Categories
نقطۂ نظر

طلبہ اسلامیہ اور اردو زبان و ادب

یونیور سٹی اور کالجز میں روز بروز مدارس کے طلبہ کی تعداد میں جو اضافہ ہو رہا ہے، اس سے مدارسِ اسلامیہ کے فارغین کی حصول علم کے تئیں دلچسپی اور سنجیدگی کا اظہار بخوبی ہوتاہے ۔جامعہ ملیہ اسلامیہ(دہلی)،علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی(علی گڑھ،یوپی) اور مولانا آزاد(حیدرآباد) وغیرہ کے ساتھ ساتھ دہلی یونیورسٹی اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی(دہلی) جیسے تعلیمی اداروں میں بھی ان طلبہ کا ریشو بتدریج ارتقا کی منزلوں سے ہم کنار ہو تا نظر آ رہا ہے ۔یہ ایک خوش آئند بات ہے ،لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ان میں اکثریت ایسے بچوں کی ہے جو صر ف اسلامیات کی کلاسوں کے ڈویژن میں دیکھے جاتے ہیں،البتہ کچھ دور اندیش طلبہ دوسرے مضامین کا انتخاب بھی کرتے ہیں ۔یہ ایک دیگر بحث ہے کہ ان طلبہ کو کون سے مضامین کی جانب توجہ کرنا چاہئے یا وہ کیوں کرتے یا نہیں کرتے ہیں۔لیکن جہاں مذکورہ بالاطلبہ دوسرے مضامین کا انتخاب کرتے ہیں انھیں میں ایک بڑی جماعت ان طلبہ کی ہوتی ہے جو’ اردوادب‘کی جانب اپنے کاروانِ علم کا رخ موڑ دیتے ہیں۔

 

اردو چونکہ مدارس کی اول زبان ہے اس لئے اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اپنی ابتدائی سطح پر’ منہاج العربیہ‘ پڑھتے پڑھتے اور’ تسہیل المصادر‘ رٹتے رٹتے ہی ان بچوں کی اردو بحیثیت محرر و مقرر اتنی اچھی ہو جاتی ہے جو عام طور پر اسکولوں کے دسویں، بارہویں جماعت کے طالب علموں کی بھی نہیں ہوتی ،لیکن یہ موازنہ اسی حد تک قائم رہتا ہے، کیوں کہ یہ مشاہدے میں آیا ہے کہ اسکولوں سے نکلے ہوئے وہ سنجیدہ طلبہ جو B.A(Urdu)میں داخلہ لیتے ہیں وہ کہیں نہ کہیں اس بات کو محسوس کرتے ہیں کہ اسکولنگ کے زمانے میں انھوں نے زبان کو سیکھنے میں جوبے توجہی برتی ہے اسے پورا کرنے میں اب کو تاہی کی گئی تو ان کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ اس لئے وہ سنجیدگی سے زبان و ادب کا مطالعہ شروع کر دیتے ہیں ،اور جلد ہی ’دیر آید درست آید‘کے مصداق وہ مقام حاصل کر لیتے ہیں جہاں ان کا مستقبل تو محفوظ ہوتا ہی ہے ساتھ ہی انھیں ادب میں بھی ایک اعلی مقام حاصل ہوتا ہے۔ اس کے بر عکس اردو کے اولین حقدار جو اپنے تئیں ایک خاص قسم کی غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں ان کا حال وہی ہوتا ہے جو’ کچھوے اور خر گوش ‘والی کہانی میں خرگوش کا ہواتھا۔اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں سب سے اہم دو ہیں ۔اول یہ ہے کہ اردو زبان جسے وہ بچپن سے پڑھتے اور لکھتے چلے آتے ہیں اور جسے وہ عربی اور فارسی کے توسط سے سیکھنے کا شرف حاصل کرتے ہیں، اس بات کو فراموش کر دیتے ہیں کہ اردو نہ تو عربی کی قواعد کے ذریعے سیکھی جا سکتی ہے نہ فارسی کی،بلکہ اس کے کچھ اپنے قوانین ہیں جن کو اگر بغور نہ پڑھا گیا تو لاکھ عربی،فارسی میں مہارت حاصل کر لی جائے اردو نہیں آ سکتی ۔ایک بات کی وضاحت یہاں اور ضروری ہے کہ جس نوع کی اردو یہ طلبہ اپنے مدارس کےاساتذہ سے پڑھتے ہیں ، انھیں اس بات کا گمان ہی نہیں گزرتا کہ وہ ایک ایسے استاد سے اردو زبان پڑھ رہے ہیں جس نے خود کبھی با قاعدہ زبان سیکھنے کی غرض سے اردو کے ادبی متن کا مطالعہ نہیں کیا بلکہ اسی اٹکل پچو سے یہ اردو زبان سیکھی ہے جس طرح اس کے طلبہ سیکھ رہے ہیں۔میں یہ ہر گز نہیں کہہ رہا ہوں کہ جس اردو سے مدارس کے اساتذہ اور طلبہ اپنا کام نکالتے ہیں وہ اردو ہی نہیں یا جو زبان ’مدارس اسلامیہ ‘کی قوم بولتی ہے اسے اردو سے ہٹ کر کوئی تیسری زبان کہا جائے گا۔ میرا موقف صرف اتنا ہے کہ یہ حضرات’ اسلامیات ‘کا مطالعہ کرنے کے لئے اردو زبان کا مطالعہ کرتے ہیں نہ کہ’ زبان ‘سے انھیں کچھ علاقہ ۔ یہ کوئی برا فعل نہیں کہ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ جو بچے اردو میں’ تاریخ ‘پڑھتے ہیں یا ’جغرافیہ‘ پڑھتے ہیں انھیں بھی زبان کا علم نہیں ہوتا اور جب وہ اس زبان میں ان مضامین کا پرچہ حل کرتے ہیں تو ان پرچوں کو جانچنے والا بھی زبان کی طرف کوئی دھیان نہیں دیتا ،بلکہ جواب کی جانب اپنی توجہ مرکوز کردیتا ہے اور اسی کی بنیاد پر طلبہ کو نمبر دیتا ہے۔ بالکل یہی عمل مدارس میں ہوتا ہے مثلاً’فقہ‘ جو مدارس میں ایک مضمون کی حیثیت سے پڑھایا جاتا ہے۔ اس کا استاد پرچہ جانچتے وقت یہ نہیں دیکھتا کہ فلاں لفظ جو حقیقتاً مذکر ہے وہ طالب علم نے لکھنے کی رو میں مونث کر دیا، یا فلاں مونث، مذکر، وہ یہ بھی نہیں دیکھتا کہ البتہ کی جگہ کیونکہ لکھا ہے یا کیونکہ کی جگہ لیکن ،اسے اس سے بھی بحث نہیں کہ گانو کا املہ گاؤں ہے یا گاؤ۔اس لیے مدارس کی حد تک تو یہ طلبہ معصوم گردانے جا سکتے ہیں،لیکن اس متواتر عمل کی وجہ میں زبان سے آنکھ مچولی کھیلنے کی اگلی منزل ان کے حق میں کافی خطر ناک ثابت ہوتی ہے ۔کیوں کہ یہ فعل عمل متواتر کی وجہ سے ان کے یہاں اتنا پختہ ہو جا تا ہے کہ وہ ان کی تحریر اور تقریر کا حصہ بن جاتا ہے،یہ زبان کی ایک ایسی کمزوری ہے جس کو دور کرنے کے لیے مدارس کے طلبہ کو شدید محنت درکار ہوتی ہےجو مدارس کے طلبہ اس میدان میں بہت کم کرتے ہیں ۔کیونکہ غلط لکھتے لکھتے اور پڑھتے پڑھتے ان کے دل و دماغ میں یہ بات گھر کر جاتی ہے کہ انھوں نے اپنے اساتذہ سے جو سنا اور پڑھا یا جس طرح وہ لکھتے پڑھتے آ رہے ہیں وہی درست ہے۔چاہیں لغات ہزار چیخیں کہ بھیا یہ لفظ یوں نہیں یوں ہے، مگر وہ اپنے ڈھرے سے رائی برابر نہیں کھسکتے۔کیونکہ بچپن سے اردو پڑھنے کا جو غلغلہ ان کے ذہنوں پہ طاری ہوتا ہے وہ انھیں اپنے ہی آگے surrender کرنے سے روک دیتا ہے ۔لہٰذاایسے طلبہ ادب تک پہنچنے کے سیڑھی یعنی’زبان کے صحیح علم‘ سے ہی محروم ہو جاتے ہیں، جس کا نتیجہ لا حاصل مطالعے کی صورت میں ان کی مستقبل پر اثر انداز ہوتا ہے۔

 

قواعد سے نا واقفیت کی بنیاد پر دوسرے بھی کئی مسائل ان کی بول چال کی زبان میں در آتے ہیں ۔مثلاً صوتیات کا وہ قاعدہ جو عربی میں مستعمل ہے یہ طلبہ اسے اردو میں بھی روا رکھتے ہیں ،یعنی ’ع ‘جو عربی میں حلق کے درمیانی حصے سے نکلتا ہے یہ طلبہ حسب عادت اسے اردو میں بھی اسی طرح پڑھتے ہیں،اردو میں مصوتوں اور مصمتوں کے استعمال، ان کی قرات اور ان کی تعداد سے بھی واقف نہیں ہوتے۔املہ کے پیچیدہ مسائل کا علم ہونا تو درکنار اپنی تعلیم مکمل ہونے کے کئی کئی سالوں تک ہاے مختفی کے صحیح استعمال سے بھی واقف نہیں ہو پاتے۔یہ اور اسی قسم کی بنیادی باتیں مدارس کے طلبہ میں اردو زبان سے لا علمی کے سبب پیداہوتی ہیں۔جس سے ان کی تحریر اور تقریر تو متاثر ہوتی ہے ساتھ ہی وہ دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔جیسا کہ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ اردو ،عربی یا فارسی کے قاعدوں کے مطابق نہیں چلتی اسی لئے اردو کو یونیوسٹیز میں بحیثیت زبان چننے کے بعد اگر یہ طلبہ تھوڑی سی توجہ اس طرف کر یں تو یہ بہت جلد ان کمیوں کو دور کرسکتے ہیں اور پھر عربی ،فارسی اور اردو سے واقفیت کی بنیاد پر وہ جو کام کر سکیں گے کوئی اچھے سے اچھے اور بڑے سے بڑے اسکول کا اسٹوڈنٹ نہیں کر سکتا۔لیکن اس کے لئے انھیں اپنی بنیادوں کو تلاش کرنا پڑے گا اور اس خشت اول کو درست کر نا ہوگا جو معمار کی غلطی سے کجی کا شکار ہوئی ہے۔

 

یہ تو تھی زبان کی بات اب دوسرا اور سب سے اہم مسئلہ ادب کا ہے ۔ادب کے متعلق مدارس کے طلبہ کا کیا رویہ ہے اس پہ کچھ کہنے سے پہلے میں کچھ اہم باتوں کی جانب آپ کی توجہ مرکوز کرانا چاہوں گا۔ یہ بات تو ’ ادب‘ کا ہر وہ قاری جانتا ہے جو ادب کو تھوڑا بہت پڑھ چکا ہے کہ اس تین حرفی لفظ کی تشریح کے لئے مشرق سے لے کر مغرب تک کے کئی intellectuals نے اپنے کئی کئی صفحات کالے کئے ہیں اور اپنی تمام تر معلومات کی روشنی میں What is literature ? کی پہلی کو سلجھانے کی کوششیں کیں ہیں۔ سب کی نہ صحیح لیکن بیشتر اہم مصنفین کی باتوں کو دنیا نے تسلیم بھی کیا اور ایک مدت کے بعد اس نظریے کو رد کرنے میں دیر بھی نہ لگائی ۔اسی طرح اردو ادب کی تاریخ بھی اس بات کی شاہد ہے کہ ہمارے یہاں بھی ادب کے متعلق کئی نظریے قائم ہوئے اور پھر نئے نظریے کی روشنی میں اسے رد بھی کیا گیا،چونکہ ادب کا واسطہ براہ راست تحریر اور تقریر سے ہے،اس لئے اس کی دو Main streamsنثر اور نظم ہیں۔منثور ، منظوم پیراے میں ہر تحریر یا تقریر ادب میں شمار نہیں ہوتی ۔کسی بھی تحریر یا تقریر کو ادب قرار دینے کے کچھ ضابطے ہیں جن کی بنیاد وں پر انھیں ادبی اور غیر ادبی ملصقات سے مزین کیا جاتا ہے،پھر اس پر الگ الگ نظریوں سے مباحثے ہوتے ہیں۔
from the very beginning ہمارے یہاں جن تصورات کو زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھا گیا وہ متصوفین کے ارشادات و ملفوظات تھے،ان ملفوظات نے حتی المقدور مشرقی زندگی کو ایک lifestyle دینے کی کوشش کی اور اس کی یہ سب سے بڑی انفرادیت ہے کہ یہ lifestyle انھوں نے کسی سے مستعار نہیں لیا ،بلکہ اسلامیات اور ویدک تعلیمات نے نسلاًبعد نسلاِِ زندگی کا attitude اورaptitude ان کے وجدان میں پھونکا جس سے یہ طرز زندگی وجود میں آیا۔چونکہ ادب کا real phenomenaزندگی کا ارتقا ہے اس لئے ان صوفیانہ اقوال کوزندگی کے ہر شعبے میں ایک اہم مقام حاصل ہے۔ ایک سب سے اہم بات یہ ہے کہ جس طرح زندگی پہ کبھی جمودطاری نہیں ہوتا اور وہ مسلسل اپنے مرکز سے آگے کی جانب متحرک رہتی ہے۔اسی طرح یہ اقوال بھی زندگی کی قدروں کے مطابق اپنا چولا(اسلوب اوررویہ) بدلتے رہتے ہیں۔مثلاً’کتاب اللمع‘کے مصنف یا مقرر نے اپنے گرد و پیش کے جن معاملات کی جانب نگاہ کی اور اسے آگے کی سمت دھکیلا’ کشف المحجوب‘ اور’ فوائد الفوائد ‘کے مقرروں نے اسے اور ارتقا سے ہم کنار کیا۔اسی طرح تلسی داس،نام دیو اور کبیر وغیرہ نے بھی اپنا اپنا کردار نبھایا۔آج ہم جس ادب کا مطالعہ کر رہے ہیں وہ ایک ،دو دن کا کھیل نہیں بلکہ صدیوں کی چمن بندی کا ثمرہ ہے۔انھیں مخلصین کی کاوشوں نے ولی ؔ کو پیدا کیااور پھر بتدریج میرؔ ،سوداؔ ،دردؔ ، مظہرؔ ،صہبائیؔ ،مومن ؔ اور غالبؔ سے اس گلستان کی رونق میں بیش بہا اضافہ ہوا۔ادبیات کے مطالعہ کی حیثیت سے اس طالب علم کو کبھی ادب کا پوراطالب علم نہیں کہا جا سکتا جس نے اپنے اساطیر یا دیومالائی ادب کا کچھ مطالعہ نہ کیا ہو اور ساتھ ہی ساتھ جدید ادب پر بھی اس کی اچھی نگاہ نہ ہو۔آئے اب ہم ان طلبہ کا جائزہ لیں جو مدارس سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد Urdu honors کرتے ہیں اورB.A ہی نہیں بلکہ M.AاورPhDتک ان کے کیا حالت رہتی ہے۔

 

سب سے پہلی بات یہ کہ یہ طلبہ جن درسگاہوں میں اپنی تعلیم کی ابتدا کر تے ہیں ان کا نظام تعلیم اتنا خراب اور یک رخی ہوتا ہے کہ روایتی و مذہبی معلومات کے علاوہ زندگی کے دیگر شعبوں میں ان کا ہاتھ اتنا تنگ ہوتا ہے کہ یہ کسی قابل نہیں رہتے ۔ اگر یہ اپنی پوری زندگی اسی ایک علم کے نام کر دیں تب تو شاید ان کا کچھ بن جاے۔ لیکن جب یہ اس مذہبی دنیا سے باہر نکلتے ہیں اور کسی دوسرے دروازے کو پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں تو انھیں پھر سے ایک نئی شروعات کرنا پڑتی ہے۔اس میں ایک اہم کمزوری ان بچوں کے والدین کی ہوتی ہے کہ انھیں پتا ہی نہیں ہوتا کہ ان کے بچوں کو مستقبل میں کیا بننا چاہیے یا کس طرح کی تعلیم ان کے مستقبل کو روشن کرے گی۔اس لئے ان کی غلطی کی وجہ سے ان بچوں کو دو، دو مرتبہ اپنی تعلیمی زندگی کی شروعات کرنا پڑتی ہے۔ یہ ایک بہت بڑا جھگڑا ہے اس لئے اس موقع پر اسے نہ چھیڑنا ہی بہتر ہے۔بہر کیف یہ بات تو روز روشن کی طرح واضح ہے کہ ادب حیات پہ زیادہ توجہ دیتا ہے نہ کہ بعدالممات پر،اور مذہبی تعلیمات میں حیات سے زیادہ بعد الممات پر دھیان دیا جاتا ہے۔ مذہب میں زندگی کا ہر عمل بعد الممات کے فلسفے سے پیوست ہے جب کہ ادب میں اس تصور کے لئے کوئی جگہ نہیں ۔اسی طرح ادب اور مذہب کی مبادیات میں بہت سے اختلافات ہیں جنہیں یہ طلبہ نہیں سمجھ پاتے اور اپنی جانب سے ادب اور مذہب کی تعلیمات کو ایسا خلط ملط کرتے ہیں کہ نہ ان کا شمار ہیوں میں ہوتا ہے نہ شیعوں میں۔منطق اور قدیم فلسفہ جو انھیں مدارس کے نیم پختہ علما مار کوٹ کے پڑھا دیتے ہیں ۔اس نہج پر وہ اپنی گزشتہ تعلیم کے اس حصے کو بے کار سمجھ کر پیچھے ڈال دیتے ہیں اور ان فلسفیانہ مباحث کا اطلاق ادبی مباحث کے ذیل میں کرنے کہ بجائے ادب کی معلومات کو اتنا ہلکا سمجھنے لگتے ہیں کہ میرؔ کی شاعری بھی ان کی نظر میں کوڑا ہو جاتی ہے۔ وہ اس بے جا زعم میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ جب ہم نے ’’حصول الاشیاء با نفسھا و با شباحھا‘‘ جیسے مسائل کوپڑھ لیا تو ا دب کیا چیز ہے ۔لہذا جب ان سے ادبی نوعیت کی گفتگو کی جائے تو یہ طلبہ اس کے متعلق دو جملے بھی ٹھیک سے نہیں بول پاتے ۔کیونکہ اسے پڑھیں تبھی تو اس کی اہمیت کا اندازہ ہو اس کو بنا پڑھے ہی جب یہ فیصلہ کر دیا جائے کہ یہ اعلی اور یہ ادنی ہے تو پھر کیسے بات بن سکتی ہے۔معیار اور غیر معیار کا فرق تو انھیں چھو کر نہیں گزرتا ہر اس کلام کو شعر سمجھتے ہیں جو کلام موزوں ہو ۔میر ؔ اور غالب ؔ اورفیضؔ کی شاعری میں کیا فرق ہے ؟اختر ؔ شیرانی کی کیا خاصیت ہے ؟میراؔ جی اور ن م راشد کو دنیا نے کیوں سر پہ اٹھا رکھا ہے؟اقبال کے کلام میں کیا کیا کمزوریا ہیں؟ قدیم اور جدید شاعری میں کیا فرق ہے؟ اردو شاعری میں عشق کا کیا تصور ہے؟ عصرے حاضر میں کون اچھی شاعری کر رہا ہے؟ مشاعرہ بازی کے کیا نقصانات ہیں؟ وغیرہ وغیرہ جیسے سوالات کی جانب ان کا دھیان ہی نہیں جاتا۔اردو تنقید ،تاریخ وادب کا مطالعہ اتنا کم ہوتا ہے کہ کوئی بھی ڈھنگ کا آدمی ان سے بات تک نہیں کرنا چاہتا ۔نثر کے اسالیب اور بیان کا ذکر تو دور کی بات داستان، ناول اور افسانے کے اجزائے ترکیبی تک کا علم ان حضرات کو نہیں ہوتا۔ نوٹس رٹ رٹ کے ایم اے ،ایم فل تک پہنچ تو جاتے ہیں، لیکن وہاں پہنچ کر ایسے موضوعات کا انتخاب کرتے ہیں کے سن کربہت افسوس ہوتا ہے۔اگر ایمانداری سے پوری لگن کے ساتھ ادب کے اہم مصنفین کی کچھ تصانیف کا یہ حضرات مطالعہ کر لیں تو کم سے کم ایم فل اور پی ایچ ڈی میں ان مو ضوعات کا انتخاب کرنے میں آسانی ہو جائے جو ابھی تک ان چھوئے ہیں۔صرف ایک ایک، دو دوکتابیں بھی یہ طلبہ گیان چند جین ،رشید حسن خاں،مسعود حسن رضوی ادیب،جمیل جالبی،شمس الر حمان فاروقی ،سلیم احمد اور گوپی چند نارنگ جیسے مصنفین کی پڑھ لیں تو اپنے اندر ادب غیر ادب کو پرکھنے کی اچھی خاصی استطاعت پیدا کر سکتے ہیں۔ان طلبہ کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ لوہار کا کام سنار اور سنار کا کام لوہار نہیں کر سکتا اگر آپ لوہاری ترک کر کے سناری میں جٹے ہیں تو پوری مستعدی سے ادب کو پڑھنے کا عزم کیجئے۔ اسلامیات کتنا ہی اچھا subjectہو پر یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہئے کے کہ وہ آپ کا پرانا انتخاب تھا اور ادب نیا انتخاب ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

زبانیں بدلتے ہیں ہر آن خوباں

youth-yell

گزشتہ برس کراچی میں انجمن ترقی اردو کی جانب سے قائم کیے گئے ادارے اردو باغ کے افتتاح کے موقع پر صدر ممنون حسین نے ملک کے اسکالرز اور ادبی حلقوں پر زور دیا کہ وہ ٖاعلیٰ تعلیمی اداروں میں اردو کے بہ حیثیت ذریعہ تعلیم نفاذ کے لیے مثبت اور مؤثر کردار ادا کریں۔ اس حوالے سے انہوں نے مغربی اقوام کی سماجی، معاشی، سائنسی اور ثقافتی ترقی کی وجہ ان اقوام کا علاقائی زبانوں کو ذریعہ تعلیم بنانا قرار دیا۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کسی حکومتی عہدیدار نے ملک کے تعلیمی اداروں میں نصابی زبان کے حوالے سے مبہم اور حقائق کے بر عکس بیان جاری کیا ہو، ہر دور میں نصاب کے حوالہ سے حکمران طبقہ اور ریاستی ادارے تجربات کرتے آئے ہیں۔ یہ ایک شرمناک حقیقت ہے کہ قیام پاکستان کو 70 برس گزرنے کو ہیں اور ہم آج تک اپنی تعلیمی ترجیحات کا حتمی تعین نہیں کر پائے۔

 

دیگر تعلیمی اصلاحات تو ایک طرف ریاستی ادارے آج تک یہی فیصلہ نہیں کر سکے کہ طلباء و طالبات کو کس زبان میں تعلیم دی جائے۔
دیگر تعلیمی اصلاحات تو ایک طرف ریاستی ادارے آج تک یہی فیصلہ نہیں کر سکے کہ طلباء و طالبات کو کس زبان میں تعلیم دی جائے۔ اس تمام صورت حال میں وفاقی ادارے اپنی پالیسی پر کام کر رہے ہیں جبکہ صوبائی ادارے اور حکومتیں اپنی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ شعبہ تعلیم میں اصلاحات کے حوالے سے ماضی میں کیے گئے متضاد اقدامات ایک طرف، اگر صرف موجودہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اقدامات کو ہی دیکھا جائے تو حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ اس اولین درجے کے اہم قومی معاملہ میں صوبائی اور وفاقی حکومتیں کتنی سنجیدہ ہیں اور کس قدر رابطے میں ہیں۔ بلوچستان حکومت کے جاری کردہ پانچ سالہ تعلیمی پالیسی منصوبہ کے مطابق انگریزی کو اشرافیہ کی زبان قرار دیتے ہوئے پورے صوبے میں پرائمری سطح کی تعلیم کے لیے علاقائی زبانوں کواختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری سطح کے طلباء و طالبات کو اختیار ہوگا کہ وہ اردو، انگریزی اور علاقائی زبانوں میں سے کوئی بھی زبان اختیار کر لیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کے مشیر برائے تعلیم سردار رضا کے مطابق بلوچی، براہوی، پشتواور سندھی زبان کو نصاب کا ذریعہ اور حصّہ بنانے کا مقصد علاقائی زبانوں کا فروغ ہے۔ سندھ حکومت نے سرکاری اسکولوں کے ساتھ ساتھ نجی تعلیمی اداروں پر بھی سندھی زبان کو نصاب کا حصّہ بنانے پر زور دیا ہے اور خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

 

پنجاب میں پرویزالہی دور سے قبل تمام سرکاری اور بیشتر نجی تعلیمی اداروں میں سیکنڈری سطح تک اردو میں تعلیم دی جاتی تھی جبکہ ہائر سیکنڈری سطح پر انگریزی لازمی قرار دے دی گئی۔ جس کی وجہ سے طبعیات، کیمیا، حیاتیات اور ریاضی جیسے مضامین اردو میں پڑھ کر آنے والے طلباء و طالبات کے لیے یہی مضامین انگریزی میں پڑھنا انتہائی دشوار تھا جس کے سبب طلباء و طالبات کی قابل ذکر تعداد ہائر سیکنڈری سطح کے امتحنات پاس کرنے میں یا تو ناکام رہی یا اتنے نمبر حاصل نہیں کر پاتے تھے جو یونیورسٹی میں داخلہ کے لیے لازمی سمجھے جاتے ہیں۔ پرویزالہی دور میں پورے پنجاب میں ہر سطح پر ذریعہ تعلیم بجا طور پر انگریزی کو قرار دیا گیا جس کے خاطر خواہ نتائج سامنے آئے۔ جبکہ موجودہ حکومت نے پرائمری سطح کی تعلیم نہ صرف اردو میں فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے بلکہ علاقائی زبانوں کو بھی نصاب کا حصّہ بنانے کے حوالے سے مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ خیبر پختونخوا حکومت نے دیگر صوبائی حکومتوں کے برعکس صوبہ بھر میں ہر سطح کی تعلیم کے لیے انگریزی زبان کو اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

 

ملک میں بولی جانے والی قومی اور علاقائی زبانوں کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ پرائمری سطح سے لے کر اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پڑھائے جانے والے نصاب کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے۔
جدید ترقی یافتہ دور میں تعلیم ہی ایک ایسا ذریعہ ہے جس کی بدولت کوئی بھی ملک اقوام عالم میں ایک مضبوط اور با عزت مقام حاصل کر سکتا ہے بدقسمتی سے بہ حیثیت ریاست شروع سے ہی ہماری تمام تر توجہ اپنے ملک کے نظام تعلیم و صحت کی بجائے غیر ضروری عالمی اور علاقائی تنازعات پر رہی ہے۔ خصوصاً 1970 اور 1980 کی دہائی میں جب سرد جنگ اپنے عروج پر تھی اس وقت کے حکمران ضیاء الحق نے سوویت یونین کے خلاف جہاد کا آغاز کیا اور ان مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے شعبہ تعلیم کو تختہ مشق بنایا گیا۔ نصاب میں تبدیلی کر کے ایک مخصوص سوچ اور نظریے کو پروان چڑھا کر ایک شدّت پسند گروہ کی سرپرستی کی گئی اور افغان پالیسی کے حوالے سے سیاسی فائدے حاصل کیے گئے جس کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ ملک کو ان حالات تک لانے میں اہم کردار اسی متنازع نصاب کا رہا ہے جسے تاحال تبدیل نہیں کیا جا سکا اور نہ ہی مستقبل میں ایسی کوئی صورت دیکھائی دیتی ہے۔ اردو زبان اور دینی اقدار کے فروغ کے حوالے سے ارباب اختیار کے بعد اب اس ملک کی عدلیہ بھی تشویش میں مبتلا ہے اور اس ضمن میں اردو کے فروغ کے حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان نے اردو کو سرکاری زبان بنانے کے حوالے سے ایک تاریخی فیصلہ (جس کا بیشتر متن انگریزی زبان میں تھا) جاری کیا۔ اس فیصلے کا اردو حصّہ جس قسم کی اردو میں تحریر کیا گیا ہے اس سے بہتر یہی تھا کہ سب کچھ انگریزی میں ہی تحریر کر دیا جاتا۔ یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ اس ملک میں بسنے والے افراد خواہ وہ کسی بھی شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھتے ہوں شدید اور خطرناک حد تک شناخت کے بحران کا شکار ہیں۔ مزید مضحکہ خیز پہلو یہ ہے کہ وفاقی حکومت کے جاری کردہ مراسلہ بتاریخ 6 جولائی 2015 میں جن اقدامات کی سفارشات دی گئی ہیں وہ ناقابل عمل ہیں اور اس مراسلہ میں جو الفاظ اردو میں شامل کیے گئے ہیں ان پر تو رونے کو جی چاہتا ہے۔ حکومت اور عدلیہ اپنے ہی جاری کردہ حکم نامے کے نفاذ میں اس قدر سنجیدہ ہیں کہ ایک برس گزر جانے کے باوجود بھی اپنے ماتحت محکموں میں اردو کے نفاذ میں ناکام رہے ہیں۔

 

کیا وجہ ہے کہ اسکول سے لے کر کالج اور یونیورسٹی تک ہمارا طالب علم کم از کم 14 برس تک اردو، مطالعہ پاکستان، اسلامیات اور انگریزی لازمی مضامین کے طور پر پڑھتا ہے لیکن اس کے باوجود اگر اس سے پاکستان کی نظریاتی اساس پر بات کی جائے تو اس کا جواب خاموشی ہے؟ اسے یہ نہیں معلوم کہ ابولکلام آزاد اور مولانا بھاشانی جیسے لوگ کون تھے اور تحریک آزادی سے متعلق کیا رائے رکھتے تھے؟ کیا یہ بات مضحکہ خیز نہیں ہے کہ 14 برس تک اسلامیات پڑھنے والے نوجوان سے جب مذہب پر بات کی جائے تو وہ جواب میں ذاکر نائیک اور طارق جمیل کے خطبات سننے کا مشورہ دیتا ہے؟ کیا وجہ ہے کہ 14 برس تک اردو پڑھنے والے نوجوان قرة العین حیدر، مضطر خرد آبادی، سراج اورنگ آبادی اور سجاد حیدر یلدرم جیسے ناموں سے ناواقف معلوم ہوتے ہے؟ اس قدر طویل عرصه تک انگریزی پڑھنے والے نوجوان کے لیے انگریزی میں روانی سے بات کرنا ناممکن کیوں ہے؟ اس تمام صورت حال کا مطلب یہی ہے کہ ہم غلط سمت میں جا رہے ہیں۔ ملک میں بولی جانے والی قومی اور علاقائی زبانوں کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ پرائمری سطح سے لے کر اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پڑھائے جانے والے نصاب کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے۔ تعلیمی اداروں میں اردو اور انگریزی کو بہ حیثیت مضمون نہیں بلکہ بہ حیثیت زبان پڑھائے جانے کی ضرورت ہے۔ یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ اسلامیات اور مطالعہ پاکستان کے علیحدہ مضامین ہونے کے باوجود اردو اور انگریزی کی کتب میں تاریخ اسلام و پاکستان سے متعلق اسباق شامل کرنے میں کیا حکمت پوشیدہ ہے۔ اردو اور انگریزی کے نصاب میں مذکورہ زبانوں کا ادب شامل کیا جانا چاہئیے۔ اسی طرح تاریخ اور معاشرتی علوم کے نصاب میں عالمی تاریخ و ثقافت اور عالمگیر سیاسی و معاشرتی نظریات کو نصاب کا جصّہ بنانا ناگزیر ہے۔

 

پاکستان کے قیام سے لے کر آج تک بر سرِاقتدار آنے والی قریباً ہر حکومت کو اردو کے فروغ اور دینی اقدار کے حوالے سے ہمیشہ ہی تشویش رہی ہے
اعلیٰ تعلیم کے لیے ذریعہ تعلیم اردو کرنے کا فیصلہ بھی انتہائی غیر دانشمندانہ ہے۔ اس قسم کے غیر سنجیدہ فیصلے کرنے والوں کو کیا یہ معلوم نہیں کہ پوسٹ گریجویٹ سطح کی تعلیم کے لیے ہمارا انحصار مغربی ممالک پر ہے، دنیا کی بہترین یونیورسٹیز، لیبارٹریز، تحقیقاتی ادارے یورپ اور امریکا میں موجود ہیں ایسے میں یہ کس طرح ممکن ہے کہ اردو میں گریجویشن کرنے والا طالب علم انگریزی میں دستیاب سائنسی علوم سے کس طرح استفادہ کر پائے گا یا مغربی جامعات میں کیوں کر تعلیم حاصل کر سکے گا؟ یقیناً اسے ان علوم کو انگریزی زبان میں سمجھنے کے مسائل کا سامنا رہے گا اس کے لیے مقابلے کی فضاء میں تحقیق کرنا ناممکن ہو گا۔ اگر نصاب کو اردو میں پڑھانا شروع کر بھی دیا جائے تو جدید سائنسی اصطلاحات اور فارمولوں کو اردو میں کیسے تبدیل کیا جائے گا؟ کیمیائی فارمولوں، ریاضیاتی فارمولوں، جیومیٹری کے اصول اور سائنس کے بنیادی قوانین کے اظہار کے لیے تو پھر بھی انگریزی کا ہی سہارا لینا پڑے گا۔ ادویات کے نام سے لے کر سائنسی تکنیک اور کمپیوٹر سافٹ وئیرز تک سبھی کچھ انگریزی میں ہے، ایسے میں کتنے شعبہ جات کو اردو زدہ کرنا ممکن ہو پا ئے گا؟ کیا ادویات اور میڈیکل آلات کو اردو نام دینا ممکن ہوسکے گا؟ یا ہماری اتنی قابلیت ہے کہ ہم انتہائی پیچیدہ کمپیوٹر سافٹ وئیرز اور پروگرامنگ لینگویجز کو اردو سے تبدیل کر سکتے ہیں؟ ابھی گریجویشن سطح کا نصاب انگریزی میں ہونے کے باوجود سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی اور پیشرفت میں ہمارا حصّہ صفر ہے ایسے میں اردو میں سائنس پڑھا کر نیوٹن، اور آئین اسٹائن جیسے دماغ پیدا کرنا دیوانے کا خواب ہے۔

 

پاکستان کے قیام سے لے کر آج تک بر سرِاقتدار آنے والی قریباً ہر حکومت کو اردو کے فروغ اور دینی اقدار کے حوالے سے ہمیشہ ہی تشویش رہی ہے اور انگریزی زبان کا تعارف ہمیشہ غیروں کی زبان کے طور پر کروایا گیا ہے۔ ہندوستان کی تقسیم کے وقت جو علاقے پاکستان میں شامل ہوئے ان میں سے کوئی ایک صوبہ، ضلع یا وفاقی اکائی ایسی نہ تھی جہاں اردو بولی جاتی ہو لیکن اس حقیقت کے باوجود جغرافیائی اور لسانی اعتبار سے اکیاون فیصد حصّے میں انگریزی زبان میں اردو اور صرف اردو کا نعرہ لگایا گیا اور یہ اقدام بعد ازاں علیحدگی کا پہلا زینہ ثابت ہوا۔ اس معاملہ میں جذبات کے بجائے ہمیں زمینی حقائق کی بنیاد پر فیصلہ کرنا ہو گا کہ باقی ماندہ پاکستان میں بھی جغرافیائی اعتبار سے کوئی وفاقی اکائی ایسی نہیں جہاں کی علاقائی زبان اردو ہو۔ اردو محض ایک رابطے کی زبان بن کر رہ گئی ہے اور اس کی وجہ انگریزی ذریعہ تعلیم نہیں بلکہ مختلف ادوار میں اردو ادیبوں پر لگائی جانے والی قدغن ہے۔ ماضی میں بلند قامت اردو ادیبوں کو دیوار سے لگا کر ریٹائرڈ بیوروکریٹس، خود ساختہ دانشوروں اور وظیفہ خوار مصنفین سے نام نہاد ادبی شہ پاروں کی اشاعت کروانے کا شغل ہمارا ہی فیصلہ تھا تو پھر اب اردو کے حوالے سے تشویش اور خدشات کیسے؟ یہ روش تاحال تبدیل نہیں ہوئی، تنخواہ دار لکھاریوں کو پروان چڑھانے اور ان کی سرپرستی کا کام اب بھی زور و شور سے جاری ہے۔ اردو کی ترویج کے لیے نصاب کو اردو زدہ کرنے سے کچھ فوائد حاصل نہ ہوں گے لیکن نقصانات کا امکان سو فیصد ہے۔ اردو کوبہ حیثیت زبان زندہ اور پائندہ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ادیبوں کو مصلحتوں اور ضابطوں سے آزاد کیا جائے۔ رابطے کی زبان وقت کے ساتھ ساتھ غیر شعوری طور پر ان گنت تبدیلیوں کا شکار ہوتی رہتی ہے اور یہ نا قابل اختیار اور مسلسل عمل ہے اس کو تباہی سے بچانے کا واحد راستہ اخبارات و جرائد اور دیگر ذرائع ابلاغ ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ اردو اور علاقائی زبانوں کو فروغ دینے کے لیے ان زبانوں کے ادب کو فروغ دیا جائے اور آئندہ نسل کو جدید دنیا سے ہم آہنگ کرنے کے لیے جدید تعلیم سے آراستہ کیا جائے، بصورت دیگر ہمیں قصّہ پارینہ بننے کے لیے تیار رہنا چاہئیے