Laaltain

سزائے تماشائے شہرِ طلسم

رفاقت حیات: کچھ دیر کے لیے، نجانے کتنی دیر کے لیے اس کے حواس کا تعلق اپنے گردوپیش کی آزاروں بھری دنیا سے کٹ گیااور اس کا وجود کچھ وقت کے لیے ہی سہی اسے پہنچنے والی اذیت اور ہزیمت فراموش کرنے میں کامیاب ہوا، جس کی وجہ سے اس کا آئندہ کا عالم ِخیال و احساس پوری طرح تہہ و بالا ہونے والا تھا۔

نوح، فاختہ اورکبوتر باز

ممتاز حسین: خدانے بادلوں کو دھکیل کر آسمان اور زمین کے درمیان کے راستے کو صاف کر دیااور خدا کی آواز سورج کی کرنوں کے ساتھ مسافت طے کرتی ہوئی حضرت نوح علیہ السلام کے کانوں سے جا ٹکرائی۔ وہ آواز حکم نہیں تھا۔ بلکہ مشورہ تھا۔

فیصلہ

اسد رضا: میں اُس کے سوال پر مسکرایا اور سامنے سے اُٹھتی ایک لہر کی طرف دیکھا جو آہستہ آہستہ شوذب کے قدموں تک پہنچ چُکی تھی۔ اُس کا چہرہ بتا رہا تھا کہ وہ بات کچھ کچھ سمجھ چکا ہے۔

منجمد آگ

ممتاز حسین: آفاق نے آہستہ آہستہ ایک ایک کر کے بیکی کے کپڑ ے اتارے اور پھر اپنا کالا سوٹ اتارا سرد خانے کی دیوار پر لگی کھونٹی پر ٹانگ دیااور بیکی سے کہا ہماری شادی مکمل نہیں جب تک دونوں جسم ایک دوسرے میں سما نہ جائیں۔

کس جرم کی پائی ہے سزا

محمد جمیل اختر: پچھلے سات سال سے، میں کوئی پچیس مختلف کہانیاں سن چکا ہوں۔ کبھی موبائل چرا کر آرہا ہے تو کبھی کسی کی گاڑی چوری کا الزام اس پر لگ گیا ہے

پچھلی گلی کا دروازہ

سدرہ سحر عمران: وہ دفتر سے گھر آیا تو گھر کے باہر لوگوں کو جم غفیر دیکھ کر اسے کسی انہونی کا احساس ہوا۔

ریفری‎

جنید الدین: وہ شیشوں کی نفسیات اور شکل کے معاملے میں اکثر پریشان رہا کہ اس کا چہرہ کیسا ہے کیا وہ اتنا ہی پیارہ ہے جتنا اس شیشہ میں نظر آتا تھا یا اتنا ہی بھدا جتنا کہ ساتھ والے شیشہ میں۔

بندے علی

حسنین جمال: سوگ کے مہینے میں وہ اپنے معمول کے مطابق نکل پڑے، مجلس، جلوس، تعزیئے، سبیلیں، بندے علی نے پورے جی جان سے ساری عزاداری کی، دسویں کو رات جب گھر آئے تو طبیعت بہت خراب تھی، ماتم سے خون کی کمی اور کمزوری کافی تھی۔

فن کدہ

تینوں نے ایک ساتھ فیصلہ کیا اورقدم آگے بڑھا دیئے، مگرکوششوں کے باوجود، راہ داری میں کھڑے معززین شہر کی بڑی تعداد نے، بوڑھے شاعر، منحنی طبلہ نواز اوربیمار مصورکو آگے بڑھنے کا راستہ ہی نہی دیا۔

کتھا کالے رنگ کی

ایک دوسرا انکشاف جو اُس پر ہوا ہو یہ تھا کہ لڑائی کے دوران ہی مخلف گروپوں کے تما شائیوں کے ایک گروہ سے ایک لڑکا اور دوسرے گروہ سے ایک لڑکی اس جنگلے سے اوپر اُٹھ کر ایک دوسرے کا بوسہ لیتے اور پھر واپس نیچے جُھک کر نعرے لگانے لگتے

بختک /کابوس

وہ مجھے گرا کر مجھ پر چڑھ بیٹھا تھا۔ دونوں ہاتھوں سے میرا دم گھونٹ رہا تھا۔ میں چیخ نہیں پاتا تھا، مجھے جھٹکے لگنے شروع ہو گئے۔ وہ تعمیر گھوم رہی تھی۔ یہ حرکت نفی کی حرکت تھی۔ سب رنگ آپس میں مل کر تین بچ گئے۔

ایک بوتل سیون اپ

بوتل دیکھتے ہی نصیر کی آنکھیں چمک اٹھیں، ایسے جیسے قارون کا خزانہ ہاتھ آگیا ہو۔

” بزرگ گھڑیال ”

ابو محمد الوجودی میں ہر اتوار کی شام عجائب گھر کے باغیچے میں گزارتا ہوں۔ پہلے پہل جب میں اس شہر آیا تھا تو میں عجائب گھر کے اندر جا یا کرتا تھا اور نوادرات دیکھا کرتا تھا پر اب میں باغیچے میں ہی ایک بنچ پر کہ جس کے ساتھ بلب کا کھمبا لگا […]