Categories
نان فکشن

لکھت لکھواتی ہے (صنوبر الطاف)

میں ایک پیشہ ور لکھاری ہوں۔

منظروں سے اپنی لکھت کشید کرتا ہوں۔خاموشی میں دبی سسکیوں کو سنتا ہوں،آہوں کا مطلب سمجھتا ہوں،بند آنکھوں کے خوابوں کو دیکھ سکتا ہوں،درد سے بلکتے انسانوں کی نہ نکلنے والی چیخوں کو سنتا ہوں اور پھر انہیں لکھتا ہوں۔

میں ان آنسووں کو دیکھ سکتا ہوں جو بہے نہیں ہوتے۔میں برف جیسے سرد لوگوں کو بھی جانتا ہوں۔ان کے سرد رویوں کو بھی سمجھتا ہوں۔میں کسی کے برے ہو جانے کے مسائل سمجھ سکتا ہوں اور انہیں سلجھا بھی سکتا ہوں۔میں نے ہمیشہ انسانوں سے پیار کیا ہے،انہیں اپنا سمجھا ہے۔دنیا کے تمام انسان میری لکھت کا خام مال ہیں۔گہری نیند میں گم بلکتے انسان اور ان کی بند آنکھوں میں جاگتے خواب،سب میرے وجود کا حصہ ہیں۔یہ سب لوگ میری قلم کی نوک پر ہیں۔میں جسے چاہوں،جیسے چاہوں درج کرسکتا ہوں۔کسی کو زندہ کردوں ،کسی کومٹادوں،یہ سب مجھ پر ہے۔یہ سب مجھے اس لیے عزیز ہیں کہ ان کی بدولت میں خود زندہ ہوں اور میرے پیارے بھی۔میں ان کے درد کو اپنی لکھت بنا کر بیچتا ہوں اور پیسے کماتا ہوں۔اگر دنیا میں درد مٹ جائے تو اس کا سب سے بڑا نقصان میرے جیسے لیکھک کا ہی ہوگا۔

میرے پڑھنے والے کہتے ہیں کہ میں درد شناس ہوں،مجھے درد رقم کرنے آتے ہیں۔لوگ میری لکھت کو پڑھ کر بہت عرصے تک اس کے اثر سے نکل نہیں پاتے۔میں حقیقتوں کو روندتا،درد کی گھاٹیوں میں اترتا،تکلیف کی گہرائیوں میں ٹھہرنے کا فن جانتا ہوں۔

کچھ عرصے سے میں کچھ نہیں لکھ پارہا۔شاید ایسا تب ہوتا ہے جب میں نے کسی نئے شاہکار کو وجود میں لانا ہوتا ہے۔میں اس عمل میں ایک عجیب سی بے معنویت کا شکار ہوجاتا ہوں۔کوئی بھی منظر،کوئی بھی چہرہ،کوئی بات مجھے لکھنے پر مجبور نہیں کر پا رہی۔مجھے پیسوں کی سخت ضرورت ہے اور لکھنا ان پیسوں کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

آج میرے پیارے بیٹے نے مجھ سے پہلی مرتبہ کسی چیز کی فرمائش کی ہے۔اسے ایک ویڈیوگیم چاہیے۔میں نے فیصلہ کر رکھا ہے کہ آج میں اسے وہ دلواکر رہوں گا چاہے کچھ بھی ہوجائے۔گو مجھے معلوم ہے کہ وہ کوئی ضدی بچہ نہیں ہے۔بہت فرمانبرداراور صابر ہے۔ہم نے زندگی کے کئی دن ایسے بھی گزارے ہیں جب ہمارے گھر کھانے کو کچھ نہ تھا لیکن میرے بچے نے کبھی مجھ سے شکایت نہیں کی۔

سڑک کے دوسری طرف ایک ہجوم کھڑا ہے۔شاید کسی گاڑی نے کسی کو کچل دیا ہے۔ ارے!یہ ایک بچہ ہے جو سڑک کے درمیان درد سے تڑپ رہا ہے۔وہ بری طرح لہو لہان تو ہے لیکن اس کی سانسیں چل رہی ہیں۔اس کا بستہ جو پاس ہی پڑا ہے خون میں لت پت ہے۔وہ درد کے مارے بار بار کروٹیں بدلتا ہے کبھی دائیں کبھی بائیں۔کبھی اپنا پیٹ پکڑتا اور کبھی سر۔سب لوگ دائرے کی صورت میں کھڑے ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ وہ کس طرح دم توڑتا ہے اور میں،لکھنا جس کا پیشہ ہے سوچ رہا ہوں کہ ایسا موقع پھر نہیں ملے گا۔میری انگلیاں لکھنے کے لیے بے تاب ہیں۔میں زمین پر بچے کے پاس ہی دو زانو بیٹھ گیا ہوں۔میں نے تیزی سے قلم کاغذ نکال کر لکھنا شروع کر دیا ہے۔میں اس بچے کے منہ سے نکلنے والی آہ اور اس کا درد لکھنے لگا ہوں۔میں لکھنے لگا ہوں کہ موت اور زندگی کی لڑائی کیسی ہوتی ہے؟کیسے انسان خود کو موت کے پاس جانے سے روکتا ہے اور کیسے موت اس کو اپنے قریب گھسیٹتی ہے۔

اچانک مجمع میں سے ایک شخص نمودار ہوتا ہے۔وہ ایک کمزور سا نوجوان ہے ،آنکھوں کے گرد بڑی سی عینک،ہاتھ میں ایک کاغذ اور پنسل ہے۔اس نے بچے کے سامنے بیٹھ کر اس کی تصویر بنانی شروع کر دی ہے۔ایسی درد بھری اور حقیقی تصویر بنانے کا موقع اسے شاید پھر کبھی نہ ملے۔ اس کی پنسل بڑی تیزی کے ساتھ اسکیچ بنارہی ہے۔وہ بچے کی ایک ایک تکلیف کی تصویر کاغذ پر اتار رہا ہے۔اِدھر میں درد کو لفظوں میں پرو رہا ہوں اور اُدھر وہ لکیروں کے ذریعے درد کی شکلیں بنارہا ہے ۔ہم دونوں اپنا اپنا کام کررہے ہیں۔مجمع ساکت ہے اور بچہ تڑپ رہا ہے۔

کچھ اور لوگ بھی دھکم پیل کرتے ہوئے بچے کو چاروں طرف سے گھیر لیتے ہیں۔ہر طرف سے کیمروں سے تصویریں کھینچنے کی آوازیں آنے لگتی ہیں۔تصویروں کے لیے ایک دوسرے کو پیچھے دھکیلنے اور تڑپتے بچے کی مسلسل حرکت کی وجہ سے وہ فوکس نہیں کر پا رہے ہیں۔ہم سب اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہیں کہ ایک شخص نے مائیک پکڑ کر کیمرے کے سامنے بولنا شروع کر دیا ہے:”آج کلمہ چوک میں سڑک پر ایک آٹھ سالہ بچے کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کچھ منچلے نوجوانوں نے اس مصروف سڑک پر کارریسنگ کا مقابلہ رکھا تھا۔ یہ بچہ باری باری تین کاروں کی زد میں آیا ہے۔ کہا جاتا ہے اس میں سے ایک کار حساس ادارے کے اعلیٰ افسر کے صاحبزادے کی بھی تھی۔ بچہ ابھی زندہ ہے لیکن بری طرح زخمی ہے۔آپ اپنی ٹی وی سکرین پر بچے کو تڑپتا دیکھ سکتے ہیں۔ ہم نے اس کے خیالات جاننے کی کوشش کی ہے لیکن وہ بول نہیں پا رہا ہے۔ اس حادثے کی وجہ سے ٹریفک جام ہو چکی ہے اور لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ یہ سب حکومت کی ناکامی کو منہ بولتا ثبوت ہے۔ کیمرہ مین فلاں کے ساتھ، میں فلاں،فلاں نیوز چینل، اسلام آباد”

میں نے یہ سوچ رکھا ہے کہ جب تک بچہ آخری سانس نہیں لیتا میں لکھنا نہیں چھوڑوں گا۔ کبھی کبھار وہ مجھے عجیب نظروں سے دیکھتا ہے لیکن میں ان نظروں کو مفہوم سمجھنا نہیں چاہتا۔میں صرف لکھنا چاہتا ہوں۔

اچانک وہ اپنا خون آلود ہاتھ میرے کاغذ کے اس ڈھیر پر رکھ دیتا ہے جو میرے گھٹنوں پر دھرے ہیں۔میں تھوڑا ناراضگی کے انداز میں اس کی طرف دیکھتا ہوں۔ شاید یہ اس کی آخری سانس تھی۔میرا قلم رک جاتا ہے۔تصویریں اور رپوٹیں مکمل ہوچکی ہیں۔ فوٹوگرافر چلے گئے اور ٹی وی والے اپنا سامان باندھ رہے ہیں۔ مجمع پہلے کی طرح ساکت ہے۔میں اس خون بھرے ہاتھ کو غور سے دیکھنے لگتا ہوں جو اب بھی میرے گھٹنوں پر دھرا ہے۔وہ ایک چھوٹا سا نرم ہاتھ ہے۔ جس کے ناخن بڑی نفاست سے ترشے ہوئے ہیں۔

“کل ہی تو اس کی ماں نے اس کے ناخن کاٹے ہیں” یہ شاید میری آواز ہے۔

“یہ وہی ہاتھ ہیں جنہوں نے ہمیشہ مجھے بڑی مضبوطی سے تھامے رکھا تھا۔ انہی ہاتھوں کو پکڑ کر میں نے اسے چلنا سکھایا تھا۔ اسے پنسل پکڑنی سکھائی تھی۔ انہی ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر میں نے کئی بار اس سے پنجہ لڑایا تھا،پھر جان بوجھ کر ہارا تھا ۔نہیں، یہ بے جان ہاتھ میرے بیٹے کے نہیں ہیں۔ یہ تو کہانی کا کردار ہے۔ ایک رپورٹ، ایک خبر اور ایک تصویر ہے۔”

Categories
شاعری

دو نظمیں (علی محمد فرشی)

آؤ تتلی کے گھر چلتے ہیں

چلیں !
تنہائی کے
اِس غار سے نکلیں
کوئی رستہ بنائیں
اِس گھنی، گاڑھی، سیاہی سے نکلنے کا
اندھیرے، اندھے، زہریلے دھوئیں میں
کاربن ہوتی ہوئی عمریں کہاں ہیرا بنائیں گی
کسی نیکلس، انگوٹھی اور جھمکے میں
چمک اٹھنا، کہاں دل کا مقدر ہے
ہمارے کوئلہ ہوتے دنوں کا غم، ہمالہ نے کہاں رونا ہے
کس تاریخ کا چہرہ بھگونا ہے
وبا موسم ہے، اک جیسا
سبھی کے واسطے یکساں کرونا ہے

مری جاں!
پھول کے چہرے پہ کھلتی مسکراہٹ
کم نہیں ہوتی
ذرا سی زندگی پا کر
کوئی تتلی نہیں روتی
اَمر ہونے کا سپنا کب کسی چڑیا نے دیکھا ہے
سبھی کی ایک ریکھا ہے
سہانی نیند میں جاگا ہوا ہے
خواب” ہونے کا”
سبب کیا ہے؟
نشیلے نین رونے کا
انیلی بارشیں نیلے سمند رکی کثافت پر
بہت آنسو بہاتی ہیں
مگر اس کو معطر کر نہیں سکتیں
کبھی خواہش کے اس کاسے کو
آنکھیں بھر نہیں سکتیں!

مرض الموت سے محفوظ

محبت سے کوئی جگہ خالی نہیں
سواے مٹی سے بھرے پیٹ کے
اور اُن آنکھوں کے
جو اندھیرے میں دیکھ لیتی ہیں
کالی دولت
جو ہماری نسلوں کی ہڈیاں بیچ کر جمع کی گئی
اور مرمریں میناروں والی مسجدوں میں
جو نفرتوں کی پناہ گاہیں بنادی گئیں
وہ گھر،جس کی بنیادوں میں چوہوں نے
بل بنا لیے
بندریا کے پاؤں جلنے لگے تو
اُس نے اپنا بچہ پاؤں تلے دبا لیا
جھیل خشک ہو گئی تو
موت مچھلیوں کی ضرورت بن گئی
کونج مردہ ساتھی سے پیوست ہو کر رہ گئی
حالانکہ اُس کے پر سلامت تھے
اور پیٹ بھرا ہوا
پروں میں لہو کی لہریں بے قابو تھیں
اور آسمان اُسے بار بار بلا رہا تھا
لیکن اُس نے مردہ خور کیڑوں کی
آواز پر کان رکھے
اورمٹی سے مٹی ہو جانے والی
محبت کے سینے پر سر رکھ کر
اپنی آنکھیں موند لیں

Categories
نقطۂ نظر

میراثِ آدم جستجو ہے

محمد شمریز صدیقyouth-yell-inner1جب بھی تاریخ کا پہیہ گھماتے ہوئے ماضی کے جھروکوں میں اُن ممالک کی ترقی کا راز دیکھتا ہوں جن ممالک نے کار ہائے نمایاں سر انجام دیتے ہوئے اقوام عالم میں اپنا لوہا منوایا تو ان تمام ممالک میں انقلاب کا ایک ہی راز نظر آیا اور وہ ہے’’تعلیم‘‘۔تعلیم انسان کو انسانیت کے اصولوں سے باور بھی کراتی ہے اور تہاذیب کی ترقی کا زینہ بھی ہے ۔ رابطوں کے اس جال میں جڑی دنیا میں تحقیق اور جستجو ہی کی بدولت یہ دنیا آج خلاء کے بے انت پھیلاو کو سمیٹنے کو زمین کی حدوں کو پھلانگ چکی ہے۔
یونان کےفلاطون اور اسطاطالیس کی روایت کا بار اٹھانے والے کندی، فارابی اور بوعلی سینا ہوں یا تاریک دور کے یورپ میں زمین کو گول ثابت کرنے والے اورارتقائے انسانی کا سراغ دینے والے ہوں سبھی نے جستجو اور تحقیق کا بوجھ اٹھایا ہے اور انسانیت کی مشترکہ میراث میں دیومالا اور اوہام کی جگہ قابل مشاہدہ حقائق اور قابل تصدیق نظریات کا اضافہ کیا۔ جستجو کسی کے گھر کی باندی اور تحقیق کسی کے حرم کی لونڈی نہیں ۔علم وہ لیلیٰ ہے جو صرف مجنوں کا انتظار کرتی ہے جو برہنہ پا خاک بر سر،دریدہ دامن گلی گلی قریہ قریہ۔۔۔۔لیلیٰ لیلیٰ پکارتا ہے۔ علم اندھا بھکاری نہیں کہ دیومالا یا اوہام کے سکوں سے بہل جائے۔یہ حیرت اور تجسس کے بطن سے پھوٹتا ہے اور روشنیوں میں پروان چڑھتا ہے، لا پرواہوں سے روٹھ جاتا ہے اور طلب گاروں کے پیچھے پھرتا ہے۔یہ سوال چیخ چیخ کر پکارتا ہے کہ اگر تم دنیا کا مقابلہ کرنا چاہتے ہو تو پھر اہل دنیا کی طرح سوچنا ہو گا اگر تم نے ایسا نہ کیا اگر تم نے ایسا نہ سوچا تو پھر ہم پیچھے رہ جائیں گے اور دنیا آگے نکل جائے گی’’کیونکہ تانگے جہازوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے‘‘۔ہم، ہمارا اور تم، تمہار کی تقسیم اور تعصب علم اور حکمت کے ہاں نہیں ہوتے۔ یہ کسی جائیداد یا ملکیت کا سوال نہیں ، سرحدوں اور علاقوں کی تحویل کا مسئلہ نہیں انسان ہونے کا وہ بنیادی فریضہ ہے جو سبھی انسانوں پر لازم ہے ۔ کوئی اگر شناخت کے مخمصے میں الجھ کر علم کی تقسیم کرنے پر تلا ہے اور اپنے شاندار ماضی کے فریب میں مبتلا عہد حاضر کے انسان کی معراج کا انکاری ہے تو وہ اپنے انسان ہونے اور اپنے جیسے انسانوں کے انسان ہونے کا انکاری ہے۔
اکیسویں صدی کے اس مقابلے کے دور میں جہاں دنیا گلوبل ویلج بن چکی ہے ہم آج بھی ’’غاروں،نعروں اور تلواروں کے دور میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ہم جھولی پھیلا کر معجزوں اور کرشموں کا انتظار کر رہے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ قدرت عقل سلیم کی شکل میں اپنا سب سے بڑا معجزہ ’’انسان‘دنیا میں اتار چکی ہے جس کسی نے خرد اور جستجو کی آنکھ سے دنیا کو دیکھا اس کائنات کے عجائبات اس پر کھلتے چلے گئے اور گلزارِ ہست و بود کے سبھی اسرار وا ہوتے چلے گئے۔ انسانی تاریخ کے میزانیے میں کوئی کسی کے مقابل نہیں کھڑا کوئی کسی کا حریف نہیں ہے کیوں کہ علم کسی عقیدے، نسل رنگ اور ذات کا پابند نہیں کیوں کہ یہ نسل ِ انسانی کی مشترکہ میراث ہے جو سبھی آدم زادوں کی معراج ہے۔وہ معراج جہاں انسان زندگی کی تخلیق اور فنا کے ممنوعہ پھل کو اگانے اور کاٹنے کے بھی قابل ہوچکا ہے۔


انتباہ: مجلس ادارت کا میگزین میں شامل قلمی معاونین کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ مشمولات کی اسناد اور حوالوں میں کمی یا بیشی کا ادارہ ذمہ دار نہ ہو گا۔
یوتھ یلزایک نیا رنگا رنگ سلسلہ ہے، جس میں نوجوان قلمکار بلا جھجک اپنے ھر طرح کے خیالات کا دوٹوک اظہار کر سکتے ہیں۔۔ آپ کا اسلوب سنجیدہ ہے یا چٹخارے دار۔۔ آپ سماج پر تنقید کا جذبہ لیے ہوئے ہیں یا خود پر ہنسنے کا حوصلہ۔۔۔۔ “لالٹین” آپ کی ہر تحریر کو خوشآمدید کہتا ہے۔

Categories
نقطۂ نظر

Being an idealist; Curse or a Gift?

Akif Khan

youth-yell-inner
The people who are driven by passion always (or may be most frequently) end up in alienation by society and in loneliness. I always wondered why that is so. How come brilliant minds like scholars, Sufis, scientists, writers, artists and great musicians end up in such an agony. Still I found most of them contended. It seemed like societal norms did not apply on them. So the agony part was always doubtful. I was told that they become narcissists and hence they lose the balance that social adjustment requires. I tried to study the private lives of these people. From Aristotle to Russell, Voltaire to Nietzsche, Einstein to Edison and Planck, Faiz Ahmed Faiz to Dr. Abdus Salam and Eqbal Ahmed, Muneer Niazi to Michael Jackson.

How come brilliant minds like scholars, Sufis, scientists, writers, artists and great musicians end up in such an agony?

I found that they too tried hard to adjust, they wanted to adjust but somehow they were rejected in their private lives. I was having a discussion with my father last week when he was trying to convince me to leave the path of intellectual pursuits, writings and scholarship after my wife lost her tolerance on me. He quoted many examples from his experiences of people who were idealists, some did not marry whole life, turned communists (or were communists), became agnostics out of their scepticism and all of them ended up in alienation and loneliness, and according to him solitary confinement. He gave an example of an old communist whom my father saw buying bread from a tandoor, sick and destitute; he never married his whole life. He was such a handsome person during his youth that ladies would fall for him every now and then. Still he did not marry and ended up in this horrible loneliness. It definitely scared me but I was still adamant to know the reason of those people’s content.

Let me put all blame on them, those driven by passion; utopians and idealists. The psychological analysis of their private lives revealed that those people had set some highest standards, bookish and utopian, for them, which were not acceptable to normal people. They think that caring about the matching of curtains’ colour schemes did not matter, they would never give importance to groceries nor will they care about utility bills, they think that everything is trivial unless having a higher cause according to their ideals. They abandon the thought of luxury and comfort in simple and routine things. They think that this way they can think better and can advance their ideals. Quite often they do succeed in leaving their mark but at the cost of their own private lives. These people, driven by passion, would sacrifice their loved ones, their daily lives and their social standings. They end up being misfit, abnormal and crazy people. Narcissists to some, cynics to others and yet content to themselves.
It is not that they did not try. They were loved, admired and idealized by more people than the ordinary folk. But this idealism, call it a curse or a gift, would prove to be of no benefit to their own selves. The normal people who would admire them, love them or even idealize them, could not bear the very fact that these crazy people cannot pass ordinary life. Their admirers forget that this is the very thing that makes them different and desirable, that makes their individuality precious and that makes them unfit as normal human beings. Another agony that they face is that they cannot adjust with the people of their own kind due to their individuality; example of famous poet Jaun Elia in this regard can be pondered upon. Their content comes from the admittance of the fact that there is a time in their lives when they have to choose what is important; their passion, their idealism or relations and a normal life? All of them chose the former. The content lies in their freedom to choose at this point.
For many of the normal folks these poor individuals, abandoned and lonely are afflicted to agony and pain but in reality their selfishness in their choice is what makes the same people admire them. Admire them or abandon them but you cannot keep them in normal and trivial cages of societal standards. Their minds have been set free and they cannot be encaged any longer. Only this way they could make that difference in the world, make it a better place, if not for their loved ones but for the generations to come. This very fact is the source of their contentment. These people, driven by passion, are abnormal folks and they would proudly embrace this fact. Even if they fail to make a difference, which they rarely do, they would set examples for other crazy people. I found the source of their contentment.


Akif-Khan

Akif Khan is a social activist and a blogger. He tweets at @akifzeb.