے میں بہت بھروسے مند چیز ہے، خیر پھر تم مجھ سے خدا معلوم کہ اس طرح کی باتوں میں آ کر کیوں کر خفا ہو گئیں۔ لوگوں نے تمہاری خفگی کے بعد بھی اتنے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ اس کے علاوہ بھی کئی ایک باتیں اڑائیں۔ مجھے ان سے کچھ خاص گلہ نہیں کہ یہ تو لوگوں کا کام ہے۔ اگر لوگوں کے کچھ کہنے کا تصور ہمارے معاشرے میں اتنا عام نہ ہوتا تو لڑکیوں کو اتنا سمٹ کے نہ رہنا پڑتا۔

 

پیاری میں نے اکثر دیکھا ہے کہ لڑکیاں اپنی ابتدائی زندگی میں اکثر بہت زیادہ صاف گو اور سچ سننے اور کہنے والی ہوتی ہیں، لیکن یہ لوگ ہی ہیں جو اپنا ڈر ان پر بٹھانے کے لئے انہیں جھوٹ کی دنیا میں داخل ہونے پر مجبور کر دیتے ہیں، ان میں بہت سی ایسی ہوتی ہیں جو یا تو مستقل جھوٹ کا سہارا لینے لگتی ہیں یا پھر اس طرح کی پر اسرار صفت بن جاتی ہیں کہ ان کی زندگی کا سچ ظاہر ہی نہیں ہوپاتا۔ یہ لوگ آج سے نہیں ہزاروں برس سے اس معاشرے میں موجود ہیں اور تمہیں اور تمہاری ہی طرح کی دوسری لڑکیوں کے پر کاٹنے میں کوشاں رہتے ہیں۔ ان سے یہ بات دیکھی ہی نہیں جاتی کہ تم خوش ہو، تم ہنس رہی ہو یا تم زندگی کے کسی ایسے فیز میں داخل ہو رہی ہو جس میں تم اپنے فیصلے خود لے سکو گی۔ تمہاری زندگی کی ڈور یہ لوگ اپنے ہاتھوں میں رکھنا چاہتے ہیں، ان کو کچھ غرض نہیں کہ تم ان کی کیا لگتی ہو اور کیا نہیں، ان کا تو بس ایک ہی مسئلہ ہے کہ یہ تمہارے فیصلوں کی کتاب اپنی خواہش کی روشنائی سے لکھیں گے۔

 

[blockquote style=”3″]

پیاری میں نے اکثر دیکھا ہے کہ لڑکیاں اپنی ابتدائی زندگی میں اکثر بہت زیادہ صاف گو اور سچ سننے اور کہنے والی ہوتی ہیں، لیکن یہ لوگ ہی ہیں جو اپنا ڈر ان پر بٹھانے کے لئے انہیں جھوٹ کی دنیا میں داخل ہونے پر مجبور کر دیتے ہیں

[/blockquote]

مجھے بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ جب کیمس میں یہ خبر عام ہوئی کہ میں اور تم کسی طرح کے عشق میں مبتلا ہو گئے ہیں اور میں اسی احمق شخص کی طرح تمہارے لیے دن رات آنسو بہا رہا ہوں، جس نے تم سے کیمپس میں داخل ہوتے ہی اپنے عشق کا اظہار کر دیا تھا (حالاں کہ میں تو اسی کو تمہارا سچا عاشق سمجھتا ہوں جسے تم خود سے عشق کرنے پر الاچہ بیگ تصور کرتی ہو۔) اور وہ کم ظرف اس بات پر مصر ہوگیا کہ تم بھی اس سے عشق کرو (حماقت کی بھی کوئی انتہا ہوتی ہے۔) تو اس کے فوراً بعد مجھے ایک بہت ہی خوبصورت لڑکی ملی، بلا کی ذہین اور ایسی نادرالحسن کہ میں اس کے حسن کے دام اثر میں آئے بغیر نہ رہ سکا، اس نے ایک بار مسکرا کر مجھ سے بات کیا کی کہ میرا وہ عاشق جو تقریباً پانچ برس پہلے ہی کافی شور و غل مچا کر اور اپنی ناکامی سے تھک ہار کر سو گیا تھا، دوبارہ جاگ اٹھا، حالاں کہ اس پری پیکر نے مجھے اپنی زندگی کے بہت سے قیمتی لمحات عطا کیے، مگر مجھے حیرت اس وقت ہوئی جب اس نے صرف اس وجہ سے مجھ سے کیمپس میں کھلے عام ملنے سے منع کر دیا کہ میں تمہارے ساتھ ایک مرتبہ اسی طرح رات کے بارہ بجے ٹہلتا ہوا پایا گیا تھا (جب کہ یہ واقعہ کب پیش آیا اس کا علم میرے فرشتوں کو بھی نہیں ہے۔) جس کی پاداش میں میں اور تم کیمپس میں کہانیوں کا ایسا سوتا بن گئے جہاں سے عشق کی داستانیں پھوٹتی ہیں۔ ایک مرتبہ تو جلال بھی آیا کہ اس سے تو بہتر یہ تھا کہ میں تم سے عشق ہی کر لیتا، اگر بھولے چوکے تم بھی ہاں کر دیتیں تو اس پری پیکر تک پہنچنے کی نوبت ہی نہ آتی۔

 

خیر میں نے تمہارے ان خیر خواہوں کو جو غالباً خود تمہارے خیر خواہ بن گئے ہیں کبھی یہ سمجھانے کی کوشش بھی نہیں کی کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ تم میری ایک اچھی دوست ہو جس کی میں بے انتہا قدر کرتا ہوں اور عزت بھی۔

 

ابھی ادھر ایک صاحب نے مجھ سے بھی یہ سوال کیا تھا کہ کیا ایسا بھی کچھ ہے؟ میں نے انہیں ٹکا سا جواب دیا کہ اگر ہے بھی تو آپ کے پیٹ میں کیوں درد ہوتا ہے، میں عشق کروں، وصل مناوں، کسی سے شادی کروں، بھاگ جاوں، مر جاوں یہ سب میرا مسئلہ ہے یا اس لڑکی کا جو میرے ساتھ کسی طرح سے وابستہ ہے آپ کو اس سے کیا غرض، لیکن انہوں نے اپنا معاشرتی کردار پوری طرح ادا کرتے ہوئے بڑی محبت سے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پر خلوص انداز میں کہا کہ: میں آپ کا خیر خواہ ہوں۔ اس لیے پوچھ لیا ورنہ مجھے کیا غرض۔

 

عجیب سی بات ہے کیا یہ دوسرا خیال انہیں پہلے نہیں آ سکتا تھا کہ انہیں کیا غرض۔ لوگ خیر خواہی کا جھولا کاندھے پر ڈال کر کیوں گھومتے پھرتے ہیں مجھے کبھی سمجھ میں نہیں آیا۔ تمہارے ساتھ ایک عدد چائے اور پانچ سو قدم کی واک لوگوں کے لئے اتنی دلچسپ ثابت ہو گی میں نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ جس دن میں اور تم پہلی بار سنسان راستے پر دور تک ٹہلتے چلے جا رہے تھے اور میں تم سے کبھی غالب، کبھی میر، کبھی فیض، فراق اور جوش کی باتیں کر رہا تھا اسی دن میں نے تمہاری ذہانت کا اندازہ لگا لیا تھا اور سوچا تھا کہ اگلے کچھ دنوں تک کیمپس میں آنے کا بہانہ مل گیا۔ ایک اچھی دوست سے ادبی گفتگو کرنے کا سلسلہ اگر بن جائے تو اس سے بہتر اور کیا ہو سکتا ہے۔ لہٰذا، میں نے اسی واک کے دوران یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ میں نے اپنی گذشتہ زندگی میں جو کچھ پڑھا ہے اس کا راگ دھیرے دھیرے تمہارے سامنے الاپوں گا اور تمہیں کسی طرح اپنے علم کا معترف ہونے پر مجبور کر دوں گا، حالاں کہ تم اتنی جلدی قائل ہونے والی تو نہ تھیں کیوں کہ جس وقت میں نے تمہیں خسرو کا یہ شعر سنایا تھا کہ:

 

درمیان قعر دریا تختہ بندم کردہ ای
باز می گوئی کہ دامن تر مکن ہو شیار باش

 

[blockquote style=”3″]

جان لوکہ ہم اگر دوبارہ دوستوں کی طرح پیش آئیں گے تو تمہارے اور ہمارے ان خیر خواہوں کے پیٹ میں پھر درد ہونا شروع ہو جائے گا، جس درد کا علاج نہ تمہارے پاس ہے نہ میرے پاس، تو یا تو تم ان سے ڈر جاوں اور مجھ سے بد گمان ہو جاو یا ان کی پروا کرنا چھوڑ دو

[/blockquote]

تو تم اس شعرکا پہلا مصرع سن کر ہی اپنا سر ہلانے لگی تھیں اور شعر ختم ہونے کے بعد بڑی معصومیت سے تم نے مجھے بتایا تھا کہ یہ شعر تم اپنے والدسے کئی بار سن چکی ہو۔ تم نے اس واک کے دوران مجھے اور ہمارے ہی کلاس کے ایک نہایت ہی شریف النفس شخص کو اپنے والد سے ملوانے کی بات بھی کی تھی اور یہ بھی کہا تھا کہ اسلامی مسائل سے متعلق میں نے اپنے ذہن میں جو مقدمات قائم کئے ہوئے ہیں ان کو سمجھنے کے لیے مجھے،تم اپنے والد سے ضرور ملواؤ گی۔لہٰذا میں نے بھی اسی وقت یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ میں تمہارے والد سے ضرور ملوں گا۔ ان سے اسلامی معاملات پربڑی لمبی چوڑی گفتگو کروں گا اور پھر اسی گفتگوکے دوران چپکے سےان پر اپنی علمیت کا اظہار بھی کر جاوں گا۔ ان سے طرح طرح کے سوالات کروں گا اور بیچ بیچ میں اسلامیات سے متعلق موٹی موٹی کتابوں کا نام لوں گا۔ کبھی امام شافعی،کبھی امام مالک اور کبھی امام حنبل کی بات کروں گا، (امام ابو حنیفہ نہیں کیوں کہ وہ بہت عام ہیں۔) کبھی فقہ جعفری سے کوئی سوال ٹھونک دوں گا، کبھی نہج البلاغہ کا کوئی جملہ نکال لاوں گا اورکبھی امام ابن تیمیہ، امام رازی، حافظ ابن قیم، امام جوزی وغیرہ کا تذکرہ چھیڑدوں گا، کبھی بہجتہ الاسرار، احیا العلوم الدین، کتاب اللمع، مجموع السلوک اور فوائد الفواد کی باتیں کروں گا، یاپھر مسلکی نوعیت کے ائمہ جو انیسویں صدی کے ابتدائی حصے میں چپکے سے اسلام میں داخل ہو گئے ان کا ذکر کرتے ہوئے، سید احمد رائے بریلوی، عبدالحئی بڈھانوی، اسماعیل دہلوی، شاہ ولی اللہ، شاہ عبدالعزیر، شاہ عبدالقادر اور شاہ رفیع الدین کی کتابوں کے اوراق ان کے سامنے کھول دوں گا اوریہ بھی کہوں گا کہ اس ایک گھر نے پورے ہندوستان کی مذہبی تاریخ کا چہرہ بدل کے رکھ دیا۔ ان کی بالمقابل پارٹی جن میں علامہ فضل حق، فضل رسول بدایونی اور مفتی صدرالدین وغیرہ آتے ہیں ان کے حوالے بھی پیش کروں گا۔ ان سارے علاماوں، شلاماوں کا ذکر کرتے ہوئے تان احمد رضا خاں بریلوی اور اشرف علی تھانوی پہ توڑوں گا۔ اس کے بعد بھی اگر ان کے متاثر ہونے میں کچھ کمی رہ گئی تو پھر مودوی وغیرہ کو کھینچ لاوں گا۔لیکن یہ ساری باتیں کرنے کا مقصد صرف ایک ہی ہوگا کہ جب تم چائے لے کر کمرے میں داخل ہو اور باری باری ہم سب میں چائے تقسیم کر رہی ہو تو میری باتوں سے مرعوب ہو جاو اور تمہیں یہ گمان گذرنے لگے کہ اس شخص سے دوستی کر کے میں نے کوئی غلطی نہیں کی۔ پر کیا پتہ خدا کو کیا منظور تھا کہ سب دھرا کا دھرا رہ گیا۔ میرے ان رنگین خوابوں کو تمہارے خیر خواہوں نےاتنی صفائی سے اچک لیا کہ مجھے خبر بھی نہ ہو سکی۔

 

اب جبکہ تمہیں ان ساری بد گمانیوں کے متعلق یہ یقین ہو گیا ہے کہ میں اس معاملے میں آخری حد تک معصوم ہوں اور میری کہیں سے کہیں تک کوئی غلطی نہیں ہے، تو تم نے مجھ پر یہ التفات کیا ہے کہ مجھ سے دوبارہ بات کر لی ہے۔ حالاں کہ اب میں اتنی جلدی کوئی خواب تو نہیں بنوں گا پر یہ جان لو کہ ہم اگر دوبارہ دوستوں کی طرح پیش آئیں گے تو تمہارے اور ہمارے ان خیر خواہوں کے پیٹ میں پھر درد ہونا شروع ہو جائے گا، جس درد کا علاج نہ تمہارے پاس ہے نہ میرے پاس، تو یا تو تم ان سے ڈر جاوں اور مجھ سے بد گمان ہو جاو یا ان کی پروا کرنا چھوڑ دو اور جب دوبارہ کبھی کوئی الٹی سیدھی بات تمہارے کانوں تک پہنچے تو اپنا لیپ ٹاپ آن کرو، گوگل کھولو اور اس پر کشور کمار کا یہ گاناسرچ کر کے فل والیوم میں سنو کہ:

 

کچھ تو لوگ کہیں گے
لوگوں کا کام ہے کہنا
چھوڑوں ایسی باتوں میں
کہیں بیت نہ جائیں رئینا۔

 

تمہارا دوست
تالیف حیدر

Image: Nick Bantock

Categories
فکشن

ایک قیدی کا خط

قیدی ضروری نہیں مجرم بھی ہو،بسااوقات خود ساختہ اورنام نہاد مقتدر گروہوں کے تخلیق کردہ ’’تعصب‘‘رنگ ، نسل، ذات اور عقیدے کی بنیاد پرہمارے پر کُتر دیتے ہیں، پھر ہمارا نصیب زندان کی اونچی دیواروں کو تکنا رہ جاتا ہے اورہماری نسلیں تک قیدی بن جاتی ہیں۔میرا خاندان بھی کچھ ایسےہی مصائب کی سربہ فلک اونچی دیواروں کو تکنے کے سوا کچھ نہ کرسکا ۔سن 47میں میرے بڑوں نے اپنی آزادی کا پوٹلہ مہاجرت کے سرخ پانیوں میں بہا دیا جو من موجی سمندر میں جاگرا اور ہمیں ہمارے دیس میں سانس لیتے ہی قیدی بنادیا گیا۔
کہتے ہیں ہمارے اس قید خانے کی تاریخ بڑی وحشت ناک، روح فرسا او ر قربِ قیامت کے آثار میں سے ہے۔ اس قید خانہ کے طول و عرض میں ایک طرف سنگلاخ پہاڑی سلسلے، سسکتے ریگستان ہیں اور دوسری طرف ظلم کی تاریکی میں امید کی کرنوں سے جگمگ کرتے شہر اور اناکے آبگینوں کو چور ہوتے دیکھ کر بھی مسلسل مسکراتے، بانہیں پھیلائے، اناج پروستے دیہات،بہتے دریا اور اُمید کی فصلِ بہار سے لہلہاتے میدان بھی ہیں۔
ہم نہ ہوں گے تو کوڑوں کی سنسناہٹ کون سنے گا ، گالیاں کون سنے گا، گولیاں کون کھائے گاور ذلت کی آری سے گلے کس کے کاٹے جائیں گے ؟
اس قید خانے کی باگ دوڑ سنبھالنے اور قیدیوں کی سزا برقرار رکھنے کیلئے جلاد ہر 5 سال بعد مسلط کئے جاتے ہیں ،کچھ 5 سال پورے کرتے ہیں اور کچھ تسلسل کی ڈور سے حادثات کی طرح پھسل جاتے ہیں۔رہ گئے ہم تو ہمارے ہونے کا واحد جواز ہی شاید یہ ہے کہ ہم سے دل بہلایا جا سکے۔ہم نہ ہوں گے تو کوڑوں کی سنسناہٹ کون سنے گا ، گالیاں کون سنے گا، گولیاں کون کھائے گااور ذلت کی آری سے گلے کس کے کاٹے جائیں گے ؟ ہماری پیدائش جرم ہے، زندہ رہنا جرم ہے اور مرنا بھی۔یہ ہمیں ہمارے پیدا ہوتے ہی ڈرانا شروع کر دیتے ہیں، ان کی سفاکی دیکھ کرتو موت بھی کانپ اُٹھے۔یہی وجہ ہے کہ ہم اس قید خانے کے منتظمین کے شکر گزار ہیں کہ یہ ہمیں دنیا میں آتے ہی کبھی پیرہنِ حیات میں پانی کی کمیابی کے پیوند لگا کر اور کبھی درس گاہیں اڑا کر مرنے کے مواقع دیتے ہیں۔ ہم ان کے شکر گزر ہیں کہ یہ ہمیں قطاروں میں کھڑا کر کے زندگی کی بھیک دیتے ہیں۔ہمارے خمیر میں بد دیانتی ، بے ایمانی، انتقام اور خون ریزی کے ملیدے میں تلخی کا تڑکا لگا کر کڑوے ، بدذوق اور ناقابلِ تقلید و اتباع درندے تیا ر کیے جاتے ہیں۔یہ مراحل نہایت پُر خطر ہوتے ہیں اور جو اس کڑواہٹ کی تاب نہ لاکر دم توڑ دیتا ہے اُسے چند لاکھ روپے ، ہزاروں شمعیں اور یک روزہ سوگ کے ساتھ رخصت کیا جاتا ہے۔
قید خانے کے منتظمین کی آسانی کے لیےہمیں بانٹ لیا جاتا ہے ، کبھی کوئی تنظیم ہانک لے جاتی ہے تو کبھی کوئی تحریک اپنے ساتھ شامل کر لیتی ہے۔چونکہ اس قید خانے میں سیاست ہر قسم کے محاسبے سے بری ہے لہٰذاجو جیسے چاہے ہمیں استعمال کرے اور جہاں چاہے ہمارا رخ موڑ دے۔ قید خانے کی تقاریب میں ترانوں کی گونج آسیب بن کر منڈلاتی ہے، لاوڈ سپیکروں پر ہمیں بار بار یہ جتایا جاتا ہے کہ یہ قیدخانہ اور قیدتو تحفہ ہجرت ہے، آقا کی بشارت ہے ، شہدا کی امانت ہے، شاعر کا خواب ہے، قائد کی محنت ہے اور رمضان المبارک کی برکت ہے۔
اگرچہ ہمیں کہا گیا ہے کہ یہ قیدخانہ ہمارا ہے اور ہم یہاں جینے کے لیے آزاد ہیں مگر کبھی بے روزگاری آڑے آتی ہے تو کبھی دہشت گردی کے واقعات، کبھی مذاہب کی بنیادپرپرکھا جاتا ہے تو کبھی مہنگائی کے باریک تاروں سے آبرو تار تار کی جاتی ہے۔ہمیں ہر قدم پر یہ احساس دلایا جاتا ہےکہ ہم نسل درنسل قیدی ہی ہیں۔شاید اب ہمارے ضمیر اور ہمارا شعور غلامی کے عادی ہو گئے ہیں اورہمیں قید پسند آنے لگی ہے۔ ہمارے نگران ہماری خواہشات کوخوش خبری بنا کر ہمیں بہلاتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ قلب پر تاریکی کے دبیز پردے چڑھائے، بغض اور کینہ کی بیڑیوں کے پابند، غلامی کے طوق پہنے ہم اُس مقام پر پہنچنے سے قاصر ہیں جو خالق نے ہمارے لیےمخصوص فرمایا ہے۔
ویسے تو اس قید خانے کا نظامِ ابلاغ بے حد جدید ہے مگر نام نہاد آزاد ذرائع بھی ان دیکھے شکنجوں میں جکڑےہوئے ہیں، نجانے یہ خط بھی آپ تک پہنچ پاتا ہےیا نہیں۔ہر شام سرد اسٹوڈیو میں گرم چائے پیتے ہوئے، ریشم کی ٹائی پہن کر قوم کی گردن سے غلامی کے طوق نکالنے کی بات بے معنی لگتی ہے۔ہمارے دانشور ہر شب بے مقصد ، بے تحقیق، بے ترتیب اور بے نتیجہ گفتگو کے ذریعے ہمیں ہماری غلامی کے ثمرات سے آگاہ کرتے ہیں۔
ان کا بس چلے تو بچوں کے کھیلنے، جگنووں کے چمکنے ، بھنوروں کے منڈلانے، بادلوں کے رستہ بدلنے ، دریا کے بہنے اور پھولوں کے کھلنے کو بھی ممنوع قرار دے دیں۔
ہماری زنجیروں کی چمک بے نور آنکھوں کیلئے ہی بہتر ہے کیونکہ اصل خوبصورتی کا سر چشمہ تو دل ہوتا ہے اور اگر دل میں تاریکی غالب آجائے تو انسان بے ایمان ہوجاتا ہے۔مگر ایمان کا بیوپار کرنے والے جو چہرہ دیکھ کر ہی فتویٰ دینے کا فن رکھتے ہیں اورہر دوسرے شخص کو کافر کہنا اپنا شرعی حق اور سماجی ذمہ داری سمجھتے ہیں ان سے ایمان کی سند خریدنا بے حد آسان ہے۔ان کا بس چلے تو بچوں کے کھیلنے، جگنووں کے چمکنے ، بھنوروں کے منڈلانے، بادلوں کے رستہ بدلنے ، دریا کے بہنے اور پھولوں کے کھلنے کو بھی ممنوع قرار دے دیں۔اُن کے عقیدے کی چوکھٹ پر سر نہ جھکانے والوں خدا کا معتوب قرار دے دیں۔انہی کے طفیل اس قید خانے میں فساد برپا ہے اورکئی آنکھیں بے نور اور کئی گودیں اجاڑ دی گئی ہیں۔
مگربے رونقی جتنی بھی چھاجائے ایک مدت کے بعد پرندے قفس سے ، غریب اپنی جھونپڑی سے اور قیدی اپنے قید خانے سے محبت کر ہی بیٹھتا ہےاور یہ محبت ہی تو ہے جو دلوں کو نرم کرتی ہے ۔ اپنی بجائے خدا اوراسکی مخلوق سے محبت کی جائے تو رستے ہی منزل بن جائیں گے اور بلا شبہ کامیابی ہمارے قدم اور حوصلے آسمان چھو ہی لیں گے۔بس دیر اتنی ہے کہ ’’کتابِ بلاغت‘‘ کو جزدان سے نکال کر چوما جائے، سمجھا جائے اور اُس کے عالمگیر بھلائی اور فلاح کے پیغام کو اپنا لیا جائے، علم، تحقیق اور جستجو کی نئی راہیں تلاش کی جائیں، عقل کو اپنا رہنما کیا جائے تو ان بیڑیوں سے نجات پانا، ان زنجیروںسے رہائی اور بند دروازوں کا کھلنا کوئی مشکل نہیں۔

فقط:
آپ کا قیدی