Categories
شاعری

نیند پری کی موت

نیند پری کی موت
شام مسافر لاؤنج میں بیٹھی ہے
اور باہر مٹیالی بارش میں لت پت آسیبی رات
اندر آنے کا رستہ ڈھونڈ رہی ہے

کالے جوتوں کو چمکاتے چمکاتے
سرد سیاہی کی کیچڑ میں ننگے پاؤں چلتے چلتے
تم خوابوں کے روشن میدانوں تک جا پہنچے ہو
دھوپ کی گیند کے پیچھے بھاگ رہے ہو
خوشبو دار ہری چمکیلی گھاس پہ گر پڑتے ہو
نرم محبت تمہیں اٹھا کر اپنی گود میں بھر لیتی ہے
ست رنگی نیند پری کی لوری سنتے سنتے ہنستے ہو تو
نیلی چادر چاند ستاروں سے بھر جاتی ہے
آنسو سِکّوں کی مانند
میرے خالی پن کے اندر گرتے ہیں
ناموجود فلور سے آنے والا برقی زینہ
نامعلوم اترائی کی جانب جاتے جاتے رک جاتا ہے

ننھے نور بھرے ہاتھوں سے
کالی پالش کی ڈبیا گر پڑتی ہے
اور گلوب کی صورت گھومنے لگتی ہے
Categories
اداریہ

“پہلے سکول جانے کو دل کرتا تھا مگر اب عادت ہو گئی ہے”

سبطِ حسن، عمر اورکزئی، احمد، حسنین جمیل
پاکستان کے تعلیمی اداروں میں چائلڈ لیبر پر لالٹین کی خصوصی رپورٹ

 

میلے لباس اور مرجھائے چہرے کے ساتھ پنجاب یونیورسٹی لاہور کے بوائز ہاسٹل کی کینٹین پر کام کرنے والے چودہ سالہ ریاض کم عمری میں ہی گھریلو حالات کی وجہ سے مشقت کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ “میں بارہ سال کا تھا جب یہاں)پنجاب یونیورسٹی ( آیا تھا، شروع میں برتن دھونے کا کام کیا پھر گاہکوں سے آرڈر لینے لگا، اب پراٹھے بنانا سیکھ رہا ہوں۔” ریاض اپنے چار بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پر ہےاور اس کا بڑا بھائی بھی یونیورسٹی ہی کی ایک کینٹین چلاتا ہے۔ریاض کے مطابق وہ سکول جانا چاہتے تھے مگر حالات کی وجہ سے نہیں جا سکے”پڑھنے کا شوق تھا، سکول جاتا تھا لیکن اب میری عمر بڑھ گئی ہے، اب میں باقی سب کے برابر نہیں آ سکتا۔” تعلیمی اداروں کی کینٹین پر کام کرنے والے بیشتر بچوں کا پس منظر ریاض جیسا ہی ہے، ان میں سے زیادہ تر گھریلو حالات، مار پیٹ یا غربت کی وجہ سے کام کرنے پر مجبور ہیں۔ تعلیمی اداروں میں بچوں سے ہاسٹل میس، کینٹین، حجام اور دیگر کھانے پینے کا سامان فروخت کرنے والی دکانوں پر کام لیا جاتا ہے، جہاں ان کی زمہ داریوں میں صفائی کرنا، برتن دھونا اور گاہکوں کو کھانے پینے کا سامان پیش کرنا شامل ہے۔

1085259_1404001543201518_345385576_n

کم عمری میں محنت مزدوری کرنے کی وجہ سے ان بچوں کے لئے تعلیم حاصل کرنے کے مواقع ختم ہو گئے ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی ہاسٹل میں کام کرنے والے تیرہ سالہ نعیم کے مطابق وہ سکول جانا چاہتے تھے لیکن اب ایسا ممکن نہیں،”پہلے سکول جانے کو دل کرتا تھا مگر اب عادت ہو گئی ہے۔ 1500 مہینے کا ملتا ہے اس لئے نہیں پڑھ سکتا۔”
گھریلو اخراجات پورے کرنے کے لئے کام کرنے والے ان بچوں کے لئے کوئی مقررہ نظام الاوقات موجود نہیں ہے۔ پنجاب یونیورسٹی بوائز ہاسٹل نمبر 17کی کینٹین پر کام کرنے والے نعیم صبح سویرے اٹھتے ہیں اور رات گیارہ بجے تک کام کرتے ہیں ۔”میں پہلے اٹھ کر صفائی کرتا ہوں پھر ناشتے کے جو جو آرڈر کمروں کے لگے ہوتے ہیں وہ پہنچاتا ہوں اور اس کے بعد مجھے تھوڑا وقت آرام کا ملتا ہے لیکن تین بجے کے بعد مسلسل کام کرنا ہوتا ہے۔”بیشتر بچوں کو سخت مشقت کے کام کرنا ہوتے ہیں مگر ان کی اجرت ان کے کام کے مقابلے میں خاصی کم ہوتی ہے۔ جامع مسجد بہاوالدین زکریا یونیورسٹی کے قریب گول گپہ شاپ پر کام کرنے والے عمران روزانہ صرف 150روپے اجرت پاتے ہیں لیکن ان کی ذمہ داریوں میں برتن دھونا، گاہکوں کو گول گپے دینا اور میزوں کی صفائی بھی شامل ہیں۔ سخت مشقت اور فرصت کے اوقات میں تفریح کے لئے مواقع نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔ نعیم کے مطابق بعض اوقات وہ کرکٹ کھیلتے ہیں یا پھر موبائل پر گانے سنتے ہیں ، لیکن کام اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ وہ اکثر تھک جانے کی وجہ سے کچھ نہیں کر پاتے۔
یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں میں کام کرنے والے بچوں کی اکثریت روزانہ اجرت پر کام کرتے ہیں جو عموماً چالیس روپے سے دو سو روپے روزانہ تک ہوتی ہے، جو حکومت کی مقرر کردہ کم سے کم اجرت سے بھی کم ہے۔ کم عمر اور ناتجربہ کار بچوں کی اجرت بڑی عمر کے تجربہ کار بچوں سے کم ہوتی ہے۔ زیادہ تر بچوں کی تنخواہ ان کے گھروالے وصول کرتے ہیں ۔یونیورسٹی کینٹین پر کام کرنے والے بچوں کو اکثر بخشیش بہت کم ملتی ہے بعض جگہوں پر ویٹرز کے لئے فی آرڈر سروس ٹپ مخصوص ہوتی ہے یا پھر ویٹر حساب میں جان بوجھ کر پیسے زیادہ بتاتے ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی کی 15نمبر ہاسٹل کے پاس واقعی کینٹین میں ویٹر فی آرڈر 5 روپے سروس چارج کرتے ہیں، تاہم ایسی کینٹینز پر ویٹرز کی اجرت دیگر کینٹینز سے کم ہے۔

967984_1404001399868199_1624689385_n

کینٹین مالکان بچوں سے مزدوری کرانے کے خلاف ہیں لیکن اخراجات کم کرنے اور ان بچوں کی مدد کرنے کے لئے ان بچوں کو اپنے ہاں کم تنخواہوں ملازم رکھتے ہیں۔ شعبہ علوم ابلاغیات (Department of Communication studies) بہاوالدین زکریا یونیورسٹی کے کینٹین مالک عنایت نے لالٹین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا،”ہم انہیں کام پر نہیں رکھنا چاہتے ، لیکن ہم اگر انہیں کام پرنہیں رکھیں گے تو پھر یہ اپنے اخڑاجات کیسے پورے کریں گے، ہم ان کی مدد کرنا چاہتے ہیں اس لئے انہیں کام پر رکھتے ہیں۔ ” پنجاب یونیورسٹی میں ٹی سٹال چلانے والےظہور احمد کا کہنا ہے کہ اکثر بچے لاہور کے مضافات سے یہاں آتے ہیں اور کینٹین مالکان کے رشتے دار یا برادری والے ہوتے ہیں۔ کام کرنے والے بچوں میں سے بہت سے جلد ہی کوئی اور کام شروع کر دیتے ہیں یا پھر واپس گاوں چلےجاتے ہیں۔ “میرے پاس ہر سال دو تین لڑکے آتے ہیں، زیادہ تر کو ان کے بڑے چھوڑ کر جاتے ہیں۔ اکثر میرے گاوں کے لوگ بھی اپنے بچوں کو کام پر چھوڑ جاتے ہیں، تعلق داری اور ان کے گھریلول حالات کی وجہ سے میں انہیں منع نہیں کر سکتا۔” لیکن بعض بچے برس ہا برس تک یونیورسٹیز میں ہی رہتے ہیں۔ پشاور یونیورسٹی میں برگر شاپ چلانے والے خرم کم عمری میں جس دکان پر کام کرنے کے لئے آئے تھے آج اس کے مالک ہیں۔ “مجھے گھریلو حالات کی وجہ سے کام کرنے کے لئے اس دکان پر چھوڑا گیا تھا لیکن میں نے جلد حالات سے سمجھوتہ کر لیا اور پیسے جمع کر کے اسی دکان کا ٹھیکہ لے لیا۔”تعلیم سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ “پڑھ لیتا تو اچھا تھا لیکن میں مطمئن ہوں اللہ کا شکر ہے عزت کی روٹی میسر ہے۔ لیکن اپنے بچوں کو ضرور پڑھاوں گا۔”
کارکن بچوں میں سے اکثریت کو رہائش اور کھانا کینٹین مالکان فراہم کرتے ہیں، جو عموماً غیر معیاری ہوتے ہیں۔ کام کرنے اور رہائش کی غیر معیاری سہولیات کی وجہ سے ایسے بچے متعدد امراض کا شکار ہوجاتے ہیں۔ جنرل ہسپتال لاہور کے ڈاکٹر ریحان شہزاد کے مطابق کیوں کہ ایسے بچے پر خطر ماحول میں کام کرتے ہیں اس لئے اکثر بچے حادثات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ “جو ماحول بڑی عمر کے کارکنوں کے لئے موزوں ہے ضروری نہیں بچوں کے لئے بھی مناسب ہو۔ کیوں کہ بچوں کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے ، ہمارے پاس اکثر مزدوری کرنے والے بچے جلنے، کیمیکل سے جھلسنے یا گر کر حادثہ کا شکار ہونے کی بنا پر لائے جاتے ہیں۔” ڈاکٹر شہزاد نے خوراک کی کمی اور صفائی ستھرائی کا مناسب انتظام نہ ہونے کی وجہ سے ان بچوں میں سانس ، پیٹ اور جلد کے امراض کی نشاندہی بھی کی۔ “نامناسب خوراک اور جسمانی قوت سے زیادہ مشقت کی وجہ سے ان بچوں کی جسمانی نشوونما متاثر ہوتی ہے۔ اکثر بچے ہیپاٹائٹس اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔”

10152988_1404001513201521_1424759187_n

سرکاری اورانتظامی سطح پر بچوں سے مشقت لینے کا مسئلہ ایک کو ایک معمول کا مسئلہ سمجھ کر قبول کر لیا گیا ہے۔ سماجیات کے ایک طالب علم فہد اقبال نے یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے غفلت اور اس مسئلے کو چھپانے کا الزام عائد کیا،” انتظامیہ اس ساری صورت حال سے واقف ہے لیکن پروفیسرز اس کے خلاف کاروائی نہیں کریں گے کیوں کہ ان کے اپنے گھروں میں بچے صفائی ستھرائی کا کام کرتے ہیں۔”زیادہ تر تعلیمی اداروں کی انتظامیہ اس صورت حال سے واقف ہے اور بچوں سے مشقت لینے کے حوالے سے ملکی قوانین کے نفاذ کا اعادہ کرتی ہے تاہم پاکستان کے تمام تعلیمی اداروں میں پندرہ برس سے کم عمر بچوں سے مشقت لی جاتی ہے۔ اسلامیہ یونیورسٹی انتظامیہ کے ترجمان کے مطابق یونیورسٹی حدود میں انتظامیہ کی پوری کوشش ہے کہ بچوں سے مشقت نہ لی جائے کیوں کہ یہ ایک سنگین جرم ہے۔
زیادہ تر طلبہ بھی بچوں سے مشقت کے خلاف ہیں تاہم اکثریت اسے ایک ناگزیر برائی کے طور پر قبول کرتی نظرآتی ہے،”شعبہ سماجیات کی طالبہ ارسلہ کے مطابق یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اسے روکے لیکن حکومت ایسا کرنے میں ناکام ہے، لہذامجبوراً یہ بچے کام کرتے ہیں۔ ارسلہ کے خیال میں معاشرے کو اپنی اجتماعی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئےاس مسئلہ کو حل کرنا ہوگا۔انسٹیٹیوٹ آف سوشل اینڈ کلچرل سٹڈیز پنجاب یونیورسٹی کی استاد اسماء اسد نے تعلیم کو اس مسئلے کا حل قرار دیا۔ “حکومتی سطح پر ایسی منصوبہ بندی اور قواعد و ضوابط کی ضرورت ہے جو بچوں سے مشقت کی روک تھام کر سکیں اور تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کریں۔ تاہم حکومت کے ساتھ اساتذہ اور طلبہ کی ذمہ داری بھی اہم ہے کہ ایسے بچوں کو اپنی انفرادی حیثیت میں تعلیم مہیا کریں۔”
کم عمری میں تعلیمی اداروں میں مشقت کرنے والے بچوں کی سماجی زندگی بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ تعلیمی اداروں میں موجود طالب علموں کا رویہ عموماً ان بچوں کے ساتھ ہمدردانہ ہوتا ہے تاہم ان طلبہ کا لائف سٹائل ان بچوں میں احساس محرومی کا باعث بنتا ہے۔ بارہ سالہ خالد کا کہنا تھا کہ دوسروں کو کھانے پینے کی اشیاء پیش کرنا (Serve) عجیب لگتا ہے ، ان کے پاس پیسے ہیں ، وہ afford کر سکتے ہیں ہم نہیں کر سکتے۔ پنجاب یونیورسٹی چار نمبر ہاسٹل کے پاس فروٹ شاپ چلانے والے شفیق نے بتایا “کام کرتے کرتے یہ بچے بے حس ہو جاتے ہیں ان کو اپنی پڑی ہوتی ہے کہ پیسے آ رہے ہیں۔” ماہرین سماجیات کے مطابق اپنی عمر سے بڑے افراد سے تعلق کی وجہ سے یہ بچے اپنے بچپن سے محروم ہو جاتے ہیں اور بعض صورتوں میں ایسے بچے بڑوں کی دیکھادیکھی سگریٹ نوشی اور منشیات کا استعمال شروع کر دیتے ہیں۔
پاکستان میں بچوں کے حقوق اور انہیں بنیادی سہولیات کی فراہمی کی صورت حال تشویشناک ہے اور ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں اڑتیس لاکھ بچے مشقت کرتے ہیں، جن کی اکثریت دکانوں، گھروں اور کارخانوں میں قلیل اجرت اور خطرناک ماحول میں کام کرنے پر مجبور ہے۔
پنجاب یونیورسٹی لاہور میں فروٹ شاپ کے مالک شفیق کے مطابق ان کے پاس کام کرنے والے بچے اب موبائل خریدنے اور اس پر گانے سننے کے بہت شوقین ہیں۔ “مجھے گانے سننا اچھا لگتا ہے اور موبائل رکھنا بھی ضروری ہے کیوں کہ میں اب جب چاہوں گھر بات کر سکتا ہوں۔ میرے پاس چائنہ کا موبائل ہے جو میں نے اپنی تنخواہ سے لیا ہے۔” اسلامیہ یونیورسٹی میں ویٹر کا کام کرنے والے تیرہ سالہ فیروز نے لالٹین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا۔
ماہرین نفسیات کے مطابق کم عمر مزدوروں کو بری طرح نفسیاتی ، جنسی اور جسمانی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کے بچوں کی شخصیت پر دیر پا اثرات ہوتے ہیں۔ اکثر بچوں کو گالی گلوچ، جھڑکیاں اور نوکری سے نکالے جانے کا خوف برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اس خوف اور ڈانٹ ڈپٹ کی وجہ سے اکثر بچے کم اعتمادی کا شکار ہو سکتے ہیں، متشدد رویے اپنا سکتے ہیں اور شدید صورتوں میں نفسیاتی بیماریوں کا شکار بھی ہو سکتے ہیں۔ لالٹین تحقیق کے مطابق پاکستان کے تعلیمی اداروں میں کام کرنے والے بچوں پر تشدد کے واقعات دیگر بچوں کی نسبت کم ہیں تاہم تمام مزدوری کرنے والے بچوں کو تشدد کے واقعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہ تشدد عموماً مالکان یا بڑی عمر کے کارکن کرتے ہیں ۔عموماً ایسے واقعات رپورٹ نہیں کئے جاتے اورمعمول کی بات سمجھ کر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔نعیم کے مطابق انہیں گلاس ٹوٹنے اور پیسے کم لانے پر کئی بار مار پیٹ اور ڈانٹ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ “مالک کا نقصان ہوتا ہے اس لئے وہ مارتا ہے، شروع میں پیسے گننے ٹھیک سے نہیں آتے تھے اور گلاس ٹوٹتے تھے تو زیادہ مار پڑتی تھی اب میں احتیاط کرتا ہوں۔ ”
پاکستان میں بچوں کے حقوق اور انہیں بنیادی سہولیات کی فراہمی کی صورت حال تشویشناک ہے اور ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں اڑتیس لاکھ بچے مشقت کرتے ہیں، جن کی اکثریت دکانوں، گھروں اور کارخانوں میں قلیل اجرت اور خطرناک ماحول میں کام کرنے پر مجبور ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

شاہدہ! تم شاہد رہنا

ajmal-jamiحافظ آباد کے ایک سنکی کا ناٹک دم توڑے ابھی چند ہی دن گزرے تھے کہ اسی دھرتی کے ایک اور سپوت کے کالے کرتوت سامنے آگئے۔فاخرہ یونس کے چہرے پر تیزاب پھینکنے والا بھیڑیا ہو یا شاہدہ کو زنجیروں میں جکڑنے والا لیاقت بھٹی،سمجھ نہیں آتا کہ ان درندوں کو کیا نام دیا جائے۔ انسان کہنا تو دور کی بات، جانور سے تشبیہ دینا بھی جانوروں کی توہین کے مترادف ہو گا۔ کراچی میں جاری بدامنی، سیاسی قیادت کے تیور، شام اور مصر کی کشیدہ صورتحال ہو یا لائن آف کنٹرول پر بگڑتے حالات،اور نجانے ایسےکتنے بے پناہ اہم موضوعات ہیں کہ جن پر لکھنے بیٹھیں تو صفحات کے پیٹ نہ بھرنے پائیں۔ لیکن نجانے کیوں ایک خاص واقعے نے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو جیسے مقفل کر رکھا ہو۔ بہت کوشش کی کہ ان دل دہلا دینے والے خیالات کوجھٹک دوں لیکن کوئی کوشش بارآور نہ ہو سکی۔
تیرہ چودہ سال کی ایک بچی کا چہرہ بار بار آنکھوں کے سامنے آتا ہے اور پھر وہ مناظرکہ جنہیں دیکھ کر شاید ہی کوئی ذی شعور تڑپ نہ اُٹھے۔ زنجیروں میں جکڑی،زخمی چہرہ، سوجے ہوئے ہاتھ پاوں،نڈھال،سہمی ہوئی ، شاہدہ! تا دم مرگ وہ اس بھیانک تجربے کے زیرِ اثر رہے گی، ان اذیت ناک شب و روز کی یادیں اس معصوم ذہن سے کبھی مٹ نہ پائیں گی۔

زنجیروں میں جکڑی،زخمی چہرہ، سوجے ہوئے ہاتھ پاوں،نڈھال،سہمی ہوئی ، شاہدہ! تا دم مرگ وہ اس بھیانک تجربے کے زیرِ اثر رہے گی، ان اذیت ناک شب و روز کی یادیں اس معصوم ذہن سے کبھی مٹ نہ پائیں گی۔

شاہدہ کا تعلق بھلے نامی گاوں سے ہے جو فیروز پور انٹر چینج شیخوپورہ کے قریب واقع ہے۔ کچھ عرصہ قبل اس کے والدین نے حافظ آباد کے سابق ایم این اےلیاقت بھٹی سے چار لاکھ روپے کی رقم بطور قرض حاصل کی۔اطلاع کے مطابق ادائیگی نہ ہونے کے باعث شاہدہ کی والدہ اسے آٹھ سالہ بہن زبیدہ، اور دس سالہ بھائی عرفان کے ہمراہ لیاقت بھٹی کے ہاں چھوڑ گئی تھی۔
نجانے کب سے شاہد ہ ، لیاقت بھٹی کے ہاں ایک چھوٹے سے کمرے میں زنجیروں میں جکڑی پڑی تھی،کہ اچانک چند روز قبل اس خبر نے ٹی وی سکرینوں کو سرخ کر دیا۔ پولیس جوہر ٹاون لاہور کے ای بلاک میں ایک گھر پر چھاپہ مارتی ہے۔ سرونٹ کواٹرز سے شاہدہ کو بازیاب کیا جاتا ہےاور مکان کے پورچ سے سابق ایم این اے لیاقت بھٹی کو بھی گرفتار کیا جاتا ہے۔ تھانہ جوہر ٹاون کے ایس ایچ او آصف ذوالفقار سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ بچی کو حبس بے جا میں رکھنے کی اطلاع انہیں ون فائیو کے ذریعے موصول ہوئی۔ بچی کو مکان کی بالائی منزل پر سیڑھیوں کے قریب ایک چھوٹے سے کمرے میں زنجیروں میں جکڑا گیا تھا ۔زنجیروں کا ایک سرا نچلے حصے میں واقع ایک کمرے تک جاتا تھا۔ سر دست لیاقت بھٹی نے اس واقعہ سے لاعلمی کا اظہار کیا ہےاور سارا ملبہ اپنے ملازم پر ڈالاہے۔ پولیس نے تعزیرات پاکستان کی دفعات تین سو چوون، تین سو بیالیس، اور پانچ سو چھے کے تحت بچی کے والد عاشق کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا ہے ۔Picture 12 یاد رہے کہ یہ تینوں دفعات قابل ضمانت ہیں۔
اگلے روز ملز م کو ماڈل ٹاون کچہری میں مجسٹریٹ کے رو برو پیش کیا گیاجہاں لیاقت بھٹی نے فقط پچاس ہزار روپے کے مچلکے بھرے اور ضمانت حاصل کر لی۔ یہ تو ذکر تھا دستیاب معلومات کا لیکن معاملہ اتنا سادہ نہیں۔ کیونکہ نہ تو بچی کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ حاصل کی گئی اور نہ ہی اس کی روشنی میں پولیس نے ملزم کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔ اسی پیشی میں شاہدہ کے والد عاشق نے بھی پر اسرار طور پر چپ سادھ لی۔ شاید رات کے اندھیرے میں غریب آدمی کی غربت کے دام لگ چکے تھے ۔ لیاقت بھٹی کا موقف انتہائی دلچسپ ہے۔ اس شخص کا کہنا ہے کہ بچی کو زنجیروں میں اس کےایک ملازم نے جکڑا۔ مخالفین نے پیسوں کے عوض ملازم کو اکسایا تا کہ لیاقت بھٹی کو بدنام کیا جا سکے۔ لیکن موصوف کی نیک نامی کا ڈنکا ضلع حافظ آباد میں خوب بجتا ہے۔ شاید وہ کوئی اور لیاقت بھٹی تھا جس کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ بارات روک کر دلہن اتار لیا کرتا تھا، اور جس کے خلاف حافظ آباد کے تھانوں میں درجنوں پرچے درج ہیں۔ Picture 14
لیاقت بھٹی کی انوکھی منطق پر وقت ضائع کرنے کی بجائے یہ سوچنا زیادہ اہم ہے کہ چند لاکھ روپوں کے عوض کسی انسان کو گروی رکھنا کس قانونی یا اخلاقی نظام میں جائز ہے؟ اور اگر کسی نابالغ بچی کو ملازمہ کی حیثیت سے ہی رکھا جائے تو کیا یہ چائلڈ لیبرقوانین کی کھلی خلاف ورزی نہیں؟ ان نکات پر ہمارا قانون کیا کہتا ہے اور کیا لیاقت بھٹی جیسا بااثر شخص اس کی گرفت میں آئے گا؟ اور اگر نہیں تو پھر ہمیں ماننا پڑے گا کہ ہمارے ہاں قانون کی حکمرانی کا خواب شرمندہ تعبیر ہونے میں ابھی بہت وقت لگے گا۔
یہ جواز بھی دیا گیا کہ بچی کی ذہنی حالت درست نہیں لہذا سے زنجیروں میں باندھے رکھنا ضروری تھا۔ تو لیاقت بھٹی ! اگر تمہارا کوئی اپنا بچہ ایسی ذہنی بیماری میں مبتلا ہو تا تو کیا تم اس کے ساتھ بھی یہی سلوک کرتے؟

شاید وہ کوئی اور لیاقت بھٹی تھا جس کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ بارات روک کر دلہن اتار لیا کرتا تھا، اور جس کے خلاف حافظ آباد کے تھانوں میں درجنوں پرچے درج ہیں۔

دل دہلا دینے والی یہ خبر زیادہ دیر تک نیوز سٹوڈیوز اور تجزیہ نگاروں کی توجہ قائم نہ رکھ سکی۔ کچھ روز قبل حافظ آباد کے ہی ایک سکندر کے بلنڈر کو گھنٹوں نہیں بلکہ کئی دنوں تک مسلسل بیچا گیا۔ سول سوسائٹی یا سوشل میڈیا کو ہی دیکھ لیجئے، کوئی بھرپور احتجاجی آواز سننے میں نہیں آئی۔ کوئی دفاع پاکستان کی مقدس ذمہ داری نبھارہا تھا تو کسی کو عالمی یوم حجاب پر فرانس کی بچیوں کا غم کھائےجارہا تھا۔ بڑے بڑے مفکر، دانشور، لکھاری اور صحافی اس انسانی المیے کو نظر انداز کر گئے ۔ شاید ان کی ادارتی حس کے مطابق یہ واقعہ معمولی نوعیت کا تھا۔ یا پھر شاید ان لوگوں نے اس واقعے پر اس لیے آواز نہ اٹھا ئی کیونکہ ان کے اپنے گھروں میں چائلڈ لیبر عام ہے۔
کئی جوانیاں سائیکل چوری جیسے معمولی مقدمات کی مدمیں جیل میں بیت گئیں لیکن انصاف اُن بے چاروں سےتو کوسوں دور ہےلیکن ہاں اگر آپ لیاقت بھٹی ہیں تو یقین جانیں ‘ انصاف’ آپ کے گھر کی باندی ہے۔
بہر حال ایک بات تو طے ہےکہ شاہدہ ! تم تا قیامت اس بربریت کی شاہد رہو گی۔ لیکن لیاقت اور انسانیت کا منکر لیاقت بھٹی کب کیفر کردار تک پہنچے گا؟ مظلوم شاہدہ اس دن کی منتظر رہے گی۔