Laaltain

میں کہاں جاؤں (نصرت زہرا)

میں جو خواب میں ساڑھی پہن کر سندھی بولتی ہوں تم لوگ جو جنگ کرو گے تو میں کہاں جاؤں گی؟ میرابچہ جو آج بھی نانا کی جنم بھومی کا طعنہ سہتا ہے کیا وہ ایک نئی ہجرت کرے گا؟ یا ہم سب زندگی سے موت کی جانب ہجرت کریں گے؟ تم جو جنگ کرو […]

ایک عوامی نظم (زاہد امروز)

ہم خالی پیٹ سرحد پر ہاتھوں کی امن زنجیر نہیں بنا سکتے بُھوک ہماری رانیں خشک کر دیتی ہے آنسو کبھی پیاس نہیں بجھاتے رجز قومی ترانہ بن جائے تو زرخیزی قحط اُگانے لگتی ہے بچے ماں کی چھاتیوں سے خون چوسنے لگتے ہیں کوئی چہروں پہ پرچم نہیں بناتا اور یومِ آزادی پر لوگ […]

جنگ سخت کوش ہے

سلمیٰ جیلانی : کتنی عالی شان ہے جنگ
کتنی پرجوش
کتنی محنتی اور تیز رفتار

امن کا پرندہ

حسین عابد: امن قبرستان میں قید کردیا گیا
اور باہر فاختہ اڑا دی گئی

بارود گھر

علی محمد فرشی:
بہت دیر کر دی
فرشتوں نے نیچے اترتے ہوئے
فاختہ
اپنی منقا رمیں
کیسے زیتون کی سبز پتی دبائے
جہنم سے پرواز کرتی؟
فلک دور تھا
اور بارود گھر شہر کے وسط میں

امن کے عالمی دن پر ہندوستانی ہمسائے کے نام خط

توصیف احمد: ہم صرف اس لیے ایک دوسرے کے بچوں اور ماوں کو قتل کرنے اور ان پر بارود برسانے کو تیار ہیں کیوں کہ ہم ایک دوسرے کو جانتے نہیں اور ہمیں ایک دوسرے سے نفرت کرنے کے سوام کوئی اختیار ہمارے ملکوں نے نہیں دیا

Re-thinking Our Borders

Saood Qaseem Imag­ine the idea of the Euro­pean Union tak­ing root in the Indi­an Sub­con­ti­nent — a place where peo­ple could move freely across bor­ders with min­i­mal hin­drance. How it would alter the lives of the peo­ple who belong to this region; peo­ple who already share so much in terms of cul­ture, lan­guages and his­to­ry. […]