Categories
شاعری

میں کہاں جاؤں (نصرت زہرا)

میں جو خواب میں
ساڑھی پہن کر
سندھی بولتی ہوں
تم لوگ جو جنگ کرو گے
تو میں کہاں جاؤں گی؟
میرابچہ جو آج بھی
نانا کی جنم بھومی کا
طعنہ سہتا ہے
کیا وہ ایک نئی ہجرت کرے گا؟
یا ہم سب زندگی سے موت کی جانب
ہجرت کریں گے؟
تم جو جنگ کرو گے

Categories
شاعری

ایک عوامی نظم (زاہد امروز)

ہم خالی پیٹ سرحد پر
ہاتھوں کی امن زنجیر نہیں بنا سکتے
بُھوک ہماری رانیں خشک کر دیتی ہے
آنسو کبھی پیاس نہیں بجھاتے
رجز قومی ترانہ بن جائے
تو زرخیزی قحط اُگانے لگتی ہے
بچے ماں کی چھاتیوں سے
خون چوسنے لگتے ہیں
کوئی چہروں پہ پرچم نہیں بناتا
اور یومِ آزادی پر لوگ
پھلجھڑیاں نہیں، اپنی خوشیاں جلاتے ہیں

فوج کبھی نغمے نہیں گُنگنا سکتی
کہ سپاہی کھیتیاں اُجاڑنے والے
خود کار اوزار ہوتے ہیں

کیا پھول نوبیاہتا عورت کے بالوں
اور بچوں کے لباس پر ہی جچتا ہے؟
کاش۔۔۔!
وطن کی حدود کے تعیّن کے لیے
پھولوں کی کیاریاں
آ ہنی تاروں کا متبادل ہوتیں!

Categories
شاعری

خلا میں لڑھکتی زمین

زمیں
بانجھ چہروں کے ہمراہ
چلتی چلی جا رہی ہے
خلا
اپنی برفاب وسعتوں میں
زمانے اگلتا ہوا چل رہا ہے
سفر
زاویوں کی پناہوں میں بیٹھا ہوا
خواب میں ڈھل رہا ہے
زمیں
بانجھ چہروں کے ہمراہ
چلتی چلی جا رہی ہے
ہوا
اپنی سانسوں کے بارود میں
خواہشوں کو الٹتی ہوئی بہہ رہی ہے
زمیں
بانجھ چہروں کے ہمراہ
چلتی چلی جا رہی ہے

سمندر کی خوں خوار لہریں
سفر در سفر خوف پہنے ہوئے
بھاگتی جا رہی ہیں
کبھی چاند کے
اور کبھی
سورج کے جلتے ہوئے جسموں کو پی کے
کئی رنگ پھیلا رہی ہیں
زمیں
بانجھ چہروں کے ہمراہ
چلتی چلی جا رہی ہے

Categories
شاعری

جنگ سخت کوش ہے

عراقی نژاد امریکی شاعرہ دنیا میخائل
انگریزی سے ترجمہ سلمیٰ جیلانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کتنی عالی شان ہے جنگ
کتنی پرجوش
کتنی محنتی اور تیز رفتار
صبح سویرے
سائرنوں کو جگاتی ہے
اور ایمبولینسوں کو
مختلف علاقوں میں بھیجتی ہے
لاشوں کو ہواؤں میں جھلاتی ہے
اسٹریچروں پر زخمیوں کو لادتی ہے
ماؤں کی آنکھوں سے
بارش کے سندیسے بھیجتی ہے
زمین کھود ڈالتی ہے
بہت سی چیزیں
کھنڈروں کے اندر بے ٹھکانا کر دیتی ہے
ان میں سے کچھ بے جان اور گیلے پن سے دمکتی ہوئی
اور کچھ زرد رو، ابھی بھی تڑپتی ہوئی
یہ سب سے زیادہ خیال پیدا کرتی ہے
بچوں کے ذہنوں میں
دیوتاؤں کا دل بہلاتی ہے
آسمان میں آتش بازی اور میزائل چھوڑ کر
کھیتوں میں بارودی سرنگوں کی بوائی کرتی ہے
خاندانوں کو ہجرت پر اکساتی ہے
پیشواؤں کے شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہے
جب وہ شیطان پر لعن طعن کرتے ہیں
(غریب شیطان ایک طرف آگ میں جھلستا ہے)
جنگ مسلسل کام میں لگی رہتی ہے،
دن دیکھتی ہے نہ رات
یہ ظالموں کا حوصلہ بڑھاتی ہے
کہ وہ لمبی لمبی تقریریں کریں
جرنیلوں کو تمغوں اور شاعروں کو موضوعات
سے نوازتی ہے
مصنوئی اعضاء کی صنعت کو بڑھاوا دیتی ہے
مکھیوں کو کھانا کھلاتی ہے
تاریخ کی کتابوں میں نئے صفحات جوڑتی ہے
قاتل اور مقتول میں مساوات قائم کرتی ہے
عاشقوں کو ایسے خط لکھنا سکھاتی ہے
کہ نوجوان لڑکیاں ان کا انتظار کرتے کرتے بوڑھی ہو جائیں
اخباروں کو تصویروں اور مضامین سے بھر دیتی ہے
یتیموں کے لئے نئے گھر تعمیر کرتی ہے
کفن بنانے والوں کو توانائی بخشتی ہے
قبریں کھودنے والوں کی پیٹھ ٹھونکتی ہے
اور سیاسی رہنما کے چہرے پر مسکراہٹ پینٹ کرتی ہے
وہ ناقابل بیان محنت سے کام کرتی ہے
پھر بھی
ابھی تک
کسی نے ایک لفظ اس کی تعریف میں نہیں کہا
Image: Wissam Al Jazairy

Categories
شاعری

امن کا پرندہ

امن قبرستان میں قید کردیا گیا
اور باہر فاختہ اڑا دی گئی
جسے کوئی بھی دانہ ڈال سکتا ہے
جسے کوئی بھی بیچ سکتا ہے
جسے مارنے کے لیے
غلیل کافی ہے

Categories
شاعری

بارود گھر

بارود گھر
بہت دیر کر دی
فرشتوں نے نیچے اترتے ہوئے
فاختہ
اپنی منقار میں
کیسے زیتون کی سبز پتی دبائے
جہنم سے پرواز کرتی؟
فلک دور تھا
اور بارود گھر شہر کے وسط میں
Categories
نان فکشن

امن کے عالمی دن پر ہندوستانی ہمسائے کے نام خط

ہندوستانی ہمسائے کے نام مزید خطوط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

میرے ہمسائے!

 

ہو سکتا ہے تمہاری رائے میرے بارے میں تبدیل ہو گئی ہو، اور ہو سکتا ہے کہ اب تم میرے خط کو وصول کرنے سے انکار کر دو۔ دیکھو مجھے کسی کے فوجی کے مرنے کی کوئی خوشی نہیں ہوتی تمہارے اٹھارہ فوجی مرے، مجھے ان کے مرنے کا دکھ ہے۔ مگر ایک ایسے وقت میں ہی تو امن کی بات کرنا زیادہ اہم ہو جاتا ہے، اس پاگل پن کے بیچ ہی تو ہمیں دانشمندی کے حق میں دلائل دینے ہیں۔

 

اگر کل کلاں کو میرے اور تمہارے ملک کے مابین جنگ ہوئی تو میں ابھی تک فیصلہ نہیں کر سکا کہ میں تم پر بندوق تان سکوں گا کہ نہیں۔
ایک ایسے وقت میں امن کی بات کرنا جب ایک طرف سے جنگ کی للکار ہو اور دوسری طرف ہر حملے کا سامنا کرنے کے عزم کا اظہار معلوم نہیں کس قدر دانشمندی ہے لیکن مجھے ابھی تک فیصلہ کرنے کا موقع نہیں ملا۔ اگر کل کلاں کو میرے اور تمہارے ملک کے مابین جنگ ہوئی تو میں ابھی تک فیصلہ نہیں کر سکا کہ میں تم پر بندوق تان سکوں گا کہ نہیں۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ میرے لیے بہر طور انسانیت اپنے ملک سے محبت ور تمہارے ملک سے دشمنی نبھانے سے زیادہ اہم ہے اور میں کسی ایسے پاگل پن کا حصہ نہیں بن سکتا جو حب الوطنی، مذہب یا قومیت کی بنیاد پر رچایا جائے۔ میں جنگ نہیں چاہتا اور اگر جنگ ہوئی تو میرے لیے کسی کے بھی خلاف بندوق اٹھانا ممکن نہیں ہو گا سوائے اپنے۔ میں کسی بھی اور شخص پر خواہ وہ میرے دشمن ملک سے ہی ہو گولی چلانا ممکن نہیں۔ سو اگر کبھی ہمارے درمیان جنگ ہوئی اور اگر کبھی ہم دونوں کے ملکوں کی فوجیں ایک دوسرے کو نابود کرنے کو ایک دوسرے پر چڑھ دوڑیں تو جان لینا کہ میں تب تک خود کو مار چکا ہوں گا۔

 

میرے اور تمہارے دیس کے پاس جوہری ہتھیار ہیں اور ہم پلک جھپکتے میں ایک دوسرے کے ملکوں کو راکھ کر سکتے ہیں۔ ہم اربوں کی آبادیاں جھلسا سکتے ہیں اور ہمارے میزائل ایک دوسرے کو لمحوں میں ہمیشہ کے لیے بنجر کر سکتے ہیں۔ مگر سوچو کہ دونوں طرف ایک دوسرے کی اس تباہی کا جشن منانے کو بھی کوئی نہیں بچے گا۔ وہ بھی نہیں جو اس وقت “جنگ کرو، برباد کر دو، دشمن کو منہ توڑ جواب دو” کی گردان کر رہے ہیں۔ موت کے لیے اتنے اسباب مہیا کرنے کو دفاع کا نام کیسے دیا جا سکتا ہے؟ کیا اپنے دفاع کے لیے ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ملکوں کو تباہ کرنے کے ہتھیار جمع کر لیں اور اتنی فوجیں اکٹھی کر لیں کہ ہمارے لیے سانس لینا مشکل ہو جائے؟

 

ہم صرف اس لیے ایک دوسرے کے بچوں اور ماوں کو قتل کرنے اور ان پر بارود برسانے کو تیار ہیں کیوں کہ ہم ایک دوسرے کو جانتے نہیں اور ہمیں ایک دوسرے سے نفرت کرنے کے سوام کوئی اختیار ہمارے ملکوں نے نہیں دیا
ہمارے جوہری ہتھیار، ہمارے میزائل، ہمارے طیارے، ہمارا گولہ بارود اور ہمارے لشکر کیا یہ سب کچھ ہی ہمارے وطنوں کی نمائندگی کرتے ہیں؟ کیا ہمارے پاس ایک دوسرے کو دینے کے لیے دھکمیوں کے سوا کچھ بھی نہیں؟ یہ کہاں کی دانشمندی ہے کہ ہم ڈیڑھ ارب انسانوں کو ایک ایسی تباہی میں جھونکنے کو ہمہ وقت تیار رہیں جس کا ماتم کرنے والے بھی باقی نہیں رہیں گے؟

 

کیا ہمارے سکولوں میں یوم دفاع اور جنگوں میں جیت کے مقدموں کی بجائے امن کی اہمیت اور افادیت کے مضامین شامل نہیں کیے جا سکتے؟ کیا ہم ا پنے وسائل جو ایک دوسرے کو موت کو گھاٹ اتارنے کے لیے بارود کے انبار کھڑے کرنے کو صرف کر رہے ہیں وہ ہماری زندگیوں کو بہتر بنانے پر خرچ نہیں کر سکتے؟ کیا یہ ضروری ہے کہ ہم ایک دوسرے کو دشمن قرار دینے کے لیے اپنے ٹی وی چینلوں کی زبانیں دراز کر لیں، ایک دوسرے سے نفرت کرنے کے لیے ایک دوسرے سے انجان رہنے کو ترجیح دینے لگیں؟ مگر میرے لیے یہ آسن نہیں۔ آخر میں ایک ایسے شخص کو کیسے دشمن تسلیم کر لوں جو مجھ سے سینکڑوں میل دور رہتا ہے اور جس سے مجھے کبھی کوئی نقصان نہیں پہنچا، جس نے مجھے کبھی دیکھا ہی نہیں اور جسے میں جانتا تک نہیں اور تم کس طرح ایک ایسے شخص سے نفرت کر سکتے ہو جس سے تم واقف نہیں؟ ہم صرف اس لیے ایک دوسرے کے بچوں اور ماوں کو قتل کرنے اور ان پر بارود برسانے کو تیار ہیں کیوں کہ ہم ایک دوسرے کو جانتے نہیں اور ہمیں ایک دوسرے سے نفرت کرنے کے سوام کوئی اختیار ہمارے ملکوں نے نہیں دیا، ہمیں یہی کہا گیا ہے کہ جنگ ہی واحد حل ہے۔ مگر ہمیں نفرت کے علاوہ بھی کچھ منتخب کرنے کا حق ملنا چاہیئے، ہمیں جنگ کے سوا بھی کوئی حل تلاش کرنا چاہیئے۔۔۔۔
Categories
نقطۂ نظر

Re-thinking Our Borders

Saood Qaseem

borders

Imagine the idea of the European Union taking root in the Indian Subcontinent – a place where people could move freely across borders with minimal hindrance. How it would alter the lives of the people who belong to this region; people who already share so much in terms of culture, languages and history. Thousands of families that are currently scattered across borders could have access to their relatives without fretting about ‘official’ permissions. The time and resources that this would save could be allocated so much more usefully in other areas.

An open border would also encourage free trade agreements which, in turn, would enhance business volumes and harvest greater profits. Precious resources are currently being wasted in long-winded bureaucratic procedures. Trade barriers such as tariffs and embargoes restrict trade volumes, causing losses worth billions of dollars to the countries’ respective economies. And so we have a scenario where the people of the Subcontinent are having to source products present in their own neighbourhoods from around the world; a process that involves major carbon emissions into the earth’s atmosphere and is contributing to global warming (cited by experts as a major cause of the floods that ravaged Pakistan in 2010).

The enormous amounts we currently spend on defence are crippling our ability to move forward. And the instability we live with due to a constant threat of war or aggression from our neighbours is keeping us from realising our true potential.

The combined power of the markets of India, Pakistan and Bangladesh would far surpass China, giving a bargaining advantage to these countries and help in winning multi-lateral trade agreements. ‘Big is Beautiful’ still holds true for consumer markets. A free flow would also create more jobs and increase per capita income. Workers would not have to move to far-flung places in search of jobs – it would be as simple as knocking on a neighbour’s door. The opportunity to exchange skills and ideas would only add to our collective strength and would help us realise the synergies that are currently not being exploited.
With all these obvious benefits, it seems senseless to be deliberately depriving ourselves of options that would only make the quality of life better for the people of our country. The enormous amounts we currently spend on defence are crippling our ability to move forward. And the instability we live with due to a constant threat of war or aggression from our neighbours is keeping us from realising our true potential. Yes, there is Kashmir, and there is water, and there is a history of suspicion, grievances and conflict that cannot just be wished away. But building trust has to start somewhere, and where better to start than with direct interaction between our people?

Given the turbulent history of our region, my thoughts may sound like fantasies to some. For long we have harboured an attitude that deems the current status quo as the only available option. But examples from the rest of the world prove that a new era is in fact possible. The Germans and the French fought each other just half a century ago (World War II), but today they both belong to the European Union. The difference in this example and our own reality is that France and Germany have realised what we have yet to accept:
‘War is a game where both sides lose’.