Categories
شاعری

مضافِ دریا

مضافِ دریا
مضافِ دریا کے رہنے والو تمہیں ہمارا سلام پہنچے
مضافِ دریا کے رہنے والوں تمہارے قریوں میں زندگی ہے
تمہاری مٹی کی سبز لہریں، تمہارے پھولوں کے رنگ گہرے
لطیف کھیتوں کے آئینوں سے نگاہیں ٹھنڈی
گھنے درختوں کی چوٹیوں پر نزولِ آیت، وحی کے ساماں
تھرکتی شاخوں پہ نور رقصاں
کھڑکتے پتوں میں گیت لرزاں
شبوں کے پہلو میں جگنوؤں کے ہیں زرد ہیرے
سحر کے دامن میں شبنموں کے سفید موتی
مضافِ دریا کے رہنے والو
تمہارے گائے کے دودھ میٹھے
تمہارے ہرنوں کی نرم کھالیں، تمہاری بھیڑوں کی نرم اونیں
مضافِ دریا کے رہنے والو، مضافِ دریا بہشتِ روشن
یہیں پرندوں کی اونچی ڈاریں خدا کی جھیلوں میں تیرتی ہیں
کنول کے چوڑے سفید گاگر ہیں تھال چاندے کے پانیوں میں
یہیں پہ کھیتوں میں ہل چلاتی، لحیم بیلوں کی جوڑیاں ہیں
گھروں کو لوٹے تھکے کسانوں کی گرد پانی اُتارتا ہے
مضافِ دریا کے رہنے والوتمہارے دن کا شباب محنت
تمہارئ شامیں سکون پرور، تمہاری راتیں ہیں خواب آور
مضافِ دریا کے رہنے والو، تمہیں ہمارا سلام پہنچے

Image: Henry Ambrose Oldfield

Categories
شاعری

دریا مرتا جاتا ہے

دریا مرتا جاتا ہے
ہانپتے گِرتے جہلم کی البیلی لہروں کے اُس جانب
بستی جو چرخہ کاتتی شور مچاتی رہتی ہے
دن کے سارے پہروں میں
اُس بستی کے آنگن اندر
رات کو پہرہ دار کی سیٹی
سُن کر بستر گرماتے ہیں بچے
وہ بستی اب قصبہ بن کر پھیلتی جاتی ہے
شیطان کی الجھی آنت کے جیسی
جس کے سارے اُلجھاوے سے
سانس رکے ہے
اُس بستی میں
دور دور تک پھیلے باغوں کی مٹی سے
تازہ کنوں مہک سے اپنی
ٹھنڈے جسموں کے ریشوں میں تازہ لہو کا رقص جمائیں
ریشم خوابوں کے جگنو بھی
بہکی سانسوں کو گرمائیں
اُس بستی میں
جیون اپنی چوکھٹ پر سب
رنگ رنگ کے کھیل سجائے
چلتا جائے
اور تمھاری راہ کو تکتی
روگ میں لپٹی
شپھی کے چہرے پر رقصاں
اڑی ترچھی قندیلوں سے پھوٹتی حدت
دیپ سی روشن

بہتے جہلم کے ماضی کی کتھا کہانی
بولتا پانی، کہتا جائے
بوڑھا دریا چلتا جائے
گرتے پڑتے یگ میں تم بھی
شام ڈھلے تک آ جانا کہ اس سے پہلے
چرخہ کاتتے، ریشم بنتے، خواب سجاتے
ہاتھوں میں جب چھید پڑیں تو
بوڑھا دریا کچی مٹی کے پہلو میں
لحظہ لحظہ مرتا جائے