Categories
فکشن

بھولا گُجر شہید

میرا نام ملک شوکت علی رحمانی ہے اور صحافت میرا مشغلہ ہے، پیشہ نہیں۔ میری تعلیم ایف۔اے ہے جو میں نے اپنے آبائی شہر ننکانہ صاحب کے بابا گُرو نانک ڈگری کالج سے حاصل کی۔ اللہ کے فضل سے فیصل آباد میں اپنا بیوپار چل نکلا ہے لہٰذا صحافت سے کمائی کا کبھی ارادہ نہیں کیا۔ اس لئے کسی کو راضی کرنے یا ناراض کر بیٹھنے کے خیال سے آزاد ہو کر لکھتا ہوں البتہ زیرِ نظر تحریر مجھے الحاج چودھری ظہور حسین گجر صاحب کے حکم پر لکھنی پڑ رہی ہے جو کہ اُن کے خیال میں میرا اخلاقی فریضہ ہے۔ اخلاقی فریضہ صرف بھولے گُجر سے ہمسائیگی کا حق نہیں بلکہ چودھری ظہور حسین گجر صاحب کی اُن مہربانیوں کا شکریہ ادا کرنا بھی ہے جن کی بدولت میرے دادا منا کمہار سے ملک منظور حسین رحمانی بنے- خیر وہ تو لمبی کہانی ہے، آمدم بر سرِ مطلب- بھولے گجر کی شہادت کے بعد کچھ دن تک الحاج صاحب مسلسل اصرار کرتے تھے کہ اُس کے بارے میں کچھ لکھوں، آخر ہمارے محلے کا سپوت ہے، مجھے ضرور کچھ نہ کچھ لکھنا چاہیئے اُس کی زندگی اور موت کے بارے میں؛ وہ موت جسے سرکاری طور پر شہادت کا رُتبہ ملا ہے۔

 

یہ فیصل آباد مزدوروں کا شہر ہے، دہقانوں کا ضلع ہے۔ سو یہاں ہر دور میں ارباب ِ تخت و تاج نے قانون کی گرفت مضبوط رکھنے کی کوشش کی ہے تاکہ صرف امن و مان ہی قائم نہ ہو بلکہ صنعت کار اور سیاستدان طبقے کے جملہ مفادات بھی محفوظ رہیں۔ مجھے پنجابی ذہن کے ارتقاء اور تاریخ میں وقت ضائع کیے بغیر یہ بات اپنے پڑھے لکھے قاری پر چھوڑ دینی چاہیئے کہ فیصل آباد میں قانون کی گرفت کا دوسرا مطلب “پولیس گردی” کس طرح پڑ گیا۔ میرا عزیز بھولا گجر اسی ماحول کی پیداوار ایک پولیس انسپکٹر تھا۔ بھولے کا اصل نام عدنان گجر تھا اور وہ چودھری ظہور حسین کی دوسری اولاد تھا۔ چودھری صاحب کی فیصل آباد میں لکڑی کی آڑھت تھی (جس پہ اُنہوں نے میرے دادا کو منشی مقرر کیا تھا) اور کم عمری میں ہی کافی با حیثیت آدمی بن گئے تھے۔ اُن کی پہلی شادی تو اپنے خاندان میں ہی ہوئی لیکن اولاد نہ تھی۔ دوسری شادی ایک رانا خاندان میں کی جو کہ کاروباری اور سیاسی، دونوں حوالوں سے بہت با اثر خاندان تھا۔ اس شادی سے ان کے دو بچے ہوئے، ایک بیٹی (فرحانہ) اور ایک بیٹا (عدنان) جو کہ بیٹی سے دو سال چھوٹا تھا۔ چودھری صاحب نے تابہ مقدور ان بچوں کو بہترین تعلیم دی۔ فرحانہ تو ایم۔اے تک پڑھی اور پنجاب یونیورسٹی تک پہنچی لیکن عدنان کو شروع ہی سے کھیلوں میں دلچسپی تھی، اپنے سن سے بڑے قد کاٹھ کا لڑکا اور ہاکی کا بڑا دھانسُو کھلاڑی تھا۔ یہی وجہ تھی کہ انٹرنس کے بعد اگے نہ پڑھ سکا۔ انہی دنوں چودھری صاحب کے سُسر کے بھائی رانا حامد علی ایم پی اے منتخب ہو گئے اور پھر صوبائی وزارتِ داخلہ کا قلمدان بھی مل گیا تو عدنان کی، جو اب بھولا کے عُرفی نام سے جانا جاتا تھا، نوکری کا مسئلہ بھی خوش اسلوبی سے حل ہو گیا۔ قد کاٹھ کا اپنی عمر کے لڑکوں سے کافی نکلتا ہوا تو تھا ہی، ایف اے کی تعلیم بھی تھی، پولیس میں اے ایس آئی بھرتی کروا دیا گیا۔ فرحانہ نے گریجوایشن کے بعد ایم۔اے فلسفہ کی ڈگری لی تو اس وقت تک بھولا گجر محکمہ پولیس میں ایک باجبروت، نڈر اور سخت کوش “چھوٹے تھانیدار” کے طور پہ نام کما چکا تھا۔ بھولا جس چوکی کا انچارج ہوتا، وہاں چھوٹے موٹے جرائم پیشہ افراد کی تو شامت رہتی ہی تھی، شرفاء بھی شام ڈھلنے کے بعد ناکے پر سے گزرتے ہوئے گھبراتے تھے۔ وجہ صاف ظاہر تھی کہ بھولا بلا کا بددماغ ہی نہیں، بدزبان اور ہتھ چھٹ تھانیدار بھی تھا (پھر وزیرِ داخلہ کا قریبی عزیز ہو تو کیا ہی کہنے)۔ اپنے طبیہ کالج کے پرانے اُستاد اور شاعر، ڈاکٹر محبوب مسیح کی مثال تمام اہلِ محلہ کو یاد تھی۔

 

ایک ناکے پہ ڈاکٹر صاحب کی موٹر سائیکل روکتے ہی بھولے نے اپنے اہلِ محکمہ کے روائتی انداز میں موٹر سائیکل کی چابی اُچک لی تو عمر رسیدہ ہومیو فزیشن کو بہت بُرا لگا کہ اُن کی بیٹی بھی اُن کے ہمراہ تھی۔ انہوں نے بھولے کو ڈانٹنے کے انداز میں کہہ دیا “نوجوان، اگر میرے سفید بالوں کا حیا نہیں کرنا تو اپنے نام نہاد قانون کا خیال ہی رکھ لو ! یہ جو حرکت تُم نے کی ہے، یہ بھی تو ٹریس پاسنگ کے زمرے میں آسکتی ہے!!” پولیس والوں کو قانون بتانا اور وہ ٹارٹ جیسا قانون جو کہ مہذب ملکوں کے چونچلوں کا محافظ ہے، ایک صریح غلطی تھی جو ڈاکٹر صاحب نے کر دی تھی۔ بھولے نے ڈاکٹر صاحب کو گریبان سے پکڑ کر موٹر سائیکل سے اُتارا، ایک گھونسا اور دھکا ملا جُلا ڈاکٹر صاحب کے رسید کیا اور انہیں چلتا کیا۔ موٹر سائیکل، جس کے کاغذات اس وقت ڈاکٹر موصوف کے پاس نہ تھے، لاوارث پراپرٹی کی دفعہ کے تحت تھانے میں جمع کروا دی۔ ڈاکٹر صاحب اس کے والد کے پاس پہنچے، سفارش کیلئے، تو چودھری صاحب نے ہامی بھر لی لیکن بھولے نے ان کی ایک نہ مانی۔ ڈاکٹر صاحب نے تھانے سے موٹر سائیکل واپس لینے کیلئے محرر کو رشوت کی رقم ادا کی (جو کہ محرر نے قسم کھا کے کہی تھی کہ ایس پی صاحب کے ریڈر کو جمع کروانی تھی، خود اس پہ اس کا ایک روپیہ بھی حرام تھا) اور اپنی موٹر سائیکل گھسیٹ کے تھانے سے نکل رہے تھے تو میں نے خود انکی آنکھوں میں آنسو دیکھے- میں اُن کے ساتھ تھا۔ بھولا اس وقت اپنی غیر قانونی (مدت پہلے ڈکیتوں سے چھینی گئی) ہنڈا ایک سو پچیس موٹر سائیکل پر سوار تھانے میں جا رہا تھا اور ڈاکٹر صاحب کو دیکھ کر فاتحانہ انداز میں مسکرا دیا۔ یہ معمول کا ایک واقعہ تھا جو ایک ڈاکٹر محبوب مسیح کے ساتھ ہی کیا، فیصل آباد میں سیکڑوں لوگوں کے ساتھ، روز ہوا کرتا ہے لیکن ڈاکٹر صاحب حساس طبیعت کے آدمی تھے، ادیب شاعر قسم کے، اُنہوں نے محتسب، ڈی پی او، آئی جی اور وزیرِ اعلیٰ کے شکایات سیل میں بھولے کی بدتمیزی کے خلاف درخواستیں دیں لیکن ایک سال گزر گیا، کوئی نتیجہ نہ نکلا، سوائے اس کے، کہ ڈاکٹر صاحب بھولے کی ‘نظرِ کرم’ کا مستقل مرکز بن گئے۔ ایس پی صاحب کا تو ایک ہی جواب ڈاکٹر صاحب کیلئے کافی تھا : “سر اگر فقط بدتمیزی کے الزام پہ میں تھانے دار معطل کرنا شروع کردوں تو میرا سارا محکمہ گھر بیٹھا ہو گا، آپ صبروتحمل سے کام لیں، خداوند اجر دے گا”۔ اس کے بعد دو دفعہ ڈاکٹر صاحب کا لڑکا غیر قانونی شراب فروخت کرنے کے ‘صلے’ میں حوالات کی ہوا کھا آیا اور ایک بار مکان پر ریڈ میں اُن کی بیٹی بھی بھولے سے جی بھر کے گالیاں کھا چکی تو ڈاکٹر صاحب اپنے چک جھمرے والے آبائی گھر منتقل ہو گئے۔ ایک عیسائی کے گھر پر ریڈ کا آسان ترین بہانہ ‘شراب’ ہے اور یہ رمز سب تھانیدار جانتے ہیں۔تاہم اس کے بعد بھولے کو کسی ایسے معمولی معاملے میں وقت ضائع کرکے اہلِ محلہ پر دھاک بٹھانے کی ضرورت نہ پڑی۔

 

میرا اور اُس کا بچپن کا دوست رانا چاند اسلحے اور منشیات کا معمولی سا اسمگلر تھا اور اب دو ایک اقدامِ قتل کی وارداتوں میں اشتہاری ہو کر نسبتاً بڑے نام والا مجرم بن گیا ہوا تھا۔ رانا چاند مجھ پہ بہت بھروسہ کرتا تھا لیکن میں نے کئی دفعہ اُسے سمجھایا کہ بھولے پر بہت ذیادہ بھروسہ نہ کرے مگر اُس کو مان تھا کہ وہ بھولے کا دوست ہی نہیں اُس کے ننہالیوں کا دور کا رشتے دار بھی تھا۔

 

میں اُس شام بھولے کی بیٹھک پہ رانا چاند سے مختصر سی ملاقات کے بعد تراویح کی نماز پڑھنے کے لئے آ گیا کہ پہلا روزہ تھا اور اسکی تراویح نماز تو پڑھنی چاہیئے تھی ناں۔ دوسرے چاند اور بھولے نے میخواری کی محفل جما لی تھی اور مجھے یہ عادت کم از کم ماہِ صیام کے دورانیئے کی حد تک نہ تھی، سو میں نے اُن سے اجازت لی اور مسجد کی طرف نکل آیا۔ میں تراویح کی نماز ادا کر کے گھر پہنچا تو گلی میں پولیس کی گاڑیوں کی قطاریں، عوام کا ہجوم اور شوروغوغا کا عالم دیکھ کے میں نے راہگیروں سے پوچھا کہ بھائی خیر تو ہے؟ پتہ چلا کہ گلی میں فائرنگ ہوئی ہے۔ پھر پتہ چلا کہ بھولے گجر نے رانا چاند کو قتل کردیا ہے۔ میرے اندر کے صحافی نے کروٹ لی اور میں بھی پولیس کے ناکوں پہ بحث کرتا، منت گزارش کرتا جائے وقوعہ پر پہنچا- میں نے دانستہ صحافی والا کارڈ استعمال نہ کیا۔ پتہ چلا کہ گلی میں کسی بات پہ تکرار اور جھگڑا ہوا تھا۔ بیٹھک میں بھولے کے چند دوست سادہ کپڑوں میں ملبوس بھی بیٹھے تھے جن سے میرا تعارف نہیں کروایا گیا تھا، اب پتہ چلا کہ اُن میں ایک صاحب اُس کے آئی ایس ایچ او بھی تھے۔ دو چار دن عجیب اُدھیڑ بُن میں گزرے، میں بھی منظرِ عام سے ہٹ سا گیا۔ مجھے اس دوران بھولے نے کسی انجان فون نمبر سے فون کر کے کہا کہ میں اس معاملے میں مکمل بے خبری کا اظہار کروں۔ رانا چاند کے اقارب میں سے کسی نے مجھ سے رابطہ نہ کیا کہ کسی کو میرے جائے وقوعہ پر جانے کا پتہ بھی نہ تھا۔ میرے خاموش رہنے کی وجہ فقط تفتیش میں شامل ہونے کا خوف تھا نہ کہ بھولے سے کسی طرح کی ہمدردی۔صوبائی وزیرِ داخلہ رانا حامد علی خاں نے معاملے کا “نوٹس لیا” تو اخباروں اور مقامی ٹیلی ویژن پہ خبر جاری ہوئی کہ : “خطرناک اشتہاری رانا چاند مقابلے میں مارا گیا”۔ تفصیلات کے مطابق خطرناک مجرم نے سادہ کپڑوں میں ملبوس ڈیوٹی پر مامور اہل کاروں کو گلی میں دیکھتے ہی فائرنگ شروع کی اور جوابی فائرنگ میں مارا گیا وغیرہ۔ دراصل بھولے نے پولیس کو رانا چاند کی یہاں موجودگی کا پہلے بتا رکھا تھا اور وہ چاند کو کسی پولیس مقابلے کے بغیر پکڑوانا چاہتا تھا لیکن پولیس کی گاڑی کے وہاں پہنچنے سے پہلے ہی چاند کو بھی اطلاع مل گئی تھی۔ وہ فون کال سُننے کے بہانے اُٹھ کے گلی میں آیا تو بھولے سے یہ غلطی ہوئی کہ وہ بھی اُٹھ کر باہر نکل آیا جس سے چاند کے شک کو تقویت ملی۔ یہاں دونوں کی تکرار نے گالم گلوچ کا رُوپ دھارا تو تھانے دار صاحب باہر نکل آئے، چاند نے طیش میں آکر تھانے دار پر پستول تان لیا لیکن بھولے نے اسے پستول لوڈ کرنے کی مہلت نہ دی۔

 

بھولا نہ صرف ہفتے بھر میں ملازمت پر بحال ہو گیا بلکہ اگلی “گیلنٹری پروموشن” میں بھولا سب انسپکٹر بن گیا۔ پولیس کے افسران اور تھانے داروں کے درمیان ایک دوسرے سے عدم وفاداری کا عفریت اتنا خوفناک ہے کہ اس کے خوف سے، وہ ایک دوسرے کے جرائم پر پردہ ڈالنے پر مجبور ہوتے ہیں اور اسی باریک ڈور سے پولیس کا مضبوط نطام بندھا ہے۔

 

کچھ عرصے بعد بھولا جب ہمارے تھانے کا آئی ایس ایچ او بنا تو لا محالہ طور پر علاقے میں چھوٹے جرائم کی شرح بھی بہت کم ہو گئی اور بڑے جرائم جو ہوئے وہ اسی لئے قابلِ ذکر ہیں کہ وہ پولیس کی نظر میں جرائم نہیں تھے اور ان میں بھولے کا کردار بھی پہلے سے ذیادہ ‘آب و تاب’ سے نمایاں ہے۔ میرے وطن پنجاب کی پولیس میں اگر کوئی تھانے دار اس امر کا دعویٰ کرے کہ وہ رشوت نہیں لیتا تو اُس کی صداقت یا ذہنی توازن، دونوں میں سے ایک یقینی طور پر مشکوک ہے لیکن اس حوالے سے بھولے کی ایک عادت اُس کو انسانوں کی اس پولیس میں فرشتہ بنا دیتی ہے کہ وہ ‘کرپشن کی اخلاقیات’ کا قائل تھا۔ جہاں صوبے بھر میں تھانے داروں کی عادت ہے کہ مقدمات میں دونوں پارٹیوں، یا فریقین سے رشوت لے کر بالآخر تفتیش کا اختتام “میرٹ” پر کرتے ہیں، وہاں بھولا ایسا نہیں کرتا تھا۔ بھولے نے جس کسی سے رشوت کی مد میں ایک وقت کا کھانا بھی کھایا، اُس کے ایک ایک لقمے سے وفادار رہا۔ یہی وجہ ہے کہ بھولے نے جب بھی رشوت لی، سوچ سمجھ کر لی اور بڑا ہی ہاتھ مارا۔

 

بھولا اگرچہ خود بلا کا میخوار تھا لیکن شراب نوشی کے الزام میں پکڑے جانے والوں کو چوراہے پہ لٹا کے ان کی چھترول کرتا تھا، اگرچہ اُس کی اپنی کمر سے ہمیشہ بغیر لائسنس کا پیٹرو بریٹا پستول لٹکا رہتا تھا لیکن اپنے تھانے کی حدود میں نا جائز اسلحے کی مخبری پر تلاشی کی آخری حدوں تک چلا جاتا تھا جس کی مثال مَیں آگے چل کر بیان کروں گا۔ اگرچہ بھولا خود سیکیورٹی چیکنگ کے نام پر مقامی ہاسٹلوں پہ جب ریڈ کرتا تھا تو رات گئے اور نصف شب تک طالب علموں کو گلی میں صف بستہ کھڑا کئے رکھتا اور ذرا ذرا سی لغزشوں پہ تھپڑوں سے اُن کی یادگار تواضع کرتا لیکن اگر اسی تھانے کی حدود میں کسی پرائیویٹ یا سرکاری ٹیچر کے خلاف طالب علم کو تھپڑ مارنے کی شکائیت موصول ہوتی تو وہ جس ‘اہتمام’ سے اسے گرفتار کرکے تھانے تک لاتا، وہ ٹیچر دوبارہ کسی بچے پہ ہاتھ اُٹھانا تو درکنار، دوبارہ اپنے طلباء سے آنکھ ملا کر بات کرنے کے قابل نہ رہتا۔

 

شام کے وقت علاقے میں کرفیو کا سماں رہنے لگا۔ ہمارے محلے کے دوچوراہوں کے تھڑوں پر سرِ شام جمنے والی نوعمر طلباء کی بیٹھک بھی سیکیورٹی کے نام پر حکماً برخاست کردی گئی اور رات گئے تک چہل قدمی کے سارے شوقین ‘آوارہ گردی’ کی دفعہ میں ایک ایک بار حوالات میں رات گزارنے کے بعد خانہ نشیں ہوگئے۔ الغرض بھولے کے ہوتے ہوئےپولیس کے افسرانِ بالا کو اس امر کا اطمینان تھا کہ خوف کا عنصر، جو قانون نافذ کرنے کے لئے بہت ضروری ہے، اُن کے ہاتھ میں تھا۔ بھولے کو افسروں کی اس خوشنودی کے عوض عوام کی نفرت کا نشانہ ہونے کی چنداں پروا نہ تھی کہ یہ کامیابی کی قیمت ہے جو ہر تھانے دار کو ادا کرنی پڑتی ہے۔

 

جن دو واقعات کا ذکر میں کررہا تھا ان میں پہلے واقعے کا تو میں بڑی حد تک عینی شاہد ہوں (اور کسی حد تک دوسرے کا بھی)۔ بگا وٹُو تاندلیانوالہ کا ایک نامی گرامی ڈکیت تھا جس نے تھانہ باہلک کے عین سامنے ضلعے کے نامی گرامی انکاؤنٹر اسپیشلسٹ تھانیدار رانا اظہارالحق کی کھوپڑی میں گولی اُتاری تھی، اور چند روز بعد ایلیٹ کے کمانڈوز کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچا۔ ایلیٹ کے جوانوں نے مقابلے کے دوران اس کی کھوپڑی کو بڑی مہارت سے نشانے پر رکھا، ایک ہی گولی سے اس کا کام تمام ہو گیا اور قانون کی بالادستی کی ایک با رعب مثال قائم ہو گئی۔ یہ رُعب بگے وٹُو کے پسماندگان پر بھی لامحالہ طور پر طاری ہوا، اُس کی بیوہ اپنے کم سن بیٹے کو لے کر فیصل آباد شہر آکررہنے لگی جہاں اسے اسکول داخل کروا کر تعلیم کے زیور سے آراستہ کروانے لگی تاکہ کم سن خالد اپنے باپ کی بدنامی کے اثرات سے دور ہو کر معاشرے کا ایک شریف فرد بنے۔ میری والدہ اکثر اس کی مالی امداد کیا کرتی تھیں جس وجہ سے وہ اکثر ہمارے گھر آئی رہتی تھی۔ اس کے سلائی کڑھائی کے کام کا یہاں چرچا تھا۔ خالد دسویں جماعت کا طالب علم تھا اور مسلم ہائی اسکول میں پڑھتا تھا۔ بہت شرمیلا اور ڈرپوک لڑکا تھا – اب اس کے برعکس ہے۔ یہ تبدیلی خالد میں اس طرح آئی کہ ایک دفعہ بھولے گجر کو “مخبری” ہوئی کہ “بدنام اشتہاری بگے وٹُو کا بیٹا خالد عُرف خالدی وٹو مجرمانہ قماش کا نوجوان ہے اور اس کے پاس غیر قانونی ٹی ٹی پسٹل ہمراہ دیگر خنجر وغیرہ کے موجود ہے” مخبری کے درست اور سنجیدہ ہونے کے لئے بگے وٹُو کے نام کا عنوان ہی کافی تھا۔ فرض شناس بھولے نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، اسی رات خالد کے گھر پر ‘ریڈ’ کردیا۔ سپاہیوں نے اینٹی ٹیررسٹ ٹریننگ کے پیشہ ورانہ اصولوں کے مطابق دروازے کے بجائے ذیلی راستوں اور دیواروں سے ‘انٹری’ کی اور آن کی آن میں “مشکوک افراد” پر قابو پا لیا۔ ان “مشکوک افراد” میں بگے کی بیوہ، خالد اور خالد کی شادی شدہ بہن جو کہ اُمید سے تھی اور آج ماں سے ملنے فیصل آباد آئی تھی۔ انہیں جب دبوچ کر پولیس کی گاڑی میں ڈالا گیا تو میں اُس وقت وہاں پہنچ چکا تھا کہ میرا گھر وہاں سے چند گز کے فاصلے پر بھی تو نہ ہوگا۔

 

“پستول تو تیرے بھائی کی — سے نکلا یا تیرے اس گیابھ سے، نکال کے ہی دکھاؤں گا!!”

 

خالد کی بہن نے پولیس کی گاڑی میں دھکیلے جاتے ہوئے بھولے سے چلا کر کچھ کہا تھا جس کا جواب بھولے نے اُس کی قمیص اُٹھاتے ہوئے دیا۔ لڑکی کے چلانے میں صرف گالی ہی سمجھ میں آسکی۔ وہ بھولے اور دیگر پولیس والوں کی ماں بہن کے حق میں جو قصیدے پڑھ رہی تھی، وہ پنجابی گالیوں کا “ادبِ معلیٰ” تھے اور وہ اس میں حق بجانب بھی تو تھی۔ خالد کی ماں اور بہن تو ایک رات ہی حوالات میں گزار کے واپس آگئیں البتہ خالد نے حوالات سے جیل تک کا سفر مکمل کیا۔ خالد جیسے “مجرم ذادے” لیکن لاوارث لڑکے سے پستول برآمد کروانا کون سا مشکل کام تھا کہ بہت وقت لیتا۔ گھر سے پستول برآمد نہ بھی ہوا تو کیا فکر، تھانے داروں کے پاس ہمہ وقت کچھ بے لائسنس اسلحہ ایسے وقت پر اپنی تھانے داری کی عزت رکھنے کیلئے رکھا ہوتا ہے۔ روزنامہ “امن و انصاف” کے ایڈیٹر نے ایک دفعہ خالد کی ماں اور بہن سے چادر اور چاردیواری کے تقدس کی پامالی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کا انٹرویو شائع کرنے کا وعدہ بھی کیا۔ چند روز بعد ایڈیٹر صاحب نے مجھے فون کیا اور صحافتی زبان کے رمز و کنایہ میں بھولے کیلئے پیغام دیا کہ اگر وہ ایڈیٹر صاحب کی مُٹھی گرم کردے تو یہ خبر لاہور سے چھپنے سے روکی جا سکتی ہے۔ میں نے یہ دلالی کرنے سے معذرت کرلی لیکن کچھ دنوں بعد خود بھولے کی زبان سے یہ سُنا کہ ایڈیٹر موصوف سے “بات چیت” ہو گئی تھی۔ ہم دونوں کی دوستی میں جو دراڑ رانا چاند کے قتل کے بعد پڑی تھی وہ اب خلیج بن گئی۔ میں نے فرحانہ کیلئے اپنے دل میں موجود عزت و احترام اور پسندیدگی کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے فقط بھولے سے ہی دوستی ختم کی، چودھری صاحب اور چودھرانی چچی سے نیازمندی کا تعلق قائم رہا۔ بھولے کی منگنی کی تقریب میں بھی میں اماں جان کے ہمراہ بصد اہتمام گیا۔

 

فرحانہ بلاشبہ ایک مثالی کردار کی لڑکی تھی؛ دلیر اور اعلیٰ ظرف ہی نہیں، تعلیم میں بھی بہت قابل تھی لیکن ایم فِل کے دوران ہی یونیورسٹی سے نکال لی گئی (یا نکال دی گئی )۔ پنجاب یونیورسٹی میں “یومِ حیاء” کے موقعے پر ایک مذہبی تنظیم کے ناظم صاحب نےجو خود بھی طالبِ علم تھے، فرحانہ کو ایک ہم جماعت لڑکے کے ساتھ دیکھ کر اُسے کچھ سخت الفاظ کہہ دیئے جس میں اس پر بے حیائی اور فحاشی کے الزام تھے، فرحانہ نے بگولے کی طرح بھڑک کر ناظم صاحب کے گریبان کو جالیا اور یکے بعد دیگرے دو تین تھپڑ بھی جڑ دیئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ فرحانہ کو ڈیپارٹمنٹ انتظامیہ کے “مشورے” پر والدین نے یونیورسٹی سے نکال کر گھر بٹھا لیا۔ چودھری صاحب کو جب پتہ چلا کہ بیٹی کو عورتوں کے حقوق والی کسی این جی او نے ‘بگاڑا’ تھا، توبیٹی کو باغی قرار دے کر اُس کے گھر سے نکلنے پر بھی پابندی لگا دی۔ بھولا اس واقعے پر بڑا آگ بگولا ہوا کہ بہن نے ناک کٹوا دی برادری میں لیکن سوائے اس کے، کہ اُس سے بول چال کم کردی، بہن سے کچھ نہ کہا۔ پہلے ہم دونوں فرحانہ کو ‘آپی’ کہہ کر پکارتے تھے، اب بھولا اسے اُس کے عرفی نام سے، “فَری” کہہ کر پکارنے لگا کہ اس کے خیال میں اب فرحانہ اُس محترم لقب کے قابل نہ تھی۔ کافی عرصے بعد جب پابندیاں نرم ہوئیں تو فرحانہ کو گھر کے ساتھ ہی ایک خالی مکان میں اپنا ایک بیوٹی پارلر کھولنے کی اجازت مل گئی۔ بیوٹی پارلر بنانے میں محلے کی لڑکیوں سے اس رابطے نہ صرف بحال ہوئے بلکہ اس کے باقی مشاغل بھی ازسرِ نَو زندہ ہو گئے کیونکہ اس کے بعد میں نے اُسے دو تین دفعہ “دی وومین فاؤنڈیشن” کے اجلاس میں دیکھا اور ایک رسالے میں اس کی تحریریں بھی پڑھیں۔ اس کے بعد اُس سے ایک دفعہ ہی مُلاقات ہوئی۔

 

ایک شام اُس کا ایس ایم ایس ملا؛ “شوکے! پارلر پہ آؤ، تُم سے کام ہے!” میں نے “آیا آپی جی” لکھ بھیجا اور تھوڑی دیر سے سہی لیکن پارلر پہ پہنچا تو وہ پارلر کے تالہ لگا کر جانے لگی تھی۔ میں نے بلوائے جانے کی وجہ پوچھی تو میرے ذمے دو کام لگائے، ایک تو یہ کہ پارلر پہ انگریزی اخبار لگوا دوں، دوسرا کیبل والے سے کنکشن لگانے کا کہوں۔ “جی بہتر آپی جی” میں نے نیازمندی سے کہا اور واپس آگیا۔ سچ تو یہ ہے کہ میں اس سے ڈرتا بھی تھا۔ فرحانہ گھر پہنچی تو بھولا ٹریک سوٹ پہنے ہاکی تھامے کسی میچ میں جانے کو تیار تھا۔ چودھرانی چچی نے بعد میں اماں کو بتایا تھا کہ اُس شام وہ بڑے خراب مُوڈ میں تھا۔

 

“فَری!”

 

بھولے نے سخت ناگواری سے اُسے مخاطب کیا۔

 

“ہاں کیا ہے؟”

 

فرحانہ بھی اب اُس سے پہلے سا لگاؤ نہیں رکھتی تھی۔

 

“یہ پارلر بند کردے!”

 

“کیا مطلب؟”

 

“بس کہہ دیا ناں، بند کرو یہ تماشہ!”

 

“بھولے تُو دُنیا جہان کیلئے تھانے دار ہوگا، لیکن مجھ سے بڑا کب ہو گیا کہ اس طرح حُکم چلا رہا ہے مجھ پہ؟؟؟”
فرحانہ کے جواب میں بھی سخت ناگواری اور غصہ بھر آیا۔

 

“فَری! جو باتیں مَیں باہر اور تھانے میں سُن کر آتا ہوں، وہ یہاں نہیں کہنا چاہتا! بس مجھے یہ پسند نہیں! بند کردے پارلر اپنا! بس!”

 

بھولے نے غُصے پر قابو پاتے ہوئے کہا تو ہاکی پر اس کی گرفت مضبوط ہو گئی۔

 

“بھولے اپنی گندی سوچ تھانے میں رکھ کے آیا کر! اور اپنی گندی زبان بھی! بڑی بہن ہُوں تیری! اور اگر میرے پارلر پر تُجھے یاردوستوں کے سامنے شرمندگی ہوتی ہے ناں! تو سُن لے! تیرے تھانیدار ہونے پہ بھی مجھے فخر نہیں ہے! جیسا تُو تھانے دار ہے، مَیں جانتی ہُوں!”

 

فرحانہ بھی زبان کی بڑی تیز اور دلائل کی اٹل تھی!

 

“زبان کھینچ لُوں گا تیری!! مَیں مرد ہوں، معاشرے میں ناک میری کٹتی ہے، تیری نہیں! تیرے پارلر کو لوگ ‘چکلا’ کہتے ہیں، ‘چکلا’! سمجھیں؟؟؟”

 

بھولے کی زبان سے قحبہ خانے جیسا غلیظ لفظ گھر کی چاردیواری میں سُن کر کسی کو بھی یقین نہ آیا- ماں تو گُنگ رہ گئی، فرحانہ چِلا اُٹھی۔

 

“بھولے! میرا پارلر ‘چکلا’ ہے؟؟ چکلا تو تیرا تھانہ ہے جہاں قانون رنڈی بن کر ناچتا ہے اور تُم کالی وردیوں والے دلال اُس کی قیمتیں وصول کرکے جیبیں بھرتے ہو! جو جتنی قیمت چُکائے، اُتنا لطف اُٹھا لے!!!”

 

فرحانہ کا یہ چلانا ایک چیخ سے بدل گیا کیونکہ “بکواس بند کر گشتیئے!!!” کے ایک فلک شگاف حُکم کے ساتھ بھولے نے جو فرحانہ کے سر میں ہاکی کی ایک ضرب لگائی تو پھر فرحانہ کی چیخ مکان کے باہر تک گونجی۔ وہ بے جان پُتلی کی طرح فرش پہ گری اور خون میں لت پت ہوگئی۔ بھولا ہاکی پھینک کر گلی میں نکل آیا۔ چودھرانی چچی کی آہ و زاری سُن کر کام والی ماسی دوڑی چلی آئی، اُس نے فوراً مجھے فون کیا۔ “شوکے! ذرا جلدی سے آ! فرحانہ کو۔۔۔” اور پھر وہ رو پڑی۔ میں بھاگم بھاگ گھر سے نکلا اور بھولے کی گلی میں پہنچا۔ بھولا وہاں نہیں تھا۔ گھر میں آیا تو فرحانہ کو خُون میں لت پت دیکھا۔ اپنی سی کوشش کی تو ریسکیو کی ایمبولینس کے آنے تک فرحانہ کے سر سے خون بہنا کم ہو گیا تھا البتہ ناک سے ایک سفید سیال مادہ رِس رہا تھا۔ ڈاکٹروں نے بعد میں بتایا کہ فرحانہ کی موت اُسی سیال کے ضائع ہو جانے سے ہوئی تھی۔

 

فرحانہ کا قتل- جو کہ جان بوجھ کر نہیں کیا گیا تھا- اگرچہ رانا چاند کے قتل سے برا سانحہ تھا لیکن یہ سانحہ بھی بھولے کی وردی نہ اُتروا سکا۔ تین ماہ کے اندر اندر بھولا دوبارہ ڈیوٹی پر تھا۔ فرحانہ کے قتل کا مقدمہ چودھری صاحب کی مدعیت میں درج ہوا تھا۔ بھولے نے اقبالِ جُرم میں کوئی دیر نہ لگائی لیکن عدالت کا فیصلہ ہونے سے قبل ورثاء کی طرف سے معافی ہو جانے پر بھولا نہ صرف قید سے رہا ہو گیا بلکہ ا س کی نوکری بھی بحال ہو گئی۔ اگرچہ کچھ لوگوں نے غیرت کے نام پر اس اقدام پہ بھولے کی تعریف بھی کی کہ فرحانہ تو پنجاب یونیورسٹی سے ہی ایک “بُری عورت” کا استناد لے کر آئی تھی لیکن بھولا ایک عرصے تک اس واقعے پر شدید نادم رہا۔ شراب نوشی ترک کردی اور صوم و صلوٰۃ کا پابند ہو گیا۔ اکثر بُرے کام چھوڑ دئیے لیکن تھانے آنے والوں کے ساتھ جو مُٹھی گرم والا سلسلہ تھا، وہ ختم کرنا اُس کے اختیار سے باہر تھا- اس ناسور کی جڑیں بھولے کی توبہ سے بھی گہری ہیں۔

 

جوں جوں بھولا اپنے احساسِ ندامت پہ قابو پاتا گیا، اُس کا دل مضبوط ہوتا چلا گیا اور ایک سال کے اندر اندر اس کے پہلو میں وہی سنگ و خشت کا دل تھا۔ پھر وہی معمولاتِ زندگی تھے لیکن ایک خاموش تبدیلی جو فرحانہ کے مرنے کے بعد گھر کی چاردیواری میں پل رہی تھی، وہ چودھرانی چچی کی حالت تھی۔ وہ بیٹی کی موت کے بعد بیٹھے کی کوٹھڑی کی متحمل نہ ہو سکتی تھیں اور اسی دیوانی مامتا سے لاچار ہو کر اُنہوں نے بھولے کو معافی دلوائی تھی لیکن ضمیر کی خلش اور فرحانہ کی جُدائی نے اُنہیں ایک سال کے اندر اندر ختم کردیا۔ ایک شام چودھرانی چچی نے نمازِ عشاء کے آخری سجدے میں سر رکھا تو کبھی نہ اُٹھایا۔ جتنی خاموشی سے فوت ہوئیں، اُتنی خاموشی سے دفن بھی ہوگئیں- میں اُن کی تدفین تک ساتھ رہا۔ بھولے کو چند روز زہد و ورع کا جو دورہ پڑا تو اس بار جلد ہی ٹھنڈا ہو گیا۔ کچھ عرصے بعد بھولے کی دوبارہ منگنی ہوئی کیونکہ پہلی منگنی فرحانہ کی موت کے بعد ٹُوٹ گئی تھی۔ منگنی کے ایک ماہ بعد اُس کی شادی ہوئی تو مجھے تقریب میں جانا پڑا۔ میری بہن کو چودھری صاحب کے کہنے پر بھولے کی خالہ ذاد بہنوں کے ساتھ مل کر رسومات میں بہنوں کے فرائض ادا کرنے پڑے۔ فرحانہ کی کمی سب نے محسوس کی، حتیٰ کہ بھولا بھی رو دیا۔ شادی ہو چکی تو بھولے کی زندگی میں کافی حد تک خُوشی اور طمانیت شاملِ حال ہو گئی۔ دُلہن نے ایم ایس سی کررکھا تھا اور بہت حسیِن گُجر لڑکی تھی۔ اب بھولا ایک پختہ کار سب انسپکٹر تھا اور افسرانِ بالا کا منظورِ نظر بھی۔ رانا حامد علیخاں نے حکومت بدلتے ہی پارٹی بدل لی تھی اور اب وزارتِ قانون کے قلمدان کے ساتھ اسمبلی میں براجمان تھے لہٰذا بھولا بھی آئی ایس ایچ او کی ذمہ داریوں پر ہی رہا۔ نامی گرامی ڈکیت کاشی موچی کو جعلی مقابلے میں مارنے کیلئے آر پی او صاحب نے بھولے گجر کا انتخاب اس کی اسی پروفائل کو دیکھ کر کیا۔ بھولے نے بھی اس ذمہ داری کو خوب نبھایا۔ بھولے کا تھانے کی حدود پر حکمرانی کا انداز ویسا ہی رہا۔ اُس کے دفتر میں کسی بھی حیثیت کے سائل کو کُرسی نہیں پیش کی جاتی تھی تا آنکہ وہ سائل قانونی طور پر بھولے کا کچھ بگاڑنے کی پوزیشن میں ہو۔ پورے ضلعے سے اقبالِ جُرم نہ کرنے والے ڈھیِٹ سے ڈھیِٹ مجرم اُس کے پاس بھیجے جاتے جنہیں وہ کامی وڑائچ کے ڈیرے پر قائم “خصوصی سیل” میں لے جاتا اور ایک رات کے اندر اند سب کچھ اگلوا دیتا۔ اُسے صرف ایک دفعہ ناکامی ہوئی جب ایک نو عمر ملزم سے مطلوبہ مواد اگلوانے کی کوشش میں غیر مطلوبہ مواد اگلوا بیٹھا۔ اُس کے مُنہ اور پیشاب کے مقام نے اتنا خُون اُگلا کہ وہ ڈاکٹر کے آنے سے قبل ہی چل بسا۔ اب ایسا بھی نہیں کہ اس مُلک میں اندھیر نگری ہے اور کوئی پولیس والوں کو نہیں پوچھتا، سیکڑوں شکایات اور ہزاروں پیشیاں بھولے نے بھگتی ہوں گی لیکن کامیاب تھانیدار وہی ہے جو اس معاملے میں مضبوط اعصاب کا مالک ہو اور بھولے جیسے مضبوط اعصاب کے مالک تھانے داروں کو سزا دے کر پولیس افسران کبھی اپنے محکمے کو کمزور نہیں کر سکتے۔

 

اس صبح طالبان کے کسی ماسٹر مائنڈ دہشت گرد کو فیصل آباد جیل میں پھانسی ہوئی تھی اور ایک خفیہ وائرلیس سگنل کے ذریعے شہر بھر کی پولیس کو الرٹ کردیا گیا تھا۔ بھولا بھی اپنے ناکے پر موجود تھا اور ایک ایک مشکوک اور غیر مشکوک گاڑی کو چیک کر رہا تھا۔ ایک اسکول وین میں بیٹھی کسی اُستانی نے سپاہی سے بحث شروع کی تو بھولے کو بحث میں مداخلت کرنا پڑی۔ اس نے تمام اُستانیوں کو وین سے اُتار لیا اور تلاشی کیلئے لیڈی کانسٹیبل کے انتطار میں انہیں فٹ پاتھ پر کھڑا کردیا۔لیڈی کانسٹیبل کہیں موجود تھی ہی نہیں لیکن ‘اُستاد’ کو سبق دینا سب نہیں جانتے۔ بھولا باقی گاڑیوں کی تلاشی میں مصروف ہو گیا۔ اسی اثناء میں ایک مشکوک کار کو سپاہیوں نے جو رُکنے کا اشارہ کیاتو وہ رفتار بڑھا کر فُٹ پاتھ پہ چڑھ دوڑی جہاں اُستانیاں کھڑی تھیں۔ اُستانیاں چیخ کر منتشر ہوئی تھیں کہ بھولا لپک کر اس کار کے سامنے آگیا۔ دو سپاہیوں نے گاڑی پر فائر کھول دیا۔ کار سے جوابی فائرنگ ہوئی اور ایک بھگڈر مچ گئی۔ اگر چہ کار میں سوار تمام لوگ مارے جاچکے تھے یا زخمی تھے تاہم ڈرائیور سلامت تھا جو کار کو لے کر نکل بھاگا۔ اس کا تعاقب کیا جا تا لیکن سڑک کے درمیان بھولا اوندھے مُنہ پڑا تھا۔ اُستانیاں اپنی ایک ساتھی کے لہولہان جسم کے گرد اکٹھی تھیں۔ جب ایک اُستانی اور بھولے کی لاش ہسپتال سے واپس لائی گئیں تو کچھ یقین سے نہ کہا جاسکتا تھا کہ ان کی موت پولیس کی گولی سے ہوئی یا حملہ آوروں کی گولی سے۔ بعد میں پتہ چلا کہ حملہ آوروں کا تعلق کسی کالعدم دہشتگرد تنظیم سے تھا جس کی وجہ سے وفاقی حکومت نے بھی واقعے کا نوٹس لیا۔

 

وزیرِ اعلیٰ اور آئی جی پنجاب نے فاتحہ خوانی اور دلاسے کیلئے بھولے کی بیوہ کو سرکاری خرچ پر لاہور بلوایا اور دونوں نے باری باری اُس کے سر پر ہاتھ رکھ کر فوٹو بھی کھنچوائے۔ بھولے کی بیوہ کو شہداء فنڈ سے پیسے ملے اور کچھ پنشن بھی بن گئی۔ ایک دفعہ جب آئی جی صاحب نے پولیس شہداء کی بیواؤں میں سلائی مشینیں تقسیم کیں تو بھولے کی بیوہ کو بھی تقریب میں جانا پڑا، اگرچہ وہ دی گئی سلائی مشین بعد میں پولیس لائن میں ہی چھوڑ آئی۔ بے چاری کو ایم ایس سی پاس کروانے والے والدین نے سلائی کڑھائی کی تربیت جو نہیں دی تھی۔۔۔

 

اگرچہ چودھری صاحب جوان بیٹے کی شہادت کے بعد سے اب تک ذہنی طور پر اس قابل بھی نہیں رہے کہ اس داستان کو مکمل پڑھ لیں گے لیکن مجھے اُن سے معافی ضرور مانگنی چاہیئے کہ میرے بے لحاظ قلم نے اس تھانے دار سے بھی رعائیت نہ کی جسے خُدا نے شہادت کیلئے چُن رکھا تھا۔ بھولے کی زندگی میں اس کی غیرت کی داد دینے والے یا اُس کی پیٹھ پیچھے اُسے گالیاں دینے والے، سبھی لوگ اب بھولے کی موت کو “قدرت کا انصاف” قرار دے رہے ہیں۔ میرے لئے اس تحریر کا اختتام اسی لئے مشکل ہے کہ اگر اتنے لوگوں کی جان، مال اور عزت کے نقصان کے عوض خُدا ہی نے بھولے کو بھری جوانی میں سڑک پر مرنے کی سزا دی یا پھر اگر نظام کے ہاتھوں بھولے کے مسخ ہونے والے کردار کا داغ دھونے کیلئے خُدا ہی نے اسے شہادت کیلئے منتخب کیا، دونوں صورتوں میں مجھے اس ‘انصاف’ میں اپنے وطن کے نظامِ انصاف کا رنگ جھلکتا نظر آتا ہے کیونکہ بھولے کے غمزدہ اور نیم پاگل باپ، بے سہارا بیوہ اور اس کی شہادت کے دو ماہ بعد پیدا ہونے والی اس کی بیٹی کا مستقبل مجھے اس معاشرے میں بڑا پُر آشوب دکھائی دے رہا ہے۔ اس کے لئے خُدا سے معافی کا طلبگار ہوں۔۔۔
Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی-چوتھی قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہو ا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوا اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(8)

 

مولوی کرامت مسجد میں داخل ہوا تو سورج دکن کی طرف سے عین پہاڑ کومنہ کرتا تھاگویا ابھی بارہ ہی بجے تھے اوراذان دینے میں کافی وقت تھا۔ مولوی کرامت نے کھجی کی ایک صف اندر سے نکال کر باہر صحن میں موجوددھوپ میں بچھا دی،جو رات کو اوس پڑنے سے گیلا ہونے کے ڈر سے اندر رکھ دی گئی تھی۔ مسجد کا صحن کچا تھا لیکن صاف ستھرا اس لیے تھا کہ مولوی کرامت روزانہ اُس پر صفیں بچھانے سے پہلے جھاڑو ضرور دیتا کہ صفیں صحن کی گرد سے گندی نہ ہوں۔ سردیوں کی دھوپ میں صفیں بچھا کر اُس پر نماز پڑھنے کا بھی اپنا ہی ایک لطف ہے۔بوڑھوں اور کام کرنے والے افراد کے لیے اس طرح کی دھوپ میں نماز پڑھنا عبادت کے ساتھ ایک طرح کی تفریح بھی ہے۔ مسجد یوں تو پکی اینٹوں سے بنی تھی مگر تمام صحن ابھی کچا تھا،جو سردی کے دنوں میں زیادہ ہی سیم زدہ ہو جاتا۔پنجاب کے چھوٹے دیہاتوں میں جو مسجدوں کی حالت ہوتی ہے،یہ مسجد بھی اُن سے مختلف نہ تھی۔ گاؤں کے درمیان چوک کے عین بیچ اِس کا وجود خشک روٹی پر رکھے اُس پیاز کی طرح تھا جو بہت عرصہ پڑا رہنے سے سُکڑ گیا ہو۔ اِس چھوٹی سی مسجد کے صحن کو تین طرف سے دیوار نے گھیر رکھا تھا۔چوتھی سمت یعنی مغرب کی جانب خود مسجد کی مسقف عمارت تھی۔ آپ اِسے تیس فٹ لمبا اور بیس فٹ چھوٹا کمرہ کہہ لیں،جس کے اُوپر سامنے کے بنیرے پر چھوٹے چھوٹے کئی منارچے رکھ دیے گئے تھے۔اُن کا رنگ مدتوں ہوا،اڑ گیا تھا۔ اس کمرے کے سامنے تیس پینتیس فٹ چوڑا اور اتنا ہی لمبا کچا صحن اور صحن کے بالکل سامنے مشرق کی طرف آٹھ فٹ چوڑا اور تیس فٹ لمبا برآمدہ، جس کی چھت بارہ فٹ تک اونچی تھی۔البتہ مسجد کی چھت بیس فٹ ضرور اونچی تھی۔ مسجد کی چھت اور برآمدے کی چھت کے آنکڑے اور شہتیر یکساں ہیئت کے تھے۔ فرق تھا تو یہ کہ برآمدے کی چھت کے آنکڑے اور ٹائیلیں مٹی اور گرد سے خاکستری ہوگئئے تھے۔ جبکہ مسجد کی چھت کے شہتیر، آنکڑے اور ٹائیلیں گھی اور تیل کے چراغوں سے اُٹھنے والے دھویں سے سیاہ ہو ئے تھے۔ برآمدے کے عین درمیان مسجد کے صحن میں داخل ہونے کے لیے لکڑی کے تختوں کا دروازہ تھا، جس پر لوہے کا زنجیر لٹکا رہتا۔ اس دروازے کا واحد اور مفید مصرف یہ تھا کہ کوئی جانور، کُتا یا گدھا داخل نہ ہو سکے۔ دروازے کے دائیں پہلو پانی کا کنواں تھا۔ وضو کرنے کی جگہ برآمدے کے نیچے ایک لمبی نالی کی صورت میں بنا دی گئی تھی جس کے ایک کونے پر پانی کی ایک ٹینکی پکی اینٹوں سے بنی ہوئی تھی تاکہ کنویں سے پانی کھینچ کرٹینکی میں آسانی سے ڈالا جا سکے۔

 

برآمدوں کی اینٹوں پر پلستر نہیں ہوا تھا،اس لیے ان کی درزوں سے مٹی سیم اور شور بن بن کر گر رہی تھی۔ مسجد کے صحن کی شمالی دیوار بھی کچی اینٹوں کے ہونے کی وجہ سے دائیں طرف کو جھکی ہوئی تھی لیکن وہ صرف پانچ فٹ اونچی تھی جس کی وجہ سے کچھ زیادہ خطرے میں نہیں تھی۔ یوں بھی مسجد گاؤں کے عین چوک میں تھی۔ جس کے آس پاس چاروں طرف تیس فٹ کی دوری سے گھر تھے اس لیے کسی جانی نقصان کا اندیشہ نہیں تھا۔لیکن مصیبت یہ تھی کہ مسجد کی حالت روز بروز خستہ ہو رہی تھی۔ مولوی کرامت نے بار بار گاؤں والوں کی اس طرف توجہ دلائی مگر وہ سنتے ہی نہ تھے۔ ویسے بھی گاؤں کے لیے مولوی اور مسجد غیر ضروری سے تھے۔ ان دو چیزوں کا اصل کام گاؤں میں کسی فرد کے مرنے کے بعد ہی شروع ہوتا۔ جو میت کے دفنانے کے بعد ختم ہو جاتا۔البتہ پانچ دس بوڑھے ضرور پانچ وقت آتے اور یہ تعداد پچھلے کئی عشروں سے ایسے ہی چلی آتی تھی۔نہ بڑھتی اور نہ گھٹتی۔ایک بوڑھا مرتا تو کوئی دوسرا شخص بوڑھا ہو جاتا۔اس طرح دس بارہ بوڑھے ہر وقت مسجد کی زینت بنے رہتے اور مولوی کی ضرورت کا احساس رہتا۔

 

فضل دین کی پہلی ڈیوٹی صبح کے وقت ٹینکی میں پانی بھرنے سے شروع ہوتی۔ روزانہ بیس مشکیں کنویں سے نکال کر اسے ٹینکی میں ڈالنا ہوتیں۔ یہ پانی عصر تک کے لیے کافی ہوتا تھا۔عصر کے وقت فضل دین اُس میں مزید سات آٹھ مشکیں ڈال دیتا۔یوں ایک دن نکل جاتا۔ بعض اوقات کام چوری کر جاتا۔وہ صبح کے وقت دس بارہ مشکیں ڈال کر ہی جلدی جلدی نماز پڑھ کر روٹیاں لینے نکل جاتا۔جس کا نقصان یہ ہوتا کہ پانی جلد ختم ہو جاتا۔پھر وہ مشکیں مولوی کرامت کو خود کنویں سے کھنچ کر ٹینکی میں ڈالنا پڑتیں۔ اس عمل میں مولوی کرامت کا پارہ ایک سو بیس ڈگری پر چڑھ جاتا۔ اول تو اُسے اِن بڈھوں پر غصہ آتا جومٹی کے لوٹے ٹینکی سے بھر بھرکے وہیں بیٹھے کُلیاں کر کر کے کھنگارتے رہتے اور پانی ضائع کرتے۔لیکن غصہ اُترتا بالآخر فضل دین پر ہی تھا جو ادھورا کام کرکے مولوی کرامت کو مشقت میں ڈال دیتا۔ آج پھر جب وہ صحن میں ہلکا سا جھاڑو دے کر وضو کرنے کے لیے بیٹھا تو پانی موجود نہ تھا۔ مولوی کرامت نے ایڑیوں کے بل کھڑے ہو کر ٹینکی میں نظر ماری تو وہ بالکل صاف تھی،پانی کا ایک قطرہ تک نہ تھا۔ یہ دیکھ کر مولوی کی حالت مُردوں کی سی ہو گئی۔ اُسے فضل دین پر اس قدر غصہ آیا کہ دانت کچکچا کر رہ گیا۔ وہ پاس ہوتا تو کاٹ ہی کھاتا۔ آخر کیا کرتا، پانی تو بہرطور ٹینکی میں بھرنا تھا۔کیونکہ فضل دین ابھی تک گھروں سے روٹیاں اکٹھی کر کے نہیں لوٹا تھا۔ مولوی کرامت نے مشکیزہ اٹھا کر کنویں میں ڈال دیا،جو چالیس فٹ گہرا تھا۔ کنواں زیادہ گہرا ہونے کی وجہ سے مشکیزے کی رسی بھی چالیس فٹ لمبی تھی۔ جسے کھینچتے کھینچتے ہاتھ شل ہو جاتے۔ مولوی کرامت نے ابھی پہلی ہی مشک بھر کر نکالی تھی کہ اس کے کانوں میں چیخوں کی آواز سنائی دی۔اُس نے مشک رکھ کر چیخوں کی طرف دھیان دیا تو اُسے ایسے لگا کہ آواز مسجد کے پچھواڑے سے آ رہی ہے۔

 

خدا خیر کرے، کیا مصیبت آ گئی، مولوی کا کلیجہ حلق میں آ گیا۔ خدا نخواستہ فضل دین کو کچھ ہو گیا مگر وہ تو ابھی نہیں لوٹا تھا۔اُسے گھر سے آئے ابھی چند لمحے تو ہوئے تھے۔ تب تو سب کچھ خیر تھی۔مولوی کرامت نے بھاری قدموں اور لرزتی ٹانگوں سے گھر کی طرف دوڑ لگا دی مگر ٹانگیں کانپنے لگیں۔ اُسے ڈر ہوا کہیں گر نہ پڑ ے۔وہ دوڑنے کی بجائے چلنے لگا۔ جیسے ہی دروازے پر پہنچاتو عجب تماشا جاری تھا۔ شریفاں نے اپنے بال کھولے ہوئے تھے اور باہیں پھیلا کر اُونچے اُونچے بین کر رہی تھی۔ ارد گرد کچھ عورتیں بھی جمع تھیں۔ شریفاں نے مولوی کو آتے دیکھ کر بین کی آواز مزید بلند کر دی۔

 

ہائے کرامت ہم لُٹ گئے، خانہ خراب ہو گیا۔ میرا ایک ہی ست جنموں کا بھائی مارا گیا۔ میں برباد ہو گئی۔

 

“مولوی نے ہانپتے ہوئے کہا”نیک بختے خیر ہووے کیا ہوا؟ کوئی پتہ تو چلے۔

 

وے کرامتا چراغ مارا گیا۔ میرا اکیلا بھائی مار دیا دشمنوں نے۔

 

شریفاں نے دونوں ہاتھوں کو زانوں پر زور زور سے مار کر پیٹناشروع کر دیا۔ عورتیں اُسے ادھر اُدھر سے پکڑنے کی کوشش کر رہی تھیں اور وہ سنبھلنے میں نہیں آ رہی تھی۔

 

اِنَّ لِلّٰہ وَ اِنَّ اِلیہ راجعون کہہ کر مولوی کرامت آگے بڑھا تو راج محمد سامنے کھڑا نظر آیا۔ اُسے دیکھ کر مولوی کرامت سارا معاملہ سمجھ گیا۔تو گویا راج محمد چَک جودھا پور سے چراغ دین کی موت کی خبر لایا تھا۔مگر مولوی کرامت کے لیے یہ بات اچنبھے کی تھی کیونکہ چراغ دین نہ تو بیمار تھا اور نہ ہی اس کی کسی سے دشمنی تھی۔ پھر یہ کیا ہوا؟

 

سلام دعا کے بعد مولوی کرامت نے راج محمد کو بان کی چار پائی پر بیٹھنے کو کہا۔اتنے میں فضل دین بھی روٹیوں کا تو بڑا لے کر آ گیا۔ مولوی کرامت نے اُسے حقہ تازہ کرنے کا کہہ کر خود راج کے لیے پانی لسی تیار کرنے لگا۔ شریفاں بین کر کر کے اپنا ہلکان کر رہی تھی۔ مولوی کرامت کو پتا تھا، فی الحال اسے روکنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ عورتیں خود اس کے گرد حلقہ کیے ہوئے تھیں۔ کوئی ہاتھ مل رہی تھی اور کوئی پانی پلانے کی کوشش کر رہی تھی مگر وہ زمین پر لیٹی ہاتھ پھیلا پھیلا کر روتی گئی۔حقہ تازہ کرنے کے دوران فضل دین بھی ماں کی تقلید میں رو رہا تھا۔اگرچہ اُسے اس معاملے سے ایسی ہی لا تعلقی تھی جیسے ڈیڑھ سو میل دور کسی بھی اجنبی سے ہو سکتی ہے۔وہ ایسے کسی رشتے دار کو نہیں جانتا تھا جو کبھی اُس کے لیے مٹھائی کی ڈلی ہی لایا ہو۔

 

خاطر مدارت کرنے کے بعد مولوی کرامت جب آرام سے راج محمد کے سامنے بیٹھ گیا تو اُس نے چراغ دین کے قتل کا پورا قصہ مولوی کرامت کو سنا دیا۔پھر آہستہ سے آگے بڑھ کر ایک اور خبر مولوی کرامت کو دی” لیکن بھائی کرامت تو چراغ دین اور بی بی رحمتے کی فکر نہ کرنا، غلام حیدر نے چراغ دین کے قتل کا سنتے ہی دس ایکڑ زمین دینے کا اعلان کر دیا ہے اور اُس کے ساتھ پورے ایک ہزار روپے تو پہلے ہی دے دیے ہیں۔اتنے پیسے تو چراغ دین پوری زندگی نہیں کما سکتا تھااور پرسوں جلال آباد کچہری میں زمین باقاعدہ رحمت بی بی کے نام ہو جائے گی۔ غلام حیدر تو فرشتہ ہے فرشتہ۔ اُس نے مالکوں والا حق ادا کر دیا۔

 

یہ سن کر مولوی کرامت کے چہرے پر ہلکی سی سرخی دوڑ گئی لیکن مولوی نے اس تاثر کو چھپانے کی بھرپور کوشش کی گویا چراغ دین کی زندگی کے آگے اس دس ایکڑ کی کیا حیثیت ہے۔ پھر حیرانی سے پوچھا، بھائی راج مجھے ایک بات کی سمجھ نہیں آئی کہ تم شیر حیدر کی بجائے غلام حیدر کا ذکر بار بار کر رہے ہو۔ خدا نہ خواستہ شیر حیدر کا کیا ہوا؟

 

“راج محمد نے کہا”مولوی جی تو کیا تمھیں شیر حیدر کے مرنے کی خبر بھی نہیں ملی؟ بھائی کرامت اسی کے سوم والی رات تو چراغ دین کا قتل ہوا ہے۔

 

مولوی کرامت نے ماتھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے دوبارہ اِنَّ للہ پڑھی پھر پورے حالات پر راج محمد سے گفتگو کرنے لگا۔ جب آدھ گھنٹے کی گفتگو کے بعد ہر چیز مولوی کرامت پر کھل گئی تو اس نے ایک ٹھنڈی آہ کھینچی پھر چراغ کے حوالے سے بات دوبارہ چھیڑ دی۔

 

بھائی راج محمد مجھے تو ایک ہی فکر اب کھار ہی ہے کہ رحمتے اور اس کی بیٹی تاجاں کا کیا بنے گا۔ بچاری یتیم بیٹی کو کیسے پالے گی۔ ادھر مَیں جلال آباد سے ڈیڑھ سو میل دور قصور میں بیٹھا اُن کی دیکھ بھال کیسے کروں گا۔ بچی نادان ہے اور یہ مسجد کا کام میرے بغیر چل نہیں سکتا۔

 

ادھر مولوی کرامت یہ باتیں کر رہا تھا اُدھر شریفاں رو رو کے تھک چکی تھی۔اب اس کی آواز بھی حلق سے بمشکل نکل رہی تھی۔

 

دیکھ بھائی کرامت، فی الحال تو جاکر چراغ دین کے ساتویں کا بندوبست تجھے کرنا ہے۔ تیرے سوا اب اس کا وہاں رشتے دار کوئی اور تو ہے نہیں۔ ابھی سے چلنے کی تیاری کر،شام چھ بجے قصور سے ریل پکڑنی ہے۔ قُل کا ختم تو آج ہو گیا ہو گا۔ تین دن بعد ساتا ہے۔ اُس کے بعد دوسرا بندوبست دیکھ لینا۔ جو مناسب ہو وہی کرنا۔

 

مولوی کرامت تاسف سے بولا” لیکن بھائی راج، مجھے تو دکھ ہے کہ شریفاں بھاگاں والی اپنے بھائی کا منہ بھی نہ دیکھ سکی۔ یہ تو بچاری مر جائے گی۔

 

مولوی صاحب آپ تو جانتے ہیں اللہ کے کاموں میں کون دخل دے سکتا ہے۔ پہلے دن تو کسی کو ہوش ہی نہ رہا۔ ادھر غلام حیدر کی پگ بندی کی رسم تھی۔ ہر کوئی وہاں مگن تھا۔ میں بھی وہیں چلا گیا تھا۔ صبح سورج چڑھا تو اس واقعے کاپتہ چلا لیکن رسم کو اُدھورا چھوڑ کر آنا اچھا نہ لگا۔جیسے ہی رسم ختم ہوئی، مَیں سیدھا یہاں دوڑا آیا مگر ریل نکل چکی تھی۔دوسری گاڑی رات کے دو بجے جلال آباد سے چلی اور صبح آٹھ بجے قصور پہنچی وہاں ایک گھنٹہ رُکی رہی۔ پھر کہیں خدا خدا کر کے گیارہ بجے اڈا جبومیل آیا۔مَیں اُترتے ہی بھاگ کھڑا ہوا اور ڈیڑھ گھنٹے میں یہاں آن پہنچا۔ اب دیکھیے کیا ہوتا ہے۔ مجھے یقین ہے غلام حیدر چراغ دین کا بدلہ لیے بغیر نہیں ٹلے گا۔ اُس کے تیور تو ایسے ہی لگتے تھے۔ خیر یہ سب باتیں تو ہوتی رہیں گی تُو چلنے کی تیاری کر۔

 

مولوی کرامت نے فضل دین کو آواز دی جو اپنی والدہ کو اتنی شدت سے روتے ہوئے دیکھ کر سہما کھڑا تھا، بیٹے ذرا بھاگ کر چودھری حکم داد کے پاس جا اور اُس سے کہنا کہ آج دو گھنٹے کے لیے بیل گاڑی چاہیے ’جیسے فضل دین پاس آیا مولوی کرامت نے اسے ہدایت کی “اور ہمیں ریلوے سٹیشن تک چھوڑ آ پھر شریفاں کو پکار کر بولا، اب صبر کر بس اللہ کے کام ہیں جن پر نہ تیرا بس چلے گا نہ میرا۔ خدا اُسے شہیدوں کی صف میں لائے گا۔ چراغ دین ہماری بخشش کا وسیلہ بھی بنے گا۔ شام چھ بجے کی گاڑی سے فیروز پور نکلنا ہے۔اُس لیے کپڑا لتّا اُٹھا لے۔ فضل دین ہمیں سٹیشن پرچھوڑ آئے گا۔

 

تو کیا فضل دین نہیں جائے گا ساتھ؟ شریفاں نے مُردنی سی آواز میں احتجاج کرنے کی کوشش کی۔ اُسے اپنے مامے کے ختم میں شریک نہیں ہونے دے گا؟

 

اُف بھاگ بھریے سمجھا کر، “مولوی کرامت نے آہستہ سے شریفاں کو کندھے سے سہارا دیتے ہوئے کہا‘ فضل دین بھی اگر ساتھ چلا جائے گا تو یہ بھرا پُرا گھر کس کے سپرد کروں؟ پھر گدھی اور یہ بکریاں یہیں بندھی بندھی بھوکی مر جائیں گی۔ ہمیں کچھ دن لگ جانے ہیں۔ اتنے دنوں تک کون ہمارے اس سارے بکھیڑے کو سنبھالے گا؟ فضل دین کو یہیں رہنے دیتے ہیں۔ مسجد کی صفائی اور اذان کون دے گا؟ اتنا کہہ کر مولوی کرامت نے حقے کے دو تین کش لیے پھر اس کی نَے راج محمد کے سامنے کر دی۔

 

مولوی کرامت کو پتا تھا کم از کم وہ چھ سات دن تک واپس نہیں آ سکتا۔ اس عرصے میں تہرے نقصان ایک دم برداشت نہیں کر سکتا تھا۔جودھاپور آنے جانے کا خرچہ،اس کے علاوہ ساتویں کے ختم میں رحمت بی بی اور اس کی بیٹی کو بھی پانچ دس دینا پڑتے۔ کم از کم پچاس کا نسخہ اس کے پیٹے پڑ چکا تھا اور اگر وہ فضل دین کو بھی ساتھ لے جائے تو اور تو سب گزارا ہو سکتا تھا لیکن روٹیاں نہ ملنے کا نقصان ایک اضافی تھا۔ جس سے بچنے کے لیے فضل دین کا یہاں رکنا ضروری تھا۔

 

اس پوری سوچ کے دوران مولوی کرامت راج سے باتیں بھی کرتا گیا اور سر پر پگڑی سے لے کر جوتے پہننے کا کام بھی نمٹاتا گیا۔ لٹھے کی چادر جسے ٹین کے صندوق میں پچھلے کئی مہینوں سے دھو کر رکھا ہوا تھا، وہ بھی شریفاں نے اُسے وہیں بیٹھے لا کر تھما دی اور کرامت نے وہیں کھڑے ہو کر کمر کے گرد لپیٹ کر نیچے سے پہلی دھوتی کھینچ لی۔پھر جانگیے کے اوپر لٹھے کا سفید کرتا بھی پہن لیا۔ مولوی کرامت نے چند لمحوں میں کھڑے کھڑے یہ سارا کام مکمل کر لیا۔اس عرصے میں راج محمد حقہ پیتا رہا۔ شریفاں کبھی جانے کی تیاری میں ادھر اُدھر تیزی سے چلتی اور کبھی چلنے کے ساتھ زور زور سے رونا شروع کر دیتی۔جس کی مولوی کرامت کو بہت کوفت ہونے لگی مگر وہ جانتا تھا کہ اب یہ سلسلہ کئی دن تک جاری رہے گا۔اس لیے اسے بہرحال برداشت کرنا تھا۔

 

اِسی اثنا میں عورتوں کے علاوہ گاؤں کے مرد بھی آنا شروع ہو گئے۔ گاؤں میں پردے کا کوئی رواج نہیں تھا اس لیے مولوی کا گھر بھی گاؤں والوں کی طرح ہر لحاظ سے کھلا تھا۔نہ کسی کو تانک جھانک کی عادت تھی اور نہ ہی اس طرح کا ابھی خیال پیدا ہوا تھا۔ جو جب چاہتا ہر گھر میں اپنے ہی گھر کی طرح داخل ہو سکتا تھا۔ ہر کوئی دوسرے کی ماں بہن کو اپنی ماں بہن سمجھنے کے سوا اُس وقت دوسرا تصور بھی نہیں لاتا تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں دس بارہ مرد بھی پرسہ داری کو جمع ہو گئے، جنھیں فی الحال مولوی کرامت جلدی سے فارغ کر کے چلنے کی فکر میں تھا۔ نور تیلی کو مولوی کرامت نے ہدایت کر دی جواُس کا شاگرد بھی تھا کہ جب تک وہ واپس نہیں آ جاتے، رات اس کے گھر فضل دین کے پاس رہ لیا کرے۔ اتنے عرصے میں فضل دین بیل گاڑی لے کر آ گیا۔

 

مولوی کے پاس اپنی گدھی بھی تھی، جو فالتو روٹیاں کھا کھا کر بہت موٹی تازی اور تیز طرار ہو چکی تھی۔مولوی کرامت اُسی پر روٹیاں لاد کر شہر لے جایا کرتا اور واپسی میں اُسی گدھی پرسوار ہو کر گاؤں آ جاتا۔ اس لیے اس کا سٹیشن تک پہنچنے میں تھکاوٹ کو دخل نہیں تھا۔ ویسے بھی ہر ہفتے ایک دو من روٹیاں قصور لے جانے میں گدھی کی کافی مشق ہو چکی تھی لیکن آج بندے زیادہ تھے گدھی کام نہیں دے سکتی تھی۔یہی وجہ تھی جو مولوی کو بیل گاڑی کا احسان لینا پڑا۔

 

شریفاں نے فضل دین کو ضروری ہدایات دے کر اور گھر کی صفائی ستھرائی کا سمجھا کر ہر کام ازبر کرا دیا اور کہا کہ وہ شام سے پہلے ہر حالت میں گھر آ جایا کرے۔

 

عصر کے وقت مولوی کرامت، شریفاں اور راج محمد بیل گاڑی پر بیٹھ چکے تو فضل دین نے بیلوں کو ہشکارا دے کر پہلا ڈنڈا رسید کر دیا۔بیل گا ڑی گرد بھری کچی سڑک پر دوڑ پڑی۔ نورا تیلی بھی پاس ہی بیٹھا فضل دین کو بیل گاڑی چلانے کے متعلق ہدایات دینے لگا۔ اسٹیشن پندرہ کلو میٹر دور تھا۔ مولوی کرامت نے فضل دین کو ہدایت کر دی کہ وہ بیلوں کو دوڑائے چلا جائے، کہیں گاڑی نہ چھوٹ جائے۔ گرد سے مولوی کرامت اور شریفاں کے کپڑے مٹیالے ہو ئے جاتے تھے لیکن اب اس کی کس کو پرواہ تھی۔

 

(9)

 

رات کا گھنٹا بجنے میں ابھی کچھ وقت تھا لیکن دھند نے اندھیرا بڑھا دیا تھا۔ جس کی وجہ سے تاریکی کے اندر ہیبت کا تاثر بڑھ گیا۔ سودھا سنگھ کی حویلی میں دس پندرہ سرداروں کی محفل جم چکی تھی۔ دیسی شراب کے مٹکے اور تانبے کے بھاری گلاس جن پر قلعی پُرانی ہو چلی تھی، چار پائیوں کے ساتھ پڑے لکڑی کے تختوں پر سجا دیے گئے۔سوڈا باقاعدہ فیروز پور سے منگوایا تھا۔ شراب کے بہت سے برتن ایک ہی دفعہ استعمال ہو رہے تھے۔اس لیے انھیں یکے بعد دیگرے تبدیل کرنا اکیلے چھدو کے بس میں نہیں تھاچنانچہ مزید ایک آدمی اس کام پر متعین ہو گیا۔ حویلی کا دروازہ بڑی بڑی اُوپر نیچے چاربَلّیوں سے بند کر دیاگیا۔ ان سرداروں میں دو مسلمان زمین داربھی موجود تھے۔ جن میں عبدل گجر اپنے وقار اور سرداری میں سودھا سنگھ کے علاوہ سکھوں سمیت سب سے زیادہ اہمیت رکھتا تھا۔ اُس کا مُوڈھا مرکزی حیثیت کا حامل تھا۔اُس کے ساتھ شریف بودلہ بھی بیٹھا تھا۔سردار سودھا سنگھ کو پتا تھا،غلام حیدر اگرچہ نا تجربہ کار ہے مگر اس کے باپ کے تعلقات ضرور غلام حیدر کی پشت پر موجود ہیں۔ عبدل گجر کا تنازعہ چونکہ شیر حیدر کے ساتھ پچھلے بیس سال سے تھا۔اس لیے وہ کبھی بھی اپنے پرانے دشمن سے بدلہ چکانے میں کوتاہی نہیں کرے گا اور بیلوں کی لڑائی میں جو سُبکی اُسے اٹھانی پڑی تھی، جس میں پورے پچاس ایکڑ زمین شیر حیدر سے ہار گیا تھا، اُس پر قبضہ کرنے کا اس سے بہتر موقع نہیں تھا۔یہی وجہ تھی کہ اُس نے اپنے کام کو انجام تک پہنچانے کے لیے اپنے صحیح حلیف کا انتخاب کیا۔اس کے علاوہ عبدل گجر کو ساتھ ملا نے سے ایک فائدہ یہ بھی تھا کہ اس لڑائی میں سکھوں کی ہمدردیاں تو سودھا سنگھ کے ساتھ رہتیں،لیکن مسلمان دو حصوں میں بٹ جاتے۔ وہ پورے طور پر غلام حیدر کے ساتھ نہ مل سکتے تھے۔ لہٰذا یہ لڑائی سکھ مسلم سے زیادہ ذاتی تصور کی جاتی، جس کا فائدہ ہر صور ت میں سودھا سنگھ کو پہنچتا۔ ویسے بھی شیر حیدر کے مرنے کے بعد عبدل گجر کی طاقت اور رعب کا علاقے میں خود بخود اضافہ ہو گیا تھا۔

 

آٹھ دس جوان کرپانیں اور برچھیاں لیے ڈیرے کی چار دیواری کے گرد پہرے پر موجود تھے۔ کچھ جاسوسی کے لیے ادھر اُدھر گاؤں کے رستوں پر بٹھا دیے گئے تاکہ حالات اچانک پلٹا نہ کھا جائیں۔ محفل میں جب ہر طرف سے سکون ہو گیا تو سودھا سنگھ نے عبدل گجر کو مخاطب کیا،

 

چوہدری صاحب اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سب اپنی کمانوں کی تندیاں کَس کر اُن پر تیر چڑھا دیں اور (اپنی کرپان کی دھار پر ہاتھ پھیرتے ہوئے) لوہے کو پان دے لیں۔ اپنے لوہاروں کو کہہ دو وہ درانتیاں بنانی چھوڑیں اور کرپانوں کی چوڑیاں کَس دیں۔

 

سردار جی! “عبدل نے پہلو بدل کر کہا” لوہا کُھنڈا ہو یا پان چڑھا، ضرب لگاؤ تو اپنی لاج رکھتا ہے۔ویسے میں نے لوہاروں کوکہہ دیا ہے کہ دیگی لوہے کو سان پر رکھ دیں۔ تیرے کہنے سے پہلے ہی چَھویوں کی دھاروں پر پان چڑھ گئی ہے۔ میرا سو بندہ برچھیوں کی بولی بولتا ہے۔سودھا سنگھ، ڈر تو بس سرکار کا مارتا ہے۔ کتا بھی مار دوتو کچہری کی سیڑھیاں قدموں سے لگ جاتی ہیں۔ ڈرتا ہوں وار اوچھا نہ پڑ جائے اور میں مقدمے بازی میں نہ پھنس جاؤں۔

 

سُودھا سنگھ آگے جھک کر بولا، چوہدری صاحب سمجھا کر، سیدھا حملہ نقصان دے گا۔ میری طرف دیکھ،میں نے غلام حیدر کی ساری مونگی اُجاڑ دی اور ایک نوکر بھی مار دیا۔اب کُتے کی طرح زخم پر دُم مارتا پھرتا ہے۔ دیکھنا تھوڑے دنوں میں کیڑے پڑجائیں گے پھر اس قابل بھی نہیں رَہے گا۔ زیادہ سے زیادہ تین سو دو کا کیس ہو گا، جس میں میری ضمانت پہلی پیشی پر لازمی ہے۔کیونکہ نہ ثبوت نہ گواہ۔ سیدھی لڑائی انگریز ی دور میں سراسر نقصان ہے۔ واہگرو دی سونہہ، غلام حیدر چوطرفہ نہیں لڑ سکتا۔ بس ایک طرف ہو کر وَکھّی میں وار کرو۔

 

شریف بودلہ،جو ابھی تک خاموش بیٹھا صرف حقہ پیے جا رہاتھا، بولا: سُودھا سنگھ بات سیدھی کر، بجھارتوں کا وقت نہیں۔

 

شریف بودلے کے اس سوال پر سودھا سنگھ کی بجائے دھیر سنگھ بولا: “چوہدری جی،سردار سودھا سنگھ کے کہنے کا مطبل ہے، غلام حیدر سے سیدھا پھڈا لینے کی بجائے اُس کی رعایا کے مال پر ہاتھ صاف کرو۔سٹ پہ سٹ مارتے جاؤ۔ اس کی رعایا کو جتنا زیادہ نقصان دوگے، غلام حیدر کے اوسان اتنے ہی بے وَسے ہوں گے۔ آخر بوندلا جائے گا۔ رعایا کے پاس تو مقدمے باز ی کے لیے پیسہ ہوتا نہیں۔وہ غلام حیدر سے ہی جا جا کر فریادیں کریں گے۔ اب آپ ہی بتا ؤ، بچارا کہاں تک ان کے مقدمے بھگتے گا۔ آخر تھک کر لاہور بھاگ جائے گا۔ رہا رفیق پاولی، تو وہ بے چارا، پاولی کا پاولی، منشی کی کیا حیثیت ہوتی ہے۔چوہدری صاحب اس کارا دھاری میں غلام حیدر کی رعایا اُس سے بددل ہو جائے گی۔ آخر بے چارے لاوارث آپ کی جھولی میں آ گریں گے۔ بس رعایا آپ سے مل گئی تو آرام سے زمینوں پر بغیر رجسٹری کے قبضہ ہو جائے گا۔ پھر زمین تو ہوگی غلام حیدر کی اور اُس میں واہی بیجی کریں گے آپ اور ہم۔ آئی بات سمجھ میں چوہدری صاحب؟

 

“ہوں” عبدل گجر نے سوچتے ہوئے ہنکارا بھرا۔ عبدل کو جال کی طرف آتے دیکھ کر سودھا سنگھ نے دھیر سنگھ کی بات مزید آگے بڑھائی اور بولا:

 

تمہارے گاؤں کے نزدیک شاہ پور جو غلام حیدر کا گاؤں ہے، وہاں بندے بھیج کر رات کو ساری بھینسیں گھیر لاؤ اور ہدایت کر دو کہ اس کام میں ہو سکے تو ایک آدھ بندہ بھی پھڑکا دیں۔ جب چاروں طرف سے یلغار ہو گی تو غلام حیدر کس کس کا مقابلہ کرے گا۔ ساری برادری اُس کی پاکپتن بیٹھی ہے۔وہ تو فیروز پور اور جلال آباد آ کر ہم سے مقابلہ کرنے سے رہی۔

 

“ہوں”ٹھیک ہے۔عبدل گجر اور شریف بودلے نے یہ سن کر مونچھوں پر ہاتھ پھیرا۔

 

عبدل دل میں سوچنے لگا کہ آج کسی سکھ نے بھی کوئی کام کی بات کی ہے۔ورنہ تو ہر وقت دماغ کے بارہ ہی بجے ہوتے ہیں۔

 

“انھیں متاثر ہوتا دیکھ کر سودھا سنگھ نے گرم لوہے پر ایک اور ضرب لگائی” چوہدری عبدل سوچنے کا وقت نہیں پربھا کا نام لے کر آج ہی کام شروع کردو۔ میں اپنے بھی کچھ بندے بھیج دوں گا، اگر تمہیں اکیلے میں کچھ شُبہ ہے کہ کام ادھورا نہ رہ جائے تو مَیں متھا سنگھ اور رنگا کو بھی حملہ کی رات تیری پارٹی میں بھیج دوں گا۔ مَیں تو مِتروں کا مِتر ہوں عبدل بیبا۔

 

ٹھیک ہے سودھا سنگھ، “عبدل گُجر سودھا سنگھ کی اس آخری امداد سے متفق ہوتے ہوئے بولا” میں سارا منصوبہ کر کے تمہیں اپنی دلیل بتا دوں گا۔ پچاس ایکڑ تو اب میں لے کے رہوں گا۔

 

القصہ رات پچھلے پہر تک اس مسئلے پر بحث اور گفتگو رہی جس میں بہت سے پہلوؤں پر غور کیا گیا اور ہر معاملے کو بڑی سنجیدگی سے دیکھ کر ایک طے شدہ پروگرام مرتب کیا۔جس کے تحت ہر حالت میں عمل درآمد کرناتھا۔ عبدل گجر اور شریف بودلے نے رات وہیں سودھا سنگھ کے ڈیرے پر بسر کی۔ اپنی اپنی پگڑیاں بدلیں۔ قرآن اور گرنتھ پر قسمیں کھائیں۔ جس کے تحت ایک دوسرے کی مدد کے وعدے کیے اور بالآخر سب لوگ اطمینان سے سو گئے جبکہ باقی لوگ جن کے گھر وہیں تھے، وہ اپنے گھروں کو چلے گئے۔

 

دوسرے دن صبح مرغ کی اذان کے ساتھ ہی عبدل گجر اور شریف بودلہ جاگ اُٹھے۔ سودھا سنگھ جو غالباً باقی رات بھی نہیں سویا تھا بلکہ گرو جی کی جَے میں پوجا پاٹ کو بیٹھا رہا، ان کے جاگتے ہی آ گیا۔ کچھ دیر ادھر اُدھر کی باتیں کرتے رہے۔ اتنے میں نور دین ماچھی ناشتے کا ٹوکرا سر پہ رکھے آ گیا۔ سردار جی نے خاص اہتمام ناشتے کا کیا تھا۔جس کا سارا انتظام نور دین ماچھی کے گھر میں کیا گیا۔ ناشتے میں دیسی مرغ کا گوشت، مکھن، شکر، لسی اور دیسی گھی میں تر پراٹھے تھے۔

 

نوردین نے چوہدریوں کے سامنے ناشتہ بڑے سلیقے سے رکھ دیا۔ سچ پوچھیں تو سودھا سنگھ نے رات سے لے کر اب تک اُن کی اتنی آؤ بھگت کی کہ اب وہ دل و جان سے سردار جی کے ساتھ مل کر غلام حیدر کا تِیّا پانچا کرنے کو تیار ہو گئے۔ ناشتے کے بعد حقے کے کش لیتے لیتے سورج کافی چڑھ آیا تو انھوں نے سودھا سنگھ سے کہا، بگھی تیار کروا دے تاکہ جلد اپنے گاوں پہنچ کر منصوبے پر عمل شروع کریں۔

 

(جاری ہے)
Categories
فکشن

بلّو، پنکی اور سابو

جے پی رائے دہلی ہائی کورٹ میں کئی سال سے پریکٹس کر رہے تھے۔ وکلاء کے ساتھ مصیبت یہ ہے کی وہ زندگی بھر پریکٹس کرتے ہیں اور اس کے بعد براہ راست کم ہی ریٹائر ہوتے ہیں، خاص کر وہ جن کو مشق کے بعد استادی بھی حاصل ہو جاتی ہے۔ جے پی رائے ایسے ہی وکیل تھے اور ان کی پریکٹس بھی بڑی جمی جمائی ہوئی تھی۔ لیکن یہ کہانی ان کی نہیں بلکہ ان کے تحت پریکٹس کرنے والی اور ان کی اسسٹنٹ نیلم پانڈے کی ہے۔ نیلم، عمر تیس سال، قد مجھولا، رنگ گندمی، غیر شادی شدہ۔ نیلم تین سال سے جے۔ پی رائے کے یہاں کام کر رہی تھی۔ اس کا بنیادی کام کیس سٹڈی کرنا اور اس کے کمزور نکات کو تلاش کرنے کی کوشش کرنا، موکل سے میٹنگ طے کرنا، پیسوں کی لین دین طے کرنا وغیرہ تھا۔ گزشتہ چھ سات مہینوں سے وہ کوئی چھوٹا موٹا کیس آزادانہ طور پر لڑنا چاہتی تھی، ایک دو بار اس نے جے۔ پی رائے کو اس بات کا اشارہ بھی دیا پر انہوں نے ان اشاروں کو نظر انداز کر دیا۔ لیکن گزشتہ کیس میں نیلم کی دی ہوئی تمام باتیں اور اصطلاحات کیس کے لئے ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوئی تھیں، اس لئے نیا کیس، جو باپ بیٹے کے درمیان زمین کے جھگڑے کا تھا، انہوں نے نیلم کو دے دیا۔

 

نیلم اپنے موکل کا انتظار کر رہی تھی۔ تاہم اس نے پہلے ڈھیروں موکلوں سے ڈیل کیا تھا، لیکن یہ پہلا موکل تھا جس کا کیس وہ خود لڑنے والی تھی اس لیے پورا بدن دماغ بن کر سوچ رہا تھا۔ تبھی آفس کے دروازے پہ دستک ہوئی۔ نیلم نروس تو تھی ہی، یہ دستک بھی سیدھا اس کی دھڑکن پر بجی تھی، جی دھک سے رہ گیا اس کا۔ وہ سنبھل کر بیٹھ گئی۔ جیسے سنبھل کر بیٹھنا کیس جیتنے کی پہلی سیڑھی تھا۔ نیلم کے ‘کم ان’ کہنے کے ساتھ ہی وہ دستک چہرہ بنی۔ ایک جانا پہچانا چہرہ۔ حالانکہ اس کے چہرے پر گزرے بائیس سالوں کی دھول جمی ہوئی تھی لیکن وہ دھول اس کی شناخت چھپانے کے لئے کافی نہیں تھی۔ نیلم جس کرسی پر بیٹھی تھی اچانک جیسے وہ جلانے لگی۔ ایک بچھو جو بہت دن سے اس کے اندر سویا ہوا تھا اس دن پھر جاگ گیا۔ ایک درد سا اٹھا اور وہ گرنے گرنے کو ہوئی۔ ٹیبل پر رکھا ہوا پیپر ویٹ اس کے ہاتھ سے لگا اور بائیس سال پیچھے جا گرا، جب وہ آٹھ سال کی تھی۔۔

 

جہانگیر پوری میں نیلم کے گھر کے بغل میں ہی اس کے دوست سونو کا گھر تھا۔ دونوں پکے دوست تھے، اور ان کی پکی دوستی میں سیمنٹ کا کام کامکس نے کیا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کے کامکس ادل بدل کر پڑھا کرتے تھے۔ اسی تبادلہ میں ان دونوں نے ایک دوسرے کے نام بھی کامکس کے کرداروں سے بدل دیے۔ نیلم سونو کو بلّو کہا کرتی تھی تو سونو نیلم کو پنکی کہا کرتا تھا۔ اور ان ناموں کے سامنے دونوں کو اپنے ماں باپ کی طرف سے رکھا گیا نام بیکار لگتا تھا۔ سونو بہت چاہتا تھا کہ وہ بلّو جیسا ہیئر اسٹائل رکھے، لیکن ذرا سے بال لمبے ہوتے تھے کہ اسکول میں ریاضی کے ماسٹر کو اس کو پیٹنے کا من کرنے لگتا تھا، اور وہ سب سے پہلے اس کا بال پکڑ کر ہی گھمانے لگتے تھے۔ ہاں نیلم ایک ہیئربینڈ لگا کر اپنے آپ کو پنکی ضرور سمجھنے لگتی تھی۔ اسے بس افسوس اس بات کا تھا کہ اس کے پاس کوئی گلہری نہیں تھی جس کا نام وہ کامکس والی پنکی کی طرح كٹ كٹ رکھے، اس لئے اس نے محلے کی ایک بیمار کتیا کا نام كٹ كٹ رکھ دیا۔ ایک دن نیلم کا من كٹ كٹ کے ساتھ کھیلنے کا ہوا اور كٹ كٹ کا من نیلم کو کاٹنے کا۔ كٹ كٹ نیلم کو کاٹنے کو آگے بڑھی ہی تھی کی سونو کے پاپا آ گئے، اور كٹ كٹ کو ایک کک مار کر بھگا دیا۔ چچا چودھری کی کامکس میں سابو کی آمد بھی اکثر ایسے ہی موقعوں پر ہوتی ہے۔ جب مصیبت کسی اور طریقے سے نہیں ٹل پاتی ہے تب سابو آتا ہے۔۔۔

 

سونو کے پاپا اچھے خاصے لمبے چوڑے آدمی تھے۔ محلے بھر میں ان کی بہادری اور پہلوانی کے چرچے ہوتے تھے، جن میں سے زیادہ تر چرچے ان باتوں کے تھے جو باتیں خود خود سونو کے پاپا نے پھیلائی تھیں۔ انہوں نے ایک بار اپنے گھر میں گھسے ایک مريل چور کو پکڑا تھا اور اس کو پیٹھ پر لاد کر تھانے لے گئے تھے۔ نیلم نے جب یہ منظر دیکھا تھا تو اسے سابو یاد آ گیا تھا۔ انہی تمام وجوہات سے نیلم انہیں سابو انکل کہتی تھی، ایسا سابو جس کا کوئی چچا چودھری نہیں تھا۔ سابو انکل بھی نیلم کو اپنے بیٹے سونو کی ہی طرح پنکی بلاتے تھے۔۔۔

 

سونوجب بہت چھوٹا تھا تبھی اس کی ماں کا انتقال ہو گیا۔ سابو انکل نے اپنی بیوی کی یاد سے بچنے کے لئے ان سے منسلک ہر چیز خود سے دور کر دی تھی۔ اس وجہ سے سونو کو بہت وقت تک پتہ بھی نہیں تھا کہ اس کی کوئی ماں بھی تھی۔ ایک دن اسکول میں جب اس نے جانا کہ ہر بچے کی ایک ممی ہوتی ہے تو وہ پہلے بہت اداس ہوا، بعد میں بہت رویا۔ جب وہ رو رہا تھا تو نیلم اس کے ساتھ تھی۔ نیلم نے اسے چپ کرایا اوراسے اس کے گھر تک چھوڑا۔ یہ پہلی بار تھا جب نیلم اس کے گھر گئی تھی۔ وہ جب رو دھو کے چپ ہو گیا تو اس نے نیلم سے جانے کے لئے کہا کیوں کہ اب اس کے کامکس پڑھنے کا وقت ہو چلا تھا۔ ‘کامکس۔۔۔’ یہ لفظ سنتے ہی نیلم اچھل پڑی۔ نیلم نے اسے بتایا کے اس کے پاس بھی ڈھیر ساری کامکس ہے۔ اسے اپنی تمام کامکس کے نام بھی یاد تھے۔ سونو نے اس کے سامنے کامکس ادل بدل کر پڑھنے کی تجویز پیش کی، ساتھ ہی اس نے یہ بھی کہا کہ اگر وہ اس کی بات مان جاتی ہے تو وہ اسے کلاس میں بھی کامکس پڑھنے کا طریقہ بتائے گا۔ نیلم لمبی کتابوں اور كاپيوں میں چھپا کر کامکس پڑھنے کا طریقہ پہلے سے ہی جانتے تھی لیکن پھر بھی اس نے سونو کی بات مان لی۔۔۔

 

نیلم کئی بار سونو کی کامکس واپس کرکے اپنی کامکس لینے یا اپنی کامکس دے کے اس کی کامکس لینے اس کے گھر جاتی تھی، تواس کی ملاقات سابو انکل سے ہو جاتی تھی، اور نیلم کو دیکھتے ہی ان کا جی اسے گدگدانے کا کرنے لگتا تھا۔ وہ نیلم کو خوب گدگداتے تھے اور گدگداتے ہوئے اپنے منہ سے گدگدی کرنے کی آواز ‘گدگدگدگد’ نکالتے تھے۔نیلم کو کہیں کہیں خوب گدگدی ہوتی تھی کہیں ذرہ بھی نہیں۔ نیلم کو سمجھ نہیں آتا تھا کہ آخر وہ ایسی جگہوں پر زیادہ کیوں گدگداتے تھے جہاں گدگدی نہیں ہوتی۔ کئی بار گدگداتے گدگداتے وہ اس کے گالوں پر اپنی داڑھی رگڑنے لگتے تھے۔ وہ ہنستے ہنستے ہی چیختی تھی اور ان سب باتوں کو صرف ایک کھیل سمجھتی تھی۔ لیکن اس کھیل میں اسے درد ہوتا تھا۔ ایسا بھی کوئی کھیل ہوتا ہے بھلا؟ درد والا۔۔ وہ اس کھیل سے بچنا چاہتی تھی۔ کبھی کبھی جب گھر پہ جب سونو نہیں ملتا تھا تو سابو انکل اسے پہلے جی بھر کر گدگداتے اور پھر ہانپتے ہوئے کہتے ‘بیٹا ! جب سونو آ جائے تب آنا’۔ اور وہ ‘جی نکل’ کہہ کر بدن میں ہلکا درد سمیٹے ہوئے لوٹ جاتی تھی۔۔

 

بعد میں سونو کے گھر وہ سابو انکل کی موجودگی کی تحقیقات کرکے جانے لگی۔ وہ ہر طرح سے ان گدگدیوں سے بچنا چاہتی تھی۔ کئی بار جب اسے سابو انکل نہیں ملے تو وہ لاپرواہ ہو گئی اور ایک دن پکڑی گئی۔ سونو گھر میں نہیں تھا، صرف سابو انکل تھے اور انہوں نے صرف چڈی پہنی تھی، ٹھیک کامکس والے سابو کی طرح، لیکن ان کے کانوں میں نہ سابو جیسے کنڈل تھے نہ پیروں میں گم بوٹ۔ وہ نیلم کے قریب آئے اور اسے دیر تک گدگداتے رہے۔ نیلم پہلے ہنسی، پھر ہنستے ہنستے چیخی، پھر صرف چیختی رہی۔ انہوں نے ایک ہاتھ سے اس کا منہ بند کر دیا اور دوسرے ہاتھ سے گدگدانے لگے۔ ان کا دوسرا ہاتھ بہت دیر تک اسے گدگداتا رہا۔ وہ جب اٹھی تو اس کی ٹانگوں کے درمیان درد ہو رہا تھا۔ ایسے جیسے کوئی بچھو ڈنک مار رہا ہو۔ وہ ایک قدم چل رہی تھی تو ایک ڈنک لگ رہا تھا۔ ایک قدم۔ ایک ڈنک۔

 

وہ کسی طرح گھر پہنچی اور سو گئی۔ ماں نے اسے کھانا کھلانے کی کوشش کی مگر وہ نہیں اٹھی۔ رات میں اس نے خواب میں دیکھا کہ وہ زمین پر گری ہوئی ہے اور سامنے کھڑے ایک نقاب پوش کے دونوں ہاتھوں سے ڈھیر سارے بچھو نکل رہے ہیں۔ وہ بچھو ٹھیک اس کی ٹانگوں کے درمیان بڑھ رہے ہیں۔ وہ بھاگنا چاہ رہی ہے لیکن بھاگ نہیں پا رہی ہے۔ بھاگنے کی اسی کوشش میں وہ چیختے ہوئے اٹھ بیٹھی۔ اس کی چیخ کا ہاتھ تھام کر وہاں آئی ماں نے جب اسے چھوا تو اس کا بدن بخار سے بھیگا ہوا تھا۔۔

 

والد کی دی ہوئی دوائی سے دو دن بعد بخار تو اتر گیا لیکن بچھو نیلم کے اندر ہی رہ گیا اور وقت بے وقت وہ اسے ڈنک مارتا رہا۔ نیلم کی نیند ایک کمرہ تھا جس میں وہ نقاب پوش ہمیشہ کے لئے آ گیا تھا۔ اور نیلم کو خواب میں بھی معلوم رہتا تھا کہ اس نقاب کے پیچھے کون ہے؟ نیلم جیسے ہی نیند کے اس کمرے میں پہنچتی تھی، گر جاتی تھی، کوئی پوشیدہ ہاتھ زمین سے نکل کر جیسے اس کے ہاتھ پاؤں پکڑ لیتا تھا اور اس آدمی کے ہاتھوں سے بچھو نکل کر اس کی ٹانگوں کے بيچوں بیچ بڑھنے لگتے تھے۔ بچھوؤں سے بچنے کی کوشش میں وہ ہر بار جاگ جاتی تھی۔ نیند کے اس کمرے سے باہر آنے کا آخر یہی ایک طریقہ تھا۔

 

نیلم کی آنکھوں کو دیکھ کر یہ اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ رتجگوں کا رنگ سرخ ہوتا ہے۔ کئی دن تک جب وہ سونو کے گھر نہیں گئی تو ایک دن اس کے گھر سونو خود ہی چلا آیا۔ وہ اس کے لئے بلّو کی نئی کامکس لایا تھا اور اگر نیلم کے پاس کوئی نئی کامکس تھی تو وہ اسے لینا چاہتا تھا۔ نیلم نے اس سے کہا کہ اس کا کامکس پڑھنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور وہ وہاں سے چلا جائے۔ نیلم اداس تھی سونو نے اس سے اس کی اداسی کا سبب پوچھا۔ جواب میں نیلم نے اسے دوبارہ جانے کے لئے کہا لیکن سونو وہیں کھڑا رہا اور تب تک کھڑا رہا جب تک کہ نیلم نے اسے اپنی سرخ سرخ آنکھوں سے گھورا نہیں۔

 

نیلم کی راتوں کے ٹکڑے ہو گئے تھے۔ سرخ رنگ اب اس کی آنکھوں کا قدرتی رنگ ہو جانا چاہتا تھا۔ اس دن کی گدگدی نے اس کی عمر بڑھا دی تھی اور اس نے کامکس پڑھنا چھوڑ دیا تھا۔ سونو اب بھی بچہ تھا اور اب بھی کامکس پڑھتا تھا۔ وہ اس سے ملنے نہیں آتا تھا۔ اب وہ نئے دوست کی تلاش میں تھا۔ وہ گم سم اسکول جاتی اور گم سم اسکول سے چلی آتی۔ ایک دن نیلم کا کامکس نہ پڑھنا، گم سم رہنا، وقت پہ اسکول جانا اور آ جانا یہ سب اچانک اس کی ماں کو نظر آیا۔ ماں نے اس سے جب کئی بار پوچھا تب نیلم نے انہیں بتایا کہ سابو انکل نے اسے ‘گندی جگہ’ گدگدايا ہے اور اتنا گدگدايا ہے کہ وہاں درد ہو رہا ہے۔ بات ماں سے باپ تک پہنچی اور وہ سونو کے پاپا کے پاس پہنچے۔ سونو کے پاپا نے نیلم کے والد کو بہت مارا، اور پولیس کے پاس جانے پر پورے خاندان کو مار ڈالنے کی دھمکی بھی دی۔ اپنے والد کی یہ حالت دیکھ کر نیلم کا بہت دل ہوا کہ وہ جا کر سابو انکل کو تھپڑ مارے لیکن وہ ان گدگدیوں کو یاد کر کے سہم گئی۔

 

نیلم اور اس کا پورا خاندان جہانگیر پوری سے لکشمی نگر آ گیا۔ آہستہ آہستہ اس کی نیند کا کمرہ بھی خالی ہو گیا۔ وہ وہاں جاتی اور رات بھر اسی کمرے میں رہتی۔ آنکھوں کا سرخ رنگ بھی کچا ثابت ہوا اور اس کی آنکھوں سے اڑ گیا۔ وہ ٹھیک ہو گئی یا یوں کہہ لیا جائے کہ وہ سب کچھ بھول گئی۔ اب بھول جانا تو ٹھیک ہو جانا نہیں ہوتا نا۔ اس نے پھر سے کچھ کامکس پڑھنی چاہی لیکن اسے احساس ہوا کہ وہ ان سے بور ہو جاتی تھی۔ شاید یہ بڑے ہو جانے کے سائیڈ افیکٹس میں میں سے ایک تھا۔

 

جب وہ ایل ایل بی فرسٹ ائير میں آئی تب ایک لڑکے وشال نے اس سے اپنی محبّت کا اظہار کیا۔ تھوڑی بہت نا نكر، جو نا نوکر سے زیادہ ہچکچاہٹ تھی، کے بعد نیلم نے اس کی محبت کو قبول کر لیا۔ دونوں پکے عاشق معشوق تھے، اور ان کے درمیان سیمنٹ کا کام کیا قطب مینار، لودھی گارڈن، سنیما ہال، سروجنی نگر مارکٹ وغیرہ نے۔ ایک دن لودھی گارڈن میں بیٹھے بیٹھے وشال نے اس کے ہونٹ چوم لئے۔ نیلم نے بھی اس بات کا جواب دینا ضروری سمجھا اور وشال کے ہونٹ چوم لئے۔ وشال کا ایک ہاتھ نیلم کے سینے پہ سرک آیا۔ نیلم کو گدگدی سی اٹھتی ہوئی محسوس ہوئی جو اس کے پورے بدن میں پھیل گئی۔ اس گدگدی نے کئی سال سے سوئے بچھو کو جگا دیا۔ اس نے اپنے ہونٹ وشال کے ہونٹ سے ہٹا لئے، پھر وہاں سے اٹھی اور چلی گئی۔وشال اسے آواز دیتا رہا جو اس کی پیٹھ سے ٹکرا ٹکرا کر لودھی گارڈن کی گھاسوں پر گرتی رہی۔ اس دن سے اس کی نیند کے کمرے میں پھر ایک نقاب پوش آ گیا۔ نیلم پھر سے نیند کے کمرے میں گرنے لگی اور نقاب پوش کے ہاتھوں سے نکلے ہوئے بچھو اس کی اور بڑھنے لگے۔

 

ان دنوں وہ سرخ سرخ آنکھیں لئے ہی کالج جاتی تھی۔ وشال اس دن اسے آواز دے دے کر تھک چکا تھا اور چاہتا تھا کہ اب نیلم ہی اس سے بات کرے، لیکن نیلم کی طرف سے پہل ہونے کا انتظار کرنے میں بھی اسے تھکاوٹ لگ گئی۔ اس نے ایک دن پھر نیلم سے بات کرنے کی کوشش کی۔ اس نے وشال کو وہاں سے چلے جانے کے لئے کہا، لیکن وشال وہیں کھڑا رہا جب تک کہ نیلم نیں اسے اپنی سرخ سرخ آنکھوں سے گھورا نہیں۔ اس دن جب وشال گیا تو چلا گیا۔ نیلم اس کی واپسی چاہتی بھی نہیں تھی۔ وقت لگا پر نیند کا کمرہ پھر سے خالی ہو گیا، سرخ رنگ اس بار بھی اڑ گیا اور بچھو پھر بدن کے کسی کونے میں جا کر سو گیا۔ بعد میں نیلم کے ماں باپ نے بہت چاہا کہ وہ شادی کر لے لیکن وہ اس گدگدی اور بچھو کا خیال آتے ہی سہم اٹھتی تھی اور شادی کرنے کی ہمت ہی نہیں جٹا پاتی تھی۔

 

نیلم ہمت ہمّت جٹا کر کھڑی ہوئی، پیپرویٹ جو اس کے ہاتھ سے لگ کر زمین پر گر گیا تھا اسے اٹھایا۔ تب تک وہ مانوس چہرہ، جسے وہ سابو انکل کے نام سے جانتی تھی، اس کے قریب آ گیا۔

 

‘ہیلو ۔۔’

 

نیلم اس ہیلو کے جواب میں پیپرویٹ اس کے منہ پر مار دینا چاہتی تھی، پر آفس میں ہونے کے خیال نے اسے روک لیا۔ اب وہ یہ کیس بالکل نہیں لڑنا چاہتی تھی۔ آخر وہ اس آدمی کی مدد کیسے کرتی جس نے اس کی زندگی کو ایک بچھو گھر بنا دیا تھا۔ پھر اس نے دل ہی دل میں فیصلہ کیا کہ وہ یہ کیس لے گی، لڑے گی اور ہار جائے گی۔ اور اس کا کیس ہار جانا ہی اس کا بدلہ ہوگا۔

 

‘جی سندیپ پال نام ہے میرا۔۔۔ جے۔ پی رائے نے آپ سے ملنے کے لئے کہا ہے، آپ ہی لڑیں گی میرا کیس ۔۔؟’

 

کتنی حیرت کی بات تھی، جس آدمی نے اس کی زندگی بدل دی تھی آج تک وہ اس کا اصل نام ہی نہیں جانتی تھی۔ سندیپ پال ۔۔ یہ نام سابو انکل جیسے خطاب سے بہت دور تھا۔ یہ بات سوچتے ہوئے نیلم نے سوچا کہ اچھا ہی ہے جو یہ نام سابو انکل سے خطاب سے دور ہے، شاید اس نام سے پکارتے وقت اسے بہت زیادہ دکھ نہیں ہوگا۔

 

‘بیٹھيے سندیپ جی ۔۔۔’ یہ کہتے ہوئے نیلم نے سامنے والی کرسی کی طرف اشارہ کیا۔ اس نے محسوس کیا کہ ‘سندیپ جی’ جیسے خطاب سے پکارنے پر بھی اس کا دکھ کہیں سے کم نہیں ہوا۔ مرچ کو چینی کہہ دینے سے آخر وہ میٹھی تو لگے گی نہیں، نام بدل دینے سے کسی شے کی تاثیر تو نہیں بدل جاتی ہے۔ نیلم کو لگ رہا تھا کے اب یہ آدمی اپنے دونوں ہاتھ سامنے لا کر ‘گدگدگدگد’ بولے گا۔ بس اسی خیال سے نیلم کے اندربچھو تیزی سے کروٹیں بدل رہا تھا، اور وہ اس کا درد برداشت نہیں کر پا رہی تھی۔ اس نے سندیپ پال سے اگلے دن آنے کو کہا۔

 

نیند نیلم کے کمرے کے باہر ہی کھڑی رہ گئی۔ وہ رات بھر اپنے کمرے میں ادھر سے ادھر کیرم بورڈ کے اسٹرائیکر کی طرح گھومتی رہی۔ وہ سندیپ کا کیس ہارنا چاہتی تھی۔ بچپن میں جوطمانچہ وہ اسے نہیں مار سکی تھی اب مارنا چاہتی تھی۔ وہ اپنے اندر پڑا بچھو نکال کر سندیپ کے اندر ڈال دینا چاہتی تھی۔ اس نے اور بھی خوفناك سزائیں سوچیں لیکن کوئی بھی سزا اس ناکافی ہی لگی۔

 

رات اس کی آنکھوں کو لال رنگ میں رنگ کے چلی گئی۔ دیر تک جب وہ آفس نہیں گئی تو جے پی رائے کا فون آیا اور انہوں نے اس کو پہلے ہی کیس میں اتنی لاپرواہی برتنے پر ڈانٹنے کے ساتھ ساتھ اس کو فوراً ہی آفس آنے کو کہا۔ وہ آفس پہنچی تو اس نے سندیپ پال عرف سابو انکل کو اس کا انتظار کرتے ہوئے پایا۔ نیلم نے سندیپ سے کیس کی پوری ڈیٹیل لی، ہارنے کے لئے بھی مکمل ڈیٹیل کی ضرورت تھی ہی چونکہ اسے صرف ہارنا نہیں تھا بلکہ اپنی شکست کو قابل اعتماد بھی بنانا تھا۔ اور یہ کام کیس جیتنے سے بھی مشکل تھا۔ اور اگر وہ ایسا کر لے تو اپنے پہلے کیس میں اس کے لئے اس سے اچھی جیت نہیں ہو سکتی۔ کیس کی ڈیٹیل کے ساتھ سندیپ عرف سابو انکل کی زندگی کے کچھ ریشے اس کے دل سے چپک گئے، جیسے کہ سندیپ پال نے دوسری شادی کی اور دوسری شادی سے ایک بیٹی ہے جس کا نام انیتا ہے، جیسے کہ انیتا کی شادی کے لئے سندیپ سنت نگر کا اپنا پلاٹ فروخت کرنا چاہتا تھا۔ سونو جو کہ نیلم کے اچانک بڑے ہو جانے سے پہلے اس کا دوست تھا اور جو اسے پنکی پنکی کہہ کر بلاتا تھا، اس پلاٹ کو فروخت کرنے کے حق میں نہیں تھا اور اس پلاٹ کو بزرگوں کی جائیداد ثابت کرنے پر تلا ہوا تھا۔ بزرگوں کی جائیداد کو گھر کے تمام اراکین کی رضامندی کے بغیر فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ سندیپ جس وقت نیلم کو بتا رہا تھا کہ اگر وہ یہ پلاٹ فروخت نہیں کر پایا تو انیتا کی شادی نہیں کر پائے گا، اس وقت اس کی آنکھیں بھری ہوئی تھیں۔ نیلم نے سندیپ کی بھری ہوئی آنکھیں دیکھیں اور اس پر رحم نہ آ جائے اس لئے سوچا ۔۔ ‘تو کیا ہوا ۔۔۔ میں بھی تو شادی نہیں کر سکی اب تک ۔۔’۔ صحرا میں کتنی بھی بارش ہو ریت اسے پی ہی جاتی ہے اور نیلم ایک چلتا پھرتا صحرا تھی۔

 

سندیپ کی طرف سے آئے گواہوں، ثبوتوں اور سونو کی طرف سے آئے نقلی گواہوں ثبوتوں کے درمیان کورٹ کی پہلی تاریخ بیتی۔ کورٹ کے باہر سندیپ، سندیپ کی بیوی ممتا اور بیٹی انیتا سے نیلم کی ملاقات ہوئی۔ انیتا نے نیلم کو بتایا کہ اس کے والد اس کی بہت تعریف کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ کیس ہم جیت جائیں گے۔ نیلم نے کیس جیتنے کی خوشی انیتا کی آنکھوں میں کیس جیتنے سے پہلے ہی دیکھ لی۔ انیتا کی آنکھیں اسے اچھی لگیں، انیتا کی آنکھیں روشن تھیں اور ان سے سیدھا دل میں جھانکا جا سکتا تھا۔ جیسے صاف پانی کی جھیلوں میں جھانکو تو ان کے نچلے حصے ظاہر ہوتے ہیں، ویسے ہی۔ اس نے سوچا کہ وہ بھی اگر ہمیشہ ٹھیک سے سو پائی ہوتی تو شاید اس کی آنکھیں بھی اتنی ہی اچھی اور روشن ہوتیں اور ان سےبھی سیدھا دل میں جھانکا جا سکتا۔ اچانک اس نے دیکھا کہ ان لوگوں سے تھوڑی دور پر ایک اسی جیسی وکیل، انیتا جیسی ایک لڑکی کو خاموش کرا رہی ہے۔ وہ کیس ہار گئے ہیں اور انیتا جیسی لڑکی کی آنکھیں بہت بھدی نظر آ رہی ہیں۔ وہ ڈر گئی اور اس نے سوچا کی انیتا کی آنکھیں ایسی ہی خوبصورت لگتی رہنی چاہئے۔ سندیپ نے جب جانے کی اجازت مانگی تو نیلم کا دھیان ٹوٹا۔ سامنے نہ کیس ہاری ہوئی کوئی لڑکی تھی نہ اس جیسی کوئی وکیل، پھر بھی اس نے سوچا کہ انیتا کی آنکھیں خوبصورت لگتی رہنی چاہئے۔

 

نیلم جب بھی کیس کو ہارنے کے بارے میں سوچتی اسے انیتا کی آنکھیں یاد آ جاتیں۔ وہ رات بھر جاگتی اور سندیپ عرف سابو انکل کو سزا دینے کے طریقے سوچتی۔ لیکن دن میں انیتا کی آنکھوں کے بارے میں سوچتے ہی کیس کو جیتنے کے طریقے سوچنے میں لگ جاتی۔ راتیں پھر اس کی آنکھوں میں سرخ رنگ لگانے لگیں۔ اپنے ہی دماغ کے دو خیالات سے لڑتے ہوئے وہ سوچتی کہ ایک دن اس کے جسم سے ایک اور نیلم نکلے۔ ایک نیلم جو سابو انکل کو سزا دے اور جسے کیس کے جیتنے ہارنے سے کوئی مطلب ہی نہ ہو، اور دوسری نیلم جو جا کر وہ کیس جیت لے جسے سابو انکل کو سزا نہ دینے کا کوئی ملال نہ ہو۔ لیکن مشکل تو یہی تھی ان دونوں محاذوں پر ایک تنہا نیلم کو ہی لڑنا تھا اور دونوں میں سے ایک محاذ پر اس کی ہار طے تھی۔

 

دو تین تاریخیں گزریں اور نیلم نے عدالت میں یہ ثابت کر دیا کہ سنت نگر میں واقع سندیپ پال کا پلاٹ ان کے بزرگوں کی ملکیت نہیں بلکہ اس کی اپنی محنت سے حاصل کی ہوئی جائیداد ہے، اور وہ اسے بیچنے کے لئے آزاد ہے۔ نیلم سرخ آنکھوں میں آنسو لئے عدالت کے باہر کھڑی تھی۔ آنکھوں کے سرخ رنگ سے مل کر آنسو لاوا جیسے لگ رہے تھے۔ جھلمل جھلمل آنکھوں سے اس نے سندیپ کو اپنی طرف آتے ہوئے دیکھا اور اپنی آنکھوں پونچھ لیں۔ سندیپ کو یقین نہیں ہو رہا تھا کہ وہ یہ کیس اتنی آسانی سے جیت گیا ہے اور اس بات سے نیلم خود کو اور ہارا ہوا محسوس کر رہی تھی۔ سندیپ کو خوش دیکھ کر نیلم کا دکھ بڑھتا جا رہا تھا۔ وہ چلا چلا کر آس پاس کے لوگوں کو بتانا چاہتی تھی کہ سندیپ نے اس کے ساتھ کیا کیا تھا۔ وہ اس سے اپنے باپ کو پیٹنے کا بدلہ لینا چاہتی تھی۔ بائیس سال پرانا طمانچہ اب وہ مار ہی دینا چاہتی تھی۔ لیکن نہیں اس نے ابھی ابھی اپنا پہلا کیس جیتا تھا۔ ابھی ابھی وہ انیتا کی خوبصورت آنکھوں کی خوبصورتی کو لے کر مطمئن ہوئی تھی۔ اس کے اندر ماضی اور مستقبل کے کتنے تصادم ہو رہے تھے۔ کتنے ہی بادل گرج رہے تھے۔ پر سندیپ کی آنکھوں پر خوشی کا شیشہ چڑھا تھا اور اسے نیلم سے گزرتا ہوا ماضی نظر نہیں آ رہا تھا۔ اسے جلد سے جلد گھر پہنچ کر یہ خوشی گھر والوں سے بانٹنی تھی۔ وہ جانے لگا اور جاتے جاتے ایک بار مڑا۔۔۔

 

‘بیٹی ۔۔۔ انیتا کی شادی کا کارڈ بھیجوں گا ضرور آنا۔۔۔’
یہ کہہ کر وہ جانے لگا کہ اس کے پاؤں میں نیلم کی آواز چبھ گئی۔۔۔ وه ٹھہر گیا ۔۔

 

‘ٹھیک ہے سابو انکل۔۔۔’

 

سابو انکل ۔۔؟ سندیپ کے دماغ میں سوال اٹھا۔ پھر بائیس سال پرانا ایک آسیب اس کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ وہ مڑا تو اس کے سامنے آٹھ سال کی ایک بچی کھڑی تھی جس کے ہاتھ میں ایک کامک بک تھی۔
Categories
فکشن

سرائے

مزید مائیکرو فکشن پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

رہنما

 

غار سے نکل کر بے نور پتلیوں والے شخص نے رنگ برنگا جھنڈا ایک طرف رکھا!

 

بغیر سروں کے انسانی ہجوم کو بیٹھنے کا اشارہ کیا!

 

پھر دوسرے ہاتھ میں پکڑے چھرے کو کھونٹے سے بندھے نوخیز غزال کے پیٹ میں گھونپ کر آزاد کر دیا۔

 

اس کے رستے خون سے چہرہ تر کیا اور روشنی کی دعا مانگی غزال گیت گاتا، قلانچیں بھرتا رخصت ہوا۔

 

آسمانوں پر پنکھ پھیلائے ساکت گدھ نظریں جمائے ہوے دور کے درندوں کو خبر دے رہے تھے۔

 

میں حیران تھا۔

 

تھوڑی دیر پہلے ہی تو الاؤ روشن ہوا تھا کہ
کارواں ان راستوں میں کھو نہ جائیں جو اندھیروں میں گم ہو رہے تھے۔

 

جب خوشبو دار پھول راہ دکھانے پر مامور کیے گئے۔

 

الاؤ بھڑ کانے کو کتنے خوشبو دار پھولوںٰ کتنی نازک کلیوں اور تروتازہ کونپلوں نے اپنا وجود آگ کے سپرد کیا !

 

مگر افسوس قافلے والے دکانوں سے رنگ برنگے جگنو خرید کر انہی کی پھیکی روشنی میں راستہ بھٹک کر پتھیریلی وادیوں کی طرف نکل گئے۔

 

سرائے

 

وہ دلاویز مسکراہٹ سے ہر آنے والے کااسقبال کرتی۔ اس کا والہانہ انداز ہر مسافر کو یہ باور کرواتا کہ جیسے اس کو بس اسی کا انتظار تھا۔ آنے والا ہر مسافر سرشار تھا کہ وہ اس کا خاص مہمان ہے۔

 

مسافروں کی سرشاری دیدنی ہوتی کہ جب طاقتِ اظہار نہ ہونے کے باوجود وہ ان کی ضرورتوں کو بھانپ جاتیٰ۔ مہمان کو کس وقت کیا چاہیے وہ بن مانگے پیہم خدمت میں ڈٹ جاتی۔

 

مسافروں کو اس کا قطعاً ادراک نہیں تھا کہ اقتصادی اصولوں کے پیش نظر ہر چیز کی ایک قیمت مقرر ہے۔ وہ تو بس اس کی خدمت سے محظوظ ہو رہے تھے۔

 

مسافروں کو سرائے میں ٹھہرے ہوئے جب چند دن گزرے تو ان کو احساس ہوا کہ اب اس کی مسکراہٹ میں ایک اکتاہٹ کا عنصر نمایاں ہو چکا ہے۔

 

وہ آج بھی ان کی خدمت میں کوشاں تھی مگر ایسا لگتا تھا جیسے اب یہ سب بادل ناخواستہ کر رہی ہے وہ نئے آنے والے مسافروں سے خاص عنایت برت رہی تھی جبکہ پرانے مسافر اس کی بے اعتنائی و کج روی کا شکار ہوچلے تھے۔

 

پرانے مسافروں میں سب سے بوڑھا شخص جسے آج بھی اس کی وہ شاندار اسقبالیہ مسکراہٹ روز اول کی طرح یاد تھی اور وہی اس کے بدلے ہوئے رویے پر سب سے زیادہ دلبرداشتہ بھی تھا دھیرے سے اٹھا اور اپنا سامان باندھنے لگا۔ اس کی ڈبڈباتی ہوئی ملگجی آنکھیں تصور میں اپنا پہلا وجود دیکھنے لگیں کہ جس پر اس قتالہ نے ایک نگاہِ غلط انداذ ڈالی اور اسے غیر مرئی زنجیر سے جکڑ لیا تھا۔
بوڑھا مسافر اپنا سامان باندھ کر جھکی ہوئی کمر پر ہاتھ دھرے دروازے کی طرف بڑھا جہاں وہ اپنی روایتی حشر سامانیوں سے لیس نئے مسافروں کا اسقبال کر رہی تھی۔

 

بوڑھا اس کے قریب سے گزرا مگر اس نے اسے یوں نظر انداز کیا جیسے جانتی ہی نہیں بوڑھا مسافر دل گرفتہ ہوکر اس کی بے وفائی پر آنسو بہاتا ہوا دروازے تک پہنچا تو ایک آواز سماعت سے ٹکرائی سنیے !!!

 

یہ اسی کی مدھر آواز تھی۔ مسافر کی آنکھیں فرط مسرت سے جگمگا اٹھیں۔ تمام وسوسے دم توڑ رہے تھے وہ اسے بلا رہی تھی بوڑھے نے خود کو ملامت کیا کہ کیوں کر وہ اسے بے وفا سمجھا وہ تو اسے بلا رہی ہے۔

 

بوڑھے نے گھوم کر اس کی طرف دیکھا وہ اسی طرح شاداب تھیں کئی ہزار سال کی عمر پانے کے باوجود وہ اتنی ہی تر و تازہ تھی بولی حضور معذرت چاہتی ہوں گر خدمت میں کوئی کوتاہی ہوئی ہو اب آپ سے حساب ہو جائے؟

 

بوڑھے نے مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھا اپنی بند مٹھی اس کی طرف بڑھائی اور اپنی روح اس کی ہتھیلی پر رکھ دی۔
Categories
فکشن

چیخوف کی گلی میں

ٹوٹے بان والی چارپائی پہ لیٹا اسلم نائی مسلسل چھت کو گھورے جا رہا تھا۔ کسٹرڈ جیسے سبز روغن سے رنگی دیواریں اس بات کا ثبوت تھیں کہ جس کمرہ میں وہ لیٹا تھا وہ محض پرانا ہی نہیں تھا بلکہ اس کی آرائش کیے ہوئے بھی عرصہ بیت چکا تھا۔ بڑے بوڑھوں کے بقول یہ اسی زمانے کی بات ہے جب گاؤں میں پہلی بار لوگوں نے سفید چینی کے بارے میں سنا تھا اور پھر اس کا کوٹہ منظور ہوا جو گاؤں کے سب سے معتبر اور سمجھدار سمجھے جانیوالے شخص کو ملا۔ اسی زمانے میں بی ڈی ممبر کے بیٹے کی شادی پرگاؤں میں بجلی کی تاریں بچھیں اور کھمبے لگائے گئے اور پہلی بار مکانوں کو رنگ کیا گیا۔ شروع شروع میں روغن کرانے والوں کے متعلق لطیفے بھی کسے گئے۔ جیسے لوگ اب مکانوں میں نہیں بلکہ متنجن چاولوں میں رہا کریں گے۔ پھر دیکھے ہی دیکھتے ابلے ہوئے چاولوں کی طرح بے رنگ مکانوں کے متنجن بنتے گئے۔

 

اسی کسٹرڈ نما رنگ کے کمرے میں لیٹے ہوئے آج وہ مسلسل ماضی کو یاد کیے جا رہا تھا۔ گلی کے کنارے پر واقع ہونے کے باعث لوگوں کی آوازوں کا شور اسے بار بار حال میں کھینچ لاتا۔ لیکن ہر مرتبہ وہ سر کو جھٹک کر خود کو دوبارہ پیچھے دھکیلنے میں مصروف ہو جاتا۔ شور سے اس کے ذہن میں آندھی سی چلنے لگ جاتی مگر بستر میں دبکے ہونے کی بدولت اسے انجانے سے تحفظ کا احساس بھی تھا۔ اسے لگ رہا تھا کہ ان لوگوں سے اچھی تو یہ ٹوٹے روشندان والی دیواریں ہیں جنہوں نے لاکھ نظر انداز کئے جانے کے باوجود اسے پناہ دی ہوئی تھی۔ وہ سوچ رہا تھا کہ آج کی رسوائی کے بعد اگر یہ دیواریں بھی اپنی بے اعتنائی کا ہرجانہ طلب کرنے لگیں تو وہ کہاں پناہ ڈھونڈے گا۔ انہی سوچوں میں اسے گھر والوں کا خیال آیا جنہیں وہ کبھی اپنے قصے سنایا کرتا تھا کہ کیسے جب اس نے نوجوانی میں پہلی مرتبہ نے میلاد پر دیگ پکائی تو چاول یوں ختم ہو گئے کہ گویا کبھی پکے ہی نہ تھے۔ حالانکہ پہلے چاول پکوانے والے گھروں کو بھی لے جاتے اور ٹِپ کا بھی حصہ رکھا جاتا جہاں مولوی صاحب اور باہر سے آنے والے مہمان قیام کرتے تھے۔ اس کے بعد ایسا ہوا کہ آس پاس کے دیہات میں بھی اس کے ذائقے اور ہنر کے چرچے ہونے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے اردگرد کے تمام نائیوں کا روزگار ٹھپ ہونے لگا سوائے موسیٰ نائی کے جس نے مندی کے ان دنوں میں بھی اپنی پہچان قائم کیے رکھی۔

 

اس پذیرائی کے باوجود اس نے کبھی نخرے نہیں کیے اور نہ کسی کو وقت دے کر عین موقع پہ اسے جواب دے دیا۔ تمام تر مصروفیت کے باوجود اس نے کبھی چودھری یا کمی میں تمیز نہیں کی۔ تعریف سن کر بھی اس نے ہمیشہ عاجزی کا اظہار کیا۔ وہ اپنی تعریف سن کر ہمیشہ یہی کہتا کہ یہ سب قدرت کا نظام ہے۔ نظامِ قدرت ہر کسی کو زندگی میں ایک موقع ضرور دیتا ہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ لوگ ہمیشہ یہ سمجھنے میں سستی کر جاتے ہیں کہ شاید یہ وہ موقع نہیں جو ان کی قسمت بدل دے گا۔ اس روز اگر میں بھی یہ موقع گنوا دیتا یہ سمجھ کر کہ لنگر اچھا یا برا نہیں ہوتا اس کا کھایا جانا ہی کافی ہے تب کیا ہو جاتا۔ کیا لوگ گھر میں کھانا نہیں کھاتے؟ لوگ کھاتے، پکاتے اور بانٹتے رہتے۔ بھوک کا لگنا ایک فطری عمل ہے، میں نے لوگوں کی قدر کی، ان کی بھوک کی قدر کی اور انہوں نے اس کو میری ایمانداری جانا۔ بات تو فقط اتنی سی ہے۔

 

مگر جو آج اس کے ساتھ ہوا تھا اس نے ماضی کا آئینہ کرچی کرچی کر دیا تھا۔ ہاں اس سے غلطی ہوئی تھی مگر کیا یہ سزا کم نہیں تھی کہ کھانے کے وقت سب کو یہ کہہ دیا جاتا کہ اسلم اب بوڑھا ہو چکا ہے، اس کی نظر کمزور اور حواس باختہ ہو چکے ہیں۔ باقی لوگ بھی تو یہی غلطی کر جاتے ہیں جیسے الیکشن کے دنوں میں میرو نے دو دیگیں خراب کر دیں لیکن اگلے دن پھر اسی کو بلا لیا گیا کہ پہلی غلطی تو خدا بھی معاف کر دیتا ہے۔ اس نے یہ بھی نہ سوچا کہ اگر اس کی جگہ میرو یہ دیگیں خراب کر دیتا تو کیا تب بھی وہ اُس کو بلاتے۔

 

پریشانی کے عالم میں وہ گھر سے اٹھا اور گاؤں سے باہر ایک ڈیرے میں چلا گیا تاکہ ان لوگوں اور دیواروں سے آزاد ہو کر کچھ دیر مراقبہ کر لے۔ یہاں کے درخت اور در و دیوار اس کے ساتھ رونما ہونے والے واقعہ سے بے خبر اپنی اپنی دھن میں مست چاندنی میں نہا رہے تھے۔ وہ اس وقت کو کوسنے لگا جب اس نے اپنے لئے دیگیں پکانے کا پیشہ اختیار کیا۔ پانچ جماعتیں پڑھ لینے کے بعد وہ بیلدار بھرتی ہو جاتا لیکن وائے قسمت کہ وہ اس کام میں کود گیا۔ شروع شروع میں اسے اس کام میں مزہ آتا تھا جب دیگیں پکانے کے دوران وہ مالکوں سے مختلف چیزوں کی فرمائش کرتا۔ اس کی فرمائشوں میں سستے میسی سگریٹوں کی ڈبی اور چائے یا سوڈا ضرور شامل ہوتا۔ وقت گزاری کے لئے باتیں کرتا رہتا، اس کی باتیں بھی پکوائی کے گرد ہی گھومتی تھیں۔ کبھی بتاتا کہ لیموں چاولوں کو کھٹا کر دیتے ہیں اور کبھی کہتا کہ مسالہ جس قدر تیکھا ہوگا کھانا اس قدر کم کھایا جائے گا۔

 

مگر اس دوران آگ کے قریب کھڑے رہنے کے سبب اس کی ٹانگوں کا اوپر والا حصہ جلنا شروع ہو گیا۔ تھوڑے ہی عرصے میں جلن شروع ہو گئی اور یہی سوچتے سوچتے جگراتے بڑھنے لگے۔ پھر ایک وقت ایسا آیا کہ وہ آگ سے دور بھاگنے لگا۔ کھڑے کھڑے اسے محسوس ہوتا کہ اس کی ٹانگوں اور ناف کے نچلے حصے میں فشار خون بند ہو چکا ہے اور اندر موجود خون لاوے کی مانند پھٹ کر باہر نکلنے کو ہے۔ پھر اس کا دھیان کل شام کی طرف مڑ گیا جب اسے پیغام ملا کہ اشتیاق جٹ کے گھر میلاد ہے جس کا کھانا وہ پکائے گا۔ وہ انکار کرنے والا تھا کہ اچانک اسے بیوی کا خیال آیا جسے پچھلے چار سال سے یرقان تھا۔ اس نے دوائی لینے کے خیال سے ہاں کر دی اور اگلے دن دیگ پکانے پہنچ گیا۔ مگر قسمت کی بتی گل ہونے کا احساس اسے دیگ پک جانے کے بعد ہوا۔ وہ جسے اپنے ساتھ مدد کے لیے لایا تھا اس نے نمکین سمجھ کر بارہ کلو چاول تولے تھے جبکہ اسلم نے آٹھ کلو کے حساب سے پانی ڈال دیا اور بعد میں جب چاول پک کر تیار ہوئے تو وہ اتنے خشک تھے کہ ٹھنڈا ہونے پر جیبوں میں بھر کے بھی کھائے جا سکتے تھے۔ اس غلطی کے بعد اس کا کورٹ مارشل کر دیا گیا۔ اشتیاق جٹ نے مزدوری دینے سے انکار کرتے ہوئے دیگ اسے تھما دی اور تقاضا کیا کہ دیگ پہ آیا ہوا سارا خرچ واپس کیا جائے۔ اپنی معتدل طبعیت کے باعث وہ بغیر کوئی احتجاج کیے کڑچھے اٹھائے گھر روانہ ہو گیا۔ جب شام کو اشتیاق جٹ کا لڑکا پیسے لینے آیا تو اسے احساس ہوا کہ فطرت نے ماضی کا دیا ہوا لمحہ واپس لے لیا ہے۔

 

یہ خیال آتے ہی اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں کہ اچانک کسی نے نرمی سے اس کا کندھا دبایا۔ یہ جلیل تھا۔ اقبال موچی کا لڑکا جو کبھی ویگن ڈرائیور ہوا کرتا تھا۔ ایک دن طالبعلموں کے ساتھ جھگڑے کے نتیجے میں اس نے گاڑی بھگائی تو گاڑی بے قابو ہو جانے کے باعث ایک طالبعلم کچلا گیا۔ کچھ عرصہ اس نے جیل میں بھی گزارا لیکن پھر رہا کر دیا گیا اور اس کے بعد ڈرائیوری سے تائب ہو کر فیکٹری میں کام کرنے لگا۔ ان دنوں وہ چھٹی پہ گھر آیا ہوا تھا۔ وہ جب بھی گاؤں آتا اسلم سے ہی بال کٹواتا۔ آج جب اس نے اس بارے سنا تو پتہ کرنے چلا آیا۔ اسے گھر نہ پا کر وہ بھی یہیں ڈیرے پر آگیا کہ گھر سے باہر یہ واحد جگہ تھی جہاں وہ آجایا کرتا تھا۔ جلیل نے اسے تسلی دی اور کچھ دیر بعد اپنے بارے میں اسے بتانے لگا کہ کس طرح وہ بھی ایک انجانے جرم کی سزا کاٹ چکا تھا۔ اس دن اگر وہ طالبعلموں کے ہاتھ لگ جاتا تو شاید ہڈیاں تڑوا بیٹھتا اور اسی ڈر سے اس نے گاڑی بھگائی۔ باتیں ختم ہو جانے اور کڑھنے کے بعد جب کچھ نہ بچا تو دونوں اٹھے اور گھروں کو روانہ ہو گئے۔

 

اسی رات اسلم نے فیصلہ کیا کہ جلیل کی طرح وہ بھی کچھ اور کرنے لگ جائے گا یا اس کا میٹرک پاس بیٹا بیلدار تو بن ہی سکتا ہے۔

 

دور کہیں فطرت اس بات پہ مسکرا رہی تھی کہ خود کو آزاد کہنے والا انسان کیا آزاد ہے؟
فطرت کا غلام۔ فطرت کے قانون کا غلام۔ لاچار انسان۔
Categories
فکشن

میرواہ کی راتیں – پانچویں قسط

رفاقت حیات کے ناول ‘میر واہ کی راتیں‘ کی دیگر اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

نذیر کی زندگی میں شمیم پہلی عورت تھی جس نے اس سے ملنے کے لیے اسے پیغام بھیجا تھا، ورنہ اس سے پہلے بھی وہ بے شمار لڑکیوں اور عورتوں کا تعاقب کر چکا تھا مگر ان میں سے کسی کی جانب سے پیغام آنا تو درکنار، اسے ان کو دیکھنے کا دوسرا موقع تک میسر نہیں آ سکا تھا۔ وہ سب کی سب اپنے گھروں میں جانے کے بعد اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بھول گئی تھیں۔ پکوڑافروش کے ذریعے موصول ہونے والے پیغام کی اس کے لیے بہت خاص اہمیت تھی۔ اسی لیے اس کا اپنا بے کار وجود بھی اب اس کی اپنی نظروں میں یکایک کچھ اہم ہو گیا تھا۔ باربار کسی سبب کے بغیر اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ جاتی تھی۔ آج اسے محسوس ہونے لگا تھا کہ انسانوں سے بھری ہوئی اس دنیا میں ایک عورت ایسی بھی ہے جو اس کے بارے میں سوچتی ہے۔ اس کے لیے یہ خیال بہت مسحورکن تھا۔ مگر اس سے بھی زیادہ مسحورکن خیال آج کی شب پیش آنے والے وصل کی لذت کا خیال تھا، جس کا ہلکا سا احساس ہی اس کے بدن پر سرشاری طاری کر رہا تھا۔

 

آج اسے محسوس ہونے لگا تھا کہ انسانوں سے بھری ہوئی اس دنیا میں ایک عورت ایسی بھی ہے جو اس کے بارے میں سوچتی ہے۔
اسی خیال کے زیرِاثر وہ بہت دیر تک متواتر سلائی مشین چلاتا رہا۔ اسے وقت کے تیزی سے گزرنے کا احساس ہی نہیں ہو رہا تھا۔ بہت دیر کے بعد اس نے اپنا ہاتھ روکا اور دائیں بائیں دیکھنے لگا۔ اس کی نظر یعقوب کاریگر کے چہرے پر جا کر ٹھہر گئی جو ایک ریشمی لباس کی سلائی میں مصروف تھا۔ اس کی آنکھیں سلائی مشین کی ٹانکے لگاتی باریک سوئی کو شوق بھری نظر سے دیکھ رہی تھیں۔ اس کے ہاتھوں کی انگلیاں ریشمی کپڑے کو کچھ اس طرح جھجکتے ہوئے چھو رہی تھیں جیسے وہ کسی عورت کے جسم کو اس کی اجازت کے بغیر اور اس سے چھپ کر چھو رہی ہوں۔

 

نذیر نے حیرت سے سوچا کہ نسوانی کپڑوں کی سلائی کے دوران یعقوب کاریگر اپنے گردوپیش سے اتنا لاتعلق ہو جاتا تھا کہ اسے بیڑی پینے کا ہوش بھی نہیں رہتا تھا۔ عجیب لذت سے تمتماتا ہوا اس کا چہرہ دیکھ کر نذیر کو اس کے ہاتھوں کے ہنر کی مقبولیت کا راز معلوم ہو گیا۔

 

ابھی شام ڈھلنے میں خاصا وقت تھا اور آدھی رات ہونے میں تو اس سے بھی زیادہ وقت باقی تھا۔ یکایک وہ محسوس کرنے لگا کہ ہیجان خیز محسوسات و خیالات کی یورش کی وجہ سے دھیرے دھیرے اس کے جذبات کند ہونے لگے تھے، اور وہ اپنے آپ کو فاترالعقل سمجھنے لگا تھا۔ اپنا ذہن بٹانے کا سوچ کر اس نے دیوار پر چسپاں تصویروں پر ایک نگاہ ڈالی۔ فلمی اداکاراؤں کے میک اپ سے بھرے چہرے اس کی نگاہوں سے خودبخود اوجھل ہو گئے۔ اسے صرف کسے کسائے ملبوسات میں پھنسے ہوئے بدن دکھائی دیے۔ اسے محسوس ہونے لگا کہ دکان کی چھت سے فرش تک صرف نسوانی اعضا کی تصویریں لگی ہوئی ہیں اور ہر نسوانی عضو ہر قسم کی نزاکت اور حسن سے یکسر عاری ہے اور اس میں سے صرف شہوانیت کا اظہار ہو رہا ہے۔ وہ کچھ دیر تک بھرے بھرے جسموں کی گداز چھاتیوں اور ابھرے ہوئے پیٹ کی ناف کو دیکھتا رہا۔ اس عمل سے اچانک اس کا خون گرم ہو گیا اور ناک کے نتھنوں سے گرم گرم سانسیں نکلنے لگیں۔

 

نذیر نے حیرت سے سوچا کہ نسوانی کپڑوں کی سلائی کے دوران یعقوب کاریگر اپنے گردوپیش سے اتنا لاتعلق ہو جاتا تھا کہ اسے بیڑی پینے کا ہوش بھی نہیں رہتا تھا۔
یعقوب کاریگر اسے محویت سے تصویروں کو تاکتے دیکھ کر مسکرانے لگا۔ اسے مسکراتا دیکھ کر نذیر کھسیانا ہو کر اٹھا اور دکان سے باہر چلا گیا۔ گلی سے نکل کر وہ سڑک پر آیا اور یہاں کی کھلی فضا میں لمبے لمبے سانس لیتے ہوئے اپنی طبیعت بحال کرنے لگا۔

 

سڑک کے پرلی طرف کپڑے کی ایک دکان پر لٹکی ہوئی پھول دار چادریں اور دوپٹے ہوا کے جھونکوں سے ہل رہے تھے۔ ایک دکانداراپنی پردہ نشین گاہک کے سامنے ریشمی کپڑے کا تھان کھول رہا تھا۔ نذیر اس برقع پوش عورت کی طرف دیکھنے لگا۔ دکان پر پڑتی سورج کی تیز روشنی کے سبب اس کے برقعے میں عجیب سی چمک پیدا ہو گئی تھی۔ اسے لگا کہ وہ یہاں کھڑا ہو کر زیادہ دیر تک اس برقعے کی چمک کو اپنی آنکھوں میں جذب نہیں کر سکتا۔

 

تھوڑی دیر بعد وہ دکان پر لوٹ آیا۔ یعقوب کاریگر اسے دیکھتے ہی بولا، “آج میں دکان پر بہت اکیلائی محسوس کر رہا ہوں۔ آج میرے یار کی طبیعت خراب ہے، اس لیے وہ نہیں آیا۔ اور تم ہو کہ مجھ بوڑھے سے کوئی بات ہی نہیں کرتے۔” وہ ایک بیڑی سلگا کر کش لینے لگا۔

 

نذیر اس کے قریب رکھے ہوئے اسٹول پر جا کر بیٹھ گیا اور وہ دونوں چاچے غفور کے بارے میں باتیں کرنے لگے۔ زیادہ تر باتیں پرانی تھیں جو وہ پہلے بھی کئی بار دوہرا چکے تھے۔ نذیر کو کوئی نئی بات نہیں سوجھ رہی تھی اس لیے وہ خاموش ہو گیا، کیونکہ کاریگر باتیں کرنے کی موج میں آیا ہوا تھا۔ نذیر کو اچانک چاچی خیرالنسا یاد آئی۔ آج چاچا بھی گھر پر موجود تھا۔ اس نے اپنی چشمِ تصور میں انہیں اپنے کمرے میں ایک دوسرے کے ساتھ پیوست مسلسل حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔

 

اسے محسوس ہونے لگا کہ دکان کی چھت سے فرش تک صرف نسوانی اعضا کی تصویریں لگی ہوئی ہیں اور ہر نسوانی عضو ہر قسم کی نزاکت اور حسن سے یکسر عاری ہے اور اس میں سے صرف شہوانیت کا اظہار ہو رہا ہے۔
یعقوب کاریگر کی باتیں سنتے ہوئے اسے لگا کہ چاچے غفور سے اس کی دوستی کی ضرور کوئی خاص وجہ رہی ہو گی، جس کے بارے میں کاریگر نے بھول کر بھی باتوں میں کوئی اشارہ نہیں کیا تھا۔ نذیر نے سوچا کہ اگر کسی دن وہ کاریگر کو اعتماد میں لے کر اس سے پوچھ گچھ کرے تو شاید اسے کچھ گڑے مْردوں کا پتا چل جائے۔

 

دکان کے باہر ایک سائیکل کو رکتا دیکھ کر وہ دونوں چپ ہو گئے۔

 

ماسٹر طفیل اپنی دھوتی سنبھالتا ہوا سائیکل سے اتر کر دکان میں داخل ہوا۔

 

“میں تمہارا ہی کام کر رہا تھا ماسٹر۔ صرف قمیص کے بٹن لگانے رہ گئے ہیں،” یعقوب نے خوش مزاجی سے اسے اس کے کپڑوں کے بارے میں بتایا۔ ماسٹر طفیل کچھ دیر بعد آنے کا کہہ کر چلا گیا۔

 

گلی میں دکانوں کے شٹر بند ہونے کی کھڑاک پڑاک شروع ہو گئی۔ تمام درزی ہنستے، شور مچاتے ہوئے اپنی اپنی دکانوں سے نکلے۔ تھوڑی دیر بعد مغرب کی اذان بھی سنائی دینے لگی۔

 

ماسٹر طفیل کو اس کے کپڑے دینے کے بعد انھوں نے بھی دکان بند کر دی اور یعقوب کاریگر چاچے غفور کی عیادت کرنے کے لیے اس کے ساتھ چل پڑا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

صحن میں پھیلتی تاریکی کو دیکھ کر اس نے بلب روشن کرنے کی خاطر دیوار پر نصب کالا بٹن دبایا تو برآمدے میں روشنی پھیل گئی۔
ملگجی شام میں چاچی خیرالنسا کشادہ صحن میں جانماز پر سمٹی ہوئی بیٹھی نماز پڑھ رہی تھی۔ اس کے ہونٹ دعا مانگتے ہوئے لرز رہے تھے۔ نذیر کے قدموں کی چاپ سن کر اس نے مڑ کر دیکھا اور اس کے ہونٹ تیزی سے دعا ختم کرنے لیے ہلنے لگے۔

 

نذیر دو محرابوں کے درمیان کھڑا عبادت ختم ہونے کا انتظار کرنے لگا۔ صحن میں پھیلتی تاریکی کو دیکھ کر اس نے بلب روشن کرنے کی خاطر دیوار پر نصب کالا بٹن دبایا تو برآمدے میں روشنی پھیل گئی۔ اس نے تاریک کمرے پر نظر دوڑائی۔ غفور چاچا وہاں رضائی اوڑھ کر لیٹا ہوا تھا۔ اس کے خراٹوں کی خرخراہٹ سن کر وہ مسکرایا۔

 

چاچی کو جانماز سے اٹھتا دیکھ کر اس نے اس کے پاس جا کر یعقوب کاریگر کی آمد کے بارے میں بتایا۔ وہ فوراً اپنے شوہر کو جگانے کے لیے کمرے میں چلی گئی۔ چاچا غفور اپنے یار کا نام سن کر فوراً اْٹھ بیٹھا۔

 

چاچی خیرالنسا پردے کی خاطر باورچی خانے والی کوٹھڑی میں چلی گئی۔

 

یعقوب کاریگر کو دیکھ کر بوڑھا مریض خوشی سے کھل اْٹھا۔

 

نذیر اپنی گھڑی پر وقت دیکھ رہا تھا، کیونکہ پہلوان کے چائے خانے پر نورل جوگی اس کا انتظار کر رہا تھا۔ اسی بے چینی میں وہ باورچی خانے میں چاچی کے سامنے چوکی پر جا بیٹھا۔ چاچی خیرالنسا نے اپنے شوہر اور کاریگر کی پرانی دوستی کا ذکر چھیڑ دیا۔

 

باتوں کے دوران نذیر کو پہلے اس کے ہاتھ کا لمس یاد آیا اور پھر غسل خانے میں لٹکا ہوا اس کا بلاؤز۔ بیٹھے بیٹھے وہ چاچی کے سرخ و سفید ہاتھوں کو دیکھنے لگا۔ اس نے سوچا کہ ان ہاتھوں میں پوشیدہ حدت کتنی نرم و ملائم ہو گی۔ اس کا جی چاہا کہ وہ اسی وقت انہیں چھو کر محسوس کرے اور ان کی ہتھیلیوں پر ایک بوسہ ثبت کردے۔ اس نے خود کو گستاخی پر آمادہ محسوس کیا۔ وہ اس کے کشادہ سینے کے زیروبم کو دیر تک محویت سے دیکھتا رہا۔

 

وہ حیران تھا کہ اس کی باتوں میں عدم دلچسپی کے باوجود وہ بے خبری کے عالم میں دیر تک باتیں کرتی رہی۔ جب وہ چولہے میں پھونک مارنے کے لیے جھکی تو نذیر نے چپ چاپ اس کے سینے کے ابھار کو دیکھا، مگر اگلے لمحے چاچی خیرالنسا اپنے سینے پر ہاتھ باندھ کر اسے شک بھری نظروں سے گھورنے لگی۔ اس کے گھورنے پر وہ جھینپ سا گیا۔ اسے الجھن ہونے لگی۔ وہ باتونی نہیں تھا مگر چاہتا تھا کہ پرْکشش جسم والی اس حسین عورت سے دیر تک لچھے دار باتیں کر کے اس کا دل بہلائے۔

 

ان کی باتیں سنتے ہوئے اس نے سوچا کہ غفور چاچا دلچسپ گفتگو کرنے کا ماہر تھا، اسی لیے اس نے ابھی تک چاچی کو اپنے قابو میں رکھا ہوا تھا۔
چاچی نے پتیلی اٹھا کر چینک میں چائے انڈیلی۔ وہ ٹرے میں رکھی چینک اور پیالیاں اٹھائے ہوئے باورچی خانے سے باہر چلا گیا۔

 

کمرے میں ان کے سامنے چائے رکھنے کے بعد وہ آدھے گھنٹے تک ان دو بوڑھے آدمیوں کے ساتھ بیٹھا رہا۔ ان کی باتیں سنتے ہوئے اس نے سوچا کہ غفور چاچا دلچسپ گفتگو کرنے کا ماہر تھا، اسی لیے اس نے ابھی تک چاچی کو اپنے قابو میں رکھا ہوا تھا۔

 

کچھ دیر بعد یعقوب کاریگر نے چاچے سے جانے کی اجازت مانگی اور جانے کے لئے اٹھ کھڑا ہوا۔

 

وہ اسے رخصت کرنے گلی کے آخر تک چلا گیا۔ الوداعی مصافحے کے بعد وہ کچھ وقت وہیں کھڑا اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔ اس کے بعد وہ پہلوان کے چائے خانے کی طرف چل پڑا۔

 

چائے خانے میں نوجوان لڑکے ڈبّو کھیلتے ہوئے شور مچا رہے تھے۔ وہاں ٹیپ ریکارڈر پر جلال چانڈیو کا گانا بج رہا تھا۔ ایک طرف پڑے ہوئے موڑھوں پر دو چار آدمی بیٹھے دھیمے لہجوں میں گفتگو کر رہے تھے، جبکہ نورل منھ بسورتا ہوا اکیلا بیٹھا تھا۔

 

نذیر پکوڑافروش کے پاس گیا تو وہ اسے دیکھ کر مسکرایا۔ انہوں نے موڑھے اٹھا کر ایک کونے میں کھسکا لیے اور آپس میں سرگوشیاں کرنے لگے۔

 

پکوڑافرو ش نے رازداری سے اسے بتایا کہ آج رات ایک بجے وہ اپنے گھر کے پچھلے دروازے سے نکل کر پانی کے نالے کے پاس اس کا انتظار کرے گا۔ اس پر لازم تھا کہ وہ ایک بجے سے پہلے وہاں پہنچ جائے۔ اس نے اسے مزید یقین دلایا کہ ملاقات کے دوران وہ دونوں عاشقوں کے آس پاس کسی فرشتے کی طرح منڈلا تا رہے گا۔

 

نذیر نے اس کی ہر بات غور سے سنی۔ اس نے اپنے ذہن میں پہلی ملاقات کا جو تصور باندھا تھا، اس پر خوف کی پرچھائیں لہرانے لگی۔ اس کے باوجود چائے خانے سے اٹھ کر جاتے ہوئے نذیر نے وعدہ کیا کہ وہ ساڑھے بارہ بجے تک نہر سے اْترنے والی سڑک پر پہنچ جائے گا۔

 

نورل نے بھی سنجیدگی سے اپنا وعدہ دْہرایا اور وہاں سے چلا گیا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

کل وہ اپنے بستر پر جس شب کے انتظار میں لیٹا ہوا کروٹیں لے رہا تھا، وہ شب آخر کار آ پہنچی تھی اور اپنے بازو پھیلا کر اسے دعوتِ نشاط دے رہی تھی۔ مگر یہ کیا؟ گزرتے ہوئے لمحوں کے ساتھ نہر پار جانے کے خیال سے اس کے دل میں دہشت بڑھنے لگی تھی۔ وہ خود کو کسی طور پر ڈرپوک یا بُزدل ماننے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اس نے بزدلی کو واہمہ قرار دے دیا اور اس خیال کو جھٹکنے کے لیے وہ چاچے غفور کے ساتھ اس وقت کمرے میں بند چاچی خیرالنسا کے بارے میں سوچنے کی کوشش کرنے لگا۔ مگر اس کا ذہن اس پل چاچی کے متعلق کچھ بھی سوچنے کے لیے آمادہ نہیں ہوسکا۔ اسے کوئی بات نہیں سوجھی، اس کے دل میں کوئی احساس پیدا نہیں ہوا، حتیٰ کہ چاچی کے گداز سینے کا خیال بھی اس کے ذہن کو اپنی طرف مائل نہ کر سکا۔ اور دوسری طرف کسی کوشش کے بغیر اس کا ذہن باربار خودبخود شمیم کے بارے میں سوچنے لگتا تھا۔ اگرچہ اس نے اب تک اس برقع پوش شمیم کی آواز نہیں سنی تھی،وہ اس کے ہونٹوں اور اس کے سینے کا شاہد نہیں ہوا تھا، اس کے باوجود فوراً اس کے ذہن میں درازقد اور بھرپور جسم کی ایک شاندار عورت در آئی تھی۔ وہ اس کے سحرانگیز حْسن کی باریکیوں میں اْلجھ گیا۔

 

اس نے اپنی چشمِ تخیل میں کتھئی لباس میں ملبوس ایک جوان عورت کو دیکھا جس کے جسم سے چنبیلی کی خوشبو کی لپٹیں اٹھ رہی تھیں۔ اس کے سر سے چادر ڈھلکی ہوئی تھی جس کی وجہ سے اس کے بالوں کی مانگ نظر آ رہی تھی۔ وہ کہیں کسی گھنے پیڑ کے نیچے کھڑی ہوئی شدت سے اس کی منتظر تھی۔

 

اس نے اپنی چشمِ تخیل میں کتھئی لباس میں ملبوس ایک جوان عورت کو دیکھا جس کے جسم سے چنبیلی کی خوشبو کی لپٹیں اٹھ رہی تھیں۔
چند لمحوں کے بعد وہ ٹھنڈی آہیں بھرتا ہوا اپنے تخیل کے اڑن کھٹولے سے نیچے اترا اور چھت کی کڑیوں کی طرف دیکھتے ہوئے بلاسبب مسکرانے لگا۔ کچھ دیر قبل اس کے لیے شعوری طور پر جس چیز کے لیے سوچنا محال ہو رہا تھا، اب اس کا ذہن اس کے بارے میں خودبخود سبک روی سے سوچنے لگا۔ شمیم کے تصور کے بعد اب وہ چاچی کا تصور باندھنے لگا۔ سوچتے سوچتے اس نے لحاف اتارا، چارپائی سے اتر کر کمرے کے دروازے کے پاس گیا اور اس سے کان لگا کر کچھ دیر تک ان کی آپس کی باتیں سننے کی کوشش کرتا رہا۔ اس کے جی میں آیا کہ وہ دروازے کو دھکا دے کر اسی لمحے کھول دے اور اپنی آنکھوں سے انہیں قابلِ اعتراض حالت میں دیکھے۔ مگر اگلے ہی ثانیے وہ دروازے سے ہٹ گیا اور ٹہلتا ہوا برآمدے سے صحن میں آ گیا۔ وہ سوچنے لگا کہ پہلی ملاقات پر اسے کیا باتیں کرنی چاہییں اور کس انداز سے کرنی چاہییں؟ کس طرح چکنی چپڑی اور دل لبھانے والی باتوں کے ذریعے شمیم کو شیشے میں اْتارنا چاہیے؟ اس حوالے سے اسے خود پر اعتماد نہیں ہو رہا تھا کیونکہ ماضی میں دو مرتبہ پہلے بھی وہ ایسے معاملات میں ناکامی کی اذیت برداشت کر چکا تھا۔

 

بہت پہلے کی بات تھی ۔نذیر نے اپنی بہن کی سہیلی سے پہلی بار ملتے ہی اس سے محبت کا اظہار کر دیا تھا۔ اس کے بے سلیقہ اظہار کا برا مان کر وہ لڑکی اس سے بدک گئی تھی اور اس نے اس کی بہن سے بھی ہمیشہ کے لیے ملنا ترک کر دیا تھا۔ دوسرا واقعہ اسی قصبے میں پیش آ چکا تھا۔ ایک دن وہ پرائمری اسکول کی عمارت کے قریب سے گزر رہا تھا۔ اس نے ایک لڑکی کو اپنے گھر کے دروازے سے باہر جھانکتے ہوئے دیکھا۔ وہ اسے پہلی نظر میں ہی بھا گئی۔ اس کے بعد وہ کئی روز تک اس کے گھر کے باہر چکر لگاتا رہا۔ کبھی کبھار وہ دکھائی دے جاتی لیکن ہر بار اسے دیکھتے ہی پردہ گرا کر اندر بھاگ جاتی۔ ایک شام وہ اسے ایک سنسان گلی میں دکھائی دے گئی۔ اس نے فوراً اپنا دل کھول کر اس کے سامنے پیش کر دیا۔ لڑکی نے اس کا دل اپنے پیروں تلے روند ڈالا اوراسے برابھلا کہتی ہوئی چلی گئی۔

 

اسے خدشہ تھا کہ شمیم بھی کہیں اس کی بے ربط اور اکھڑی باتیں سن کر اس سے اکتا نہ جائے۔ پچھلے کچھ برسوں سے وہ شادی شدہ عورتوں سے تعلقات قائم کرنے کے خواب دیکھتا رہا تھا۔ اب اس نے لڑکیوں کو اپنی محبت کے لائق سمجھنا چھوڑ دیا تھا۔ ان کے نخروں کو برداشت کرنا اس جیسے کم ہمت کے بس کی بات نہیں تھی۔ جوانی کے حُسن اور فطری کشش کے باوجود اب قصبے کی لڑکیاں اسے بالکل اچھی نہیں لگتی تھیں۔

 

وہ اپنے خیالوں میں گم، صحن کے ٹھنڈی اینٹوں والے فرش پر چہل قدمی کرتا رہا۔ اچانک اسے محسوس ہوانے لگاکہ صحن کے چاروں کونوں سے بچھو اور سانپ اس کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس احساس سے خوفزدہ ہو کر وہ فوراً بھاگ کر برآمدے میں پڑی ہوئی چارپائی پر چڑھ گیا اور رضائی اپنے جسم پر اوڑھ کر بیٹھ گیا۔

 

بستر یخ بستہ ہو رہا تھا۔ اپنی رضائی پاؤں پر اچھی طرح اوڑھنے کے باوجود بہت دیر تک اس کے پیر گرم نہیں ہو سکے۔ تنگ آ کر وہ انہیں اپنے ہاتھوں سے مَلنے لگا۔

 

پکوڑافرو ش نے رازداری سے اسے بتایا کہ آج رات ایک بجے وہ اپنے گھر کے پچھلے دروازے سے نکل کر پانی کے نالے کے پاس اس کا انتظار کرے گا۔
اسے اپنی حماقت کا احساس بہت تاخیر سے ہوا۔ اوس سے بھیگتی ہوئی رات میں صرف شلوار قمیض پہنے ہوئے گھر سے نکلنا بہت دشوار تھا۔ کمرے میں رکھے ہوئے اپنے صندوق سے چادر، مفلر اور جرابیں نکالنا اسے یاد نہیں رہا تھا۔ اس کے پاس صرف بغیر آستینوں والا سویٹر تھا۔ اس سویٹر کی مدد سے سردیوں کی رات کی ٹھنڈ اور پالے کا رْکنا محال تھا۔
اسے محسوس ہونے لگا کہ رات آدھی سے زیادہ گزر چکی ہے۔ گھڑی پر وقت دیکھنے کے لیے برآمدے کا بلب جلانا ممکن نہیں تھا۔ اس کے پاس کوئی ماچس بھی نہیں تھی۔ وہ چارپائی سے اْتر کے دبے پاؤں باورچی خانے کی کوٹھڑی تک گیا۔ اس کے ٹھنڈے ہاتھ چولھے کی راکھ اور اس کے گردوپیش کی زمین ٹٹولتے رہے لیکن اسے وہاں ماچس نہیں ملی۔ اندازے سے اس نے خانوں والی الماری کھول کر اس میں ہاتھ مارا تو وہاں اسے ماچس مل گئی۔ دیاسلائی جلا کر اس کے شعلے کی روشنی میں اس نے گھڑی پر وقت دیکھ ہی لیا۔ بارہ بج کر دس منٹ ہو رہے تھے۔ وہ دیواریں ٹٹولتا باورچی خانے سے باہر نکلا اور دھیرے دھیرے چلتا ہوا برآمدے میں اپنی چارپائی تک پہنچا۔ اس نے رات کے پالے سے بچنے کے لیے بستر سے چادر اتار کر اپنے گلے میں ڈال لی۔ پھر تکیے کو بستر کے درمیان رکھ کر اسے رضائی میں چھپا دیا تاکہ اگر کمرے سے کوئی باہر نکلے تو ابھری ہوئی رضائی دیکھ کر یہ سمجھے کہ وہ یہاں سو رہا ہے۔ رضائی کا اونچا ابھار بنا کر وہ خاصا مطمئن ہو گیا۔ اس کے بعد وہ دبے پاؤں چلتا ہوا گھر سے باہر نکلنے والے دروازے تک گیا۔ دروازے سے نکلنے کے بعد اس نے کنڈی چڑھا دی اور احتیاط سے چلتا گلی میں نکل گیا۔

 

گلی میں گہرا سناٹا تھا۔ موسمِ زمستاں کی یہ شب کہرآلود تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے آسمان سے یخ بستہ بوندیں برس رہی ہوں۔ ابھی نہر کے پْل تک اسے بہت سی گلیوں سے گزرنا تھا۔ وہ اپنے بے اعتماد قدموں اور بے ترتیب سانسوں کی آوازیں سنتا نپے تلے قدموں سے چلتا رہا۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ بہت مرتبہ کی دیکھی بھالی اور دن کے وقت مہربانی سے پیش آنے والی گلیاں آدھی رات کو جانی دشمن کی طرح نظر آ رہی تھیں۔

 

چوکیدار کی سیٹی سن کر وہ ہر بارچونک جاتا تھا۔ اسے محسوس ہوتا کہ وہ برابر والی گلی سے گزر رہا ہے۔ وہ اس کے قدموں کی آہٹ سننے کی کوشش کرتے ہوئے آگے بڑھتا رہا۔ ہر گلی کے دونوں طرف دیواروں کا طویل سلسلہ تھا۔ ہر موڑ کے بعد نئی دیواریں آ جاتیں اور وہ ان کے بیچ سہما ہوا اور خوف سے لرزتا ہوا قدم بڑھاتا رہا۔

 

ایک ڈھلان کی چڑھائی چڑھنے کے بعد وہ نہر کے کنارے پر پہنچ گیا۔ تیز چلنے کی وجہ سے اس کی سانس پھولی ہوئی تھی۔ قصبے کی آبادی سے نکل کر کھلی فضا میں آتے ہی اسے سردی زیادہ محسوس ہونے لگی۔ وہ درختوں کی قطار کے ساتھ ساتھ چلتا رہا۔ اس کی نظریں پْل پر جمی ہوئی تھیں جو دور سے دھند اور کہرے میں لپٹا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ اس نے نہر کے پانی کی سطح پر چمکتے ہوئے ستاروں کو دیکھا تو حیران رہ گیا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے پانی میں موتی جگمگا رہے ہوں۔ رات کے اس پہر پْل ویران لگ رہا تھا۔ اس نے ٹھٹھرتے ہوئے تیزرفتاری سے چل کر پل عبور کیا۔ پل سے نیچے اتر کر اسے تھوڑی دور چلنے کے بعد دائیں جانب کی جھاڑیوں سے گاڑھا دھواں اْٹھتا ہوا دکھائی دیا۔ دھواں دیکھتے ہی وہ ٹھٹک کر رک گیا۔ اس نے چرس کی مخصوص خوشبو کو پہچان لیا تھا۔ وہیں کھڑے کھڑے وہ دھیرے سے کھنکارا تو اسے جھاڑیوں میں سے کسی کے کھانسنے کی آواز سنائی دی۔ کھانسی کی آواز پہچانتے ہوئے وہ جھاڑیوں کی طرف چلا گیا۔ وہاں نورل جوگی اس کا انتظار کرتے ہوئے چرس کی سلفی پینے میں مگن تھا۔

 

اس کے جی میں آیا کہ وہ دروازے کو دھکا دے کر اسی لمحے کھول دے اور اپنی آنکھوں سے انہیں قابلِ اعتراض حالت میں دیکھے۔ مگر اگلے ہی ثانیے وہ دروازے سے ہٹ گیا اور ٹہلتا ہوا برآمدے سے صحن میں آ گیا۔
رات کے اس پہر ہوا مکمل طور پر بند تھی۔ تمام چیزوں پر سکوت طاری تھا۔ آسمان کی چاروں انتہاؤں سے یخ بستگی زمین پر ٹپک رہی تھی اور دھیرے دھیرے ساری فضا میں پھیل رہی تھی۔ نذیر محسوس کر رہا تھا کہ اس کے کپڑے بھی آسمان سے گرتی اوس سے بھیگنے لگے تھے اور اس کی ناک کے نتھنوں میں سانسیں جم رہی تھیں۔ اس کے باوجود پکوڑافروش کی فراخدلانہ پیشکش ٹھکراتے ہوئے اس نے سلفی پینے سے انکار کر دیا۔ اس کے انکار کے بعد نورل جوگی نے بھی اصرار نہیں کیا۔ وہ نشے کی کثرت کے باوجود بچے رہ جانے والے اپنے ہوش وحواس کو بروے کار لاتے ہوئے نذیر کو گوٹھ میں واقع شمیم کے مکان کا حدوداربعہ سمجھانے لگا۔

 

“وہ دیکھو۔۔۔ اْس طرف! ہاں، وہ جو سیمنٹ سے بنی ہوئی صاف ستھری عمارت ہے نا، وہ ہمارے گوٹھ کی یونین کونسل ہے۔ کبھی بھول کر بھی اس کے قریب سے مت گزرنا۔ یونین کونسل کا چوکیدار شام ڈھلتے ہی اس کے باہر کتے چھوڑ دیتا ہے۔ بڑے مادرچود کتے ہیں وہ۔ ایک بار انھوں نے میری پنڈلی بھی نوچ کھائی۔ میں پورے چار مہینے چارپائی پر لیٹا رہا تھا۔ اچھا؟ ہاں، اس یونین کونسل سے کچھ آگے ہاریوں کی جھونپڑیاں ہیں۔ یہ سب کے سب ہاری گل پانگ قبیلے سے ہیں۔ گل پانگ پورے خیرپور میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کی عورتیں ضلع بھر میں مشہور ہیں۔ ہر سال ہمارے جوگیوں کا بھی بہت سا روپیہ ان پر خرچ ہو جاتا ہے۔ اگر تمھاری ٹھرک بڑھ جائے تو بتانا۔” بات کرتے کرتے وہ کھلکھلا کر ہنسنے لگا۔

 

نذیر دیکھ رہا تھا کہ پکوڑافروش دن بھر قصبے میں جوتیا ں چٹخانے کے بعد اس وقت تھکن سے چور تھا اور نشے کی زیادتی کی وجہ سے اس کے اعصاب مضمحل لگ رہے تھے۔

 

اس نے مسکراتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی۔ “یہ گل پانگ ہم جوگیوں کی عزت پر داغ ہیں۔ مگر ہم کیا کر سکتے ہیں؟ کچھ بھی نہیں کر سکتے! ان بھڑووں کو اپنے گوٹھ سے نہیں نکال سکتے کیونکہ ہمارے وڈیرے ایک نمبر کے رنڈی باز ہیں۔”
اس کی بے تکی باتیں سن کر نذیراونگھنے لگا تھا۔ اس نے ماچس کی تیلی جلا کر گھڑی پر وقت دیکھا۔ نورل سے چرس کا سگریٹ بنانے کی درخواست کرتے ہوئے اس کے دانت کٹکٹانے لگے تھے۔ اس کی آنکھیں شدید تکان کے سبب بند ہو رہی تھیں۔

 

اسے محسوس ہو رہا تھا کہ بہت مرتبہ کی دیکھی بھالی اور دن کے وقت مہربانی سے پیش آنے والی گلیاں آدھی رات کو جانی دشمن کی طرح نظر آ رہی تھیں۔
نورل جوگی کے ہاتھوں نے چابک دستی سے سگریٹ بنا کر اس کی طرف بڑھایا۔ نذیر نے اسے دیاسلائی سے سلگاتے ہوئے ایک زوردار کش لگایا۔ سگریٹ پینے کے بعد وہ خود کو بہتر محسوس کرنے لگا۔ کچھ دیر بعد وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے پوری طرح اپنے ہاتھ پھیلا کر انگڑائی لی اور اس کے بعد ڈنڈ نکالنے لگا۔

 

وہ رات کے اس پہر ویران سڑک پر چلنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے تھے۔ جھاڑیوں کے ساتھ ہی گنے کے کھیت واقع تھے۔ وہ جھاڑیوں کے بیچ چلتے چلتے گنے کے کھیتوں میں داخل ہو گئے۔ گنے کے قدآور پودے ان کے جسموں سے ٹکرا ٹکرا کر دھیما سا شور مچانے لگے۔ نورل نے اس کے پاس آ کر سرگوشی میں کہا، “تمام گوٹھوں کے عاشقوں کے لیے کماد کی فصل خدا کی طرف سے ایک انمول تحفہ ہے۔”

 

یہ بات سن کر نذیر خود کو ہنسنے سے نہ روک سکا۔

 

گنے کی فصل میں کچھ دور تک چلنے کے بعد وہ رک گئے۔ انھوں نے فصل سے باہر سر نکال کر اِدھراْدھر دیکھا، پھر احتیاط سے دبے پاؤں چلتے ہوئے گاؤں کی طرف جانے والا راستہ پار کیا اور تیزی سے پرلی طرف کے کھیت میں گھس گئے۔ چلتے چلتے نذیر کی چپلیں گیلی مٹی لگنے کی وجہ سے بھاری ہو گئی تھیں۔ مزید آگے جا کر پانی بہنے کی سرسراہٹ سنائی دی۔ یہ آواز پانی کے نالے سے آ رہی تھی۔ کچھ دور جانے کے بعد انہیں وہ نالہ دکھائی دینے لگا۔ سیمنٹ سے بنے ہوئے اس نالے کے پاس جا کر فصل ختم ہو جاتی تھی۔

 

نورل نذیر کو نالے کے پاس، شیشم کے ایک درخت کی اوٹ میں کھڑا ہونے کا مشورہ دے کر غائب ہو گیا۔ نذیر پگڈنڈی پر تیزی سے چلتے اس کے پیروں کی دھپ دھپ سنتا رہا۔ اس کے بعد وہ گردوپیش نگاہ ڈال کر آہستہ آہستہ چلتا شیشم کے پیڑ کی اوٹ میں جا کھڑا ہوا۔ کچھ دیر بعد وہ کھڑا رہ رہ کر تھک گیا تو نالے پر جا کر بیٹھ گیا۔ نالے کا سیمنٹ اس وقت یخ ہو رہا تھا۔

 

گل پانگ پورے خیرپور میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کی عورتیں ضلع بھر میں مشہور ہیں۔ ہر سال ہمارے جوگیوں کا بھی بہت سا روپیہ ان پر خرچ ہو جاتا ہے۔
گوٹھ کے مکانوں کا پچھلا حصہ اس کی نظروں کے سامنے تھا۔ وہ ان مکانوں میں شمیم کا مکان تلاش کرنے لگا۔ اسے یقین تھا کہ بائیں طرف بنے ہوئے تین پختہ مکانوں میں سے ایک میں شمیم رہتی تھی۔ کپاس کی لکڑیوں اور شرینہہ کے پیڑوں کے سایوں کی وجہ سے وہ ان مکانوں کے دروازے نہیں دیکھ سکا۔

 

وہ شیشم کے جس طویل قامت پیڑ کے نیچے کھڑا تھا اس نے جب اس کے موٹے سے تنے کو دیکھا تو اس کے رگ و پے میں خوف کی لہر دوڑ گئی۔ بچپن میں سنے ہوئے بھوتوں اور چڑیلوں کے قصّے اسے یاد آنے لگے۔ وہ زمین پر پھیلے ہوئے اس درخت کے سائے کو دیکھتا رہا۔

 

نجانے کیوں باربار اس کا دل کہہ رہا تھا کہ وہ اس سے ملنے یہاں نہیں آئے گی، مگر اس کے باوجود وہ دیر تک وہاں سر جھکائے بیٹھا رہا۔ اس نے گھڑی پر وقت بھی نہیں دیکھا۔ اسے اندازہ تھا کہ اب شاید رات کے دو بجنے والے ہوں گے۔ وہ اپنے تخیل کی مدد سے سوچنے لگا۔ “شاید وہ اپنے کمرے سے باہر آ گئی ہو مگر اپنے شوہر کو دھوکا نہ دینا چاہتی ہو اور برآمدے میں ٹہلتی ہوئی کوئی فیصلہ کرنے کی کوشش میں ہو۔”

 

اچانک ایک لرزا دینے والے خیال نے اس کے خوف میں اضافہ کر دیا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ کہیں پکوڑافروش نے اسے کوئی فریب نہ دیا ہو؛ کہیں اس کی سنائی ہوئی ساری باتیں جھوٹی نہ ہوں اور کہیں اس نے اس کے خلاف کوئی سازش تیار نہ کر رکھی ہو۔ اس کا ذہن مختلف وسوسوں اور اندیشوں سے بھر گیا۔ اسی کیفیت کے زیرِاثر وہ سیمنٹ کے نالے سے اْٹھ کر چلتا ہوا کماد کے کھیت میں جا کر چھپ گیا۔ بہت دیر تک وہ وہاں چھپا سامنے کی طرف دیکھتا رہا۔ اس کی نگاہ شرینہہ کے دیوقامت پیڑوں کے سایوں پر جمی تھیں۔

 

اچانک اسے کسی کے قدموں کے نیچے کپاس کی سوکھی لکڑیوں کے کچلنے کی دھیمی دھیمی سی چرمراہٹ سنائی دی۔ اس کے بعد اس نے چاندنی میں وہاں ایک سائے کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔ وہ اطمینان کا سانس لیتے ہوئے گنے کی فصل سے باہر نکلا اور شیشم کے درخت کے پاس کھڑا ہو گیا۔ اب وہ واضح طور پر دیکھ رہا تھا کہ شمیم ہولے ہولے قدم اٹھاتی اس کی طرف بڑھتی آ رہی تھی، مگر چلتے چلتے وہ اچانک کھڑی ہو گئی۔ چادر میں لپٹی ہوئی شمیم نے اسے اشارہ کرتے ہوئے اپنی طرف بلایا۔ اس کے اشارے پر وہ حواس باختگی سے لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا تیزی سے اس کے قریب پہنچا۔

 

شمیم لجاتے اور کسمساتے ہوئے اس سے مخاطب ہوئی۔ “نزدیک ہی ایک محفوظ جگہ ہے۔ آؤ چل کر وہاں بیٹھتے ہیں۔”

 

سردیوں کی رات کے گہرے سکوت میں اس کی آواز نذیر کو کسی شیریں نغمے جیسی محسوس ہوئی۔ وہ اس کی آواز کی تعریف کرنا چاہتا تھا مگر سر جھکائے چپ چاپ اس کے پیچھے چلنے لگا۔ سردی کے سبب اس کا جسم کپکپا رہا تھا۔ اس کے بند ہونٹ ہل رہے تھے۔ وہ آگے چلتی، کپڑوں میں سمٹی ہوئی عورت کو دیکھ رہا تھا جو بے آواز قدم اٹھاتی چل رہی تھی۔
کچھ دور جا کر وہ ٹھہر گئی۔ اسے دیکھ کر نذیر بھی رک گیا۔ نذیر نے جگہ کے انتخاب کی بہت تعریف کی۔ شمیم اسے بتانے لگی کہ اسے اس علاقے کے چپے چپے کی خبر تھی۔

 

نورل نے اس کے پاس آ کر سرگوشی میں کہا، “تمام گوٹھوں کے عاشقوں کے لیے کماد کی فصل خدا کی طرف سے ایک انمول تحفہ ہے۔”
آج بھی اس نے اپنا چہرہ نقاب میں چھپایا ہوا تھا۔ اندھیرے کے سبب وہ اس کی تاب ناک آنکھوں کو نہیں دیکھ سکا۔ اس کے جسم کا کوئی حصہ بھی چادر سے باہر نہیں تھا۔

 

کچھ دیر بعد اس نے دو قدم پیچھے ہٹاتے ہوئے اپنے چہرے سے نقاب اْتار دیا۔

 

نذیر بہت غور سے اسے دیکھنے لگا۔ وہ زیادہ خوبصورت نہیں تھی مگر اس وقت اسے بیحد پر کشش محسوس ہو رہی تھی۔ وہ سندھی گانوں کی مدد سے اس کی تعریف کرنے لگا۔ اس کے چہرے کو چاند اور آنکھوں کو ستاروں سے تشبیہ دینے لگا۔ ایک نوجوان لڑکے سے اپنی تعریفیں سن کر شمیم مسکرانے لگی۔ وہ کئی برسوں کے بعد کسی کے ہونٹوں سے اپنی اتنی تعریف سن رہی تھی۔ اس کی نظریں جھکی ہوئی تھیں۔ وہ اسے اپنی معمولی زندگی کی معمولی سی باتیں مزے لے لے کر سنانے لگی۔
نذیر کو حیرت ہو رہی تھی کہ اب تک اس نے اپنے شوہر کے خلاف کوئی جملہ نہیں کہا تھا، جبکہ پکوڑافروش نے اسے بتایا تھا کہ ان دونوں کے تعلقات ٹھیک نہیں چل رہے۔

 

شمیم کو نذیر سے ملاقات کے لیے جن پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا وہ ان کا بیان مبالغہ آرائی سے کرتی رہی۔ اس کی گنگناتی آواز سنتے ہوئے وہ اپنی تمام اذیت بھول گیا۔ وہ صرف اس کی صورت دیکھتا اور اس کی باتیں سنتا رہا۔ اس نے اس کے نزدیک کھڑے ہو کر اس کے بالوں کی مانگ کو دیکھا، پھر اس کی پیشانی اور اس کی آنکھوں کو، اس کے بعد اس کے ہونٹوں اور گالوں کو۔ اس نے اس کی جلد کی سفید رنگت کو دیکھا۔ اس کی کلائی کی چوڑیوں کو دیکھا جو باربار خودبخود کھنک پڑتی تھیں۔ اس کا مترنم اور دھیما لہجہ اس پر فسوں طاری کر رہا تھا۔ اوڑھی ہوئی چادر کے باوجود اس کے سینے کا ابھار صاف دکھائی دے رہا تھا۔

 

شمیم بھی اس کی نظروں سے غافل نہیں تھی۔ وہ اس کی نگاہوں کی خاموش تعریف سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔ اچانک کسی احساس کے زیرِاثر اس کے لہجے کی بے ساختگی ختم ہو گئی اور وہ اٹک اٹک کر باتیں کرنے لگی۔

 

نذیر کے لیے یہ لمحات اس کی زندگی کے سب سے زیادہ مسرور لمحات تھے۔ ایک شادی شدہ جوان خاتون اس کے پہلو میں تھی اور اس کی خاطر اپنی جان داؤ پر لگا کراس سے ملنے آئی تھی۔ وہ دونوں آنے والے دنوں میں اپنی ملاقاتوں کے بارے میں گفتگو کرنے لگے۔

 

شمیم کو نذیر سے ملاقات کے لیے جن پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا وہ ان کا بیان مبالغہ آرائی سے کرتی رہی۔ اس کی گنگناتی آواز سنتے ہوئے وہ اپنی تمام اذیت بھول گیا۔
شمیم نے اسے بتایا کہ آئندہ اس کے لیے رات کے وقت کھیتوں میں آنا ممکن نہیں ہو گا۔ وہ خوفزدہ تھی۔ اس نے کہا کہ وہ اس سے ملنے کے لیے کوئی اور بندوبست کرے گی۔ اس نے اپنے دل میں امڈتی ہوئی محبت کا اظہار کیا اور نذیر کی تعریفیں کرنے لگی۔ وہ مسکرایا اور اس نے موج میں آ کر، آگے بڑھ کر شمیم کو اپنے بازوؤں میں لے لیا۔ اس نے پہلی بار نسوانی جسم کے اضطراب اور اس کی نرمی کو اپنے بازوؤں میں مچلتے محسوس کیا۔ اسے لگا کہ وہ ریشم کے نرم و ملائم تھان سے لپٹ گیا ہے۔ وہ اس کے بازوؤں میں کسمسانے لگی۔ اس کے بدن سے اٹھتی کسی عطر اور پاؤڈر کی خوشبو اسے بے حد مسحورکن محسوس ہو رہی تھی۔ اس نے پہلابوسہ اس کے داہنے ہاتھ پر دیا، وہ جس کی مدد سے اپنا چہرہ چھپانے کی کوشش کر رہی تھی۔ نذیر نے اپنے ہاتھوں سے اس کے دونوں ہاتھ ہٹا کر اس کے نرم ہونٹوں کو چومنے لگا۔ وہ ان لمحوں کے ذریعے اپنی زندگی بھر کی محرومی کو سیراب کرنا چاہتا تھا۔ تھوڑی دیر بعد اسے نجانے کیا ہوا کہ وہ اس کی چادر کو چومتے چومتے اس کے سینے سے نیچے آیا اور اس کی ٹانگوں سے لپٹ گیا۔

 

شمیم گڑبڑا گئی۔ اس نے اس کے بوسوں کے خلاف برائے نام مزاحمت کی۔ اس نے اپنے نوآموز عاشق کے وحشی پن کا برْا نہیں مانا اگرچہ اس کے تیزوتند بوسوں نے اس کے انگ انگ میں ہیجان برپا کر دیا تھا۔ نذیر بھی اپنے آپ میں نہیں تھا۔ وہ گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ کر اس کی ٹانگوں کو بھینچتا رہا۔ اس صورتِ حال میں شمیم کو خود کو سنبھالنے کا موقع مل گیا۔

 

کچھ دیر بعد وہ زمین سے اٹھا اور اس نے دوبارہ اس کی کمر کے گرد بازو ڈالنے کی کوشش کی مگر اس مرتبہ وہ پیچھے ہٹ گئی۔ اس نے دھیمے لہجے میں اسے سرزنش کی۔

 

عورت کے جسم سے پہلی ہم آغوشی نے نذیر کو نشے سے چْور کر دیا تھا۔ وہ اس کے ہم راہ زمین پر اگی ہوئی گھاس پر، گنے کے کھیتوں میں، شیشم کے پیڑ کے نیچے، غرض ہر جگہ بوس و کنار کرنا چاہتا تھا، اس کے جسم کو آغوش میں لے کر رقص کرنا چاہتا تھا، مگر شمیم نے اگلے ہی ثانیے اسے دھکا دے کر سب کچھ ختم کر دیا۔ وہ نذیر پر طاری ہونے والی پیار کی وحشت سے خوفزدہ ہو گئی تھی۔ اس سے الگ ہوتے ہی وہ اپنی بپھری ہوئی سانسوں کو سنبھالنے لگی۔ نذیر نے اس کے قریب آ کر اس سے اپنے رویے پر معذرت کی تو وہ مسکرانے لگی۔

 

اگلے ہی لمحے اس نے اپنارخِ روشن نقاب میں چھپا لیا۔ نذیر سے مخاطب ہو کر اس نے اسے”اللہ وائی” کہا اور اس کے بعد پلٹ کر سبک خرامی سے چلتی ہوئی، دیوقامت شرینہہ کے درختوں کے سائے میں غائب ہو گئی۔

 

عورت کے جسم سے پہلی ہم آغوشی نے نذیر کو نشے سے چْور کر دیا تھا۔ وہ اس کے ہم راہ زمین پر اگی ہوئی گھاس پر، گنے کے کھیتوں میں، شیشم کے پیڑ کے نیچے، غرض ہر جگہ بوس و کنار کرنا چاہتا تھا
اس کے جانے کے فوراً بعد نذیر کو احساس ہوا کہ شاید اس نے اپنے رویے سے اسے سہما دیا۔ اپنے احمقانہ رویے کی تلافی کی خاطر اس نے اسے آواز دی مگر اس کی آواز گوٹھ کے مکانوں کے درودیوار سے ٹکرا کر واپس آ گئی۔ وہ دیر تک وہیں پر مبہوت کھڑا اسی سمت دیکھتا رہا، کچھ دیر پہلے وہ جس طرف گئی تھی۔

 

گھر سے گوٹھ ہاشم جوگی کی جانب آتے ہوئے خوف کے سبب نذیر کے رگ و ریشے میں جو کپکپی طاری تھی، واپس جاتے ہوئے اس کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔ آتے ہوئے اسے جو راستہ طویل اور لامتناہی محسوس ہو رہا تھا، واپسی پر اسے پتا ہی نہیں چلا اور وہ سبک روی سے چلتا ہوا گھر تک پہنچ گیا۔

 

(جاری ہے)
Categories
فکشن

ریفری‎

‘م’ نامی سڑک کے کنارے پر واقع ‘ص’ نامی رہائشی پلازے کی پہلی منزل کے نکڑ والے کمرے میں جو اپنے مثلث نما یعنی ٹیڑھے نقشے کی وجہ سے وکٹر ہیوگو کے عظیم ناول کبڑے عاشق کے مرکزی کردار کواسمودو کی یاد دلاتا تھا، میں، کیکاوس، سوموار کی صبح تقریباً ساڑھے چھ بجے پیشاب کرنے کےلئے بستر سے اٹھا اور پیشاب کر کے واپس آیا تو اس نے دیکھا کہ وہ تو چارپائی پہ سویا ہوا ہے۔ سونے والے نے یعنی اس نے خود ہی سبز رنگ کا ٹراؤزر پہن رکھا تھا جس کی پنڈلی کی باہرلی طرف پیلے اور سیاہ رنگ کی دھاریاں بنی ہوئی تھیں۔ عام طور پر اس طرح کے ڈیزائن دار ٹراؤزر کھلاڑی پہنتے ہیں جن میں سے زیادہ تر کرکٹ اور ہاکی کے ہوتے ہیں۔ اس ٹراؤزر کے اوپر اس نے نیلے رنگ کے کپڑے کی ڈھیلی شرٹ پہن رکھی تھی جس کے ڈیزائن سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ بازار سے کم قیمت کسی ایسے درزی سے سلی ہوئی ہے جو زمانے کی رفتار سے تھک کر بڑھے بوڑھوں کے کپڑے سینے تک محدود ہو چکا ہے۔

 

اگر وہ دوسرے مذہب سے تعلق رکھتا اور جتنا بھی صاف ہوتا تو وہ اس بو کو نہ بھگا سکتا جو صرف ایک غیر مذہب ہی سونگھ سکتا ہے۔
تقریباً پانچ فٹ آٹھ انچ کا بائیس سالہ نوجوان ستتر کلو کی جسامت سے کسی آلو کی بوری کی طرح بستر پہ پڑا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ اس نے اسے یعنی خود کو جگانے کی ناکام کوشش کی اور بالآخر دیوار کے ساتھ لگ کر بیٹھ گیا۔ اس نے سگریٹ جلائی جو وہ اکثر رات کو دوستوں سے چوری چھپے اپنے بستر کے نیچے رکھ دیا کرتا تھا تاکہ صبح نہار منہ اس کو پی سکے۔ ایک دن کلاس میں اس نے ایک لیکچرر سے سنا تھا کہ سگریٹ دو ہی وقت مزہ دیتی ہے، ایک بستر سے اٹھ کر نہار منہ اور دوسرا رات کو سوتے وقت۔ اگر چہ لیکچرر کے بر خلاف اس نے دو سے زیادہ پینے والی عادت کو نہ چھوڑا مگر اس کے ٹائم ٹیبل کو مان لیا اور اب اس پہ ہی عمل پیرا تھا۔ ایک دو کش لیتے ہی سگریٹ نے اس کے دماغ کے غنودگی زدہ گھوڑے کو جگا دیا جو کہ اکثر نوجوان اور فلسفی سوچتے ہیں اور اس کا رخ اس نوجوان کے چہرے کی طرف مڑ گیا۔ اگر وہ سگریٹ نہ پی رہا ہوتا تو یہ کہا جا سکتا تھا کہ یقینناً اسے بستر پہ اپنے آپ کو پڑے دیکھ کر جھر جھری آ جاتی۔ پتلے بغیر کنگھی کیے ہوئے بال جن کو دھوئے ہوئے نجانے کتنے دن ہو چکے تھے، کھلا منہ اس کے اندر بغیر برش ہوئے پیلے دانت اور بڑھی ہوئی داڑھی اور مونچھیں جو موٹے نقوش پہ اور بھی بھدی لگنے لگتی ہیں۔۔۔۔ بالکل داتا دربار کے باہر فٹ پاتھ پر پڑے کسی ملنگ کی مافک جس کے بالوں سے مٹی نکال دی گئی ہو اور صاف اور مکمل کپڑے پہنا دیے گئے ہوں۔۔۔۔ اسے اس کے دوستوں کے متعلق تشویش ہونے لگی کہ کیا یہ ہم مذہبی تھی جو وہ اسے اس حال میں بھی برداشت کر رہے تھے یعنی اگر وہ دوسرے مذہب سے تعلق رکھتا اور جتنا بھی صاف ہوتا تو وہ اس بو کو نہ بھگا سکتا جو صرف ایک غیر مذہب ہی سونگھ سکتا ہے۔ اس نے گئے دنوں میں اس کے ہاں کام کرنے والے عیسائی جونی سائی کو یاد کیا جس کے برتن اس کے گھر والوں نے باقی مزارعوں کے برعکس علیحدہ رکھے تھے یا وہ نوجوان مارکسسٹ جن کے نزدیک دوسرے انسان سے نفرت صرف طبقاتی تقسیم کے معاملے میں ہوتی ہے جیسا عظیم کامریڈ میکسم گورکی نے کہا تھا کہ لوگ یا تو ہمارے دوست ہیں یا دشمن۔۔۔ تمام محنت کش ہمارے دوست ہیں اور تمام سرمایہ دار و جاگیر دار ہمارے دشمن۔۔۔۔ کیا سب ہاسٹل میں رہنے والے مارکسی نقطہ نظر سے سوچتے ہیں؟ نہیں مگر زیادہ تر!

 

وہ ایسے ہی بہت ساری باتیں سوچ رہا ہوتا مگر اتنے میں اس کے بستر پہ لیٹے نوجوان کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے کسی لمحے کا انتظار کیے بغیر اس سے پوچھا کہ وہ کون ہے اور اس کے بستر پہ کیا کر رہا ہے؟ اس نے اس سے پوچھا کہ کیا وہ کوئی بہروپیا ہے جس نے ٹی وی اور تھیٹر کی وجہ سے اپنا اصل کام چھوڑ کر چوری چکاری شروع کر دی ہے اور اب بھی اپنے پرانے فن سے مدد لیتا ہے۔۔۔ مگر اس نے اسے بالکل نظرانداز کر دیا جیسے اس نے کچھ سنا ہی نہ ہو۔ اس نے اس کے ساتھ والے بستر پہ لیٹے وسیم کو جگانے کی کوشش کی جو اس کی ہی یونیورسٹی میں ماحولیات میں گریجوایشن کر رہا تھا مگر اس نے بھی کوئی جنبش نہ کی۔ تھک ہار کر وہ بیٹھ گیا اور اپنے آپ کو باتھ روم جاتے دیکھا۔ دس پندرہ منٹ بعد وہ باہر نکلا اور کپڑے پہننے لگ گیا۔ اس نے اسے کہا کہ آج حبس اور گرمی بڑھ گئی ہے تو کیا ہی اچھا ہو کہ وہ نہا لے لیکن جواب ندارد اسے رہ رہ کر اس پہ غصہ آ رہا تھا۔۔ تھوڑی دیر کے بعد اس لڑکے نے وسیم کو جگایا کہ دروازہ بند کر لے اور باہر نکل گیا۔

 

اسے لگا کہ اس کا وزن اس کے گناہوں سے بھی زیادہ ہے اور شاید اس کی بخشش صرف اپنا آپ اٹھائے رکھنے سے ہی ہو جائے گی۔
سڑک پر پہنچنے پر اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے دوست کا انتظار کیے بغیر جو گاڑی سے یونیورسٹی جاتا تھا، بس پر جائے گا اور ٹکٹ کاؤنٹر کی طرف بڑھ گیا۔ ٹکٹ لینے کے بعد جب وہ بس کی طرف جانے کے لئے سیڑھیوں کی جانب بڑھا تو دیکھا کہ بجلی نہ ہونے کے سبب وہ بند پڑی ہیں اور پیدل اوپر جانے کے خیال سے اس کا سانس رکنے لگا۔ اسے لگا کہ اس کا وزن اس کے گناہوں سے بھی زیادہ ہے اور شاید اس کی بخشش صرف اپنا آپ اٹھائے رکھنے سے ہی ہو جائے گی۔ وہ اکثر آخرت میں ملنے والی سزا کا دنیا ہی میں ہونے والی معمولی قسم کی چیزوں سے موازنہ کیا کرتا تھا جیسے وہ اپنے ایک دوست بلال کو کہتا تھا کہ وہ آخرت کا عذاب دنیا میں گھٹیا موبائل استعمال کرنے کی صورت میں بھگت رہا ہے۔۔۔۔۔ آخر اس نے ہمت باندھی اور اوپر چڑھنے لگا۔ اوپر پہنچ کر اس نے ٹوکن چیک کروایا اور آگے بڑھ گیا۔ ابھی پلیٹ فارم پہ پہنچا ہی تھا کہ گاڑی آ گئی. دروازہ کھلا اور اندر داخل ہو گیا. کیکاؤس بھی ساتھ ہی تھا مگر کوئی بھی اسے دیکھ یا محسوس نہیں کر رہا تھا۔ گاڑی کے اندر تل دھرنے کی جگہ نہ تھی اور رش کی وجہ سے اے سی بھی کام کرنا چھوڑ چکے تھے۔ یہ تمام بھیڑ جس میں زیادہ تر تعداد داتا صاحب، شاہ عالمی چوک اور اردو بازار میں کام کرنے والوں کی تھی اپنی وضح قطح سے صاف پہچانی جا سکتی تھی۔ ان میں سے زیادہ تر ایسے رنگوں والی شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جن کے بارے آسانی سے بتایا نہیں جا سکتا اکثر دیہاتوں میں اسے سفیانے یا ٹسری رنگ کی طرز کے نام دیے ہوتے ہیں اور پاؤں میں چائنہ کے جوتے، سستی چپلیں اور اکثر کے موبائل نوے کے عشرے کے ہندی گانوں کی ٹیون لیے بج اٹھتے۔ ان میں سے کوئی بھی سارے راستہ نہ اترا اور بالآخر اس کا سٹاپ آ گیا۔ کیکاؤس بھی بھیڑ کو کاٹتے ہوئے باہر نکلا اور خود کے ساتھ ہو لیا۔ نیچے اتر کر اس نے سڑک پار کی۔ بے ہنگم اژدھام کی وجہ سے سڑک پار کرنا اسے فتح کرنے جیسا لگتا تھا اور یونیورسٹی میں داخل ہو گیا۔ داخل ہوتے ہی ایک چوکیدار نے اسے روک لیا اور کارڈ دکھانے کا تقاضہ کیا۔ اس نے کارڈ نکالا اور بغیر کسی تاثر کے چوکیدار کے آگے کر دیا۔ کیکاؤس نے خود کو انتہائی غصہ سے دیکھا اور کہا کہ اسے چوکیدار کو بتانا چاہیے تھا کہ وہ بہت عرصہ سے یہاں سے گزر رہا ہے اور اس کا یوں اس طرح روکے جانا اس کے وجود کی نفی ہے کہ کوئی بھی اس کے بارے میں نہیں سوچتا۔ مگر اسے کوئی جواب نہ دیا گیا۔

 

چوکیدار سے نپٹ کر وہ غسل خانے گیا تاکہ کلاس میں داخل ہونے سے پہلے منہ دھو لے کہ کچھ تازہ لگ سکے اور اس شیشے کے سامنے کھڑا ہو گیا جس کے بارے میں اسے لگتا تھا کہ وہ اسے کافی اچھا دکھاتا ہے۔ وہ شیشوں کی نفسیات اور شکل کے معاملے میں اکثر پریشان رہا کہ اس کا چہرہ کیسا ہے کیا وہ اتنا ہی پیارہ ہے جتنا اس شیشہ میں نظر آتا تھا یا اتنا ہی بھدا جتنا کہ ساتھ والے شیشہ میں۔ منہ دھو کر وہ باہر نکلا اور اس راستے سے کلاس میں جانے لگا جہاں وہ کم سے کم کسی کو نظر آسکے۔ اور کلاس میں چلا گیا۔ کلاس ختم ہونے پر بغیر کوئی لمحہ ضائع کیے وہ باہر نکلا اور صحن میں لگے ہوئے بینچ کے پاس آکر کھڑا ہو گیا جہاں اور بھی لڑکے جمع تھے۔ اس خوف سے کہ کوئی اسے مذاق کا ہدف بنائے اس نے کوشش کی کہ باتوں کو کسی اور موضوع کی طرف موڑ دے اور کامیاب ہو گیا۔

 

چوکیدار سے نپٹ کر وہ غسل خانے گیا تاکہ کلاس میں داخل ہونے سے پہلے منہ دھو لے کہ کچھ تازہ لگ سکے اور اس شیشے کے سامنے کھڑا ہو گیا جس کے بارے میں اسے لگتا تھا کہ وہ اسے کافی اچھا دکھاتا ہے۔
کیکاؤس کا غصہ اب چرچراہٹ میں تبدیل ہونے لگا تھا۔ وہ باقی لڑکوں کو ورغلانے لگا کہ اسے بےعزت کریں، جگتیں لگائیں مگر کوئی بھی اس کی باتوں میں نہ آیا۔ بالآخر وہ ان کے پاس سے اٹھا اور لائبریری چلا گیا اور فلسفہ وجودیت کے اوپر لکھی ایک کتاب پڑھنے لگا۔ وہ بھی اس کے پاس بیٹھ گیا اور اس نظریہ کے اوپر لکھے ناولوں کے ورق کھنگالنے لگا۔ وہ جوں جوں انہیں پڑھتے گیا توں توں اسے ان کے کرداروں سے نفرت ہونے لگی۔ ایک ایک کردار اسے منافقت کا مینار لگ رہا تھا جسے جاننے اور نا جاننے والے سبھی پر شکستہ (رشک اور حسد کے ملے جلے تاثر) نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ اگر وہ سب زندگی سے اتنے تنگ تھے تو مر کیوں نہیں گئے انہوں نے دوسروں کو کیوں ورغلایا کہ زندہ رہنا قابل نفرت ہے۔ آخر دوستوئفسکی اور چیخوف نے ان سے بدتر زندگی گزاری تھی لیکن اس کے باوجود اس سے محبت کی حالانکہ وہ دونوں اپنے سے زیادہ دوسروں سے پیار کرتے تھے۔ اس نے دعا کی کہ اے پروردگار اس لڑکے کو جلدی سے اس سنسان کونے سے اٹھا تاکہ یہ ناامیدی کے اس حصار سے جو ان کتابوں نے کھینچ دیا تھا باہر نکلے۔ وہ یہ دعا مانگ ہی رہا تھا کہ لڑکے نے جیب سے موبائل نکالا۔ اس پہ ایک پیغام آیا ہوا تھا جس میں لکھا تھا کہ نیچے آؤ کھانا کھانے چلتے ہیں۔ اس نے کتاب بند کی اور نیچے دوست کے پاس چلا گیا۔ اس کے پہنچنے پر دو اور لڑکے جمع ہو گئے جو ان کے مشترکہ دوست تھے اور چاروں کینٹین کی طرف چل پڑے۔کینٹین پہنچ کر انہوں نے کھانے کا آرڈر دیا اور کھانے لگے۔ اس سب کے دوران کیکاؤس اپنے آپ کو ایک طرف بیٹھ کے دیکھتا رہا۔ کھانا کھانے کے بعد اس نے باقیوں سے اجازت لی اور اپنی رہائش گاہ پر جانے کے لئے چل پڑا۔

 

رہائش گاہ پر جا کر آرام کرنے کے خیال سے وہ خاصا پرجوش لگ رہا تھا، اس نے دعا مانگی کے بجلی نہ ہو تاکہ سیڑھیاں چڑھنے کے بہانے اس کا کھانا ہضم ہو جائے اور تھک بھی جائےلیکن اب کی بار اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا، بجلی ہونے کی وجہ سے وہ ان پر کھڑا ہوا اور یک لخت اوپر پہنچ گیا۔ ٹکٹ کاؤنٹر پہ کوئی مسافر کھڑا نہ ہونے کی وجہ سے اس نے آسانی سے ٹکٹ لی اور بس پہ سوار ہو گیا۔ صبح کے قابل نفرت مسافر اب اتنے باعث نفرت نہیں لگ رہے تھے۔ شاید اسکی وجہ کم رش ہی تھا۔ سٹاپ پر پہنچ کر وہ نیچے اترا اور فلیٹ کی طرف بڑھ گیا۔ فلیٹ کے لالچی چوکیدار نے جو اکثر اس سے سو پچاس مانگ لیا کرتا تھا اسے سلام کیا جس کا جواب اس نے ہاتھ ہلا کر دیا۔

 

کمرے میں پہنچتے ہی اس نے دروازہ بند کیا۔ کنڈی لگائی اور کپڑے اتار کے سو گیا۔ کیکاؤس نے کچھ دیر اس کے سونے کاانتظار کیا اور آنکھ لگتے ہی اس کے جسم میں گھس گیا۔

 

کچھ دیر بعد پورے دن کے حالات کو لے کر ان دونوں کرداروں نے آپس میں باتیں شروع کردیں جیسے فلسفی اوشو اور سوال کرنے والوں کے درمیان ہوتی ہیں۔ اس دوران اس کے جسم نے آخری سوال کیا کہ کب تک ہمیں اس طرح جینا ہو گا؟ یہ بوجھ کب تک اٹھائے رکھنا ہے؟

 

جب تک چار آدمی تمہیں اٹھا کر قبرستان تک نہیں چھوڑ آتے۔ اس نے جواب دیا اور دونوں خاموش ہو گئے۔

Image: Rook Floro

Categories
فکشن

رف رف رفتن

یہ وہ دن تھا جب اس نے کچھ میٹر مزید کپڑا بننے کے بعد باقی دھاگہ سمیٹا اور کپڑے کو کھڈی کی گرفت سے آزاد کیا۔ وہ اس کپڑے پر جو اب ایک نہایت ہی خوبصورت چادر کی شکل اختیار کر چکا تھا بار بار ہاتھ پھیر کر لطف اندوز ہو رہی تھی۔ بادامی رنگ کے سلک کی یہ چادر اس نے کئی راتوں کی محنت کے بعد تیار کی تھی اور اس کے چاروں کونوں پر ہلکے نیلے رنگ کے پھول بھی کاڑھے تھے۔ اس نرم و نفیس سلک پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس نے دیکھا کہ اس کا ہاتھ مسلسل محنت سے نیلا پڑ چکا تھا۔ چادر طے کرتے ہوئے اس نے دیوار میں لگے شیشے میں جھانکا۔ نیلے ہاتھ سے سر کے بال، جو اس کی موٹی دلکش آنکھوں پر آئے تھے پیچھے ہٹائے۔ اسے اپنا چہرہ، رخسار، جلد سب کے سب سلک کی طرح ملائم نرم اور نیلاہٹ لئے ہوئے لگے۔ قدموں کی آہٹ سن کر اس نے چادر ایک ایسے صندوق میں چھپا دی جس کو شاید ہی کبھی سال دو سال میں ایک بار کھولا جاتا تھا۔

اونچے، بلند پہاڑوں اور درختوں سے گھری یہ بستی آٹھ گھروں پر مشتمل تھی اور ہر گھر ایک دوسرے سے کافی فاصلے پر تھا۔ پہاڑ کی تراش خراش اور کہیں تنگ اور کہیں کھردرے راستوں کے باعث جہاں کسی کو جگہ مناسب لگی اس نے گھر بنا لیا، کوئی اونچا کوئی نیچا۔ اس بستی میں ابھی تک بجلی نہیں تھی اور رات کو جب ان میں روشنی کا انتظام کیا جاتا تو یہ روشنی دور سے ایک منحنی سی روشن لکیر نظر آتی۔ گھروں کے دروازوں کا رخ اس ندی کی جانب تھا جو ان گھروں سے تقریباً بیس فٹ نیچے بہہ رہی تھی۔ یہ کسی دریا کا حصہ تھی اور چند ایک قدرتی چشمے بھی اس میں گرتے تھے اس لئے وہاں ہر وقت پانی موجود رہتا تھا جو سورج کی روشنی میں ایک پنے کی صورت چمکتا نظر آتا، البتہ رات کی تاریکی اور خاموشی میں پانی کے بہنے کی آواز میں دلفریب موسیقیت تھی۔ آٹھ گھروں کی اس بستی میں ہتھ کھڈیاں تھیں۔ یہاں کے مرد چالیس کوس کا فاصلہ طے کر کے بُنائی کے لئے خام مال خرید کر لاتے اور ان کی عورتیں دھاگہ بنتیں اور حیران کن خوبصورت ڈیزائین کی چادریں، مفلر ٹوپیاں، واسکٹ حتی کہ بستر میں پاوں گرم رکھنے والے موزے بھی تیار کر لیتیں۔ یہی یہاں کی معیشت تھی۔ اگرچہ تمام مال شہروں میں پہنچ کر سستے داموں بکتا تھا تاہم اتنے دام مل جاتے تھے کہ ضروریات زندگی اور خام مال خرید لیا جائے۔ اس دور افتادہ بستی کے مکینوں کی ضروریات ہی کیا تھیں۔ کھانا پینا ان کا بے حد سادہ، سارا سال وہ مکئی ، باجرے پر گذارہ کرتے۔ دودھ کے لئے ہر گھر میں دو چار بکریاں یا ایک گائے تھی۔ عورتیں اور مرد دونوں ہی جفا کش تھے۔ لوگوں کے لئے اعلیٰ لباس تیار کرنے والے خود موٹے جھوٹے پیوند لگے لباس میں عمر گزار دیتے تھے اور سردیوں میں بھی اکثر ننگے پاوں ہی نظر آتے تھے، خاص طور پر عورتیں کہ ان کا تو کہیں آنا جانا ہی بہت کم تھا۔

گھروں کے سامنے والے رخ پر ندی اور گھروں کے درمیان، اونچے درختوں پر پہاڑی کووں کے لا تعداد گھونسلے تھے اور صبح کے وقت ان کا شور سن کر بستی کا ہر فرد بیدار ہونے پر مجبور تھا۔ ان کووں کی کائیں کائیں کے مختلف انداز بستی والوں کے لئے بڑے معنی لئے ہوتے۔ لڑکے بالے اور چھوٹی بچیاں سارا دن بکریوں کے ریوڑ چراتے، لڑکے البتہ کبھی کبھار شہر سے آئی ڈور سے گھر میں بنائی پتنگیں بھی اڑا لیتے۔ بکریاں چراتی بچی میں جونہی جوانی میں قدم رکھنے کی نشانیاں ابھرتیں اسے گھر کی کھڈی پر بٹھا دیا جاتا اور پھر باہر کی دنیا سے گویا ان کا رشتہ ختم ہو جاتا۔ ہاں چوری چھپے وہ گھر کے باہر کھیل لیتیں لیکن اس کا بھی ایک آدھ بار سے زیادہ امکان نہ ہوتا اور وہ جاتی بھی کہاں، ندی کی طرف جانے کی ممانعت تھی اور گھروں کی پچھلی طرف پہاڑوں کی ایک مسلسل دیوار تھی جسے دیکھ کر لڑکیوں کو قید کا سا احساس ہوتا تھا۔

دن تقریباً ختم ہونے والا تھا جب خوش بخت نے آج کا بنائی کا کام مکمل کیا اور کمر سیدھی کرنے کو ذرا لیٹی ہی تھی کہ بوڑھی دادی نے اسے آواز دی اور آج کے کام کا حساب لیا۔ وہ روزانہ اس سے معلوم کرتی کہ اس نے کتنے گولے دھاگے کے استعمال کئے ہیں اور ان سے کیا کیا تیار کیا ہے۔ دادی کا حساب بہت پکا تھا اور سب اس کے دماغ میں بہی کھاتے کی طرح درج ہوتا تھا۔ وہ جوانی میں ان گنت لباس بن چکی تھی اور بستی میں ایک بڑے فنکار کی حیثیت رکھتی تھی۔ اسے حساب کتاب میں کبھی غلطی نہیں لگی تھی لیکن وہ اس لڑکی خوش بخت کا حساب کبھی نہیں سمجھ پائی۔ وہ اسے ہمیشہ اس بات پر ڈانٹتی کہ وہ دھاگہ ضائع کرتی ہے اور اسے دیئے گئے دھاگے سے جتنی چیزیں تیار ہونی چاہئیں اتنی نہیں کر پاتی۔ دادی کی یہ تفتیش اور سرزنش اس وقت کچھ زیادہ ہی بڑھ گئی تھی جب سے لڑکی نے ایک بہت ہی نفیس مردانہ مفلر مکمل کر نے کے بعد گم کر دیا تھا۔

جس کمرے میں ہاتھ سے چلنے والی کھڈی تھی اس کی پچھلی دیوار کے پیچھے پہاڑ کا طویل سلسلہ تھا۔ اس دیوار کا ایک پتھر کھسکا کر لڑکی نے سوراخ نما کھڑکی بنا رکھی تھی۔ جب وہ بنائی کے کام سے اکتا جاتی تو اس پتھر کو سرکا کر باہرکا نظارہ کرتی۔ باہر سرے سے کوئی نظارہ ہی نہیں تھا۔ سیدھے کھڑے پہاڑ، سورج کی روشنی میں نہائے ہوئے، بے آب و گیاہ، نہ چرند نہ پرند، نہ کوئی رستہ نہ کوئی بندہ بشر۔ پھر بھی کمرے کے ماحول سے یکسر باہر نکلنے کے لئے اس کھڑکی سے باہر جھانکنا گویا قید سے چند لمحوں کی آزادی کا احساس تھا۔ اسی طرح کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے اسے اس دن دور ایک جوان لڑکا نظر آیا۔ وہ بہت مشکل سے ان سنگلاخ پہاڑوں کے ابھرتے پتھروں کو پکڑ پکڑ کر اوپر کی طرف آ رہا تھا۔ اس کا رخ بلا شبہ اسی کھڑکی کی جانب تھا۔ پہلے وہ خوف زدہ ہوئی، پھر حیرت زدہ۔۔۔ یہاں کسی انسان کی آمد کا تصور بھی نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ یہاں سرے سے کوئی راستہ ہی نہیں تھا، حتی کہ یہاں تو کبھی بکریاں چرانے والے بھی نہیں آ پائے تھے۔ وہ اس کا تصور تھا یا کوئی ہیولا۔آہستہ آہستہ وہ قریب آتا گیا تو اس کے خدو خال واضح ہونے لگے۔ لمبا قد، متناسب جسم لیکن جو چیز سب سے نمایاں تھی وہ اس کی پاو پاو بھر موٹی آنکھیں تھیں۔ اور قریب آنے پر اس کے نیم گھنگریالے بال اور ہونٹوں پر بہت ہی ہلکی سنہری روئیں بھی نظر آ رہی تھیں۔ وہ بڑی مشقت کے بعد سوراخ کے قریب پہنچا۔ اس نے اپنی سانس ہموار کی۔ لڑکی اسے اتنا قریب دیکھ کر ششدر رہ گئی۔کون ہے یہ، لباس سے تو اسی علاقے کا معلوم ہوتا ہے لیکن یہ یہاں پہنچا کیسے۔ اجنبی تو اپنی سانس ہموار کر چکا تھا لیکن لڑکی کی سانسوں کا زیر و بم تو گویا پوری دیوار کو ہلائے دے رہا تھا۔ وہ اسے دیکھنے میں بری طرح مگن تھی۔اتفاق سے وہ خوبصورت مفلر اس وقت لڑکی کے گلے میں تھا۔ لڑکے نے ہاتھ بڑھایا تو لڑکی نے پیچھے ہٹنے کی بجائے مفلر سوراخ سے نیچے لٹکا دیا۔ لڑکے نے اتنا خوبصورت مفلر اپنے ہاتھوں سے چھوا تو اسے لڑکی کا لمس بھی محسوس ہوا۔ اس نے مفلر کو ذرا سا جھٹکا دیا تو مفلر لڑکی کے شانے سے نکل گیا اور دور نیچے کی طرف اڑتا ہوا نظروں سے غائب ہو گیا۔ اس کا دل دھک سے رہ گیا۔ اسے فورا دادی کی غصے بھری آنکھوں کا خیال آیا اور جونہی مفلر اس کی نظروں سے غائب ہوا تو اس نے غصے سے لڑکے کی جانب دیکھا۔ لیکن وہاں تو اب کوئی نہیں تھا۔ ایسے جیسے کبھی کوئی تھا ہی نہیں۔ شام گہری ہونے کو تھی۔ وہ دیر تک کھڑکی کے پار دیکھتی رہی۔ بات اس کی سمجھ سے باہر تھی۔ لڑکے کو پہاڑ سے اوپر آنے میں کوئی پندرہ منٹ تو لگے ہوں گے لیکن غائب ہونے میں صرف پلک جھپکنے کا وقت۔

اس نے کھڈی کی پچھلی ٹیک پر پیر رکھا اور سوراخ کے تقریباً وسظ میں ہو کر دیکھا کہ وہ نوجوان کہیں گر تو نہیں گیا کہ اتنے میں دادی کے قدموں کی اواز آئی۔ اس نے فورا واپس کمرے میں چھلانگ لگائی اور سوراخ کو پتھر سرکا کر بند کر دیا۔ دادی جانتی تھی کہ لڑکی نے پتھر ہٹا کر کھڑکی سی بنا رکھی ہے۔ اس نے اس پر غصے کا اظہار بھی کیا تھا لیکن وہ یہ بھی سمجھتی تھی کہ اس سوراخ سے کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں۔۔ رات جب دادی نے حساب کتاب کیا تو تیار ہونے والے کل تین مفلر تھے جبکہ چوتھے کا نہ دھاگہ تھا اور نہ ہی مفلر۔ لڑکی کی کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا جواب دے۔ نہ جانے کیوں اس نے اس واقعے کو پوشیدہ رکھنے کا سوچا اور بیان دیا کہ چوتھا مفلر ہاتھ میں لئے وہ کھڑکی سے باہر جھانک رہی تھی تو ایک دم تیز ہوا کے جھونکے سے وہ اس کے ہاتھ سے نکل گیا اور کہیں پہاڑوں میں نیچے ہی نیچے چلا گیا۔ دادی نے سخت ترین الفاظ میں ڈانٹ پلائی اور یہ بھی کہا کہ یہ کھڑکی کسی دن تمہیں برباد کر دے گی۔ تھکاوٹ کے باوجود وہ رات کو اپنے کمرے سے نکل کر کھڈی والے کمرے میں آتی رہی۔ اس نے ایک دو بار پتھر سرکا کر دیکھا بھی لیکن انتہا درجے کی تاریکی میں کیا نظر آتا۔ باقی ماندہ رات، شام کو پیش آنے والا واقعہ بار بار اس کی آنکھوں کے سامنے آتا رہا۔

اگلے روز کھڈی والے کمرے کے باہر نظر آنے والے درختوں میں غالباً کسی جانب سے آئی کوئی پتنگ پھنسی تھی اور کووں کی جان پر بن آئی تھی۔ کچھ تو بے صبری سے اڑان بھرتے دور چلے جاتے اور پھر پلٹ کر آتے اور پتنگ پر حملہ آور ہوتے لیکن ہوا کے زور سے پتنگ کے پھڑپھڑانے کا شور ہوتا تو پھر اڑجاتے۔ کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ ان کی پر سکون زندگی میں یہ بلا کہاں سے چلی آئی۔ ایک کوا زور زور سے کائیں کائیں کرتا تو نہ جانے کہاں کہاں سے بیسیوں کوے اور آجاتے اور سب مل کر اجتماعی شور و غوغا کرتے۔ شور سن کر دادی بھی آ گئی۔ اس نے جو کووں کی آوازیں سنی تو سب کو خبردار کیا کہ یہ کوئی اچھا شگون نہیں۔ اس کے تجربے کے مطابق جو آوازیں کوے نکال رہے تھے وہ محض پتنگ کی وجہ سے نہیں تھیں بلکہ یا تو کسی مہمان کی آمد کی خبر تھی یا گھر کے کسی فرد کے سفر پر جانے کی۔ دادی کے دیکھتے ہی دیکھتے آخر ایک جری کوے نے پتنگ کا کاغذ پھاڑ دیا اور باقی کووں نے نہایت خوشی کے عالم میں وہ داد و تحسین بلند کی کہ اہل خانہ کانوں پر ہاتھ رکھ کر کمروں کے اندر دبک گئے۔

لڑکی کام کے کمرے میں آئی اور غیر ارادی طور پر اس نے کھڑکی کا پتھر سرکا کر باہر جھانکا۔ باہر دھوپ اور ویرانی تھی البتہ کووں کی آواز کہیں دور سے سنائی دے رہی تھی۔ اس نے کھڑکی بند کر دی اور کام پر بیٹھ گئی۔ آج اس کے کام کی رفتار بہت سست تھی۔ ہاتھ کھڈی پر بے دلی سے چل رہے تھے اور دھاگہ اس کے خیالوں کی طرح بار بار الجھ رہا تھا۔ مزید برآں اس نے کام کے دوران کوئی بیسیوں بار پتھر سرکا کر نظریں پھاڑ پھاڑ کر باہر دیکھا لیکن وہاں کچھ ہوتا تو نظر آتا۔ تنگ آ کر اس نے کام میں دھیان لگایا کہ مطلوبہ مقدار میں دھاگے سے کچھ بن پائے اور دادی کی نرم گرم سے بچ جائے۔ دادی اسے بہت اچھا کاریگر بلکہ فنکار سمجھتی تھی لیکن ساتھ ہی ساتھ اسے دھاگے کی دشمن بھی قرار دیتی تھی۔ دادی کو کیا علم کہ روز کچھ نہ کچھ خام مال اس خفیہ چادر کی نظر ہو جاتا تھا جسے وہ بہت محنت اور پیار سے بنا رہی تھی۔ دادی کا خیال آتے ہی اس کے ہاتھوں میں روزانہ کی تیزی لوٹ آئی۔ اس نے شام سے پہلے ہی آج کا کام ختم کیا اور ایک بار پھر چاہا کہ کھڑکی سے پتھر سرکا کر دیکھے کہ اچانک کھڑکی کے باہر پتھر پر کسی جنبش کا احساس ہوا۔ اس کا رنگ فق ہو گیا اور سردی کے موسم میں وہ پسینے میں شرابور ہو گئی۔ جلدی جلدی مکمل کیا کام دادی کو تھمانے کے بعد وہ واپس پتھر کے قریب آئی اور دھڑکتے دل سے اسے ایک طرف سرکایا تو وہ سامنے کھڑا تھا۔ پہاڑ کے ایک نوکیلے پتھر کے سہارے۔ اسے اتنا قریب دیکھ کر ایک بار تو جیسے اس کے دل نے دھڑکنا بند کر دیا ہو لیکن ہمت کر کے اس نے سہمی ہوئی سرگوشی میں پوچھ ہی لیا

” تم۔۔۔۔تم۔۔۔۔کون ہو اور کہاں تھے۔۔۔۔میرا مطلب کہاں سے اس مشکل اور سنگلاخ پہاڑ پر آئے ہو۔۔۔کیسے۔۔۔اتنی نشیبی دیوار۔۔۔۔”

لڑکے نے لڑکی کے تمام سوال غور سے سنے۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی جس سے اس کی مونچھوں کی سنہری روئیں پھیل گئیں اور شفق میں زیادہ سنہری لگنے لگیں۔ اس نے صرف اتنا کہا ” تم مجھے پانی پلا سکتی ہو، مجھے بہت پیاس لگی ہے۔۔۔”

کچھ نہ سمجھتے ہوئے، ہونق چہرہ لئے وہ صراحی سے پا نی کا کٹورا بھر کے لائی تو وہ وہیں اسی انداز میں کھڑا تھا۔ اس نے اشارے سے اسے بتایا کہ وہ پانی پینے کے لئے ہاتھ فارغ نہیں کر سکتا۔ لڑکی نے سوراخ میں سے تقریباً نصف جسم باہر نکالتے ہوئے کٹورا اس کے ہونٹوں کے ساتھ لگا دیا اور اس نے گھونٹ گھونٹ کر کے پانی پی لیا۔

” تم کون ہو، اس بستی کے تو نہیں لگتے اور یہاں کیوں آئے ہو، مطلب کیسے آئے ہو ؟ ” لڑکی نے اوسان بحال کر کے پوچھا

” ہاں تم ٹھیک کہتے ہو، میں پہاڑ کی دوسری جانب سے ہوں لیکن میں یہاں آتا رہتا ہوں، میں ان گلہریوں کا شکار کرتا ہوں جو یہاں نیچے کثرت سے مل جاتی ہیں اور ان کی کھال۔۔۔۔”

” مگر نیچے سے اوپر آنے کو تو کوئی راستہ نہیں، میں بخوبی جانتی ہوں، آج تک کوئی نہیں آیا، آخر تم۔۔۔” لڑکی نے بات کاٹی، ” ہاں یہاں آنے کی ہمت کوئی نہیں کر سکتا۔ بس ایک دن کھڑکی کھلی تھی اور میں نے تمہیں ایک خوبصورت چادر بنتے دیکھا ۔ مجھے تم اور چادر دونوں ہی بے حد پسند آئے۔ میں تمہیں چادر سمیت اپنی بستی میں لے جانا چاہتا ہوں۔۔۔”

دادی کے دیکھتے ہی دیکھتے آخر ایک جری کوے نے پتنگ کا کاغذ پھاڑ دیا اور باقی کووں نے نہایت خوشی کے عالم میں وہ داد و تحسین بلند کی کہ اہل خانہ کانوں پر ہاتھ رکھ کر کمروں کے اندر دبک گئے۔

لڑکی نے اس قسم کی بات کبھی زندگی میں نہیں سنی تھی۔ وہ جس ماحول کی پیداوار تھی وہاں تو اس قسم کا خیال بھی محال تھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کہے لیکن یک بیک وہ لڑکا اسے بھر پور طریقے سے اچھا لگنے لگا۔ ابھی اس نے کوئی بات کرنے کے لئے منہ کھولا ہی تھا کہ دادی کی آواز اس کے کان میں پڑی جو پوچھ رہی تھی کہ کام ختم کر نے کے بعد وہ ابھی تک کمرے میں کیوں تھی۔ دادی کا ڈر اس قدر تھا کہ مشینی انداز میں اس نے پتھر سرکا کر کھڑکی بند کر دی اور دوسرے کمرے میں بھاگ گئی۔

یہ رات اس کے لئے پہلی رات سے بھی زیادہ تکلیف دہ تھی۔ پہلے تو وہ اسے محض اپنا وہم سمجھتی رہی لیکن آج اس کو اسی مفلر سمیت دیکھا جو خود اس نے اس کے ہاتھ میں دیا تھا اور آج تو اس نے کٹورا بھر پانی بھی پیا تھا اور بات بھی کی تھی۔ رات کروٹیں بدلتے اور یہ سوچتے گزر گئی کہ وہ کوئی انسان تھا یا اس کا خیال کیونکہ کھڑکی کے اس پار تو آج تک بستی کا کوئی بندہ بشر کبھی نظر نہیں آیا تھا اور سب جانتے تھے کہ وہاں آنے جانے کا کوئی راستہ، کوئی پگڈندی، کچھ بھی نہیں ہے۔ اسے دادی کی بات بھی یاد آئی کہ ابھی دو دن پہلے ہی اس نے کووں کی عجیب کائیں کائیں سن کر کہا تھا کہ کوئی مہمان آنے والا ہے۔

بمشکل دن طلوع ہوا تو اسے اس کمرے میں جانے ہی سے ڈر لگنے لگا۔ جہاں وہ پچھلے پانچ سال سے کھڈی چلا رہی تھی۔ وہ دبے پاوں کمرے میں گئی اور دھاگوں کے گولوں کو جو دن چڑھے ہی دادی کھڈی پر رکھ دیتی تھی، گھورنے لگی۔ ہر گولے میں اسے اسی لڑکے کے خدوخال نظر آنے لگے۔ کچھ دیر بعد اسے ماتھے میں درد محسوس ہوا اور بدن کی حرارت بھی تیز لگنے لگی۔ ایک بار تو اس نے سوچا کہ آج دادی سے چھٹی لے لے لیکن آج اس کا ارادہ اس خوبصورت چادر کو مکمل کرنے کا تھا جو اس نے صندوق کے اندر چھپا رکھی تھی۔ اس نے کوئی دس بار کھڑکی کے پتھر کی طرف چور نظروں سے دیکھا لیکن اتنی ہمت نہ ہوئی کہ پتھر سرکا سکے۔ کل والا پانی کا خالی کٹورا بھی قریب ہی پڑا تھا۔ اس نے لپک کر اسے اٹھایا اور کسی پیاسے کی طرح ہونٹوں سے لگا لیا۔ اسے ایک عجیب خوشی اور سکوں کا احساس ہوا۔اب تو اسے یقین ہو چلا تھا کہ نہ یہ خواب ہے نہ خیال، یہ ایک حقیقت ہے مگر وہ پھر گڑبڑا گئی۔ ابھی کل ہی کی بات تھی، اس نے اپنے باپ سے پوچھا تھا کہ اس پہاڑ کی دیوار کے پیچھے کیا کوئی راستہ ہے، کوئی جگہ ہے آنے جانے کی تو اس نے گھور کر اس کی طرف دیکھا اور الٹا سوال کر دیا کہ آیا اسنے اپنی اٹھارہ سالہ کی عمر میں کووں کے علاوہ کسی اور پرندے تک کو بھی اس طرف دیکھا ہے۔ وہ خاموش ہو رہی۔ وہ کیسے بتاتی کہ لڑکا وہاں تھا، اس کے گلے میں مفلر تھا اور اس نے اسکے ہاتھوں پانی پیا تھا۔ اس نے چادر کی تعریف کی تھی اور ۔۔۔ اور۔۔۔۔ وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ کیا کرے۔ آج کے کام کا آغاز بھی نہیں کر پائی تھی۔ اسے محسوس ہوا کہ وہ اس اجنبی کے لئے پاگل ہو چکی ہے۔ کل کا واقعہ یاد کر کے اسکا دل زور زور سے دھڑک اٹھتا۔ یکدم کھڈی والا کمرہ اسے قید خانہ لگنے لگا اور کام کرنے کی بجائے وہ پتھر سرکا کر باہر کا نظارہ کرنے اٹھ کھڑی ہوئی۔

آج پھر کووں نے بہت شور مچا رکھا تھا۔ معلوم نہیں اونچے درختوں پر بیٹھے نیچے پہاڑ کی جانب کیا نظر آرہا تھا کہ بار بار نیچے کو اڑان بھرتے اور پھر شور مچا کر اوپر درختوں پر بیٹھ کر واویلا کرتے۔ ان کے اس بے تحاشا اور غیر معمولی شور نے دادی کو بھی مجبور کر دیا کہ وہ دیکھے کہ ان کو آج کیا تکلیف ہے۔ ماتھے پر ناگواری لئے دادی کھڈی والے کمرے کے باہر آ کھڑی ہوئی۔ اس نے کووں کی حرکات میں ایک عجیب سی بے چینی دیکھی۔ اس کے دل میں کسی انہونی کا کھٹکا ہوا۔ اس نے اپنی پوتی سے کچھ کہنے کو مڑ کر کمرے کے اندر جھانکا تو کھڈی پر کوئی نہیں تھا۔ گولے ویسے کے ویسے ہی دھرے تھے۔ پتھر سرکا ہوا تھا اور کمرہ خالی تھا۔ دادی نے سارے گھر میں پوتی کو آوازیں دیں، تلاش کیا لیکن وہ کہیں نہیں تھی۔ گھر کے مرد ندی تک تلاش کر آئے لیکن کوئی سراغ نہ ملا۔ سہ پہر ہونے کو آئی۔ بستی کے لوگوں نے رسوں، لاٹھیوں اور بھالوں کی مدد لی اور دادی کے حکم پرگھر کے پچھواڑے والے عمودی پہاڑ پر چڑھنے کی کوشش کرنے لگے کہ یہی ایک جگہ تھی جہاں آج تک کسی کی رسائی نہ ہوئی تھی اور نہ ہی کبھی ضرورت پڑی تھی ۔ تین گھنٹوں کی مشقت کے بعد وہ لوگ اس کھڑکی کے قریب پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ لڑکی ایک نہایت خوبصورت سلک کی چادر میں ملبوس پہاڑ کے ایک چوڑے پتھر پر لیٹی تھی اس کے ہاتھ میں ٹوٹا ہوا پانی کا کٹورا تھا، اس کے پاس وہی مفلر پڑا تھا جو سال بھر پہلے کھڑکی سے باہر اڑ گیا تھا۔ اتنی بلندی سے گرنے کی وجہ سے وہ دم توڑ چکی تھی۔

Categories
فکشن

پستان-پانچویں قسط

[blockquote style=”3″]

ایروٹیکا ایک ایسی نثری صنف ہے جس میں بڑے فنکارانہ انداز کوئی جنسی کہانی یا قصہ تحریر کیا جاتا ہے، دوسری بعض بڑی اصناف کے ساتھ یہ بھی مغرب سے ہمارے یہاں درآمد ہوئی۔ اس صنف میں لیکن بدقسمتی سے سنجیدگی کے ساتھ کچھ زیاده نہیں لکھا گیا جبکہ اردو میں پھوہڑ اور غیر دلچسپ جنسی کہانیوں کی بہتات ہے، پہلی سنجیده اور قابل ﺫکر ایروٹیکا اردو کے اہم افسانہ نگار بلراج مین را نے لکھی جس کا عنوان تھا، ‘جسم کے جنگل میں ہر لمحہ قیامت ہے مجھے’، اس کے بعد ابھی تک ایسی کوئی سنجیده کوشش نہیں دیکھی جا سکی ہے۔ تصنیف حیدر نے اسی صنف میں ایک ناولٹ لکھنے کا اراده کیا ہے جسے قسط وار لالٹین پر اپ لوڈ کیا جا رہا ہے

[/blockquote]

باب-5
اس ایروٹیکا کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

انتباہ: اس تحریر کے مندرجات صرف بالغ افراد کے لیے ہیں۔

 

خاموشی کی ایک چھوٹی سی لہر ان دونوں کے درمیان رقص کررہی تھی۔ کچ کی نگاہیں خلا میں تھیں، اس نے یونہی اپنے ہونٹوں کو جنبش دی تو ہوائیں لفظ کے کٹے پھٹے پیرہن پہن کر باہر نکلنے لگیں۔صدر کو محسوس ہوا جیسے وہ آپ ہی آپ کچھ بڑبڑا رہی ہے۔اس نے کچ کے تلووں پر دو انگلیاں پھیرنی شروع کر دیں،ایک ذرا دیر میں کچ نے پیر پیچھے کھینچا تو نیل پالش کی شیشی بھی چٹ کی آواز سے نیچے بچھے ہوئے ایک کاغذ پر گرپڑی، صدر نے اسے اٹھایا نہیں، وہ ہلکے ہلکے باہر بہہ کر آتی ہوئی نیل پالش کو دیکھنا چاہتا تھا۔کچ نے کہنا شروع کیا۔

 

مجھ میں اور تم میں ایک عجیب و غریب فرق شاید یہی پایا جاتا ہو، کہ تمہیں کسی نے زبردستی چھوا، نوچا کھروچا تب بھی تمہیں خوشی حاصل ہوئی۔لیکن میں ایسا محسوس نہیں کرپاتی۔ مجھے صرف اور صرف ایک تمہارے جسم کی دستک پر اپنے بدن کے دروازے کھولنے کی خواہش ہوئی ہے ۔
‘مجھ میں اور تم میں ایک عجیب و غریب فرق شاید یہی پایا جاتا ہو، کہ تمہیں کسی نے زبردستی چھوا، نوچا کھروچا تب بھی تمہیں خوشی حاصل ہوئی۔ لیکن میں ایسا محسوس نہیں کر پاتی۔ مجھے صرف اور صرف ایک تمہارے جسم کی دستک پر اپنے بدن کے دروازے کھولنے کی خواہش ہوئی ہے۔ اس سے پہلے میں جتنی بار بھی چھوئی گئی ہوں، نوچی گئی ہوں۔وہ میری پسند کے خلاف تھا اور اس نے مجھے خوشی کا احساس نہیں دیا، بلکہ ایک نشہ کی یا خواب آور کیفیت میں ضرور ڈال دیا۔مجھے یاد ہے کہ جب میں چار پانچ سال کی تھی تو ایک دفعہ گھر کے باہر موجود ایک آئس کریم والے سے آئس کریم خریدنے پہنچی تھی، وہ پٹھانی شلوار سوٹ پہنے، گھنی مونچھوں اور ہلکی داڑھی کے ساتھ، اپنے پکے سانولے رنگ اور تگڑے بدن کو لیے ایک برگد کے نیچے بیٹھ کر برفیلی سوغاتیں بانٹا کرتا تھا۔دیکھنے میں ہنس مکھ تھا، لوگوں سے ٹھیک سے بات کرتا،خاص طور پر بچوں سے۔اس کے دل میں شاید بچوں کے لیے کوئی الگ ہی کشش تھی، میں بھی اس روز وہاں آئس کریم لینے دوڑتے ہوئے پہنچی تو میرا سانس چڑھا ہوا تھا، بال کندھوں تک جھولا کرتے تھے، شاید میرے پیسوں میں کچھ کمی تھی، کوئی سکہ کھوٹا تھا یا شاید کوئی سکہ غائب تھا۔اس نے مجھے بڑے پیار سے چھوا، میرے گال پر ایک ہلکی سی چٹکی لیتے ہوئےاپنی گود میں بٹھالیا اور آئس کریم نکال کر دے دی۔ میں خوش ہوگئی اور آئس کریم کھانے لگی۔۔۔آئس کریم کے ٹھنڈے نرم ذرات میرے منہ میں گھلے جارہے تھے اور میں اپنی حلق میں بہت الگ تازگی محسوس کررہی تھی۔دھیرے دھیرے مجھے محسوس ہوا کہ میری رانوں سے کوئی چیز ہلکی ہلکی رگڑ کھارہی ہے، جیسے کوئی ربر میرے بدن پر ملا جارہا ہو۔میں نے آئس کریم والے کی طرف دیکھا تو وہ مجھے دیکھ کر مسکرائے جارہا تھا، اور ساتھ ہی ساتھ میرا سر سہلا رہا تھا۔لوگ سڑک پر آ جا رہے تھے، میرا بدن سن ہونے لگا اور اچانک ہاتھ سے آئس کریم بھی چھوٹ کر گرگئی۔اس وقت مجھے سمجھ میں ہی نہ آیا کہ کیا ہورہا ہے۔ایسا لگ رہا تھا جیسے بہت سی چیونٹیوں نے میرے شریر کو جکڑ لیا ہے، ان کی تاپ میں محسوس کرسکتی تھی، وہ تاپ اس پوری رات میں نے محسوس کی۔آئس کریم والے نے تو مجھے اسی وقت گود سے اتار دیا تھا، جب میرے ہاتھ سے آئس کریم گری تھی۔مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آیا تو میں نے بابا کے لائے ہوئے ایک موٹے سے تار کو اپنی رانوں سے چھوا کر دیکھا۔۔۔سب کچھ ٹھیک ہی تھا۔۔اور پتہ نہیں، کیسے وہ وقت گزر گیا۔لیکن آج بھی وہ رگڑ میرے بدن پر جیسے چپکی ہوئی ہے، اس رات جب تم میری رانوں کواپنے ہونٹوں کی حدت سے پگھلا رہے تھے، اس دوران وہ رگڑ کہیں غائب ہوگئی تھی۔وہ احساس کہیں نہیں تھا، بلکہ اس کی جگہ تمہارے ملائم ہونٹوں کی ایک دھندھک تھی جو مجھے محسوس ہورہی تھی۔پتہ نہیں کیوں مگر میرا دل چاہ رہا تھا کہ تم میرا اتنا حصہ چباجاو، دانتوں سے نہیں۔۔اپنے ہونٹوں سے۔میں یہ خود چاہتی تھی،میرا نچلا دھڑ بے رنگ پسینے اور سفید بوندوں سے بھررہا تھا، مگر مجھے وہ سب بہت اچھا محسوس ہورہا تھا۔ایسے جیسے تم نے میری رانوں پر کسی ہوئی وہ عجیب سی پٹی کھول دی ہے، جس نے میری نسوں میں خون روک لیا تھا، میری سانسوں، میرے خوابوں کو اپنی مٹھی میں لے رکھا تھا۔’

 

کچ یہ کہتے کہتے وہاں سے اٹھی اور بالکنی میں جاکر کھڑی ہوگئی، باہر کا رنگ سرمئی ہورہا تھا۔معلوم ہوتا تھا جیسے آسمان کی نیلی آنکھوں میں ہواوں نے سرمہ لگایا ہو، آسمان پر کہیں دھوئیں کی ایک سیدھی لکیر بنی ہوئی تھی، ابھی ابھی کوئی راکٹ گاڑھا سفید دھواں اگلتے ہوئے اس سیدھ سے گزرا تھا، بالکل زندگی کی طرح، جو حادثات کے پیچھے ایک سفید گاڑھا دھواں چھوڑ جاتی ہے اورپھر بہت مشکل سے وہ دھواں مدھم پڑتا ہے، خاموش ہوتا ہے۔کچ کے بال کھلے ہوئے تھے ،اس کی ننگی کمر پر صدر نے ایک تتلی بنادی تھی، ایک سیاہ رنگ کی تتلی جو اس کے بدن کی خوشبو کو سونگھتے رہنے کے لیے اس میں جذب ہوگئی تھی، یہ وہ نشان تھا جو نہ پانیوں سے مٹتا، نہ حادثوں سے۔یہ کھال میں پیوست ایک پینٹر کی ایسی خواہش تھی جو اب کچ کے حواس سے کبھی جدا نہ ہونے والی تھی۔صدر نے پیچھے جاکر کچ کے بالوں کو ایک طرف کیا اور اس کی گردن پر بوسہ دیتےہوئے سرگوشی کی۔

 

‘وہ وقت تو گزر جا چکا ہے نا کچ۔۔کیوں اسے یاد کرکے آج کو بوجھل بنارہی ہو۔’

 

اس کی ننگی کمر پر صدر نے ایک تتلی بنادی تھی، ایک سیاہ رنگ کی تتلی جو اس کے بدن کی خوشبو کو سونگھتے رہنے کے لیے اس میں جذب ہوگئی تھی، یہ وہ نشان تھا جو نہ پانیوں سے مٹتا، نہ حادثوں سے۔
ٌتم نہیں سمجھوگے صدر! لڑکیوں کے لیے ان کی مرضی کے خلاف چھوئے جانا والا وقت کبھی نہیں گزرتا۔۔۔یہی تو ایک مسئلہ ہے۔۔۔میں چاہوں بھی تب بھی،اس میں کوئی کچھ نہیں کرسکتا۔ مجھے اتنی بار میری مرضی کے خلاف چھوا گیا ہے کہ ۔۔۔۔میں نے اپنی مجبوریوں کو ہی اپنی مرضی کا نام دے دیا۔’

 

صدر نے اسے اپنی طرف موڑا، اس کی آنکھوں میں پانی ٹمٹما رہا تھا۔صدر نے اس کی آنکھوں پر اپنے ہونٹ رکھے اور اس پانی کو پی گیا۔پانی بہت نمکین تھا، بدن کے جس حصے میں بھی یہ پانی بنتا تھا، ضرور اس میں بلا کی تیزابیت ہوگی۔یہ صاف، سفید اور چھلکتا ہوا پانی، چاہے آنکھوں میں چھلک آئے یا بغل میں اتر آئے، گردن پربوندیں تراشے یا شرم گاہ کے پردوں سے باہر جھانکے۔اس کی تیزی اور کاٹ، اس کی روانی و رفتار کہیں متاثر نہیں ہوسکتی۔صدر نے کچ کے اوپری ہونٹ کو چوسنا شروع کر دیا۔ اس کے دونوں ہونٹ مل کر کچ کی اس ہلکی گلابی پرت کو کسی شریفے کے دانے کی طرح چوس رہے تھے۔ کچ کا ہاتھ بے ساختہ صدر کے بالوں میں تیر گیا، وہ اس پکڑ کو اور مضبوط بنانا چاہتی تھی۔

 

یہ تعلق کا ایک نامختتم کھیل تھا، جو روز صبح ان کے درمیان شروع ہوتا تھا،اور وہ اس میں رات گئے تک کسی نہ کسی بہانے سے ڈوبے رہنا چاہتے تھے۔اچانک کچ نے اچھل کر اپنی دونوں ٹانگیں صدر کی کمر میں ڈال دیں۔وہ ایک ذرا ڈگمگایا اور پھر اسے دیوار کا سہارا لینا پڑا۔لیکن یہ سہارا کام نہ آیا، وہ کچ کے ہونٹوں پر دھاریں لٹاتا ہوا، زمین پر گر گیا، اس کے منہ سے آہ نکلی، اس کی کمر میں ایک درد کی موج اچھل پڑی مگر کچ نے اس کا اثر نہ کیا۔ اس نے اپنی دونوں ٹانگیں صدر کے سینے پر رکھ دیں اور اب وہ جواباً صدر کی تھوڑی، اس کے گال، کان کی لو اور ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں داب رہی تھی، ان پر اپنے لعاب کی پھریریاں لٹارہی تھی اور اس کے بال صدر کے پورے چہرے پر گھنے درخت کی طرح چھائے ہوئے تھے، تھوڑی دیر میں صدر کا سینہ دفعتاًدکھنے لگا، مگر اس نے کچ کو بتانا مناسب نہ سمجھا، اسے اس درد کے باوجود کچ کا یہ جوابی حملہ ، یہ جنگلی پن بہت پسند آرہا تھا۔کچ کے پستان، اس کے گھٹنوں میں دبے ہوئے تھے اور ان میں ایک عجیب سخت گیر مہم چھڑ گئی تھی، کچ نے ان کی التجا پر کان دھرتے ہوئے، خود کو صدر کے بدن پر پھیلا لیا اور اس طرح، اس کی ننھی ننھی سوئیاں صدر کے سینے میں پیوست ہوگئیں۔صدر بار بار کوشش کررہا تھا کہ وہ کچ کے پستانوں تک کسی طور اپنے ہاتھوں کو پہنچا سکے، مگر کچ نے اس کے ہاتھ، اپنے گڑوئے ہوئے پنجوں کے نیچے سختی سے دبا رکھے تھے، ہونٹ گیلی ہواوں کے گھوڑے پر سوار تھے، ان پر اس وقت پوری طرح سے کچ کا شاہانہ بدن لدا ہوا تھا، اس لیے صدر نے بڑی مشکل سے اپنی خواہش کو لگام دی ہوئی تھی، وہ اس منظر سے نکل کر کچ کے پستانوں کی گرمی کو اپنے سینے میں اترتا ہوا محسوس کرنا چاہتا تھا۔

 

یہ تعلق کا ایک نامختتم کھیل تھا، جو روز صبح ان کے درمیان شروع ہوتا تھا،اور وہ اس میں رات گئے تک کسی نہ کسی بہانے سے ڈوبے رہنا چاہتے تھے۔اچانک کچ نے اچھل کر اپنی دونوں ٹانگیں صدر کی کمر میں ڈال دیں۔
ایک گہری خاموشی میں چلنے والے اس کھیل کی ساری داستان سانسیں لکھ رہی تھیں، سانسیں جو دو لوگوں کے نزدیک آنے کے خیال سے ہی وحشی ہونے لگتی ہیں۔جب طوفان تھما اور سانسیں مدھم پڑنے لگیں تو صدر نے کچ سے پوچھا۔
‘آخر ہم ایک دوسرے کا لعاب پی کر کیوں اچھا محسوس کرتے ہیں۔’

 

کچ اس سوال کا جواب نہیں دے سکتی تھی، اسے اس طرح کی باتوں سے الجھن ہوتی تھی۔وہ اس وقت اپنےتھکے ماندے بدن کی آغوش میں پڑی چھت سے جھولتے ہوئے ونڈ چائم کو دیکھنے لگی جو اس وقت ہلکی ہواوں میں موسیقی کی بڑی خوش کن لہریں پیدا کررہا تھا۔اس نے صدر کی طرف دیکھ کر کہا۔

 

‘کیوں کا کیا مطلب ہے۔ہم اچھا محسوس کرتے ہیں۔کیا یہ کافی نہیں ہے؟’

 

‘بالکل ہے۔۔میں تو بس ایسے ہی پوچھ رہا تھا۔اب بات کرنے کے لیے کوئی موضوع تو ہونا چاہیے۔۔’

 

‘ہمم۔۔لیکن خاموشی سے اچھا موضوع کیا ہوگا۔۔’

 

پھر دونوں واقعی خاموش ہوگئے۔اسی خاموشی میں نہ جانے کب انہوں نے کھانا بنایا اور کب کھانا وانا کھاکر فارغ ہونے کے بعد بستر پر اغل بغل لیٹ کر گہری نیند میں ڈوب گئے۔رات کا پتہ نہیں کون سا وقت ہوگا جب صدر کا موبائل بجنے لگا۔وائبریشن اس قدر تیز تھا کہ کچ کی آنکھ کھل گئی، لائٹ کو دیکھا تو ایسا لگا جیسے کوئی اس کی پتلی پتلی نرم اور سفید جھلیوں میں سیسہ انڈیل رہا ہو۔اس نے موبائل اٹھایا تو اسی نیت سے تھا کہ صدر کو دے گی، مگر اس کی جانب دیکھا تو وہ ہلکے کھلے منہ کے ساتھ اوندھا لیٹا نیند کی کسی اندھی کھائی میں پڑا ہوا تھا۔اس نے دھندلاہٹ میں موبائل سکرین پر پڑھا۔کسی ‘این’ کا فون تھا۔لیکن اس وقت؟ابھی شاید رات کے دس بجنے والے تھے، کچ وہاں سے اٹھی اور اس نے بالکنی کے پاس جاکر فون اٹینڈ کرلیا۔کسی لڑکی کی اس طرف سے آواز آئی۔

 

کچ کو اس وقت محسوس ہورہا تھا جیسے اس کے پستان پگھل کر زمین پر گررہے ہیں، کہیں سے کوئی دیوار اس پر کھل کر ہنس رہی ہے۔بہ
وہ دو تین بار ہیلو کرکے خاموش ہوگئی۔۔۔۔فون کٹ گیا۔تھوڑی دیر بعد صدر کے واٹس ایپ پر ایک وائس نوٹ آیا، ٹھیک اسی نمبر سے ڈائونلوڈ ہوتے ہی کچ نےفوراً پلے کے نشان پر انگوٹھا رکھ دیا، ایک کھنکھتی ہوئی آواز آرہی تھی۔

 

‘صدر! مجھے معاف کردو۔میں اس بار بھی تمہیں بتائے بغیر چلی گئی تھی۔۔۔لیکن میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا، میں نے خود کو بہت روکا، لیکن پتہ نہیں کیسے!مجھ سے ہو نہیں پایا۔۔۔۔اب میں جلد آرہی ہوں۔۔۔تمہیں سب کچھ ایکسپلین کردوں گی۔’

 

ایک عجیب جذبہ رقابت کچ کے سینے میں اچھل کر کھڑا ہوگیا اس نے بغیر کچھ سوچے سمجھے وہ پیغام ڈیلیٹ کردیا۔کچ کو اس وقت محسوس ہورہا تھا جیسے اس کے پستان پگھل کر زمین پر گررہے ہیں، کہیں سے کوئی دیوار اس پر کھل کر ہنس رہی ہے۔بہت زیادہ ، وہ اس عجیب جذبے سے دوچار ہوتے ہی پریشان ہوگئی، اس نے بھاگتے ہوئے صدر کا فون ٹیبل پر رکھا اور زمین پر پڑی ہوئی اپنی بریئرزر اٹھا کر پہنی، اور دروزاہ کھول کر باہر نکل گئی، اسے کچھ سمجھ نہ آیا کہ کہاں جائے۔وہ وہیں سیڑھیوں پر ایک کونے میں بیٹھ گئی۔ اور اپنے بدن کو دیکھ دیکھ کر ہانپنے لگی، اسے سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اس نے وہ پیغام آخر کیوں ڈیلیٹ کیا، کیا اسے ایک دفعہ بھی صدر سے یہ پوچھنا نہیں تھا کہ وہ لڑکی، وہ ‘این’آخر ہے کون؟
مجھے یہ منظر تو دکھائی نہیں دے رہا تھا، مگر میں کچ کی سسکیوں کو سن سکتا تھا، باہر برسات شروع ہو گئی، پہلے ہلکی بوندا باندی ہوئی اور پھر اچانک دھاڑ پاڑ کی آوازیں آنے لگیں، کچ اپنے سینے کو دبائے شاید سیڑھیوں پر ہی سوگئی تھی، اس کا سمٹا سمٹایا بدن پتہ نہیں کیا سوچ رہا ہوگا۔صدر کی نیند کب ٹوٹے گی پتہ نہیں، مگر کچ کے اندر کچھ نہ کچھ ضرور ٹوٹ رہا تھا اور یہ موقع وہ تھا جب صدر اور کچ کو ساتھ ہونا چاہیے تھا، مگر رات گئے، شاید رات کے کسی ڈھلتے پہر صدر کی آنکھ کھلی تو کچ اس کے بغل میں نہیں تھی، باہر برسات ہوئے جارہی تھی، صدر نے بالکنی سے جھانکا، اپارٹمنٹ کی چاکلیٹی اور پیلی لادی اپنے کھیسوں میں پانی بھر رہی تھی۔ کچ؟ کہاں ہے وہ؟ صدر نے پورا گھر دیکھ ڈالا۔دروازہ کھولا؟

 

وہاں دور دور تک، کہیں بھی کچ کا پتہ نہیں تھا۔آخر وہ اس شور میں کہاں غائب ہوگئی تھی۔صدر نے اسے ایک برسات میں پایا تھا اور دوسری میں کھودیا تھا۔

 

(جاری ہے)
Categories
فکشن

بندے علی

وہ یہاں کب سے تھے یہ نہیں بتایا جا سکتا۔ امانی اورماما حسن باندی بتاتی تھیں کہ وہ فوج کی نوکری چھوڑ کر ادھر آ بسے تھے۔ منہ لمبا ساتھا اور رنگ شائد آبنوسی ہی ہو گا۔ لمبے، ایک ہیولے کے جیسے، ہر وقت غیر محسوس طریقے سے گھر کے کام سنبھالے رہتے تھے۔ ہمشیر، بھائی اور میں اکٹھے سکول کے لیے نکلتے تھے، وہ اُس وقت ایک پھِرکی کے جیسے سارے گھر میں گھومتے پھِرتے۔ ہمشیر نے انڈا اُبلا ہُوا کھانا ہے، میں خاگینہ لے کر جاؤں گا، بھائی توس پر ملائی اور شہد لگائیں گے، مُجھے پانی کی جگہ ساتھ لے جانے کے لیے شربت دینا ہے سب کچھ اُنہیں ازبر تھا۔ لو بھئی سب نے کھانا کھا لیا چلو اپنے اپنے بستے لا کر دو مجھے، نا بیٹا مجھے دو، خود نہیں اُٹھانا، چار بستے کاندھوں پر لٹکائے لشٹم پشٹم وہ ہمارے پیچھے پیچھے چلتے آتے۔ہمشیر اپنے سکول کی گاڑی میں سب سے پہلے روانہ ہوتیں،پھر میں اپنے سکول، آخر میں بھائی کو چھوڑنے خود جاتے۔گھر میں کیا پکنا ہے، کتنا پکانا ہے، بی جان بالکل بے فکر ہوتی تھیں، بھائی کو چھوڑکر وہ خود قریب کے بازار سے خوب بھاؤ تاؤ کے بعد سبزی پھل لاتے اور چولہے کے ہو جاتے۔ دروازے پر گھنٹی بجی، بی جان آپ رہنے دیں میں دیکھتا ہوں، دوڑے ہوئے گئے، آنے والے کو بھگتا کر ہانپتے ہوئے آئے کہ سالن کے خیال میں قدم خود بہ خود تیز ہی پڑتے تھے۔ جب تک کھانا بنا کر فارغ ہوتے تو چچا میاں کے مُلاقاتی آنے شروع ہو جاتے، اب اُن کے چاء پانی، نشست و برخواست کے مدار المہام بھی وہی ٹھہرے تو وہ اب یہاں مصروف ہو جاتے۔ وقت ضرور پوچھتے رہتے کہ بھائی کو لے کر بھی آنا ہوتا۔ ہم دونوں کو تو واپسی پہ گھر اُتارا جاتا تھا۔ مُلاقاتیوں کا زور ٹوٹتا تو ہم لوگوں کی واپسی کا وقت ہو جاتااور آتے ہی کھانا پروس دیا جاتا۔ پھر قاری چچا، پھر بھائی کے اُستاد، پھر میرے اُستاد آ جاتے اور سب مارے باندھے کھانے کی میز پر پڑھنے بیٹھے رہتے۔ وہ سب کے لیے چاء کا بندوبست کرتے، سامنے باغ میں پانی دیتے اور پودوں کی کاٹ چھانٹ میں لگے رہتے۔ مغرب کی اذان کے بعد بھائی کا کوئی دوست آتا تو اُسے ڈانٹ کر بھگا دیتے اور مُنہ بسورے بھائی روزانہ تقریباً یہی جملہ سنتے ’بی جان، صاحِبزادے کو بتا دیں کہ شریفوں کی اولاد رات میں گھر پر اچھی لگتی ہے‘۔ شام سات بجے وہ گھر کے پچھواڑے، اپنے کمرے میں چلے جاتے اور نہایت دھیمی آواز میں ریڈیو سنتے رہتے۔

 

معمولات سارا سال یکساں رہتے، فرق آتا تو سوگ کے مہینے میں آتا تھا۔ بندے علی چاند دیکھتے ہی کالا کُرتا پہن لیتے، ڈاڑھی بنانا چھوڑ دیتے، کھانا پکانا یا گھر کا کھانا بالکل بند ہو جاتا تھا اور جو بھی تبّرُک ملتا بس اُسی پر گزارا کرتے۔
معمولات سارا سال یکساں رہتے، فرق آتا تو سوگ کے مہینے میں آتا تھا۔ بندے علی چاند دیکھتے ہی کالا کُرتا پہن لیتے، ڈاڑھی بنانا چھوڑ دیتے، کھانا پکانا یا گھر کا کھانا بالکل بند ہو جاتا تھا اور جو بھی تبّرُک ملتا بس اُسی پر گزارا کرتے۔ ظہر سے لے کر رات ایک بجے تک گھر کے قریبی عزاخانے میں بیٹھے رہتے، ہر جُلوس میں بطور رضا کارساتھ رہتے، آٹھویں دن جُلوس میں ننگے پیر تپتی زمین پر نشان اُٹھائے آگے آگے ہوتے، جہاں جُلوس رکنا ہوتا وہاں نشان کا بانس پاؤں کے اوپر ٹِکا لیتے کہ نیچے زمین کو لگنے سے بے حُرمتی نہ ہو۔ واپس آ کر سبیل لگائی جاتی، دسویں دن جُلوس میں زنجیرماتم کرتے، گھر آتے تو زخموں پر راکھ اور تیل کا لیپ ہوتا، دو روز اوندھے لیٹے رہتے، سوئم امام سے پھر حاضریاں شروع ہو جاتیں، ہاں، کالا کُرتا سوئم کے بعد اُتار دیتے تھے۔ چہلم تک اُن کے زخم جو ابھی ٹھیک سے بھرے بھی نہ ہوتے دوبارہ زنجیرماتم سے خراب ہو جاتے ۔ بی جان نے کئی بار ہمیں اُن کے کمرے میں بھیجا کہ اُن کا ماتمی سامان ڈھونڈ کر چُھپا دیں لیکن وہ شاید باہر کسی کے ہاں رکھ کر ہی آتے تھے۔ داجان کئی بار اُن سے بحث کرتے لیکن وہ ہر بار جھلّاکر یہی جواب دیتے کہ بھائی جان، قیامت کے دن مولا کو اپنا مُنہ دکھاؤں گا یا مُلّا کا فتوی، کہ زنجیرماتم کے بجائے خون عطیہ کر دو، بھلا بتائیں، مولا کو یہ کہوں گاکہ امّاں، باوا کا دین مولویوں کے کہے سے بدل دیا؟

 

داجان نے ایک دن بندے علی کی کہانی سنائی تھی، لیکن اس شرط پر کہ ہم اُن سے کبھی اس بارے میں کوئی سوال نہیں کریں گے۔ نواب زمان حیدر خان اپنے وقتوں کے بڑے پرگنہ داروں میں شمار ہوتے تھے۔ تین بہنوں کے بعد بڑی منّتوں مُرادوں سے بندے علی پیدا ہوئے، پوتڑوں کے رئیس تھے، لاڈ پیار اتنا اُٹھایا گیا کہ نہایت خود سر ہو گئے۔ کئی بار لڑائی جھگڑا سر پھٹول کی، ما ں باپ کے کہے میں نہ آتے تھے، رنگا رنگ اسلحہ جمع کیا ہوا تھا لیکن لڑائیاں ہمیشہ خالی ہاتھ لڑے۔ پڑھائی کے بعد باپ کو ایک ہی راستہ نظر آیا اُنہیں سُدھارنے کا، کہ فوج میں بھرتی کروا دیا جائے۔ ماں باپ کے بارہا سمجھانے کے باوجود وہ جانا نہیں چاہتے تھے کیوں کہ اُن کی نظر میں زمان حیدرکی سات نسلوں کو نوکری کی ضرورت نہیں تھی۔ ایک دن ماں نے انہیں اپنی قسمیں دے کر راضی کر لیا۔

 

وہ فوج میں گئے لیکن نواب زمان حیدرسے اکلوتے بیٹے کا جانا برداشت نہ ہوا اور اگلے ہی مہینے دِل کے معمولی دورے کے بعد بخار میں انتقال فرما گئے۔ اب اِن کی والدہ نے جانے کیامصلحت سمجھی کہ اِنہیں باپ کے مرنے کی اطلاع نہ دی (شاید یہ سوچا ہو کہ نوکری چھوڑ چھاڑ کر آ جائیں گے اور پہلے سے زیادہ بگڑ جائیں گے)، بھائی کی محبت سے مجبور ہو کر بڑی بہن نے چالیسویں پر خط لکھ مارا جو اُنہیں ایک ہفتے بعد ملا۔ طیش میں آکر اُنہوں نے قسم کھائی کہ جس ماں نے انہیں مرے باپ کا چہرہ نہیں دیکھنے بلایا اس کا مُنہ اُن کے مرنے کے بعد بھی نہیں دیکھیں گے۔ آٹھ دس سال اُنہوں نے فوج میں گُزارے لیکن گھر کا کبھی قصد نہ کیا، بہنیں آتیں، ماں جائے کو مل کر آنکھیں ٹھنڈی کر لیتیں اور پلٹ جاتیں۔

 

تین بہنوں کے بعد بڑی منّتوں مُرادوں سے بندے علی پیدا ہوئے، پوتڑوں کے رئیس تھے، لاڈ پیار اتنا اُٹھایا گیا کہ نہایت خود سر ہو گئے۔
بعد میں بندے علی فوج کی نوکری چھوڑکر یہاں آگئے۔ بندرگاہ کے قریب ایک ہوٹل میں نوکری کر لی اور جیسے تیسے گُزارہ کرنے لگے۔ داجان کا دفتر اُن کے ہوٹل کے قریب تھا، یہ اکثر وہاں جاتے تو بندے علی سے بھی سرِ راہ ملاقات ہو جاتی۔ ایک روز داجان ماما حسن باندی، بی جان اورہمشیر کو لے کر ساحلِ سمندر جا رہے تھے کہ بہت بھیانک طریقے سے اُن کی گاڑی کو ایک بس نے ٹکر مار دی، سب لوگ کافی زخمی ہوئے لیکن داجان اور ماما حسن باندی تو بے ہوش ہو چکے تھے۔ ہمشیرکے بازو پر آج بھی وہ زخم کا نشان نظر آتا ہے، خیر، جو لوگ مدد کو دوڑے آئے اُن میں بندے علی سب سے آگے تھے کہ اُدھر ہی آس پاس ہوٹل تھا اور بس کے انتظار میں کھڑے تھے۔ ہمشیر کو گود میں اُٹھا کر اُنہوں نے ایمبولینس بُلوائی اور سب کو بھاگم بھاگ اسپتال داخل کرایا۔ تین دن تک کسی کی حالت ایسی نہ تھی کہ ہمشیر کو سنبھالتا، یہ بے چارے وہیں داجان کی پائنتی سے لگے بیٹھے رہتے اور اِس ننھی بچی کو بھی سنبھالتے۔ امانی بی جان کے پاس ہوتی تھیں۔ داجان کے گھر آنے پر یہ اُن کے ساتھ ہی گھر آئے اور یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ ایک بار اُن کی بڑی بہن ملنے بھی آئیں، بہت واسطے دئیے کہ یہ جا کر علاقہ سنبھال لیں مگر وہ بندے علی ہی کیا جو ہٹ کے پکے نہ رہیں۔ ماں کی وفات ہوئی تو بھی یہ چہلم کو دو دن کے لیے گئے اور اپنی ضد نِبھائی۔

 

تب ہمیں معلوم ہوا کہ یہ کیا تھے اور کیا ہو گئے۔

 

بھائی کی اُن سے بالکل نہ بنتی تھی کہ وہ عمر کے اُس حصے میں تھے جہاں ماں باپ کی لگائی پابندیاں برداشت نہیں ہوتیں کُجا کوئی اور روک ٹوک کرے۔ بندے علی کھیل کودسے کبھی نہیں روکتے تھے بلکہ خود بھی قومی کھیل کے بہت اچھے کھلاڑی رہ چکے تھے اور اُن دِنوں بطور فیصلہ کُنندہ مُلکی سطح کے مُقابلوں میں شریک ہوتے تھے۔ اُن کی روک ٹوک ہوتی کہ فلاں لڑکا تمباکو پیتے دیکھا تھا میں نے، تم اُس سے کیوں مل رہے ہو، بے وقت کہاں جا رہے ہو، گرمیوں میں دوپہر کو آرام کیا کرو وغیرہ وغیرہ۔ بھائی کبھی کبھی اُن سے نظر بچا کر نکل بھی جاتے لیکن وہ پھر بی جان اور داجان کے پیچھے پڑ جاتے کہ آپ لڑکے کو بگاڑ کر ہی دم لیں گے اور بھائی کے آنے کے بعد اُن سے بھی دِنوں ناراض رہتے، بھائی، تم روٹھے ہم چھوٹے کے مصداق اِتنے دِن اور آزادی مناتے۔ آخر ایک دِن بندے علی خود ہی بداؤں کے پیڑے لے آتے جو بھائی کو بہت پسند تھے اور تھوڑا بہت ڈانٹ کر اُنہیں پاس بُلاکر گلے سے لگا لیتے اور کہتے’ارے ماٹی مِلو، تمہی سب نے ہمیں گڑھے میں اُتارنا ہے، چار کندھے بھی پرائے ہوں تو کیا میّت کیا جنازہ‘۔

 

بندے علی فوج کی نوکری چھوڑکر یہاں آگئے۔ بندرگاہ کے قریب ایک ہوٹل میں نوکری کر لی اور جیسے تیسے گُزارہ کرنے لگے۔ داجان کا دفتر اُن کے ہوٹل کے قریب تھا، یہ اکثر وہاں جاتے تو بندے علی سے بھی سرِ راہ ملاقات ہو جاتی
اُنہوں نے شادی بھی اِسی لیے نہیں کی کہ آزاد منش اور تھوڑے سنکی تھے اور اپنی طبیعت سے واقف بھی تھے۔ کئی بار بی جان نے کہا، بہنوں نے بھی زور دیا لیکن زیادہ کہنے پر ناراض ہو جاتے اور چپ کر کے باہر نکل جاتے۔ گلی کے بچوں سے بہت پیار کرتے تھے، نامعلوم کس بچے نے اُن کی چھیڑ ماضی میں ہوٹلوں پر کام کرنے کی وجہ سے ’انڈاگریوی‘ رکھ دی، اب یہ نکلتے اور کوئی بچہ باہر ہوتا تو آواز لگا کر غائب ہو جاتا اور یہ بے چارے دیر تک چِڑے رہتے اور غصے میں گھومتے رہتے۔

 

اِس بار بھی سوگ کے مہینے میں وہ اپنے معمول کے مطابق نکل پڑے، مجلس، جلوس، تعزیئے، سبیلیں، بندے علی نے پورے جی جان سے ساری عزاداری کی، دسویں کو رات جب گھر آئے تو طبیعت بہت خراب تھی، ماتم سے خون کی کمی اور کمزوری کافی تھی۔ داجان بھاگم بھاگ اسپتال لے گئے، وہاں معلوم ہوا کہ اِن کی کمرکئی بار زخمی ہونے کی وجہ سے ناقابلِ علاج ہے تو مرہم پٹی کروا کے گھر لے آئے۔ بی جان نے بہت ڈانٹا، منع کیا کہ آج کے بعد آپ سب کچھ کریں گے زنجیرماتم نہیں، یہ بھی سر جھکائے سنتے رہے، کمرے میں گئے، تمباکوپیا، اوندھے لیٹے رہے، سو گئے۔ بھائی نے بھی بستر اُٹھایا، خاموشی سے جا کر اُن کے کمرے میں زمین پر بچھا دیا اور لیٹ گئے۔رات کو خون زیادہ بہہ جانے سے دل کا دورہ پڑا، بھائی اور داجان اسپتال لے کر دوڑے، وہاں اُن کی حالت سنبھل گئی اور صبح اُنہیں لے کر آگئے۔ اب اُن کے نکلنے پر پابندی تھی، بھائی بھی چار پانچ دن ڈبڈبائی آنکھیں لیے ان کے آس پاس گھومتے رہے، پھر کالج کُھلے تو بھی آنے کے بعد اُن کے پاس چلے جاتے اور زیادہ وقت وہیں گُزارتے۔ وہ چہلم سے دو دن پہلے نکلے، بازار جا کر ٹرنک کال بُک کرائی، بہنوں کو فون کیا، گھر واپس آتے ہوئے ہم سب کے لیے چھوٹے چھوٹے تحفے لائے (باوجود اِس کے کہ سوگ کے مہینے میں کبھی نئی چیز نہیں خریدتے تھے)، بی جان کے پاس گئے اور ایسے لہجے میں چہلم کے جُلوس میں جانے کی اجازت مانگی کہ اُنہیں دیتے ہی بنی لیکن زنجیر ماتم سے اُنہیں سختی سے منع کیا۔ یہ بھی وعدہ کر کے چلے گئے۔ چہلم کے روز عصر کا وقت تھا، قریبی عزاخانے سے فون آیا اور اِطلاع دی گئی کہ بندے علی کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی ہے، داجان اور بھائی فوراً دوڑے لیکن بندے علی اُن کے پہنچنے سے پہلے ہی جا چُکے تھے۔ جو لوگ ان کے ساتھ تھے انہوں نے بتایا کہ وہ بار بار یہی کہہ رہے تھے ‘بی جان کو مت بتانا، بی جان کو مت بتانا’۔
Categories
فکشن

فن کدہ

وہ تینوں آگے پیچھے چلتے ہوئے جوں ہی آڈیٹوریم میں داخل ہوئے، تو منتظمین میں سب سے زیادہ باتونی شخص نے نعرہ بلند کرتے ہوئے کہا۔

 

“آہاہا ہا۔۔۔۔ ہمارے اصلی چیف گیسٹ آ گئے۔ ان ہی کے دَم سے تو یہ ادارہ ہے۔ یہ لوگ ہماری شان، ہمارا وقار، ہمارابھرم ہیں۔”

 

تینوں نے ایک دوسرے کو مسکراتے ہوے دیکھا۔ انتظامیہ کے ایک اہم کارکن فداصاحب آگے بڑھے اور بوڑھے شاعر منحنی طبلہ نواز اور بیمار مصور کو ایک ساتھ اپنی بانہوں میں بھرتے ہوے بولے۔

 

فن کاروں کی فلاح و بہبود کا عظیم الشان قدم، کے سنہرے الفاظ بیک ڈراپ پرجگمگا رہے تھے۔ اراکینِ مجلس صدارت کی اونچے تاج والی کرسیاں ابھی خالی تھیں۔ پروگرام کو شروع ہونے میں ابھی کچھ وقت تھا۔
آپ لوگوں کو گلے لگا کر میری عزت بڑھ جاتی ہے۔ میرا قد اونچا ہو جاتا ہے۔ فدا صاحب نے تینوں کو سب سے آگے نرم صوفوں پر بٹھاتے ہوے مزید کہا، “خدا کی قسم آپ یہاں سب سے آگے میری آنکھوں کے عین سامنے بیٹھیں گے، اورکہیں نہیں جائیں گے، کیوں کہ آج ہم آپ جیسے عظیم فن کاروں کے لیے جو فیصلے کرنے جارہے ہیں، وہ سننے کے لیے آپ کا سامنے ہونا بہت ضروری ہے۔”

 

تینوں معصوم فن کار عاجزی سے خصوصی صوفوں پر بیٹھ گئے۔ انتظامیہ کے ارکان دیگر کاموں میں مصروف ہو گئے۔ فن کاروں کی فلاح و بہبود کا عظیم الشان قدم، کے سنہرے الفاظ بیک ڈراپ پرجگمگا رہے تھے۔ اراکینِ مجلس صدارت کی اونچے تاج والی کرسیاں ابھی خالی تھیں۔ پروگرام کو شروع ہونے میں ابھی کچھ وقت تھا۔ آڈیٹوریم میں لوگ آہستہ آہستہ داخل ہوتے ہوئے ادھراُدھربیٹھ رہے تھے۔

 

بوڑھے شاعرکو فدا صاحب کے والہانہ پن پرسخت حیرت تھی۔ ان کی گومگوں کی کیفیت کو بھانپتے ہوئے بیمار مصور نے کہا۔
“آپ کچھ پریشان ہیں؟”

 

“یہ شخص آج صبح مجھے اپنے دفترمیں پہچاننے سے انکار کر چکا ہے۔” بوڑھے شاعرنے فدا صاحب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فوراً کہا۔

 

“کوئی مجبوری رہی ہو گی۔ “طبلہ نواز بولے۔

 

“خدا جانے۔”بوڑھے شاعر نے ٹھنڈی سانس لی۔

 

یہ کہہ کر تینوں خاموش ہو گئے۔ کچھ ہی دیر میں تینوں کو اپنے اطراف بے شمار آنکھوں سے ٹپکتی حیرت کی چھبن کا احساس ہونے لگا۔ بے چینی کے باوجود خاموش بیٹھے ہوئے تھے، کہ انتظامی کارکنوں میں سے ایک ان کی طرف بڑھا اور بولا۔

 

اس کے بعد بھی دو قطاریں وی آئی پیز کے لیے ہیں۔ آپ لوگ ایسا کریں کہ آٹھ قطاروں کے بعد کہیں بھی بیٹھ جائیں۔ “وہ شخص بے نیازی سے بولا۔
“یہ نشستیں صوبائی اسمبلی کے خاص ممبران کے لیے ہیں۔ آپ کہیں اوربیٹھ جائیں۔”

 

“مگر ہمیں تو فدا صاحب نے خود بٹھایا ہے۔ شاعرنے حیرت سے کہا۔

 

“ہر بات فدا صاحب کے علم میں تو نہیں ہوتی نا۔”وہ شخص بولا۔

 

“تو پھرہم وہاں بیٹھ جاتے ہیں۔”مصورنے ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا تو اس نے جواب دیا۔

 

“وہاں تو ڈی سی او صاحب کی فیملی آئے گی۔”

 

“تو پھر وہاں؟”انہوں نے ایک اورجانب اشارہ کیا۔

 

“وہاں بزنس کمیونٹی کے لوگ بیٹھیں گے۔”

 

“اوراس طرف؟”انہون نے طنزیہ مسکراہٹ سے ایک جگہ کی نشاندہی کی۔

 

“وہ پریس گیلری ہے۔”

 

“پھر وہاں؟”انہوں نے چارقطاروں سے پیچھے اشارہ کیا۔

 

“وہاں شہر کی کچھ نامور سخصیات کے لیے جگہ مختص ہے۔”

 

“اس کے بعد بھی دو قطاریں وی آئی پیز کے لیے ہیں۔ آپ لوگ ایسا کریں کہ آٹھ قطاروں کے بعد کہیں بھی بیٹھ جائیں۔ “وہ شخص بے نیازی سے بولا۔

 

آڈیٹوریم کی ہرپچھلی قطاربے وزن ترازوں کے پلڑے کی طرح اوپراٹھی ہوئی تھی، جو کہ خالی ہونے کی وجہ سے بے وقعت بھی ہوتا ہے۔ بوڑھے شاعر، منحنی طبلہ نواز اوربیمار مصور کے لیے خود کو بے وقعت بنا دینے والا اونچائی کا یہ سفرتھکا دینے والا تھا۔
تینوں فن کاروں نے ایک دوسرے کو بے بسی سے دیکھا اور خاموشی سے اٹھ کر کھڑے ہوئے۔ اب وہ پچھلی نشستوں کی طرف جارہے تھے۔ آٹھ قطاروں کے بعد کی اکا دکا خالی نشستوں پردعوت نامے، اخبار، لفافے، اور رومال اشارہ کر رہے تھے کہ وہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی خالی عمارتوں کی طرح مقبوضہ ہیں۔ وہ تینوں اورپیچھے چلے گئے، تاکہ تینوں کو ایک ساتھ جگہ مل سکے۔

 

آڈیٹوریم کی ہرپچھلی قطاربے وزن ترازوں کے پلڑے کی طرح اوپراٹھی ہوئی تھی، جو کہ خالی ہونے کی وجہ سے بے وقعت بھی ہوتا ہے۔ بوڑھے شاعر، منحنی طبلہ نواز اوربیمار مصور کے لیے خود کو بے وقعت بنا دینے والا اونچائی کا یہ سفرتھکا دینے والا تھا۔ بوڑھا شاعر جلد ہی ہانپنے لگا۔ ان کی ناہموار سانسوں نے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا تھا۔ تب بیمار مصور بولا۔

 

“تم تو مجھ سے بھی گئے گزرے ہو۔”

 

شاعر نے دوہری کمر، جھکی گردن، دھنسی آنکھوں اورپھیکی مسکراہٹ سے دیکھا اور کہا۔ “تم ٹھیک کہتے ہو۔”

 

آڈیٹوریم دھیرے دھیرے شہر کی اہم اورنمایاں شخصیات سے بھرتا جارہا تھا۔ کچھ ہی دیرمیں تقریب کا آغاز ہو گیا۔ اسٹیج پرمجلس صدور کی تمام نشستوں پرشہرکے چنیدہ اورمشہورلوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ فن کدہ میں فن کاروں کی بہبود کے لیے ہونے والے اس فلاحی پروگرام کی مجلس صدور کے اراکین میں کوئی بھی فن کار نہیں تھا۔

 

تقریب کا آغاز ہو چکا تھا۔ فدا صاحب خطبہ استقبالیہ پیش کرچکے تھے۔ اس دوران انہوں نے فن کاروں کی بہبود کے لیے چند اہم اعلانات بھی کیے، مگرنشستوں کی تلاش و جستجو میں تینوں فنکار ایک بات بھی سن نہ سکے۔

 

“خود کش حملے، بم دھماکے، میڈیا کی چیخ و پکار اوربے حسی کی پھیلتی ہوئی گھٹن میں ہمیں اپنے طبلے کی آواز بھی صحیح طرح سنائی نہیں دیتیی۔ ایسے میں دھیمی تانیں، لگانے کو بڑا دل چاہتا ہے۔
“فدا صاحب کوئی اعلان کرنے والے تھے۔ کیا اعلان کیا انہوں نے؟”طبلہ نواز نے مصور سے پوچھا۔

 

“بھئی آپ کی طرح ہم بھی تو کرسی ڈھونڈھنے میں لگے ہوئے تھے۔”مصورنے جواب دیا۔

 

“ایسی کیا بے چینی ہے خاں صاحب۔ پتا چل ہی جائے گا۔”بوڑھے شاعرنے بے دلی سے کہا تو طبلہ نواز بولے۔

 

“خود کش حملے، بم دھماکے، میڈیا کی چیخ و پکار اوربے حسی کی پھیلتی ہوئی گھٹن میں ہمیں اپنے طبلے کی آواز بھی صحیح طرح سنائی نہیں دیتیی۔ ایسے میں دھیمی تانیں، لگانے کو بڑا دل چاہتا ہے۔ اوریوں بھی کوئی اچھی خبر سنے ہوئے بہت عرصہ بیت گیا۔”

 

سماج کے بے حس نوکیلے کانٹوں کے ہاتھوں زخم خوردہ اوردرد میں ڈوبی آواز سن کرمصور اور شاعردونوں نے اپنے ہونٹوں کو بھینچ لیا، کیوں کہ وہ خود بھی ایسی ہی ہولناک صورت حال کے اسیر تھے۔ کاغذ پرلکھی ادھوری نظموں، رنگوں کے خالی ڈبوں اورآڑی ترچھی لکیروں والے ادھورے کینوس کے ڈراﺅنے خواب ان کی بھی زندگی کا حصہ تھے۔

 

آڈیٹوریم میں تالیوں کی گونج اورتعریفی کلمات کا شور مسلسل سنائی دے رہا تھا۔ ہال کی تمام نشستیں پُر ہو چکی تھیں، مگر لوگوں کی آمد کا سلسلہ اب بھی جاری تھا۔ لوگ خالی نشستوں کی تلاش میں ادھر اُدھر دیکھ رہے تھے۔ اسی اثناءمیں وہی کارکن جس نے تینوں کو پیچھے بھیجا تھا، ان کے پاس آیا اوربڑی لگاوٹ سے بولا۔

 

“خاں صاحب! ہماری معزز مہمان خواتین کھڑی ہیں، اور ہم میزبان جو کہ فن کدہ کے مالک ہیں، بیٹھے رہیں۔۔۔ اچھا نہیں لگتا۔ یہ سارا میلہ آپ ہی نے تو لگایا ہے۔ آپ میرے ساتھ آئیں۔ ہم سب مل کراس میلے کو کامیاب بنائیں گے۔”

 

تینوں نے ایک ساتھ فیصلہ کیا اورقدم آگے بڑھا دیئے، مگرکوششوں کے باوجود، راہ داری میں کھڑے معززین شہر کی بڑی تعداد نے، بوڑھے شاعر، منحنی طبلہ نواز اوربیمار مصورکو آگے بڑھنے کا راستہ ہی نہی دیا۔
بوڑھے شاعر، منحنی طبلہ نوازاوربیمارمصور نے ایک دوسرے کو دیکھا اورخاموشی سے نشستوں کو چھوڑ دیا۔

 

اسٹیج پرتقاریر جاری تھیں۔ تالیوں کی آوازبھی مسلسل آ رہی تھی۔ لیکن داد تحسین کے اس شور میں کیا کہا جا رہا تھا، کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔ یا پھر وہ آوازیں ان تینوں فن کاروں تک نہیں پہنچ پا رہی تھیں۔ تینوں بوڑھے فن کاروں میں

 

تا دیرکھڑے رہنے کی سکت نہیں تھی۔ کارکن انہیں بے نشیں کر کے غائب ہو چکا تھا۔ انہوں نے بیٹھنے کے لیے اِدھر اُدھرنگاہ دوڑائی مگر آڈیٹوریم میں کوئی نشست خالی دکھائی نہیں دی۔ اچانک ان کی نگاہ اسٹیج پرمجلس صدورکی اونچی تاج والی کرسیوں کی طرف گئی۔ وہاں تین صدور اپنی اپنی تقاریر کر کے اپنی دیگرمصروفیات کی وجہ سے شہرکے کسی اورمرکز کی طرف جا چکے تھے۔

 

یکایک تینوں کو ایک ہی خیال سوجھا، کہ فن کدہ کی وہ تشستیں اپنے قبضے میں کر لیں، جن پربیٹھنے کا بنیادی حق صرف ان ہی کا ہے۔ تینوں نے ایک ساتھ فیصلہ کیا اورقدم آگے بڑھا دیئے، مگرکوششوں کے باوجود، راہ داری میں کھڑے معززین شہر کی بڑی تعداد نے، بوڑھے شاعر، منحنی طبلہ نواز اوربیمار مصورکو آگے بڑھنے کا راستہ ہی نہی دیا۔
Categories
فکشن

کتھا کالے رنگ کی

مجھے یہ ماننے میں کوئی عار نہیں کہ میں رنگوں کی اجتماعی قبر کے سوا کچھ بھی نہیں۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ کیا ہو کہ اگر اپنا سینہ چیر دوں اور تمام رنگ پھڑپھڑاتے ہوئے اُڑ جائیں اور میں بے جسما ہو جاوں۔ مجھے اپنے ہونے پر اتنا ہی شک ہے جتنا آپ سب کو اپنے ہونے پر۔ ٹھہرئیے مجھے وہ رات یاد کرنے دیں جب پہلی دفعہ مجھے اپنے ہونے کا گمان گزرا تھا۔ جو کہانی میں آپ کو سنانے جا رہا ہوں وہ ایک سب بیتی ہے۔ یہ اُن سب لوگوں کی کتھا ہے جو میری طرح بے جسمے تھے۔

 

میں اکثر سوچتا ہوں کہ کیا ہو کہ اگر اپنا سینہ چیر دوں اور تمام رنگ پھڑپھڑاتے ہوئے اُڑ جائیں اور میں بے جسما ہو جاوں۔
شہر کے بیچوں بیچ انار کلی بازار میں ایک چھوٹی سی ہوزری کی دکان ہے۔ اس دکان کے سامنے لکڑی کا ایک بڑا سا تختہ اینٹوں کے سہارے کھڑا ہے جس کے اوپر مختلف رنگوں کے کپڑے بندھے پڑے ہیں۔ تختے کے ایک کونے میں پرانی اخباروں کے ٹکڑوں میں مختلف رنگوں کو لپیٹ کر رکھا گیا ہے۔ اس کے داہنی جانب کچی مٹی پر کچھ اینٹیں جوڑ کر اس کے اوپر لوہے کی ایک بڑی سی کڑاہی رکھی ہوئی ہے۔ اینٹوں کے اندر مختلف سائز کی لکڑیاں گُھسی ہوئی ہیں اور جل رہی ہیں۔ اس تختے کے چاروں کناروں پر لکڑی کی کچھ ٹہنیاں عموداً کھڑی کر کے ان کے اوپر کالے رنگ کا ایک موٹا سا کپڑا بطور سائبان لگایا گیا ہے۔ انہی ٹہنیوں میں سے ایک کے اوپر والے حصے کے ساتھ نائلون کی ڈوری بندھی ہوئی ہے جس کا دوسرا سرا ہوزری کی دکان کے ساتھ دیوار پر موجود ایک مڑے ہوئے زنگ آلود کیل کے ساتھ بندھا ہوا ہے۔ اس ڈوری پر مختلف رنگوں کے چند دوپٹے سوکھنے کے لئے لٹکائے گئے ہیں۔ یہی حُب دار حسین رنگریز کی چھوٹٰی سی دوکان ہے۔

 

حُب دار حسین چالیس بیالیس برس کا پکے رنگ کا ایک شخص ہے۔ اس کے چہرے پر چھوٹی سی داڑھی ہے ہاتھ کی تقریباً تمام انگلیوں میں مختلف پتھروں کی انگھوٹھیاں پہنی ہوئی ہیں۔ وہ ایک محنتی اور حساس شخص ہے۔ یوں تو اس چھوٹے سے شہر میں درجنوں رنگ ریز ہیں لیکن حُب دار حسین کے رنگ سب سے پکے مشہور ہیں۔ اسے خود بھی اس بات کا ضرورت سے زیادہ احساس ہے۔ وہ اکژ خواتین گاہکوں کے سامنے شوخی بگھارتے ہوئے کہتا ہے “باجی ایک دفعہ کپڑوں پر مجھ سے رنگ کروا کر تو دیکھیں، بڑی بات نہیں بولتا جی لیکن کپڑا پھٹ جائے گا مگر حُب دار کا لگایا ہوا رنگ نہیں اُترے گا۔ آپ میرے رنگ کئے ہوئے کپڑے چاہے مشین میں دوسرے کپڑوں کے ساتھ دھوئیں یا ہاتھ پر دھوئیں اگر رنگ اُتر جائے تو میں خود اپنی باجی کو ایسے دس سوٹ دلوا دوں گا”۔

 

حُب دار حسین کو رنگوں کی خوب پہچان ہے۔ اُسے جو بھی رنگ نمونے کے طور پر دکھایا جائے وہ عین وہی رنگ دئیے گئے کپڑے پر اُتار دے گا۔ جسے ہی کوئی کپڑا رنگنے کے لئے آتا تو پہلے وہ کڑاہی میں پانی کو خوب گرم کرتا جب وہ کھولنے لگتا تو وہ اخباروں کی پُڑیوں سے چٹکیاں بھر بھر کے رنگ پانی میں ڈالتا۔ جب پانی میں جھاگ اُبھرنے لگتی تو وہ کپڑا پانی میں ڈالتا اور لوہے کے چمچے سے اچھی طرح سے اُسے اُلٹتا پلٹتا رہتا۔ وہ زیادہ دیر تک کپڑے کو پانی میں نہیں رکھتا تھا بس چند منٹ بعد اُسے پانی سے نکال کر تار پر سوکھنے کے لئے پھیلا دیتا۔ وہ اکثر کہا کرتا تھا کہ رنگ کپڑوں کا جسم ہوتے ہیں۔ سفید کپڑا تو محض روح ہوتا ہے تبھی تو اُس سے مُردہ کا تن لپیٹا جاتا ہے۔ اُس نے خود بھی کبھی سفید لباس نہیں پہنا تھا۔ عموماً وہ کالے رنگ کے ڈھیلے ڈھالے لباس میں نظر آتا تھا۔

 

حُب دار حسین کو رنگوں کی خوب پہچان ہے۔ اُسے جو بھی رنگ نمونے کے طور پر دکھایا جائے وہ عین وہی رنگ دئیے گئے کپڑے پر اُتار دے گا۔
پہلے وہ رنگ ساز بھی تھا اور رنگنے کے لئے خود رنگ تیار کرتا تھا۔ جب اُس کی بیوی زچگی کے دوران وفات پا گئی تو اُس نے رنگ بنانا چھوڑ دئیے تھے اب وہ محض بازاری رنگ استعمال کیا کرتا تھا۔ بیوی کے زکر پر وہ اکثر آبدیدہ ہو جاتا اور کہتا “بس جی امیراں مرتے ہوئے مجھ سے رنگوں کی پہچان بھی لے گئی۔ اب تو مجھے سُرخ اور لال رنگ میں فرق ہی سمجھ نہیں آتا، آسمانی رنگ بنانے لگوں تو وہ کالا ہو جاتا ہے۔ اب رنگ بنانے کا کام مجھے خود سے آگے کا لگ رہا ہے اب تو رشید رنگ ساز سے بنا بنایا رنگ لے آتا ہوں اور اُسی سے کام چلا لیتا ہوں۔” امیراں مرنے سے پہلے اُسے ملازم حسین کا تُحفہ دے گئی تھی۔ پیدائشی طور پر ملازم حسین کا نچلا دھڑ اوپر والے سے بہت چھوٹا تھا۔ اُس کی پولیو زدہ پنڈلیوں پر گوشت برائے نام تھا۔ حُب دار کو یقین تھا کہ امیراں نے خُدا کے ساتھ مل کر یہ سازش رچائی تھی تا کہ وہ ادھورے بچے کے ساتھ بالکل ادھورا ہو جائے اور کبھی بیاہ نہ کر سکے۔ امیراں کے مرنے کے بعد کے دس سال اُس نے بڑی مشقت سے کاٹے تھے۔ پہلے دو تین سال تو اُس کی بڑی بہن نے اس کا ہاتھ بٹایا تھا لیکن جب آس کے شوہر نے اُسے اپنے پاس دبئی بلوا لیا تو ملازم حسین کی دیکھ بھال کی ساری زمہ داری حُب دار حسین کے کندھوں پر آ پڑی۔ اُس نے گھر کے ساتھ ہی قاسم ہوزری والے کی دوکان کے سامنے اپنا پھٹہ لگا کر کام شروع کر دیا۔ اُس کا ایک کان اور ایک آنکھ ہر وقت گھر کی طرف لگی رہتی اور دوسرے کان اور دوسری آنکھ سے وہ گاہک تلاشتا۔

 

ملازم حسین سارا دن ٹی وی کے سامنے بیٹھا ویڈیو گیم کھیلتا رہتا اور جب بھی اُسے ہگنے موتنے کی حاجت ہوتی وہ گلے سے عجیب و غریب آوازیں نکالنی شروع کر دیتا۔ جس پر حُب دار دوڑتا ہوا گھر آتا اُسے بازوں پر اُٹھا کر لیٹرین لے جاتا پھر اُسے دھلا کر واپس ٹی وی کے سامنے چھوڑ دیتا ۔ ملازم حسین کو بھی لگتا ہے اپنے باپ سے خدا واسطے کا بیر تھا جیسے ہی کوئی گاہک آتی وہ گلے سے وہی حیوانی آوازیں نکالنا شروع ہو جاتا اگر حُب دار ذرا سی بھی تاخیر کرتا تو وہ کپڑوں ہی میں فارغ ہو جاتا جس پر اُسے باپ سے نہایت سخت سننی پڑتی اور کبھی کبھی تو حُب دار اُسے ایک دو ہاتھ بھی لگا جاتا۔

 

ایک دوسرا انکشاف جو اُس پر ہوا ہو یہ تھا کہ لڑائی کے دوران ہی مخلف گروپوں کے تما شائیوں کے ایک گروہ سے ایک لڑکا اور دوسرے گروہ سے ایک لڑکی اس جنگلے سے اوپر اُٹھ کر ایک دوسرے کا بوسہ لیتے اور پھر واپس نیچے جُھک کر نعرے لگانے لگتے
صفورا بیگم ایک پنتیس سالہ بیوہ خاتون تھی۔ جس کی عین جوانی میں بیوگی بھی اُس کی فطری شوخی کو ختم نہ کر سکی تھی۔ جب وہ اپنے کسے ہوئے جسم پر خوب کسا ہوا لباس پہنے کسمساتی ہوئی حُب دار کے پاس کپڑے رنگ کروانے آتی تو اُس کے وجود کی ہر رگ میں تناو پیدا ہو جاتا۔ اُس کے کپڑوں کے رنگ حُب دار رنگ ریز کی آنکھوں میں آٹکھلیاں کرنے لگتے اور اُس کے دل کا رنگ گلابی ہو جاتا۔ ایسے میں حُب دار کا من کرتا کہ وہ اُس کے تمام کپڑوں کو اُس کے وجود سمیت گلابی رنگ میں رنگ دے لیکن ملازم حسین تو گویا اسی موقع کی تاک میں ہوتا وہ فوراً ہی بے وقت کا راگ الاپنا شروع کر دیتا اور جب وہ اُسے اٹھا کر لیٹرین کے اوپر کرتا تو وہ کچھ بھی نہیں کرتا تھا بس ٹکڑ ٹکڑ اپنے باپ کو دیکھتا رہتا ایسے میں اُس کی آنکھیں بالکل اپنی ماں جیسی لگنے لگتی اور حُب دار حسین کا دل زور زور سے دھک دھک کرنے لگتا نتجتاً وہ اپنے بیٹے کو دو چار ہاتھ لگا دیتا۔

 

جب وہ دوپہر کو کھانا کھانے گھر جاتا تو ملازم حسین ویڈیو گیم کھیلنے میں مصروف ہوتا اور وہ اُسے حیرانی سے ویڈیو گیم کھیلتے دیکھتا رہتا اُسے آج تک اس کے ویڈیو گیم میں اس قدر انہماک کی سمجھ نہیں آئی تھی۔ ویڈیو گیم میں دو کردار تھے جو ہمہ وقت لڑتے رہتے تھے۔ ایک دوسرے کو دیکھتے ہی اُن کی آنکھوں میں خون اُتر آتا اور وہ ایک دوجے پر پل پڑتے۔ حُب دار کو ان کی دشمنی کی وجہ کبھی پتہ نہ لگ سکی۔

 

ایک دن جب وہ صفورا کے کپڑے رنگ کر آیا تو وہ بیٹے کو گیم کھیلتے ہوئے غور سے دیکھنے لگا۔ اُس ان پہلی دفعہ اُس پر انکشاف ہوا کہ ان دو لڑتے ہوئے کرداروں کے پس منظر میں دونوں کا حمائتی مجمع لگا ہوا ہے اور مخلف گروپوں کے درمیان لوہے کا ایک جنگلہ ہے وہ سب لوگ ہر مکے ہر لات پر کھڑے ہو ہو کر تالیاں بجاتے تھے۔ حُب دار حسین کو یقین تھا کہ اُس کی طرح یہ سب لوگ بھی ان دونوں کرداروں کی دشمنی سے آگاہ نہیں ہوں گے۔ ایک دوسرا انکشاف جو اُس پر ہوا ہو یہ تھا کہ لڑائی کے دوران ہی مخلف گروپوں کے تما شائیوں کے ایک گروہ سے ایک لڑکا اور دوسرے گروہ سے ایک لڑکی اس جنگلے سے اوپر اُٹھ کر ایک دوسرے کا بوسہ لیتے اور پھر واپس نیچے جُھک کر نعرے لگانے لگتے۔ ان دونوں کے چہرے واضح نہیں تھے۔ لیکن ہر پانچ منٹ کے بعد وہ دونوں اوپر اُٹھ کر اُسی انداز میں ایک دوجے کا بوسہ لیتے اور پھر مجمع کا حصہ بن جاتے۔ اب حُب دار حُسین کی نظر لڑتے ہوئے کرداروں کے پس منظر میں محبت کی اُس داستان پر ٹھہر گئی۔ اُس پورے گروہ (شاید پوری دنیا) میں سوائے حُب دار کے کسی کو اُن کی محبت کی کہانی کی خبر نہ تھی۔

 

صفورا کب کی جا چُکی تھی حُب دار کے اندر رنگوں کا سیلاب امڈ آیا تھا، رنگوں کی لہریں ایک دوسرے پر چڑھتی ہوئی سیاہ رنگ میں بدلتی جا رہی تھیں۔ اُس کے پیٹ میں مروڑ اُٹھنے شروع ہو گئے اور وہ واپس گھر آ گیا۔
اگلی دوپہر تک حُب دار کی آنکھوں کے سامنے وہی داستان دہرائی جاتی رہی ۔ اُس کا دل کام میں بالکل نہیں لگ رہا تھا۔ دوپہر کے وقت صفورا اُس کی دوکان پر آئی وہ ایک سفید دوپٹے پر کالا رنگ کروانے آئی تھی کیونکہ کل سے محرم شروع ہو رہا تھا۔ عموماً وہ گاہکوں کو یہی کہتا تھا “ آپ زرا بازار سے گھوم آئیں میں پانچ منٹ میں رنگ کر دوں گا اُس کے بعد آپ کپڑے گھر بھی لے جا کر سُکھا سکتے ہیں”۔ لیکن اُس دن اُس کا دل کر رہا تھا کہ صفورا بس وہی سامنے کھڑی رہے اور وہ اُسے ویڈیو گیم کے انکشاف سے آگاہ کرے۔ اُسے لگ رہا تھا کہ اُس نے کائنات کا کوئی عظیم ترین راز پا لیا ہے۔ لیکن وہ شدید ترین کوشش کے باوجود اُسے کچھ نہ بتا پایا۔ جب وہ اُسے رنگ آلود دوپٹہ واپس کر رہا تھا تو اُس کی اُنگلیاں دانستہ طور پر صفورا کی انگلیوں سے ٹکرا گئیں تو دفعتاً اُس کے دل میں خیال آیا کہ کاش وہ آہنی جنگلہ درمیان سے ہٹ جائے۔ صفورا کب کی جا چُکی تھی حُب دار کے اندر رنگوں کا سیلاب امڈ آیا تھا، رنگوں کی لہریں ایک دوسرے پر چڑھتی ہوئی سیاہ رنگ میں بدلتی جا رہی تھیں۔ اُس کے پیٹ میں مروڑ اُٹھنے شروع ہو گئے اور وہ واپس گھر آ گیا۔ غسل خانے میں جاتے ہی وہ کپڑے اتار کر اپنے وجود کو دیکھنے لگا۔ اس کے جسم میں برقی لہریں دوڑ رہی تھیں۔ اُس نے ہاتھوں پر صابن لگایا اور مشت زنی کرنے لگا۔ پتہ نہیں وہ کتنے سالوں بعد مشت زنی کر رہا تھا۔ یکایک اُس کے کانوں میں ملازم حسین کی بے ہنگم آوازیں ٹکرانے لگیں وہ شعوری طور پر ان آوازوں سے لا تعلقی اختیار کر کے زور زور سے ملنے لگا۔ وہ پنجوں کے بل اُٹھ چکا تھا اُس کی سُرین سکڑ رہی تھی ۔ اُس کے دونوں بازوں، کہولوں، پنڈلیوں اور رانوں میں درد ہونے لگا تھا۔ ملازم حسین کی آوازٰیں بلند ہو چکی تھیں۔ حُب دار تھک چکا تھا اُس کے کندھوں کے بیچ میں درد ہونے لگا تھا اُسے یقین ہو گیا تھا کہ اُسے انزال نہیں ہونے والا۔ وہ جلدی سے کپڑے پہن کر باہر نکلا تو دیکھا کہ ملازم حسین کپڑوں میں ہی پیشاب کر چکا ہے۔ وہ تقریباً اُسے گھسیٹتے ہوئے غسل خانے میں لایا اور اُسے نل کے نیچے کر دیا۔ حُب دار کو شدید غصہ آ رہا تھا۔ وہ چیختے ہوئے بولا “بد بخت تو اپنی ماں کے ساتھ مر کیوں نہیں گیا۔ اب آئندہ اگر تو نے کپڑوں میں پیشاب کیا تو میں تیری پُھلو کاٹ کے کتوں کو کھلا دوں گا” ملازم بے تاثر چہرہ لئے اُسے دیکھ رہا تھا۔ اُس کی ٹانگیں بُری طرح سے کانپ رہیں تھیں اور اُس کی آنکھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اففففف اُس کی آنکھوں میں قیامت کا سوگ جھلملا رہا تھا۔ محرم کا چاند نظر آ چکا تھا۔

 

آج عاشور کا دن تھا۔ یہ دن تمام دنوں سے زیادہ تاریک اور سیاہ تھا۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی حُب دار حسین نے اذانِ علی اکبر کے ساتھ ہی ملازم حسین کو قیدی بنا کر امام باڑہ کے صحن میں موجود علم کے ساتھ باندھ دیا تھا۔
آج عاشور کا دن تھا۔ یہ دن تمام دنوں سے زیادہ تاریک اور سیاہ تھا۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی حُب دار حسین نے اذانِ علی اکبر کے ساتھ ہی ملازم حسین کو قیدی بنا کر امام باڑہ کے صحن میں موجود علم کے ساتھ باندھ دیا تھا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی ہر سال کی طرح اس سال بھی یہ دن آہستہ آہستہ گزرتا جا رہا تھا۔ حُب دار حسین نے سُرخ شربت کی سبیل لگائی تھی گو کہ وہ خود فاقے سے تھا لیکن نہایت دلجمعی سے مومنین کو شربت پلا رہا تھا۔ ظہرین سے ذرا پہلے اُس کے کان اُس کی توجہ کھینچتے ہوئے امام بارگاہ کے صحن میں موجود علم کی طرف لے گئے جہاں چند نوجوان نہایت غصے میں ملازم حسین پر چیخ رہے تھے۔ وہ دوڑ کر اُس طرف جانے لگا وہ قریب پہنچا تو اُس پر صورتحال واضح ہوئی ملازم حسین نے وہی پر اپنے کپڑوں میں پیشاب کر دیا تھا۔ اس سے پہلے کے حُب دار وہاں پہنچتا ایک نوجوان آگے بڑھا اور اُس نے ایک زور دار تھپڑ ملازم کے گال پہ دے مارا اور دہاڑتے ہوئے کہنے لگا “ ابے او معا۔۔۔۔ کی اولاد تو نے امام بارگاہ میں موت دیا ہے” ایک اور نوجوان آگے بڑھا اور ملازم حسین کو ٹھوکر مارتے ہوئے بولا “اس حرامی کو لایا کون ہے یہاں” حُب دار کے بڑھتے قدم رُک گئے۔ ایک اور نوجوان ملازم حسین کو کھینچ کر علم سے دور لے جانا چاہتا تھا پر اُس سے ملازم کے پاوں میں پڑی بیڑی نہ ہٹتی تھی۔ حُب دار گنگ تھا وہ خود اپنے بیٹے کو تھپڑ مارنا چاہتا تھا لیکن اس کے باوجود بھی اُس نوجوان کا تھپڑ گویا اُس کے دل پر لگا تھا۔ اتنے میں امام بارگاہ کے منتظم فواد بخاری آگے بڑھے اور گونج دار آواز میں بولے ” پرے ہٹ جاو سب۔ بد بختو دیکھتے نہیں مجذوب ہے بیچارہ۔ کم از کم آج کے دن تو اپنے دلوں کو وسیع رکھو کیا یہ سبق پڑھایا تھا مولا نے ہمیں” وہ ایک بالٹی پانی کی بھر کر لائے اور ملازم حسین پر انڈیل دی۔ ملازم حسین کے ہونٹوں سے خون رس رہا تھا، کھینچا تانی نے اس کی پنڈلیوں کو زخمی کر دیا تھا وہ اپنے اوپر گرتے پانی کو چاٹنے لگا۔ حُب دار تھکے قدموں کے ساتھ واپس سبیل کے پھٹے کے پاس چلا گیا۔ مولانااسد کاظمی کے گھر سے سو فٹ اونچا علم برآمد ہو چکا تھا اور اُس کے وسیع پھریرے نے پورا امام بارگاہ پر سایہ کر دیا۔

 

ظہرین کے بعد ہی مختصر مجلس کے بعد ہی شبہیہ ذوالجناح بھی مولانا اسد کے گھر سے برامد ہوئی۔ پورے شہر میں اس کے مقابلے کا زولجناح نہیں تھا۔ ۔ مکمل سیاہ چمکتے ہوئے بھاری بھرکم ذوالجناح (جس کا قد سات فٹ سے بھی نکلتا ہوا تھا) کو صرف عاشور کے دن باہر نکالا جاتا تھا تبھی تو پورا شہر ہی اُسے دیکھنے کو اُمڈ پڑتا تھا۔ آج ایک تو شدید گرمی اور حبس تھی، رش بھی پچھلے سال کی نسبت زیادہ تھا۔ اس قدر گھٹن میں ذوالجناح بے قابو ہو کر دائیں طرف کو دوڑ پڑا۔ اس کے ساتھ ہی امام بارگاہ میں بھگڈر مچ گئی۔ بھاگتے ہوئے لوگوں کے قدم امام بارگاہ کے صحن کی طرف تھے اور حُب دار حسین کا دل کُچلا جا رہا تھا۔ ۔ وہ بھاگ کر اندر کی طرف دوڑا مگر رش اس قدر زیادہ تھا کہ وہ ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھ پا رہا تھا۔ ماتمی صدائیں بلند ہو رہی تھیں۔ لوگ اونچی اونچی اواز میں درود پڑھنے لگے۔ ۔ تھوڑی ہی دیر میں مجمع قابو میں آیا تو حُب دار حسین مجمع کو چیرتے ہوئے آگے بڑھنے لگا اُس نے دیکھا امام بارگاہ میں جگہ جگہ جوتیاں بکھری پڑی ہیں۔ اور آخری کونے میں ملازم حسین کو وجود پڑا ہے۔ اُس کا سر ایک طرف کو ڈھلکا ہوا تھا ۔ اُس کے کپڑے گیلے ہو رہے تھے، اب پتہ نہیں وہ پسینہ تھا یا خوف کے عالم میں اُس کا پیشاب نکل گیا تھا یا پھر یہ اُسی کا خون تھا۔ اُس کا کالا لباس تمام رنگوں کو نگل چکا تھا۔ حُب دار حسین کے پہنچنے سے پہلے ہی امامیہ سٹوڈنٹس کے سکاوٹس اُسے سٹریچر پر ڈال کر ایمبولینس کی طرف لے جا چکے تھے۔ عصر کا وقت ہو چکا تھا لیکن دھوپ کی شدت میں تا حال کمی واقع نہ ہوئی تھی۔ حُب دار ایمبولینس تک نہ پہنچ پایا تھا کہ جلوس چل پڑا اور وہ بوجھل قدموں کے ساتھ سینہ کوبی کرتے ہوئے جلوس میں شامل ہو گیا۔ مغربین کے بعد جلوس مرکزی امام بارگاہ پہنچا۔

 

شام غریباں آ چکی تھی۔ امام بارگاہ کی تمام بتیاں گُل کر دی گئیں تھیں۔ جلتے خیموں کی یاد دلوں کو جلا رہی تھی۔ امام بارگاہ کی دیواروں پر بین کرتے ہوئے سائے نمودار ہونے لگے۔
شام غریباں آ چکی تھی۔ امام بارگاہ کی تمام بتیاں گُل کر دی گئیں تھیں۔ جلتے خیموں کی یاد دلوں کو جلا رہی تھی۔ امام بارگاہ کی دیواروں پر بین کرتے ہوئے سائے نمودار ہونے لگے۔ ایک طمانچے کا ذکر چلا تو لوگوں نے طمانچوں سے اپنے منہ پیٹ لئے۔ ہر طرف آہیں اور سسکیاں ایک دوجھے کے گلے لگ کر ماتم کر رہیں تھیں۔ ذاکر پوری شدت کے ساتھ مصائب پڑھ رہا تھا۔ جب وہ ہر جملے کے بعد کہتا “خدا تمہیں کوئی غم نہ دے سوائے غم حسین کے” تو بے ساختہ حُب دار حُسین کے لبوں سے کُوک نکل جاتی اور وہ بلند آواز سے بی بی کو پُرسہ دینے لگتا۔

 

شام غریباں کی مجلس کے بعد سب کچھ لُٹے جانے کا احساس لئے حُب دار حُسین بکھرے گرد آلود بالوں، کُھلے گریبان اور سوجی ہوئی آنکھوں کے ساتھ سول ہسپتال میں داخل ہوا تو ہسپتال کے اندرونی دروازے کے ساتھ ہی ٹی وی چل رہا تھا۔ نیوز چینل کا لوگو آج کے دن کی مناسبت سے سیاہ تھا۔ نیوز کاسٹر ایک خوش شکل نوجوان تھا جو اپنے چہرے پر مصنوعی سوگواری سجائے خبر پڑھ رہا تھا۔

 

“آج عاشور کے حوالے سے ملک بھر میں سیکیورٹی انتہائی سخت رہی، کہیں سے بھی کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔”