عشرہ // پہاڑ اوجھل
ادریس بابر: خرگوش کے کان په جوں رینگی نه جادوگر کے ہیٹ کو گزند پہنچی نه اس کے بوٹ کی…
ادریس بابر: خرگوش کے کان په جوں رینگی نه جادوگر کے ہیٹ کو گزند پہنچی نه اس کے بوٹ کی…
علی محمد فرشی: نئے سال کے گال پر ہونٹ رکھتے ہوئے کپکپائے تھے کیوں ہاتھ امیدِ پیرہ کے؟
نصیر احمد ناصر: بارش اے بارش! کتنی اچّھی ہے تُو مجھ میں برس کر بھیگ نہ جانا
ثروت زہرا: وارث شاہ کی ہیر کی کھونٹی تو نے میرے دل کے لبادے کس لمحے میں مانگ لیے ہیں
نصیر احمد ناصر: ہم صدائے کوہ ہیں دشمن ہماری آواز سے ڈرتا ہے ہمارے نرغے میں آنے سے گھبراتا ہے
نور الہدیٰ شاہ: اب مٹھی بھر مٹی بس اتنی سی باقی ہے یا قلعے کا بُرج بن جائے یا آدمی…