Categories
نقطۂ نظر

صحافت کا ننگا ناچ اور اخلاقیات کا کھمبا

ہم صحافت کے اس ننگے ناچ کو روز دیکھتے ہیں ، اسے برا بھلا کہتے ہیں مگر اس کے چسکے سے محروم بھی نہیں رہنا چاہئے
کسی شیر صحافی کی شکار کرکے لائی ہوئی خبر کو گدِھوں کی طرح نوچنے اور بھنبھوڑنے والے اینکرز،تجزیہ کاروں اور مراعات یافتہ صحافیوں سے معذرت کے ساتھ !
تحریر کا مقصد یہ نہیں کہ خود کو کسی ایسی فلم کا سنجے دت ثابت کروں جسے زمانے سے دکھوں کے سواکچھ نہیں ملا ۔ اخلاقیات کے جس کھمبے پر میرے سینئر چڑھ کر بیٹھے ہیں وہ بہت اونچا ہے اور سچی بات بتاؤں تو ابھی کسی اور جگہ سے نوکری کی پیشکش بھی نہیں ہوئی۔ مختصراً یہ کہ شام سات سے رات بارہ تک گلے پھاڑ پھاڑ کر تدریس میں مصروف اخلاقیات کے ڈسکو ڈانس میں ایوارڈ پانے والے ان صحافیوں کے ٹھمکے آ ج کل کسی گندی پشتو فلم کی ہیروئن سے کم نہیں ۔ ہم صحافت کے اس ننگے ناچ کو روز دیکھتے ہیں ، اسے برا بھلا کہتے ہیں مگر اس کے چسکے سے محروم بھی نہیں رہنا چاہئے ۔
تحریر کا مقصد لیکچرجھاڑنا نہیں ہے سیدھی بات یوں ہے کہ اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ دل تو میرا بھی کرتا ہے کہ فراز صاحب کی مشہور نظم کے چار مصرعے ٹویٹر اور فیس بک پر لکھوں؛
میرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی
میرا قلم تو عدالت میرے ضمیر کی ہے
اسی لئے تو جو لکھا تپاق جاں سے لکھا
جبھی تو لوچ کماں کا زبان تیر کی ہے۔۔
لیکن مجھے ڈر ہے کہ میرے بینک اکاؤنٹ میں اس وقت موجود رقم بس اتنی سی ہے کہ زیادہ سے زیادہ ایک مہینہ ۔۔۔ اس کے بعد فراز کے ان مصرعوں کے طفیل میرے فیس بک سٹیٹس پر داد دینے والے اور میرے ٹویٹ کے سامنے موجود ستارے کو سفید سے پیلا کرکے ری ٹویٹ کرنے والے احباب یہ سوچ کر فون اٹھانا ہی نہ چھوڑ دیں کہ کہیں یہ ادھار نہ مانگ لے ۔ میرا تو میڈیا ٹاؤن میں پلاٹ بھی نہیں کہ جسے بیچ کر چلتی کام نام گاڑ ی رکھ لوں۔ نہ ہی میں اس دیمک کی طرح ہوں جو اپنے ہی گھر کو چاٹ کھائے ۔
آخر میں اپنے چھٹانک بھر مداحوں اورلگ بھگ ڈیڑھ درجن قدر دانوں پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر ایگزیکٹ کے خلاف لگائے گئے الزامات سچ ثابت ہوئے تو میں استعفیٰ پھر بھی نہیں دوں گا۔ نئی نوکری تلاش کروں گا، مل گئی تو استعفیٰ دے دوں گا۔ اگر نہ ملی تو اسی تنخواہ پر دلجمعی سے کام کرتا رہوں گا کیونکہ میں افورڈ نہیں کرسکتا
مجھے کامران خان سمیت بول ٹی وی سے استعفیٰ دینے والے کسی بھی شخص سے شکوہ نہیں ۔ ایک تو یہ کہ سب کا اپناظرف ہوتا ہے ۔ دوسرا یہ کہ بندہ برداشت کرسکتا ہو توپھر جو مرضی فیصلہ کرے ۔ لیکن صاحبان اخلاق !!آپ نے جن لوگوں کو سہانے خواب دکھا کر بول فیملی کا حصہ بنایا وہ کچھ پریشان ہیں کیونکہ خاندان سے استعفیٰ نہیں دیا جاتا، اس کی حفاظت کی جاتی ہے۔ ہاں! اگربچے غلطیوں میں حد سے گزر جائیں تو انہیں عاق کردیا جاتا ہے لیکن عاق کرنے کے لیے بچوں کا غلطیوں میں حد سے گزرجانا ضروری ہے ۔ آج ہمیں آپ کی ضرورت سب سے زیادہ تھی ۔ اگر وہ میڈیاجسے آپ سیٹھ میڈیا کہہ کر ہمیں یہاں لائے ،وہ جھوٹا ہے تو ہمارے ساتھ مل کر اس کے خلاف جنگ کرتے اور اگر غلطی شعیب احمد شیخ کی ہے تو بھی کسی سایہ دار درخت کی طرح ہمیں جھلسنے سے بچاتے ۔خیر سب کی اپنی مجبوریاں ہیں، آپ کی بھی کوئی مجبوری ہوگی۔
شعیب احمد شیخ پر الزامات لگے ہیں ٗ لگانے والے بھی دودھ سے دھلے ہوئے نہیں ،تحقیقات کرنے والے بھی آسمان سے نہیں اترتے اور ان کھوجیوں کی رسیاں جن سیاستدانوں کے ہاتھ میں ہیں ان کی ’’پارسائی‘‘ کی ہوشربا داستانیں بھی سب نے سن رکھی ہیں۔آخر میں اپنے چھٹانک بھر مداحوں اورلگ بھگ ڈیڑھ درجن قدر دانوں پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر ایگزیکٹ کے خلاف لگائے گئے الزامات سچ ثابت ہوئے تو میں استعفیٰ پھر بھی نہیں دوں گا۔ نئی نوکری تلاش کروں گا، مل گئی تو استعفیٰ دے دوں گا۔ اگر نہ ملی تو اسی تنخواہ پر دلجمعی سے کام کرتا رہوں گا کیونکہ میں افورڈ نہیں کرسکتا۔
ضروری نوٹ ۔: ہمدردی جتاننے یا نئی نوکری تلاش کرنے میں رہنمائی کی کوئی ضرورت نہیں۔
والسلام
عیسیٰ نقوی
Categories
نقطۂ نظر

شکایتوں کا بَن جو میرا دیس ہے

کل دوپہر کے کھانے پر ایک دوست سے ملاقات ہوئی، سیزر سلاد کھاتے ہوئے موصوف نے انکشاف کیا کہ انہیں روانی سے اردو بولنے میں کافی دقت پیش آتی ہے، میں نے کہا اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کی ساری زندگی ملک سے باہر گزری ہے۔جواب آیا “یہ تو کوئی بات نہ ہوئی، بہت سےایسے لوگ ہیں جو اپنے وطن سے دور پیدا ہوتے ہیں اور پروان چڑھتے ہیں مگر پھر بھی اپنی زبان فر فر بول لیتے ہیں۔”پھر کہنے لگے” اصل میں یہ سارا قصور میرے والدین کا ہے،” انہوں نے کانٹا رکھتے ہوئے کہا۔ “کیا انہیں یہ نہیں معلوم تھا کہ ان کے بچوں کو مستقبل میں کتنی تکلیف اٹھانی پڑے گی؟ اور اب اس عمر میں میں کیا خاک روانی لاونگا اپنی زبان میں۔”یہ سن کر مجھے پہلےتو کچھ تعجب سا ہوا اور پھر اطمینان۔ہمارے دوست کو زبان پر عبور ہو نہ ہولیکن اس گفتگو کے بعد ان کے پاکستانی اور محب وطن ہونے پر کوئی شک نہیں کیا جا سکتا، کیوں کہ ہم سب پاکستانیوں کی طرح انہوں نے بھی اپنے مسئلہ کا حل تلاش کرنے کے بجاے شکایتوں کا سہارا لیا اور اپنی نااہلیت کو ماں باپ کے ذمہ ڈال دیا۔
یہ سابق وردی والے سیلوٹ کی کمی کا شکار ہونے کے بعد روزانہ کسی نہ کسی ٹی وی چینل پر اورکسی نہ کسی اخباری کالم میں شکایات کے معصوم جام چھلکاتے نظر آتے ہیں، یہ سبھی سوال اٹھاتے ہیں اور بس اٹھاتے ہی چلے جاتے ہیں۔
چاہےٹی وی چینل ہو یا کوئی اخبار، سوشل میڈیا ہو یا انٹرنیٹ پہ کوئی بلاگ، ایسا لگتا ہے کہ ہماری قوم کو شکایتیں کرنے کے سوا اور کچھ نہیں آتا۔ اگر آپ میری طرح خوش قسمتی سے کافی فارغ وقت کے مالک ہوں تو آپ بھی ہرگزرتے برس کے ساتھ ہماری شکایت کرنے کی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ محسوس کر سکتے ہیں۔ ہماری فی کس آمدنی per capita income بڑھی ہو یا نہ ہو ہماری فی کس شکایات کرنے کی شرح ضرور بڑھی ہے۔
اب آپ کہیں گے کہ جس قسم کے حالات ملک کو درپیش ہیں، وہاں عام آدمی اگر شکایت نہ کرے تو اورکیا کرے ؟ یہ بات بھی درست ہےمگر جب آپ شکایتوں کے انبار پر نظر ڈالتے ہیں تو آپ کے سامنے بجلی کے گردشی قرضہ کے قد و قامت کی سی یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ جتنےبھی “شکایتی ٹٹو” الکٹرتونک، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر شکایتوں کے پلندے کھولے بیٹھے ہیں ان میں سے اکثریت ان کی ہےجنہیں یقین ہے کہ اس مملکتِ خداداد نے فقط ایک سبز پاسپورٹ اور اسکے ساتھ آنے والی پریشانیوں کے علاوہ انہیں اور کچھ نہیں دیا۔ یہ شکایت کنندگان اس قوم کا سب سے کمزور اور لاچار طبقہ ہیں جبھی ان کی شکایات پر کوئی سنجیدگی سے کان دھرنے کو تیار نہیں۔
اس گروہ میں بہت سے فرقے ہیں مگر چند جو قابلِ ذکر ہیں ان میں سب سے پہلے تو وه وردی والے ریٹائرڈ حضرات ہیں جو اپنا سب کچھ اس قوم پر قربان کرچکے ہیں (یا شاید اس قوم کا سب کچھ خود پر قربان کر دیا) پر اب ریٹائرمنٹ کے بعد ان سےرہا نہیں جاتا اور ہائے توبہ کرتے نہیں تھکتے۔خوش شکل، خضاب زدہ اور صابر، یہ صرف قوم کے مفاد میں اپنی آواز اٹھاتے ہیں کیونکہ انہیں اس ملک کے علاوه کسی اور چیز میں دلچسپی نہیں ہے؛ نہ جائیدادمیں اور نہ ہی ٹرانسپورٹ کے کاروبار میں ،نہ دلیہ میں اور نہ ہی چینی بنانے کے کاخانوں میں، اچھی کھاد ذخیرہ کر کے بیچنے سےبھی کوئی شغف نہیں اور آج کل فلمیں بنانے کا دھندا ویسے ہی مندے کا شکار ہے۔ یہ سابق وردی والے سیلوٹ کی کمی کا شکار ہونے کے بعد روزانہ کسی نہ کسی ٹی وی چینل پر اورکسی نہ کسی اخبار ی کالم میں شکایات کے معصوم جام چھلکاتے نظر آتے ہیں، یہ سبھی سوال اٹھاتے ہیں اور بس اٹھاتے ہی چلے جاتے ہیں۔ انہیں ہر ایک سے گلہ ہے: سیاستدانوں سے، تاجر برادری سے، صحافی بھائیوں سے، ادیبوں اور مصوروں سے، طالبِ علموں سے، اساتذه سے۔۔۔ حتٰی کہ پاکستان کی تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسا طبقہ ہو جس نے انہیں شکایت کا موقع نہ دیا ہو۔
مگرمنبر ومحراب کےرکھوالوں کا طبقہ ان سے بھی بڑھ شکوہ کناں ہے جو اس ملک کے ہر باشندے سے نالاں ہے۔ ہر مذہبی جماعت کے ہر رہنما نے پچھلے 66 سالوں میں اپنے شکوے شکایتوں سے اس قوم کے کان لہولہان کر دیے ہیں۔ شاید اس لیے کے افواجِ پاکستان کے ہرریٹائرڈ افسر کی طرح، ان بیچاروں کی بھی آج تک کسی نے نہیں سنی۔ یہ سپیکر پھاڑ کر چلاتے رہتے ہیں اور ملک و قوم کو سیدھی راه پر چلنے کی ہدایت کرتے رہتے ہیں پر قوم ایسی ناہنجار ہے کے اس کے 40 کروڑ کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔یہ مجبور، داڑھیوں سے بھرپورہجومِ نیکوکاراں اور کرے بھی تو کیا؟ اپنی نیک نیتی کا اظہارکس طرح کرے؟ بم، بندوق ، فتوے اور ڈنڈے کے ذریعے شکایت نہ کرے تو اپنے ضمیر کو مطمئن کیسے کرے؟
ٹیلیویژن پر روزانہ شکایتوں کا بازار گرم کرنے والے اینکرپرسن اُس تیسرے محب وطن شکایتی طبقہ میں شامل ہیں جسے آج تک اس قوم نے وه پذیرائی نہیں بخشی جس کا وه حقدار ہے۔بے غرض، نازک اندام یہ فرشتہ صفت اینکر ہر شام قوم کے مسکین ترین طبقات( یعنی کہ وه دو گروه جن کا ذکر کچھ کیا جا چکا ہے) کی آواز بن کر دنیا سے اپنے سوالوں کا جواب طلب کرتے ہیں۔یہ ساده دل لکھ پتی اینکر،صحافت کے پرانے دقیانوسی اصولوں کو اپنے جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں اور بلک بلک کر ہماری اور آپکی بھلائی کی دعائیں مانگتے ہیں۔ یہ دعائیں عموماً براہ راست رمضان نشریات کے دوران خطرناک اور بھیانک شکایتوں کی صورت اختیار کر لیتی ہیں مگر سچائی کے یہ محافظ کسی سے ڈرے بغیر ہر اس شخص کی” آن کیمرہ “پگڑی اچھالتے ہیں جس سے انہیں کسی بھی کی گزند پہنچنے کا خوف نہ ہو۔ دوسرے شکایتی ٹٹوؤں کی طرح یہ بھی بہت لاچار اور کمزور ہیں مگر بالکل انہی کی طرح یہ بھی وطن کی مٹی کی محبت میں گرفتار، دوسروں پر لعن طعن کرنے پر مجبور ہیں۔
صنعتکار اور سیاستدان ہمارے ملک کا وه حصہ ہیں جو نہ ایک دوسرے کے ساتھ رہ سکتے ہیں اور نہ ہی ایک دوسرے کے بغیر۔ اسی لیے کچھ سال قبل وه اس فیصلے پر پہنچے کہ ایک دوسرے کی شکایتوں سےاپنا جی خواه مخواه ہلکان کرنے کی بجائے کیوں نہ دونوں اپنے پیشوں کا فرق ہمیشہ کے لیئے مٹا دیں اور اپنی شکایتی توپوں کا رخ کسی اورجانب موڑ دیں؟ چنانچہ اب آپ،ہم اور کوئی مائی کا لال اس ملک کے کسی سیاستدان اور بزنس مین میں فرق نہیں بتا سکتا۔اکھٹے ہونے کا قطعا یہ مطلب نہیں کہ ان کی شکایات میں کوئی کمی آئی ہو، وه آج بھی اسی جوش و خروش سے سبھی پر کیچڑ اچھالتے ہیں جیسے ماضی میں اچھالا کرتے تھے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب وه ایک دوسرے کے کیچڑ میں لتھڑے کپڑے خود ہی دھوبی گھاٹ پہنچادیتے ہیں اورصفائی کا بلِ بھی اپنی جیب سے ادا کر دتے ہیں۔
یہ ساده دل لکھ پتی اینکر،صحافت کے پرانے دقیانوسی اصولوں کو اپنے جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں اور بلک بلک کر ہماری اور آپکی بھلائی کی دعائیں مانگتے ہیں۔ یہ دعائیں عموماً براہ راست رمضان نشریات کے دوران خطرناک اور بھیانک شکایتوں کی صورت اختیار کر لیتی ہیں مگر سچائی کے یہ محافظ کسی سے ڈرے بغیر ہر اس شخص کی” آن کیمرہ “پگڑی اچھالتے ہیں جس سے انہیں کسی بھی کی گزند پہنچنے کا خوف نہ ہو۔
آخری شکایتی طبقہ ملک سے باہر مقیم وه پاکستانی ہیں جن کا تعلق ہمارے مزدور یا محنت کش طبقے سے نہیں بلکہ اس کلاس سے ہے جسکے پاس بزنس ایڈمنسٹریشن کی ایک آدھ ڈگری، مغربی پاسپورٹ اور کم ازکم دو گھر ہیں، ایک یہاں اور دوسرا وہاں (یہاں اور وہاں اصل میں کہاں ہیں اس کا وه فرعونی انداز میں کبھی ذکر نہیں کرتے)۔ اس طقہ کی مستقل شکایت یہ ہے کہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ ساری مسلم دنیا اس قابل نہیں رہی جہاں وه اپنے (دوسروں کے) خون پسینے سے کمائے ہوئے سالانہ بونس کو محفوظ طریقے سے invest کر سکیں۔ انقلاب اپنی جگہ پر پر مغرب آخر مغرب ہے۔اس طبقہ میں ہمارے وه محنت کش، خوشبودار،جراثیم کش صابن و روغنیات استاہہل کرنے والے، خشکی سے پاک اصحاب بھی شامل ہیں جو پچھلے برس بزنس کلاس میں سوار ہوکر اپنے پیارے ہرے پاسپورٹ والے وطن انقلاب لانے آئے تھے اور جب ان کے مطلب کا انقلاب نہ آیا تو دل برداشتہ ہوکر اگلی فلائٹ سے واپس لوٹ گئے۔ واپس پہنچتے ہی انہوں نے اپنے غصے کا اظہار اس طرح کیا کہ اپنا دبئی کا چار بیڈروم پر مشتمل وِلا(Villa) فروخت کر کے اس کی جگہ لندن میں ایک ڈیلکس فلیٹ خرید لیا۔
شکایتیں کرنے والے باقی ماندہ بچے کھچے عام پاکستانی ملک و قوم کا درد رکھنے والے ان بے چارے گروہوں کی طرح کمزور اور لاچار نہیں، لہٰذا ہماری ہمدردی کے مستحق نہیں۔ ان میں سے بہت سے تو اتنے طاقتور، مبوےط اور خوش باش ہیں کے پیدل ہی بلوچستان سے سندھ اور سندھ سے پنجاب کی سیرکوچلے آتے ہیں۔ کئی تو 24 سالہ لطیف جوہر کی طرح اپنے آس پاس کے حالات سے اتنے مطمئن ہیں کہ خوشی کے مارے کھانا پینا تک چھوڑ دیتے ہیں ایسا ہی معاملہ ملک کی کچھ اقلیتوں کے ساتھ بھی ہےجن کی شکایتوں کی آواز آج تک ہمارے کانوں تک نہیں پہنچی جس سے یقیناً یہی ثابت ہوتا ہے کہ یا تو سرے سے انہیں کوئی شکایت ہی نہیں اور اگر ہے تو اس قدر معمولی کہ وہ شکایت کرنا ہی نہیں چاہتے۔
شکایتی ٹٹو زنده قوموں کی نشانی ہوتے ہیں اور چوں کہ ہم ایک زندہ و پائندہ قوم ہیں اس لئے مستقل شکایت کرتے رہنا ہماری پہچان بن چکا ہے۔ ہمیں یہود و ہنود سے، صدر اوباما کے سوتیلے بھائی سے، آسٹریلیا کے کینگرووں سے، دبئی کی ثقافت سے سے، افریقہ کے گھنے جنگلات سے، روتھس چائلڈ خاندان کے سب اراکین سے، چھوٹی بچیوں کے اسکولوں سے، لڑکیوں کے کالجوں سے حتٰی کے پوری عورت ذات سے شکایت ہے، اور ہو بھی کیوں نہیں، آخر ہم پاکستانی اور مسلمان ہیں۔
آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی
ہم جنہیں رسمِ دعا یاد نہیں
ہم جنہں سوزِ “شکایت “کے سوا
کوئی بت کوئی خدا یاد نہیں
Categories
گفتگو

اُردو صحافت اور نئے نظریات

wajahat
[blockquote style=”3″]

وجاہت مسعود بیکن ہاوس یونیورسٹی میں میڈیا کے پروفیسر ہیں۔انہوں نے انگریزی ادب میں ایم اے اور بین الاقوامی قانون میں ایل ایل ایم کیا ہے۔ بی بی سی اردو میں لکھنے کے علاوہ مختلف اخبارات میں ادارتی کام کر چکے ہیں۔

[/blockquote]

لالٹین : اپنے خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں؟
وجاہت: میرے سات بہن بھائی تھے، سب ماں باپ کے ساتھ ہی رہتے تھے لیکن میں دادا کے پاس رہتا تھا ۔ وہ پوسٹل اینڈ ٹیلی گرافک سروس میں ملازم تھے۔ میرا تعلق غریب طبقے سے تھا اور مجھے بچوں کے عمومی اشغال میسر نہیں تھے۔ گھر میں موجود علمی دولت کل ملا کر بانگِ درا، شاہنامہِ اسلام اور بہشتی زیور پر مشتمل تھی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں بانگ درا کو کمزور کتاب کہہ رہا ہوں لیکن یہ ایسے ہی تھا جیسے کسی نے گھر میں ہرن کا مجسمہ رکھا ہو، بغیر اس کی فنی اہمیت جانے۔ گویا ارد گرد کچھ ایسی مضبوط علمی روایت موجود نہیں تھی۔
لالٹین : بچپن اور لڑکپن میں کون سے تجربات نے شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کیا ؟
وجاہت: میرے داد ایک مہذب آدمی تھے۔ ریٹائرڈ ہونے کے بعد جب اُن کی نظر بہت کمزور ہوگئی تو میں اُن کو ’اِمرو ز ‘ اَخبار پڑھ کر سُنایا کرتا تھا۔ اِمروز معیاری زبان و بیان اور عمدہ صحافتی معیار کا حامل اخبار تھا، یہ بھٹو صاحب کا اِبتدا ئی زمانہ تھا۔ پریس ٹرسٹ کا اخبار ہونے کے ناتے امروز کا رجحان ترقی پسندی کی طرف تھا۔ کچھ اثر وہاں سے آیا۔
میری دادی کا ایک بیٹا1947 ءکے فسادات میں مارا گیا تھا اوروہ کبھی کمرے کے اندر نہ سوتی تھیں۔ اُنہیں لگتا تھا کہ انکا بیٹا مرا نہیں اور کسی رات واپس آکر دروازہ کھٹکھٹائے گا۔ اگر وہ کمرے میں سو رہی ہوں گی تو انہیں آواز نہیں آئے گی Partition riots were a deplorable human experience and a man-made disaster تقسیم کے فسادات کا اِلزام میں کسی ایک مذہبی فرقے پہ نہیں دھرتا۔ جو دُکھ میں نے دادی سے محسوس کیا ،وہ یقینا ہندو اور سکھ ماﺅں نے بھی جھیلا ہو گا۔
میری شخصی تربیت میری پھوپھی نے کی جو ایک نہا یت مہذب اور درد مند خاتون ہیں۔ انہوں نے 42برس تک سکول میں تدریس کے فرائض انجام دیے۔ وہ خود بے حد مذہبی خاتون ہیں لیکن مجھے انہوں نے اخلاقیات کی تعلیم دی۔ میں نے ان کی تربیت کے زیر اثر سب انسانوں سے محبت کرنے کو نیکی سمجھا۔
لالٹین : اَدب اور شاعری کی طرف کیسے مائل ہوئے اور پنجابی شاعری کا تجربہ کیسا رہا ؟
وجاہت: ادب میرے لیے وہ خط ہے جومحاذِ جنگ سے ہم اپنی ماں کو لکھتے ہیں۔ زندگی ایک جنگ ہے اور جس طرح کی زندگی ہم گزارتے ہیں، اسی کا احوال اِس مکتوب میں آئے گا۔ کسی ادبی تخلیق کے معیار کے بارے میں تنقیدی شعور اپنی جگہ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ تخلیقی فعل بذات خود ایک قابل احترام تمدنی اور تہذیبی عمل ہے۔
پنجابی شاعری میں نے شعو ری طور پر اختیار نہیں کی۔ کئی برس پہلے اُداسی کے عالم میں مَیں نے کچھ لکھنا شروع کر دیا۔ لکھنے کے بعد میں نے دیکھا تو وہ کوئی شاعری نما چیز تھی۔ شاعری کے لیے پنجابی کا انتخاب کوئی سیاسی بیان نہیں بلکہ میرے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ اُردو اَصوات میری نہیں ہیں، مجھے معلوم نہیں ہے کہ اردو میں کون سا حرف ساکن ہے اور کون سا متحرک۔ میں نثر اردو اور انگریزی میں لکھتا ہوں لیکن شاعری کے لیے پنجابی کو چنا اور اب تو قریب دس برس سے پنجابی شاعری کا دروازہ بھی بند ہے۔ شاید مجھے اتنا ہی کہنا تھا۔
لالٹین : صحافت بطور پیشہ پہلے سے طے شدہ تھا یا حالات اس طرف لے آئے؟
وجاہت: بنیادی فیصلہ تومیں نے معاشرے میں اپنا حصہ ڈالنے کا کیا تھا۔ دیکھیے معاشرے میں تبدیلی تو آناہے۔ آپ کوشش کریں تو بھی معاشرہ بدلے گا، نہ کریں تو بھی بدلے گا۔ لیکن جب آپ کوشش کرتے ہیں تو آنے والی تبدیلی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ معاشرے میں ہونے والی تبدیلیوں پر اثر انداز ہونے کا موثر ترین ذریعہ سیاست ہے۔ مہذب معاشرہ سیاست اور سیاسی کارکن کو قابل احترام سمجھتا ہے۔ غیر جمہوری معاشرے میں سیاست کواحترام اس لیے نہیں دیا جاتاتاکہ ایک خاص گروہ کی اجارہ داری برقرار رہے۔
میری رائے کے مطابق سیاست ذہانت کی اعلیٰ ترین سطح مانگتی ہے اورمیں اپنے بارے میں اس غلط فہمی میں نہیں ہو ں کہ میں اس کی اہلیت رکھتا ہوں۔ دوسری بات یہ کہ ایک نوجوان جو سرے سے وراثت کا قائل ہی نہیں، وہ اپنے والد کی جائیداد تو ایک طرف، والد کے گھر ہی سے چلا جاتا ہے، اُس کے پاس اپنا کوئی ٹھکانہ نہیں، کوئی سماجی و سیاسی پس منظر نہیں ہے، جو مالی وسائل نہیں رکھتا، وہ انتخابی سیاست میں نہیں جا سکتا۔ یہ طے ہونے کے بعد فطری طور پر دوسرا انتخاب صحافت تھی۔
لالٹین : مالی وسائل اور سیاسی پس منظرکے بغیر ایک عام شخص سیاست میں نہیں آسکتا تو کیا اسے سسٹم کی خرابی کہیں گے؟

شہریوں کی قانونی اور آئینی مساوات کی اساس ہی سیکولرازم کہلاتی ہے۔ سیکولرازم مذہب سے بیزاری نہیں، تمام شہریوں کی مذہبی آزادی کے یکساں احترام کا نام ہے۔ بدقسمتی سے بہت نقصان ہو گیا ہے۔ اِن ساٹھ برسوں میں ہم نے زبان، ثقافت اور، عقائد کی بنیاد پر بہت خون بہایا ہے۔
وجاہت: نہیں یہ کلی طور پر درست نہیں ہو گا۔ اس میں مجھے بہت سے سچ بولنا پڑیں گے۔ بہت سی ایسی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے مالی وسائل اورسماجی پس منظر نہ ہوتے ہوئے بھی سیاست کی۔ اُس کے لیے جس آزمائش سے گزرنا پڑتا ہے، وہ بہت مشکل ہے۔ باچا خاں صاحب، اجمل خٹک، سوبھو گیا ن چندانی اور میجر اسحاق جیسے کتنے قابل احترام سیاسی کردار ہیں جو بہت سادہ پس منظر کے ساتھ سیاست میں آئے لیکن آپ دیکھیں پھر وہ کس کٹھنائی سے گزرے اور کتنا بڑا مقام حاصل کیا۔ یہ صرف نظام کی کمزوری نہیں، میں اپنی کوتاہی بھی تسلیم کرتا ہوں۔
لالٹین : آپ نے ماسٹرز تو انگریزی ادب میں کیا لیکن صحافت میں آپ نے اردو کا انتخاب کیوں کیا؟
وجاہت: آغاز تو میں نے انگریزی ہی سے کیا تھا، مختلف انگریزی اخبارات میں کام کرتا رہا۔ انگریزی میں بہت نفیس صحافت ممکن ہے اور معاشی طور پہ بھی نفع بخش ہے لیکن اردو میں لکھنے کا جو فیصلہ میں نے کیا اس پر مجھے خوشی ہے۔ میں اس ترغیب میں نہیں آیا کہ انگریزی صحافی کو ہمارے ہاں ذرا اشرافیہ میں شمار کیا جاتا ہے۔ بات تو لوگوں تک پہنچنے کی ہے، کام تو بات کو سمجھنے اور سمجھانے کا ہے۔ اس ملک میں گریجویٹ آبادی 2سے 3 فیصد سے زائد نہیں ہے اور اُن میں سے بھی کتنے لوگ انگریزی پڑھتے ہیں۔ ہمارے ملک کے سارے انگریزی اخبارات کی سرکولیشن ملا کر بھی ایک اردو اخبار کی سرکولیشن کے برابر نہیں ہے۔ یہ درست ہے کہ انگریزی میں بات کہنے کی بہت سی ایسی سہولتیں میسر ہیں جو اُردو میں دستیاب نہیں۔ لیکن اگر ہم نے عوام سے بات کرنا ہے تو ہمیں اُردو اِستعمال کرنا ہو گی۔
لالٹین : اردو اور انگریزی میڈیا میں زبان کے علاوہ کیا بنیادی فرق دیکھتے ہیں؟
وجاہت: حقیقت تو یہ ہے کہ بطورِسماجی اِدارہ ہماری صحافت نے عوام دشمن کردار ادا کیا ہے۔ اُردو صحافت یا مقامی زبانوں میں ہونے والی صحافت نے اس رجحان میں زیادہ کردار ادا کیا ہے۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ جو تحکمانہ (Authoritarian) معاشرے ہوتے ہیں وہاں پر نظریاتی مفروضات کھڑے کئے جاتے ہیں۔ میں انہیں مفروضات ہی کہتا ہوں خواہ وہ دائیں بازوکے ہوں یا بائیں بازو کے، مذہب کے نام پہ ہوں یا طبقے کے نام پہ، قومی سلامتی کے نام پہ ہوں یا شناخت کے نام پہ۔
انگریزی صحافت کا مخاطب ایک مختلف طبقہ ہے۔ وہاں عقل اور حقیقت پسندی کی بات زیادہ کی جاتی رہی ہے۔ تھوڑی جگہ بھی زیادہ تھی کیونکہ اظہار کو دبانے والے انگریزی صحافت کو اس لئے نہیں دباتے تھے کہ انگریز ی پڑھتا کون ہے۔ اس کو چلنے دو تاکہ باہر کی دنیا کو بھی دکھایا جاسکے کہ ہمارے ملک میں دیکھیں کیسی کیسی باتیں لکھی جا رہی ہیں۔ اِس کے برعکس اُردو صحافت میں سماجی شعور کی سطح وہ نہیں ہے۔ میراتو یہ کہنا ہے کہ جو بنیادی فرق ہے وہ زبان کا نہیں ہے وہ صحافت کی حتمی اجتماعی سمت (Ultimate Collective Vector)کا ہے۔ ہماری صحافت کا جو اجتماعی رخ متعین ہوا ہے وہ عوام دشمنی کا ہے، وہ تاریخ کو مسخ کرنے اور سیاسی شعور کو تباہ کرنے کا ہے۔ البتہ ہماری صحافت میں بھی نہایت قابل فخرمستثنیات موجود رہی ہیں ۔ میں آپ کو چند نام جنہوں نے میرے مطابق بڑا کام کیا ہے بتائے دیتا ہوں۔ اس میں اردو یا انگریزی کی تمیز نہیں اور تقدیم وتاخیر کا خیال بھی نہیں۔ چراغ حسن حسرت، ضمیر نیازی، احمد علی خان، نثار عثمانی، مظہر علی خان، رضیہ بھٹی، عزیز صدیقی، خالد حسن، خالد احمد، حسین نقی، آئی اے رحمان اور منو بھائی۔ ان بزرگوں نے اور ان جیسے اور بہت سے صحافیوں نے جن حالات میں اور جس اعلیٰ معیار کا کام کیا، پاکستانی قوم کوان کا شکر گزار ہونا پڑے گا۔
لالٹین : ہماری صحافت کے عوام دشمن کردار اور اُردو اورانگریزی کی اِس مصنوعی تقسیم میں کون کون سے سماجی اور تاریخی عوامل کارفرما ہیں ؟
پاکستان کو صحافت کے لیے دنیا کے چند خطرناک ترین ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔ ٹیلی ویژن کی سکرین کومچھلی بازار بنانا صحافت کی آزادی کا معیار نہیں۔ صحافت کی آزادی کا معیار یہ ہے کہ آپ اپنے علم اور ضمیر کی روشنی میں جس بات کو درست سمجھیں، اسے بلا خوف و خطر بیان کر سکیں۔
وجاہت: بنیادی بات تو سماجی، سیاسی اور معاشی تحکم پسندی (Authoritarianism) کی ہے۔ انسانوں کی اکثریت طاقت کا ساتھ دیتی ہے کیونکہ بہاو کے خلاف تیرنا مشکل ہوتا ہے۔ مزیدبرآں آپ کو یاد ہو گا کہ ہمارے کوئی 110کے قریب دانشور صحافی ایسے تھے جنہیں ضیا الحق نے مکمل بین کر دیا تھا کہ وہ ریڈیو پر نہیں آ سکتے، اخبار میں نہیں لکھ سکتے، ٹی وی پہ نہیں آسکتے، اِ ن کو کسی سرکاری اجتماع میں نہیں بلایا جا سکتا۔ اس خلا کو جن لوگوں سے پُر کیا گیا آج وہ ہمارے مرکزی دھارے کی صحافت کے بڑے طاقتور لوگ ہیں۔ ہمیں ان کی Origin بھی معلوم ہے اور معاف کیجئے ان کی اخلاقی قامت بھی کچھ ایسا ریاستی راز نہیں۔
ہمارے ملک کی اٹھارہ کروڑ آبادی میںبارہ سے چودہ کروڑ وہ ہیں جو 1978ءمیں پیدا ہی نہیں ہوئے تھے۔ 1978ءو ہ تاریک برس ہے جب ضیا الحق نے جماعتِ اسلامی کے تعاون سے ہمارے ملک میں تعلیم اور ذرائع ابلاغ کا وہ بیانیہ مرتب کیا تھا جو آج تک رائج ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے ملک میں بارہ سے چودہ کروڑ لوگوں نے ٹی وی، ریڈیو، اخبارات، کتاب، نصاب، کمرہ جماعت، سیاسی جلسہ گاہ گویا ہر سمت سے ایک ہی بات سنی ہے۔ جب ہم ان سے کہتے ہیں کہ پاکستان ایک وفاقی، آئینی اور سیاسی بندوبست کا نام ہے۔ پاکستانی ریاست کا مذہب اسلام سے، جو چودہ سو برس پرانا ہے، جسے پاکستان سے باہر رہنے والے کروڑوں لوگ بھی مانتے ہیں، عقیدے پر مبنی کوئی تعلق نہیں، سوائے اس کے کہ پاکستان میں ایک خاص مذہب کے ماننے والوں کی ایک خاص تعداد پائی جاتی ہے، تو لوگ آپ کا منہ دیکھنے لگتے ہیں، ان کو اِس بات کی سمجھ ہی نہیں آتی۔
تاہم یہ رائے میں تسلیم نہیں کرتا کہ اردو پس ماندہ ذہنیت کی حامل ہے، بالکل ایسی بات نہیں ہے۔ کوئی زبان بھی ایسی نہیں ہوتی، ہر زبان میں محبت اور نفرت کی لغت موجود ہوتی ہے۔ احمد مشتاق کا ایک شعر عرض کرتا ہوں۔
زبانوں پر الجھتے دوستوں کو کون سمجھائے
محبت کی زبان ممتا ز ہے ساری زبانوں سے
ہمارے ہاں تو جتنی بھی روشن خیالی ہے وہ آئی ہی اردو لکھنے والوں کے طفیل سے ہے، تو ہماری اجتماعی ذہنی پس ماندگی کا کسی خاص زبان سے کوئی تعلق نہیں۔
لالٹین : آپ کے خیال میں وہ کون سے جدیدنظریات ہیں جو نہ صرف سماجی طورپر ذمہ دار صحافت بلکہ ذمہ دار سماجی اورسیاسی رویوں کے ضامن ہیں ؟
وجاہت: دیکھیں اس خطے کے رہنے والے لوگوںکا سیاسی و سماجی ارتقا باقی دنیا سے کٹا ہوا تو نہیں ہے، آج ہم جس دنیا میں رہتے ہیں وہ دنیا نشاة ثانیہ (Renaissance) اور روشن خیالی (Enlightenment)کی پیداوار ہے۔ نشاة ثانیہ کے بعد کی دنیا کا علمی منہاج ہی مختلف ہے۔ علم، پیداوار، حاکمیت اور اقدار کے سانچے اب ا سی نئے علمی منہاج سے پھوٹیں گے۔
جہاں تک ہمارے ملک کا تعلق ہے، سوال یہ نہیں ہے کہ پاکستان کیوں بنایا گیا یا کیسے بنا؟ سوال یہ ہے کہ پاکستان کو چلانا کیسے ہے۔ تو اِس میں میرا یہ کہنا ہے کہ ہمیں سائنسی فکر کو آگے بڑھانا چاہئے۔ ہمیں علم اور پیداوار کو بنیادی اجتماعی اقدار کے طور پر اپنانا چاہئے۔ ہمیں رواداری اور رائے کے اختلاف کو احترام دینا چاہئے۔ اور ایسا کرنا تمام شہریوں کی آئینی اور قانونی مساوات کے بغیرممکن نہیں۔ شہریوں کی قانونی اور آئینی مساوات کی اساس ہی سیکولرازم کہلاتی ہے۔ سیکولرازم مذہب سے بیزاری نہیں، تمام شہریوں کی مذہبی آزادی کے یکساں احترام کا نام ہے۔ بدقسمتی سے بہت نقصان ہو گیا ہے۔ اِن ساٹھ برسوں میں ہم نے زبان، ثقافت اور، عقائد کی بنیاد پر بہت خون بہایا ہے۔
لالٹین : کیا بنیاد پرستی اور طالبانائزیشن کی تحریک ایسا اختلاف رائے ہے جسے برداشت کیا جا سکے؟
وجاہت: ہر گز نہیں۔ ہم جن اختلافات کو برداشت کرنے کی بات کرتے ہیں وہ ایک آئینی، سیاسی اور تمدنی دائرے میں پرامن طور پر سماجی نقطہ نظر کا اختلاف ہے۔ عقائد، زبان، ثقافت، رہن سہن، سیاسی خیالات اور علمی آرا کا اختلاف ہوتے ہوئے پرامن بقائے باہمی کی بات ہے۔ طاقت اور تشدد کے بل پر معاشرے پر اپنا فہم مذہب اور اپنا ترجیحی سیاسی یا سماجی نمونہ مسلط کرنے کے حامی بنیادی طور پر ایک فسطائی نصب العین رکھتے ہیں۔ انسانی حقوق کا عالمی منشور وہ دستاویز ہے جو دنیا بھر کے انسانوں کاباہمی عمرانی معاہدہ ہے، تمام مذاہب کے ماننے والوں، تمام نسلوں اور تمام خطوں کے لوگوں نے اُس پر اتفاق کیا ہے، رواداری اس کا حصہ ہے۔ طالبان سرے سے انسانی حقوق کے بیانیے کو تسلیم ہی نہیں کرتے۔ وہ قومی ریاست کی حدود کو نہیں مانتے۔ ہماری آئین اور آئینی اداروں کو نہیں مانتے۔ وہ اپنی رائے کو قوت کے ذریعے مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ فسطائیت کے ساتھ سمجھو تہ کرنا رواداری کے ذیل میں نہیں آتا، وہ

ظالم کے ہاتھ پر بیعت میں شمار ہوتا ہے۔

تو میرے دست بریدہ کا کنایہ تو سمجھ
یعنی تجھ کو میری بیعت نہیں ملنے والی
لالٹین : انسانی حقوق کے میدان میں آپ کا وسیع کام ہے۔ پاکستان میں اِنسانی حقوق سے متعلق منفی رویے کی حرکیات پر روشنی ڈالیں۔
وجاہت: بات یہ ہے کہ دنیا کی بہت سی دوسری ریاستوں کی طرح پاکستانی ریاست بھی اِنسانی حقوق کو کچھ زیادہ خوشگوار نہیں پاتی کیونکہ اس سے جو ریاستی ذمہ داریاں جنم لیتی ہےں، وہ اِسے قبول نہیں۔ انہیں تسلیم کرنے کے لیے ہمیں بنیادی ریاستی پالیسیاں تبدیل کرنا پڑیں گی۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ پچھلے ساٹھ، باسٹھ برس میں انسانیت نے جو ترقی کی ہے اس میں بظاہر نادیدہ لیکن نہایت وقیع حصہ انسانی حقوق کے فریم ورک کی طرف بڑھنا ہے۔انسانی حقوق کے معیارات انسانوں کی ہزاروں برس پر محیط جدوجہد کا قیمتی ترین ثمر ہیں اور انسانیت انہیں چھوڑے گی نہیں۔
ہمیں اچھا لگتا ہے کہ طاقتور حلقوں کی سرپرستی حاصل رہے اور استہزائیہ ڈھنگ میں سوال کیا جائے کہ ہیومن رائٹس کیا ہوتے ہیں۔ چنانچہ جہاں انسانی حقوق کا بیانیہ آگے بڑھا ہے، تو اسکی مخالفت کے لیے بھی دلائل اور ہتھکنڈے گھڑے گئے ہیں۔ لیکن میرا ایقان ہے کہ تاریخ کا بہاﺅ انسانی حقوق کے بہتر احترام اور زیادہ آزادیوں کی طرف ہے۔
لالٹین : صحافتی زبان کیسی ہونی چاہیے۔ اپنی تحریروں کی روشنی میں بتائیں؟
وجاہت: صحافت کی زبان خالص اَدبی نہیں ہوتی لیکن میں کہتا ہوں کہ وہ تھڑے کی زبان بھی تو نہیں۔ کیونکہ اب تو یہ تقاضاشروع ہو گیا ہے کہ آپ زبان کو اتنا آسان کریں کہ وہ تھڑے والے کو بھی سمجھ آجائے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کیا تھڑے والے کے ذہنی شعور کی سطح نصب العین یا معیار ہے یا ہمیں تھڑے والے کو تربیت کرتے ہوئے آگے لے کر چلنا ہے۔ دوسری بات یہ کہ غلط زبان معیار کیسے ہو سکتی ہے۔ میری رائی میں جو بنیادی نکتہ ہمیں سمجھنا چاہےی وہ یہ ہے کہ سماجی اور سیاسی شعور کا ایک بہت اہم حصہ انسانی زندگی کی پیچیدگی کو تسلیم کرنا ہے، جب ہم اس پیچیدگی سے جان چھڑاتے ہوئے اسے سادہ بیانیے کے روپ میں سادہ لوحی کی طرف لے کر جاتے ہیں تو ہم پڑھنے والوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ پیچیدہ مسائل کو سادہ بنا کر پیش کرنے سے کوتاہ نظری اور عقیدہ پرستی جنم لیتی ہے۔
عوام کو نعرہ بہت آسانی سے سمجھ آجاتا ہے، لیکن معاف کیجیے گا نعرہ اکثر و بےشتر گمراہ کن ہوتا ہے۔ میں نے اپنے لیے شعوری طور پریہ زبان چنی ہے۔ میں کوشش کرتا ہوں کہ زبان کو آسان تر کروں لیکن میں خیال کو سادہ کیسے کروں؟ میں خیال کو بھی سادہ کرنے کی کوشش کرتا لیکن میری رائے میں خیال کی حقیقت پسندی اعلیٰ سماجی شعور کی طرف لے کر جاتی ہے۔ خیال بذات خود سماجی شعور کی ایک خاص سطح کی عکاسی کرتا ہے۔ خیال کو سادہ کرنے کا مطلب ہے کہ میں انسانوں کی ذہنی سطح کو پست دیکھنا چاہتا ہوں۔ ’یہ ہم سے نہیں ہو گا‘۔
لالٹین : آپ پاکستانی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی اِس د ہائی کی ترقی سے بخوبی آگاہ ہیں، ایک وسیع تناظر میں اِسکے بارے میں کیا کہنا چاہیں گے؟
انگریزی صحافت کا مخاطب ایک مختلف طبقہ ہے۔ وہاں عقل اور حقیقت پسندی کی بات زیادہ کی جاتی رہی ہے۔ تھوڑی جگہ بھی زیادہ تھی کیونکہ اظہار کو دبانے والے انگریزی صحافت کو اس لئے نہیں دباتے تھے کہ انگریزی پڑھتا کون ہے۔ اس کو چلنے دو تاکہ باہر کی دنیا کو بھی دکھایا جاسکے کہ ہمارے ملک میں دیکھیں کیسی کیسی باتیں لکھی جا رہی ہیں۔ اِس کے برعکس اُردو صحافت میں سماجی شعور کی سطح وہ نہیں ہے۔
وجاہت: کچھ زاویوں سے تو یہ ایک بہت خوشگوار پیش رفت ہے۔ 17اکتوبر 1979ءسے1983 ءکے اس دن تک جب ضیاالحق نے مجلسِ شوریٰ میں آئندہ انتخابات کا اعلان کیا، ہماری صحافت قید و بند، سنسر شپ، عقوبت گاہوں، کوڑوں اوردیدہ و نادیدہ دباﺅ کی جس آزمائش سے گزری، پاکستان کے لوگوں نے اس سے پہلے اور اس کے بعد صحافت پر ایسا برا وقت کبھی نہیں دیکھا۔ لیکن اس میں ہوا یہ ہے کہ ہمارے کچھ صحافی بہن بھائیوں کے جوڑ پٹھے اکڑ گئے ہیں۔ اِس سنسر شپ میں رہتے ہوئے وہ پرواز کا ڈھنگ بھول گئے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ صحافت کی آزادی بہت بڑی ذمہ داری کا تقاضا بھی کرتی ہے۔ اور ذمہ داری علم کے بغیر نبھائی نہیں جا سکتی اور علمی معیار ہمارے ہاں نیچے آیا ہے۔ تیسری بات میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہماری بہت سی صحافتی آزادی اس وقت بھی ایک سراب ہے۔ کیونکہ بعض امور پہ بات کرنے کی تو بہت آزادی ہے لیکن بہت سے موضوعات ایسے ہیں جن پر اب بھی صحافی، اخبار یا الیکٹرانک میڈیا میں بات نہیں کر سکتا۔
ہمارا ہم عصر صحافی سیاستدانوں کو تو بڑی سہولت کے ساتھ بُرا بھلا کہتاہے۔ سیاسی عمل کی مخالفت میں اسے عار نہیں، جمہوریت کی ساکھ بگاڑنے سے اسے اجتناب نہیں۔ مگر پاکستان کی تاریخ میں چار مارشل لا لگانے والی قوت کا ذکر کرتے ہوئے اس کی زبان لڑکھڑانے لگتی ہے۔ ہمارے ملک میں امتیازی قوانین موجود ہیں۔ صحافت اس پر کیوں سوال نہیں اٹھاتی۔ آپ کے علم میں ہو گا کہ جب تک بیت اللہ محسود ڈرون حملے میں مارا نہیں گیا، پاکستان کے کسی اخبار میں اس کی تصویر شائع نہیں ہوئی۔ خوف کا یہ عالم تھا۔ اب بھی پاکستان کو صحافت کے لیے دنیا کے چند خطرناک ترین ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔ ٹیلی ویژن کی سکرین کومچھلی بازار بنانا صحافت کی آزادی کا معیار نہیں۔ صحافت کی آزادی کا معیار یہ ہے کہ آپ اپنے علم اور ضمیر کی روشنی میں جس بات کو درست سمجھیں، اسے بلا خوف و خطر بیان کر سکیں۔
لالٹین : پاکستان کے سیاسی مستقبل میں جمہوریت ہی واحد رستہ ہے۔ اس پر کچھ روشنی ڈالیں :
وجاہت: بدقسمتی سے ہماری لغت پر غور فرمائیے۔ ہم کہتے ہیں، ”ہم نے 2008ءمیں جو جمہوری تجربہ شروع کیا“ تو عرض یہ ہے کہ جمہوریت تجربہ نہیں ہے۔ جمہوریت ایک طرز حیات ہے۔ جمہوریت کا کوئی متبادل ہی نہیں۔ فسطائیت مذہب کے نام پہ ہو یا نسل کے نام پہ ، کوئی مسیحا وردی پہن کر آئے یا داڑھی رکھ کر آجائے، کیا ہم نے یہ تجربے کر کے نہیں دیکھے؟ اور وہ تجربے ناکام ہوئے ہیں۔ پاکستان میں جمہوریت ناکام نہیں ہوئی جمہوریت کے ساتھ جو کھلواڑکیا گیا، وہ ناکام ہوا ہے۔
لالٹین : آپ کی شریکِ حیات آپ کے کام اور نظریات میں آپ کی معاون رہی ہیں۔ ان کا آپ کی زندگی پر کیا اثر ہے ؟
وجاہت: میں اِس میں کسی بد دیانتی سے کام نہیں لینا چاہتا۔ مجھ میں توبہت سی کمزوریاں ہیں۔ میری افتاد میں جلا وطنی کی ایک کیفیت مسلسل میرے ساتھ رہی ہے۔ آپ تو سمجھتے ہیں اس سے بڑی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ تنویر جہاں نے سب سے اہم مہر بانی یہ کی کہ اس نے مجھ سے کبھی ایسا تقاضانہیں کیا کہ میں جس طرح کی زندگی گزارنا چاہتا ہوں وہ نہ گزاروں۔ ہمارا رشتہ بنیادی طور پر مساوات کا رشتہ ہے۔ جو زندگی میں نے گزاری ہے وہ اُس کے بغیر ممکن نہ تھی۔ اس نے اپنی اخلاقی قامت اور سوجھ بوجھ سے مجھے بہت سی ایسی غلطیوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کی جن کے لیے میں زبردست کشش محسوس کرتا تھا۔
لالٹین : پاکستان کی اِ س پیچیدہ صورتحال میں نوجوانوں کو کیا پیغام دینا چاہیں گے۔
وجاہت: نوجوانوں میں بہت امکان ہوتا ہے اور اُن میں بددیانتی کا عنصر بھی کم ہوتاہے۔ اُنہیں چاہیے کہ پیداواری، تخلیقی اور جذباتی طور پر خوشگوار زندگی گزاریں۔ معاشرے کو نوجوانوں میں اِن تینوں چیزوں کا خواب جگانا چاہیے۔ جس کے لیے ضروری ہے کہ معاشرہ جنس کوضروری اِحترام دے۔ ہم نے نوجوانوں کو دکھی کیا ہوا ہے اور دکھی نوجوان بڑے خطرناک ہوتے ہیں۔ کیونکہ اُن کی جبلتوں کی مناسب تہذیب نہ کی جائے تو پھر ان کی توانائی اِستحصال، نفرت، بدعنوانی، تشدد اور تفرقے کا رخ اختیار کر لیتی ہے۔