Laaltain

پیشہ ور (ساحر شفیق)

جدائی کا کیلنڈر چھپ چکا ہے جسے ہم دونوں نے مل کے ڈیزائن کیا تھا ہم اُس دن پہلی بار ملے تھے جب پاگل خانے کی چھت پہ پتھر مار کر وقت کو شہید کر دیا گیا تھا ہم اُس وقت بھی معصوم نہیں تھے کیونکہ ہم چومنے کے معنی جانتے تھے ہم نے اپنی […]

ہم سکول جانے سے ڈرتے نہیں اور دیگر عشرے (ادریس بابر)

ع / ہم اسکول جانے سے ڈرتے نہیں در اصل عربی تلواروں کے گهیرے میں بہت اونچی شلواروں کے گهیرے میں ہمارے بہت دوست مارے گئے ہماری جوانمرد استانیاں اور استاد جو ہم پہ وارے گئے انہیں ۔۔۔۔ جنگ یہ ہارنے کیسے دیں؟ درندوں کو منه مارنے کیسے دیں؟ پهر اسکول جانے سے تو وہ […]

میں تمہارے لیے ایک مشکل فیصلہ تھا (ساحر شفیق)

میں جیسا ہوں مجھے ویسا قبول کرو میں نے اپنے ہاتھ خود نہیں بنائے ۔۔ اور ۔۔ نہ ہی آنکھیں کسی نیلامی میں خریدی ہیں کیا اُس انسان کو محبت کرنے کا کوئی حق نہیں جو ریاضی میں بمشکل پاس ہوتا رہا ہو؟ میں لکھنا ضرور جانتا ہوں مگر اپنی تقدیر میں نے نہیں لکھی […]

حادثہ (شیراز علی)

مکمل زمانے میں کیا کیا ہوا ہے میں تجھ کو بتاؤں کہ جانے سے تیرے یہ کتنا بڑا حادثہ ہو گیا ہے یہ گردش زمانے کی اٹکی ہے تب سے کہ جب سے تو سورج کے آگے سے گزری یہ دن ماہ برس کو بھی بدلے ہوئے ایک عرصہ ہوا ہے یہ موسم بھی تھکنے […]

اِک نظم (عظمیٰ طور)

اِک نظم ابھی ابھی الماری کے اک کونے سے ملی ہے دبک کر بیٹھی پچھلے برس کی کھوئی یہ نظم کب سے میں ڈھونڈ رہی تھی اس نظم میں مَیں بھی تھی تم بھی تھے ہم دونوں کی باتیں تھیں دروازے پہ ٹھہری اک دستک تھی گہرے نیلے رنگ کے پردے تھے اِک اکلوتی پینٹنگ […]

آدرش پہاڑ کی نوک پر رہتا ہے (ایچ-بی- بلوچ)

یہ ایک اونچا اور نوکیلا پہاڑ ہے جس پر تم ہو اس اونچائی کے نیچے بہت سے درخت ہیں انسان ہیں اور بہت سی چیونٹیاں اور بہت سے کتے ہیں مگر تم اوپر ہو اور تمہاری آنکھوں کی پتلیاں مجھے خالی آسمان کی طرح لگتی ہیں جس میں خود کو کھڑا ہوا پاتا ہوں تم […]

آدمی زندہ ہے، آدمی زندہ ہے!، آدمی زندہ ہے؟ (زاہد امروز)

ریڈیو گا رہا ہے ‘‘ماٹی قدم کریندی یار’’ ماٹی قتل کریندی یار آدمی سو رہا ہے آدمی ٹھنڈی لاشوں کے درمیان سو رہا ہے آدمی جاگ رہاہے آدمی مردہ عورت سے ہم بستری کے لیے جاگ رہا ہے بچہ تصویر بناناکھیل رہا ہے بچہ آدمی کی تصویر بنا رہا ہے بچہ فیڈر پی رہا ہے […]

جنگل اور سمندر کے درمیان اور دوسری نظمیں (صفیہ حیات)

آدھا جھوٹ بلاشبہ وہ بہت اچھا ہے میری کتھا سن کر رودیتا ہے آج کل اپنی پہلی محبوبہ کے ساتھ ہوتا ہے محبوبہ کا بیٹا اسے بہت عزیز ہے۔ ونٹر کی چھٹیوں میں اسے گھمانا ایک الگ کام ہے روز شام کو یہ کہتے ہکلا جاتا ہے کہ آج کسی کو ڈنر پہ لے جانا […]

بودا درخت (رضی حیدر)

یہ کون کٌھنڈی آری سے میرا تنا کاٹ رہا ہے کون میری وکھیوں کی ٹہنیاں توڑ رہا ہے مجھ سے نیانوں کے جھولے بنانا، یا سکول کی نِکی نِکی کرسیاں میرے ہاتھوں سے سالنوں کے ڈونگے چمچ میرے پیٹ سے سہاگ رات کے رنگلے پلنگ چل بھانوے، مجھے انگیٹھی میں ڈال دے میری آنکھیں بس […]

ایک لمحہ کافی ہے (حسین عابد)

کسی اجنبی، نیم وا دریچے سے کھنکتی ہنسی پر ٹھٹھکتے محبوب آنکھوں میں جھانکتے پکی خوشبو اور معصوم آوازوں کے شور میں بدن سے دن کی مشقت دھوتے یا کھلے، وسیع میدان میں بہتی ندی کے ساتھ چلتے جس کے کناروں کی گھاس پانی میں ڈوب رہی ہو وقت کی دھڑکتی تھیلی میں پڑا ابدی […]

میری تنہائی اُداسی میں ہچکیاں بھرتی ہے (فرح دیبا اکرم)

میری تنہائی اُداسی میں ہچکیاں بھرتی ہے جب اس کا دم گھٹنے لگے تو کھڑکی پہ پردہ ڈال کر مدھم روشنی کو اندھیرے کی چاندنی سے ڈراتی ہے ایک آخری کام رہ گیا ہے تیری امانت، تیرے سپرد کرنی ہے اپنے جنوں کے بےمعنی اضطراب کو تمھارے دروازے کے ڈور میٹ پہ رکھ کر زمانے […]

سورج کا بانجھ پن (سدرہ سحر عمران)

ہم نہیں جانتے دھوپ کا ذائقہ کیا ہے روشنی کی شکل کس سے ملتی جلتی ہے یہ پرندے کون ہیں ہم درختوں کو چراغ لکھتے ہیں ہوا کو موت یہ پتے ہمارے آنسو ہیں ہمیں کیا خبر کہ آسمان کا رنگ تمہارے لہجے کی طرح نیلا کیوں ہے؟ ہم نے سیڑھیوں کے ہجے نہیں سیکھے […]

میں پتھر کے نیچے پیدا ہوا ہوں! (ایچ۔ بی۔ بلوچ)

میں صدیوں سے پتھر کے نیچے ہوں کبھی پانیوں کی خوفناک گہرائیوں اور وسعتوں میں کبھی لامحدود اور سوکھے بیابان کے اندر دم سادھے چپ چاپ موسموں کو گزرتے دیکھتا ہوں میں کھلے اور پھیلے ہوئے برفیلے میدانوں کا ذکر ہرگز نہیں کروں گا معذرت کے ساتھ مجھے برفباری اور برف کے ساتھ کھیلنے سے […]

جب امکان کو موت آ جائے گی (نصیر احمد ناصر)

ابھی تو دن ہے اور ہم دیکھ سکتے ہیں ایک دوسرے کو دکھ میں اور خوشی میں اور مِل سکتے ہیں شام کی چائے یا ڈنر کے امکان پر میں اُس وقت کا سوچتا ہوں جب ہمارے درمیان ایک رات بھی نہیں رہے گی تب ہم کیا کریں گے؟ کہاں طلوع ہوں گے؟ Iamge: Euge­nia […]

آدھا زندہ مجسمہ (ساحر شفیق)

وہ باتیں جو گاڑی چھوٹنے کی وجہ سے میں اس سے نہیں کہہ سکا تھا وہ باتیں ریل کی سیٹی نے جن کے کانوں میں سوراخ کر دیئے تھے میں نے اسٹیشن پر بکھری ہوئی الجھنوں اور سوالات کو سمیٹ کر کوٹ کی جیبوں میں بھرا ریل ایجاد کرنے والے کو گالی دی فاصلے کو […]