میں نے شاعری کی انتہا دیکھ لی تھی!

نصیر احمد ناصر: نانا جی ہمیشگی کی نیند سو چکے ہیں
اور میں ہموار ہوتی ہوئی آبائی قبروں سے دُور
اپنے نواسے کی انگلی پکڑ کر
قریبی پارک میں
اُسی کی طرح چھوٹے چھوٹے قدموں سے بھاگ رہا ہوں
اور میں ہموار ہوتی ہوئی آبائی قبروں سے دُور
اپنے نواسے کی انگلی پکڑ کر
قریبی پارک میں
اُسی کی طرح چھوٹے چھوٹے قدموں سے بھاگ رہا ہوں
کہیں ایک رستہ مِلے گا

نصیر احمد ناصر:کہیں ایک لمحہ ہے
عمروں کا حاصل ہے
بوسیدگی سے بھرا اک مکاں ہے
کسی یادِ کہنہ کا جالا ہے، مکڑی ہے
سانپوں کا بِل ہے
کہیں ایک صدیوں پرانی سی چکی ہے، ونڈ مِل ہے
جس کے گھماؤ میں
پانی ہے، پتھر کی سِل ہے
تِری سبز آنکھیں، مِرا سرخ دِل ہے !!
عمروں کا حاصل ہے
بوسیدگی سے بھرا اک مکاں ہے
کسی یادِ کہنہ کا جالا ہے، مکڑی ہے
سانپوں کا بِل ہے
کہیں ایک صدیوں پرانی سی چکی ہے، ونڈ مِل ہے
جس کے گھماؤ میں
پانی ہے، پتھر کی سِل ہے
تِری سبز آنکھیں، مِرا سرخ دِل ہے !!
اندھیرے کا گیت

نصیر احمد ناصر: اُدھر خدا کے بے ستون آسمانی محلات میں
اندھیرا روشن ستاروں کے آس پاس منڈلاتا رہتا ہے
اور موقع پاتے ہی وار کرتا ہے
اور اُن زمینوں تک جا پہنچتا ہے
جہاں دلوں کی کاشت کاری ہوتی ہے
اور دماغوں کے پھول کھلتے ہیں
اندھیرا روشن ستاروں کے آس پاس منڈلاتا رہتا ہے
اور موقع پاتے ہی وار کرتا ہے
اور اُن زمینوں تک جا پہنچتا ہے
جہاں دلوں کی کاشت کاری ہوتی ہے
اور دماغوں کے پھول کھلتے ہیں
دنیا چالاک لوگوں کے لیے بنی ہے

نصیر احمد ناصر: دنیا ایسے لوگوں سے بھری پڑی ہے
جن کی خوراک
معصوم روحیں ہوتی ہیں
وہ جانوروں کی ہوں یا انسانوں کی
جن کی خوراک
معصوم روحیں ہوتی ہیں
وہ جانوروں کی ہوں یا انسانوں کی
خوابوں کی افادیت

نصیر احمد ناصر: خواب دیکھتے ہوئے
کچھ بھی کیا جا سکتا ہے
مثلآ گدھے کی سواری
شیر کے ساتھ دوست
کچھ بھی کیا جا سکتا ہے
مثلآ گدھے کی سواری
شیر کے ساتھ دوست
شب خیزیا

نصیر احمد ناصر: ایک خواب
ہر شب میری نیند میں داخل ہو جاتا ہے
کسی خفیہ راستے سے
میرے وجود کا خود کار حفاظتی نظام
اسے ٹریس نہیں کر پاتا
ہر شب میری نیند میں داخل ہو جاتا ہے
کسی خفیہ راستے سے
میرے وجود کا خود کار حفاظتی نظام
اسے ٹریس نہیں کر پاتا
مَرے ہوؤں کی موت

نصیر احمد ناصر: جو پہلے سے مر چکے ہوں
ان کے مرنے کا اعلان عجیب لگتا ہے
ان کے مرنے کا اعلان عجیب لگتا ہے
ونڈو شاپنگ

نصیر احمد ناصر: تیری “سٹاپ اینڈ شاپ” میں دنیا
میرے مطلب کی ایک بھی چیز نہیں
مجھ کو تو یہ بھی معلوم نہیں کیا لینے آتا ہوں
دنیا! تجھ کو دیکھ کے واپس آ جاتا ہوں
میرے مطلب کی ایک بھی چیز نہیں
مجھ کو تو یہ بھی معلوم نہیں کیا لینے آتا ہوں
دنیا! تجھ کو دیکھ کے واپس آ جاتا ہوں
بابے کی ہٹی

نصیر احمد ناصر: میں جب چھوٹا بچہ تھا
بابے کی ہٹی پر
ایک پڑوپی گندم سے
مٹھی بھر نُگدی اور مکھانے مِل جاتے تھے
بابے کی ہٹی پر
ایک پڑوپی گندم سے
مٹھی بھر نُگدی اور مکھانے مِل جاتے تھے
محبت اصلی مشین گن نہیں چلا سکتی

نصیر احمد ناصر: محبت اس سے زیادہ کسی ذی حس کو نقصان نہیں پہنچا سکتی
انسانوں سے تو وہ تا دیر ناراض بھی نہیں رہ سکتی
سوائے دہشت گردوں کے
جن کے قریب جانے سے وہ ڈرتی ہے
کیونکہ محبت اصلی مشین گن نہیں چلا سکتی!
انسانوں سے تو وہ تا دیر ناراض بھی نہیں رہ سکتی
سوائے دہشت گردوں کے
جن کے قریب جانے سے وہ ڈرتی ہے
کیونکہ محبت اصلی مشین گن نہیں چلا سکتی!
رات کے لیے ایک نظم

نصیر احمد ناصر: اے رات!
اے ذائقوں اور نیندوں سے بھری ہوئی رات!
میں تیرے انتم کنارے پر
سورج لیے کھڑا ہوں
مجھے اذنِ باریابی دے
مجھ میں طلوع ہو
اے ذائقوں اور نیندوں سے بھری ہوئی رات!
میں تیرے انتم کنارے پر
سورج لیے کھڑا ہوں
مجھے اذنِ باریابی دے
مجھ میں طلوع ہو
زندہ قبریں

نصیر احمد ناصر: ہم اپنے مُردوں کے انتظار میں کھدی ہوئی
زندہ قبریں ہیں
اور اپنے پُر ہجوم جنازوں کو
دیکھ دیکھ کر خوش ہونے والے
مُردہ وجود
زندہ قبریں ہیں
اور اپنے پُر ہجوم جنازوں کو
دیکھ دیکھ کر خوش ہونے والے
مُردہ وجود
خام خیالی

نصیر احمد ناصر: جب میں نہیں ہوں گا
تو ہوا
چاروں طرف تنہا پھرے گی
تو ہوا
چاروں طرف تنہا پھرے گی
موت کو پڑھنا آسان نہیں

نصیر احمد ناصر: لفظوں اور منظروں کی خود کشی کے بعد
زندگی کو چُپ سی لگ گئی ہے
زندگی کو چُپ سی لگ گئی ہے
لاشیں اور دن ترتیب سے گنے جاتے ہیں

نصیر احمد ناصر: لاشیں ترتیب سے رکھی گئیں
شناختی نشانوں کے ساتھ
روزنامچے میں
دن، تاریخ اور وقت درج کیا گیا
تا کہ بے حساب مرنے والوں کا
حساب رکھا جا سکے
شناختی نشانوں کے ساتھ
روزنامچے میں
دن، تاریخ اور وقت درج کیا گیا
تا کہ بے حساب مرنے والوں کا
حساب رکھا جا سکے
