Categories
نان فکشن

زندگی کی تاریکی پر فتح پانے والی حسینہ؛ فاطمہ سیاد

دنیا خوبصورت لوگوں کے اشتراک سے حسین بنی ہے، کسی نے اپنے جمال کا حصہ ڈالا، تو کسی کے بلند حوصلوں نے۔ افریقہ کے ایک غریب ترین ملک صومالیہ میں پیدا ہونے والی کم عمر لڑکی نے کچھ خواب دیکھے، اس کے راستے میں وحشتیں، قتل و غارت، غربت، فاقہ کشی سمیت سارے کانٹے قدرت نے بوئے، وہ ایک ایک کر کے انہیں عبور کرتی چلی گئی، اب بھی وہ راستے میں ہے، لیکن اپنی ہمت سے منزل کی طرف رواں دواں ہے، اس کا نام’’فاطمہ سیاد‘‘ ہے، والدہ کا تعلق صومالیہ سے جبکہ والد کا ایتھوپیا سے ہے۔

فاطمہ کبھی ہمت نہیں ہاری اور ہمیشہ اپنی خوبصورتی کو سمیٹے رکھا

’’فاطمہ سیاد‘‘ عالمی فیشن کی دنیا میں اس وقت نمبرون ہے۔ عہد حاضر میں فیشن کی دنیا سے مقبول ترین سیاہ فام ماڈلز میں ممتاز ترین ہے، اس کا شمار سیاہ رنگت والی دس معروف ترین ماڈلز میں سے دوسرے نمبر پر ہوتا ہے۔ اس کا کیرئیر مختصر اور عمر کم ہے، مگر ہر گزرتے دن کے ساتھ کامیابیوں کا تناسب بڑھتا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے یہ شہرت کی نت نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ اس میں ایک حد تک اس کی ہمت اور حوصلہ کا کمال ہے، لیکن سب سے دلکش پہلو اس کی خوبصورتی ہے، اس نے اپنے اندر اور باہر کی خوبصورتی کے امتزاج سے ایک ایسی کشش پیدا کر لی ہے، بہت غور سے دیکھنے پر فنی کمال کا یہ سحر محسوس ہوتا ہے۔

فاطمہ سیاد ووگ سمیت متعدد موقر جرائد کے سرورق کی زینت بن چکی ہیں

افریقہ کے ایک غریب ملک میں پیدا ہونے والی’’فاطمہ سیاد‘‘ کی پیدائش کا سال 1986 ہے، اس کا ملک طویل عرصے سے خانہ جنگی کا شکار ہے، جب اس نے ہوش سنبھالا، تو یہی ماحول اس کے اردگرد تھا۔ ابھی کم عمر ہی تھی، تو والدین کے درمیان طلاق ہوگئی، زمانے کی تلخیاں، گھر سے ملنے والے ذاتی دکھ کم نہ ہوئے تھے کہ ملک میں جاری خانہ جنگی نے اس کی دو بہنوں کی جان لے لی، وہ صومالی فوج کے ہاتھوں ماری گئیں، اس کے بعد زندہ رہ جانے والی ماں بیٹی اپنی جان بچا کر امریکا پہنچیں، اس وقت یہ صرف 13 برس کی تھی، اس کو بالکل اندازہ نہیں تھا، زندگی اس کے بارے میں کیا طے کر رہی ہے۔ اتنی کمسنی میں جھیلنے والے عذاب نے اس کی شخصیت کو وقتی طور پر کم گو اور خاموش بنا دیا۔

امریکا میں قیام کے دوران اس نے تعلیم حاصل کرنا شروع کی، تو اس کی شخصیت میں اعتماد آنا شروع ہوگیا اور یہ ایک نارمل زندگی گزارنے کی طرف لوٹنے لگی۔ اس نے امریکی شہروں بوسٹن اور نیویارک سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد فیشن کی صنعت میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اپنی خواہش کو عملی جامہ پہنانے کے لیے راہیں تلاش کرنا شروع کیں، یوں اس کو فیشن کی دنیا میں داخل ہونے کا راستہ مل گیا۔ سب سے شاندار بات یہ تھی، اس نے ہمت نہ ہاری اور اپنی ظاہری و باطنی خوبصورتی کو سمیٹے رکھا، یہی حسن اس کی زندگی میں مشعل راہ بنا۔ چند برسوں کی جدوجہد کے بعد فیشن کی طرف جانے والے راستوں اور حوالوں سے اس کی شناسائی بڑھنے لگی، جس کے نتائج بھی جلد برآمد ہونے لگے۔

’’فاطمہ سیاد‘‘ نے جہاں ایک طرف اپنے کیرئیر کو آگے بڑھانے کے لیے کوششیں کی اور ماڈلنگ سے عملی زندگی کا آغاز کیا، وہیں کچھ ایسے منصوبوں کا بھی حصہ بنی، جس کو کہا جا سکتا ہے، اس نے زندگی کے چیلنج کے طور پر قبول کیا، اس میں سے ایک امریکی ٹیلی وژن کا مقبول پروگرام’’America’s Next Top Model-ANTM‘‘ تھا، جس میں سخت مقابلے کے بعد اس نے تیسری پوزیشن حاصل کی، اس پروگرام پر امریکی نوجوان نسل کی نظریں تھیں، یہاں سے اس کی شاندار شہرت کی ابتدا ہوئی۔

اس وقت وہ جرمنی میں رہائش پذیر ہے، شادی کر چکی ہے، د وبیٹے ہیں اور کامیابی کے ساتھ کیرئیر کو آگے بڑھا رہی ہے اور ایسی عورتوں کے لیے مثال ہے، جنہیں زندگی میں بیک وقت کئی محاذوں کا سامنا ہوتا ہے، مگر وہ پھر بھی فاتح رہتی ہیں۔ امریکا، جرمنی، فرانس، برطانیہ، یونان سمیت دنیا بھر کی فیشن کمپنیوں کے ساتھ کام کر رہی ہے، اب تک کئی بڑے معروف فیشن برانڈز اور مصنوعات کی تشہیری مہم میں شامل ہے، اس میں کوکا کولا کا اشتہار سرفہرست ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ کئی فیشن میگزین کے سرورق کی زینت بھی بن چکی ہے۔ ان رسائل میں امریکا کا معروف جریدہ ووگ، آسڑیلیا کا ہارپر بازار اور کاسموپولیٹین اور برطانیہ کالُک میگزین شامل ہیں۔ ان ممالک کے علاوہ یورپ، افریقہ اور ایشیا کے کئی ممالک میں شائع ہونے والے جرائد کے سرورق بھی اس کی تصاویر سے مزین ہو چکے ہیں۔ سوئزرلینڈ کی مصنوعات سمیت دنیا کے بڑے بڑے برانڈز کے ساتھ اس کا اشتراک اور کیا جانے والا کام قابل رشک ہے، دنیا کے تمام بڑے فیشن شوز میں بھی اس کی شمولیت لازمی ہوتی ہے۔ اتنی کم عمری میں جس برق رفتاری سے کامیابیاں سمیٹی ہیں، وہ بے مثال ہے۔

زندگی میں اتنی کامیابیاں سمیٹنے کے بعد یہ اب ایک مکمل طور پر بدلی ہوئی اور پراعتماد لڑکی ہے، پوری دنیا سے اس کے مداحین سوالات پوچھتے ہیں، جن کے جوابات یہ بڑی خندہ پیشانی سے دیتی ہے۔ اپنے اب تک کیے ہوئے فوٹو شوٹس میں اس کو وہ فوٹوشوٹ بہت پسند ہے، جس میں اس کے سیاہ بدن کو ہرے لال اور پیلے رنگوں میں نہلایا گیا۔ رنگوں کے امتزاج سے اس کی سیاہ رنگت بھی دو آتشہ ہو جاتی ہے۔ امریکی اداکار آرنلڈ شوازنیگر اور پاکستان سے تعلق رکھنے والی ملالہ یوسف زئی بطور شخصیات اسے بہت پسند ہے۔

زندگی نے جب اس کو راحت لوٹائی، تو اس نے اپنی جڑوں کے بارے میں سوچا، پھر ایک بار اپنے آبائی ملک صومالیہ گئی، وہاں کے مقامی افراد میں گھل مل گئی، اس دورے میں اس نے اپنے آپ کو ایک نئے سرے سے تلاش کیا۔ زندگی کا دیا ہوا اعتماد اب بھی اس کے کام آرہا ہے، یہ دنیا بھر کے اہم موضوعات پر بات کرتی ہے، امریکی اور یورپی فیشن انڈسٹری کی منافقت اور گروہ بندیوں کو بھی زیربحث لاتی ہے، سب سے بڑھ کر اس نے خود کو ہر طرح کے اسکینڈل سے بچا کر رکھا ہوا ہے اور پوری توجہ کام پر ہے، یہی وجہ ہے، وہ بہت کم وقت میں تیزی سے اپنے خوابوں کی تعبیر حاصل کر رہی ہے، یہی اس کی کامیابی کا راز ہے، جس کو اس نے کامل ایمان سے اپنی زندگی کا حصہ بنا رکھا ہے۔

شہرت پانے کے بعد فاطمہ سیاد نے صومالیہ میں اپنی جڑوں کو پھر سے تلاش کیا

سیاہ رنگت والی اس حسینہ نے، زندگی کی تاریکیوں پر مکمل فتح حاصل کرلی ہے۔ اب یہ جرمنی کے پوش علاقے میں اپنے خاندان کے ہمراہ رہتی ہے، کبھی کبھار ماضی کی پرچھائیاں، والدین کی جدائی، بہنوں کا دردناک قتل اور ایسی کئی یادیں اس کو پریشان ضرور کرتی ہیں، مگر وقتی طور پر۔۔۔۔ اب اس نے تقدیر سے ہر کام کا حساب اپنی محنت کے ذریعے وصول کرلیا ہے۔ زندگی کی تاریکیوں پر فتح پانے والی ایسی سیاہ حسینہ، جس نے زندگی کی سیاہ راتوں کا مقابلہ اپنے حوصلہ اور حسن کی طلسمی سیاہی سے کیا اور اس جادو کااثر،کامیابیوں کی شکل میں تا حال جاری ہے۔۔۔۔۔۔

Categories
نان فکشن

ذہین شخصیت، حسین گلوکارہ : ٹیلر سوئفٹ

‘بدن کی بینائی’ سلسلے کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

زندگی میں کبھی کبھار کشمکش اور تڑپ کام آجاتی ہے، اس حالت میں ، ابہام محبوب اور وعدے بے وفا ہوتے ہیں۔ وعدے شخصیت میں سکون اور ٹھہرائو پیدا کرتے ہیں، جس کی وجہ سے جوش بھی سرد پڑتا ہے، جبکہ اضطراب سے توانائی فراہم ہوتی ہے اور نہ ہونے والے کام بھی ہونے لگتے ہیں۔ امریکی موسیقی کے منظر نامے پر’’ٹیلر ایلسن سوئفٹ‘‘ ایک ایسی ہی گلوکارہ اور گیت نگار ہے، جس نے کم عمری میں ہی اپنے فیصلے کیے، کمال یہ ہوا، وہ فیصلے کامیاب بھی ثابت ہوئے۔یہ عہد حاضر میں دنیا کی مقبول ترین گلوکارہ بن چکی ہے، جس نے میڈونا جیسی گلوکارہ کو بھی مقبولیت میں پیچھے دھکیل دیا، اس کے میوزک ویڈیوز دیکھ کر مائیکل جیکسن کی یاد تازہ ہوتی ہے۔ سب سے بڑھ کر اہم بات، وہ صرف ذہانت تک محدود نہیں، بلکہ اپنے حسن سے بھی بخوبی کام بھی لے رہی ہے۔ حسن ہے مگر دوآتشہ ہے۔

اس کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا، 27 برس بعدیہ دنیاکی نمبرون گلوکارہ ہوگی، اس کے فروخت ہونے والے البم کی تعداد کروڑوں میں ہوگی، اس کے کانسرٹس ایک ایک سال پہلے ایڈوانس بک ہو جایا کریں گے۔ اس کی شخصی ذہانت اور روحانی حرارت نے اس کو وقت سے پہلے باشعور کر دیا۔ اس نے زندگی کی ابتدا ہی عملی طورسے کی۔ صرف 14 برس کی عمر سے اپنے کیرئیر کی ابتدا’’کنٹری میوزک‘‘ سے کی، اس میوزک کی جڑیں امریکی افریقی لوک موسیقی میں پیوست ہیں، اس کو نئے انداز میں اپنایا اور پیش کیا۔

ٹیلر سوئفٹ امریکی ریاست’’پینسلوینیا‘‘ کے شہر’’ریڈینگ‘‘ میں دسمبر، 1989 میں پیدا ہوئی۔ اس کے والدین بھی اپنے اپنے شعبوں میں مہارت رکھتے تھے، انہوں نے اپنے بچوں کو اچھی تربیت دی اور ان کی مضبوط شخصی بنیاد رکھی۔ اس نے اپنی زندگی کا کچھ وقت دیہی پس منظر میں ایک زرعی خطے پر بھی گزرا، جہاں کرسمس کے درختوں کی کاشت ہوتی تھی۔ یہاں گزارے ہوئے وقت سے، اس کی شخصیت میں فطرت سے لگائو کا حسن پیدا ہوا۔ اس نے مختلف اسکولوں اور کالج سے اپنے تعلیمی مدارج طے کیے، ان میں راہبائوں کے ماتحت چلنے والا اسکول بھی شامل تھا، مگراس کے اندر موسیقی سے فطری رجحان موجود تھا، جس نے اس کو اپنا بنا کر چھوڑا۔

ٹیلر کے گیتوں میں ذات کے خدوخال، نا آسودہ خواہشیں، ادھورے وعدے، سسکیاں اور تمنائیں غالب محسوس ہوتی ہیں

اس نے 9برس کی عمر میں میوزیکل تھیٹر میں حصہ لیا۔ اپنے چھوٹے سے شہر سے باقاعدگی سے نیویارک سفر کیا، جس کا مقصد گلوکاری اور اداکاری کی تعلیم حاصل کرنا ہوتا تھا۔ یہی شوق اس کو میلوں ٹھیلوں کی طرف بھی لے آیا، جس کے ذریعے اس کاتعارف موسیقی کے عملی میدان سے ہوا۔ اسے یہ اندازہ ہوا، صرف گلوکاری کرنا ہی کافی نہیں ہوتا، بلکہ مارکیٹنگ کی کڑاہی میں بہت سارے فنی پاپڑ بیلنا پڑتے ہیں۔ عوامی اجتماعات، کانسرٹس اور میلوں ٹھیلوں سے خود کو جوڑ کر رکھنا ہوتا ہے، ٹیلی وژن اور ویڈیوز کی صورت میں سامعین اور مداحوں کے حواس پر طاری رہنا پڑتا ہے۔ اس عملی فن کی باریکیاں سمجھنے کے بعد، اس نے اس فنی کاریگری کا خوب استعمال کیا، یہی وجہ ہے، آج یہ پوری دنیا میں سب سے مصروف ترین گلوکارہ ہے، جس کے کریڈٹ پر دنیائے موسیقی کے سارے بڑے ایوارڈز بھی شامل ہیں۔ یہ کسی ایک دو شہروں یا ملکوں کا دورہ نہیں کرتی، ہر نئی البم پر پوری دنیا کا دورہ اس کے عام معموملات کا حصہ ہوتا ہے، اس مصروف تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے، اس کی ایک بہت بڑی ٹیم ہے، جس میں درجنوں کارکنان اس کے معاملات دیکھتے ہیں۔

ٹیلر سوئفٹ، خوش آواز بھی ہے اور خوبرو بھی

صرف 11برس کی عمر میں اس نے ایک دستاویزی فلم’’فیتھ ہل‘‘ دیکھنے کے بعد اپنی والدہ کے ہمراہ اس کو ریلیز کرنے والی کمپنی کے دفتر پہنچی اور اپنی آواز میں ریکارڈ کی ہوئی ایک ٹیپ جمع کروائی، جس کو مسترد کر دیا گیا، لیکن اس کم سن بچی نے ہمت نہ ہاری، اس کی آنکھوں سے خوابوں کی تتلیاں پرواز کرتی رہیں۔ ایک مقامی موسیقار کی مدد سے اس نے گٹار بجانا سیکھنا اور گیت نگاری کی ابتدا بھی کی۔ والدین کی مدد سے ایک امریکی ریکارڈ لیبل کمپنی کی تشہیری مہم کا حصہ بننے کے بعداس کے لیے بڑی امریکی ریکارڈلیبل کمپنیوں تک جانے کے راستے دریافت ہوئے۔ اس جدوجہد میں بھی یہ کم عمری لڑکی، اپنی والدہ کا ہاتھ تھامے سفر کرتی رہی، اپنی منزل کے نشان ڈھونڈتی رہی۔ 14 برس کی عمر میںاس کے پیشہ ورانہ رابطے بڑی کمپنیوں کے ساتھ استوار ہونے شروع ہوئے، ایکدم اس کی مقبولیت بڑھنے لگی، اس میں تعلیمی سفر بھی ادھورا رہ گیا، جو بعد میں گریجویشن کی شکل میں مکمل ہوا۔ اس کے گیتوں میں ذاتی زندگی کی جھلک بہت نمایاں ہے۔ چاہے وہ جدوجہد کے دنوں کی یاد ہو یا پھر محبت کے راستوں پر ٹوٹنے والے خوابوں کی کہانی ہو، اس نے گیتوں کی زبان میں اپنی ساری زندگی کو بیان کر دیا۔

ٹیلر سوئفٹ کی اب تک 6البم ریلیز ہوچکی ہیں، جن میں پہلی البم کا نام’’Taylor Swift‘‘ ہی ہے، جو 2006 میں ریلیز ہوئی اور بل بورڈ میوزک چارٹ کے دو سو بہترین البم میں پانچویں نمبر پر رہی۔ اس البم کے ایک گیت’’Our Song‘‘نے بہت دھوم مچائی۔ 2008 میں اس کی دوسری البم’’Fearless‘‘ ہے، جس میں اس کی صلاحیتیں مزید نکھر کر سامنے آئیں۔ ریلیز ہونے کے اگلے برس، اس البم کو امریکا میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی البم کا اعزاز بھی حاصل ہوا، جبکہ اس نے مغربی موسیقی کے سب سے بڑے ایوارڈ’’گریمی‘‘ کو چارمختلف شعبوں میں اپنے نام کیا، اس کے دو گیت’’لو اسٹوری‘‘ اور یو بلونگ وِد می‘‘ کو بہت پسند کیا گیا۔ اس کے بعد ریلیز ہونے والی اس کی دیگر البم’’Speak Now‘‘ اور’’Red‘‘ سمیت’’1989‘‘کے علاوہ، رواں برس ریلیز ہونے والا البم’’Reputation‘‘ شامل ہے، جس کی اب تک دو ملین کی فروخت کا ریکارڈ بن چکا ہے۔ اس کے علاوہ دنیا بھر کے کانسرٹس، میوزک ایوارڈز، شہرت اور دولت اس کا مقدر بن چکی ہے، یہی وجہ ہے’’ٹائم میگزین‘‘ نے اس کو دنیاکی 100بااثر شخصیات میں بھی شامل کیا۔ دیگررسائل و جرائد میں کسی نے اس کو طاقت ور عورت، تو کسی نے اس کو حسین دلربا سے تشبیہہ دی، مگر یہ ابھی تک ایک شہزادی کے روپ میں منتظرِمحبوب ہے۔

دنیا کے ہر ملک میں اس کی آمد کا انتظار ہوتا ہے، یہ اپنی مدھر آواز اور دلکش شخصیت سے مداحوں کا چین لوٹ لیتی ہے۔ اس کی شاعری میں ذات کے خدوخال، نا آسودہ خواہشیں، ادھورے وعدے، سسکیاں اور تمنائیں غالب محسوس ہوتی ہیں، یہ ویڈیوزبنانے میں بھی جدید ٹیکنالوجی کا بھرپور سہارا لیتی ہے، اس کے میوزک کی سب سے خاص بات ہے کہ یہ نوجوان نسل کے دلوں کی آواز ہے، پھر اس پر ٹیکنالوجی کا استعمال اس کو اور خاص بنا دیتا ہے، اس کو یہ بھی پتہ ہے، اپنے ہنر کی تشہیر کیسے کرنی ہے، اسی لیے اس کا ہر گانااور البم شائقین موسیقی کو اپنی طرف متوجہ کر لیتی ہے۔ ٹیلر سوئفٹ فکری لحاظ سے’’عورتوں کے حقوق‘‘کی بہت بڑی حامی ہے۔ فلاحی کاموں میں پیش پیش رہتی ہے،خطیر رقوم بطور عطیات دیتی ہے، سیاسی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتی ہے، سابق امریکی صدر اوبامہ کی انتخابی مہم میں بھی شریک رہی تھی۔ یہ تشہیری اداروں کا ایک ایسا چہرہ ہے، جو حسین تو ہے مگر دردمند دل لیے ہوئے۔

ٹیلر سوئفٹ کم عمری میں ہی کامیابی کی بلندیوں تک جا پہنچی ہے

ٹیلر سوئفٹ ایک ایسی خوش قسمت خاتون ہے، جس نے بہت کچھ قت سے پہلے حاصل کر لیا، مستقبل میں بھی اس کا شمار ایسے ہنر مندوں میں کیا جائے گا، جنہوں نے دل اور دماغ قابو میں رکھا، کامیابیوں کے تسلسل سے ان کے قدم نہ لڑکھڑائے۔ یہ کامیابیوں کو سنبھالنے کا فن جانتی ہے۔ ممکنہ حد تک خود کو تنازعات سے بچا کر رکھتی ہے اور اس کی پوری توجہ کیرئیر پر ہے، اس قدرکامیاب گلوکارہ کے دل کا خانہ ابھی تک خالی ہے، اس کے گیتوں میں بھی اداسی موجود ہے، اس کے سپنوں کا راج کمارابھی تک آیا نہیں، اس کے حسن کے دیپ پوری طرح روشن ہیں، مقدر کے ستارے کی طرح، مستقبل میں اس کے لیے ابھی بہت کچھ فتح کرنے کو باقی ہے۔۔۔

خرم سہیل سے رابطہ کیجیے:
khurram.sohail99@gmail.com

Categories
نان فکشن

پروقار برطانوی حسینہ؛ کیٹ ونسلیٹ

‘بدن کی بینائی’ سلسلے کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

دُنیا میں دو ہی طرح کے لوگ جنم لیتے ہیں، ایک وہ جو دل میں اُتر جاتے ہیں اور دوسرے وہ جودل سے اُتر جاتے ہیں۔ اس وقت ہماری نگاہوں کا مرکز وہی چہرہ ہے، جس نے بہت تیزی سے دلوں پر حکمرانی قائم کی، دیکھتے ہی دیکھتے نصف سے زیادہ دنیا میں فلمی شائقین کے دلوں کو مسخر کر لیا۔ حیرت انگیز طور پر گزرتے وقت کے ساتھ، اس کی مقبولیت میں کمی آنے کی بجائے مزید اضافہ ہوا ہے۔ وقت نے اس کو سب سے حسین تحفہ یہ دیا کہ مزید حسین کر دینے کے ساتھ ساتھ باوقار بھی بنا دیا، اب یہ متانت بھرا حسن اور پُروقار خوبصورتی دیکھنے والوں کے ذہن اور دل پر جادو طاری کر دیتی ہے، اس سحر زادی کا نام’’کیٹ ونسلیٹ‘‘ ہے۔

سحرزادی “کیٹ ونسلیٹ”

کیٹ ونسلیٹ نے جس طرح اپنا فنی کیرئیر آگے بڑھایا، وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ اس نے اداکاری کی جستجو میں، کرداروں کا تعاقب کیا، تو سب سے پہلے تھیٹر کے اسٹیج سے ہو کر گزری، نہ صرف اداکاری کی، بلکہ اپنی آواز سے کرداروں کی منظرکشی کی، کئی گیتوں میں اپنی آواز کا جادو جگایا۔ لندن میں سجائے جانے والے عوامی مقابلے، جس میں نوآموز اداکار حصہ لیتے ہیں، وہاں تک پہنچی اور سخت مقابلے کے بعداپنے آپ کو نمایاں کیا، اس عرصے میں حاصل ہونے والی کامیابیوں نے، خواہش کے راستے وضع کیے، یوں اس نے اپنے لیے سنگ میل منتخب کیا کہ اس کے فن کی منزل اور جنون کی معراج کیا ہوگی۔

کیٹ ونسلیٹ نے اپنے کرداروں کا تعاقب کیا

کیٹ ونسلیٹ کی پیدائش 5 اکتوبر، 1975 کی ہے۔ محض 42 برس کی عمر میں اس کے فنی سفر پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالی جائے، تو ایسا محسوس ہوتا ہے، ایک جہان فتح ہوچکا ہے۔ اس نے عزم وحوصلے کی ایک داستان رقم کی ہے، یہ سلسلہ ابھی تھمانہیں، متحرک ہے۔ غریب مگر فنکار خاندان میں آنکھ کھولی۔ اس کے دادا دادی نے ایک ریپٹری تھیٹر کمپنی بنا رکھی تھی، جس کے ذریعے وہ اپنے شوق اور ضرورتوں کی تکمیل کا سامان کیا کرتے، اس کے والد میں بھی یہ شوق منتقل ہوا، پھر یہ خود بھی اس وراثت کو آگے لے کر بڑھی اور لندن کے گلی کوچوں سے نکل کر عالمی اداکاری کے منظرنامے پر چھا گئی۔ کم عمری میں معاشی تنگی کے سائے اپنے گھر پر پڑتے دیکھے، مگر والدین کی انتھک محنت نے ان بچوں کی تربیت کو متاثرنہ ہونے دیا۔ آج بھی کیٹ ونسلیٹ گفتگو کرتے ہوئے ان کٹھن دنوں کو یادکرتی ہے۔

کیٹ ونسلیٹ کو آج بھی اپنے کٹھن دن یاد ہیں

اس خوبرو حسینہ نے اپنے شوق کی شروعات اسکول کے زمانے سے کیں، اپنی بہن کے ہمراہ اسکول اور علاقہ میں ہونے والے مقامی تھیٹرکی سرگرمیوں میں حصہ لیا، اس کم عمری میں، جن کرداروں کو ادا کرنے کامظاہرہ، تھیٹر کے اسٹیج پریہ کررہی تھی، وہ اس کے خواب تھے، جن کو حقیقت میں بدلنے کاعزم کیے یہ چھوٹی سی لڑکی، اپنی عمر سے بڑے بڑے کام کر رہی تھی۔ اس کی رہائش گاہ سے قریب’’Redroofs Theatre School‘‘ قائم تھا، یہ اس سے وابستہ ہوگئی، اسکول بچوں کو پیشہ ورانہ اداروں کے آڈیشنز میں بھیجا کرتا تھا، کیٹ کے کیرئیر کا ابتدائی راستہ یہی سے دریافت ہوا۔ اسے ایک معمولی سے اشتہار میں کام کرنے کا موقع ملا۔ کئی ایک فنی منصوبوں کی نگرانی کا کام بھی اس کے ذمے آیا، انہی دنوں موسیقی پر مبنی کھیل ’’Peter Pan‘‘ میں مرکزی کردارنبھانے کی ذمے داری بھی پوری کی۔ اس کے علاقے میں ہی ایک مقامی تھیٹر کمپنی، جس کا نام’’اسٹار میکر‘‘ تھا، اس کمپنی کے ساتھ کام کرکے کافی کچھ سیکھا۔ 20 سے زاید کھیلوں میں کام کیا، یہاں سے اس کی اداکارانہ بنیاد مضبوط ہوئی اور تھیٹر کے ان کھیلوں نے، اس کے اندر کی اداکارہ کو نکھار دیا۔
یہ پہلی مرتبہ 1991 میں بی بی سی کی ایک سائنس فکشن ٹیلی وژن سیریز’’Dark Season‘‘ میں کام کرکے چھوٹی اسکرین پر جلوہ گر ہوئی۔ تھیٹر اور ٹیلی وژن پر ملنے والی کامیابیوں کے باوجود، اس کے معاشی حالات بہترنہ ہوئے۔ اس کی زندگی میں وہ موڑ بھی آیا، جب اس کو رقم نہ ہونے کی وجہ سے اپنا اسکول بھی چھوڑنا پڑا۔ یہ باصلاحیت اور باہمت تھی، مگر وزن زیادہ ہونے کی وجہ سے، ڈراموں میں اس کو مرکزی کردار دینے سے گریز کیا جاتا تھا۔ 1992 میں اسے ایک مختصر کردار، ٹیلی وژن فلم’’Anglo-Saxon Attitudes‘‘میں دیا گیا، اسی عرصے میں ایک ٹیلی وژن سٹ کوم’’Get Back‘‘میں کام کرنے کے ساتھ ساتھ، برطانیہ کی معروف میڈیکل ڈراما سیریز’’Casualty‘‘کی ایک قسط میں بطورمہمان اداکارہ دکھائی دی۔

1994میں اس کو، نیوزی لینڈ کے معروف ہدایت کارکے نفسیاتی اور مجرمانہ کہانی کے تناظر میں فلمائے گئے ڈرامے’’Heavenly Creatures‘‘ میں، آڈیشن دینے کے بعد 175 لڑکیوں میں سے منتخب کیا گیا۔ یہ اس کے کیرئیر کی سنہری ابتدا تھی۔ یہ ثابت کرنے میں کامیاب رہی کہ اس کے اندر ایک باصلاحیت اداکارہ چھپی ہوئی ہے۔ یہاں سے قسمت کی دیوی اس پر مہربان ہونے لگی، مگر اسی وقت میں، اس نے کڑی محنت بھی کی، اپنی آواز کو بہتر کیا، مطالعہ کی صلاحیت بڑھائی، جس نوعیت کے فنی منصوبوں سے وابستہ ہوئی، ان کے متعلق اپنی معلومات میں اضافہ کیا، اپنے کرداروں کو نکھارنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ اس کی اگلی فلم’’Sense and Sensibility‘‘میں بھی اس کی اداکاری کوبہت پسند کیا گیا۔ یہ فلم معروف برطانوی ناول نگار’’جین آسٹن‘‘کے ناول سے ماخوذ تھی، اس فلم نے باکس آفس پر بھی بے حد مثبت اثرات مرتب کیے۔ کیٹ ونسلیٹ نے پہلی مرتبہ’’اسکرین ایکٹرز گلڈ ایوارڈ‘‘ اور’’برٹش اکیڈمی فلم ایوارڈ‘‘ حاصل کیے اور کئی ایک ایوارڈز کے لیے نامزد بھی ہوئی۔

1996میں کیٹ ونسلیٹ نے دو تاریخی ڈراموں’’جوڈی‘‘ اور’’ہیملٹ‘‘ میں منجھے ہوئے اداکاروں کے ساتھ کام کیا۔ 20سال کی عمر میں شیکسپیئر کے لکھے ہوئے ان کرداروں کو نبھاتے وقت، اس کے دل پر ایک عجیب خوف طاری تھا، مگر اس نے خود پر قابو رکھا اور کامیاب رہی۔ 1997 میں شہر ہ آفاق فلم’’ٹائٹینک‘‘ میں کام کرنے کے بعد تو اس کی زندگی بدل گئی، گویااس نے نیاجنم لیا۔ اس فلم میں کام حاصل کرنے کے لیے اس نے بہت عجیب وغریب حرکات بھی کیں، فلم کی عکس بندی سے پہلے، کتنے ہی عرصے تک، یہ فلم کے ہدایت کار’’جیمز کیمرون‘‘ کو خط لکھا کرتی، جس کے ذریعے اس کو احساس دلاتی کہ تمہاری کہانی کی مرکزی کردار’’روز‘‘صرف میں ہی ہوں۔ اس کردار کو حاصل کرنے کے لیے اس کی اضطرابی کیفیت نے جلتی پر تیل کا کام کیا، دل کی دستک پر یہ دروازہ جب کھلا، تو پھر اس کے سامنے شہرت اور دولت کے دروازے بھی کھل گئے، یہ الگ بات ہے، اس فلم نے 11آسکر ایوارڈز اپنے نام کیے، مگر کیٹ ونسلیٹ نامزد ہونے کے باوجود ایوارڈ حاصل نہ کر پائی۔ اب عالم یہ ہے کہ سات مرتبہ نامزد ہونے کے بعد1مرتبہ آسکر ایوارڈزجیتنے کے ساتھ ساتھ، شوبز کی دنیا کے سارے بڑے ایوارڈز جیتنے کے علاوہ، برطانیہ اور فرانس کے شاہی ایوارڈز بھی اپنے نام کر چکی ہے۔ آسکر ایوارڈجیتنے کا باعث اس کی فلم’’دی ریڈر‘‘ تھی، جس کے ذریعے اس نے یادگار اداکاری کی۔

’’ٹائیٹنک‘‘ جیسی کامیاب فلم کے بعد2001 میں، اس نے’’Enigma‘‘ میں Dougray Scottجیسے اداکار کے ساتھ کام کیا، پھر 2004 میں اس نے ایک اور اہم فلم’’Eternal Sunshine of the Spotless Mind‘‘میں Jim Carreyکے ساتھ اداکاری کی۔ اسی برس اسے ایک اورمعروف اداکارJohnny Deppکے ہمراہ’’Finding Neverland‘‘جیسی رومانوی فلم میں اداکاری کاموقع ملا۔

آنے والے چند برسوں میں’’The Holiday‘‘ اور’’The Reader‘‘ جیسی اہم فلمیں اس کے کیرئیر کاحصہ بنیں۔ 2008 میں پھر ایک مرتبہ، اس کوLeonardo DiCaprioکے ساتھ ایک اہم فلم’’Revolutionary Road ‘‘ میں کام کرنے کا اتفاق ہوا۔ 2011میں یہ اہم ترین فلم’’Contagion‘‘ اور’’Divergent ‘‘ میں ہالی ووڈ کے دیگر اہم اورمعروف اداکاراوں کے مدمقابل ہوئی۔2015میں دو مزید اہم فلموں’’Insurgent‘‘ اور’’The Dressmaker‘‘سے شائقین کے دل موہ لیے۔ ’’Steve Jobs‘‘نامی فلم، ایپل کمپنی کے بانی’’ اسٹیوجابز‘‘ کی سوانح عمری پر مبنی تھی، اس فلم کے ذریعے یہ ساتویں بار آسکرایوارڈ کے لیے نامزد ہوئی۔

کیٹ ونسلیٹ کا فنی سفر جاری ہے، اب تک یہ تقریباً 50 فلموں میں کام کر چکی ہے، جس میں 2020 میں ریلیز ہونے والی جیمز کیمرون کی سائنس فکشن فلم’’Avatar 2‘‘ بھی شامل ہے۔ ٹیلی وژن کے 14 ڈراموں میں بھی اپنے فن کامظاہرہ کیا اور 5مختلف فنی منصوبوں میں اپنی آواز کا جادوبھی جگا چکی ہے۔ 4کتابوں کی پڑھت کاری، ایک میوزک ویڈیو اور ایک ویڈیو گیم بھی اس کے کریڈیٹس میں شامل ہے۔ تھیٹر کے شعبے میں 7منصوبے بھی اس کے کام کاحصہ رہے ہیں۔ 50مرتبہ اہم اعزازات کے لیے نامزدہونے کی وجہ سے، یہ منفرداعزاز بھی اس کے پاس ہے کہ یہ اتنی بار اہم ترین اعزاز ات کے لیے نامزدکی گئی۔ رواں برس 2017 میں ایک مسلمان اور سیاہ فام امریکی اداکار ’’ادریس ایلبا‘‘ کے ساتھ فلم’’The Mountain Between Us‘‘ میں متنازعہ مناظر کی وجہ سے تنقید کانشانہ بھی بنی، مگر یہ اپنے جھگڑوں اورتنازعات کو خوش اسلوبی سے نمٹا بھی لیتی ہے۔

اس کے حسن کو نظرانداز کرنا مشکل ہے

یہ ذاتی زندگی میں فلاحی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہے اور پلاسٹک سرجری کے خلاف ہے۔ تین شادیاں کیں، کئی معاشقے چلائے، تین بچے ہیں، اب اس کی پوری توجہ کیرئیر اور بچوں پر ہے، یہ ایک اچھی اداکارہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھی ماں بھی ہے۔ ایک محبوبہ کے طور پر شاید ناکام رہی، مگر عمومی طور پر اس کی شخصیت فلم بینوں اور ناقدین کے لیے بھی متاثر کن ہے۔

اس کا حسن ظاہری چمک سے اگلے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں روح کے ساتھ جذبات بھی شامل ہو جاتے ہیں

کیٹ ونسلیٹ کا کیرئیر تین دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط ہے، عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کے مزاج میں ٹھہراو اور حسن میں نکھار پیدا ہوا۔ مستقبل میں یہ اداکارہ اپنے فن کی بدولت اور دلوں میں مزید گھر کرے گی۔ اس کاحسن ظاہری چمک دمک سے آگے کے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے، جہاں روح بھی جذبات میں شامل ہو جاتی ہے، یہی وجہ ہے،اس کے کئی کردار ایسے ہیں، جن کودیکھتے ہوئے اداکاری کی بجائے حقیقت کا گمان ہوتا ہے’’دی ریڈر‘‘ میں کیا ہوا کردار اس کی روشن مثال ہے۔ یہی کیٹ ونسلیٹ کی صلاحیتوں کا کرشمہ ہے، اس کے حسن اور فن کو نظر انداز کرنابہت مشکل امر ہے۔

Categories
نان فکشن

خوابیدہ امریکی حسن؛ فے ایمرسن

یہ چہرہ ان دنوں کی یاد ہے، جب حسن خوابیدہ ہوا کرتا تھا، جسم کی نمائش سے زیادہ، تخیل دل پذیر تھا۔ چہرے کے خدو خال ہی احساسات کی ترجمانی بھی کیا کرتے تھے۔ دل کے نہاں خانوں میں موجود بات، تصور کے زور پر بیان ہو جایا کرتی تھی۔ نمود و نمائش کی بجائے، ادائیں زینت بنا کرتی تھیں۔ اسی ماحول میں یہ چہرہ مغربی دنیا میں مقبول ہو کر شائقین کے دلوں پرکئی دہائیوں تک راج کرتارہا۔کلاسیکی حسن کی آبرو، بلیک اینڈ وائٹ دور کی خوبصورت علامت کا دوسرا نام’’فے ایمرسن۔Faye Emerson‘‘ ہے۔

فے ایمرسن: بلیک اینڈ وائٹ دور کا حسین چہرہ

ٹیکساس کی ایک عدالت میں بیٹھے، اسٹینو گرافر ملازم نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا کہ ایک وقت آئے گا، مریکی صدر کا بیٹا اس کا داماد ہوگا، مگر یہ سچ ثابت ہوا، جب اس کی حسین اور ذہین بیٹی 1917 کو اس کے گھر پیدا ہوئی۔ حُسن ہو تو نزاکت آہی جاتی ہے، ابتداسے ہی اس کے حسن میں ایک نزاکت اور اعتماد تھا، جس میں تمام زندگی رتی برابر فرق نہ آیا۔ امریکی دیہات میں پیدا ہونے والی اس خاتون نے یہ بہت جلدی سمجھا کہ ترقی کے زینے چڑھنے کے لیے کس سمت جانا ضروری ہے،لہٰذا آبائی علاقے کو خیر باد کہا، دوسری جنگ عظیم کے برپا ہونے سے قبل، کیلی فورنیا، سان ڈیاگو کی ہالی ووڈ نگری میں ڈیرے ڈال لیے۔

اس نے سان ڈیاگو میں رہتے ہوئے اعلی تعلیمی اداروں میں اپنی تعلیم مکمل کی، وہیں غیرنصابی سرگرمیوں میں بالخصوص اداکاری کے ساتھ خود کو جوڑے رکھا، 1935 میں زمانہ طالب علمی کے دور میں اپناپہلا کھیلRusset Mantleکھیلا۔ باقاعدہ کیرئیر کی ابتداکا سال 1940 تھا۔ ایک طرف دنیا کی عظیم طاقتیں آپس میں دست وگریباں ہونے کو تیار تھیں، تو دوسری طرف اس حسینہ نے بھی زندگی کی لڑائی میں حتمی محاذ پر جنگ لڑنے کا فیصلہ کرلیاتھا، اگلے کچھ برسوں میں یہ جنگیں کامیاب ہوئیں، ایک طرف اس کا وطن امریکا فتح یاب ہوا تو دوسری جانب اس نے شائقین کے دل جیت لیے۔ اس کی وضع دار شخصیت اور ذہانت سے بھرپور شخصیت نے اپنے تاثر کو ایسا جمایا، آنے والے کئی برسوں تک شائقین اس سحر میں گرفتار رہے۔

امریکہ دوسری جنگ عظیم جیتا اور اسی دوران فے ایمرسن مداحوں کے دل جیت لینے میں کامیاب ہوئی

’’فے ایمرسن۔Faye Emerson‘‘ کو ابتدائی طور پر کچھ ایسی فلمیں مل گئیں، جن کی وجہ سے بہت جلد وہ اپنی شناخت بنانے میں کامیاب رہی، ان میں سے1944میں ریلیز ہونے والی فلم The Mask of Dimitrios ہے۔ 1945میں Danger Signal اور 1950میں ریلیز ہونے والی فلمDanger Signalنے اس کو فلمی صنعت میں مزید کامیابی کی طرف دھکیل دیا۔حیرت کی بات یہ ہے، اس کو ایکشن اور جرائم پرمبنی فلموں کی فنکارہ کے طور پر شہرت حاصل ہوئی، جس میں شخصی حسن کادخل کم اور موضوعاتی دہشت کا عمل زیادہ تھا۔
اس کی دیگر معروف فلموں میں جنہیں شمار کیا جاتا ہے، ان میں Nobody Lives ForeverاورCrime by Nightسمیت Murder in the Big Houseاور دیگر شامل ہیں۔ اس نے طویل فنی رفاقت کے لیے Warner Brothersاور Paramountپروڈکشن ہائوسز میں سے پہلے والے کو چنا ، سب سے زیادہ کام ان کی فلموں میں کام کیا۔ فلم کے شعبے سے ٹیلی وژن کی طرف آتے آتے اس نے ایک مختصر دور تھیٹر سے وابستگی کا بھی گزارا، مگراس میں یہ کامیابی نہ سمیٹ سکی اور پھر یہ کلی طورپر ٹیلی وژن کی طرف آگئی۔ ٹیلی وژن کے کیرئیر کاآغاز کامیابی سے ہوا۔

فے ایمرسن ٹی وی اور فلم ہر جگہ کامیاب رہیں

اس زمانے کوٹیلی وژن کا مشکل دوربھی کہا جا سکتا ہے کیونکہ ،جب اس شعبے میں خواتین نہ ہونے کے برابر تھیں، اس نے نہایت اعتماد سے کام کیا، بعد میں وقت نے ثابت کیا، یہ واقعی باصلاحیت اور ذہین تھی ۔ 1948 کو ٹیلی وژن کے شعبے میں اس نے کئی معروف پروگراموں کی میزبانی کی، اپنے حسن کا جلوہ بھی دکھایا، ان میں سرفہرست ،جن پروگراموں کو بہت شہرت حاصل ہوئی، ان میں The Chevrolet Tele-Theatreجیسے پروگرام شامل ہیں، اسی طرح The Philco Television Playhouseکو بہت پسند کیا گیا۔

اس کی شہرت دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر میں پھیل گئی، یوں شوبز کی دنیا میں اس کانام ایک ستارے کی مانند چمکنے لگا ، جس کی پرچھائیاں اس کے حسن پر بھی مرتب ہوئیں اور اس کا حسن مزید نکھر گیا۔ 1950 تک دوسال کی قلیل مدت میں نے اس نے اپنے نام کا ڈنکا بجا دیا، اسی ٹیلی وژن پر اس کے نام سے بھی شوآن ایئر ہوتا رہا، جس نے اس کو عالمگیر شہرت عطا کی ، آگے چل کر یہ شہرت اتنی کام آئی کہ اس کی رسائی امریکی حکمرانوں کے ایوانوں تک ہوئی۔ اگلے کئی برس اس کی حکمرانی ٹیلی وژن پر برقرار رہی، اس کو ’’The First Lady of Television‘‘ کاخطاب بھی دیا گیا تھا، کیونکہ اس نے ان اولین ٹاک شوز کی میزبانی کی، جو پہلی مرتبہ رات گئے نشر ہوتے تھے۔ یہ اس کی کامیابی کا سنہرا ترین دور تھا۔ 1960میں اسے’’ہالی ووڈ واک آف فیم‘‘ کے ستاروں میں بھی شامل کر لیا گیا۔

’’فے ایمرسن۔Faye Emerson‘‘ کو متعدد محبتیں ہوئیں، مگر شادیاں صرف تین کیں، جن میں 1938میں William Crawfordسے پہلی شادی تھی، یہ زیادہ عرصہ برقرارنہ رہ سکی، اس عرصے میں یہ امریکی صدر Franklin D. Rooseveltکے صاحب زادے Elliott Rooseveltسے ملی جو عسکری اور سول کئی طرح کے اہم عہدوں پر فائز رہے، ان سے دوسری شادی کی۔ اس شادی کے ذریعے، اس نے امریکی حکمران طبقے تک اپنے تعلقات کا راستہ ہموار کر لیا۔ اس وقت کے اہم وفود میں اپنے شوہر اور امریکی صدر، سسر کی وجہ سے شامل رہی، دنیابھر کی اہم سیاسی شخصیات سے بھی ملاقاتیں ہوئیں، پانچ برس تک اس کی یہ مصروفیات شوبز کی ترجیحات پر حاوی رہیں۔ اس نے یہ اعلان بھی کیا، یہ شوبز ترک کردے گی، جبکہ اس وقت کئی ایک فلمیں نمائش کی جانے والی تھیں، جن میں Juke GirlاورLady Gangsterکے علاوہ Destination Tokyoجیسی فلموں کے علاوہ کئی فنی منصوبے زیرتکمیل تھے۔

یہ وہ زمانہ ہے، جب دوسری جنگ عظیم کے بادل امریکیوں کے سر پر منڈلا رہے تھے، اس فضا میں یہ حسینہ ایک فوجی کو عاشق بنانے میں کامیاب رہی ، اس عاشق نے اپنے جنگی جہاز کانام بھی محبوبہ کے نام پر رکھ چھوڑا، اس کے باوجودیہ عاشقی زیادہ عرصے تک نہ چل پائی۔ دونوں شوہروں سے اس کی ایک ایک اولاد پیداہوئی، پھر تیسری شادی کے لیے اس کی نگاہ انتخاب شوبزپر ہی ٹھہری، اس نے ایک میوزک بینڈ کے سربراہ اور پیانو بجانے والے Skitch Henderson سے شادی کرہی لی۔ عاشقانہ طبیعت نے اس کو تمام زندگی مضطرب رکھا۔
اس حسینہ نے اپنے فنی کیرئیر میں تقریباً 30فلموں اور درجنوں ٹیلی وژن شوز اور کمرشلز میں کام کیا۔کئی معاشقے کیے اور شادیاں کیں۔ اپنی زندگی کو خوب جی کر 1983کو65سال کی عمرمیں اس دنیا سے رخت سفر باندھا۔ ایک دیہات سے زندگی کی ابتدا کرنے والی اس حسین عورت نے سادے صفحہ جیسی زندگی میں، اپنی مرضی کے رنگ بھرے اور خوب بھرے، رنگین زندگی گزار کر امر ہوئی، اپنی زندگی کے آخری برس اسپین میں گزارے۔پہلے شوہر سے پیدا ہونے والے بیٹے نے، اس ڈھلتی زندگی کے کمزور دنوں میں اسے سہارا دیا۔
آج بھی اس کی مسکان میں ایک وقار اور طمانیت محسوس ہوتا ہے، کیونکہ اس کی تصویریں بھی بولتی ہیں۔ چہرے بہت ہوں گے، مگر یہ چہرہ امریکی شوبز میں اتنی آسانی سے فراموش نہیں کیا جا سکے گاکیونکہ اس کی مسکان میں ایک جادو ہے۔ اس کی زندگی کے منظر نامے پر امریکا کی فنی داستان اور سیاسی کہانیاں بھی درج ہیں، جن کو باریک بینی سے سمجھ کر پڑھا اورمحسوس کیا جا سکتا ہے۔

Categories
نان فکشن

معصوم امنگوں کا ترجمان چہرہ؛ کیرا نائٹلی

‘بدن کی بینائی’ سلسلے کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

کیرا کرسٹینا نائٹلی۔ Keira Chirstina Knightleyکا شمار ہالی ووڈ کی اُن حسین عورتوں میں ہوتا ہے، جن پر پہلی نظر پڑتے ہی سینکڑوں نظروں میں تبدیل ہو جاتی ہے، اسی لیے جب وہ کوئی کردار نبھاتی ہے، تو فلم بین اس کی کرشمہ سازی میں کھوئے ہوتے ہیں۔ معصوم چہرہ اور حسین سراپا دیکھنے والوں کے دل چھو لیتا ہے، اداکاری سونے پر سہاگے کا کام کرتی ہے۔ ہالی ووڈ اور یورپی سینما میں، جن لوگوں نے اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے اونچی پرواز بھری، یہ ان میں سے ایک ہے۔ اب عالم یہ ہے بین الاقوامی فلمی دنیا میں، اس کا فن عروج پر اور حسن کی حشرسامانیاں زوروں پر ہیں۔

1985 کو برطانیہ کے شہر لندن میں پیدا ہونے والی اس لڑکی نے کم عمری میں ہی، انتہائی برق رفتاری سے آگے بڑھنے کے سارے راستے ڈھونڈ نکالے۔ بچپن میں اس پر اداکاری کا بھوت سوار ہوا، جس عمر میں لڑکیاں گڑیا سے کھیلتی ہیں، یہ جذبات اور احساسات سے کھیلنے کی کوشش کر رہی تھی۔ 1995 میں، اپنی عمر کے ٹھیک 10 برس مکمل ہونے پر، زندگی کی پہلی فلم’’Innocent Lies‘‘میں کام کیا، پھر اداکاری سے دامن چھڑا نہ سکی۔ اُس وقت سے لے کر اب تک یہ تقریباً کوئی 40سے زائد فلموں میں کام کر چکی ہے، ٹیلی وژن اور تھیٹرکا کام اس کے علاوہ ہے۔ ماڈلنگ کی مصروفیات بھی ساتھ ساتھ جاری ہیں۔ مستقبل قریب میں اس کی فلموں کے کئی منصوبے بھی زیر تکمیل ہیں۔

کیرانائٹلی نے یوں تو کئی فلموں میں کام کیا، مگر اس کی بین الاقوامی شہرت 2003میں ریلیز ہونے والی فلم’’Pirates of The Caribben‘‘ سے ہوئی۔ فلم کی کامیابی نے اس پر شہرت اور دولت کے سارے دروازے کھول دیے۔ اس کا چہرہ ہالی ووڈ سمیت پوری دنیا میں موجود فلمی شائقین کے لیے شناسا ہوگیا۔ اس فلم کی سیریز میں بننے والی تمام فلموں میں اس نے کام کیا۔ 2017میں اسی سلسلے کی ریلیز ہونے والی فلم میں بھی اس نے اہم کردار نبھایاہے۔ فلم سیریزکی کامیابی کے بعد اس کوفلمی صنعت میںکام کرنے کے کئی سنہری مواقع ملے۔ جین آسٹن کے ناول پر بننے والی ایک اہم فلم’’Pride and Prejudice‘‘ میں اہم کردار نبھایا۔ 2012 میں لیوٹالسٹائی کے ناول پر بننے والی فلم’’ایناکارنینا‘‘ میں بھی اپنی اداکاری سے فلم بینوں کے دل موہ لیے۔ سائنس فکشن، ایکشن، تھرل، رومان سمیت ہر طرح کی فلموں میں کام کرنے کی صلاحیت رکھنے والی یہ اداکارہ اب پوری دنیا میں اپنا نام کما چکی ہے۔

اس کا اتنی فلموں میں بنا کسی وقفے کے کام کرلینا صرف اسی صورت میں ممکن ہے، جب آپ پر اپنی منزل کو پالینے کاجنون سوار ہوجائے۔ اس نے اپنے کام سے محبت کی اور صرف اپنی ظاہری خوبصورتی کو سہارا نہیں بنایابلکہ عملی طورپر اداکاری جیسے مشکل شعبے میں کرداروں کی نفسیات کو سمجھا، ان کی کیفیت میں ڈھل کر فلمی پنڈتوں اور فلم بینوں کو حیران کردیا۔ یہ اپنے مختصر فلمی کیرئیر میں سینکڑوں ایوارڈز کے لیے نامزد ہوئی، جس میں بہترین اداکارہ برائے’’اکیڈمی ایوارڈ‘‘ اور’’گولڈن گلوب ایوارڈ‘‘ کے علاوہ’’برٹش اکیڈمی آف فلم اینڈ ٹیلی ویژن آرٹس ایوارڈ‘‘ شامل ہیں، جبکہ بہت سارے ایوارڈز اپنے نام کرنے میں کامیاب رہی، جس طرح ہالی ووڈ فلم ایوارڈز اوردیگر کئی ایوارڈزہیں۔امریکی بزنس میگزینForbesکے مطابق، ایک مخصوص وقت میں یہ ہالی وو ڈ کی دوسری مہنگی ترین اداکارہ ثابت ہوئی اور زیادہ معاوضہ لینے والی واحد غیر امریکی اداکارہ ہے۔

اس کو اداکاری ورثے میں گھر سے ملی کیونکہ اس کے والدین کا تعلق بھی شوبز سے تھا۔ والدSharman Macdonaldاور والدہ Will Knightlyاداکارہ سے وابستہ رہے۔ اس کی والدہ ڈراما نگاری کے حوالے سے اعزاز یافتہ بھی تھیں۔ انہوں نے تھیٹر اور ٹیلی ویژن میں بھی اداکاری کی۔ اس کی ماں اسکاٹش جبکہ والد انگریز تھے۔ اس نے ابتدائی تعلیم اسٹینلے جونیئر ہائی اسکول ،ٹڈنیکون اسکول اورایشر کالج سے پڑھائی مکمل کی۔6برس کی عمر میں اس پر ایک بیماری کا انکشاف ہوا، اس بیماری کا نام Dyslexiaتھا۔ اس میں لکھنے پڑھنے میں مشکل پیش آتی ہے مگر اس نے ہمت کی، بیماری کو شکست دے کر اسکول میں داخلہ لیااور کامیابی سے اپنی پڑھائی مکمل کی۔ اس بیماری میں انسان پر یہ خوف بھی طاری ہوجاتاہے کہ وہ زیادہ کھائے گا تو اس کاوزن بڑھ جائے گا۔یہ بیماری عمومی طورپر عورتوں میں زیادہ پائی جاتی ہے۔ اس کیفیت میں عورتیں خود کو دبلا پتلا کرنے کے لیے کئی طرح کی کڑی مشقیں کرتی ہیں اور ذہنی اذیتیں مول لیتی ہیں۔ کیرانائٹلی بھی ایسی ہی کیفیات میں گھری ہوئی تھی لیکن جلداس نے پنے اس خوف پر قابو پالیا۔

اس نے بچپن میں اپنی ماں کے لکھے ہوئے ایک کھیل، جوکہ مقامی طورپر کھیلا جا رہا تھا، اس میں بھی اداکاری کی۔اس کی توجہ اداکاری کے ساتھ ساتھ مصوری، تاریخ اور انگریزی ادب پر بھی تھی۔ کچھ عرصہ ان مضامین کی محبت میں گزارکر، کلی طورپر خود کواداکاری کے لیے وقف کردیا۔ اس نے اداکاری کی خاطر اپنے دیگر شوق ترک کر دیے، اپنے خوابوں کے حصول کے لیے London Academy of Music and Dramatic Artمیں داخلہ لے لیا۔ بچپن سے اداکاری میں دلچسپی کی وجہ سے اس کو آگے بڑھنے کے اچھے مواقع ملنے لگے۔ 6سال کی عمر میں اداکاری شروع کرنے والی یہ کمسن بچی نے اشتہارات اور ٹی وی کے چھوٹے موٹے کرداروں میں کام کیا۔

شوبز کے میدان میں کامیابی کمانے کے ساتھ کیرانائٹلی نے بدنامی بھی کمائی۔ اس کاایک فوٹوشوٹ، جو اس نے ایک ساتھی اداکارہ Scarlett Johanssonکے ساتھ شوٹ کروایا، وہ بہت متنازعہ ہوا، اس فوٹوشوٹ کے متنازع ہونے کی وجہ ،اس کامکمل طورپر برہنہ فوٹو شوٹ ہونا تھا۔اس کے علاوہ یہ پنا ایک برہنہ شوٹ بھی کرواچکی ہے،جس کے لیے اس کاموقف ہے کہ وہ عورتوں کے حقوق کے تناظر میں احتجاج کے طورپر کیاگیاایک بامقصد کام ہے۔ اس کی بولڈ اور کھلی ڈھلی شخصیت کی وجہ سے FHMاور Maximجیسے بولڈ میگزینز نے ’’ہوشربا عورتوں‘‘ کی فہرست اس کو اوپری اعداد میں جگہ دی۔ اس نے ایک آئرش اداکارJamie Dornanکے ساتھ معاشقہ چلایا، کچھ عرصے بعد اپنی ایک فلمPride and Prejudiceکے ہیروکے ساتھ معاشقہ کیا، جس کانامRupert Friendہے۔ کچھ برس محبت کایہ سفر جاری رہا،پھر اس کارومان ایک موسیقار James Rightonسے پروان چڑھا اور 2013میں دونوں نے شادی بھی کرلی، جو ابھی تک برقرار ہے۔

یہ سوشل ورک بھی کرتی ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل کی اور اقوام متحدہ کی طرف سے بھی انسانی حقوق کے لیے خدمات انجام دیتی رہی ہے، جن میں بالخصوص افغانستان میں عورتوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا شامل ہے۔ اس کی سماجی سرگرمیوں کا محور زیادہ تر افریقی ممالک رہے۔ اس نے اپنے اس مقصد کی خاطر ایتھوپیا کا سفر بھی کیا۔ خیرات کی۔ اپنی کئی چیزیں اور خطیر رقم مدد میں دے دی۔ عورتوں میں ایڈز سے بچاؤ کی مہم کے لیے بھی کام کیا۔اس کاشمار ان چند اداکاراؤں میں ہوتا ہے، جنہوں نے قلیل مدت میں کثرت سے کام کیا اور بے پناہ شہرت سمیٹی، بعض اوقات ایک فنکار کو پوری زندگی بسر کر کے بھی اتنی کامیابی نہیں ملتی۔ بی بی سی کے ایک سروے کے مطابق اس کاشمار ان منتخب افراد میں ہوتا ہے، جنہوں نے برطانوی ثقافت پر اپنے گہرے نقوش چھوڑے۔

معصوم چہرے کی مالک، یہ خوبصورت عورت ایک درد مند دل رکھتی ہے۔ اپنی ذاتی زندگی پر بات کرنا پسند نہیں کرتی، شہرت کی بلندیوں پر فائز ہوکر بھی زمین پر بسنے والے عام انسانوں میں رہنا چاہتی ہے، اس لیے، خود کو اس نے سماجی خدمت سے جوڑ رکھا ہے اور انسانیت کی خدمت میں بھی خواتین کے حقوق اس کی ترجیحات میں سب سے پہلے ہیں۔ خدا کو نہیں مانتی، لیکن خلق خدا کی خدمت میں پیش پیش ہے۔ بظاہر حسین دکھائی دینے والی اس اداکارہ کی روح بھی اتنی ہی خوبصورت ہے، ورنہ احساسات کاشور اس کو نہ ستاتا، جس کی تکمیل میں یہ مادی اور تخلیقی دونوں شاہراؤں پر تیزی سے اپنی منزل کی جانب گامزن ہے۔

Categories
نان فکشن

شوبز کی ترک شہزادی؛ بیرین ساعت

‘بدن کی بینائی’ سلسلے کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

کچھ چہرے ایسے ہوتے ہیں، جن پر صرف نظر پڑتی ہے تو وہ دل کو بھا جاتے ہیں۔ ان چہروں کو پسند کرنے کی فوری کوئی وجہ نہیں ہوتی، بس ان کو دیکھنا اچھا لگتا ہے۔ ترکی میں ایک ایسا ہی چہرہ، شوبز کی دنیا میں نمودار ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے سب کی آنکھوں کا تارا بن گیا۔ اس حسین چہرے کو ’’بیرین ساعت‘‘ کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ تتلیوں جیسی اُڑان بھرنے والی اس کمسن اور خوبصورت اداکارہ نے اپنی پختہ اداکاری سے ناظرین کے دل موہ لیے۔ ترکی کی مقبول ترین اداکارہ نے اپنی اداکاری سے ایسی شناخت بنائی کہ آج ترکی سمیت دنیا کے کئی ممالک اس کے نام اورکام سے بخوبی واقف ہیں۔

بیرین سات اپنی اداکاری کے باعث کئی ممالک میں مشہور ہیں

پاکستان میں گزشتہ کچھ برسوں سے ترکی ڈراموں کو متعارف کروایا گیا، دیکھتے ہی دیکھتے یہ ڈرامے ناظرین کے دل کو چھو گئے۔ پاکستان میں نشر ہونے والا اولین ترکی ڈراما’’عشقِ ممنوع‘‘تھا، جبکہ اس کے علاوہ ایک ڈراما ’’فاطمہ گل۔میراقصورکیا‘‘ بھی نشر کیا گیا تھا۔ ان دونوں ڈراموں کے مرکزی کرداروں میں جس اداکارہ نے داد سمیٹی، اس کا نام’’بیرین ساعت۔Beren Saat‘‘ ہے۔ ترکی شوبز کی اس حسین شہزادی کی زندگی بھی کسی داستان سے کم نہیں، بالکل اس کے افسانوی حسن کی طرح، جس کو دیکھتے رہنے میں ہی عافیت محسوس ہوتی ہے۔

بیرین سات نے دوستوں کے مشورے پر اداکاری کے میدان میں قدم رکھا

ترکی کے شہرانقرہ میں پیدا ہونے والی اس اداکارہ کی پیدائش کابرس1984ہے۔ ایک مسلمان گھرانے میں پیداہوئی۔ کم عمری میں ہی اپنی صلاحیتوں کو پہچان لیا، یہی وجہ ہے، اس نے زندگی میں جو کام بھی کیا، اس میں مکمل کامیابی حاصل کی۔ انقرہ کالج اورباسکنٹ یونیورسٹی سے اپنی تعلیم مکمل کر کے مینجمنٹ فیکلٹی سے گریجویشن کیا۔ زمانہ ٔ طالب علمی میں اس کی شخصیت کاتاثر کچھ تخلیقی تھا، اس کے دوستوں کاخیال تھا کہ اگر یہ تھوڑی کوشش کرے، تو اچھی اداکارہ بن سکتی ہے مگر اپنے اس پہلو سے ’’بیرین ساعت‘‘واقف نہ تھی،مگرپھرایک وقت ایسا بھی آیا کہ اس کا شمار ترکی کی ان اداکارائوں میں بھی ہوا،جو اپنے خطیر معاوضے کے لیے مقبول رہیں۔

یہی وہ زمانہ ہے،جب ترکی کے ایک ٹیلی ویژن پراداکاری کے لیے مقابلے کا اعلان ہوااورنووارد اداکاروں نے اس میں حصہ لیا، ظاہر ہے اس میں ایک بڑی تعداد نوجوانوں کی تھی۔دوستوں کے بے حد اصرار پر’’بیرین ساعت‘‘ نے اداکاری کے مقابلے میں حصہ لیااور دوسرے نمبر پر آئی۔ اس جیت نے اس کے اندر ایک اعتماد پیدا کیا کہ وہ اداکاری کے میدان میں کچھ کرسکتی ہے۔ مقابلے کے منتظم نے بھی اس کو اداکاری کے شعبے میں کیرئیر بنانے کا مشورہ دیا۔ دوستوں کے کہنے اوراس مقابلے کی جیت کے بعد ’’بیرین ساعت‘‘ نے آخر کار اداکاری کے میدان میں قدم رکھنے کا فیصلہ کرلیا۔ دھیرے دھیرے اس میدان میں قدم رکھا اور آج اس کا شمارترکی کی صف اول کی اداکاراؤں میں ہوتا ہے۔

’’بیرن ساعت‘‘ نے 2004میں، اپنے کیرئیر کے پہلے ڈرامے میں مختصر سا کردار ’’Nermin‘‘ تھا۔ہر چند کے کردار مختصر تھالیکن اس کے ذریعے ترکی میں اسے شوبز کے ماہرین کی توجہ ملی۔2005 میں اس نے ایک اورسیریل میں کام کیا،یہ ایک مشرقی لڑکی جس کا نام’’Zilan‘‘ تھا، اس کا کردار تھا۔ اس ڈرامے کی کاسٹ میں ترکی کے نمایاں اداکاروں کے ساتھ’’بیرین ساعت‘‘ کو کام کرنے کا موقع ملا، یوں وہ منظر عام پرآگئی اور شناخت کے مراحل تیزی سے طے کرنے لگی اورشہرت کا دیوتا اس پر مہربان ہونے لگا۔

2006 میں اس کو ایک اورڈرامے میں کام کرنے کا موقع ملا،اس ڈرامے کانام’’Hatirala Sevgili‘‘تھا اور اس نے ’’یاسمین‘‘ نامی لڑکی کا کردار نبھایا۔ یہ ایک خوبصورت لڑکی کا کردار تھا اوراس کی خوبصورتی اس ڈرامے میں بہت کام آئی۔ اس کے قدرتی حسن اور معصومیت نے اس کے کردار میں جان ڈال دی۔ترکی میں ڈراما دیکھنے والے اس حسن کے کی شہزادی کے اسیر ہوکر رہ گئے۔ ان کی نظریں ہروقت اس ڈرامے اور’ ’یاسمین ‘‘ پر لگی رہتی تھیں۔ اس ڈرامے سے ’’بیرین ساعت‘‘ کے مداحوں کی تعداد میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا۔

’’بیرین ساعت‘‘ بہت تیزی سے اپنی مقبولیت کی سیڑھیاں چڑھ رہی تھی لیکن ابھی شہرت کی وہ بلندی اس کے انتظار میں تھی، جس کو پانے کے لیے کوئی فنکار خواب دیکھتا ہے۔ 2008میں اس کو ایک ڈرامے’’Forbidden Love‘‘میں کام دیا گیا۔ اس ڈرامے کی کہانی اُنیسویں صدی کے ترکی کے مشہور ناول نگار ’’Halad Zia Usakligil‘‘کے ناول سے ماخوذ تھی اور اس ڈرامے کا نام بھی ناول کے نام پر رکھاگیا۔اس میں ’’بیرین ساعت‘‘ کا کردار ایک خوبصورت کم عمربیوی کا ہے،جس کی شادی ایک رئیس شخص سے ہوئی، جوعمر رسیدہ ہے۔اس میں ’’Bihter‘‘کا کردار اس نے بخوبی نبھایا۔یہ ڈراما پاکستان میں ’’عشق ممنوع‘‘کے نام سے نشر کیاگیااوراس ڈرامے کو بے حد مقبولیت ملی۔ اس ڈرامے میں ’’بیرین ساعت‘‘ نے اپنی عمدہ اداکاری سے پاکستانی ناظرین کے دل بھی جیت لیے۔آج ہر پاکستانی شائق اس کے چہرے کو پہچانتا ہے۔

بیرین سات اپنے حسن اور اداکاری سے لوگوں کے دل جیت چکی ہیں

عشق ممنوع کو جب ترکی میں نشر کیاگیاتو اس نے ترکی ٹیلی ویژن کی ڈرامے کی تاریخ کے سارے ریکارڈ توڑدیے تھے۔ ڈرامے کی صنعت کے ناقدین نے بھی اس میں کام کرنے والوں کو مکمل اداکار کہا۔ حیرت انگیز طورپر پاکستان میں بھی اس کی مقبولیت نے رجحان ساز ماحول پیدا کر دیا اور اس ڈرامے کی مقبولیت کے بعد ہمارے نجی چینلز انڈین ڈرامے کو بھول کر ترکی ڈراموں کے پیچھے پڑگئے۔ ایک نجی چینل نے تو ایک نیاترکی ڈراما نشر کرتے ہوئے اپناٹائٹل یہ بنایا کہ ’’وہ عشق اب جو ممنوع نہ رہا‘‘۔

سب چیزیں اپنی جگہ مگر’’بیرین ساعت‘‘ کی عمدہ اداکاری نے اس کھیل پر اپنے گہرے اثرات مرتب کیے۔پاکستان میں یہ ڈراما ڈب کرکے پیش کیا گیا اور اس کے کرداروں پر پاکستانی فنکاروں نے اپنی آواز کے جوہر دکھائے اور وہ بھی اس کوشش میں مکمل طورپر کامیاب رہے۔’’بیرین ساعت‘‘ ترکی میں ڈراموں کے ساتھ ساتھ کئی فلموں میں بھی کام کیااوربہت کم عمری میں تیزی سے اپنی منزل کی مسافت طے کرتی چلی گئی۔ محبت اورعاشقی کے موسم بھی ساتھ ساتھ اس پر اترتے رہے، اس نے امریکا میں،ترکی کے گلوکار اورموسیقارKenan Dogulu سے شادی بھی کی،جس سے پہلے ایک شادی اور کئی معاشقے نمٹا چکی تھی۔

بیرین شوہر کے ہمراہ

’’بیرین ساعت‘‘ نے 2009میں فلموں میں اداکاری کی ابتدا کی۔اس کے فلمی کیرئیر کی پہلی فلم’’Pains of Autumn‘‘تھی۔اسی برس ایک اورفلم میں اس کو کام کرنے کا موقع ملا، اس کانام’’Wings of the Night‘‘تھا۔ ان فلموں نے اس کی اداکاری کو مزید چار چاند لگادیے۔2010میں اس نے ایک سیریل’’Fatmagul’un Sucu Ne‘‘میں کام کیا۔اس سیریل نے تو گزشتہ مقبولیت کے بھی ریکارڈ توڑ دیے۔ اس کو یہ ڈراما شہرت کی اعلی ترین بلندیوں پر لے گیا۔اس میں ’’بیرین سات‘‘ کا کردار ایک ایسی گواہ کا تھا جس نے ایک لڑکی کی آبروریزی ہوتے دیکھی تھی۔یہ ڈراما بھی ترکی کے ایک معروف ناول نگار’’Vedat Turkaliکے ناول سے ماخوذ تھا۔اس ڈرامے نے ’’بیرین سات‘‘ کو بین الاقوامی شہرت سے نوازا۔ یہ دنیا کے دو بڑے ایوارڈ ز کے لیے نامزد ہوئی،جن میں سے ایک اعزاز’’سیول انٹرنیشنل ڈراما ایوارڈ‘‘تھا۔پاکستان میں بھی اس ڈرامے کو ’’فاطمہ گل،میراقصورکیا‘‘کے نام سے نشر کیا گیا۔

’’بیرین ساعت‘‘ کی یہ کامیابی اوراس کی اداکاری کے شعبے میں تیز ترین مقبولیت کو دیکھ کر یہ اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ اس کامستقبل روشن ہے۔اس کو ایک ایرانی فلم’’Rhino Season‘‘میں بھی کام کرنے کاموقع ملااور اس فلم میں یہ معروف اطالوی اداکارہ’’مونیکا بیلوسی‘‘کی بیٹی بنی ہے۔اس فلم میں انقلاب ایران سے پہلے کی کہانی کو سیاسی پس منظر میں فلمایا گیا ہے۔ اس فلم کا ورلڈ پریمئر شو ٹورٹنو میں ہوا تھا۔
’’بیرین ساعت‘‘ نے 2012میں ایک اینی میٹیڈفلم ’’Brave‘‘کے مرکزی کردار میں اپنی آواز کاجادو بھی جگایا۔کئی اشتہاروں میں اس کا چہرہ زینت بنا۔ اس کو مشرقی یورپ اور عرب ممالک میں کافی شہرت ملی اور اس کے مداحوں کا حلقہ وسیع ہوا۔ترکی میں فیس بک پر ایک انتہائی مقبول اداکارہ بھی ہے۔ اس کے فیس بک اکاؤنٹ کو تقریباً 2ملین افراد پسند کرچکے ہیں۔ یہ سماجی خدمت پر بھی یقین رکھتی ہے اور اس کے لیے وقت نکالتی ہے۔ فلاحی سرگرمیوں کے لیے اس نے ہمیشہ اپنے آپ کو آگے آگے رکھا، شاید اس کی برکت بھی ہے،جو اس کا حسن کندن ہوتاجارہا ہے اور چہرے کی معصومیت کی کشش مزید بڑھنے لگی ہے۔

بیرین فلموں میں بھی اداکاری کے جوہر دکھا چکی ہیں

’’بیرین ساعت‘‘ دوبارہ ترکی ٹیلی ویژن کے لیے کام کررہی ہے۔ایک ڈراما جس کانام’’Revenge‘‘ہے۔انتقام پر مبنی یہ کہانی امریکا کی مشہورسیریز،جس کانام بھی یہی ہے،اس سے متاثر ہوکر لکھی گئی ہے۔ اس میں ’’بیرین سات‘‘ کا کردار ایک ایسی لڑکی کا ہے،جس کا نام’’Efsun‘‘ ہے اور اس کے ذہن میں ایک ہی کئی برسوں سے گردش کرتی ہے کہ اس نے واپس وہاں لوٹنا ہے، جہاں وہ پلی بڑھی تھی،جو کبھی اس کاگھر تھا اور وہاں کوئی رہتاہے۔

’’بیرین ساعت‘‘ نے اپنے مختصر فلمی کیرئیر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوالیا۔یہ ترکی کے چھوٹے بڑے 24اعزازات کے لیے نامزد ہوئی اورکئی اعزاز اپنے نام بھی کیے جن میں2008میںGolden Tulip Fine Artsبرائے بہترین اداکارہ شامل ہے۔ دوسرا نمایاں اعزاز جو اس نے اپنے نام کیا،وہ2009اور2010میں Golden Butterfly Awardsبرائے بہترین اداکارہ تھا۔اس نے 5فلموں میں کام کیا،جس میں ایک بین الاقوامی فلم بھی شامل ہے اور اس کے علاوہ ترکی ٹیلی ویژن کے 9بڑے ڈراموں میں کام کرچکی ہے۔ اشتہارات اور دیگر شوبز کے منصوبے ان کے علاوہ ہیں۔

پاکستان میں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ اس تُرک شہزادی نے پاکستانی ڈرامے کی مہارانیوں کی نیندیں اڑا دیں کیونکہ خوبصورتی کی کوئی زبان نہیں ہوتی اورنہ ہی علاقہ، اس کو صرف داد وتحسین سے غرض ہوتی ہے اوراس میں ہمارے ہاں کافی سخاوت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ہرگزرتے دن کے ساتھ ’’بیرین سات‘‘ کا جادو سرچڑھ کر بول رہاہے، کیوں نہ بولے، ترکی جیسی سرزمین سے شہزادی نے حسن اور محنت دونوںکی معاونت سے یہ موجودہ مقام حاصل کیا ہے، جہاں کوئی اس کی صورت دیکھنے کو بہت دیر تک انتظار کرسکتا ہے۔

Categories
نان فکشن

وقت کے کینوس کا طلسمی رنگ-سنڈی کرافورڈ

‘بدن کی بینائی’ سلسلے کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

وقت کے کینوس پر بہت سارے رنگ آتے اور گزرتے رہتے ہیں، مگر کچھ رنگ ایسے خاص ہوتے ہیں، جن کا رخصت ہونا ٹھہر جاتا ہے، ان کی رنگت اور نکھار حُسن کو اور چمکدار بنا دیتی ہے۔ دنیا میں ایسی رنگت والے طلسمی چہرے کم، لیکن وارد تو ہوئے ہیں۔ عالمی فیشن کی دنیا میں ایسا ہی ایک چہرہ، جس نے عمر کو اپنی مٹھی میں تھام کے رکھا ہے۔ اس کے حسن کی چاندنی ابھی تک دمک رہی ہے۔ وہ وقت کی گردش میں بھی پورے غرورکے ساتھ قائم ہے، ہرچند کہ وقت کی پرچھائیوں نے اسے متاثر بھی کیا ہے، اس کے باوجودوہ بے پرواہ محبوب کی مانند ہے، جواپنے آپ میں مدہوش ہے۔

امریکی فیشن کا نمایاں ترین ستارہ-سنڈی کرافورڈ

اس حسینہ کا نام’’Cindy Crawford‘‘ ہے، وہ امریکی فیشن کے شعبے میں نمایاں ستارے کی مانند ہے۔اس کی بھوری آنکھوں اور زلفوں نے، اُوپری ہونٹ کے قریب اُبھرے ہوئے تل کے ساتھ مل کر عاشقوں کا خوب امتحان لیا۔ وہ تل کئی دہائیوں تک، مداحوں کے دلوں کو بے چین کرنے پر تلارہا۔ اس تل کی اہمیت سے وہ خود بھی واقف تھی، اسی لیے وہی تل اس کے بزنس کا ٹریڈ مارک بنا، ورنہ ایک وقت وہ بھی تھا، جب کیرئیر کے ابتدائی دنوں میں، اس کے عکس بند کیے ہوئے فوٹوشوٹس میں، اس تل کو،کمپیوٹر کی مدد سے ایڈیٹ کر دیا گیا، ہرچند کہ آگے چل کر یہی تل اس ہوشربا حسن کو نظربد سے بچانے کا سبب بنا۔

’’Cindy Crawford‘‘امریکی ماڈل اور ادکارہ ہے۔ زمانہ طالب علمی میں اپنی ذہانت کی وجہ سے نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی میں اسکالر شپ حاصل کی، یہی وہ زمانہ ہے، جب اس نے خود کو ماڈلنگ کی طرف راغب پایا، اسے ماڈلنگ کا کام بھی ملنے لگا، جس کی وجہ سے پڑھائی ادھوری رہ گئی اور اس کی توجہ کامرکزصرف کیرئیر بن گیا۔ طالب علمی کے دور ہی میں طلبا کے ایک جریدے کے لیے اس کی تصویر سرورق کی زینت بنی۔ دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں بھی فیشن سے متعلق، اس کا رجحان خصوصی طور پر زیادہ تھا۔ اسی وقت محدود پیمانے پر ہونے والے فیشن کے مقابلوں میں بھی اس نے شرکت کی، یوں لاشعوری طور پر ماڈلنگ کے کیرئیر کی طرف بڑھتی چلی گئی اورکامیابیوں نے اس کے قدم چومنے شروع کر دیے۔

سنڈی کرافورڈ فیشن اور شوبز کے تمام بڑے جرائد کے لئے ماڈلنگ کر چکی ہیں

وہ اپنے آبائی علاقے سے نیویارک منتقل ہونے کے بعد ایک ماڈلنگ ایجنسی سے وابستہ ہوئی اور یوں اس کے کیرئیر کا راستہ بنتا چلا گیا۔ اپنے خاندان میں یہ واحد شخصیت تھی، جس کو اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے کچھ بھی کر گزرنے کا جنون تھا۔ کم عمری میں بھی کسی خوف کی پرواہ کیے بغیر دنیا کو جیت لینے کی غرض سے عملی زندگی میں قدم رکھ دیا۔ اس کو آبائو اجداد کی طرف سے، امریکا کے علاوہ جرمنی، انگریزی اور فرانسیسی رشتے ناطے بھی ملے، شایداسی لیے وہ کئی ثقافتوں کا مظہر اور ملاپ محسوس ہوتی ہے۔

’’Cindy Crawford‘‘کے عروج کا دور 80 اور 90 کی دہائی ہے۔ اس نے دنیا کے تمام بڑے فیشن ریمپ پر چہل قدمی کی۔ دنیا کے تمام بڑے اور نامور رسائل و جرائد نے اپنے سرورق پر، اس کی تصویروں کو زینت بنایا۔ اس کی تصویریں ہزاروں بار چھاپی گئیں۔ یہاں ان رسائل اور اخبارات کے نام لکھے جائیں، تو تعداد سینکڑوں میں بنتی ہے۔ ہر چھوٹے بڑے اخبار اور رسالے نے اس کی زندگی اور روزوشب کا احوال لکھا۔ دنیا کے متعدد بڑے اشتہاری برانڈز کے لیے یہ سفیر بھی رہی اور اس کا ظہور اشتہارات میں بھی ہوا۔ پورے کیرئیر میں ساتھی ماڈلز کے لیے مقابلے کی فضا برقرار رکھی، جس میں ایک طرف اس کا حسن کام آرہا تھا تو دوسری طرف ذہانت بھی معاونت کر رہی تھی۔
’’امریکن سوسائٹی آف میگزین ایڈیٹرز‘‘ نے 40 برس میں شایع ہونے والے سرورق کی فہرست میں بائیسواں نمبر دیا، یہ اس کے پسند کیے جانے کی انتہا تھی۔ 1988 میں دو بار اپنے حسن کو تمام کرتے ہوئے، بدنام زمانہ جریدے Playboy کے لیے برہنہ فوٹوشوٹ عکس بند کروائے اور فیشن کے منظر نامے پر تہلکہ مچا دیا۔ اسی جریدے کی مرتب کردہ فہرست کے مطابق، اکیسویں صدی کی 100 اشتہا انگیز عورتوں میں اس کا نمبر پانچواں تھا۔ دیگر رسائل و جرائد میں کسی نے اسے کائنات کی سب سے حسین خاتون قرار دیا تو کسی نے خوبصورتی کی بے مثال شخصیت کہا۔ 2006 میں بھی Maximمیگزین نے اسے دنیا کی 100 ہوشربا خواتین میں 26ویں نمبر پر رکھا، جبکہ اس وقت یہ اپنی عمر کا چالیسواں ہندسہ عبور کر چکی تھی۔

معروف گلوکاروں نے اس کو اپنی میوزک ویڈیوز میں شامل کیا، چاہے وہ 1990میں جارج مائیکل کا کوئی گیت ہو یا 2015 میں ٹیلرسوئفٹ کی گائی ہوئی کوئی دھن، حسن کی یہ رانی اسکرین پر راج کرتی رہی۔ اشتہاری کمپنیوں نے ان کو منہ بولے معاوضے پر اپنے ہاں کام کرنے کی درخواست کی۔ فٹنس ویڈیوز بھی اس کے کام کاحصہ بنیں۔ ایک درجن کے قریب فلموں میں کام کیا، جبکہ میوزک اور فٹنس ویڈیوزکو ملا کر تقریباً 9 ویڈیوز میں اپنے فن کے جوہر دکھائے۔ ٹیلی وژن کی دنیا میں بھی درجن بھرسے زیادہ پروگراموں میں کام کرکے مزید شہر ت حاصل کی، جس میں مختلف ڈراما سیریز اور ٹاک شوز شامل ہیں۔ ٹیلی وژن میں اب تک کا آخری پروگرام 2016 نشر کیا گیا۔ فلم، ٹیلی وژن، میوزک ویڈیوز اور فیشن کی دنیاپر اس حسینہ کا راج اب تک جاری ہے۔

سنڈی کرافورڈ اب فلاحی کاموں میں حصہ لیتی ہیں

’’Cindy Crawford‘‘ نے 2000 تک آتے آتے فیشن کی دنیا کو خیر بادکہا، البتہ تجارتی اور فلاحی سرگرمیوں کی طرف رجحان برقرار رہا، پھر 2011 میں محدود پیمانے پر، ماڈلنگ کی طرف واپسی ہوئی۔ 2015 کو Becoming کے نام سے اپنے کیرئیر اورذاتی زندگی پر کافی ٹیبل کتاب کا اجرا بھی کیا، دیگر کئی معروف کافی ٹیبل کتابوں کاحصہ بنتی رہی۔صحت عامہ سے متعلق فلاحی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کا حصہ لیا۔ اس کی ذاتی زندگی کی ایک جھلک دیکھی جائے تو اس نے دو شادیا ں کیں، پہلی شادی ہالی ووڈ کے معروف اداکار Richard Gere سے کی، جو زیادہ عرصہ نہ چل سکی۔ دوسری شادی ایک بزنس مین سے کی، جو تا حال کامیابی سے جاری ہے، اس کے دو بچے بھی ہیں، جنہوں نے اپنی ماں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے فیشن کو ہی اپنے کیرئیر کے لیے منتخب کیا ہے۔ 2008 کے امریکی انتخابات میں بارک اوبامہ کے حق میں اپنی آواز ملائی جبکہ 2011 کے انتخابات میں ان کی نگاہ کامرکز Mitt Romney تھا۔

زندگی کی 50 بہاریں دیکھنے والی یہ حسین خاتون اب بھی بے حد پرکشش ہے اور اپنے بعد آنے والی حسین عورتوں کو بھی شہرت کے سفر میں پیچھے چھوڑ چکی ہے۔ اس کا شمار ان چند مقبول ترین امریکی شخصیات میں ہوتا ہے، جنہوں نے بڑے اعتماد سے اپنے کیرئیر کو آگے بڑھایا، خود کو زیادہ تنازعات میں گھرنے نہیں دیا، پوری دنیا کے فیشن میں خود کو شریک رکھا، فلاحی اور خیراتی کاموں میں بھی پیش پیش رہی۔

سنڈی کرافورڈ کا حسن اب کندن ہو چکا ہے

اس حسینہ نے اپنے حسن کو بحال رکھا، کہیں خود کو گل نہ ہونے دیا، اپنے دیدنی حسن کی روشنی سے مداحوں کو دیوانہ بناتی رہی۔ یہ پرکشش لڑکی، اب ایک باوقار عورت کے روپ میں ڈھل چکی ہے، ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ زندگی کے اتنے ادوار میں کوئی اپنی خوبصورتی کو برقرار رکھے، مگر اس نے ثابت کر دکھایا۔ شہرت کی شہزادی اب بھی اپنے اعتماد سے کسی کے حواس کو باختہ کر سکتی ہے، کیونکہ اس کا حسن کندن ہو چکا ہے۔

Categories
فکشن

زمینی اور آسمانی خواہشوں سے گندھی لڑکی

یہ آج سے قریب دس سال پرانا قصہ ہے، شاید اسے دس برس پورے ہوگئے ہیں یا نہیں ہوئے۔البتہ میں اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ ان دنوں میں ایک چار ایپی سوڈ پر مشتمل مختصر سی فکشن سیریز کے لیے جموں روانہ ہونے والا تھا۔ہمارے ڈائریکٹر کو ایک عدد لڑکی کی تلاش تھی جو کشمیری معلوم ہوتی ہو اور جس کی اردو بھی ٹھیک ٹھاک ہو۔میرے دوست فیضان علی نے کہا کہ ان کی ایک کزن ہے، جو ان دنوں کام کی تلاش میں ہے ، وائسنگ کا اسے کافی تجربہ ہے ، غالبا ایکٹنگ بھی کرلے گی۔میں نے اس کی تصویر منگا کر اپنے ڈائرکٹر کو بھیج دی، مگر انہوں نے یہ کہہ کر ہاتھ اٹھالیے کہ یہ لڑکی کشمیری نہیں معلوم ہوتی، البتہ میزورم کی کوئی خوبصورت گڑیا جیسی لگتی ہے۔بات آئی گئی ہوگئی، مگر اس دوران اس لڑکی سے میری فون پر بات ہوئی تھی، اخلاقی طور پر مجھے برا محسوس ہوا کیونکہ وہ میرے اندازے کے مطابق اس سیریز کا حصہ نہیں بن سکی تھی،چنانچہ میں نے جموں جانے والی ٹرین میں بیٹھ کر اسے موبائل پر ایک پیغام بھیجا ، جس میں فارمل قسم کی معافی مانگی اور یہ امید جتائی کہ آئندہ ہم ضرور کسی دوسرے پراجیکٹ میں ساتھ کام کرسکیں گے۔آئندہ کا لفظ انسانی زندگی کا سب سے غیر یقینی اور مشکوک لفظ ہے، مگر کبھی کبھی یہ اپنے اندر لوہے سے بھی زیادہ استحکام رکھتا ہے، جس طرح شکست ہونی یا فتح ،ہوکر رہتی ہے، اسی طرح انسان کے تعلقات کا معاملہ ہے، آپ کہیں چلے جائیے، کسی سے ملنے کا ارادہ رکھیے نہ رکھیے، کسی کو قریب لائیے یا دور لے جاکر پٹخ آئیے، ذہن کی چمکتی کھڑکی پر محبت کی دھندلپیٹیے یا نفرت کا کہر جمائیے، جس سے جب تک تعلق رہنا ہے اور جس صورت بننا ہے، وہ بن ہی جاتا ہے۔یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ آپ اس جہان رنگ و بو میں سبز و سرخ قسم کی اس عجیب و غریب سانپ سیڑھی کے پھیر سے نکل جائیں۔کوئی سیڑھی پلک جھپکتے ہی آپ کو آسمانی مسند سے متعلق کردے گی اور کوئی سانپ دم کے دم میں آپ کو پاتال کی لاتعلقی کی سمت دھکیل دے گا۔میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ فاطمہ خان نامی اس لڑکی سے ملنے کی میری کوئی خواہش نہ تھی، لڑکیوں اور وہ بھی جوان اور خوبصورت لڑکیوں سے ملنے کی خواہش کس کی نہیں ہوتی۔مگر مجھے امید بالکل نہ تھی کہ میں نہ صرف اس سے تعلق بناسکوں گا بلکہ اس کا تعلق میری زندگی کی سب سے گہری دوستیوں اور محبت کی علامت بن جائے گا۔اب محبت ایک طرفہ ہی سہی۔یہ تو طے ہے کہ فاطمہ خان نے کبھی مجھ سے محبت نہیں کی، اس نے شاید ہی کسی شخص سے محبت کی ہو، اس کا خمیر ہی کچھ اس قسم کا ہے کہ وہ دنیا کے سود و زیاں کو جھیلتے جھیلتے محبت اور نفرت کے دائروں سے باہر نکل آئی ہے، وہ کوئی شاعر نہیں ہے جو آئیڈیل کردار تراشے ، ایک فرضی براق پر سوار ہو اور عشق کی معراج کے لیے نکل پڑے ، وہ ایک سمپل اور سادھارن قسم کی لڑکی ہے، جس کی خواہشیں زمینی بھی ہیں اور آسمانی بھی۔کسی بھی شخص کے بارے میں لکھی گئی کوئی تحریر دراصل اس شخص کی زندگی کا ایک زاویہ ہے، برٹرنڈ رسل نے اپنی کتاب میں کہا ہے کہ اگر کسی کمرے میں ٹیبل رکھی ہو اور چاروں طرف سے دھوپ اندر آتی ہو تو آپ دیکھیں گے کہ ہر رخ سے دھوپ اور ٹیبل کا منظر کچھ مختلف نظر آرہا ہے، یہی زندگی اور اس میں موجود کرداروں کی حقیقت ہے۔ہر آدمی، ہر آدمی کے لیے ایک جیسا نہیں ہے، اس لیے ہم نہ چاہتے ہوئے بھی ہر شخص کے لیے اپنی عقل کی عدالت میں ایک فیصلہ کرتے ہیں اورہمارے جسم ان فیصلوں کی حفاظت میں ساری زندگی کھپا دیتے ہیں۔فاطمہ خان کے بارے میں یہ تحریر اس کے لیے میرے دماغ کا فیصلہ ہے، اس فیصلے میں میرے تجربات ہی میرے شواہد ہیں، حالانکہ دماغ کی اس عدالت میں مجھے کسی مذہبی کتاب پر ہاتھ رکھ کر قسم کھانے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ یہ کہنے کی کہ میں جو کچھ کہوں گا سچ ہی کہوں گا۔لیکن کوشش کروں گا کہ لفظ سے ایمانداری کا رشتہ قائم رکھ سکوں۔اور وہی کہوں جو میں نے دیکھا، سمجھا اور محسوس کیا ہے۔

فاطمہ خان ایک مضبوط اعصاب کی لڑکی ہے، اس کے والد کا انتقال اس عمر میں ہوا جب لڑکیوں کو ہمارے معاشروں میں والد کے مضبوط اور گھنے سائے کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔اس کے والد ایک کسرتی بدن کے ، اونچی قد و قامت والے خوبصورت آدمی تھے، جنہیں ایک بے ضرر دکھنے والے بخار نے ہمیشہ کے لیے خاموش کردیا۔میں نے ان کی ایک ہی تصویر دیکھی ہے، وہ اپنی قدکاٹھی سے افغانوں سے مشابہ معلوم ہوتے ہیں، تصویر اس بات کی شاہد ہے کہ انہوں نے زندگی کو بھی اسی بے نیازی اور بے قدری کے ساتھ گزارا ہوگا، جس طرح ان کے گیسو شانوں کو چھیڑتے ہوئے بے پروائی سے لہر بہر ہوتے نظر آتے ہیں۔فاطمہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد ہے، والد کا انتقال جلد ہوگیا، ماں نے بڑی محنتوں سے دلی میں سیلم پور کی ایک زمین کو فروخت کرکے بیٹی کو وائسنگ کا کورس کروایا۔کورس کافی مہنگا تھا اور بالکل بے سود، کیونکہ فاطمہ کو اس کا سرٹیفکٹ تک نہ مل سکا۔فاطمہ کی والدہ سانولی رنگت والی ایک عورت ہیں، وقت نے ان کے اندر موجود نسوانیت کو کھروچ کھروچ کر محنتوں، مشقتوں کی پتیلی میں انڈیل دیا اور اب وہ ایک ایسے بنجر کی طرح دکھائی دینے لگی ہیں، جن کی دنیا اپنے اندرون سے بیرون تک صرف فاطمہ کی حفاظت اور محبت پر مامور ہے، جسے اپنی پھٹی ہوئی ایڑیوں، جھکتی ہوئی کمر اور مرجھاتے ہوئے جسم کی کوئی فکر نہیں رہ گئی۔ان کا سراپا بتاتا ہے کہ فاطمہ کی فکر کے ساتھ ساتھ، ان کے شوہر کا اچانک طاری کردیا جانے والا ہجر بھی ان پر کتنا گراں گزرا ہے۔وہ زندگی کی بہتی ہوئی سفاک دھاروں سے لڑنے والی ایک چٹان کی طرح اب بھی اپنے وجود کو لیے ساکت و جامد کھڑی ہیں ، مگر پانی کےنکیلے ناخنوں نے ان پر بہت سی خراشیں بھی ڈال دی ہیں۔

فاطمہ کا حسن دلفریب ہے۔وہ ہلکی فربہ اندام ہے، گورا چٹا رنگ۔ لمبے کالے بال، بھرا ہوا گول سینہ، کمر کی پھسلونی ڈھلوان اور پشت سے پچھلی ٹانگوں تک گوشت کی بالکل نپی تلی مقدار نے اسے حسن کے معاملے میں امیر ترین بنادیا ہے۔چہرے سے وہ ضرور شمال مشرقی بھارت کی ایک لڑکی معلوم ہوتی ہے،چھوٹی چھوٹی آنکھیں، کشادہ پیشانی، بھرے ہوئے گال اور پتلے پتلے گلابی ہونٹ۔قد اس کا درمیانہ ہے، نہ بہت لمبا نہ بہت چھوٹا۔آنکھیں لاکھ چھوٹی ہوں، مگر ان میں پھیلی ہوئی پتلی کی چمک ، دیکھنے والے کی روح تک کو نچوڑ لینے کا ہنر جانتی ہے۔وہ اپنے مزاج سے تھوڑی کرخت ہے، ہر کسی سے جلدی بات نہیں کرسکتی۔کتابوں کو جمع کرنے سے بہت دلچسپی ہے، نت نئی کتابیں، الگ الگ موضوعات پر اس کے سرہانے اونگھتی رہتی ہیں، مگر کیا فرق کہ وہ بوسیدہ ہوجائیں، پیلی پڑجائیں اور ان کے بدن میں کاہی رنگ کی مہین مچھلیاں رینگنے لگیں، ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ فاطمہ کتابوں کو پڑھے بھی۔اسے ٹھیل ٹھیل کر کوئی کتاب پڑھوانی پڑتی ہے۔انگریزی سے اس نےآزادانہ طور پر ایم اے کیا ہے، جو شاید اب مکمل ہوگیا ہوگا۔اردو مگر اس کی بہتر ہے، زبان شستہ شائستہ استعمال کرتی ہے، اپنی روزمرہ کی گفتگو میں بہت سے ایسے اردو الفاظ میں نے اس سے سنے کہ میں بھونچکا رہ گیا کہ انہیں تو میرے خاندان میں بھی اس طرح استعما ل نہیں کیا جاتا ہے۔اس کی پیدائش دہلی میں ہی ہوئی ہے، مگر اس کی والدہ کا تعلق اترپردیش کے شہر رامپور سے نزدیک ایک علاقے شاہ آباد سے تھا، چنانچہ اس نے بھی بہت سا وقت وہاں گزارا۔والد کے انتقال کے بعد(جو کہ خالص دہلی والے تھے) اسے بھی بہت کڑے وقت سے گزرنا پڑا۔رشتہ دار بڑی عجیب بلا ہوتے ہیں، خاص طور پر ان لڑکیوں کے لیے جن کے ماں باپ یا ان میں سے کسی ایک کا انتقال ہوجائے۔اسے سمجھایا گیا کہ بارہویں جماعت تک کی تعلیم سکول میں پڑھانے کے لیے کافی ہے، ایک تو ریاست اترپردیش کے رشتے دار، اس پر مسلمان۔نہایت پچھڑی ہوئی ذہنیت کے مالک لوگوں سے اس کا سابقہ تھا، انہوں نے اسے پاکیزگی، خاندان، نسبت اور نہ جانے کتنے حوالوں سے یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ اگر وہ کسی سکول میں پڑھانے کا مہذب پیشہ نہیں اپنائے گی تو بدنام ہوجائے گی۔سوال بدنام ہونے کا کبھی ہوتا ہی نہیں ہے، سماج بدنام ہونے سے جن معاملات میں لڑکیوں کو ڈراتا ہے ، دراصل وہ انہیں بدنام کردیے جانے کی ایک کھلی دھمکی ہوتی ہے۔فلاں کام مت کرو، ورنہ بدنام ہوجاؤ گی، ارے بھئی بدنام تو تم ہی کروگے، تم چاہو تو نیک نام بھی کرسکتے ہو، یہ تو اسی طرح کی بات ہے کہ کوئی شخص ہاتھوں میں بندوق اٹھاکر کہے کہ میری بات مان لو، ورنہ بندوق چل جائے گی اور ستم یہ ہے کہ بزرگوں، عقلمندوں اور دانشوروں کی ستر فی صد آبادی بندوق تھامے کھڑے ہوئے ایسے ہی سماج کی طرفدار ہوتی ہے۔اس نے سکول میں نہیں پڑھایا اور خوب بدنام ہوئی، رشتہ داروں نے ہی یہ ذمہ لیا اور اس کو بحسن و خوبی ادا بھی کیا۔مجھے یاد ہے ایک روز میرے چھوٹے بھائی سے کسی نے اس کے بارے میں کوئی اول فول بات کی تھی، ہمارے محلے میں ایک اور’ نیک نام’ بزرگ پیارے میاں رہتے ہیں، ان کے کارنامے یہ ہیں کہ پیری مریدی کے فضائل کو خوب سمجھتے ہیں، انہوں نے ان دنوں یہ دکان کھولی نہیں تھی، البتہ اس کی فراق میں ضرور تھے، ان کے بچے ، جن میں بیٹیاں بھی شامل تھیں ، اس قسم کی خرافات کو پسند نہیں کرتی تھیں، وہ محنت کرکے پیسے کمانے والے کاموں میں یقین رکھتی تھیں، چنانچہ فاطمہ کا ان کی بیٹی سے اسی سلسلے میں تعلق قائم ہوا۔مسلمانوں کا محلہ، کمانے والی دو لڑکیاں، جینز پہننے والی، دوپٹے کو خیرباد کہنے والی، ظاہر ہے کوئی اچھا کام تو کرتی نہیں ہوں گی، سماج نے یہی فتویٰ ان کے حق میں دیا اور انہیں ایک خاص نسبت سے رسوا کرنا شروع کردیا۔مگر ہمارے معاشروں کی باغی اور ضرورت مند دونوں قسم کی لڑکیاں،اس بیمار ذہنیت کی اتنی عادی ہوگئی ہیں کہ اس کی بڑ پر دھیان نہ دینے میں ہی انہیں عافیت نظر آتی ہے۔مجھ سے جب تالیف نے اس بات کا ذکر کیا تو مجھے کوئی خاص حیرت نہیں ہوئی، وجہ اس کی یہ تھی کہ میں بھی ایسے ہی قماش کا عزلت نشیں ہوں، جسے کمرے میں بیٹھ کر باہر اپنی بدنامی کروانے کا ہمیشہ سے شوق رہا ہے، اب لڑکا ہوں تو کچھ پیدائشی مراعات حاصل ہیں، یعنی لوگ عزت لٹنے، عزت و ناموس کے خطرے میں ہونے یا باپ دادا کا نام مٹی میں ملا دینے کا طعنہ اس چھوٹی سی بات پر تو ہرگز نہیں دے سکتے کہ میں جینز پہنتا ہوں اور دوپٹہ بھی نہیں اوڑھتا۔

فاطمہ سے میرا تعلق دھیرے دھیرے بنا، جیسے کوئی ہرن دشت میں اگ آنے والے پانی کی طرف آہستہ آہستہ بڑھتا ہے، کانوں کو پھیلائے ہوئے، پتوں کی سرسراہٹ اور ذرا سی بھی کھسر پھسر پر دھیان جمائے ہوئے۔میں فاطمہ سے میسجز میں بات کرنے لگا تھا، کبھی کبھار اس سے فون پر بھی بات ہوجاتی، پھر یہ ہوا کہ ہم نے باقاعدہ فون پر گفتگو کرنی شروع کردی۔مجھے کبھی کام ہوتا، کبھی نہیں ہوتا۔فارغ اوقات میں زیادہ تر میں اسی کے ساتھ بات کرتا تھا۔ مجھے اس کی عادت سی ہونے لگی تھی، پھر ایک روز اچانک اس نے کہا کہ ہمیں ملاقات کرنی چاہیے۔میں نے ایک دو بار اسے ٹال دیا، وہ گھر آنا چاہتی تھی، مگر میں خوف کھاتا تھا۔ڈر مجھے ملاقات سے زیادہ اپنی ہیت سے تھا۔میں نے اس کی تصویر دیکھی تھی۔جس میں وہ بالوں کو پیچھے سمیٹے، ایک خوبصورت ٹی شرٹ اور جینز میں جامعہ کے کسی کھلے احاطے میں موجود خاموش سیڑھیوں پر بے پروائی سے بیٹھی ہوئی تھی۔ایک تو اس کا رنگ بہت گورا تھا، پھر بیٹھے ہونے کی وجہ سے اس کی قامت کا ٹھیک سے اندازہ بھی نہیں لگ سکتا تھا، مگر وہ بیٹھ کر اپنے قد سے کچھ لمبی ہی معلوم ہوتی تھی۔میں نے تصویر دیکھی تھی، آواز سنی تھی، دونوں بہت خوبصورت اور جاذب تھے، اب سوال تھا، اپنی مٹھی کو کھول کر لکیروں کی کٹی پھٹی ، کالی ، کانی کتری دھجیاں دکھانے کا۔مجھے اس زمانے میں لڑکیوں سے خوف بھی آتا تھا، میں ایک عشق میں تازہ تازہ چوٹ بھی کھائے ہوئے تھا اور میرا اعتماد اس قدر زخمی اور وحشی تھا کہ خوبصورت شیرنی کی آہٹ سنتے ہی دبک کر میں واپس پیاسے اور پھیلے ہوئے دشت کی کوکھ میں اترجانے کو راضی تھا۔پھر ایک روز ایسا آیا کہ اس کے اصرار پر مجھے اس سے ملنا ہی پڑا۔

پہلی بار کی ملاقات کا واقعہ دلچسپ بھی ہے اور میرے لیے ایک بھونڈی یاد بھی، مگر پھر بھی سچ کہنے کی قسم کھا چکا ہوں سو عرض کرتا ہوں۔طے یہ ہوا تھا کہ ہم کمیونٹی سینٹر پر جو کہ میرے گھر سے ڈیڑھ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے، ایک ریسٹورنٹ میں ملیں گے۔جہاں ہمارا ملنا طے ہوا وہ فاسٹ ٹریک نامی مشہور ریسٹورنٹ کی ایک فرنچائز تھی۔فاطمہ جانتی ہے کہ آج بھی اس کے سامنے میرا اعتماد ڈول جاتا ہے، میں اوروں کے سامنے جس قدریقین اور پختگی کے ساتھ بیٹھ کر عالیشان جگہوں پر بے نیازی سے ٹھٹھے لگا سکتا ہوں، اس کے نظر آتے ہی میرے چہرے کی ساری ترنگیں بدروحوں کی بھائیں بھائیں میں بدل جاتی ہیں۔وہ سامنے ہوتی ہے تو مینیو کو دیکھنے کی بھی تاب نہیں ہوپاتی۔اوٹ پٹانگ ہانکنے لگتا ہوں، کبھی ادھر کی، کبھی ادھرکی، وہ مجھے سنبھال لیتی ہے، اس کے اندر یہ خاص صلاحیت ہے کہ اس نے ہمیشہ میرے اندر موجود ایک الہڑ قسم کے بے ہودہ اور جنگلی انسان کو سنبھل کر رہنا سکھایا ہے، میرے کسی غیر شائستہ مذاق پر وہ آنکھیں دکھادیتی ہے، زیادہ تر باتیں سنجیدگی سے کرتی ہے، وہ قہقہے نہیں لگاتی، بلکہ زیادہ ہنستی ہے تو اس کی آواز غائب ہوجاتی ہے۔وہ سوٹ پہنے یا ٹی شرٹ اور جینزیاکوئی اور لباس زیب تن کرے، اس کی بردباری، وقار اور زمانے کو دیکھ سکنی والی ایک دکھی آنکھ کا آنسو کبھی خشک ہی نہیں ہوتا۔گوری گردن پر جھولتے ہوئے کالے یا ہلکے سنہری مائل بالوں کی لٹیں مجھے مبہوت کردیتی ہیں اور میں ان رنگوں کو تکتے تکتے اس سے دنیا جہان کی باتیں کرتا ہوں۔پہلی ملاقات کا واقعہ ادھورا رہ گیا۔ہوا یہ کہ میں سفید شرٹ اور کالی فارمل پینٹ میں اس سے ملنے فاسٹ ٹریک پہنچا، ہڑبڑاہٹ میں کانچ کا وہ وسیع و عریض دروازہ کھولنے کی کوشش کرنے لگا، جو زنجیر سے بندھا ہوا تھا،اندر بیٹھے ہوئے لوگ بے ساختگی سے میری طرف دیکھ کر ہنسنے لگے۔کچھ دیر بعد مجھ پر یہ حقیقت روشن ہوئی تو آگے کے دوسرے دروازے سے اندر داخل ہوا اور ایک خالی ٹیبل کے آگے بیزار پڑی کرسی پر بیٹھ گیا۔اور کوئی موقع ہوتا تو میں شرمندگی میں اس ریسٹورنٹ میں ہی نہ جاتا، مگر آج تو ملاقات طے تھی، چنانچہ مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق مجھے لوگوں کی ہنستی ہوئی آنکھوں کے درمیان اپنے عشق کی جائے نماز بچھاتے ہی بنی، فاطمہ کچھ دیر بعد وارد ہوئی، میں نے اسے جتنا دراز قامت تصور کیا تھا، وہ اس کی نسبت سے مجھے کافی پستہ قد معلوم ہوئی، مگر اس کے گورے رنگ کی جگمگاہٹ نے میرے چہرے پر موجود سیاہی کو پسینے میں گوندھ کر بوکھلاہٹ میں تبدیل کردیا۔وہ آگے بڑھی اور اس نے ہاتھ بڑھایا، میں نے ہاتھ ملایا اور اس کے آگے بیٹھ گیا، اب سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ سارا بدن تو کرسی کے سہارے چھوڑ دیا ہے مگر ان کمبخت ہاتھوں کو کہاں لے جاؤں، کبھی ٹیبل پر دراز ہوجاتے، کبھی بغلوں میں گھسے چلے جاتے، کبھی پیچھے کی طرف کھسکتے، کبھی آگے کو بڑھتے۔بہرحال میں نے پوچھا کہ آپ کیا لینا پسند فرمائیں گی، اس نے کیلی فورنیا برگرکا نام بتادیا۔میں نے ہچکچاتے ہوئے اٹھ کرآرڈر دینے کی سعی کی۔اس سے پہلے میں اس قسم کے ریسٹورنٹ میں نہیں جایا کرتا تھا، میرے لیے کھلے ، آواز لگا کر لوگوں کو بلانے والے بے ساختہ اور غیر مہذب قسم کے ہوٹلوں کی کوئی کمی نہیں تھی۔میں نے آرڈر لینے والے شخص سے ایک کیلی فورنیا برگر دینے کی درخواست کی۔اس نے بہت محبت کے ساتھ معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ‘سرآج نان ویج دستیاب نہیں ہے۔’ موقع پر اگ آنے والی بوکھلاہٹ کی گھانس نے اپنا کام کردکھایا اور میں نے اس سے کہا ‘کوئی بات نہیں! آپ ویج میں ہی کیلی فورنیا برگر دے دیجیے’اس نے پہلے تو ایک نظر مجھے اوپر سے نیچے تک دیکھا اور پھر زیر لب مسکراتے ہوئے کہا’سر! کیلی فورنیا برگر خالص نان ویج ہوتا ہے۔’ہمارے درمیان جب بھی اس پہلی ملاقات کا ذکر ہوتا ہے، ہم دونوں خوب ہنستے ہیں۔اس دن کے بعد سے آج تک فاطمہ نے ہی ہر ریسٹورنٹ میں میرے لیے آرڈر دیا ہے، ہم جہاں بھی گئے، جتنی بار بھی ملے۔میں نے اس کے سامنے دوبارہ کبھی آرڈر دینے کی جرات نہیں کی، اب تو وقت بہت گزر گیا اور یہ خاص سی مخملی سچویشن میرے لیے ٹاٹ کی طرح روزمرہ کا معمول ہوگئ ، دوست ہو یا کوئی پروڈیوسر یا کوئی اور ملنے والا۔کمیونٹی سینٹر یعنی سی سی پر مجھے ہر دن ایسی ہی جگہوں پر ملنا ہوتا تھا،میرا اعتماد دوسروں کے سامنے جتنا مضبوط ہوتا گیا، فاطمہ کے آگے میں اتنا ہی بودا،خمیدہ کمر اور کمزور ہوتا چلا گیا۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ میرے رہن سہن، پہننے اوڑھنے ، کھانے پینے، چلنے پھرنے ہر بات پر اس کی شخصیت کا ایک اثر تھا۔کتابیں پڑھنا میرا شوق تھا، مگر زندگی جینا اور شعور و وقار کے ساتھ، یہ مجھے فاطمہ نے ہی سکھایا۔فاطمہ سے ابتدائی دنوں کی چند ملاقاتوں کے بعد میری زندگی میں آفرین نامی ایک لڑکی داخل ہوگئ،وہ فاطمہ کی طرح بالکل نہ تھی۔فاطمہ اپنے دوستوں اور تعلقات میں بے تکلف ہوسکتی تھی، ان کے سامنے اپنے دکھڑے رو سکتی تھی، ان کے غم اور خوشیوں کے تعلق سے ساری باتیں سن سکتی تھی، مگر آفرین ایک الگ قسم کی لڑکی تھی، اس کا نیچر ڈومیننٹ تھا۔اس نے مجھے پہلی بار بدن کی لذت سے بخوبی آگاہ کیا، وہ مجھ سے بہت سے کام لینے لگی، میں نے اس کے لیے کافی سکرپٹس لکھیں، وہ مجھے بلاتی، کام کرواتی اور بغیر پیسے دیے اپنے جسم کی حرارت دے کر ایک خوبصورت ترین استحصال کا جرم کرتی۔آفرین کی اپنی دنیا تھی، اپنے طریقے اور اپنے اصول تھے، وہ سب ہی کے ساتھ ایسی ہی تھی، اسے نہ دنیا کی فکر تھی، نہ دین کی۔فاطمہ کی طرح نہیں، جو دین اور دنیا کے درمیان ،جدیدیت اور قدامت کے دوراہے پر کھڑی ہوئی ایک متذبذب انسان کی طرح بہت سے مسائل سے گھری تھی، جسے ماں کی محبت بھی عزیز تھی، عقبیٰ کی فکر بھی اور دنیا کمانے کی خواہش بھی۔فاطمہ کا تعلق میرے ساتھ ایک کام کی غرض سے بنا تھا، وہ کام نہیں ہوسکا، مگر تعلق بن گیا، لیکن پھر تعلق میں بھی درار آنے لگی اور آفرین اس درار کا بڑا سبب بن گئی، جن دنوں آفرین سے میں نیا نیا ملا تھا، مجھے اس کے سوا کچھ سوجھتا ہی نہ تھا، وہ مجھے ملنے بلائے، گھنٹوں اپنے ساتھ رکھے، کام کروائے، پیسے دے نہ دے، مجھے ان سب باتوں سے کوئی غرض نہیں تھی، وہ میرے ہوس پرست تخیل کی پیدا کردہ ایک ایسی جیتی جاگتی تصویر تھی، جو مجھ سے اپنی مرضی کا کام لیتی تھی اور مجھ میں میری مرضیوں کے آئنے روشن کرتی چلی جاتی تھی۔اس کی شفاف پنڈلیوں پر بہنے والے پسینے سے لر ، اس کے پستانوں کی چھوٹی چھوٹی کٹوریوں تک میں نے اس کے بدن کا سارا ذائقہ اپنی زبان کی نوک پر رکھ کر دیکھا تھا ۔ وہ کوئی ساحرہ تھی، جس کی کشش سے نکلنا دنیا کا سب سے مشکل کام معلوم ہوتا تھا۔مگر پانی ہو یا سودا، سرپرچڑھتا بھی ہے تو اترنا بھی اسی حقیقت کا ایک دوسرا پہلو ہے۔

آفرین کا جادو بھی اترا اور ایسا اتر اکہ فاطمہ کا جادو سر پر چڑھ گیا، ان دنوں فاطمہ سے گھر پر ملاقاتیں ہوتی تھیں، وہ گھر آجاتی اور ہم ایک کمرے میں بیٹھے بہت سی باتیں کرتے رہتے۔ اس کے مغربی طرز کے اندازرہائش کے پیچھے ایک نہایت مشرقی قسم کی خاتون موجود تھی، جو نیل پالش کے مسائل پر بھی اسلام سے ایک قسم کا جانبدارانہ سرٹیفکٹ طلب کرتی معلوم ہوتی تھی۔ان دنوں میرا وتیرہ یہ بن گیا تھا کہ میں حقیقت میں کم اور تصور میں زیادہ اس کے بدن کی گلابیوں کو پیتا رہتا اور بہت سے شعر بناتا۔میرے پہلے شعری مجموعے کے زیادہ تر اشعار فاطمہ کی بغلوں، چھاتیوں اور گردن سے پھوٹنے والی دھواں دار مہک کا ہی نتیجہ ہیں، آٹے جیسی گندھی ہوئی رنگت سے پھیلنے والی خوشبو میرے نتھنوں سے ہوتے ہوئے نسوں کے باریک اور گتھے ہوئے جال میں پھیل جاتی۔وہ کوئی بے وقوف ہوگا، جس نے کہا کہ عشق میں ہوس کا کوئی دخل نہیں۔میں اپنی زندگی میں سب سے زیادہ ہوس پرستی کا شکار فاطمہ کے قرب کے لیے رہا ہوں، وہ ساتھ ہوتی ہے تو نہ جسم بات کرتا ہے نہ زبان،آنکھیں بے سمت راہوں میں گھورتی ہیں اور ہاتھ بے اندازہ جگہوں پر دوڑتے ہیں، مگر میں اس سے ملاقات کی نت نئی تدبیریں ڈھونڈ کر، زندگی کی باسی مٹھائیوں پر چاندی کے ورق چڑھاتا رہتا ہوں۔اس سیم گوں رنگ لڑکی کے جسم کی گھلاوٹوں نے رفتہ رفتہ آفرین کے یاد کرائے ہوئے سبق کو قصہ پارینہ بنا کر رکھ دیا۔
فاطمہ کی اپنی ایک دنیا ہے، وہ سیر و تفریح کی غرض سے اپنے تین مزید دوستوں کے ساتھ پہاڑوں کے سبزی مائل فاصلے ناپتی رہتی ہے۔کبھی شملہ، کبھی منالی، کبھی چوکٹا تو کبھی کہیں اور۔اس نے چند لوگوں سے دوستی کی اور خوب نبھائی ہے۔لڑکے ہوں یا لڑکیاں، جو خوبصورت سا سرکل اس نے اپنے تعلقات کا بنایا ہے اس پر کسی بھی قسم کی بیزاری کا سایا تک منڈراتا نظر نہیں آتا۔اسے فطرت سے ایک خاص قسم کی رغبت ہے۔دوردرشن اردو میں نوکری کرتی ہے، مگر اردو کے شاعروں ، ادیبوں کو بہت زیادہ پسند نہیں کرتی نہ ہی اسے لٹریچر میں کوئی خاص دلچسپی ہے، میرے کہنے پر جب اس نے ادبی دنیا کے لیے ریکارڈنگز کرنا شروع کیں تو بہت سی کہانیاں پڑھیں، ہم راتوں میں بیٹھ کر وہ کہانیاں پڑھتے اور انہیں ایڈٹ کرکے یوٹیوب کی سنہری جھیل میں سرکا دیتے۔اس کی پڑھی ہوئی کہانیوں میں آواز کے نپے تلے قدم صاف طور پر دیکھے جاسکتے ہیں۔مکالموں کی ادائیگی ہو یا گہرا، مبہم بیانیہ وہ دونوں کو بیان کرنے کا طریقہ جانتی ہے۔یہ تو ہندوستان کا المیہ ہے کہ یہاں ہر شخص کو زبردستی وہ کام کرنا پڑتا ہے، جو اس کی مرضی کے برخلاف بس پیٹ کی دوزخ کو بجھانے میں ہی کام آسکے ورنہ فاطمہ اتنی شاندار وائز اوور آرٹسٹ ہے کہ اگر اس کو تھوڑی سی مزید تربیت اور ایک بہتر ماحول مل جائے تو وہ اس میدان میں شہرت کے جھنڈے گاڑ سکتی ہے۔میں ایسا اس لیے نہیں کہہ رہا کیونکہ میں اسے پسند کرتا ہوں، پسند اور محبت کے دائرے اپنی جگہ مگر صلاحیت کے پھلنے پھولنے والے خطوط کو ان سے جوڑ کر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

میں نے فاطمہ کو قریب دس برس تک دیکھا، آس لگائی کہ ساری زندگی اسی کے ساتھ گزرے ، مگر وہ کسی اور سے محبت کرتی تھی اور ایک دن جب اس نے اپنی شادی کا اعلان کیا تو ہمارے درمیان موجود فاصلوں کی کھائی کچھ اور گہری ہوگئی۔میں اس کھائی کو پاٹ کر اس کے پاس پہنچنا تو چاہتا ہوں، مگر اس کا کوئی فائدہ نہیں۔اچھی بات یہ ہے کہ وہ جس شخص کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتی تھی، اسی کے پہلو سے لگ کر کل کل کرتے ہوئے جھرنے کی طرح بہنے کا اسے موقع ملا ہے، زندگی ایسے موقعے بہت کم لوگوں کو دیتی ہے۔اس نے اپنی زندگی میں بہت دکھ دیکھے، پٹرول پمپ پر کام کیا، تپتی ہوئی دھوپ میں پروموشن کے لیے جب وہ پٹرول پمپ کی تپا دینے والی گرم ہوائوں کے سائے میں کھڑی رہتی تھی تو اس کی جلد سفید سے گہری ، سرخ آمیز گلابی ہوجاتی اور کئی بار دیکھنے والوں کی نگاہیں بھی اس سفاک منظر سے دہشت کھاکر پگھل جاتیں۔مگر وہ اپنے عزم اور استقلال کے لحاظ سے مستحکم تھی، وہ چاہے تو آج بھی اپنے ارادوں کے چوپائے کو کامیابی کے مائونٹ ایورسٹ پر پہنچا سکتی ہے، مگر شاید ‘وہ چاہے تو’کہنا ہمارے معاشرے کی لڑکیوں کے لیے زیادہ آسان ہے، جہاں ان کو اپنی ہر کامیابی کے لیے بدن اور لگاوٹ کے چھوٹے بڑے خراج ادا کرنے پڑتے ہیں۔فاطمہ یہ خراج دینے پر آمادہ نہیں ہے، اس لیے ممکن نہیں ہے کہ کوئی بھی مرد اس سے بغیر کسی وعدے اور ارادے کےوہ خدمات لینا چاہے ، جن کو ادا کرنے کے لیے اسے صرف اپنے گلے سے کام لینا ہو۔کیونکہ مجھ سمیت دنیا کا ہر مرد ایک گرسنہ کتا ہے، جس کی بھوکی اور ننگی نگاہیں عورتوں کی مہک کو کچلنے کے علاوہ اور کوئی مقصد ہی نہیں رکھتیں، پھر وہ عورتیں، چاہے دوست ہوں، چاہے محبت، خواہ ہمدرد ہوں، خواہ دشمن۔

Categories
نان فکشن

خوبصورتی کی سفیر۔۔۔ کارلا برونی

‘بدن کی بینائی’ سلسلے کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

انسان کو اپنا آپ ڈھونڈنے میں کبھی بہت وقت درکار ہوتا ہے اور کبھی اُسے ہوش سنبھالتے ہی اپنی پہچان ہوجاتی ہے۔ دنیا میں ایسے لوگ بہت کامیاب ہوتے ہیں، خود کو جو بہت جلدی دریافت کرلیتے ہیں۔ یہ خودی دریافت کرنے والوں پر تخلیق کے دروازے کھولتی ہے ، پھر وہ اپنے تصور کی آنکھ سے اُن مناظر کو دیکھتے اور دنیا کو بھی دکھاتے ہیں۔ فیشن کی دنیا اور سیاست کے منظر نامے کو دیکھا جائے، تو حسن کی جامع تعریف اور خوبصورتی کی تشریح ’’کارلا برونی‘‘ ہو گی۔

حسن کی جامع تعریف اور خوبصورتی کی تشریح ’’کارلا برونی ‘‘

کارلا برونی نسلاً اطالوی ہے، لیکن فرانس سے بھی اتنا ہی گہراتعلق ہے،جتنا اٹلی سے۔ وہ 23دسمبر 1967 کو اٹلی میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوئی۔ باپ دادا کے زمانے سے کاروبار عروج پر تھا۔ خاندان کی کئی نسلیں اسی کاروبار سے مستفید ہوئیں۔ معاشی آسودگی نے زندگی کو، اس پر جمالیاتی پہلوؤں سے وا کیا۔ حسن اور خوبصورتی نے اس کے جسم سے ہوکر روح میں قیام کیا۔آنکھ سے نظر بن کر حسین مناظر میں اترنے لگی۔ کہیں دل کو موہ لینے والے منظر اس کے دل کو چھو نے لگے، تو کہیں دل کو چھو لینے والے منظر کا مدار یہ خود بننے لگی۔ خاندانی کاروبار یورپ اورایشیا سمیت پوری دنیا میں پھیلاہواتھا، مگر وقتی طورپر اسے زوال کاسامنا بھی کرنا پڑا۔ سیاسی وجوہات کی بنا پراس کے والدین کو اٹلی چھوڑنا پڑا۔یہ بھی اس ہجرت میں اپنے والدین کے ساتھ تھی۔ معاشی طورپر آسودہ ہونا اس کے خاندان کا جرم تھا، مارکسی خیالات کے حامل انقلابی ان کو اغوا کرنا چاہتے تھے۔یہ وہ زمانہ ہے، جب لینن کا پیغام دنیا بھر میں پھیل رہاتھا۔ اٹلی میں بھی اس نظریے کے ماننے والے بہت متحرک تھے، یہ دور معاشی طور پر آسودہ حال لوگوں کے لیے اچھا نہ تھا، لہٰذا 1975 میں کارلابرونی اپنے کنبے سمیت فرانس منتقل ہو گئی۔

کارلا برونی نے باڈی پینٹنگ کی کتاب کے لیے بھی خود کو پیش کیا

کارلا برونی کا بچپن فرانس میں گزرا۔ سات سال کی عمر میں، سوئزرلینڈ کے ایک اسکول میں تعلیم حاصل کی، اعلیٰ تعلیم کے لیے فرانس آناپڑا۔ پیرس کے ایک اسکول میں آرٹ اورآرکیٹیکچر کے شعبہ میں داخلہ لے لیا۔یہی وہ وقت تھا جب اس نے اپنے اندر بھی جھانکا اوراپنی خواہشوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے آرٹ کی تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔آرٹ کو سمجھتے ہوئے انہوں نے اپنے اندر کی آرٹسٹ کو بھی پہچان لیا۔ اس پہچان کو اپنا کر خود کو ایک ماڈل کے طورپر دنیا کے سامنے پیش کردیا۔ دنیا کی خوبصورت اشیا کو دیکھتے ہوئے، خود کو بھی ایک خوبصورت ماڈل کے طورپروقف کردیا۔اب عالم یہ تھا، جو وہ اوڑھ لے، وہ لباس اور رنگ پھر کسی دوسرے پر کم ہی جچتاتھا، دنیائے ماڈلنگ پر اس نے اپنے نام کا سکہ چلایا۔

کارلا نے فیشن کی بلندی کو چھوکر موسیقی کے شعبے کارخ کیا

اس کے خاندانی پس منظر میں روشن خیالی کا عنصر بھی نمایاں تھا۔والدین کی طرف سے یہ روشن خیالی بھی حصے میں آئی۔ مغربی معاشروں میں اخلاقی اورجذباتی رشے جداجدا ہوتے ہیں، لہٰذا اس کی ولدیت میں یہ دونوں رشتے پہناں تھے۔کمسن حسینہ کے جذبات نے عشق ومحبت کے کئی جزیرے بھی دریافت کیے۔اس کی ایک بہن بھی شوبز میں متحرک رہی۔ فلموں میں اداکاری کے ساتھ ہدایت کاری کے شعبے میں اپنے جوہر دکھائے، ایک بھائی بھی تھا، جس کا انتقال کم عمری میں ہوگیا۔ خوشی کے نیلے رنگوں میں کہیں کہیں دکھ کا سیاہ رنگ بھی شامل تھا۔کارلا برونی کے کیرئیر کا ابتدائی عرصہ1987 سے 1996 کا ہے۔ 19سال کی عمر میں اس نے سٹی میلوڈی سے معاہدہ کیا۔ Guess Inc.کے لیے بحیثیت ماڈل کام کیا، پھر دنیا کے بہترین ڈیزائنرز اورفیشن کی دنیا میں، بڑے اداروں کے لیے کام کیا، ان میں Christian Dior،Givenchy،Paco Rabanne،Sonia Rykiel،Christian Lacroi،Karl Lagerfeld،John Galliano،Yves Saint،Shiatzy،ChanelاورVersaceسمیت دنیا بھر کے اداروں کا انتخاب کارلا برونی رہی۔

90 کی دہائی میں کارلا برونی کا شمار دنیا کی اُن 20ماڈلز میں تھا، جن کا معاوضہ ایک خطیر رقم تھی۔ جب دولت ہو تو اس کا نشہ بھی ہوتاہے۔ وہ نشہ سر چڑھ کر بولتا بھی ہے۔یہاں بھی وہ نشہ سرمست ہوا۔2008ء میں اس کے دومعاشقوں نے بھی جنم لیا،لیکن جلد ہی دم توڑ گئے۔ اس کی ایک رومانوی وجہ یہ سمجھ آتی ہے، دل اوردماغ میں کچھ ایسا چل رہاتھا، جس سے کارلا برونی میں بے قراری بڑھتی جارہی تھی، اس کادل چاہ رہاتھا ،کچھ ایساہو جس پر خوبصورتی کی حد، بے حد ہوجائے۔ 1993ء میں اس خواہش نے کارلا برونی کو مفتوح کرلیا۔ اس نے برہنہ فوٹو شوٹ کروایا جس نے فیشن اورماڈلنگ کی دنیا میں تہلکہ مچادیا۔

کارلا برونی نے باڈی پینٹنگ کی کتاب کے لیے بھی خود کو پیش کیا۔اپنی جسمانی خوبصورتی کو دونوں ہاتھوں سے لٹانے والی کارلا برونی نے دنیا کے سامنے خود کو ایک بے باک اور جمالیاتی ذوق کی آرٹسٹ ثابت کیا۔ ایک ایسی فنکارہ جس کا ظاہر وباطن ایک ہے، جس نے نیک نامی کے پردوں کا سہارا نہیں لیا، دل نے جیسا کہا،اس کا کہا مان لیا۔ دل کے سامنے ہار کر دنیا کو جیت لیا۔

1997 سے 2005ء تک کے عرصے میں کارلا برونی نے اپنی ذات کے مزید مخفی گوشے ڈھونڈے۔ فیشن کی بلندی کو چھوکر موسیقی کے شعبے کارخ کیا۔ منجھے ہوئے موسیقاروں سے دھنیں بنوائیں اوران سُریلے گیتوں میں اپنی آواز کو اُنڈیل دیا۔ یہ گیت گونجے تو کارلا برونی کے باطنی حسن کو سماعتوں نے محسوس کیا۔ 2002 میں اس کی پہلی اور2006ء میں دوسری البم ریلیز ہوئی۔اس کے گیت کئی فلموں میں بھی شامل کیے گئے۔ 2003 میں اس نے ایک فلمLe Divorveکا ٹائٹل سونگ بھی گایا۔2006ء کے اولمپکس میں ،اس نے اپنے آبائی وطن، اٹلی کے جھنڈے کو محبت کا سلام پیش کیا۔ مختلف موسیقاروں اور گلوکاروں کے ساتھ بھی کام کیا۔ 2006 میں ریلیز ہونے والی دوسری البم No Promisesمیں معروف انگریز شاعروں کی نظمیں منتخب کرکے گائیں۔

2008ء تیسری البمComme Side Riennietaitریلیز ہوئی۔ اس سے ملنے والے معاوضے سے فلاحی کام کیے۔2009 میں کارلا برونی نے نیلسن منڈیلا کی سالگرہ کے موقع پر 18جولائی کو ریڈیو سٹی میوزک ہال، نیویارک میں گیت گایا۔ ستمبر2009ء میں Harry Connick،JRکی سنگت میں اپنے فرنچ ایڈیشن کے لیے دوگانا گایا۔ یہ البم فرانس میں اکتوبر 2009ء میں ریلیز ہوئی۔ کارلا برونی نے 2011 میں ریلیز ہونے والی ایک فلم’’Midnight in Paris‘‘میں ایک میوزیم کی گائیڈ کا کردار بھی نبھایا۔ کارلا برونی نے جہاں بہت سی محبتیں سمیٹیں اورشہرت کی دیوی ان پر مہربان رہی،وہیں ان کی مخالفت بھی ہوئی۔اٹلی کے ایک موسیقار اورگلوکار نے ان کی شخصیت کو اپنے ایک گیت میں طنزیہ طورپر پیش کیا۔ اس کے عریاں فوٹوشوٹ کو ان کی شادی شدہ زندگی اورسابق فرانسیسی صدر سرکوزی کی مخالفت میں سیاسی ہتھکنڈے کے طورپر استعمال کیاگیا۔

کارلا برونی ایک ماڈل اور گلوکارہ کی حیثیت سے مقبول ہوئی مگر اس کو شاید یہ خبر نہ تھی کہ کبھی ان کے مداحوں میں فرانس کا مردِاوّل بھی شامل ہوجائےگا۔ 2007 میں سرکوزی سے کارلا برونی کی ملاقات ایک ڈنر پارٹی میں ہوئی۔ اس پارٹی میں ہونے والے تعارف نے دونوں کے دل کو تسخیر کرلیا،یوں دونوںشریک حیات ہوگئے۔ سر کوزی کی یہ تیسری اورکارلا برونی کی پہلی شادی تھی۔ دنیائے سیاست کی ایک بے مثال جوڑی بھی ثابت ہوئی، جس نے رومان کے رنگوں سے سیاست کے منظر نامے کو بھی شرابور کردیا۔ کسی کی پرواہ نہیں کی، ان کی بھی نہیں جنہوں نے کارلا برونی کے ماضی کی برہنہ تصویروں کو موضوع بنایا تھا۔ یہ لاپرواہی کے قدموں سے ان کے اعتراض کو کچل کر گزرگئے۔ ایران کے ایک اخبار نے کارلا برونی کے لیے لفظ ’’طوائف‘‘ استعمال کیا، جس پر دونوں ملکوں میں تنازعہ کھڑاہوا، مگر یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ مخلص رہے۔

کارلا برونی اور ان کے شوہر سرکوزی

یہی وہ احساس تھا، جس نے ان کے بندھن کو پختہ کیا۔ فرانسیسی صدر کی اطالوی بیوی نے سرکوزی کے ساتھ سرکاری دورے کیے۔ اپنی مقبولیت کی معراج کوپالیا۔ دونوں میاں بیوی نے سرکاری مصروفیت کے اختتام کے بعد اپنے نام کی ایک فاؤنڈیشن بنائی۔ اس کے پلیٹ فارم سے ایڈز سے تحفظ،جانوروں کے حقوق،بچوں اورمائوں کے تحفظ کے لیے فلاحی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔نیلسن منڈیلا کی فاؤنڈیشن کے لیے کام کیا اورفرانس کی کئی نامور تنظیموں کے ساتھ کام کیا۔قطر کے امیر کی بیوی کے ساتھ تعلیم کے فروغ کے لیے بھی کام کیا۔

خوبصورتی کی سفیر کارلا برونی اٹلی جیسے خوبصورت ملک میں پیدا ہوئی۔ سوئزر لینڈ جیسے حسین ملک میں پلی بڑھی۔ فرانس جیسے حسین ملک میں اپنے آپ کو دریافت کیا۔ برطانیہ جیسے تہذیبی ملک کا سرکاری دورہ کیا۔ اسپین جیسے تاریخی ملک سے سرکاری اعزاز حاصل کیا۔ امریکا جیسے آزاد منش ملک کی سرکاری سیاحت کی۔ دنیا کو گھوم پھر کر اوردل کے نہاں خانوں سے آرزوؤں کے موتی چن کر، زندگی میں پرونے والی اس شہزادی کو فیشن اورسیاست کی دنیا میں ایک طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خرم سہیل سے رابطہ کیجیے:
khurram.sohail99@gmail.com

Categories
تبصرہ

خوبصورتی کی اکائی اور دلکشی کا مجموعہ

‘بدن کی بینائی’ سلسلے کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

کچھ چہرے ایسے ہوتے ہیں،جن کی کشش اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ نگاہیں کہیں اورجانے کاسوچ بھی نہیں سکتیں،ایسے چہروں پرنظریں پڑائو ڈال لیتی ہیں۔حسن کی دنیامیں ایساہی ایک چہرہ’’کویوکی کاتو‘‘کاہے،جس پرنظرپڑنے کے بعد،ہمیں اس کے حسن کاقائل ہوناپڑتاہے۔وہ حسین ہی نہیں دلکش بھی ہے،جس کی تفصیل میں جائیں تواس کے عشق میں گرفتارہوناکچھ مشکل نہیں ہوگا۔

“کویوکی کاتو”کی بولتی ہوئی آنکھوں کے وسط میں،الف ناک دیکھ کر،اس کے شاہانہ مزاج ہونے کاشائبہ ہوتاہے۔صراحی دارگردن ،نشیلے ہونٹ اوربیضوی چہرہ،مخروطی انگلیاں،سیاہ گھنیرے بال،جیسے شب ٹھہری ہوئی ہو،چاندنی کی دمک لیے روشن چہرہ،جس جس کاجتنا بھی تذکرہ کرلیاجائے،بیان ادھوراہی رہے گا۔یہ جب مسکراتی ہے،توایسے لگتاہے،موسم بہارکی آمدہے،خوشبو کاجھونکااپنی آمد کااحساس دینے لگتاہے۔یہ کیفیت کی شہزادی ہے،اپنے حسن سے بے خبر،یہ نہیں جانتی،اس کے چاہنے والوں پر کیاقیامت گزرسکتی ہے۔یہ خوبصورتی کی ایسی اکائی ہے،اس پرکوئی بھی لباس،رنگ اترتاہے تویہ حسن کے مجموعے میں ڈھل جاتی ہے۔

“کویوکی کاتو”جاپان کی معروف اداکارہ اورماڈل ہے۔ جاپان کے صوبے کاناگاواکے ایک شہر”زاما”میں 1976کوپیداہوئی۔اس کی پیدائش کامہینہ دسمبرہے،مگرجاپانی فیشن اورفلم کی دنیا میں یہ موسم بہاربن کراتری ہے۔یہی وجہ ہے،اس نے کم عمری میں بہت شہرت حاصل کی۔19برس کی عمر میں ماڈل کی حیثیت سے ابتداکرنے والی ،اس خوبرو لڑکی ، 26سال کی عمر تک پہنچتے ہوئے، جاپان میں فیشن حلقوں کی کمزوری بن چکی تھی۔شاید ہی کوئی بڑامیگزین ہوگا،جس کے سرورق پر،اس کاچہرہ زینت نہ بناہو،جبکہ 21برس کی عمر میں اپنی زندگی کے پہلے ٹیلی وژن ڈرامے میں کام کرچکی تھی۔

گریجویشن کرنے کے فوراً بعد،اس نے ماڈل کی حیثیت سے کام کرنا شروع کردیاتھا،پھر نرسنگ کے شعبے میں جانے کی خواہش لیے،اس نے پیشہ ورانہ تربیت حاصل کرنا شروع کی،مگر یہ سلسلہ ٹوٹ گیا،اس نے اپنی پوری توجہ فیشن اوراداکاری کی طرف مبذول کی۔اس نے عمرکی تیسری دہائی میں ،اداکاری کے کیرئیر کی ابتدا،جاپانی فلم سازکی ہاررفلم”پلس”سے کی۔اس فلم کے ذریعے جاپان میں اس نے فلم بینوں اورشائقین کواپنی طرف متوجہ کرلیا،یوں اس پر کامیابی کے دروازے کھلنے لگے۔گھوڑوں کودوڑانے کی شوقین،موسیقی کے سازبجانے میں بھی دلچسپی رکھتی ہے۔رقص کی تعلیم بھی حاصل کی،تاکہ اس کی خوبصورتی دوآتشہ ہوسکے۔
زمانہ طالب علمی سے شروع ہونے والے سفر میں تیزی تب آئی،جب اس کوفیشن اورشوبز کے حلقوں میں پہچاناجانے لگا۔2000تک یہ اپنی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ کئی اخبارات اوررسائل وجرائد کے سرورق کی زینت بن چکی تھی،کئی کمرشلز اورٹیلی وژن ڈرامے بھی اس کے کریڈٹ پر تھے،مگراس کو ابتدائی شہرت 2001میں ،جاپانی ہاررفلم”پلس”سے ملی۔

نئی صدی کے سارے سہانے موسم اس کے لیے بانہیں کھولے کھڑے تھے۔کامیابی اس کے قدم چومنے کے لیے تیارتھی۔ٹھیک دوبرس بعد2003میں اس کی بین الاقوامی فلم”دی لاسٹ سمورائی”ریلیزہوئی،جس میں اس نے ہالی ووڈ کے نامور ستارے ٹام کروز اورجاپان کے معروف اداکاروں کے ساتھ کام کیاتھا،جن میں جاپانی اداکار”کین وتنابے”سرفہرست تھے۔

اس فلم کی کامیابی نے اسے شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا۔دنیابھرمیں اس کے حسن اور صلاحیت کاتعارف ہوگیا۔اس نے بھی فلم کے کردار میں جان ڈالنے کے لیے ہرممکن کوشش کی،کیونکہ اس کے خیال میں یہ ایک انتہائی ذمے دارانہ کردارتھا،جس میں جاپان کی عظیم روایات کاعکس تھا،اس لیے انہیں ہرممکن بہترین طورسے پیش کرنے کی سعی کی۔ٹام کروز جیسے منجھے ہوئے اداکار کے سامنے ،اس نے جم کر اداکاری کی،جس پر حقیقت کاگمان گزرا۔یہی وجہ تھی کہ فلم کی کامیابی نے اس کے خلوص،محنت کوثمرعطاکیا۔آج دنیااس کے نام اورکام سے واقف ہے۔

2011میں اس نے اپنے ساتھی اداکار”کینچی متسویاما”سے زندگی کانیاسفرشروع کیا۔ان دونوں کی قربت ایک جاپانی فلم”کاموئی گائیدین”میں ایک ساتھ کام کرتے ہوئے بڑھی،جس کااختتام شادی کے بندھن پر ہی ہوا۔یہ اپنے ہم سفر کے ساتھ پوری دنیا گھومتی ہے،جاپان میں فلم اورڈرامے کی صنعت کاایک اہم نام سمجھی جاتی ہے۔اب تک اس نے درجن بھر سے زیادہ جاپانی فلموں میں کام کیاہے،جبکہ دودرجن ڈراموں میں اپنے فن کے جوہر دکھاچکی ہے،فیشن کی دنیا میں ہونے والی سرگرمیاں اس کے علاوہ ہیں۔
ساری دنیا میں اس کے مداح موجود ہیں،یہ خود ہالی ووڈ کے علاوہ بالی ووڈ کے خان ہیروز کو پسند کرتی ہے۔گزرتے وقت کے ساتھ اس کی شخصیت فربہ مائل ہوئی ہے،مگراس کے باوجود چہرے کی کشش اورمعصومیت کے سارے رنگ اس کے چہرے پر موجود ہیں۔جاپان کے فیشن اورشوبز کے حلقوں میں اس کی شخصیت کے اثرات اب بھی قائم ہیں۔ دنیابھرمیں اس کے چاہنے والوںکے دل ،اس کی خوبصورتی کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔حسن کا یہ سادہ سبق ،خوبصورتی کوپسند کرنے والے ہرطالب علم کو ازبرہے،یہی اس کے حسن کی سچی گواہی ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خرم سہیل سے رابطہ کیجیے:
khurram.sohail99@gmail.com

Categories
عکس و صدا

اطالوی حسن کی مکمل داستان: صوفیہ لورین

‘بدن کی بینائی’ سلسلے کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

دنیا میں کم ایسے چہرے ہوتے ہیں،جنہوں نے اتنے طویل عرصے تک،اپنی دلکشی کوبرقراررکھاہو،اپنے حسن کی تپش سے چاہنے والوں کوحدت مہیاکی ہو۔خوبصورتی کواتنی سخاوت سے تقسیم کیاہو۔صوفیہ لورین ایسی ہی ایک فنکارہ ہیں،جنہوں نے شوبز کی دنیا میں طویل عرصے تک راج کیااوراپنے حسن سے ایک جہان کومسحورکیے رکھا۔گزرتے وقت میں،ان کاحسن تو شاید ڈھل گیاہے،مگرماضی کی شاندار پرچھائیاں، شائقین کوبے چین کردینے کے لیے اب بھی کافی ہیں۔

1934کو،اٹلی میں پیداہونے والی خوبصورت اداکارہ نے اطالوی سینما،امریکی فلمی صنعت اورمغرب کے فیشن کے تمام قلعے فتح کرنے کے بعد،زندگی کومکمل سکون سے گزارنے کے لیے سوئٹزرلینڈ کاانتخاب کیا۔فطری حسن سے قربت رکھنے والی اس اداکارہ نے رہائش کے لیے بھی فطری مقام کومنتخب کیا،جس طرح ماضی میں قدرت نے اس کواچانک سے،ایک مقابلہ حسن میں شرکت کرنے پر، دنیائے شوبز کے لیے حاصل کیاتھا۔رومان،بے باکی،دلکشی،فطرت کاحسین امتزاج،صوفیہ لورین کے سواکون ہوسکتاہے۔

1951کو،15 برس کی نٹ کھٹ عمرمیں فلمی کیرئیر کاآغازکیا۔فن کے ابتدائی سفر میں چھوٹے موٹے کرداربھی نبھائے،لیکن 1956کوقسمت کی دیوی اس پر مہربان ہوگئی اورمعروف فلم ساز ادارے’’پیرامائونٹParamount‘‘کے ساتھ 5مشترکہ فلموں کامعاہدہ طے کرلینے کے بعد، بین الاقوامی شہرت کاسفرکی ابتداکی، یوں پھرThe Pride and the PassionاورHouseboatسے لے کرIt Started in Naplesتک،اس نے اپنی اداکارانہ مہارت کااحساس دلایا،مگرحقیقی معنوں میں ایک فلمTwo Womenسے اپنی اداکارانہ صلاحیتوں کالوہا منوایااور1962میں،بہترین اداکارہ کا آسکرایوارڈحاصل کرکے پوری دنیا کواپنی آمد کی اطلاع دی۔

اطالوی فلم سے بہترین اداکارہ تسلیم کیے جانے والی صوفیہ لورین نے اٹلی میں بھی اسی فلم کے ذریعے وہاں کے مستند فلمی ایوارڈزبھی اپنے نام کرکے تہلکہ مچادیا۔کامیابیوں کے اس سفر میں،یہ فلمی دنیا سے باہر نکل کرموسیقی اورفیشن کی دنیا میں بھی نام کمانے میں کامیاب رہی۔ موسیقی کے مستند ایوارڈگریمی سے لے کر،فیشن کے متعدد بڑے ایوارڈزسمیت،برطانیہ کامعروف ایوارڈBAFTAبھی اس کے نام رہا۔کئی ایک فلمی میلوں کے اعزازات سمیٹنے کے علاوہ 1991میں اعزازی آسکر ایوارڈ بھی حاصل کیا۔

صوفیہ لورین کے سفرمیں اس کی اداکارانہ صلاحیتوں سے انکار ممکن نہیں، مگر اس کی کامیابیوں کے چراغ میں، اس کاحسین بدن،دلکش چہرہ،بے باک ادائیں اورنشیلی آنکھیں بھی، دادوتحسین کا وہ شہد انڈیل رہی تھیں۔بلیک اینڈ وائٹ زمانے کی رنگین ادائیں ناقابل برداشت تھیں،کئی نسلیں اس کے حسن سے متاثر ہوئیں،کتنی آنکھوں کو اس نے خیرہ کیااورکتنے تھے،جن کے تصورِ محبوب پر اس کے نقوش کاغلبہ رہا۔ساتھی فنکاروں میں کتنے دلوں کواس نے تسخیر کیا،کتنوں کوکچل کرآگے بڑھ گئی اورکتنے تھے،جن کی آہوں اورسسکیوں میں اس کانام شامل تھا۔اطالوی حسن میں،اتنی تفصیل سے جن چہروں کوموضوع بنایاگیا،وہ کم کم ہیں۔اس کاشمار ان مقبول ترین 25چہروں میں بھی کیاجاتاہے،جنہوں نے امریکی شوبز میں سب سے زیادہ راج کیا۔

صوفیہ لورین کوپیدائشی فنکارہ کہاجاسکتاہے۔اس نے جب ہوش سنبھالاتواپنے اردگردکے ماحول میں ڈھلنے کی بجائے،اپناراستہ خود تراشنے کافیصلہ کیا۔خوبصورتی اوربہادری کے امتزاج نے اس کی شخصیت کو رنگین بنادیا۔کم عمری میں ہی اس نے خود کوموسیقی اوراداکاری کی طرف راغب پایا۔خواہشوں کی آہٹ پر کان دھرتے ہوئے،اپنی زندگی کے پہلے مقابلہ حسن تک آپہنچی،اس کوخبرنہ تھی،ایک زمانہ آئے گا،جب اس کے حسن کا کوئی ثانی نہ ہوگا۔دوسری جنگ عظیم کی دہشت نے اس پر بھی اثرکیا۔بمباری میں یہ اپنے خاندان سمیت محفوظ رہی،تب اس کو اندازہ ہوا،زندگی کتنی قیمتی شے ہے،اس کے بعد،زندگی کواس نے واقعی جی کردیکھا۔اس زمانے میں گزربسرکرنے کے لیے خاندان کے ہمراہ ریستوران میں بیراگیری بھی کی،لیکن اس مشقت سے اس کی صلاحیتوں اورخوبصورتی کی چمک دمک میں مزید اضافہ ہوگیا،اس میں برے حالات سے لڑنے کی ہمت آگئی۔

اپنے فنی کیرئیر میں بھی اسی بہادری سے ڈٹے رہنے کی بناپربے شمارکامیابیاں اس کے حصے میں آئیں۔اطالوی اورامریکی سینما پر راج کیا۔1950سے لے کر2014تک،100 سے زیادہ فلموں میں کام کیا۔نیوڈ فوٹوشوٹس کروانے سے بھی شہرت میں اضافہ ہوا۔اس کے ساتھ ساتھ کئی معاشقے کیے،جن میں سرفہرست معاشقہ Cary Grantکے ساتھ تھا،وہ خود بھی ایک وجیہہ اورتخلیقی ذہن کاشخص تھا،جس نے صوفیہ لورین کے ابتدائی کیرئیر کو مضبوط کرنے میں اپنا کلیدی کردار اداکیا،مگرشادی کے لیے انتخاب،اطالوی فلم سازCarlo Pontiہی ٹھہرا۔

موسیقی کے شعبے میں بھی اپنے ہنرکوآزمایااورکامیاب رہی۔فٹبال کے کھیل میں خاص دلچسپی ہے،اس کے حوالے سے وہ اپنی دلچسپیوں کااظہاربھی کرتی رہتی ہے۔زندگی کے اس موڑ پر جب وہ 9دہائی میں داخل ہوچکی ہے،اس کے ذہن میں زندگی کاخلاصہ بہت واضح ہے،وہ اپنی سوانح حیات لکھتے ہوئے بھی اس کی تشریح کرچکی ہے۔2007میں شوہر کے انتقال کے بعد،اس سے ایک انٹرویومیں پوچھاگیا،پھر شادی کرنا پسند کروگی،تواس کاجواب نفی میں تھا،کیونکہ اس کاخیال ہے کہ ’’محبت ہرایک کے لیے نہیں ہوتی۔‘‘

ظاہری حسن ڈھل جاتاہے،مگرگزاری ہوئی زندگی کے حسین لمحات،کبھی فراموش نہیں ہوسکتے۔ان لمحوں میں اگرشہوت اورمحبت کی پرچھائیاں بھی شامل ہوں توپھران کی لوسے یادوں کے چراغ،نوسٹلیجیاکے ایندھن سے،بہت دیر تک روشن رہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Categories
فکشن

حکمرانوں کاحسین انتخاب: للی لینگٹری

‘بدن کی بینائی’ سلسلے کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

صورت میں خوب کا اضافہ ہوجائے ،تو خوبصورتی جنم لیتی ہے، اس میں قسمت اورمحنت دونوں کاحصہ ہوتا ہے، بہت کم ایسے لوگ دنیا میں گزرے ہیں، جن کو یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ ملی ہوں۔ للی ایسی ہی خوبصورت عورت تھی،جس کی قسمت میں حُسن تھااورمزاج میں محنت کاجذبہ بھی۔ شہرت کی دیوی اس پر مہربان رہی اوراس نے اپنے خوابوں کے تعاقب میں کئی دنیائوں کاسفر کیے۔ برطانیہ کی شاہی زندگی پر بھی اس کے حسن کا جادو سرچڑھ کر بولتا رہا۔

 

للی 1853کو’’جرسی‘‘نامی جزیرے کے ایک نمایاں گھرانے میں پیدا ہوئی۔ اس کے والد اپنے علاقے کے ناظم تھے۔ اس کی شادی آئرش زمیندارسے ہوئی، جس کانام”ایڈورڈ لینگٹری۔ ۔للی نے اپنی ذاتی اورپیشہ ورانہ زندگی میں کئی معاشقے کیے،جس میں سرفہرست معاشقہ جس سے چلا،اس عاشق کانام پرنس لوئس آف بیٹنبرگ۔Prince Louis of Battenberg”تھا۔ دونوں نے شادی تو نہ کی، مگر ان میں محبت کی گواہی کے طورپر ایک بیٹی کی پیدائش ہوئی اوربرطانیہ میں یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی۔

 

للی لینگٹری ایک کافی کمرشل میں

 

پرنس لوئس کی شادی برطانیہ کی ملکہ وکٹوریہ کی پوتی سے ہوئی،جس سے پیدا ہونے والی اولاد میں سے ایک بچہ آگے چل کر برصغیر کی سیاست پر بھی اثر انداز ہوا،اس کانام “لارڈ مائونٹ بیٹن۔Lord Mountbatten‘‘تھا،جوبرصغیر کا پہلا وائسرراے اور انڈیا کا پہلا گورنرجنرل بنا۔ جواہر لال نہرو نے اس کی بیوی سے معاشقہ بھی چلایا تھا، جس کی تفصیلات مورخین نے بیان کیں۔ایک طرح سے للی کو مائونٹ بیٹن کی سوتیلی ماں بھی کہا جا سکتا ہے، جبکہ للی کی حقیقی بیٹی”جینی مائر۔Jaenne Marie” بھی لارڈ مائونٹ بیٹن کی سوتیلی بہن ہوئی۔

للی کے دیگر معاشقوں میں ایک اور معروف معاشقہ ملکہ وکٹوریہ اول کے بیٹے،پرنس آف ویلز”البرٹ ایڈورڈ۔Alber Edward”سے ہوا، جو آگے چل کر برطانیہ کا بادشاہ”ایڈورڈ ہفتم۔Edward VII”بنا۔اس کاایک اورعاشق”رابرٹ پیل۔Robert Peel”تھا،جو برطانوی وزیراعظم بھی رہا۔ان کے علاوہ معروف آئرش ادیب “آسکر والڈ۔Oscar Wilde”اورامریکی آرٹسٹ “جیمزمیکنلی ویسلر۔James McNeill Whistler”بھی بہت قریبی دوستوں میں شامل رہے۔ان کے علاوہ کئی معروف شخصیات اس سے متاثر رہیں،جن میں سے بہت سارے طبقہ اشرافیہ سے تعلق تھے۔ پرنس لوئس اورایڈورڈ ہفتم سے معاشقوں میں للی نے جیسی شاہانہ زندگی گزاری،ا س طرح سے دیکھا جائے تو یہ شاہی خاندان کا حصہ ہوتے ہوئے بھی نہیں تھی۔ اس حسین خاتون کی زندگی کا یہ بیک وقت روشن اور تاریک پہلو تھا۔

ایک زمیندار کی بیوی تھی، زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کو اس سے اچھی ابتدا اور بھلا کیا ہو گی۔ اس میں بھرپور اداکارانہ صلاحیتیں تھیں، جن کا استعمال اس نے پیشہ ورانہ اورذاتی زندگی میں بھرپورطریقے سے کیا۔ تھیٹر کے شعبے سے وابستہ رہی اوراسٹیج پر حکمرانی کی۔شاعری کے ذریعے دلوں کوبھی فتح کیا۔اس وقت کے سماج میں اعلیٰ رتبے پر فائز رہی ،ہرتقریب کی رونق اورشمع محفل بنی۔

 

للی نے پیشہ ورانہ زندگی میں بڑے کامیاب فیصلے کیے،اس نے تھیٹر کمپنی بنائی،جس کی تشہیر اورکام کے لیے وہ امریکا تک جاپہنچی،اس نے ہر وہ طریقہ اختیارکیا،جس سے اس کی شہرت اورطلب میں اضافہ ہوسکتاتھا۔اس کی شخصیت میں ذہانت اور مزاج میں شگفتگی نے اس کے حسن کو دوآتشہ کردیا۔وکٹوریہ سماج میں اپنے خوابوں کو پانے کے لیے للی نے اپنی شخصیت کو کئی تنازعات میں الجھا دیا، مگر اپنے اہداف نہ بھولی۔محفلوں کی جان بننے والی اکثر اپنے گھر کے باغیچے میں تنہا اپنی زندگی کے نشیب وفرازکے بارے میں سوچتی تھی۔

 

آدھی صدی تک دلوں پر راج کرنے والی اس حسین خاتون نے کبھی ہمت نہ ہاری۔ ایک مرتبہ بیماری نے اس طرح آن گھیرا کہ بڑی مشکل سے یہ موت کے منہ سے واپس آئی۔ بنفشی آنکھوں والی اس حسینہ نے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کربات کی۔ فیشن کی دنیا میں بھی اپناحسن ثابت کیا،ایک وقت ایسا آیا،جب اس کے انداز اورادائیں ہی فیشن کے طورپر قبول کی جانے لگیں۔معاشرے میں بسنے والے ہرطبقہ اس کے جمال کی تپش محسوس کرتااورمنتظر رہتا،اب یہ اپنا جلوہ کس پر گرائے گی اوروہ خوش قسمت کون ہوگا،جس کویہ نگاہ بھر کے دیکھے گی۔1887میں للی نے امریکا کی شہریت حاصل کرکے کیلیفورنیامیں سکونت اختیار کرلی۔آئرش شوہر سے طلاق کے بعد اس نے اپنے سے کم عمر اورامیر ترین شخص “ہوگوگیرلڈ ڈی بیٹھ۔Hugo Gerald De Bathe”سے کی،جس کی شہرت گھوڑوں کے ریس سے وابستہ ممتاز کاروباری شخصیت کی تھی۔

 

للی کی زندگی پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالی جائے،تو دکھائی دیتاہے،1867میں جب یہ صرف ابھی 14برس کی تھی،اس کو شادی کا پہلا پیغام ملا۔اس کے حسن کا چرچا کم عمری میں ہونے لگاتھا۔1876میں شادی کی اوراگلے برس ہی پرنس لوئس کے ساتھ معاشقہ چلالیا۔1878میں ملکہ وکٹوریہ کے دربارتک رسائی بھی حاصل کرلی۔1881میں ،جب یہ ابھی صرف 27برس کی تھی،اس کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی،اس کی پیدائش کو خفیہ رکھاگیا،یہ اس عرصے میں فرانس کے شہر پیرس میں مقیم تھی۔اسی برس میں تھیٹر سے اس کی باقاعدی وابستگی ہوئی۔1882میں یہ اپنی زندگی کے پہلے اشتہار میں بطورماڈل زینت بنی۔1885میں اپنی تھیٹر کمپنی کے سلسلے میں امریکا کادورہ کیا اوراگلے 2سال میں یہ وہاں کی شہریت بھی حاصل کرلی، جبکہ ابھی تک اس کی عمر صرف 33برس تھی۔1901میں یہ تھیٹرریٹائرڈمنٹ لے لی۔ 1905میں 51برس کی ہوچکی تھی،جب اپنے محبوب برطانوی شہزادے کی بادشاہ بننے کی تاج پوشی کی رسم میں شریک ہوئی۔1925میں پہلی جنگ عظیم کے سلسلے میں امدادی رقم جمع کرنے کی خاطر اپنے تھیٹر کے میڈیم کا استعمال بھی کیا۔

 

للی لینگٹری کی زندگی پر بننے والا برطانوی ڈرامہ

 

زندگی بھرللی نے شاعری کی، تھیٹر کے اسٹیج پر خود کو اداکاری سے جوڑے رکھا، ادکاری کے علاوہ پروڈکشن میں بھی اپنی صلاحتیں آزمائیں۔ ماڈل کی حیثیت میں فیشن کے منظر نامے پر رہی۔کئی حکمرانوں کے تنہائی کی رازداں بنی۔ ایک فلم میں بھی کام کیا۔ ایک ناول بھی لکھا، اپنی خودنوشت بھی قلم بند کی۔ غرض کہ صرف اپنے حسن پر تکیہ نہیں کیا، بلکہ خوشبو کی طرح ایک سے دوسری جگہ اپنی مہک سے آگے بڑھتی چلی گئی۔ اس پر کئی کتابیں لکھی گئیں۔مصوروں نے اس کو پینٹ کیا، فلمیں اور ڈرامے بنے۔ غرض کہ ہر طرح سے للی کی شخصیت کو دریافت کیاگیا۔

 

1929کو امریکا میں ہی اس کاانتقال ہوا،اس کی میت برطانیہ لائی گئی،جہاں اس کوآبائی قبرستان میں دفن کیاگیا۔اس کی رحلت سے برطانوی تاریخ کا ایک اہم باب ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا۔ جس میں شاہی کرداروں کے تذکرے تھے اور زمانے کی غلام گردشوں کے قصے بھی، جس کو للی نے بے حد دلیری، بے باکی اورہمت سے جھیلا۔ حسین لوگ نازک ہوتے ہیں،مگر اس نے جس طرح وکٹوریہ سماج کی سختی میں اپنی نزاکت کو بے باکی کے لبادے میں چھپائے رکھا،وہ قابل تحسین ہے۔یہی وجہ ہے،برطانیہ کی شاہی تاریخ ہو یافنی تذکرے اورحسن کابیان،اس کے ذکر کے بغیر سب کچھ ادھوراہے۔
Categories
نان فکشن

گیلے ہونٹوں کا خشک جہان

میں نے ان لبوں کا ذائقہ چکھا ہے۔ وہ لب جو نیم سرخ اور نیم گلابی ہیں۔جن کی گدازی اور غیر معمولی ملائمیت بلا کی حیرت انگیز ہے۔ میں ان لبوں کا پر ستار،ان کا محافظ، ان کے قرب و جوار سے آگاہ، ان کی سرحدوں کا نگہ بان ہوں۔ جب کبھی ان لبوں کی زمین پر اپنے ہونٹوں کے ہمراہ اترتا ہوں تو وادئ رنگ و نور کی پر کیف فضا میں آشفتہ خاطر بھٹکتارہتا ہوں۔ایک عجیب و غریب بے چینی کےساتھ، جس میں اضطراب کی دبیز لہر،تسکین کا متزلزل وجود ہوتا ہے اور طالع بیداری کا موہوم احساس ہوتا ہے۔ میں ان لبوں کے ساحلوں پر گشت کرتا ہوں۔ ان کو چھوتا ہوں،چھیڑتا ہوں۔ ان کی سرخ زمین پر دور تک سفر کرتا ہوں۔ ان کے پیچیدہ اور کھردرے نقش و نگار کا نظارہ کرتا ہوں۔ اپنے لبوں کے دریا سے ان کی سطح زمین کی گلاب مٹی کو شفاف کرتا ہوں۔ میں ان لبوں کی شناخت قائم کرنے میں اپنے دن رات، صبح و شام صرف کرتا رہتا ہوں۔ لمحوں اور صدیوں کی تقسیم کے فرسودہ تصورات کو ان لبوں کی ہمسایگی سے منقطع کرتا ہوا۔میں ان دلدلی ریگستانوں میں چند ساعتوں میں ہزاروں سال کی مسافت طے کرتا ہوں۔ان کے طلول بلد اور عرض بدل کی تمام لکیروں کواپنے قدموں تلے روندتا ہوا گزرتا چلا جاتا ہوں۔ وہ لب میرے وجود کو ایک قسم کا تحرک بخشتے ہیں۔ میں ان پر سفر کرتا ہوا ان کی سطح زمین کو اپنے ہونٹوں کی طلسماتی صفات سے لپیٹتا ہوا ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر گردش کرتا رہتا ہوں۔

 

وہ لب جو میرا حاصل زندگی ہیں۔جن کو میں اپنی خردبیں نگاہوں سے آٹھوں پہر تکتا رہتا ہوں۔جس کی رنگت اور تمازت،شفقت اور تمکنت، روشنی اور نورانیت، بے قراری اور سکونت کا میں چشم دید گواہ ہوں۔ جن کی شاہراہ عام پر میں حیراں و پریشاں، مضمحل اور تنہا کھڑا کائنات کی رنگینوں کا مظاہرہ کرتا رہتا ہوں۔ وہ لب میرے دونوں جہانوں کی الجھی ہوئی گتھی کو مزید الجھا کر اپنی بساط کی دو رنگی چادر پر پھیلا دیتے ہیں اور میں ان میں کبھی زمین سے آسمان اور آسمان سے زمین کے چکر لگاتا ہوا اپنی ژولیدہ نگاہی کے نخچیر میں مقید ہو جاتا ہوں۔

 

میں جب کبھی ان لبوں کی کائنات میں بہتے آبشاروں، خشک ہو تے دریاوں، پھٹتی اور ادھٹرتی زمینوں، بے رنگ پانیوں اور ریگستانی ہواوں کے بے ترتیب جھکڑوں کو بنتے بڑگڑتے دیکھتا ہوں تو ان کی وسیع و عریض اور مختلف المزاج شناخت پر مخنونانہ انداز میں چیخ پڑتا ہوں۔ ایک تیز آواز جس سے ان لبوں کی سطح زمین متزلز ل ہو جاتی ہے۔ اس کے آتش فشاں پھوٹ پڑتے ہیں اس کے آسمان پر چاروں پر تاریک دھواں منتشر ہو جاتا ہے اور میں اس کائنات نما ہونٹوں کودوبارہ زندگی سے آشنا کرانے کے لیے اپنی زبان کی نمکین چارد کے ریشمی جال کو ان کے چو طرفہ وجود پر پھیلانےمیں مصروف ہو جاتا ہوں، جس سے ان ہوٹنوں کے مشرق، مغرب، شمال اور جنوب دوبارہ اسی آب و تاب سے جی اٹھتے ہیں۔

 

میں ان لبوں کوجن کے اندر ایک ناقابل فہم رمز پایا جاتا ہے اپنے ہوٹنوں سے کچلتا ہوں۔ ان کی بے ترتیب بستوں کو ملیا میٹ کرتا ہوں۔ ان پر اپنے خدا نمائی قہر کو برساتا ہوں۔ ان ہوٹنوں کی دنیا میں موجود وحشت ناک قوموں کو موت کی ہیبت سے آشنا کرواتا ہوں۔ ان کے حشو و زوائد کو تراشتا ہوں۔ ان پر اپنی اجارہ داری قائم کرتا ہوں۔ ان کی زندگی کے آداب مرتب کرتا ہوں۔ان کو زندگی کے اصل معنی سے روشناس کرواتا ہوں۔ میں ان کا آقا بن کر ان پر براجمان ہو جاتا ہوں۔ ان کی دنیا میں پانی برسا کر ان کی قوموں سے اپنے حصے کا خراج وصول کرتا ہوں۔ ان کی سانسوں کو اپنے خدا نمائی لبوں کی زنجیر میں قید رکھتا ہوں۔ ان پر جبر کرتا ہوں اور ان پر قابض ہو کر اس وقت تک انہیں اسی طرح تڑپاتا اور ستتا رہتا ہوں جب تک وہ اپنی سنانسوں کےحصول کی استعدا نہیں کرتے۔جب تک وہ میرے سامنے اپنے گھٹنے ٹیک کر میرے ہونے کو اپنے ہونے پر مقدم نہیں جانتے۔جب تک وہ اپنی زندگی کو میری زندگی پر قربان کرنے کا عزم نہیں کرتے۔

 

میں ان ہونٹوں کی دنیا میں رحم اور ظلم، وفا اور جفا،جنت اور دوزخ، کفر اور ایمان، زہر اور قند، اچھائی اور برائی ان تمام تصورات کو قائم رکھتا ہوں۔ان کے ویران جزیروں پر عذاب نازل کرتا ہوا ان کی آباد بستیوں پر رحم بھیجتا ہوں۔ ان کو اعتدال کے معنی عطا رتا ہوں اور اپنے خدائی وجود کو ان پر نازل کر کے ان کے اعتقادات سے اپنی زندگی کو قائم اور دائم بنا لیتا ہوں۔ میں ان ہوٹنوں کی دنیا کا حاکم ہوں۔ ان کا فرشتہ ان کا عزازیل ان کا شاعر ان کا نغمہ نگار ان کا مالک اور ان کا بندہ ہوں۔

 

میں ان سے اپنے ہونے کا ادراک حاصل کرتا ہوں۔ وہ ہونٹ جو میرے ہوٹنوں سے مس ہوتے ہی کانپنے اور لرزنے لگتے ہیں۔ پھیلنے اور سکڑنے لگتے ہیں۔ بننے اور بگڑنے لگتے ہیں۔ بھیگنے اور خشک ہونے لگتے ہیں۔ میں ان سے اپنے ہوٹنوں کی سردی مائل حرارت اخذ کرتا ہوں۔ وہ لب مجھ سے مل کر مجھ سے جدا ہوتے ہیں،بالکل اسی طرح جس طرح وہ اپنے شمال اور جنوب کو ایک دوسرے سے ملا کر خود سے الگ کر لیتے ہیں۔ میں ان کے شمالی اور جنوبی خطوں کے درمیان اپنے لبوں کے خشک جزیروں کا جہان آباد کرتا ہوں اور ان لبوں کے شمال سے اپنے لبوں پر آباد قوموں کے لیے پانی وصول کرتا ہوں اور جنوب سے ان کا اناج حاصل کرتا ہوں۔ وہ اناج جو انہیں اپنے جنوبی دیوتا کی کھردری اور ادھڑی ہوئی زمین سے حاصل ہوتا ہے۔ میرے لبوں کی دنیا ان لبوں کی کائنات کے بگھرے ہوئے خداوں کی حمد و ثنا کرتی ہے۔

 

ان لبوں کے اندھے غاروں سے آنے والے گرم ہوا کے جھوکے میرے لبوں کے شہر سراوں میں آباد ضعیف العقیدہ عوام کو اپنے آگے سجدہ ریز ہونے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ میں ان لبو ں کو زندگی کی آخری علامت جانتا ہوں کیوں کہ میرا وجود ان میں آباد ہے۔ میرے خدا ان سے قائم ہیں۔ میرے دیوتا ان میں جیتے ہیں۔میرے شاعر ان پر اپنے نغمے لکھتے ہیں۔میرے مصور ان پر اپنی رنگینی تراشتے ہیں۔میرے لوہار ان پر تلوریں بناتے ہیں۔میرے سنار ان پہ اپنے زیورات تیار کرتے ہیں۔ وہ لب میرے لب ہیں۔ وہ ہونٹ میرے معبود ہیں۔ میں ان کا بندہ ہوں اور وہ میرے منتشر وجود کو مرتب کرنے والے، میرے اجزائے بدن کو تشکیل دینے والے میرے آقا ہیں۔میری حرارتوں کو زندگی بخشنے والے میرے سب سے قیمتی دو جام ہیں۔ جن جاموں کو پیتے ہوئے میرے ذہن میں اختر حسین جعفری کے یہ مصرعے رقص کرتے رہتے ہیں کہ:

 

عجیب وہ سیل تھا کہ جس نے
کنار دریا کی سرحدوں میں نئے اضافے کیے ہیں تازہ زمین
آباد کر گیا ہے
عجیب وہ دھوپ تھی جو پیش از سحر کی ساعت کے گھر میں اتری

Image: Hue Bucket

Categories
نان فکشن

صندلی ہاتھوں کا سحرستان

حسن کا تصور جتنا پیچیدہ ہے اتنا ہی سلجھا ہوا بھی ہے، کنول، گلاب، ہرن، مور،بارش،ریت،خشک تالاب اور ویران راستہ۔حسن کی لاکھوں علامتیں ہیں۔ ان میں سے ہر کسی کو حسن کی آخری علامت سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ حسن کی سادگی ہے۔بدن، ہاتھ، بازو، بال اور چہرہ ان کے حسن کا ادراک اتنا آسان نہیں، یہ حسن کی پیچیدگی ہے۔ میں نے لاکھوں چہرے دیکھے ہیں اور لاکھوں ہاتھ، پر میں ان میں سے کتنو ں کو جانتا ہوں ؟کتنوں کو یاد رکھتا ہوں؟ اور کتنوں کو بھلا نہیں پاتا؟ چہرے کے معاملے میں تو یہ خیال کیا جا سکتا ہےکہ اس کو جاننے اور یاد رکھنے میں یادداشت پر کم زور دینا پڑے، پر ہاتھ؟ایسا توبہت کم ہوتا ہے کہ کسی کے ہاتھوں کے کھردرے نقوش دماغ کے گلایوں سے چمٹ جائیں، اس کو جھنجوڑیں، ہلائیں اور ایک دائرہ خیال تک محدود رکھیں۔ ایسے ہاتھوں کو دیکھنا، جاننا اور اس کی لکیروں کے گہرے دریا میں ڈوب جانا خوش بختی کی علامت ہے۔ میں نے ایسے دو ہاتھ دیکھے ہیں۔ وہ دو ہاتھ جوایک طرح کی عجلت صناعی کا زائیدہ ہیں۔ جو قدر ت کا کرشما نہیں، بلکہ خدا کی جلد بازی کا مظاہرہ کہے جا سکتے ہیں۔ خدا جس نے ان ہاتھوں کو موسم گرما کے آخری پہر کی حرارت بخشی ہے اور وہ، اس حرارت کے خمار میں اس کی خراشوں کو تمکنت دینا بھول گیا، اس نے انہیں نخوت سے پاک رکھا اور زندگی سے معمور کر دیا۔ اس کے تقدس کو جلا بخشی اور تفخر کو کالعد م کر دیا۔وہ ہاتھ مجھے زندگی سے زیادہ بامعنی لگتے ہیں، ان میں ایک طرح کا رمز ہے، ایک عیاری ہے۔ جو مجھے کسی باریک جال کی مانند لگتی ہے۔ ان ہاتھوں میں جتنی لکیریں ہیں اتنی ہی داستانیں بھی ہیں۔

 

ان ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو جب میں غور سے دیکھتا ہوں تو مجھے ان پر پھیلی ہوئی ریت کی بے ترتیب بستیاں دنیا کی عظیم جنگوں کی یاد دلاتی ہیں۔ ان پر ہاری ہوئی فوجوں کے لاکھوں سپاہی اپنے زخمی جسموں کے ساتھ تڑپتے نظر آتے ہیں۔ وہ ہاتھ مجھے فراط اور دجلہ کی داستان سناتے ہیں،کربلا کا منظر دکھاتے ہیں اور نیل کے ساحل سے کاشغر کی خاک تک پھیلے ہوئے انسانی وجود کے اضطراب سے دو چار کرواتے ہیں۔ میں جب کبھی ان میں ایک معصوم دنیا کو تلاش کرتا ہوں تو ان ہتھیلیوں کے چو طرفہ کنارے مجھے اس جستجو کے تاریخ دان میں قید کر لیتے ہیں، جہاں مجھ جیسے لاکھوں قیدی سفیدی مائل سرخ نور کے آبشار تلے اس دست حنائی کی معصومیت کے دیدار میں محو نظر آتے ہیں۔ نازکی کے تصور سے علیحدہ، رنگوں کی قید سے آزاداور تقابل کے جھڑے سے جدا وہ ہاتھ میری مضطرب راتوں کے بیدار خوابوں کی مانند ہیں، جن میں حقیقت اور مجاز کے الف لیلوی سحر ستان آباد ہیں۔ ان ہاتھوں میں ایک طرح کی تمثیلیت مضمر ہے، جس تمثیلیت کو اس کے جھوٹے کرداروں نے حقیقت بخشی ہے۔ وہ کردار جومایوسی سے بھرپور اور نرگسیت سے معمور ہیں، ان کے مضمحل اور بیزار چہروں نے ان ہاتھوں کی سطح آب کو ایک طرح کی زرد سیمابیت عطا کر دی ہے۔ میں جب انہیں بغور دیکھتا ہوں تو صندل کے پانی اور کچی مٹی کے ذرات سے گوندھ کر تیار کیے گئے ان ہاتھوں کالمس مجھے اپنی سیاہ پتلیوں میں دور تک اترتا ہوا معلوم ہوتا ہے، میری کتھئی آنکھوں کے سیاہ تالاب میں ان ہاتھوں پر دوڑتی ہزاروں مچھلیوں کی حکومت قائم ہے۔ یہ مچھلیاں میرے جسم کے کاغذی پیرہن سے اپنا خراج وصول کرتی ہیں اورمیر ےاندرون میں پھیلے سبز رسیوں کےجال کو کمند بدن کی مانند تھامے رکھتی ہیں۔ میں جو خود کو دشت اور دریاوں کا سفیر، خیالستان کا باشندہ اور کتھا نگر کا سر براہ اعلی جاتنا ہوں،ان ہتھیلیوں کی زمین پر پڑی بٹی ہوئی ناریل کی رسیوں میں خود کو جکڑا ہوا پاتا ہوں۔ اس ویران جزیرے پر میں زنجیر بدست، ان علم نما انگلیوں کی بارہ دری کو حسرت بھری نگاہوں سے تکتا رہتا ہوں کہ ان کھڑکیوں سے کبھی تو کوئی جھانکے گا اور میری فریاد پر کان دھرے گا۔ پر یہ در و بام ویران قلعوں کی مانند اپنی ہی تنہائی کا سوگ مناتے رہتے ہیں،اپنے نقش و نگار کو خود سرہاتے ہیں اور خود ہی ایک دوسرے کو داد طلب نگاہوں سے دیکھ کر ساکت ہو جاتے ہیں۔ ان دلکش ہاتھوں کی انگلیوں کے پوروں پر یہ تماشہ روز ہوتا ہے،صبح و شام ہوتا ہے،اور میں ایک ویران جزیرے پر پھنسے انجان مسافر کی طرح مستقل یہ نظارہ دیکھتا رہتا ہوں اور سردار کے یہ مصرعے بے ساختہ میری زباں پر جاری ہو جاتے ہیں :

 

اعجاز ہے یہ ان ہاتھوں کا، ریشم کو چھوئیں تو آنچل ہے
پتھر کو چھوئیں تو بت کر دیں، کالکھ کو چھوئیں تو کاجل ہے
مٹی کو چھوئیں تو سونا ہے، چاندی کو چھوئیں تو پایل ہے
ان ہاتھوں کی تعظیم کرو۔۔۔