دمِ جنون

اس لمحے وہ جیل میں نہیں تھا، اسی مزار میں کھڑا تھا۔
منگول — ذکی نقوی

وہ منگول تھا تو ہرگز نہیں مگر یہ دونوں لڑکے اسے منگول ہی کہتے تھے جس کی وجہ اُس کی شکل و صورت، قد قامت، ایک پر اسرار سی اجنبیت جو وہ بظاہر ہر کسی سے روا رکھتا تھا اور اس پہ طُرہ اس کی کھردری شخصیت تھی جس سے بہادری اور بے باکی ٹپکتی تھی۔
چاچا ایلس کدوری (کرم خان مرحوم کی ہسٹری)

کرم خان کا ورثہ مختلف راستوں سے آگے منتقل ہو گیا تھا مگر پھر بھی یہیں کا یہیں پڑا رہ گیا
جاوید بسام کے دو افسانے (جاوید بسام)

[divider]پرچھائی[/divider] وہ بیٹھے بیٹھے چونک اٹھتا اور ہمہ تن گوش ہو جاتا۔ کئی دنوں سے وہ مختلف آہٹیں سن رہا تھا۔ کبھی چلنے کی سرسراہٹ سنائی دیتی کبھی کرسی گھسیٹنے کی آواز آتی اور کبھی کوئی کسی کو پکارتا۔ وہ وہاں اکیلا رہتا تھا۔ بال بچے دوسرے شہر میں تھے۔ بیوی اپنی بیمار ماں کی […]
غیر مطبوعہ ناولٹ: اندھیرا، موت اورمسیح سپرا (مشرف عالم ذوقی)

سفید چادروں کے درمیان والی عورت اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔ مسیح سپرا نے آنکھیں بند کرلیں۔
نروان (نیر مصطفیٰ)

نروان کی تلاش میں نگری نگری پھرنے والے سیلانی نے اپنے سنگِ مر مر سے بنے سفید محل کی چوکھٹ پر کھڑے ہو کر یہ سارا منظر دیکھا اور نروان کی حقیقت جان گیا۔
بوئے خوں (رفاقت حیات)

بھولے کو چارپائی پر لٹا نے کے بعد اس نے پہلے صندوق اور پھر الماری کو چھان مارا بڑی مشکل سے پاؤڈر کا ڈبہ اور عطر کی شیشی ہاتھ آئی اس نے مردہ جسم پر دونوں چیزیں خالی کر دیں۔
عبدالغنی جیکسن (نیر مصطفیٰ)

یہ کائنات بھی بہت بڑا ٹوپی ڈرامہ ہے میرے دوست
جمال زیست (منزہ احتشام)

جب وہ مرا تو بارہ سال کا تھا۔ اب اسے مرے ہوئے بیس سال بیت چلے تھے۔ اصولاً تو اسے ابھی بھی خاندان کی یاداشتوں اور تصویری البم میں بارہ سال کا ہی ہونا چاہیے تھا۔ مگر ایسا ہوا نہیں۔وہ ہر سال اپنے ہم عمروں کے ساتھ بڑا ہوتا رہا۔اس کا چچیرا بھائی اس سے […]
پیل دوج کی ٹھیکری (رفاقت حیات)

کتنے دنوں سے وہ روز خوابوں میں آجاتی ہے۔ رات کو نیند میں دن کو آرام کر تے ہوئے یا دوپہر کو قیلولے کے وقت۔ حتیٰ کہ جاگتے ہو ئے بھی ایسا لگتا ہے کہ میری آنکھیں اسے دیکھ رہی ہیں ۔ میرا جسم اس کی موجودگی کو محسوس کر رہا ہے۔ میں اس کی […]
بچھڑی کونج (رفاقت حیات)

معمول کے کام نمٹاکر وہ سستانے بیٹھی تو سوچ رہی تھی ’’کھا نا پودینے کی چٹنی سے کھالوں گی، بیٹے کے لیے انڈا بنا نا پڑے گا۔ پرسوں والا گوشت رکھا ہے۔ آلو ساتھ ملا کر شام کو سالن بنالوں گی۔‘‘ اس نے فریزر کھول کر گوشت کو ٹٹولا کہ پو را پڑ جائے گا […]
ایک پرانی تصویر کی نئی کہانی (ناصر عباس نیر)

تصویر کے آدھے حصے کے غائب ہوجانے کا انکشاف اس زلزلے سے بڑھ کر تھا جو پندرہ سال پہلے آیا تھا اورجس کے نتیجے میں آدھی سے زیادہ آبادی پہلے چھتوں اور صحنوں سے محروم ہوئی اور پھر اس نے دریافت کیا کہ قہر، بربادی اور بے چارگی کیا ہوتی ہے۔ زلزلے کے بعد مہینے […]
ٹِک ٹِک ٹِک (محمد جمیل اختر)

ٹِک، ٹِک، ٹِک ’’ایک تو اس وال کلاک کو آرام نہیں آتا، سردیوں میں تو اس کی آواز لاوڈ سپیکر بن جاتی ہے‘‘ ٹِک ٹِک ٹِک یہ آواز اور یہ احساس واقعی بہت تکلیف دہ ہے، خصوصاً جب آپ گھر میں اکیلے ہوں، اسے ایسے لگ رہا تھا جیسے وال کلاک ٹک ٹک کی بجائے […]
مہر منگ کی کہانی

زاہد حسن: سورج غروب ہوتے ہی دیوان سنگھ ٹھیکے دار کے گھر مہر منگ بڑی شان کے ساتھ آیا۔ باہر کے دروازے پر ٹھہر کے اونچی آواز سے کلام پڑھا۔ سارا خاندان، سب کچھ چھوڑ چھاڑ کلام سننے لگا۔
وَاپسی

محمد حمید شاہد: اور اُس نے وہ خط جو کئی دِن سے اُس کے ٹیبل پر بند پڑا تھا ‘اِن دو دِنوں میں کئی بار پڑھ ڈالا تھا۔ اور جب وہ اَڑھائی بجے والی بس سے ایک طویل عرصے بعد اپنے گاﺅں ویک اینڈ گزارنے جا رہا تھا تو سب تعجب کا اِظہار کررہے تھے۔
