Categories
نقطۂ نظر

مذہب کا موجودہ دائرۂ عمل

[blockquote style=”3″]

چودھری محمد علی ردولوی ایک زبردست عالم اور اردو کے ادیب و افسانہ نگار تھے۔انہوں نے اردومیں سب سے پہلے ہم جنس پرستی پر ‘تیسری جنس’کے عنوان سے ایک کہانی بھی لکھی تھی، جو کہ بہت مشہور ہوئی۔ترقی پسندتحریک کے اجلاس میں انہوں نے افتتاحی تقریر بھی دی تھی، جس کو کہا جاتا ہے کہ بعد میں کنہی وجوہ پر شائع نہیں کیا گیا بلکہ پوری طرح نظر انداز کردیا گیا۔صاف گوادیب ہونے کے ساتھ ساتھ انہوں نے ہمیشہ یہ کوشش کی کہ مسلمانوں بلکہ انسانوں کے درمیان مصالحت کی کوئی بہترین صورت نکلے اور لوگ ہندوستان جیسے وسیع و عریض ملک میں کسی مخصوص مذہب و مسلک سے وابستہ ہونے کے باوجود سیکولر رویے کے حامل ہوں ، ان کا زیر نظر مضمون اردو ادب کے شمارے سے ماخوذ ہے۔جناب اطہر فاروقی، جنرل سکریٹری ،انجمن ترقی اردو ہند کے شکریے کے ساتھ شائع کیا جارہا ہے۔

[/blockquote]

ایک آزاد خیال مصنف نے مسخرہ پن کیا ہے۔ پہلے انجیل مقدس سے حسبِ ذیل جملہ نقل کیا ہے۔ خدائے عزّ و جل نے چھ دنوں میں دنیا بنائی اور فرمایا کہ ’’خوب بنی‘‘۔ اس کے بعد اپنا قول لکھتا ہے کہ ’’اب آکر دیکھیں تو کیا دیکھیں‘‘ دریدہ دہنی سے قطع نظر کرکے اگر دیکھا جائے تو یہ شوخی کسی اور چیز پر صادق آتی ہو یا نہ ہو، اسلام کے لیے ضرور موزوں ہے۔ اسلام کون چیز تھا، اور کون چیز ہے مگر لوگوں نے اپنی خود غرضی سے اس کو کیا بنا دیا ہے کہ خدا کا بھیجا ہوا نام، رسول کا لایا ہوا نام ’مسلم‘ مجہول المعنی ہوکر رہ گیا ہے۔ جب تک شیعہ، سنی، صوفی، وہابی کا دُم چھلا نہ لگایا جائے سننے والے کو تسکین نہیں ہوتی۔ نہ کہنے والا ہی محسوس کرتا ہے کہ میں پوری بات کہہ چکا۔

 

اسلام کون چیز تھا، اور کون چیز ہے مگر لوگوں نے اپنی خود غرضی سے اس کو کیا بنا دیا ہے کہ خدا کا بھیجا ہوا نام، رسول کا لایا ہوا نام ’مسلم‘ مجہول المعنی ہوکر رہ گیا ہے۔ جب تک شیعہ، سنی، صوفی، وہابی کا دُم چھلا نہ لگایا جائے سننے والے کو تسکین نہیں ہوتی۔
اگر اس کا رونا روئے تو جواب میں حضرات علما کے پاس تالیف قلوب کا عمدہ نسخہ ہے۔ اصول دین تمام فرقہ ہائے اسلام میں ایک ہیں، خدا ایک، رسول ایک، قبلہ ایک، قرآن ایک۔ پھر آپ کو شکایت کس بات کی؟ انسانوں کے طبائع مختلف ہیں لہٰذا خیالات میں کچھ نہ کچھ اختلاف تو ہووے گا۔ اس سے نفس اسلام پر کیا اثر پڑتا ہے۔ یہ ایسا چلتا ہوا فقرہ ہے کہ زیادہ تر لوگ مرعوب ہوکر چپ ہوجاتے ہیں اور معترض کو تسکین ہو یا نہ ہو لیکن زبان گلہ ضرور بند ہوجاتی ہے۔ میں نے بھی مسکت مگر غیر تسکین بخش جملے اکثر مذہبی حضرات کے منہ سے سنے ہیں اور پیچ و تاب کھاکر رہ گیا ہوں۔ میں نے تو یہی غور کیا ہے کہ یہ حربہ ہمیشہ اس وقت کام میں لایا جاتا ہے، جس وقت مخلوط صحبت ہوتی ہے۔ اگر خالص جلسہ ہو تو بلا ارادہ طرزِ گفتگو دوسرا ہوجاتا ہے۔ انسانی فطرت کا تقاضا ہے کہ اگر ہوسکے تو دوسرے کو خفا نہ کرو۔ ضمناً یہ پہلو بھی نکلتا ہے کہ ایسے اعتراض کو کیوں تسلیم کرو جس میں مدمقابل کے نقصان کے ساتھ اپنے نقصان کا بھی خدشہ ہے۔

 

اگر اکھاڑے میں دو پہلوان نہ ہوں تو کشتی کا لطف کیوں کر آئے۔ اگر یہ فروعی اختلاف نہ رہ گئے تو فرقہ علما کی ضرورت بہت کم ہوجائے گی، پیشے کی صورت ہی نہ باقی رہے گی۔ بالکل کاغذ کے پھول کی سی حالت ہوجائے گی، کہ دیکھنے میں بالکل ویسا ہی مگر سونگھنے (کذا) سے رہ جاتا ہے۔ قصہ مشہور ہے کہ انگلستان میں دو اخبار تھے جن میں اتنی سخت چلی ہوئی تھی۔ اور وہ جلی کٹی ایک دوسرے کو سناتے تھے کہ نفس مسئلہ کو چھوڑکر لوگ گرماگرم الفاظ کے مزے لیتے تھے۔ اور اخبار کی بکری خوب ہوتی تھی۔ قضائے کار ایک اڈیٹر مرگیا ساتھ ہی دوسرا اخبار بھی بند ہوگیا۔ لوگوں کی دل چسپی جاتی رہی۔ دریافت سے معلوم ہوا کہ مرحوم مغفور خود ہی بہ نفس نفیس دونوں اخبار نکالا کرتے تھے۔

 

فروعات کے اختلاف صرف کہنے ہی کے لیے معمولی اختلاف ہیں ورنہ اہمیت ان کی بہت زیادہ ہے اگر نہ یقین ہو تو آپس کی دشمنیاں دیکھ لیجیے۔ جو کوششیں دریا کا پاٹ اور وسیع کرنے کی محرم، میلاد اور دوسری مذہبی مراسم کے پردے میں ہوتی ہیں وہ اس کی شاہد ہیں۔

 

خدا کی وحدانیت میں معنی پہنائے۔ رسول کی رسالت میں توجیہیں لگائے۔ مخالفت اختلاف رائے کی حد سے نہیں بڑھتی۔ اگر کہیں فروعات میں اختلاف ہوا تو دوسرے فرقہ والے خون کے پیاسے ہیں۔ کافر مارنے کا ثواب گھر ہی میں حاصل ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اگر خدا ناکردہ فروعی فرق دور ہوجائے تو سیکڑوں حضرات والا صفات بھوکوں مرجائیں۔ مریدین، معتقدین، مقلدین ہاتھ سے نکل جائیں، ججمانی خاک میں مل جائے اور مذہب روزی کا ٹھیکرا نہ بن سکے۔ ذاتی اغراض تھے جنھوں نے مذہب کے بہتّر ٹکڑے کردیے اور وہی خود غرضیاں ہیں جو آج ملنے نہیں دیتیں۔ اسی وجہ سے کلام اللہ پر زیادہ زور نہیں دیا جاتا اور حدیث شریف کے نام سے مسلمان مرعوب کیا جاتا ہے۔ یہ حدیث شریف حضرت امام بخاری سے مروی ہے، یہ امام جعفر صادق سے منقول ہے۔ مجال ہے کہ اتنے اتنے بڑے ناموں کے بعد کوئی دم مارسکے حالاں کہ جانتے ہیں کہ دو تین، انتہائی چار احادیث ایسی ہیں جن میں یہ دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ الفاظ بھی جناب رسالت مآب صلعم کے ہیں، باقی میں صرف مفہوم ہے۔ الفاظ حضرات راویان کے ہیں جن کی نسبت یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا کہ وہ معصوم عن الخطا تھے۔ بہت سے مہتم بالشان اسمائے گرامی ہیں جن کی نسبت ان سے بھی بڑے افراد اسلام نے شک ظاہر کیا ہے، لیکن چوں کہ وہی حضرات ایک ایک فرقے سے مختص ہوگئے ہیں۔ لہٰذا ہم لوگ ان کی صحت بیان پر جان دینے کو تیار ہیں۔ ایک فرقہ ہے جن کے بیان (کے مطابق) انھیں روایات کی بنا پر چودہ افراد ایسے ہیں کہ ان سے غلطی کا امکان ہی نہیں گویا وہ انا بشرُٗ مثلکم کے درجے سے بلند ہیں۔ دوسرا فرقہ اس کا قائل نہیں ہے، لیکن وہ بارہ ہزار مسلمانوں کو ایک طرح کا دودھ کا دھویاماننے پر تیار ہے۔ گویا قرآن میں ’’سورۂ منافقون‘‘ ہی غائب ہے گویا دائرۂ اسلام میں ایسے لوگ تھے ہی نہیں جو پشت در پشت لڑتے چلے آئے تھے اور ایک بارگی یہ دیکھ کر کہ رسول اللہ کی فوج ہماری فوج سے زبردست ہے اور اگر کامیابی کی امید ہوسکتی ہے تو اسی طرح کہ مسلمان ہوجاؤ۔ طُرفۃ العین میں مسلمان ہوگئے اور اپنے مقاصد میں بھرپور کامیاب ہوئے۔ جب یہ حال بہترین زمانے کا ہو تو بعد والوں کے لیے کیا کہا جاسکتا ہے۔ لیکن نہیں، اگر ان حضرات کی روایات میں شک کیا جائے تو فرقہ بندی کیوں کر قائم رہ سکتی ہے۔

 

فروعات کے اختلاف صرف کہنے ہی کے لیے معمولی اختلاف ہیں ورنہ اہمیت ان کی بہت زیادہ ہے اگر نہ یقین ہو تو آپس کی دشمنیاں دیکھ لیجیے۔ جو کوششیں دریا کا پاٹ اور وسیع کرنے کی محرم، میلاد اور دوسری مذہبی مراسم کے پردے میں ہوتی ہیں وہ اس کی شاہد ہیں۔
روایات کا معاملہ بڑا نازک ہے۔ اختلاف رائے دو طرح سے ممکن ہے۔ ایک یہ کہ انسان غلطی کر جائے، دوسرے یہ کہ عمداً غلط بیانی کرے۔ فرض کیجیے پانی کھڑے ہوکر پینا چاہیے یا بیٹھ کر، مثال کے طور پر عرض کیا جاتا ہے کسی نے کھڑے ہوکر پانی پیا، کسی صحابی نے کہا کہ آنحضرت صلعم کے سامنے ایک مرتبہ مجھے کھڑے ہوکر پانی پینے کا اتفاق ہوا تھا اور جناب ختمی مآب صلعم نے فرمایا تھا کہ بیٹھ جاؤ۔ پانی پینے والے نے یہ مزید احتیاط کسی دوسرے صحابی سے دریافت کیا، انھوں نے اپنی یاد پر زور دے کر فرمایا کہ نہیں تو ایک بار میدانِ جنگ میں خود رسالت مآب صلعم نے پانی مانگا تھا اور کھڑے ہی کھڑے نوش فرمایا تھا۔ ان دو روایات میں گمان کیا جاسکتا ہے کہ دونوں حضرات صحیح فرماتے ہوں۔ لیکن آیا آخری حکم ہاتھ کھول کر نماز پڑھنے کا تھا یا ہاتھ باندھ کر۔ وضو میں آنحضرت صلعم پاؤں دھوتے تھے یا مسح فرماتے تھے۔ اس میں اگر اختلاف ہے تو معاف کیجیے گا۔ عمداً غلط بیانی کا یقین ہے۔ جب تک دو راویوں میں سے ایک نے جھوٹ کی پُٹہ نہ دی ہو ممکن نہیں ہوسکتا، کیوں کہ کوئی فریق یہ نہیں کہتا کہ دونوں طریق جائز و رائج تھے۔

 

علم الالفاظ میں یہ بڑا اہم مسئلہ ہے کہ آیا ایک زبان کی دو لفظیں پوری طور سے مترادف المعنی ہو بھی سکتی ہیں۔ عربی میں گھوڑے کے بہت سے نام ہیں۔ اونٹ کے ناموں کی انتہا نہیں۔ شراب کے لیے نہ معلوم کتنے الفاظ موجود ہیں۔ لیکن کوئی کہہ سکتا ہے کہ تمام الفاظ ہر پہلو سے ایک ہی کیفیت دل میں پیدا کرتے ہیں۔ نود و نُہ (۹۹) اسمائے حسنہ ہیں، ہر نام اسم ذات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ لیکن از روئے صفات سننے والے کا دل و دماغ کہاں سے کہاں پہنچ جاتا ہے کہنے والے کی اور ہر نقل کرنے والے کی آواز کی زیادتی وغیرہ وغیرہ۔ اس کا چہرہ، حالت سوال کرنے والے پر وقتی اثرات۔ جواب دینے والے پر جو کیفیات قلبی اور دماغی پیدا ہوئے ہیں۔ موسم وغیرہ وغیرہ۔ یہ تمام امور اور اسی قبیل کے سیکڑوں امور پر غور کرنے کے بعد پتا چلتا ہے کہ روایت کس قدر مشکل چیز ہے اور روایت پر اندھا دھند عقیدت کتنا سخت معاملہ ہے۔

 

ایک دوسرا امر بھی قابلِ لحاظ ہے۔ اپنے ہم عصروں کی نظر کسی شخص پر اُس طرح نہیں پڑتی جیسی بعد والوں کی ہوتی ہے۔ نہ اُن کے دلوں میں اس کی وہ اہمیت ہوسکتی ہے جو سیکڑوں برس گزرنے کے بعد جب تاریخ اپنا حکم سنادیتی ہے تب ہوئی ہے۔ ۲۳ برس زمانہ بعثت رہا۔ اس دوران میں اصحابِؓ رسول جس میں ہر طرح کے لوگ شامل تھے، مختلف مواقع پر، مختلف معاملات پر، طرح طرح کے ارشادات و اقوال سنا کیے یا عمل دیکھا کیے۔ کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ تمام ان حضرات نے جن کو یہ نعمت نصیب ہوئی، ایک ہی اندازسے ہر لفظ کو سنا، ایک ہی طرح کا اثر لیا اور حافظے نے ایک ہی طرح اس کو اپنی تحویل میں باقی رکھا۔

 

ایک فرقہ ہے جن کے بیان (کے مطابق) انھیں روایات کی بنا پر چودہ افراد ایسے ہیں کہ ان سے غلطی کا امکان ہی نہیں گویا وہ انا بشرُٗ مثلکم کے درجے سے بلند ہیں۔ دوسرا فرقہ اس کا قائل نہیں ہے، لیکن وہ بارہ ہزار مسلمانوں کو ایک طرح کا دودھ کا دھویاماننے پر تیار ہے
ہم دیکھتے ہیں کہ دو احباب آپس میں باتیں کرتے ہیں۔ اور ایک کا قول دوسرے سے نقل کرتے ہیں اور وہ تیسرے سے نقل کرتا ہے۔ اور وہ اول کہنے والے سے جب تحقیق کرتا ہے تو کچھ نہ کچھ فرق الفاظ میں یا ترتیب میں ایسا نکلتا ہے کہ قائل کو درست کرنا پڑتا ہے۔ حالاں کہ کسی بیان کرنے والے کی نیک نیتی میں شک نہیں ہوتا۔ یہ اس وجہ سے کہ انسان خطا و نسیان کا پُتلا ہے۔

 

روایات کی تفتیش ممکن ہے بعض موقعوں پر زمان رسالت میں بھی ہوئی ہو، لیکن اصل ضرورت بعد کو شروع ہوئی۔ اگر ذاتی اغراض سے قطع نظر کرکے مان بھی لیا جائے کہ خود راویوں کے خیالات کا اثر بلا ارادہ بھی ان کے حافظے پر نہیں پڑا، تب بھی غور و تامّل کی جا ہے کہ آیا وہ باتیں جو مختلف مواقع پر مختلف کیفیتوں کے تحت ہیں، کلام کے مختلف سلسلوں میں سنی گئی تھیں، برسوں کے بعد اسی طرح سے پیش بھی ہوسکتی ہیں؟ آواز کا اتار چڑھاؤ الفاظ پر مختلف درجے کا زور جس سے معنی بدل جاتے ہیں، نقل بھی کیا جاسکتا ہے؟

 

اس میں کوئی شک نہیں کہ دوسروں کے اقوال اور جناب رسالت مآب صلعم کے ارشادات ایک طرح نہیں سنے گئے ہوں گے۔ لیکن آیا انسان ہر زمان و مکان میں ایک ہی طرح دماغ کو ہر بات یاد رکھنے پر آمادہ کرسکتا ہے۔ آپ دھوپ میں چل کر آتے ہیں اور راستے میں جوتا کاٹتا ہوتا ہے او رکسی سے الجھن کی نوبت آجاتی ہے تو آپ کا مزاج ہرگز اس طرح کا نہیں رہتا جیساکہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ ہوا خوشگوار ہو اور بی بی نے پیار کیا ہو۔ اور گھر سے باہر نکلتے ہی کسی شخص نے خلاف امید آپ کی خدمات پر اظہار احسان مندی کیا ہو۔ یہ وہ امکانات ہیں جن سے کوئی محفوظ نہیں۔ یہ بھی ملحوظ رکھیے کہ اگر آپ کی طبیعت کا رجحان ایک طرف ہے تو حافظہ انھیں باتوں کو پیش کرتا ہے جو اس خیال کی ممد ہیں۔ دوسرے رخ کی باتیں صرف اس وجہ سے یاد آتی ہیں کہ کڑی سے کڑی ملی ہے۔ لیکن جب تک ارادہ کرکے ان پر نظر نہ ڈالو۔ آخر الذکر باتوں کا عکس لوح دل پر ہلکا پڑتا ہے۔ ایماندار آدمی ہمیشہ یہ احتیاط کرلیتا ہے کہ دوسرے پہلو کی باتوں کو بھی تول لیتا ہے اوریہ ہی خیالات ہم کو راویان رضوان اللہ علیہم کی طرف سے رکھنا چاہیے۔ لیکن پھر بھی یہ بات ذہن میں رکھنے کے قابل ہے کہ صرف فروع میں اختلاف کو جگہ دی ہے۔ فرائض میں اختلاف قریب نہیں آنے پایا۔ ہمارے یہاں بھی زراعت (کذا) کے اصول موجود ہیں جو اپنے وقت میں کافی اور وافی تھے۔ لیکن وہ معلوم کس کو ہیں، صرف انھیں حضرات کو جو سنّی عالم یا شیعہ مجتہد یا صوفی باصفا کہلاتے ہیں اور صرف دوسروں کی کمائی پر زندہ رہتے ہیں۔ دست بوسی کرواتے ہیں اور صدر کی جگہ کو اپنی میراث جانتے ہیں۔ ان کے نزدیک تاریخی جانچ پڑتال کا اگر کوئی نیا طریقہ نکلے تو اس کو برتنا بدتر از کفر ہے۔ خود ان کے یہاں نئی سے نئی کتاب جو درس میں شامل ہے وہ بھی کئی سو برس کی ہے، مگر باوجود ان باتوں کے یہ خیال کہ اختلافات اتفاقی نہیں ہیں بلکہ عمداً لائے گئے ہیں، ایک اور وجہ سے بھی مضبوط ہوتا ہے، وہ یہ کہ فرائض جس میں خود مفتی کے دائرۂ اسلام سے خارج ہو جانے کا خوف تھا اس میں اختلاف کہیں نہ پائیے گا۔

 

تئیس برس زمانہ بعثت رہا۔ اس دوران میں اصحابِؓ رسول جس میں ہر طرح کے لوگ شامل تھے، مختلف مواقع پر، مختلف معاملات پر، طرح طرح کے ارشادات و اقوال سنا کیے یا عمل دیکھا کیے۔ کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ تمام ان حضرات نے جن کو یہ نعمت نصیب ہوئی، ایک ہی اندازسے ہر لفظ کو سنا، ایک ہی طرح کا اثر لیا اور حافظے نے ایک ہی طرح اس کو اپنی تحویل میں باقی رکھا۔
ظہر کی چار رکعت اور مغرب کی تین رکعت قرآن شریف بھر میں ڈھونڈھ ڈالیے کہیں نہ پائیے گا۔ مگر اس میں حضرات علما نے فرق نہیں آنے دیا۔ رکوع، سجود، سلام وغیرہ میں بھی تفرقہ نہ دکھائی دیا۔ ہاں البتہ فروع میں اگر ایک ہی شان رہنے دیتے تو مابہ الامتیاز کون چیز ٹھہرتی۔ مثال کے طور پر عرض کرتا ہوں۔ تشہّد اور سلام شیعہ سنّی سب کے یہاں ایک طرح سے فرض میں داخل ہے اور دونوں پڑھتے ہیں جس میں کسی طرح کا فرق نہیں ہے۔ لیکن دونوں سے کہیے تو کہ ادل بدل کر پڑھیں۔ دلوں پرحضرات مولویان کا وہ سکّہ بیٹھا ہے کہ منہ میں زبان مشکل سے پھرے گی۔

 

نکاح میں لے لیجیے۔ شیعہ سنّی کے یہاں طریق عقد میں کس قدر علاحدگی دکھائی جاتی ہے لیکن یہ سب علاحدگی صرف دیکھنے ہی کی ہے اصل میں چیز ایک ہی ہے ایجاب و قبول صداق۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو پوری طرح سے دونوں جگہ موجود ہیں اور صرف یہی ضروری ہیں لیکن کوئی صاحب دوسرے فرقے کے طریق سے عقد نکاح کریں تو کہاں تک عرض کیا جائے۔ ہر چیز میں یہ ہی احوال ہے۔ ہر کس از دست غیر نالہ کنند/ سعدی از دست خویشتن فریاد۔ اس مقام پر ایک اپنی ذاتی سرگذشت بیان کردوں۔ گو کہ اس میں ذاتی مباہات اور افتخار کا پہلو نکلتا ہے۔ جیساکہ ایک مرتبہ ایک مولوی صاحب نے طنزاً فرمایا تھا مگر اس کی پروا نہ میں نے تب کی تھی نہ اب کرتا ہوں۔ اگر مطالب بیان ہوجائیں تو ایک فرد کی تعریف یا مذمت دنیا میں کیا وقعت رکھتی ہے۔

 

خوش نصیبی سے مجھ کو ایک مرتبہ دولت حج نصیب ہوگئی تھی۔ طواف و سعی وغیرہ سنی اور شیعہ دونوں معلّمین کے ساتھ کرتا تھا بلکہ زیادہ سنّی ہی معلّمین کے ساتھ اتفاق ہوتا تھا کیوں کہ میں وہیں ٹھہرا تھا اور کثرت بھی انھیں حضرات کی تھی۔ اور غور کرکے پیچ و تاب کھاتا تھا کہ چند ضروری الفاظ میں صرف افتراق پیدا کرنے کے لیے کس قدر زوائد مستحبّات کے نام سے ٹھونس دیے گئے تھے۔ بہرحال مضی ما مضی۔

 

منا کی واپسی پر طواف اور سعی کرنے کے بعد سب چیزیں حلال ہوجاتی ہیں، مگر شیعوں کے یہاں طواف نساء علاحدہ بھی کرنا پڑتا ہے۔ چوں کہ اس میں میری شریک زندگی کے اوپر بھی طعنہ زنی ہوتی اور یوں بھی مجھ کو شیعوں کی فقہ عموماً زیادہ پسند ہے۔ لہٰذا میں نے تلاش کرکے شیعہ معلم کے ساتھ طواف کرلیا، اب رہی سعی، اس میں ذرا لمبی دوڑ ہے اور معلم صاحب بیچارے ادھیڑ عمر کے آدمی اور موٹے بھی تھے، فرمانے لگے کہ میں تمھاری نیت درست کروا دوں گا اس کے بعد تم سعی سنّی معلم کے ساتھ کرسکتے ہو۔ میں راضی ہوگیا۔ سنّی معلمین عربی میں نیت کرواتے ہیں۔ آپ نے بالکل وہی فارسی میں شروع کروائی۔ میں نے عرض کیا کہ حضرت نیت ارادہ دلی ہے جس میں زبان کی شرط نہیں۔ یا نیت میں عربی میں کروں گا جو میرے پیغمبر کی زبان ہے یا اردو میں کروں گا جو میری ماں کی زبان ہے۔ آخر فارسی میں کیوں کروں۔ بیچارے کھسیانے ہوگئے۔ خدا ان کو معاف کرے اور مجھ کو بھی معاف کرے۔

 

ایک طریقہ اس اختلاف کو بڑھانے اور قائم رکھنے کا اور بھی ہے یعنی مناظرہ۔ اکثر ارشاد ہوتا ہے کہ دنگل بد دیا جائے۔ ظاہرا معلوم ہوتا ہے کہ اس سے بہتر مفاہمت کی کون ترکیب ہوسکتی ہے۔ لیکن اس سے بڑا دھوکا دوسرا ہو نہیں سکتا ہے۔ مناظرے کے لغوی معنی یہ ہیں ’’فکر کردن در حقیقت و ماہیت چیزے‘‘ یعنی دو آدمی اپنے اپنے خیالات ایک دوسرے پر ظاہر کریں جس میں نہ جنبہ داری ہو نہ اپنی رائے کو صحیح منوانے کی کوشش۔ اپنے خیالات کی پچ نہ کی جائے اور مقابل کی رائے بالکل اسی نظر سے دیکھی جائے جیسے غور کرنے سے پہلے خود اپنی رائے کو دیکھتے ہیں آیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ مناظرے اس انداز سے کیے جاتے ہیں؟ اس معاملے میں تجربہ جو کچھ بتاتا ہے وہ تو یہ ہے کہ بجائے صحیح نظریہ دریافت کرنے کے، کوشش کرکے لوگ مباحثہ اس طرح کرتے ہیں جیسے دو پہلوان اکھاڑے میں اترتے ہیں جہاں صرف یہ نیت ہوتی ہے کہ جس طرح ممکن ہو دوسرے کو نیچا دکھایا جائے اور شکست بچانے کی جو امکانی کوشش ہوسکتی ہو اٹھا نہ رکھی جائے۔ یہ طریقہ بھی مغربی منطق کے تحت میں آتا ہے جس کی غلطی ظاہر ہے اگر بجائے معقول کرنے کی کوشش کے مناظرے اس طرح ہوا کرتے کہ ایک دوسرے کی مدد کیا کرتے تو کچھ اچھا نتیجہ ضرور نکل آتا۔ جیسے میاں بی بی کے اختلاط میں موتیوں کا ہار ٹوٹ جائے اور دونوں فریق موتی جمع کرنے میں ایک دوسرے کی مدد کریں۔ اس کے بعد جو ہار گوندھا جائے وہ انشاء اللہ تعالیٰ پہلے سے بہتر ہو۔ مگر بدقسمتی سے مناظرے کے یہ معنی اس وقت مفقود ہوگئے جب منطق کا رواج ہوا۔ اب تو مناظرے سے مقصود وہ طریق ہے جس میں ہر فریق کا وکیل صرف اپنے موافق دلائل دے اور سننے والے کو رائے قائم کرنا مشکل پڑے۔ خلفائے بنی عباس کے زمانے میں بڑے بڑے مناظرے قرار پائے اور آج تک یہ سنت خلفائے بنی عباس کی جاری ہے۔ کبھی بھی ایسا ہوا ہے کہ سو گتھیاں بڑھانے کے سلجھاؤ کی کوئی بھی صورت نکلی ہو۔

 

بسیار کاز مودم ازوے نہ بود سو دم
من جرب المجرب حلت بہ النّدامہ

 

قرآن کو سمجھنے کے لیے علوم متعارفہ اور اصول موضوعہ کے جاننے کی ضرورت نہیں صرف نیک نیتی کی ضرورت ہے۔ بچہ نہ خود بول سکتا ہے نہ ماں کی زبان سمجھتا ہے لیکن چوں کہ دونوں طرف نیک نیتی ہوتی ہے اس لیے دونوں ایک دوسرے کا مفہوم خوب سمجھ لیتے ہیں اور اس زمانے کی تعلیم بعد کی تمام تعلیموں پر ہمیشہ بھاری رہتی ہے۔ اسی طرح ام الکتاب کا حال ہے کہ روز مرہ کی زبان میں آیا ہے۔ علمی زبان میں نہیں آیا ہے۔ تم کو بتایا گیا ہے کہ تم خود تدبر کرو، غور کرو اور سمجھ لو۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی حکم ہے کہ جہاں نہ سمجھ میں آئے اہل الذکر سے پوچھ لو۔ اہل الذکر کے معنی کے لیے سمندر کی تہ میں یا پہاڑوں کی چوٹی پر جانے کی ضرورت نہیں۔ جو لوگ قرآن کی مزاولت تم سے زیادہ رکھتے ہیں، انھیں لوگوں سے دریافت کرتے رہو۔ اگر ایک سے تسکین نہ ہو تو دو سے پوچھو۔ دو سے تسکین نہ ہو تین سے پوچھو۔ یہاں تک کہ تمھارے دل کو اطمینان ہوجائے۔

 

نکاح میں لے لیجیے۔ شیعہ سنّی کے یہاں طریق عقد میں کس قدر علاحدگی دکھائی جاتی ہے لیکن یہ سب علاحدگی صرف دیکھنے ہی کی ہے اصل میں چیز ایک ہی ہے ایجاب و قبول صداق۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو پوری طرح سے دونوں جگہ موجود ہیں اور صرف یہی ضروری ہیں لیکن کوئی صاحب دوسرے فرقے کے طریق سے عقد نکاح کریں تو کہاں تک عرض کیا جائے۔
آخر اپنے معاملات میں کیا ہوتا ہے۔ جس معاملے میں رائے نہیں قائم ہوتی سمجھ دار آدمی ایک سے مشورہ کرتا ہے، دو سے مشورہ کرتا ہے، تین سے مشورہ کرتا ہے یہاں تک کہ رائے قائم ہوجاتی ہے۔ یہ ہرگز نہیں کرتا کہ اندھا دھند اپنے مشیر کار کا پیرو ہوجائے اور جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ سمجھ دار نہیں کہلاتے۔ مذہب کے معاملات میں برسہا برس کی غلط روی کی وجہ سے یہ ہوگیا ہے کہ اس میں برخلاف دیگر معاملات کے تقلید ہی کی لکڑی سے راستہ ٹٹولتے ہیں جو بالکل خلافِ فطرت اور اسی وجہ سے خلافِ حکمِ خداوندی ہے۔

 

ایسا کیوں ہوگیا ہے، اس کے وجوہ صاف ہیں۔ جو شخص کچھ بھی واقف کاری رکھتا ہے، جانتا ہے کہ تمام معاملات زندگی کی طرح اسلام میں بھی اختلاف کی بڑی وجہ خود غرضی ہوئی ہے۔ خود غرضی کا مفہوم یہ ہرگز نہیں کہ ہر شخص نے بدنیتی کے ساتھ جعل و فریب ہی تیار کیا گو ایسوں کی بھی کمی نہیں رہی بلکہ یہ مطلب کہ جو رائے اپنی نظر میں صحیح ہوئے اس کو قوی کرنے میں دوسرے پہلو پر نظر کم کی گئی۔ ایسا ہونا فطرت کے نقائص میں سے ہیں جو صرف بہ نظرِ عبرت دیکھی جاسکتی ہیں۔

 

ایک تو کڑوا کریلا دوسرے نیم چڑھا، امتدادِ زمانہ کے ساتھ یورپ کے نئے علوم داخل ہوئے۔ اب کیا تھا منطق کے وہ زور بندھے کہ بادشاہوں کے دربار سے لے کر مُلاّ کے مکاتب تک سب اسی رنگ میں رنگ گئے اور وہ علم جو رائے کو خطا سے بچانے کے نام سے آیا تھا، غول بیابانی کا کام کرنے لگا۔ منطق ایسے بلند پایہ علم کے لیے ایسی بات کہنا چھوٹا منہ بڑی بات ہے۔ مگر یہ اعتراض نفس علم پر نہیں ہے بلکہ انسانی طبائع پر ہے۔

 

انگریزی قوانین کی بنا منطق پر ہے۔ عدالتوں میں جس طرح کا انصاف ہوتا ہے اور جو کارروائیاں احاطۂ عدالت کے اندر پہنچ کر ناگزیر ہوتی ہیں وہ سب پر ظاہر ہیں کہ بغیر جھوٹ کی چاشنی کے ہانڈی مزیدار نہیں اترتی۔ حالاں کہ ضابطۂ قانون میں منطق کا دامن ہاتھ سے چھوٹنا ناممکن ہے۔

 

کلامِ خدا میں متشابہات ہیں جن کا علم سوا خدا کے خاص بندوں کے کسی کو نہیں ہے اور نہ وہ ہماری زندگی میں ہمارے لیے ضروری ہیں۔ دوسرا حصہ محکمات کا ہے اور وہی اصل کتاب ہیں جو ہماری زندگی کے لیے ضروری ہیں۔ وہ بالکل صاف ہیں۔ کہو کہ خدا ایک ہے۔ جو شخص موحد ہے وہ جنت کا مستحق ہے۔ چیزیں تولنے میں ڈنڈی مت مارو۔ کسی کے گھر کے اندر جاؤ تو پکار لو، وغیرہ وغیرہ۔

 

کلام الٰہی کے سمجھنے میں سب سے بڑی چیز جو حائل ہے وہ غیر زبان ہے۔ اس کا علاج سوا اس کے اور کیا ہے کہ ترجمہ کیا جائے۔ مشکل آکر یہ پڑتی ہے کہ کسی زبان کا ترجمہ دوسری زبان میں صرف ترجمہ ہی رہے گا، اصل نہ ہوجائے گا۔ یہ خامی کسی کے بس کی نہیں ہے لیکن اگر ہر شخص کے ہاتھ میں لفظی اور صحیح ترجمہ پہنچ جائے تو اس اندھی کوٹھری سے تو غنیمت ہوگا۔ اگر کسی کتاب کی شرحیں، فرہنگیں، تفسیریں نہ ہوں تو بڑی مشکل درپیش ہو۔ لیکن کلام خدا کی سیکڑوں تفسیریں موجود ہیں۔ تاریخیں موجود ہیں، روایتیں موجود ہیں، جن کی بنا پر قرآن کے معنی ہم پر کھلتے ہیں۔ مختلف رائے رکھنے والے، مختلف عقائد رکھنے والے، مختلف روایتوں کو صحیح ماننے والے، اسلام میں مختلف فرقوں کے قائم کرنے والے، سب ہی کچھ تو موجود ہے اگر آدمی ان سب پر نظر ڈال لے تو قرآن کے مفہوم سمجھنے میں وہ خامی جو غیر زبان کی وجہ سے آن پڑی ہے بہت کم ہوجائے۔ عقل سلیم جو بات سب سے زیادہ خدا لگتی دیکھے گی، خود ہی قبول کرلے گی۔

 

کلام الٰہی کے سمجھنے میں سب سے بڑی چیز جو حائل ہے وہ غیر زبان ہے۔ اس کا علاج سوا اس کے اور کیا ہے کہ ترجمہ کیا جائے۔ مشکل آکر یہ پڑتی ہے کہ کسی زبان کا ترجمہ دوسری زبان میں صرف ترجمہ ہی رہے گا، اصل نہ ہوجائے گا۔
متذکرہ بالا خیالات کو غلط ثابت کردینا مناظرے اور مباحثے میں کوئی مشکل بات نہیں لیکن میرے معروضے کی کسوٹی یہ نہیں ہے۔ اس کی کسوٹی اگر ہے تو حسبِ ذیل ہے۔ آپ سنّی، شیعہ، وہابی وغیرہ وغیرہ حضرات کی تفسیریں دیکھیے اور کلام پاک کا ترجمہ پڑھیے، اس کے بعد غور فرمائیے کہ جو کچھ میں نے عرض کیا ہے وہ صحیح ہے یا نہیں۔ اگر آپ محسوس کریں کہ پہلے سے زیادہ آپ کے دل و دماغ پر روشنی پڑی تو خیر، ورنہ میرا کہنا ازسرتاپا غلط۔ ہر شخص مافی الضمیر اس طرح ادا کردینے پر قادر نہیں ہے کہ دوسرے کے دل میں اسی طرح سے اتر جائے، لیکن دماغ کم و بیش ہر آدمی رکھتا ہے۔ خالی محتاجی اس کی ہے کہ (کذا) ‘بہ اعتبار عینک’ ہم صرف دوسرے کے احکامات پر عمل کرتے ہیں اور جو ’نیت امام کی وہ میری‘ پر پشتوں سے کاربند ہیں۔

 

لیوتھر کے پہلے انجیل صرف علمی زبانوں میں تھی جس کی وجہ سے پادریوں کا عیسائیوں پر وہی اثر تھا جو آج ہمارے یہاں ہے۔ مختلف زبانوں میں انجیل کا ترجمہ ہوجانے کے بعد یہ بات مٹ گئی، لیکن ان کے یہاں یہ غضب ہوا کہ ترجمہ بعض خود غرضیوں کی وجہ سے غلط کیا گیا۔ دوسرے کی غلطی سے فائدہ اٹھاکر اگر ہم اس کی احتیاط کرلیں تو اس نقصان کا خدشہ نہ رہے۔ عیسائیوں کے یہاں عمدہ ترجمے کہیں خواب و خیال میں بھی نہیں تھے۔ ہمارے یہاں ماشاء اللہ اس وقت عمدہ ترجموں کی کمی نہیں۔ صرف ان کو علاحدہ چھاپ دینے کی ضرورت ہے کہ جن کو لوگ بلاوضو بھی چھو سکیں اور علاوہ ایصالِ ثواب کے واقف کاری بڑھانے کے لیے بھی کام میں لاسکیں۔

Image: Sadequain

Categories
نقطۂ نظر

سعودیہ ایران کشیدگی ہمارا مسئلہ نہیں

سعودی عرب اور ایران کی پراکسی جنگ کے آغاز کو اب دہائیاں بیت چکی ہیں۔ ان دونوں ممالک کے درمیان سرد جنگ نے جہاں مشرق وسطیٰ اور خلیجی ممالک میں ابتری اور افراتفری پھیلائی وہیں پاکستان میں بھی ان ممالک کی اس سرد جنگ نے فرقہ وارانہ کشیدگی، مذہبی فسادات اور انتہا پسندی کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان میں موجود سنی انتہا پسند تنظیمیں ہوں یا شیعہ انتہا پسند تنظیمیں ان کی مالی سرپرستی یہی دونوں ممالک کرتے ہیں۔ ان دونوں ممالک کی اس پراکسی جنگ میں ہم لوگ تجربہ گاہ کے جانوروں کی طرح مارے جاتے ہیں لیکن پھر بھی اپنے اپنے فرقے کے تعصب کا شکار ہونے کی وجہ سے پاکستان سے زیادہ سعودی عرب یا ایران کے وفادار بنے رہتے ہیں۔ حال ہی میں سعودی عرب کے شیعہ اکثریتی علاقوں میں مزاحمت کرنے والے شیعہ مفکر شیخ النمر کا سرقلم کیے جانے کے بعد سعودی عرب اور ایران کے سفارتی تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے ہیں۔ سزا پر عملدرآمد کے بعد تہران میں سعودی سفارت خانے پر مشتعل مظاہرین نے حملہ کیا اور آگ لگا دی۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے سے سفارتی تعلقات بھی منقطع کر لیے ہیں۔ سعودی عرب کی جانب سے ایران سے سفارتی تعلقات توڑے جانے کے بعد پہلے بحرین، سوڈان اور کویت اور اب قطر نے بھی ایران سے اپنے سفیر واپس بلا لیے ہیں۔ ایران نے سعودی عرب پر یمن میں ایرانی سفارت خانے پر میزائل حملے کا بھی الزام عائد کیا ہے جس کی سعودی عرب نے تردید کی ہے۔

 

پاکستان میں موجود سنی انتہا پسند تنظیمیں ہوں یا شیعہ انتہا پسند تنظیمیں ان کی مالی سرپرستی یہی دونوں ممالک کرتے ہیں۔
ان دونوں ممالک کی اس کشیدگی کا اثر ایک مرتبہ پھر ہمارے ملک اور معاشرے پر پڑتا نظر آ رہا ہے۔ اس وقت حکومت پاکستان ایک مخمصے کا شکار نظر آتی ہے۔ سعودی عرب سے دیرینہ تعلقات اور ایران کے ساتھ امریکہ ایران مصالحتی عمل کے بعد مفاہمتی خارجہ پالیسی اپنانے کی وجہ سے پاکستان نہ تو کھل کر سعودی عرب کی حمایت کر سکتا ہے اور نہ ایران کی۔ بی بی سی اردو پر گزشتہ دنوں معروف کالم نگار وسعت اللہ خان کے ایک تجزیے میں پاکستان کی اس مشکل کا ذکر کیا گیا ہے اور ماضی میں جاری رہنے والی ایران سعودی کشیدگی میں پاکستان کے سفارتی کردار پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ سفارتی سطح پر پاکستان کا سرکاری موقف کچھ بھی ہو البتہ معاشرے میں شیعہ سنی تفریق میں شدت آنے لگی ہے۔ دونوں فرقوں سے تعلق رکھنے والے حضرات ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور ان دونوں ممالک کے خلاف اپنی اپنی فرقہ وارانہ وابستگی کے تحت نعرے مارنے میں حسب عادت مصروف ہیں۔ محمد احمد لدھیانوی کی جانب سے سعودی سرزمین کا تحفظ جبکہ شیعہ تنظیموں کے سعودی سفارت خانے کے باہر مظاہرے سے اس محاذ آرائی کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے۔

 

سنی مذہبی تنظیموں کا ایران کے خلاف احتجاجی مظاہرہ
سنی مذہبی تنظیموں کا ایران کے خلاف احتجاجی مظاہرہ
سنی اور شیعہ مسلک کے لوگ اپنے اپنے فرقے، مقدس مقامات اور سرپرست ممالک کی بڑائی ثابت کرنے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں سر دھڑ کی بازی لگانے کو تیار ہیں۔ حیران کن طور پر پڑھا لکھا طبقہ بھی اس میں پیش پیش ہے۔ ایک سیاسی مسئلے کو مذہبی اور مسلکی رنگ دیا جا رہا ہے جو پاکستان کے لیے کسی طرح مناسب نہیں۔ ایک جانب جہاں پوپ فرانسس بھی مذہب کی پرستش سے زیادہ انسانوں کے ایک دوسرے کو سمجھنے اور امن سے رہنے کا درس رہے ہیں وہیں ہمارے ہاں مذہب کی بنیاد پر جان لینے اور دینے کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ ہم لوگ غالباً ابھی تک زمانہ قدیم کے جہلاء کی طرح اپنے اپنے فرقے اور مقدس مقامات کو بلندتر ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ زندہ انسان کی جان کسی بھی مقدس مقام سے زیادہ معتبر ہے۔ جو لوگ قبروں میں دفن لوگوں کو زندہ انسانوں پر فوقیت دیتے ہیں وہ جلد یا بدیر خود تاریخ کے قبرستانوں میں دفن ہو جایا کرتے ہیں۔

 

شیخ النمر کی سزائے موت کے خلاف شیعہ تنظیموں کا مظاہرہ
شیخ النمر کی سزائے موت کے خلاف شیعہ تنظیموں کا مظاہرہ
مذہبی اور مسلکی اختلافات سے قطع نظر حیران کن امر یہ ہے کہ سعودی ایران جنگ میں ہم لوگ اپنے وطن کو میدان جنگ بنانے پر کیوں تلے بیٹھے ہیں۔
مذہبی اور مسلکی اختلافات سے قطع نظر حیران کن امر یہ ہے کہ سعودی ایران جنگ میں ہم لوگ اپنے وطن کو میدان جنگ بنانے پر کیوں تلے بیٹھے ہیں۔ سعودیہ کے آمر بادشاہ اچھے ہیں یا ایرانی ملائیت یہ ہمارے مسائل حل کرنے میں کیسے معاون ہے یہ اپنی جگہ ایک تحقیق طلب امر ہے۔ پاکستان کو سعودی شاہی خاندان کا ساتھ دینا چاہیے یا ایران کے حکمرانوں کا ہم اس سوال کو لیے یوں بحث مباحثہ کر رہے ہیں گویا ہم نے اپنے ملک میں موجود قومیتوں کے مابین افہام و تفہیم پیدا کر لیا ہے۔ ٹی وی چینلز کی سکرینوں پر نام نہاد مذہبی علماء اور دفاعی تجزیہ نگار کمال مہارت سے ایک منظم پراپیگینڈے کے تحت عوام کو اس فرقہ وارانہ کشیدگی کی بحث میں الجھائے ہوئے ہیں۔ کون مسلمان ہے کون کافر ہے اس بات سے آگے ہماری سوچ شاید ختم ہو جاتی ہے۔ مزاروں میں جانے سے زیادہ ثواب ملتا ہے یا مساجد میں، یہ سوال ہمارے لیے زیادہ اہمیت رکھتا ہے نا کہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی اور عدم برداشت۔ انسانی حقوق اور ان کی ادائیگی میں ناکام لوگ عقیدتوں اور تقلید کی اندھی روش میں انسانیت کو پیروں تلے کچلنے کے عادی ہو چکے ہیں۔

 

ہمیں اس بات کے ادراک کی ضرورت ہے کہ سعودی یا ایرانی حکمرانوں کی پالیسیوں، آمرانہ رویوں اور ان ممالک میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تنقید ہرگز مقدس ہستیوں پر تنقید کے مترادف نہیں۔ یہ دونوں ممالک اپنے اپنے مفادات کی جنگ کو مذہب اور عقیدت کے نام پر غریب مسلمان ملکوں پر تھوپتے ہیں۔ روپے پیسے کی چمک سے یہ دونوں ممالک اپنے سیاسی مفادات کے حصول کو مذہبی رنگ دے کر مولویوں، ذاکروں، سیاستدانوں اور فوجوں کی ہمدردیاں بھی خریدتے ہیں۔ ان دونوں ممالک کے حکمرانوں نے آپس کی رنجشوں کے باعث پراکسی جنگوں کے ذریعے مسلمان ممالک میں بے بہا خون بہایا ہے، اپنی نااہلیوں کو چھپانے کے لیے دونوں ممالک کے حکمران مذہب کا سہارا لیتے ہیں اور اپنے آمرانہ طرز حکومت کو استحکام بھی پہنچاتے ہیں۔ اور ان کی محبت میں ایک دوسرے کو کاٹنے والے ہم لوگ ان کی جنگ میں ایک چارے کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ اپنی آنکھوں سے تعصب اور اندھی تقلید کی پٹی اتار کر ان دونوں ممالک میں انسانی حقوق کی پاسداری کی صورت حال کا جائزہ لیجیے۔ کیا ان دونوں ممالک میں دونوں مسالک کی مقدس ہستیوں کی بتائی گئی اعلیٰ انسانی اقدار کی ذرا سی بھی جھلک دیکھنے کو ملتی ہے؟ کیا ان دونوں ممالک میں دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو جو لاکھوں روپے خرچ کر کے حج و عمرہ یا دیگر مقامات کی زیارت کے لیے جاتے ہیں انہیں ذرا بھی عزت و تکریم دی جاتی ہے؟ کیا یورپی ممالک کی طرح آپ کو ان ممالک کی شہریت ملتی ہے؟ کیا ان دونوں ممالک میں آزادی رائے کا احترام ہوتا ہے؟ ان دونوں ممالک نے خود اپنا قبلہ عالمی طاقتوں سے درست رکھا ہوا ہے لیکن دیگر مسلم ممالک کے علماء، سیاستدانوں، افواج اور عوام کو یہ دونوں ممالک کبھی عقیدے اور کبھی عالمی طاقتوں کے ان دیکھے ایجنڈے کے نام پر لڑواتے ہیں۔ دیگر ممالک کی عوام

 

ہمیں اس بات کے ادراک کی ضرورت ہے کہ سعودی یا ایرانی حکمرانوں کی پالیسیوں، آمرانہ رویوں اور ان ممالک میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تنقید ہرگز مقدس ہستیوں پر تنقید کے مترادف نہیں۔
میں دیگر اقوام عالم سے نفرتوں کے بیج بوتے ہیں اور خود ان ممالک میں فرقہ وارانہ تقسیم کا باعث بننتے ہیں۔ پاکستان میں 70 کی دہائی تک فرقہ وارانہ دہشت گردی اور شدت پسندی کا نام و نشان تک نہ تھا۔ ایران میں انقلاب کے بعد دونوں ممالک نے اپنے اثرورسوخ میں اضافے کے لیے دیگر مسلم ممالک میں بسنے والے اپنے اپنے مسلک کے مسلمانوں کو متاثر کرنا اور ان کے ذریعے اپنی عالمی حیثیت مضبوط کرنا شروع کردی۔ سعودی اور خلیجی ممالک میں پاکستانی مزدوروں اور ملازمت پیشہ افراد کے کام کرنے کی غرض سے آنے جانے کے بعد فرقہ واریت اور شدت پسندی کا ناسور تیزی سے ہمارے معاشرے میں پھیلنا شروع ہو گیا۔ لشکر جھنگوی ہو یا تحریک نفاذ فقہ جعفریہ ایسی لاتعداد شدت پسند تنظیمیں سعودی عرب اور ایران کی ہی پشت پناہی اور پیسے کے بل پر وجود میں آئیں۔ لیکن ہم اپنے مسائل حل کرنے کی بجائے ان حقائق سے منہ موڑ کر انہی ممالک کی محبت میں ایک دوسرے کو مرنے مارنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔

 

بطور قوم اپنی ایک ثقافت اور تاریخ رکھتے ہیں جو کہ صدیوں پر محیط ہے ہم نہ تو عربی بن سکتے ہیں اور نہ ایرانی۔ اگر ان ممالک کی پراکسی جنگوں میں ہم یوں ہی عربوں سے زیادہ عرب اور ایرانیوں سے زیادہ ایرانی بن کر شریک ہوتے رہے تو ہم اپنی اصل شناخت اور تشخص کھو دیں گے۔ مسخ شدہ لاشوں کی طرح مسخ شدہ قوموں اور معاشروں کی شناخت بھی آہستہ آہستہ ناممکن ہو جاتی ہے۔ جن معاشروں اور قوموں کی اپنی شناخت باقی نہ رہے تو وہ تاریخ کے قبرستان میں لاوارث لاشوں کی مانند دفنا دی جاتی ہیں۔ اس لیے بدلیں اپنے آپ کو اور اپنے خیالات کو کم سے کم آنے والی نسلوں کو مسلکی شناخت، تعصب و نفرت سے پاک معاشرہ دے کر جائیں۔ سعودیہ میں شیعہ مذہبی عالم کا سر قلم کیا جانا بلا شبہ اندوہناک تھا اور انسانی حقوق کی اس خلاف ورزی پراحتجاج ہونا بھی چاہیئے لیکن انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ہمیں اپنی اپنی فرقہ وارانہ وابستگیوں سے بالاتر ہو کر ایسے سانحات پر رد عمل دینا چاہیئے اور ایسے تمام عناصر کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے جو ان حادثات کے ذریعے تعصب اور فرقہ پرستی کا زہر معاشرے میں پھیلاتے ہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

پاکستان پر شامی جنگ کے خون آشام سائے

ہفتہ بھر پہلے آدھی رات کے لگ بھگ جرمن خبر رساں ادارے کی جانب سے ایک تحقیقی مضمون شائع ہوا جس میں ایرانی پاسداران کی جانب سے شام کی لڑائی میں پاکستان سے اہل تشیع کو بھیجے جانے کی تفصیلات درج تھیں۔ امتیاز احمد صاحب نے اس تحریر کو بہت تلاش و تحقیق کے ذریعے مکمل کیا تھا۔ بتایا گیا تھا کہ اس سارے معاملے کو ایرانی پشت پناہی حاصل ہے اور جو افراد پاکستان سے گئے ہیں ان میں پاراچنار کے رہائشیو ں کی تعداد زیادہ ہے۔ اسی وقت یہ اندازہ تو ہو ہی گیا تھا کہ اس خبرکا ردعمل پاراچنار پر حملے کی صورت میں ظاہر ہو گا اور حالیہ دھماکہ اندیشہ درست کرگیا۔

 

پاکستان میں منظم دہشت گردی کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں ہے اور اس کی جڑیں سوویت افغان جنگ اور ایران میں شیعہ اسلامی انقلاب میں پیوست ہیں۔
پاکستان میں منظم دہشت گردی کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں ہے اور اس کی جڑیں سوویت افغان جنگ اور ایران میں شیعہ اسلامی انقلاب میں پیوست ہیں۔ فروری 1979 کا شیعہ اسلامی انقلاب خطے میں موجود دیگر بااثر سنی ریاستوں کے لیے تب شدید خطرے کی شکل اختیار کر گیا جب ایرانی حکومت نے نظریہ ولائت فقیہ کی پیروی کو تمام شیعہ مسلمانوں کے لیے لازم قرار دے دیا۔ ایک سیاسی نظریہ ضرورت کو جب مذہب و مسلک کا تحفظ میسر آیا اور اسے حکومتی آشیرباد ملی تو عوام کی کثیر تعداد اسے اذن الٰہی سمجھنے لگی۔ رفتہ رفتہ ایران کے بااثر مذہبی دانشور مرتضیٰ مطہری کی تحریریں اثر کرتی گئیں اور انقلاب کے لیے فکری بنیادیں طے کرنے والے ڈاکٹر علی شریعتی کی علمی فکر پس منظر میں چلی گئی۔ خوش قسمتی یا شومئی قسمت آٹھ سال تک جاری رہنے والی ایران عراق جنگ کے خاتمے پر ایرانی حکومت کی انقلابی شکل برقرار رہنے سے مشرقِ وسطیٰ کے عام شیعہ مسلمان پر بہت گہرا اثر ہوا اور ایران سے باہر رہنے والے شیعہ مسلمانوں نے اپنے شناختی تحفظ کے لیے ایران سے ایک خاص طرح کی روحانی وابستگی جوڑ لی۔ ایرانی حکومت نے بھی بانہیں پھیلا کر ان توقعات کا خیرمقدم کیا۔ سوویت افغان جنگ کے نتیجے میں پر پھیلائے ہوئے سعودی عرب کے لیے خطے میں بدلتی ہوئی یہ صورت حال کسی طرح قابل قبول نہیں تھی اور یوں خطے میں باقاعدہ سنی شیعہ سیاسی تنازع سر اٹھانے لگا جوپہلے صرف عربوں اور ایرانیوں کے روایتی نسلی اور مسلکی اختلاف تک محدود تھا۔

 

لواء زینبیوان نامی فیس بک صفحہ شامی لڑائی کے لیے شیعہ بھرتی کی غرض سے استعمال کیا جا رہا ہے
لواء زینبیوان نامی فیس بک صفحہ شامی لڑائی کے لیے شیعہ بھرتی کی غرض سے استعمال کیا جا رہا ہے
انیس سو نوے کی دہائی کے آغاز میں لبنان پر اسرائیلی قبضے کے خلاف حزب اللہ کی بڑھتی ہوئی کامیابیوں نے مشرق وسطیٰ کے مستقبل کی تصویر اس وقت واضح کرنی شروع کردی جب امریکی قیادت میں عالمی اتحاد نے کویت کو آزاد کروانے کے لیے ایران کے مضبوط مخالف صدام حسین کے پر کاٹ دیئے تھے۔ یہ منظر تو واضح ہو چلا تھا کہ جلد یا بدیر صدام کی رخصتی کے بعد ایران عراق اور شام کے رستے لبنان میں ایک مضبوط تزویزاتی گڑھ قائم کر لے گا اور اس طرح اسرائیل کو واضح طور پر دھمکانے سے وہ مشرقِ وسطیٰ کے مسلمانوں کا سپہ سالار بن بیٹھے گا۔ ایران کی مذہبی حکومت کے لیے یہ سارا راستہ سیدھا تھا اور اس سیدھے رستے میں رکاوٹیں ڈالنا ان تمام ممالک کے لیے لازم تھا جنہیں خطے میں بڑھتے ہوئے ایرانی اثرورسوخ سے براہ راست خطرات لاحق تھے۔ عراق پر امریکی قبضے کے بعد فلوجہ کی پہلی بغاوت، انصار السنہ کا قیام، عراق میں منظم فرقہ واریت کے پانچ سال، عراق میں امریکہ کا کیمپ بوکا، شام کی عوامی بغاوت میں القاعدہ کی شمولیت اور اب داعش ۔

 

ہمارے دونوں برادر اسلامی ممالک نے اپنے مفادات کے لیے ہمارے ملک کو میدان جنگ بنایا اور تاحال یہ سلسلہ جاری ہے۔
لواء زینبیوان نامی فیس بک صفحہ شامی لڑائی کے لیے شیعہ بھرتی کی غرض سے استعمال کیا جا رہا ہے بین الریاستی تعلقات کسی سماج میں قائم انفرادی یا اجتماعی تعلقات کی طرح تو ہوتے نہیں ہیں کہ اخلاقی پابندیوں کو ملحوظ رکھا جائے۔ محدود وسائل پر ریاستوں کے باہم دست وگریباں تعلق میں حق پر وہی ہے جو آخرش کار فاتح ہو۔ اس طرح مشرق وسطی کے مائی باپ بننے کی لڑائی نے پچھلے تیس سالوں میں پاکستان کے علاوہ بھی جس جس میدان کو رنگین کیا ہے اس کے دھبے پاکستان تک پہنچےہیں۔ حالیہ قصہ شام کا ہے۔ نوے کی دہائی کے اواخر جب موجودہ چہرے ہی حکمران تھے پاکستان میں فرقہ واریت عروج پر تھی ایک مخصوص فرقے کے نمایا ں افراد آئے روز قتل ہورہے تھے اور یہ واضح تھا کہ اس ٹارگٹ کلنگ کا ردعمل ہوگا اور اسی انداز میں ہوگا۔ اور وہ ہوا ہمارے دونوں برادر اسلامی ممالک نے اپنے مفادات کے لیے ہمارے ملک کو میدان جنگ بنایا اور تاحال یہ سلسلہ جاری ہے۔ پارا چنار میں نوے کی دہائی میں ہی جب فرقہ وارانہ قتل و غارت عروج پہ تھا تو ایرانی اور سعودی مہربانیوں کی بنا پر ہدف بنا کر قتل کرنے کی وارداتیں جنگ کی صورت اختیار کر گئیں۔ اور بظاہر امن کے زمانے میں بھی مسجد و منبر انہی علماء کے تسلط میں رہا جومذہبی عبادت گاہوں سے سیاسی مقاصد پورے کرنے کے لیے وہاں موجود تھے۔
ہمارے مغرب میں موجود برادر ہمسایہ اسلامی جمہوریہ سے فارغ التحصیل علمائے کرام نے اسی زمانے میں اسلامی جمہوریہ کے سیاسی مقاصد کو مقاصدِ امام کا نام دیتے ہوئے اپنے ہم مسلک نوجوانوں کو ہتھیار وں کا رستہ دکھایا اور جس کا جہاں داؤ چلا، کی کہانی شروع ہوئی۔ اب جو مظلومیت کے پیرو تھے وہ بھی ظالم بننے لگے اور جو ظالم کہلاتے تھے وہ بھی مظلوم ہوگئے۔

 

ریاض اور جدہ سے نوجوان بھرتی ہو کر شام لڑنے جارہے ہیں۔ یورپ، امریکہ اور آسٹریلیا سے بھی شام میں جہاد کا شوق بلانے والوں کو بلائے جاتا ہے وسط ایشیائی بھی پیچھے نہیں، لبنانی اور عراقی بھی وہاں ہیں۔ ایران ایک گروہ کا سرخیل ہےتو سعودی عرب دوسرے کا۔ پڑھتے دونوں کلمہ ہیں ذرا گہری نظر سے جھانکو تو علم ہوتا ہے کہ اگر ایک گھر دو لاکھ روپے پاکستانی تنخواہ دیتا ہے تو دوسرا ایک لاکھ بیس ہزار۔ اور یہ تو ہم جانتے ہی ہیں کہ بھوکے کا دین روٹی ہے۔

 

کہنے والے کہتے ہیں کہ پاکستان سے جہاد کے شوقین شیعہ مسلمانوں کا بھرتی دفتر ایران کے شہر قم میں کھلا ہوا ہے۔ جہاں 18 سے 35 سال تک کے سالم مردوں کی ضرورت ہے آنکھوں اور دیگر اعضاء کی صحت مندی کا جائزہ لیا جائے گا، ایک لاکھ بیس ہزار روپے بطور ‘ہدیہ’ ہر ماہ ملیں گے اگر ‘شہادت ‘ نصیب ہوئی تو ‘شہید’ کی بیوہ اور بچوں کو وظیفہ اور دیگر اخراجات دیئے جائیں گے۔ ۔
کہنے والے کہتے ہیں کہ پاکستان سے جہاد کے شوقین شیعہ مسلمانوں کا بھرتی دفتر ایران کے شہر قم میں کھلا ہوا ہے۔ جہاں 18 سے 35 سال تک کے سالم مردوں کی ضرورت ہے آنکھوں اور دیگر اعضاء کی صحت مندی کا جائزہ لیا جائے گا، ایک لاکھ بیس ہزار روپے بطور ‘ہدیہ’ ہر ماہ ملیں گے اگر ‘شہادت’ نصیب ہوئی تو ‘شہید’ کی بیوہ اور بچوں کو وظیفہ اور دیگر اخراجات دیئے جائیں گے۔ زیارات مقامات مقدسہ کروائی جائے گی اور دوسرا انعام آخرت ہے۔
بلانے کا نعرہ صدائے استغاثہ ہے جو امام عالی مقام کی بہن کا ہے یہاں کے لوگ ان کے بھائی علمدار کی نسبت سے ان کے مزار کی حفاظت کو جارہے ہیں۔ ایک ہزار پہنچے ہوئے ہیں کچھ مارے گئے کچھ لڑ رہے ہیں۔ اس سے قبل داعش کے ساتھ لڑنے کے شوقین بھی پاکستان سے بھرتی کیے جاتے رہے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان گزشتہ تین دہائیوں سے جہادیوں کے لیے زرخیر خطہ رہا ہے۔

 

اگر نیشنل ایکشن پلان والے یہ پڑھ رہے ہیں تو عرض ہے کہ فیس بک پہ ‘لواء زینبیون‘ کا صفحہ ہے جہاں سے یہ بھرتی جاری ہے قم میں کس کو ملنا ہے ؟ اس کا رابطہ نمبر اس صفحے پر درج ہے۔ چار دن پہلے کے اعلان پر کوئی بیس کے لگ بھگ افراد نے جانے کی حامی بھری ہے جانے والے ایک نوجوان کا فیس بک پروفائل دیکھا تو ایک سیلفی اپ لوڈ تھی اس تبصرے کے ہمراہ ‘جہاد مقدس پہ جانے سے پہلے، ممکن ہے یہ میری آخری سیلفی ہو’۔

 

قانون نافذ کرنے والے اگر ابھی یہ سلسلہ روک لیں تو بھلائی ہے ورنہ جو شام کے ان مزارات )ان مزارات کی تاریخی حیثیت سے قطع نظر( کی حفاظت کے لیے مرنے جارہے ہیں وہ اگر جنت البقیع کے مزارات کو سنبھالنے پہنچ گئے تو کیا ہوگا؟ نہ وہاں موجود مزارات کی صحت پہ کسی کو کوئی شک ہے اور نہ ہی برادر اسلامی ممالک کی ترجیحات پوشیدہ ہیں!!
Categories
نقطۂ نظر

سبیل سے بندوق تک

1986-87میں میری عمر سات برس تھی۔ ہمارے محلے میں سنی اکثریت میں تھے اور شاید دو چار شیعہ خاندان بھی آباد تھے یہ الگ بات ہے کہ اس وقت ہمیں یہ تقسیم معلوم ہی نہیں تھی کہ کون شیعہ ہے اور کون سنی اور یہ ہوتا کیا ہے۔ ہمارے ہاں محرم کے مہینے کا آغاز ختم قرآن، دعا اور منتیں مانگنے جیسی مذہبی رسوم کی ادائیگی سے شروع ہو تا تھا۔ ایک دفعہ میں نے اپنے والد سے سوال کیا کہ ہم یہ سب اہتمام کیوں کرتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ اہل بیت جو ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا گھرانہ ہے اس مہینے میں ہم ان کو نہ صرف یاد کرتے ہیں بلکہ ان لوگوں کی خدمت بھی کرتے ہیں جو ان کی یاد کا اہتمام کرتے ہیں۔

 

شاید محلے کے سب بچوں کی تربیت بھی اس طرح ہی ہوتی تھی یہی وجہ تھی کہ محرم کے آغاز سے ہی ہم محلے کے سارے بچے ایک سفید چادر لے کر سارے محلے میں ننگے پاوں پھرتے اور دس محرم کو اہل تشیع کے جلوس کے لیے سبیل لگانے اور میٹھے چاولوں کی دیگ بنانے کے لیے چندہ جمع کرتے۔ قریب قریب ہر محلے میں اسی طرح کا اہتمام نظر آتا۔ مگر اسی زمانے میں ایک برس ہمیں یہ کہہ کر محرم میں باہر نکلنے سے منع کر دیا گیا کہ ان دنوں میں باہر نکلنا خطرناک ہے۔ ادھر ادھر سے جو معلوم پڑا وہ یہ تھا کہ امام بارگاہ جسے ہم تب امام باڑہ کہتے تھے کہ قریب ایک نئی مسجد بنی ہے۔ اور اس مسجد والوں نے کہا ہے کہ اگر اہل تشیع جلوس نکالیں گے تو ہم ان نہیں چھوڑیں گے۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے اپنے ابو سے یہ سوال کیا کہ ان کے جلوس کے لیے تو ہم سبیلیں لگاتے تھے مگر اب یہ بندوقیں کس نے لگا دیں؟ مگر ان کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔ اور پھر آہستہ آہستہ سبیلوں کا سلسہ ختم ہوتا گیا اور بندوقوں کا سلسلہ شرو ع ہو گیا۔۔۔۔۔۔ ہم بڑے ہو گئے اور ہمیں پتا چل گیا کہ تقسیم کیا ہوتی ہے۔

 

ہم محلے کے سارے بچے ایک سفید چادر لے کر سارے محلے میں ننگے پاوں پھرتے اوردس محرم کو اہل تشیع کے جلوس کے لیے سبیل لگانے اور میٹھے چاولوں کی دیگ بنانے کے لیے چندہ جمع کرتے۔ قریب قریب ہر محلے میں اسی طرح کا اہتمام نظر آتا۔ مگر اسی زمانے میں ایک برس ہمیں یہ کہہ کر محرم میں باہر نکلنے سے منع کر دیا گیا کہ ان دنوں میں باہر نکلنا خطرناک ہے۔
مگر آج میں سوچتا ہوں کہ تقسیم کی اس آگہی نے ہمیں کتنا فائدہ دیا؟ کبھی کبھی کوئی آگہی کتنا کرب دیتی ہے۔۔۔۔۔۔۔

 

تقسیم کرنے والوں نے ملانے والوں کا بٹوارہ کر دیا۔ ہم نے صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین اور اطہارِ اہل بیت کو تقسیم کر دیا۔ یہ میرا ہے اور وہ تمہارا۔ محبتیں نفرتوں میں بدل گئیں۔
بر صغیر میں تعزیے کی قریب چھ سو سال پرانی سنی اور شیعہ میراث کو کس کی نظر لگ گئی۔۔۔۔۔۔ وہ تعزیہ جس کو نہ صرف مسلمانوں بلکہ ہندو راجاؤں نے بھی فروغ دیا اس کو تشدد کی ایسی ہوا لگی کہ تعز یے کی جگہ جنازے اٹھنے لگے۔

 

مولوی نور احمد چشتی نے اپنی تصنیف یادگار چشتی میں لاہور کے تعزیوں کے بارے میں لکھا ہے ’سُنی کیا شیعہ کیا سب ہی مجلسِ امام برپا کرتے ہیں۔ سب سے پہلے دوست، غر یب غر باء کو کھا نا کھلا تے اور پھر رات بھر مرثیہ خوانی ہوتی اور فجر کو (مجلس) بر خاست ہو تی تھی اور ۔۔تعزیہ۔۔ شیعہ سنی سب بنا تے ہیں پھر دوسرے دن تعزیو ں کی گشت کرتے ہیں۔

 

لاہور میں دھرم پورہ ہندوؤں اور سکھوں کا مذہبی مرکز تھا۔ یہاں بھی ہندو اور سکھ تعزیے بنا کر برآمد کرتے تھے۔ بعد میں ہندووں کی بجائے سنی المسلک عقیدت مند اسی جگہ نو محرم کی رات کو تعزیے سجاتے جو عاشورہ تک جاری رہتے۔ ساری رات حلیم کی دیگیں تیار کی جاتیں۔ جو دس محرم کی صبح کو بانٹی جاتیں۔ روہڑی سندھ میں بھی تعزیوں اور جلوسوں کی روایت صدیوں پرانی ہے اور وہاں آج بھی سنی اور شیعہ مسلمانوں کے ساتھ ہندو بھی امام حسین کی یاد مناتے ہیں۔

 

اگرچہ برصغیر میں شیعہ سنی فرقہ وارانہ تفریق تقسیم سے پہلے اور بعد میں بھی موجود تھی لیکن اس مخاصمت کی نوعیت اس قدر شدید نہیں تھی جو آج ہے۔ ساٹھ کے عشرے میں چلائی گئی “جاگ سنی جاگ پاکستان تیرا ہے ” جیسی تحریکوں نے فرقہ واریت کو ہوا دی اور پھر انقلاب ایران کے بعد اسی کے عشرے میں پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء نے سنی شیعہ اختلاف کو فرقہ وارانہ رنگ دینے میں جارحانہ کردار ادا کیا۔ 1979 میں جنرل ضیاء الحق کے نافذ کیے گئے زکوٰۃ و عشر آرڈیننس نے سنی شیعہ اختلافات کو مزید ہوا دی جس میں سنی اورشیعہ فقِہی اختلاف کو مدنظر نہیں رکھا گیا تھا۔ یہی آرڈیننس تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی تخلیق کا سبب بنا اور 5 جولائی 1980 کو اسلام آباد میں شیعہ کنونشن منعقد کیا گیا۔ جنرل ضیاء الحق کے ان اقدامات نے ملک کے اندر نہ صرف ایران اور سعودی عرب کے اثر و رسو خ کو پنپنے کا موقع دیا بلکہ فرقے کی بنیاد پر قتل و غارت کی بنیاد بھی رکھی۔ فرقہ وارانہ تنظیموں کی مالی امداد اورتربیت کے ذریعے اختلافات کو تشدد کا راستہ پکڑنے میں سہولت مہیا کی گئی۔ “سواد اعظم اہل سنت”، “انجمن سپاہ صحابہ” اور مولانہ حق نواز جھنگوی کی متشدد اور شدت پسند تکفیری فکر کو اسی دور میں تقویت ملی۔ سپاہ محمد جیسی تنظیمیں بھی اسی متشدد فکر کے ردعمل کے طور پر سامنے آئیں۔ تحریک جعفریہ کے علامہ عارف الحسینی اور مولانا حق نواز جھنگوی کے قتل نے تشدد کی لہر کو ایسی ہوا دی جس کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔

 

1980سے لے کر آج تک ہزاروں افراد اس تشدد کی نظر ہوئے لیکن 2010 کے بعد اہل تشیع کے خلاف تشدد میں اضافہ ہوا، پورے ملک میں امام بارگاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔ کراچی، بلوچستان، اندرون سندھ، پنجاب، کوہستان اور گلگت میں لوگوں کو بسوں سے اتار کر بے دردی سےقتل کیا گیا، امام بارگاہوں پر حملے کیے گئے اور ممتاز شیعہ شخصیات کو ہدف بنا کر قتل کیا گیا۔ کرم ایجنسی اور گلگت کی طرف سفر کرنا دشوار ہو گیا، زائرین کے لیے مقامات مقدسہ تک کا زمینی سفر غیر محفوظ ہو گیا اور لوگ افغانستان کے راستے کرم ایجنسی میں اپنے گھروں کو جانے پر مجبور کر دیئے گئے۔

 

لاہور میں دھرم پورہ ہندوؤں اور سکھوں کا مذہبی مرکز تھا۔ یہاں بھی ہندو اور سکھ تعزیے بنا کر برآمد کرتے تھے۔ بعد میں ہندووں کی بجائے سنی المسلک عقیدت مند اسی جگہ نو محرم کی رات کو تعزیے سجاتے جو عاشورہ تک جاری رہتے۔ ساری رات حلیم کی دیگیں تیار کی جاتیں۔ جو دس محرم کی صبح کو بانٹی جاتیں۔
اس سارے منظرنامے نے عام لوگوں میں نفرتوں کی خلیج کو بڑھاوا دیا۔ مذہب اور فرقے کے نام پر لوگوں کے جذبات سے کھیلا گیا۔ ‘شیعہ کافر شیعہ کافر’ کے نعرے دیواروں پر نظر آنے لگے۔ مساجد کے ایسے نام رکھے جانے گئے جن سے فرقہ وارانہ وابستگی صاف ظاہر ہونے لگی۔ جنرل ضیاء کے دور میں فرقہ وارانہ مواد پر پابندی کی بجائے ایک فرقے کی سرکاری سرپرستی کی گئی۔ مذہبی جماعتیں اتنی مضبوط ہو گئیں کہ ملک کی سیاسی جماعتیں بھی انتخابات میں کامیابی کے لیے ان کی مدد کی محتاج ہو گئی ہیں۔ آج بھی بہت سے سیاست دان اور جماعتیں کھلے عام ان کی پشت پناہی کر رہی ہیں۔

 

اندرون سندھ اور جنوبی پنجاب میں جہاں ایک زمانے تک محرم کے دوران سنی اور شیعہ اپنے اپنے طریقے سے جلوس نکالتے اور امام حسین علیہ السلام کی شہادت کو یاد کرتے تھے اب وہاں تکفیری مدارس کی بہتات ہے۔ قرآن و حدیث کی وہ آیات اور احادیث جن میں محبت، برداشت اورصبر کی تلقین کی گئی تھی انہیں پس پشت ڈال کر ایسی تشریح کو فروغ دیا گیا جس سے مذہبی اختلاف کو مزید ہوا ملے ۔

 

جو ہمیں پڑھایا گیا وہ اس طرح تھا:
رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے متعلق فرمایا:
’’میرے صحابہ ہدایت کے ستاروں کی مانند ہیں ان میں سے جس کسی کی پیروی اور اقتداء کرلو گے تم سیدھی راہ پالو گے‘‘۔
(عبد بن حميد، المسند، ج1، ص250، رقم الحديث783)

 

اہل بیت کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم، صحابہ میں شامل ہیں لیکن ان کے متعلق یوں ارشاد ہوا کہ
اور اہل بیت کے بارے میں قرآن پاک میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ۔
’’بس اللہ یہی چاہتا ہے کہ اے (رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے) اہلِ بیت! تم سے ہر قسم کے گناہ کا مَیل (اور شک و نقص کی گرد تک) دُور کر دے اور تمہیں (کامل) طہارت سے نواز کر بالکل پاک صاف کر دے‘‘۔
لیکن فرقہ وارانہ تقسیم نے نہ صرف شخصیات کو تقسیم کیا بلکہ آیات کو بھی تقسیم کیا۔ ایک مشترکہ میراث کے حاملین کے مابین روایات، اسناد اور مقدسات کی تقسیم سے زیادہ اذیت ناک کیا ہو سکتا ہے۔ بد قسمتی صحابہ کرام رضی اللہ عنہما کی عزت و عظمت سے متعلق آیات و احادیث سنیوں کی میراث اور اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہما سے محبت سے متعلق ارشادات اہل تشیع کی وراثت قرار دے دیئے گئے ہیں جو ہرگز مستحسن امر نہیں۔

 

اللہ تعالی اور آقائے کائنات نے جو تعلیم دی تھی اس کو ہم نے پس پشت ڈال دیا ۔
اللہ رب العزت نے امت محمدی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرمایا:
’’ہم نے تمہیں (اعتدال والی) بہتر امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو‘‘۔
(البقرة، 2: 143)

 

ہم نے اختلاف کے نام پر گالم گلوچ اور فساد کا بازار گرم کر دیا۔ خون کی ندیاں بہا دیں۔ جو امن سکھانے اور پھیلانے آئے تھے انہوں نے تفرقہ کی بنیا د پر عرب دنیا سمیت برصغیر میں جنگ کا میدان گرم کر رکھا ہے۔
جبکہ دوسری طرف صحابیت کے تاجدار صدیق اکبر رضی اللہ، ولایت کے تاجدار مولا علی رضی اللہ سے یہ فرماتے ہیں:
’’میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ گلی میں جارہے ہیں اور سیدنا امام حسن علیہ السلام کو اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا ہے اور کہہ رہےہیں کہ مجھے اپنے باپ کی قسم! حسن، مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شبیہ ہے، علی تمہاری شبیہ نہیں ہے۔ حضرت علی یہ سن کر ہنس دیئے‘‘۔
(صحیح بخاری، ج3، ص1370، الرقم:3540/3349)
Categories
گفتگو

اُردو صحافت اور نئے نظریات

wajahat
[blockquote style=”3″]

وجاہت مسعود بیکن ہاوس یونیورسٹی میں میڈیا کے پروفیسر ہیں۔انہوں نے انگریزی ادب میں ایم اے اور بین الاقوامی قانون میں ایل ایل ایم کیا ہے۔ بی بی سی اردو میں لکھنے کے علاوہ مختلف اخبارات میں ادارتی کام کر چکے ہیں۔

[/blockquote]

لالٹین : اپنے خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں؟
وجاہت: میرے سات بہن بھائی تھے، سب ماں باپ کے ساتھ ہی رہتے تھے لیکن میں دادا کے پاس رہتا تھا ۔ وہ پوسٹل اینڈ ٹیلی گرافک سروس میں ملازم تھے۔ میرا تعلق غریب طبقے سے تھا اور مجھے بچوں کے عمومی اشغال میسر نہیں تھے۔ گھر میں موجود علمی دولت کل ملا کر بانگِ درا، شاہنامہِ اسلام اور بہشتی زیور پر مشتمل تھی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں بانگ درا کو کمزور کتاب کہہ رہا ہوں لیکن یہ ایسے ہی تھا جیسے کسی نے گھر میں ہرن کا مجسمہ رکھا ہو، بغیر اس کی فنی اہمیت جانے۔ گویا ارد گرد کچھ ایسی مضبوط علمی روایت موجود نہیں تھی۔
لالٹین : بچپن اور لڑکپن میں کون سے تجربات نے شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کیا ؟
وجاہت: میرے داد ایک مہذب آدمی تھے۔ ریٹائرڈ ہونے کے بعد جب اُن کی نظر بہت کمزور ہوگئی تو میں اُن کو ’اِمرو ز ‘ اَخبار پڑھ کر سُنایا کرتا تھا۔ اِمروز معیاری زبان و بیان اور عمدہ صحافتی معیار کا حامل اخبار تھا، یہ بھٹو صاحب کا اِبتدا ئی زمانہ تھا۔ پریس ٹرسٹ کا اخبار ہونے کے ناتے امروز کا رجحان ترقی پسندی کی طرف تھا۔ کچھ اثر وہاں سے آیا۔
میری دادی کا ایک بیٹا1947 ءکے فسادات میں مارا گیا تھا اوروہ کبھی کمرے کے اندر نہ سوتی تھیں۔ اُنہیں لگتا تھا کہ انکا بیٹا مرا نہیں اور کسی رات واپس آکر دروازہ کھٹکھٹائے گا۔ اگر وہ کمرے میں سو رہی ہوں گی تو انہیں آواز نہیں آئے گی Partition riots were a deplorable human experience and a man-made disaster تقسیم کے فسادات کا اِلزام میں کسی ایک مذہبی فرقے پہ نہیں دھرتا۔ جو دُکھ میں نے دادی سے محسوس کیا ،وہ یقینا ہندو اور سکھ ماﺅں نے بھی جھیلا ہو گا۔
میری شخصی تربیت میری پھوپھی نے کی جو ایک نہا یت مہذب اور درد مند خاتون ہیں۔ انہوں نے 42برس تک سکول میں تدریس کے فرائض انجام دیے۔ وہ خود بے حد مذہبی خاتون ہیں لیکن مجھے انہوں نے اخلاقیات کی تعلیم دی۔ میں نے ان کی تربیت کے زیر اثر سب انسانوں سے محبت کرنے کو نیکی سمجھا۔
لالٹین : اَدب اور شاعری کی طرف کیسے مائل ہوئے اور پنجابی شاعری کا تجربہ کیسا رہا ؟
وجاہت: ادب میرے لیے وہ خط ہے جومحاذِ جنگ سے ہم اپنی ماں کو لکھتے ہیں۔ زندگی ایک جنگ ہے اور جس طرح کی زندگی ہم گزارتے ہیں، اسی کا احوال اِس مکتوب میں آئے گا۔ کسی ادبی تخلیق کے معیار کے بارے میں تنقیدی شعور اپنی جگہ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ تخلیقی فعل بذات خود ایک قابل احترام تمدنی اور تہذیبی عمل ہے۔
پنجابی شاعری میں نے شعو ری طور پر اختیار نہیں کی۔ کئی برس پہلے اُداسی کے عالم میں مَیں نے کچھ لکھنا شروع کر دیا۔ لکھنے کے بعد میں نے دیکھا تو وہ کوئی شاعری نما چیز تھی۔ شاعری کے لیے پنجابی کا انتخاب کوئی سیاسی بیان نہیں بلکہ میرے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ اُردو اَصوات میری نہیں ہیں، مجھے معلوم نہیں ہے کہ اردو میں کون سا حرف ساکن ہے اور کون سا متحرک۔ میں نثر اردو اور انگریزی میں لکھتا ہوں لیکن شاعری کے لیے پنجابی کو چنا اور اب تو قریب دس برس سے پنجابی شاعری کا دروازہ بھی بند ہے۔ شاید مجھے اتنا ہی کہنا تھا۔
لالٹین : صحافت بطور پیشہ پہلے سے طے شدہ تھا یا حالات اس طرف لے آئے؟
وجاہت: بنیادی فیصلہ تومیں نے معاشرے میں اپنا حصہ ڈالنے کا کیا تھا۔ دیکھیے معاشرے میں تبدیلی تو آناہے۔ آپ کوشش کریں تو بھی معاشرہ بدلے گا، نہ کریں تو بھی بدلے گا۔ لیکن جب آپ کوشش کرتے ہیں تو آنے والی تبدیلی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ معاشرے میں ہونے والی تبدیلیوں پر اثر انداز ہونے کا موثر ترین ذریعہ سیاست ہے۔ مہذب معاشرہ سیاست اور سیاسی کارکن کو قابل احترام سمجھتا ہے۔ غیر جمہوری معاشرے میں سیاست کواحترام اس لیے نہیں دیا جاتاتاکہ ایک خاص گروہ کی اجارہ داری برقرار رہے۔
میری رائے کے مطابق سیاست ذہانت کی اعلیٰ ترین سطح مانگتی ہے اورمیں اپنے بارے میں اس غلط فہمی میں نہیں ہو ں کہ میں اس کی اہلیت رکھتا ہوں۔ دوسری بات یہ کہ ایک نوجوان جو سرے سے وراثت کا قائل ہی نہیں، وہ اپنے والد کی جائیداد تو ایک طرف، والد کے گھر ہی سے چلا جاتا ہے، اُس کے پاس اپنا کوئی ٹھکانہ نہیں، کوئی سماجی و سیاسی پس منظر نہیں ہے، جو مالی وسائل نہیں رکھتا، وہ انتخابی سیاست میں نہیں جا سکتا۔ یہ طے ہونے کے بعد فطری طور پر دوسرا انتخاب صحافت تھی۔
لالٹین : مالی وسائل اور سیاسی پس منظرکے بغیر ایک عام شخص سیاست میں نہیں آسکتا تو کیا اسے سسٹم کی خرابی کہیں گے؟

شہریوں کی قانونی اور آئینی مساوات کی اساس ہی سیکولرازم کہلاتی ہے۔ سیکولرازم مذہب سے بیزاری نہیں، تمام شہریوں کی مذہبی آزادی کے یکساں احترام کا نام ہے۔ بدقسمتی سے بہت نقصان ہو گیا ہے۔ اِن ساٹھ برسوں میں ہم نے زبان، ثقافت اور، عقائد کی بنیاد پر بہت خون بہایا ہے۔
وجاہت: نہیں یہ کلی طور پر درست نہیں ہو گا۔ اس میں مجھے بہت سے سچ بولنا پڑیں گے۔ بہت سی ایسی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے مالی وسائل اورسماجی پس منظر نہ ہوتے ہوئے بھی سیاست کی۔ اُس کے لیے جس آزمائش سے گزرنا پڑتا ہے، وہ بہت مشکل ہے۔ باچا خاں صاحب، اجمل خٹک، سوبھو گیا ن چندانی اور میجر اسحاق جیسے کتنے قابل احترام سیاسی کردار ہیں جو بہت سادہ پس منظر کے ساتھ سیاست میں آئے لیکن آپ دیکھیں پھر وہ کس کٹھنائی سے گزرے اور کتنا بڑا مقام حاصل کیا۔ یہ صرف نظام کی کمزوری نہیں، میں اپنی کوتاہی بھی تسلیم کرتا ہوں۔
لالٹین : آپ نے ماسٹرز تو انگریزی ادب میں کیا لیکن صحافت میں آپ نے اردو کا انتخاب کیوں کیا؟
وجاہت: آغاز تو میں نے انگریزی ہی سے کیا تھا، مختلف انگریزی اخبارات میں کام کرتا رہا۔ انگریزی میں بہت نفیس صحافت ممکن ہے اور معاشی طور پہ بھی نفع بخش ہے لیکن اردو میں لکھنے کا جو فیصلہ میں نے کیا اس پر مجھے خوشی ہے۔ میں اس ترغیب میں نہیں آیا کہ انگریزی صحافی کو ہمارے ہاں ذرا اشرافیہ میں شمار کیا جاتا ہے۔ بات تو لوگوں تک پہنچنے کی ہے، کام تو بات کو سمجھنے اور سمجھانے کا ہے۔ اس ملک میں گریجویٹ آبادی 2سے 3 فیصد سے زائد نہیں ہے اور اُن میں سے بھی کتنے لوگ انگریزی پڑھتے ہیں۔ ہمارے ملک کے سارے انگریزی اخبارات کی سرکولیشن ملا کر بھی ایک اردو اخبار کی سرکولیشن کے برابر نہیں ہے۔ یہ درست ہے کہ انگریزی میں بات کہنے کی بہت سی ایسی سہولتیں میسر ہیں جو اُردو میں دستیاب نہیں۔ لیکن اگر ہم نے عوام سے بات کرنا ہے تو ہمیں اُردو اِستعمال کرنا ہو گی۔
لالٹین : اردو اور انگریزی میڈیا میں زبان کے علاوہ کیا بنیادی فرق دیکھتے ہیں؟
وجاہت: حقیقت تو یہ ہے کہ بطورِسماجی اِدارہ ہماری صحافت نے عوام دشمن کردار ادا کیا ہے۔ اُردو صحافت یا مقامی زبانوں میں ہونے والی صحافت نے اس رجحان میں زیادہ کردار ادا کیا ہے۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ جو تحکمانہ (Authoritarian) معاشرے ہوتے ہیں وہاں پر نظریاتی مفروضات کھڑے کئے جاتے ہیں۔ میں انہیں مفروضات ہی کہتا ہوں خواہ وہ دائیں بازوکے ہوں یا بائیں بازو کے، مذہب کے نام پہ ہوں یا طبقے کے نام پہ، قومی سلامتی کے نام پہ ہوں یا شناخت کے نام پہ۔
انگریزی صحافت کا مخاطب ایک مختلف طبقہ ہے۔ وہاں عقل اور حقیقت پسندی کی بات زیادہ کی جاتی رہی ہے۔ تھوڑی جگہ بھی زیادہ تھی کیونکہ اظہار کو دبانے والے انگریزی صحافت کو اس لئے نہیں دباتے تھے کہ انگریز ی پڑھتا کون ہے۔ اس کو چلنے دو تاکہ باہر کی دنیا کو بھی دکھایا جاسکے کہ ہمارے ملک میں دیکھیں کیسی کیسی باتیں لکھی جا رہی ہیں۔ اِس کے برعکس اُردو صحافت میں سماجی شعور کی سطح وہ نہیں ہے۔ میراتو یہ کہنا ہے کہ جو بنیادی فرق ہے وہ زبان کا نہیں ہے وہ صحافت کی حتمی اجتماعی سمت (Ultimate Collective Vector)کا ہے۔ ہماری صحافت کا جو اجتماعی رخ متعین ہوا ہے وہ عوام دشمنی کا ہے، وہ تاریخ کو مسخ کرنے اور سیاسی شعور کو تباہ کرنے کا ہے۔ البتہ ہماری صحافت میں بھی نہایت قابل فخرمستثنیات موجود رہی ہیں ۔ میں آپ کو چند نام جنہوں نے میرے مطابق بڑا کام کیا ہے بتائے دیتا ہوں۔ اس میں اردو یا انگریزی کی تمیز نہیں اور تقدیم وتاخیر کا خیال بھی نہیں۔ چراغ حسن حسرت، ضمیر نیازی، احمد علی خان، نثار عثمانی، مظہر علی خان، رضیہ بھٹی، عزیز صدیقی، خالد حسن، خالد احمد، حسین نقی، آئی اے رحمان اور منو بھائی۔ ان بزرگوں نے اور ان جیسے اور بہت سے صحافیوں نے جن حالات میں اور جس اعلیٰ معیار کا کام کیا، پاکستانی قوم کوان کا شکر گزار ہونا پڑے گا۔
لالٹین : ہماری صحافت کے عوام دشمن کردار اور اُردو اورانگریزی کی اِس مصنوعی تقسیم میں کون کون سے سماجی اور تاریخی عوامل کارفرما ہیں ؟
پاکستان کو صحافت کے لیے دنیا کے چند خطرناک ترین ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔ ٹیلی ویژن کی سکرین کومچھلی بازار بنانا صحافت کی آزادی کا معیار نہیں۔ صحافت کی آزادی کا معیار یہ ہے کہ آپ اپنے علم اور ضمیر کی روشنی میں جس بات کو درست سمجھیں، اسے بلا خوف و خطر بیان کر سکیں۔
وجاہت: بنیادی بات تو سماجی، سیاسی اور معاشی تحکم پسندی (Authoritarianism) کی ہے۔ انسانوں کی اکثریت طاقت کا ساتھ دیتی ہے کیونکہ بہاو کے خلاف تیرنا مشکل ہوتا ہے۔ مزیدبرآں آپ کو یاد ہو گا کہ ہمارے کوئی 110کے قریب دانشور صحافی ایسے تھے جنہیں ضیا الحق نے مکمل بین کر دیا تھا کہ وہ ریڈیو پر نہیں آ سکتے، اخبار میں نہیں لکھ سکتے، ٹی وی پہ نہیں آسکتے، اِ ن کو کسی سرکاری اجتماع میں نہیں بلایا جا سکتا۔ اس خلا کو جن لوگوں سے پُر کیا گیا آج وہ ہمارے مرکزی دھارے کی صحافت کے بڑے طاقتور لوگ ہیں۔ ہمیں ان کی Origin بھی معلوم ہے اور معاف کیجئے ان کی اخلاقی قامت بھی کچھ ایسا ریاستی راز نہیں۔
ہمارے ملک کی اٹھارہ کروڑ آبادی میںبارہ سے چودہ کروڑ وہ ہیں جو 1978ءمیں پیدا ہی نہیں ہوئے تھے۔ 1978ءو ہ تاریک برس ہے جب ضیا الحق نے جماعتِ اسلامی کے تعاون سے ہمارے ملک میں تعلیم اور ذرائع ابلاغ کا وہ بیانیہ مرتب کیا تھا جو آج تک رائج ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے ملک میں بارہ سے چودہ کروڑ لوگوں نے ٹی وی، ریڈیو، اخبارات، کتاب، نصاب، کمرہ جماعت، سیاسی جلسہ گاہ گویا ہر سمت سے ایک ہی بات سنی ہے۔ جب ہم ان سے کہتے ہیں کہ پاکستان ایک وفاقی، آئینی اور سیاسی بندوبست کا نام ہے۔ پاکستانی ریاست کا مذہب اسلام سے، جو چودہ سو برس پرانا ہے، جسے پاکستان سے باہر رہنے والے کروڑوں لوگ بھی مانتے ہیں، عقیدے پر مبنی کوئی تعلق نہیں، سوائے اس کے کہ پاکستان میں ایک خاص مذہب کے ماننے والوں کی ایک خاص تعداد پائی جاتی ہے، تو لوگ آپ کا منہ دیکھنے لگتے ہیں، ان کو اِس بات کی سمجھ ہی نہیں آتی۔
تاہم یہ رائے میں تسلیم نہیں کرتا کہ اردو پس ماندہ ذہنیت کی حامل ہے، بالکل ایسی بات نہیں ہے۔ کوئی زبان بھی ایسی نہیں ہوتی، ہر زبان میں محبت اور نفرت کی لغت موجود ہوتی ہے۔ احمد مشتاق کا ایک شعر عرض کرتا ہوں۔
زبانوں پر الجھتے دوستوں کو کون سمجھائے
محبت کی زبان ممتا ز ہے ساری زبانوں سے
ہمارے ہاں تو جتنی بھی روشن خیالی ہے وہ آئی ہی اردو لکھنے والوں کے طفیل سے ہے، تو ہماری اجتماعی ذہنی پس ماندگی کا کسی خاص زبان سے کوئی تعلق نہیں۔
لالٹین : آپ کے خیال میں وہ کون سے جدیدنظریات ہیں جو نہ صرف سماجی طورپر ذمہ دار صحافت بلکہ ذمہ دار سماجی اورسیاسی رویوں کے ضامن ہیں ؟
وجاہت: دیکھیں اس خطے کے رہنے والے لوگوںکا سیاسی و سماجی ارتقا باقی دنیا سے کٹا ہوا تو نہیں ہے، آج ہم جس دنیا میں رہتے ہیں وہ دنیا نشاة ثانیہ (Renaissance) اور روشن خیالی (Enlightenment)کی پیداوار ہے۔ نشاة ثانیہ کے بعد کی دنیا کا علمی منہاج ہی مختلف ہے۔ علم، پیداوار، حاکمیت اور اقدار کے سانچے اب ا سی نئے علمی منہاج سے پھوٹیں گے۔
جہاں تک ہمارے ملک کا تعلق ہے، سوال یہ نہیں ہے کہ پاکستان کیوں بنایا گیا یا کیسے بنا؟ سوال یہ ہے کہ پاکستان کو چلانا کیسے ہے۔ تو اِس میں میرا یہ کہنا ہے کہ ہمیں سائنسی فکر کو آگے بڑھانا چاہئے۔ ہمیں علم اور پیداوار کو بنیادی اجتماعی اقدار کے طور پر اپنانا چاہئے۔ ہمیں رواداری اور رائے کے اختلاف کو احترام دینا چاہئے۔ اور ایسا کرنا تمام شہریوں کی آئینی اور قانونی مساوات کے بغیرممکن نہیں۔ شہریوں کی قانونی اور آئینی مساوات کی اساس ہی سیکولرازم کہلاتی ہے۔ سیکولرازم مذہب سے بیزاری نہیں، تمام شہریوں کی مذہبی آزادی کے یکساں احترام کا نام ہے۔ بدقسمتی سے بہت نقصان ہو گیا ہے۔ اِن ساٹھ برسوں میں ہم نے زبان، ثقافت اور، عقائد کی بنیاد پر بہت خون بہایا ہے۔
لالٹین : کیا بنیاد پرستی اور طالبانائزیشن کی تحریک ایسا اختلاف رائے ہے جسے برداشت کیا جا سکے؟
وجاہت: ہر گز نہیں۔ ہم جن اختلافات کو برداشت کرنے کی بات کرتے ہیں وہ ایک آئینی، سیاسی اور تمدنی دائرے میں پرامن طور پر سماجی نقطہ نظر کا اختلاف ہے۔ عقائد، زبان، ثقافت، رہن سہن، سیاسی خیالات اور علمی آرا کا اختلاف ہوتے ہوئے پرامن بقائے باہمی کی بات ہے۔ طاقت اور تشدد کے بل پر معاشرے پر اپنا فہم مذہب اور اپنا ترجیحی سیاسی یا سماجی نمونہ مسلط کرنے کے حامی بنیادی طور پر ایک فسطائی نصب العین رکھتے ہیں۔ انسانی حقوق کا عالمی منشور وہ دستاویز ہے جو دنیا بھر کے انسانوں کاباہمی عمرانی معاہدہ ہے، تمام مذاہب کے ماننے والوں، تمام نسلوں اور تمام خطوں کے لوگوں نے اُس پر اتفاق کیا ہے، رواداری اس کا حصہ ہے۔ طالبان سرے سے انسانی حقوق کے بیانیے کو تسلیم ہی نہیں کرتے۔ وہ قومی ریاست کی حدود کو نہیں مانتے۔ ہماری آئین اور آئینی اداروں کو نہیں مانتے۔ وہ اپنی رائے کو قوت کے ذریعے مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ فسطائیت کے ساتھ سمجھو تہ کرنا رواداری کے ذیل میں نہیں آتا، وہ

ظالم کے ہاتھ پر بیعت میں شمار ہوتا ہے۔

تو میرے دست بریدہ کا کنایہ تو سمجھ
یعنی تجھ کو میری بیعت نہیں ملنے والی
لالٹین : انسانی حقوق کے میدان میں آپ کا وسیع کام ہے۔ پاکستان میں اِنسانی حقوق سے متعلق منفی رویے کی حرکیات پر روشنی ڈالیں۔
وجاہت: بات یہ ہے کہ دنیا کی بہت سی دوسری ریاستوں کی طرح پاکستانی ریاست بھی اِنسانی حقوق کو کچھ زیادہ خوشگوار نہیں پاتی کیونکہ اس سے جو ریاستی ذمہ داریاں جنم لیتی ہےں، وہ اِسے قبول نہیں۔ انہیں تسلیم کرنے کے لیے ہمیں بنیادی ریاستی پالیسیاں تبدیل کرنا پڑیں گی۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ پچھلے ساٹھ، باسٹھ برس میں انسانیت نے جو ترقی کی ہے اس میں بظاہر نادیدہ لیکن نہایت وقیع حصہ انسانی حقوق کے فریم ورک کی طرف بڑھنا ہے۔انسانی حقوق کے معیارات انسانوں کی ہزاروں برس پر محیط جدوجہد کا قیمتی ترین ثمر ہیں اور انسانیت انہیں چھوڑے گی نہیں۔
ہمیں اچھا لگتا ہے کہ طاقتور حلقوں کی سرپرستی حاصل رہے اور استہزائیہ ڈھنگ میں سوال کیا جائے کہ ہیومن رائٹس کیا ہوتے ہیں۔ چنانچہ جہاں انسانی حقوق کا بیانیہ آگے بڑھا ہے، تو اسکی مخالفت کے لیے بھی دلائل اور ہتھکنڈے گھڑے گئے ہیں۔ لیکن میرا ایقان ہے کہ تاریخ کا بہاﺅ انسانی حقوق کے بہتر احترام اور زیادہ آزادیوں کی طرف ہے۔
لالٹین : صحافتی زبان کیسی ہونی چاہیے۔ اپنی تحریروں کی روشنی میں بتائیں؟
وجاہت: صحافت کی زبان خالص اَدبی نہیں ہوتی لیکن میں کہتا ہوں کہ وہ تھڑے کی زبان بھی تو نہیں۔ کیونکہ اب تو یہ تقاضاشروع ہو گیا ہے کہ آپ زبان کو اتنا آسان کریں کہ وہ تھڑے والے کو بھی سمجھ آجائے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کیا تھڑے والے کے ذہنی شعور کی سطح نصب العین یا معیار ہے یا ہمیں تھڑے والے کو تربیت کرتے ہوئے آگے لے کر چلنا ہے۔ دوسری بات یہ کہ غلط زبان معیار کیسے ہو سکتی ہے۔ میری رائی میں جو بنیادی نکتہ ہمیں سمجھنا چاہےی وہ یہ ہے کہ سماجی اور سیاسی شعور کا ایک بہت اہم حصہ انسانی زندگی کی پیچیدگی کو تسلیم کرنا ہے، جب ہم اس پیچیدگی سے جان چھڑاتے ہوئے اسے سادہ بیانیے کے روپ میں سادہ لوحی کی طرف لے کر جاتے ہیں تو ہم پڑھنے والوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ پیچیدہ مسائل کو سادہ بنا کر پیش کرنے سے کوتاہ نظری اور عقیدہ پرستی جنم لیتی ہے۔
عوام کو نعرہ بہت آسانی سے سمجھ آجاتا ہے، لیکن معاف کیجیے گا نعرہ اکثر و بےشتر گمراہ کن ہوتا ہے۔ میں نے اپنے لیے شعوری طور پریہ زبان چنی ہے۔ میں کوشش کرتا ہوں کہ زبان کو آسان تر کروں لیکن میں خیال کو سادہ کیسے کروں؟ میں خیال کو بھی سادہ کرنے کی کوشش کرتا لیکن میری رائے میں خیال کی حقیقت پسندی اعلیٰ سماجی شعور کی طرف لے کر جاتی ہے۔ خیال بذات خود سماجی شعور کی ایک خاص سطح کی عکاسی کرتا ہے۔ خیال کو سادہ کرنے کا مطلب ہے کہ میں انسانوں کی ذہنی سطح کو پست دیکھنا چاہتا ہوں۔ ’یہ ہم سے نہیں ہو گا‘۔
لالٹین : آپ پاکستانی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی اِس د ہائی کی ترقی سے بخوبی آگاہ ہیں، ایک وسیع تناظر میں اِسکے بارے میں کیا کہنا چاہیں گے؟
انگریزی صحافت کا مخاطب ایک مختلف طبقہ ہے۔ وہاں عقل اور حقیقت پسندی کی بات زیادہ کی جاتی رہی ہے۔ تھوڑی جگہ بھی زیادہ تھی کیونکہ اظہار کو دبانے والے انگریزی صحافت کو اس لئے نہیں دباتے تھے کہ انگریزی پڑھتا کون ہے۔ اس کو چلنے دو تاکہ باہر کی دنیا کو بھی دکھایا جاسکے کہ ہمارے ملک میں دیکھیں کیسی کیسی باتیں لکھی جا رہی ہیں۔ اِس کے برعکس اُردو صحافت میں سماجی شعور کی سطح وہ نہیں ہے۔
وجاہت: کچھ زاویوں سے تو یہ ایک بہت خوشگوار پیش رفت ہے۔ 17اکتوبر 1979ءسے1983 ءکے اس دن تک جب ضیاالحق نے مجلسِ شوریٰ میں آئندہ انتخابات کا اعلان کیا، ہماری صحافت قید و بند، سنسر شپ، عقوبت گاہوں، کوڑوں اوردیدہ و نادیدہ دباﺅ کی جس آزمائش سے گزری، پاکستان کے لوگوں نے اس سے پہلے اور اس کے بعد صحافت پر ایسا برا وقت کبھی نہیں دیکھا۔ لیکن اس میں ہوا یہ ہے کہ ہمارے کچھ صحافی بہن بھائیوں کے جوڑ پٹھے اکڑ گئے ہیں۔ اِس سنسر شپ میں رہتے ہوئے وہ پرواز کا ڈھنگ بھول گئے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ صحافت کی آزادی بہت بڑی ذمہ داری کا تقاضا بھی کرتی ہے۔ اور ذمہ داری علم کے بغیر نبھائی نہیں جا سکتی اور علمی معیار ہمارے ہاں نیچے آیا ہے۔ تیسری بات میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہماری بہت سی صحافتی آزادی اس وقت بھی ایک سراب ہے۔ کیونکہ بعض امور پہ بات کرنے کی تو بہت آزادی ہے لیکن بہت سے موضوعات ایسے ہیں جن پر اب بھی صحافی، اخبار یا الیکٹرانک میڈیا میں بات نہیں کر سکتا۔
ہمارا ہم عصر صحافی سیاستدانوں کو تو بڑی سہولت کے ساتھ بُرا بھلا کہتاہے۔ سیاسی عمل کی مخالفت میں اسے عار نہیں، جمہوریت کی ساکھ بگاڑنے سے اسے اجتناب نہیں۔ مگر پاکستان کی تاریخ میں چار مارشل لا لگانے والی قوت کا ذکر کرتے ہوئے اس کی زبان لڑکھڑانے لگتی ہے۔ ہمارے ملک میں امتیازی قوانین موجود ہیں۔ صحافت اس پر کیوں سوال نہیں اٹھاتی۔ آپ کے علم میں ہو گا کہ جب تک بیت اللہ محسود ڈرون حملے میں مارا نہیں گیا، پاکستان کے کسی اخبار میں اس کی تصویر شائع نہیں ہوئی۔ خوف کا یہ عالم تھا۔ اب بھی پاکستان کو صحافت کے لیے دنیا کے چند خطرناک ترین ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔ ٹیلی ویژن کی سکرین کومچھلی بازار بنانا صحافت کی آزادی کا معیار نہیں۔ صحافت کی آزادی کا معیار یہ ہے کہ آپ اپنے علم اور ضمیر کی روشنی میں جس بات کو درست سمجھیں، اسے بلا خوف و خطر بیان کر سکیں۔
لالٹین : پاکستان کے سیاسی مستقبل میں جمہوریت ہی واحد رستہ ہے۔ اس پر کچھ روشنی ڈالیں :
وجاہت: بدقسمتی سے ہماری لغت پر غور فرمائیے۔ ہم کہتے ہیں، ”ہم نے 2008ءمیں جو جمہوری تجربہ شروع کیا“ تو عرض یہ ہے کہ جمہوریت تجربہ نہیں ہے۔ جمہوریت ایک طرز حیات ہے۔ جمہوریت کا کوئی متبادل ہی نہیں۔ فسطائیت مذہب کے نام پہ ہو یا نسل کے نام پہ ، کوئی مسیحا وردی پہن کر آئے یا داڑھی رکھ کر آجائے، کیا ہم نے یہ تجربے کر کے نہیں دیکھے؟ اور وہ تجربے ناکام ہوئے ہیں۔ پاکستان میں جمہوریت ناکام نہیں ہوئی جمہوریت کے ساتھ جو کھلواڑکیا گیا، وہ ناکام ہوا ہے۔
لالٹین : آپ کی شریکِ حیات آپ کے کام اور نظریات میں آپ کی معاون رہی ہیں۔ ان کا آپ کی زندگی پر کیا اثر ہے ؟
وجاہت: میں اِس میں کسی بد دیانتی سے کام نہیں لینا چاہتا۔ مجھ میں توبہت سی کمزوریاں ہیں۔ میری افتاد میں جلا وطنی کی ایک کیفیت مسلسل میرے ساتھ رہی ہے۔ آپ تو سمجھتے ہیں اس سے بڑی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ تنویر جہاں نے سب سے اہم مہر بانی یہ کی کہ اس نے مجھ سے کبھی ایسا تقاضانہیں کیا کہ میں جس طرح کی زندگی گزارنا چاہتا ہوں وہ نہ گزاروں۔ ہمارا رشتہ بنیادی طور پر مساوات کا رشتہ ہے۔ جو زندگی میں نے گزاری ہے وہ اُس کے بغیر ممکن نہ تھی۔ اس نے اپنی اخلاقی قامت اور سوجھ بوجھ سے مجھے بہت سی ایسی غلطیوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کی جن کے لیے میں زبردست کشش محسوس کرتا تھا۔
لالٹین : پاکستان کی اِ س پیچیدہ صورتحال میں نوجوانوں کو کیا پیغام دینا چاہیں گے۔
وجاہت: نوجوانوں میں بہت امکان ہوتا ہے اور اُن میں بددیانتی کا عنصر بھی کم ہوتاہے۔ اُنہیں چاہیے کہ پیداواری، تخلیقی اور جذباتی طور پر خوشگوار زندگی گزاریں۔ معاشرے کو نوجوانوں میں اِن تینوں چیزوں کا خواب جگانا چاہیے۔ جس کے لیے ضروری ہے کہ معاشرہ جنس کوضروری اِحترام دے۔ ہم نے نوجوانوں کو دکھی کیا ہوا ہے اور دکھی نوجوان بڑے خطرناک ہوتے ہیں۔ کیونکہ اُن کی جبلتوں کی مناسب تہذیب نہ کی جائے تو پھر ان کی توانائی اِستحصال، نفرت، بدعنوانی، تشدد اور تفرقے کا رخ اختیار کر لیتی ہے۔

Categories
نقطۂ نظر

قبر سے واپسی

حماد حسن

qabar

 

کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کے چاروں طرف پھیلی ہوئی مذہبی انتہا پسندی کی جڑیں کہاں ہو سکتی ہیں اور وہ کونسی فیکٹریاں ہیں جہاں یہ پروڈکٹ تیار ہو کر ملک کی کونے کونے میں سپلائی ہوتی ہے ؟ وہ کون سے عناصر ہیں جو اس ڈرامے کے اصل ہدایت کار ہیں ؟ ان سارے سوالوں کا جواب اور اس صورت حال کا نقشہ شاید میری آپ بیتی سے واضح ہو پائے۔
میں ضلع مظفر گڑھ کے ایک گاﺅں میں پیدا ہوا۔بچپن کے ابتدائی سال انتہائی خوشگوار تھے۔ سارا سارا دن اپنے کزنوں کے ہمراہ گھر کے بڑے صحن میں کھیلنا میرا معمول تھا۔ ہر صبح ایک سہانی صبح ہوتی اور ہر شام کے پرندے مسرت کا پیغام دے کر جاتے ، کسی بھی قسم کے غم کے وائرس نے ابھی میرے سسٹم پر حملہ نہیں کیا تھا۔ مجھے معلوم نہ تھا کہ میری زندگی میں ایک ایسا موڑ آنے والا ہے جس کے اثرات میرے دل و دماغ پر شدید ہوں گے۔
پانچویں جماعت کا امتحان پاس کرنے کے بعد میرے والدین نے مجھے دین کی ”اعلیٰ “ تعلیم دلوانے کے لیی نواحی گاﺅں کی ایک مشہور مدرسے میں داخل کروا دیا ۔ جبکہ میرے بڑے بہن بھائی میڈیکل کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھ رہے تھے۔ میرے والدین کی خواہش تھی کہ وہ اپنے ایک بچے کو دین کے لیے وقف کریں گے۔
مدرسے میں پڑھنے والے کو ”طالب ‘ جبکہ پڑھانے والے کو ”استاد جی “ کہا جاتا تھا مدرسے میں دو ہزار کے لگ بھگ طالب زیر تعلیم تھے۔ جن میں سے بہت سارے طالب مدرسے میں رہائش پذیر تھے جبکہ باقی طالبوں کا تعلق مقامی گاﺅں

مدرسے میں موجود کتب فرقہ واریت پر مبنی مواد سے بھرپور تھیں۔ ٹیپ ریکارڈ ز پرسپاہِ صحابہ کے مولویوں کی تقاریر بلند آواز میں چلا کرتی تھیں۔ جا بجا دیواروں پر اسٹکرز چسپاں ہوتے تھے جن پر تلواروں اور بندوقوں کی تصاویر ہوتی تھیں اور جہادی نعرے درج ہوتے تھے

سے تھا ۔اس مدرسے کے پڑھے ہوئے بہت سے طالب مختلف علاقوں کی مساجد کے منبر سنبھال چکے تھے۔
شہر سے گاﺅں میں اور اسکول سے مدرسے میں، شروع میں تومیں وہاں کے ماحول کو سمجھ نہ پایا۔ پھر آہستہ آہستہ پردے ہٹتے گئے۔ اُستاد جی نے میرا استقبال قمیض کے کالر کاٹ کر کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ انگریزوں کی ایجاد ہے اور یہ کتے کے کان ہیں ،مجھے ایک ٹوپی ہر وقت پہنے رکھنے، اور بڑا حاجیوں والاچوخانہ رومال اپنے کندھوں پہ ڈالے رکھنے کا حکم دیا گیا۔
صبح منہ اندھیرے تین بجے نیند سے بیدار کر دیا جاتا ۔ فجر کی نماز تک کلاس ہوتی جس میں بچے روز کا یاد کیا ہوا سبق سناتے تھے۔نماز کے بعد پھر کلاس شروع ہو جاتی جو 11:00بجے تک جاری رہتی۔ 11:30 پر ناشتہ اور دوپہر کا کھانا ایک ساتھ دیا جاتا تھا۔ 12:00بجے سے ظہر کی نماز تک کے وقفہ میں طالب کپڑے دھوتے، نہاتے اور آرام کرتے تھے، ظہر سے عصر کی نماز تک پھر کلاس ہوتی۔ عصر سے مغر ب کے وقفے کے دوران رہائشی طالب کھیلتے جبکہ وہاں کے مقامی طالبوں کو برتنوں کے ساتھ مقامی گھروں سے استاد جی حضرات کے لیے کھانا مانگنے کے لیے بھیج دیا جاتا۔ مغرب سے عشاءتک پھر کلاس ہوتی اور عشاءکی نماز کے بعد رات کا کھانا کھا کر طالب سونے کے لیے اپنے اپنے بستروں میں چلے جاتے۔
مدرسے میں موجود کتب فرقہ واریت پر مبنی مواد سے بھرپور تھیں۔ ٹیپ ریکارڈ ز پرسپاہِ صحابہ کے مولویوں کی تقاریر بلند آواز میں چلا کرتی تھیں۔ جا بجا دیواروں پر اسٹکرز چسپاں ہوتے تھے جن پر تلواروں اور بندوقوں کی تصاویر ہوتی تھیں اور جہادی نعرے درج ہوتے تھے۔ مدرسے میں ٹوائلٹ کو بیت الخلا کہا جاتا تھا۔ وہاں جا کر یونہی محسوس ہوتا تھا جیسے انسان واقعی خلاﺅں میں چلا گیا ہو، وہاں کی دیواروں پر بھی دوسرے فرقوں کے خلاف کُفر کے فتوے درج ہوتے تھے۔ طالب اور استاد جی حضرات باہمی گفتگو میں دوسرے مسالک کے لوگوں پر پھبتیاں کستے اور برا بھلا کہتے۔
معمولی معمولی باتوں پر سخت سزائیں دی جاتی تھیں جن میں بید سے مارنا، مرغا بنانا، چہرے پر تھپڑ مارنا سرفہرست تھیں۔ میرے سامنے استاد جی نے ایک 6سالہ بچے کو گریبان سے پکڑ کر اٹھایا اور زمین پر دے مارا ۔اس کے سر پر ایسی شدید چوٹ لگی کہ اُس کے حواس کافی دیر تک بحال نہ ہوئے ۔ والی بال کھیل کھیل کر استاد جی حضرات تھپڑ رسید کرنے میں کافی مہارت حاصل کر چکے تھے۔
مدرسے میں صرف والی بال کھیلی جاتی تھی (یہ دیہاتی طرز کی والی بال ہوتی ہے جس کے اصول وقوانین ، بین الاقوامی طور پر کھیلی جانے والی ، والی بال سے کافی مختلف ہیں ) ۔ ایک دفعہ ہم نے کرکٹ کھیلی، استاد جی کو کسی طرح پتا چل گیا۔ انہوں نے ہمیں بید سے پیٹا اور بیٹ کو تنور میں ڈال دیا۔ انہوں نے فرمایا ”کرکٹ انگریزی کھیل ہے، والی
بال کھیلا کرو، یہ اسلامی ہے “۔
طالب مختلف ”غیر نصابی “ سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ استاد جی حضرات ان سرگرمیوں کی سرپرستی کرتے تھے۔ ان سرگرمیوں میں تبلیغی جماعت کے ساتھ وقت لگانا، جہادی کیمپوں میں جا کر عسکری تربیت حاصل کرنا اور باقی طالبوں کو بھی جہاد کی طرف مائل کرنا سرفہرست ہوتی تھیں۔ 9/11کے بعد ایک ترانہ طالبوں میں بہت مقبول تھا جس کے بول تھے ”میرا شیر اسامہ بن لادن، اسلام کا ہیرو نمبر ون“۔
طالبوں کا مدرسے کی چاردیواری سے باہر کی دنیا سے رابطے کا ذریعہ اخبار ہوا کرتے تھے۔ ان اخباروں میں جہادی تنظیموں کے اخباروں تک طالبوں کو رسائی حاصل تھی جبکہ باقی اخبارات کو پڑھنے کی اجازت نہ تھی، صرف استاد جی حضرات انہیں پڑھ سکتے تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اخباروں میں برہنہ تصاویر ہوتی ہیں جن کی وجہ سے طالبوں کا ایمان متزلزل ہوتا ہے۔

ایک استاد جی کو میں جب بھی ملتا تو وہ مجھے سینے سے لگا کر ضرورت سی زیادہ بھینچتے۔ اُن کا یہ غیر معمولی عمل اکثر تنہائی میں ہوتا۔جب میں نے اپنے دوستوں سے استادجی کی اس غیر معمولی گرمجوشی کا ذکر کیا تو انہوں نے بھی اس سے ملتے جلتے تجربات بیان کیے ۔ آخر ایک سینئر طالب سے دریافت کرنے پر ایسے ایسے حقائق سے پردہ اُٹھا کہ مجھے اپنے کانوں پر یقین نہ آیا

انہیں دنوں 99ءکا کرکٹ ورلڈ کپ ہو رہا تھا ایک استاد جی جو قدرے زندہ دل معلوم ہوتے تھے، نے مجھ سے مختلف میچوں کی صورت حال دریافت کی۔ اُن کی دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے بڑھ چڑھ کر تفصیلات مہیا کیں ۔ میرے ذخیرہ معلومات سے متاثر ہو کر وہ کچھ سوچ میں پڑ گئے۔ پھر انہوں نے کچھ طالبوں کو بلا کر میرے سامان کی تلاشی کا حکم دیا۔ میرے سامان سے ایک بے ضرر ننھا سا ریڈیو دریافت ہونے پر میری جو درگت سنی، اسے آج بھی یاد کرتا ہوں تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
مدرسہ میں طالبوں کو حکم دیا جاتا کہ استاد جی حضرات کو ہمیشہ جھک کر ملنا چاہئیے۔ ایسا کرنے سے سبق زیادہ یاد ہوتا ہے۔ چنانچہ ایک استاد جی کو میں جب بھی ملتا تو وہ مجھے سینے سے لگا کر ضرورت سی زیادہ بھینچتے۔ اُن کا یہ غیر معمولی عمل اکثر تنہائی میں ہوتا۔جب میں نے اپنے دوستوں سے استادجی کی اس غیر معمولی گرمجوشی کا ذکر کیا تو انہوں نے بھی اس سے ملتے جلتے تجربات بیان کیے ۔ آخر ایک سینئر طالب سے دریافت کرنے پر ایسے ایسے حقائق سے پردہ اُٹھا کہ مجھے اپنے کانوں پر یقین نہ آیا۔
اُنہیں دنوں مدرسے میں ایک نئے اُستاد جی بھرتی کیے گئے ، ان کی آمد کے کچھ ہی دنوں بعد ایک رات جب ہم سب سو چکے تھے تو اچانک شور ہونے پر میری آنکھ کھل گئی ۔ میں اپنے کمرے سے ایک دوست کے ہمراہ باہر نکلا تو دیکھا کہ نئے استاد جی کے کمرے کے باہر کچھ طالب جمع تھے۔ تھوڑی دیر میں ایک اور استاد جی وہاں آگئے۔ انہوں نے طالبوں کو وہاں سے منتشر کیا اور نئے استاد جی کے کمرے کے دروازے پر دستک دے کر انہیں آواز دی۔ کمرہ کھلا اور استاد جی بر آمد ہوئے۔ پرانے استاد نے اندر جا کر ایک نو دس سالہ لڑکے کو باہر نکالا جس کو نئے استاد محترم نے’ پاﺅں دبوانے ‘کے لیے رات گئے اپنے کمرے میں بلا لیا تھا۔ پرانے استاد نے اس معصوم لڑکے کی پٹائی شروع کر دی کہ وہ اتنی رات گئے اس کمرے میں کیا کر رہا تھا۔ اس کے بعد معاملہ رفع دفع ہو گیا۔
اتنے بڑے مدرسے کے انتظام و انصرام کو چلتا دیکھ کر مجھے حیرت ہوتی تھی۔ آخر اس معاملے کی بھی گتھیاں سُلجھنا شروع ہوئیں۔مدرسہ کے مہتمم اعلیٰ کے ایک بھائی جرمنی میں کوئی مدرسہ چلا رہے تھے ،دوسرے بھائی لندن میں ایک مدرسے کے مہتمم تھے، تیسرے بھائی ہر سال بنکاک کی کسی مسجد میں تراویح پڑھانے کے لیے جاتے تھے ۔ اس کے علاوہ سعودی عرب سے ملنے والی امداد علیحدہ تھی۔
تقریباً تین سال اس جزیرہِ علم میں رہ کر میں حافظ بن چکا تھا ۔ میرے والدین کی خواہش مجھے درس نظامی سے مزید تعلیم دلوانے کی تھی۔ لیکن میں مزید ”اعلیٰ “ تعلیم حاصل نہیں کرنا چاہتا تھا۔ لہذا والدین نے دوبارہ اسکول میں داخل کروادیا۔ اسکول اور گھر اب اجنبی سے محسوس ہوتے تھے۔ اکثر لوگ چلتے پھرتے کافرنظر آتے تھے۔ گھر میں TVچلتا دیکھ کر عجیب و حشت ہو تی تھی۔ میں دوسرے مسالک کے مسلمانوں کو سر عام پھانسی دینے کے حق میں بے تحاشا دلائل دیا کرتا تھا۔ سکولوں اور کالجوں میں پڑھائی جانے والی تعلیم مجھے سراسر غیر اخلاقی اور کفریہ عقائد پر مبنی نظر آتی تھی۔ دوسرے مسالک کے لڑکوں سے میری دو ایک بار جھڑپیں بھی ہوئیں۔
FScکا امتحان جیسے تیسے پاس کرنے کے بعد مجھے یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا۔ وہاں میرے کمرے میں جہادی لڑکوں کا آنا جانا لگا رہتا، ہم جہاد کشمیر کے حق میں تقاریر کرتے اور نئے طلباءکے کمروں میں جا کر انہیں جہاد کی ترغیب دیتے۔ انہی دنوں میں نے ایک جہادی کیمپ سے ٹریننگ لینے کا فیصلہ کیا۔

جہادی کیمپ میں جا کر تصویر کا اصل رُخ میرے سامنے آگیا۔ جہاد کے جذبے کے پیچھے ان ملاﺅں کی متعصبانہ، غیر انسانی اور سماج دشمن سوچ مجھ پر آشکار ہوئی۔ ان کے ارادوں سے مجھے گھن سی آنے لگی۔ یہ لوگ ایک ایک ہندوکو چن چن کر مارنے کے حق میں تھے۔ احمدیوں کے بہیمانہ قتل پر غیر معمولی مسرت کا اظہار کرتے تھے۔ معمولی غلطیوں پر کڑی سے کڑی اور غیر انسانی سزائیں دینے کو تربیت کا حصہ گردانتے تھے۔

جہادی کیمپ میں جا کر تصویر کا اصل رُخ میرے سامنے آگیا۔ جہاد کے جذبے کے پیچھے ان ملاﺅں کی متعصبانہ، غیر انسانی اور سماج دشمن سوچ مجھ پر آشکار ہوئی۔ ان کے ارادوں سے مجھے گھن سی آنے لگی۔ یہ لوگ ایک ایک ہندوکو چن چن کر مارنے کے حق میں تھے۔ احمدیوں کے بہیمانہ قتل پر غیر معمولی مسرت کا اظہار کرتے تھے۔ معمولی غلطیوں پر کڑی سے کڑی اور غیر انسانی سزائیں دینے کو تربیت کا حصہ گردانتے تھے۔ گو کہ میں خودبھی کٹر، متعصبانہ خیالات کا مالک تھا لیکن شاید میرے ذہن کے کسی گوشے میں انسانیت کی تھوڑی سی رمق باقی تھی۔ ان جنونیوں کے غیر انسانی اور معاشرے کی جڑوں کو کھوکھلا کر دینے والے رویوں سے میرا دل متنفر ہوتا گیا۔

جہادی کیمپ سے واپسی پر میں ایک مکمل طور پر بدلا ہوا انسان تھا۔ ایسے موقع پر ایک سینئر کے توسط سے مجھے اعتدال پسند لٹریچر پڑھنے کا موقع ملا۔ انہی دنوں کچھ ترقی پسند،روشن خیال دوستوں سے بھی ملاقات ہوئی جنہوں نے جمہوریت،رواداری اور انسانی ترقی کے نظریات سے متعارف کرایا ۔ ان کے ساتھ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ ان کے توسط سے دوسرے اعتدال پسند سوچ رکھنے والے دانشوروں سے ملنے کا موقع ملا۔ آہستہ آہستہ اندھیرے چھٹتے گئے اور میں زندگی میں واپس آنا شروع ہوا۔ آجکل میں سماجی وسیا سی کارکن کے طور پر مختلف تنظیموں کے ساتھ منسلک ہوں اور ایک بھرپور زندگی گزار رہا ہوں۔ اب مختلف صحت مندانہ سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینے ، آگے بڑھنے اور دوسروں کی ترقی میں معاون بننے میں مجھے بے تحاشا خوشی محسوس ہوتی ہے۔