پہلے میرا باپ (محمد عباس)

محمد عباس: اس عورت نے امام صاحب کا کہا مانا اور کسی سے کبھی اس واقعے کا ذکر نہیں کیا۔ کچھ ہی دنوں بعد وہ کالے خان کو اس کے حال پر چھوڑ کر اپنے مائیکے گاؤں واپس چلی گئی جب کہ کالے خان حجرے سے بے دخل ہو کر گاؤں کی گلیوں پر آن پڑا۔
واپسی

محمد عباس: میں اوپر گیا تو اس نے گائوں کی طرف سے آنے والی ایک پگڈنڈی کی طرف اشارہ کیا۔ دور باجرے کے دو کھیتوں کے درمیان کی اونچی منڈیر پر ایک بچی کھڑی ہماری طرف اشارہ کر رہی تھی۔
نانا نواسا اور کہانی

نصیر احمد ناصر: میں اپنے بچپن کے یاد رہ جانے والے تمام واقعات فوزان کو سنا چکا ہوں مگر وہ تو ہر شب میرے بچپن کی کوئی نہ کوئی کہانی سننا چاہتا ہے۔
رُکی ہوئی زندگی

محمد حمید شاہد: اِس عادت نے شائستہ کے بَدن میں کسمساہٹ – بے قراری اور اِضطراب کی موجیں رَکھ دِی تھیں۔ وہ سارے گھر میں اِدھر اُدھر بکھرے تعطل کو باہر دھکیلتی رہتی
جنم جلی

اسد رضا: وقت کے ساتھ ساتھ اس نے کامیاب بھیک مانگنے کا طریقہ سیکھ لیا تھا۔ وہ مسلسل مانگتی رہتی یہاں تک کے سامنے والا شخص مجبور ہو کر کچھ نہ کچھ اس کے ہاتھ پر رکھ دیتا۔
وَاپسی

محمد حمید شاہد: اور اُس نے وہ خط جو کئی دِن سے اُس کے ٹیبل پر بند پڑا تھا ‘اِن دو دِنوں میں کئی بار پڑھ ڈالا تھا۔ اور جب وہ اَڑھائی بجے والی بس سے ایک طویل عرصے بعد اپنے گاﺅں ویک اینڈ گزارنے جا رہا تھا تو سب تعجب کا اِظہار کررہے تھے۔
ولدیت کا خانہ

ناصر عباس نیر: اس نے باپ کی شکل ذہن میں لانے کی کوشش کی،مگر اس کے ذہن میں باپ کا مراہوا چہرہ ابھرا۔
خونی لام ہوا قتلام بچوں کا

محمد حمید شاہد: زندہ رہ جانے والوں کو اپنی موت تک زندہ رہنے کے جتن کرنا ہوتے ہیں،اسی حیلے کو بروئے کار لا کر وہ اپنے دلوں سے گہرے دُکھ کا وہ بوجھ ایک طرف لڑھکانے میں کامیاب ہو ہی گئے تھے
پارینہ لمحے کا نزول

مرنے کے بعد مسلمان ہوا جا سکتا ہے؟

پھر وہی کہانی

بھگوڑا

قاری ظفر

لکن میٹی

وہ آنکھیں

