Laaltain

مرگ انبوہ: ایک جائزہ (اقرا غفار)

مشرف عالم ذوقی مابعد جدید فکشن نگار کے طور پر جانے جاتے ہیں انہوں نے کہانیاں بھی لکھیں ناول بھی لکھے اور اخبارات میں عصر حاضر کے ہندوستان میں ہونے والے مسائل پر مسلسل کالم لكھتے رہتے ہیں۔ بطور ناول نگار انہوں نے اکیسویں صدی میں ہونے والی تبدیلیوں اور خاص کر ان تبدیلیوں سے […]

نعمت خانہ: اکتیسویں قسط (خالد جاوید)

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔ اور اِسی شور میں، میری کھوپڑی میں، وہ زہریلا سانپ موجود تھا جس نے ایک طرح سے، کچھ معاملوں میں میرے اوپر چودہ طبق روشن کر رکھے تھے۔ یہ سانپ سر میں کلبلاتا، دل میں گھبراہٹ ہوتی اور پیر کانپنے لگتے۔ میری بدقسمتی کے اس […]

نعمت خانہ: تیسویں قسط (خالد جاوید)

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔ محمد ساجد یس سر عبدل معید یس سر شاہکار عالم وارثی یس سر انیل کمار سنگھ یس سر صابر علی صدیقی یس سر ہرش سچدیو ’’حفیظ الدین بابر‘‘ ’’یس سر۔‘‘ میں کھڑے ہوکر جواب دیتا ہوں۔ پروفیسر ایس پی یادو اپنی آنکھوں سے چشمہ اُتارتے […]

باجے والی گلی — قسط 8 (راج کمار کیسوانی)

[block­quote style=“3”] راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950 کو پیدا ہوے۔ ان کی بنیادی پہچان صحافی کی ہے۔ 1968 میں کالج پہنچتے ہی یہ سفر ’’سپورٹس ٹائمز‘‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر شروع ہوا۔ ان کے لفظوں […]

باجے والی گلی — قسط 7 (راج کمار کیسوانی)

[block­quote style=“3”] راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950 کو پیدا ہوے۔ ان کی بنیادی پہچان صحافی کی ہے۔ 1968 میں کالج پہنچتے ہی یہ سفر ’’سپورٹس ٹائمز‘‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر شروع ہوا۔ ان کے لفظوں […]

ناول کی صنف نثر کی وسیع تر ایکسپلوریشن کی دعوت دیتی ہے:مرزا اطہر بیگ

ٹرانسکرپشن: خضر حیات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوال: عارف وقار کے ساتھ انٹرویو میں آپ نے بتایا تھا کہ آپ نے اس کائنات کی ٹوٹیلٹی(Totality) کو وٹگن سٹائن کے انداز میں تخلیقی سینتھیسس (Synthesis)کے ساتھ بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا کوئی بھی تخلیقی اظہار کسی بھی امیجی نیشن(Imagination) یا ریالٹی […]

باجے والی گلی — قسط 5 (راج کمار کیسوانی)

[block­quote style=“3”] راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950 کو پیدا ہوے۔ ان کی بنیادی پہچان صحافی کی ہے۔ 1968 میں کالج پہنچتے ہی یہ سفر ’’سپورٹس ٹائمز‘‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر شروع ہوا۔ ان کے لفظوں […]

باجے والی گلی — قسط 1 (راج کمار کیسوانی)

[block­quote style=“3”] راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950 کو پیدا ہوے۔ ان کی بنیادی پہچان صحافی کی ہے۔ 1968 میں کالج پہنچتے ہی یہ سفر ’’سپورٹس ٹائمز‘‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر شروع ہوا۔ ان کے لفظوں […]

تقسیم کی تفہیم اور علی اکبر ناطق

منیب حسن: علی اکبر ناطق نے تقسیم کو نہ ہی ہندو سمجھا نہ ہی مسلمان بلکہ پنجاب کے چٹیل میدانوں سے لے کر سرکاری دفاتر تک انسانی رویوں کا گویا ایک انسائیکلوپیڈیا مرتب کیا ہے جس کا سرغنہ ایک انگریز ہے

نعمت خانہ — اٹھائیسویں قسط

خالد جاوید: اگرچہ دنیا ختم نہ ہوگی۔ دنیا کے ختم نہ ہونے کا شعور ایک بھیک مانگتے اور گھگیاتے ہوئے، بچّے کی قابلِ رحم آواز میں بھی موجود رہ سکتا ہے۔

نعمت خانہ — ستائیسویں قسط

خالد جاوید:بہت دنوں سے بڑے ماموں کا وزن گھٹتا جارہا تھا۔ ان کا بھاری بھرکم چہرہ سُت کر رہ گیا تھا اور آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے بن گئے تھے۔ پہلے اُن کی اچھی خاصی توند تھی مگر اب اُن کا پیٹ پچکا ہوا نظر آتا تھا۔ ان کے سارے کپڑے ڈھیلے ہوگئے تھے۔

نعمت خانہ — چھبیسویں قسط

خالد جاوید: موت کیا ہوتی ہے، اس کا چہرہ کیسا ہوتا ہے، وہ کس طرح چلتی ہے، کسی طرح آتی ہے؟ ان میں سے کسی بات سے میں آشنا نہ تھا۔ مگر جلد ہی وہ وقت بھی آنے والا تھا اگرچہ مجھے اس کا ذرا سا احساس تک نہ ہوا۔

نعمت خانہ — پچیسویں قسط

خالد جاوید: میں ڈر گیا۔ اپنے اندر کے اُس پرُاسرار کالے سانپ سے میں ڈر گیا اور مجھے یہ بھی یاد آیا کہ ابھی کل ہی شام تو اندر والے دالان کے کونے میں، میں نے سانپ کی اُتاری ہوئی کینچلی پڑی دیکھی تھی۔

نعمت خانہ — چوبیسویں قسط

خالد جاوید: تو مجھے یرقان ہوا تھا۔ شام ہوتے ہوتے مجھے گھر اور دنیا کی ہر شے پیلی نظر آنے لگی۔ میرے پیشاب کا رنگ ہلدی کی طرح ہو گیا۔ میرے جسم کی کھال پر جیسے زرد سفوف سا مل دیا گیا تھا جو شاید بستر پر بھی جھڑتا رہتا تھا۔

نولکھی کوٹھی — آخری قسط

علی اکبر ناطق: بہت سی چیزیں انسان کے اختیار میں نہیں ہوتیں۔ تم حالت نزع میں پڑے انسان کو نہیں کہہ سکتے کہ وہ مرنے سے انکار کر دے۔