پچھلی گلی کا دروازہ
سدرہ سحر عمران: وہ دفتر سے گھر آیا تو گھر کے باہر لوگوں کو جم غفیر دیکھ کر اسے کسی…
سدرہ سحر عمران: وہ دفتر سے گھر آیا تو گھر کے باہر لوگوں کو جم غفیر دیکھ کر اسے کسی…
تصنیف حیدر: دھوپ زخموں اور چھالوں پر مرہم لگانے لگی۔آخری منظر جو میں نے دیکھا وہ سلائڈنگ میں اڑتی ہوئی…
حاشرارشاد: کتے بھوکے ہیں۔ پیاسے ہیں۔ دریا بہت نیچے ہے۔ پانی نظر تو آتا ہے پر زبان اس تک پہنچ…
رفاقت حیات: چاچا غفور سے تعلقات میں کشیدگی ختم کرنے کے لیے اس نے دکان پر وقت گزارنے کا فیصلہ…
تصنیف حیدر: بارش رفتہ رفتہ کم ہونے لگی، صدر کو دوسری ہچکی آئی، پھر تیسری، اس نے آخری بار جو…
جنیدالدین: اشتیاق جٹ نے مزدوری دینے سے انکار کرتے ہوئے دیگ اسے تھما دی اور تقاضا کیا کہ دیگ پہ…
ریونسوکی اکوتاگاوا: آخر کار میں تھکا ہارا درخت کے نیچے سے اٹھ کھڑا ہوا۔ میرے سامنے وہ خنجر گرا پڑا…