Laaltain

میں پاگل نہیں ہوں (محمد جمیل اختر)

پچھلے دو سال سے سرکاری پاگل خانے میں رہتے رہتے میں نے اپنی زندگی کے تقریباً ہر واقعہ کو یاد کر کے اس پر ہنس اور رو لیا ہے۔ ویسے میں پاگل نہیں ہوں۔۔۔۔ آپ کو یقین تو نہیں آئے گا کہ اگر پاگل نہیں ہوں تو پاگل خانے میں کیا کر رہا ہوں، دیکھیں […]

ایک نا مختتم یکایک کے آغاز کا معمہ (جیم عباسی)

موتی نے سرخ پھولدار اور ریشمی کپڑے سے بنی،روئی سے بھری،پتلی اورچوکورگدیلی دیوار پر جھاڑ کر پہیےدار کرسی کے تختے پر پٹخی مگرگدیلی پر پڑےمیل کچیل کے کالے چکٹ جھاڑنے سے لا پرواہ، کپڑے سےناسور کی طرح چمٹے رہے۔موتی نے آگے کھسکتے ہوئے کرسی گاڑی کو پچھلی ٹانگ سے پکڑ ا اور گاڑی کو دھکیل […]

مننجائٹس (رضی حیدر)

یہ عجیب خط ہے کہ میں ہی اسے لکھ رہا ہوں اور میں ہی اسے پڑھے جاتا ہوں، تسبیح کی طرح، صبح شام۔ میں نے ضرورت سے زیادہ چشموں سے باتیں کی ہیں، قطروں کی ہنسی کو چھوا ہے، سرسراتی ہوا کی اداسی کو گھنٹوں چکھا ہے۔ میں سچ سن چکا، وہ سچ جو قبروں […]

عقیدہ آدمی کا ہوتا ہے، لاش کا نہیں (ناصر عباس نیر)

اس کے جرموں کی فہرست طویل ہے، یہ تو ہمیں پہلے معلوم تھا لیکن یہ جرم اتنے سنگین ہوں گے، اس کا اندازہ ان کی زندگی میں ہمیں نہیں ہوسکا۔جس قاضی نے زہر کے ذریعے اس کی موت کا فیصلہ لکھا، وہ بھی اس کے جرائم کا ٹھیک ٹھیک اندازہ کرنے سے قاصر رہا تھا۔ہمیں […]

ایک پرانی تصویر کی نئی کہانی (ناصر عباس نیر)

تصویر کے آدھے حصے کے غائب ہوجانے کا انکشاف اس زلزلے سے بڑھ کر تھا جو پندرہ سال پہلے آیا تھا اورجس کے نتیجے میں آدھی سے زیادہ آبادی پہلے چھتوں اور صحنوں سے محروم ہوئی اور پھر اس نے دریافت کیا کہ قہر، بربادی اور بے چارگی کیا ہوتی ہے۔ زلزلے کے بعد مہینے […]

سیاہ گڑھے اور دیگر مائکروفکشن (عامر صدیقی)

سیاہ گڑھے وہ ایک خونی لٹیراتھا۔ اس کے سر پر انعام تھا، اس کی موت یقینی تھی اور اس وقت وہ کسی انجان راستے پر لگاتار کئی دنوں سے بھاگا چلا جا رہا تھا۔اس کے پیچھے تھے مسلح سپاہی اور ان کے خونخوار کتے۔ یہ اس کی بقا کا سوال تھا۔ رکنا مطلب موت۔ وہ […]

گونگا گلو (جیم عباسی)

گاؤں بنام ڈگھڑی انگریزوں کی کھدائی شدہ نہرکے کنارے کنارے اس جگہ بسایا گیا تھا جہاں نہر اور گاؤں کو ریل کی پٹڑی کا پہاڑ نما ٹریک روک لیتا تھا۔ اسی ریلوے لائن کے قدموں میں دونوں کا ایک جگہ خاتمہ ہوتا تھا۔ریلوےلائن جس کی بلندی پر مٹی اور کچی اینٹیں ڈھوتے اکثر گدھے اور […]

ٹِک ٹِک ٹِک (محمد جمیل اختر)

ٹِک، ٹِک، ٹِک ’’ایک تو اس وال کلاک کو آرام نہیں آتا، سردیوں میں تو اس کی آواز لاوڈ سپیکر بن جاتی ہے‘‘ ٹِک ٹِک ٹِک یہ آواز اور یہ احساس واقعی بہت تکلیف دہ ہے، خصوصاً جب آپ گھر میں اکیلے ہوں، اسے ایسے لگ رہا تھا جیسے وال کلاک ٹک ٹک کی بجائے […]

ریلوے اسٹیشن (محمد جمیل اختر)

“جناب یہ ریل گاڑی یہاں کیوں رکی ہے ؟ “ جب پانچ منٹ انتظار کے بعد گاڑی نہ چلی تو میں نے ریلوے اسٹیشن پہ اُترتے ہی ایک ٹکٹ چیکر سے یہ سوال کیا تھا۔ “ او جناب پیچھے ایک جگہ مال گاڑی کا انجن خراب ہو گیا ہے اب اس گاڑی کا انجن اُسے […]

اسما حسن کے افسانے “شہرِ بُتاں” کا تاثراتی جائزہ

اس مجرد آرٹ پیس کو مذہب کے تناظر میں دیکھنا اس کی آفاقی معنویت کو محدود کر دینے کے مترادف ہے یہ انسانیت کا نوحہ ہے ظلم و بربریت کا نوحہ ہے اور ظلم کے خلاف اٹھنے والی آواز کے نقارہ ِ خدا بننے کا ماجر ہے اس کہانی کا پیٹرن اس خوبصورتی سے بُنا […]

طویل افسانے کی نظری اساس

صنف کی شناخت،ادبی صنف کاتعین،ادبی صنف کے امتیازی نشانات،ہیئت ومواد کی سطح پر صنف کے فاصلاتی وشناختی خصائص کی نشاندہی،یہ صنفیاتی مطالعے کے اہم موضوعات ہیں جو کسی صنف کی وجودیات پرمکالمہ قائم کرتے وقت زیر بحث آتے ہیں۔جدیدفکشن کی تاریخ میں ناول،ناولٹ،طویل افسانہ اور مختصر افسانے کی مختلف شکلیں ہم رشتہ تصور کی جاتی […]

کچا

جیم عباسی: اپنے سامنے بیٹھے چہروں پر نظر ڈالتے اس نے داہنے ہاتھ سے بمشکل مائیک کو پکڑا۔ آگے بولا تو آواز گرج میں تبدیل ہو چکی تھی۔ اسے لگا جیسےاس کے اندر طاقت کے تمام تر ذرات بھر دیے گئے ہوں۔

بساند

آصف زہری: کتابوں اور جالی کے درمیان گوریوں کے گھونسلے اور پر وغیرہ تھے۔ اس نے جھاڑو سے جمع شدہ سارا کوڑا کرکٹ سمیٹ کر بالٹی میں ڈالنا شروع کیا۔ ایک گھونسلے میں دو انڈے بھی تھے جو بالٹی میں گرتے ہی ٹوٹ گئے۔

گدلا پانی

منشا یاد: ممکن ہے آپ کو معلوم ہو کہ محبّت لمس کے بغیر تو قائم رہ سکتی ہے، لفظوں کے بغیر نہیں۔

باپ دادا

رفاقت حیات: پاؤں کےجس چکر نے دادا کی زندگی کو ہمیشہ ایک گردش کا اسیر بنائے رکھا، اب وہی چکر ابو کے پیروں میں آ پڑا تھا۔