Laaltain

پھول تمہارے ساتھ ہیں

اسرمد بٹ: تم بھڑوں کے چھتے میں
ایک شہد کی مکھی ہو
تمہیں وحی کو پرفارم کرنا ہے
وحی جو تم پر کی گئی ہے

اندھوں کی نگری

ستیہ پال آنند: یہاں کون ہے جس کے دل کی بصارت ہمہ دیدنی ہو
یہ اندھوں کی نگری ہے، میرے عزیزو
کہ صحرا کے باسی
یہاں رہنے والے سبھی بے بصر ہیں!

ڈنر سے پہلے

یسریٰ وصال: برقی چاند کی لو میں
آمنے سامنے بیٹھے
ایک دوسرے کو پی رہے ہیں

مٹھی بھر جہنم

سدرہ سحر عمران: تم نے مذہب کو گولی سمجھا
اور
ہمارے جنازوں پہ دو حرف بھیج کر
اسلحہ کی دکانیں کھول لی

میری تاریخ کا لنڈا بازار

سرمد صہبائی:
اس تاریخ کے میلوں پھیلے بازاروں میں
میرے ناپ کا کوئی کوٹ نہیں ہے
شاید میرے قد کا کوئی سورما نہیں ہے

کاری

ناصرہ زبیری: اندھے، بہرے، مردہ، بے چہروں کی اس بستی کے بیچ
زندہ ہے پھر بھی دیکھو
میری صاف بصارت بھی
میری تیز سماعت بھی

ایک باپ کے آنسو

عذرا عباس: ایک باپ کے آنسو
ہم ٹشو پیپر میں رکھ چھوڑیں گے
اور اسے کبھی سوکھنے نہیں دیں گے

Mob the Omnipotent

سرمد بٹ: آدم باغ سے نکل کر ہجوم بن گیا تھا
ہجوم آدمی ہے
ہجوم کچھ بھی کر سکتا ہے

کہیں افسوس کی شمعیں ۔۔۔۔۔۔

حسین عابد: رات بیدار رہی
زیرِ گردابِ زمانہ کہیں دن سویا رہا
نیند میں چلتے ہوئے بھول گئے پاوٗں کہیں
کہیں سر میز پہ بکھری ہوئی

تم مجھے پڑھ سکتے ہو

سید کاشف رضا: تم
مجھے پڑھ سکتے ہو
جو لکیریں میں کاغذ پر نہیں کھینچ سکتا
میرے جسم پر ابھر آتی ہیں

گن رہی ہوکیا

تنویر انجم: اپنی پیشروؤں کی طرح
تم بھی گن رہی ہو
اپنی یا اوروں کی قمیضوں کے بٹن
چھت میں لگی کڑیاں
دیواروں کے دھبے
یا کھڑکی کی سلاخیں

پکچر پزل

ناصرہ زبیری: یہ اپنے ٹکڑوں کو جب سمیٹے
اور ان کو پھر جوڑنے کا سوچے
تو پچھلی ترتیب بن نہ پائے
یہ اپنی پہچان بھول جائے

یورینیم کے خواب

رضی حیدر: بدھا کے لاشے پے بین کرتا، درخت پیپل کا سڑ گیا تھا
وہیں پہ اندو ندی کا اژدر زمیں کی گردن پہ چڑھ گیا تھا