Categories
فکشن

ذائقہ

“اے بیٹا قورمے میں ذرا بھی روغن نہیں ہے ، دلہن سے کہنا تو کہ اللہ کا دیا بہت سا ہے ذرا فراوانی سے ڈالا کریں ۔”
“جی دادی۔”رمشہ نے حامی بھری اور چلتی بنی۔

رمشہ کی دادی آزر کی ماں اور انیسہ کی ساس،ابھی چند ہی مہینوں پہلے اپنے بہو، بیٹے کے پاس رہنے آئی تھیں۔ ان کے شوہر زندہ تھے، لیکن اب وہ شہر کے مزے لینا چاہتی تھیں ، دیہات کے روز مرہ سے ان کا دل کچھ اس درجہ اچاٹ ہو چکا تھا کہ اپنے شوہر کو بے یار و مدد گا، اپنے بڑے بیٹے کے پاس چھوڑ کر ، چھوٹے بیٹے کے پاس آ گئی تھیں۔ بڑے بیٹے کے پاس باپ کو چھوڑنا ، بے یار و مدد گار ہی چھوڑنا تھا، کیوں کہ وہ اوران کا پورا کنبہ بوڑھے باپ کی پینشن پر پل رہے تھے۔ ان کا خیال خود عفن میاں رکھ رہے تھے۔ کوئی انہیں کیا سنبھالتا۔

نقل مکانی کسے راس آئی ہے ۔ تبدیلی ہوا نے البتہ امکانات رکھے ہیں ، لیکن اب ان کا اختیار اور ہاتھ دونوں ہی تنگ ہو چکے تھے ، اب انہیں کھانا پروسا جاتا تھا ، وہ خود نہیں پروستی تھیں ۔ انیسہ بہو، ساس کے برابرآکر کھڑی ہوئیں، ساس نے پھر وہ ہی راگ الاپنا شروع کر دیا ، لیکن اس کے سر وہ زیادہ لمبے نہ کھینچ سکیں ۔ آخر اب راج رانی بہو تھیں ، کچھ کہتے کہتے دل مسوس کے رہ گیا۔
بہو ، بیٹے کے پاس آنے کے بعد سے دادی کا یہ معمول بن گیا تھا، کہ وہ رمشہ کے پاس بیٹھ کر اپنے پچھلے وقت کے کھانوں اور ان کے ذائقوں اور ان کے پکانے کی تراکیب پر ہی باتیں کیا کرتی تھیں ۔ کبھی کہتیں ۔ “اے بیٹا قورمہ ایسے تھوڑی نہ بنتا ہے۔”اور کبھی کہتیں کہ “اے بیٹا جب دلہن نہ ہوئیں تو کسی روز ہم پکا کر کھلائیں گے۔” اور کسی روز کے فراق میں وہ لمبی لمبی آہیں بھرتیں۔ اپنے سامنے رکھے کھانے کو پتھرائی ہوئی آنکھوں سے دیکھتیں ، جب کبھی بہو بیگم کے بنے ہاتھ کا کھاناان کی حلق سے اترنا مشکل ہوجاتا تو چپکےسے رمشہ سے شکر منگوا لیتیں اور شکر روٹی سے ان کی پتھرائی ہوئی آنکھوں میں نمی اتر آتی۔

ان کے اس معمول میں ایک عرصے تک ذرا بھی تبدلی نہیں آئی ۔ کھانے کی شوقین وہ ہمیشہ سے تھیں ۔ جب تک ساس کے عہدے پر بحال رہیں تب تک انہوں نے بہتر سے بہتر پکایا اور کھایا۔ پکانے کے معاملے میں وہ بڑی دلدار تھیں، البتہ کھلانے میں کچھ تنگ دست واقع ہوئی تھیں ۔ان کی تنگ دستی سے سبھی لوگ واقف تھے ، لیکن رمشہ نے اس کے برعکس کبھی کبھی ان کی سخاوت کے نظارے بھی دیکھے تھے۔ وہ روغن اور مال ، میوہ ڈال کر کچھ پکاتیں تو سب سے بچ بچا کر رمشہ کو کھلا دیتیں ، لیکن یہ بات اس وقت کی تھی جب ساس راج تھا، اب بہو رانی تھی۔ ساس محض تماشہ بیں۔

بڑھاپے میں جسم کے سارے تقاضے زبان میں منتقل ہو کر ذائقے میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔ رمشہ کی دادی نے بھی سارے تقاضوں کو ذائقوں میں تلاش کرنا شروع کر دیا تھا۔ کبھی رمشہ ان کو کھاتے ہوئے دیکھتی تو اسے یوں محسوس ہوتا کہ وہ زہر مار کر رہی ہوں اور کبھی وہ کھانے کو چھوڑ کر چھت کو تاکنے لگتیں ۔

واپس جا کر بھی انہیں کچھ حاصل نہیں ہونا تھا،کیوں کہ وہ اختیار بڑی دلہن نے لے لیا تھا کہ جو ہے وہ خود پکائے اور کھلائے۔ ذائقہ ان کے لیے بڑی چیز تھی۔ اچھے کھانوں کے سوا ان کے لیے کوئی شئے معتبر نہ تھی۔ خدا کے پاس جاتے ہوئے بھی وہ تندرست ہی نظر آنا چاہتی تھیں۔ اسی لیے صرف ایک ہی مقولہ ہمہ وقت ان کے لبوں پر جاری رہتا۔”اے بیٹاکھایا پیا ہی تو ساتھ جاتا ہے۔”اعمال پر کچھ خاص نظر نہ تھی،البتہ بدن کی چستی تندرستی کو وہ سب سے زیادہ اہم گردانتی تھیں ۔ دلہن کے ہاتھ کا کھانا انہیں کبھی پسند نہیں آیا۔ ایک عرصے تک برداشت کرتی رہیں، مگر ایک روز تھک ہار کر انہوں نے واپسی کا ارادہ کر ہی لیا اور ان کے اس فیصلے کو جلد از جلد پائے تکمیل تک پہنچا دیا گیا۔ انہیں دوبارہ اپنے شوہر کے پاس پہنچا دیا گیا۔ ابھی وہ اپنے شوہر کے یہاں پہنچی ہی تھیں کہ ایک سانحہ یہ پیش آیا کہ عفن میاں میں چل بسے ،عفن میاں کے چند روز بعدہی خود رمشہ کی دادی بھی اس جہان فانی سے کوچ کر گئیں۔ آزر ،انیسہ کے ساتھ رمشہ بھی دادی کی تندرستی کے زوال کو آخری مرتبہ دیکھنے پہنچی،لیکن رمشہ یہ دیکھ کر بھونچکی رہ گئی کہ دادی کے مقام پر صر ف ایک ڈھانچہ رہ گیا تھا۔

مرنے والے کی اچھائیوں کا ذکر چھیڑا جانے لگا، ان میں سے کسی نے کہا، “یہ تو آخر عمر میں پاگل ہو گئی تھیں۔اپنے سارے بال خود ہی نوچ ڈالے۔اسی لیے ان کی بڑی دلہن نے انہیں گنجا کروا دیا تھا اور تو اور یہ تو زمین سےچن چن کر کیڑے مکوڑے اور مٹی کھانے لگی تھیں۔ یہ سنتے ہی رمشہ کو یہ محسوس ہوا کہ جیسے اس کا منہ کیڑوں اور مٹی سے بھر گیا ہو۔ اسے کہیں دور سے یہ آواز آتی محسوس ہوئی۔

“اے بیٹا،میں پاگل تھوڑے ہی نہ تھی، میں ذائقہ ڈھونڈ رہی تھی۔تمہاری ماں کے پاس ذائقہ نہ تھا، بڑی دلہن کے پاس کھانا نہ تھا، اسی لیے ان کیڑوں میں ذائقہ تلاش کر رہی تھی۔ اے بیٹا مزا تو اچھا نہ تھا ، لیکن بھوک بہت لگتی تھی، اسی لیے کھالیا، اے بیٹامیں پاگل تھوڑے ہی نہ تھی،اے بیٹامیں پاگل تھوڑے ہی نہ تھی ، اےبیٹامیں پاگل تھوڑے ہی نہ تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔خدا کے پاس تو کھایا پیا ہی جاتا ہے۔ “تقریباً چیخ پکار کی مانند یہ آوازیں اسے جھنجھوڑ رہی تھیں اور وہ پتھرائی ہوئی آنکھوں سے دادی کے گنجے سر اور ہڈیوں کے ڈھانچے کو تکے جا رہی تھی۔

Image: Rina Bhabra

Categories
فکشن

پِٹا ہوا مہرہ

یہ عینک اس کی نظر کی کمی کو کسی طور پورا نہیں کرتی۔ یہ بس اس کی تنہائی کی ساتھی ہے۔ اس کی صفائی میں کچھ لمحے بیت جاتے ہیں۔ زندگی موت کی طرف دو قدم آگے بڑھ جاتی ہے جیسے ٹرین نے دو اسٹیشن پار کرلیے ہوں۔
اس نے بوسیدہ کواڑ پہ لاغر ہاتھ کا بوجھ ڈالا۔ کواڑ چرچراتے ہوئے کھل گئے۔ لکڑی کے کواڑ کے ساتھ لگی لوہے کی کنڈی “کھڑاک”، “کھڑاک” کواڑ کے ساتھ بجتی رہی۔ اس نے اندر داخل ہو کر دونوں ہاتھ کمر پہ رکھ لیے ۔ وہ ہانپ رہا تھا۔ اس کی سانس دھونکنی کی طرح چل رہی تھی۔ وہ جب وہ سانس لیتا تو اس کے سینے میں سیٹیاں سی بجنے لگتیں۔ جیسے ریل کا نجن کوکتا ہے۔ وہ کمر پہ ہاتھ رکھے صحن میں کھڑا ہے۔ سرونٹ کوارٹر کا صحن۔ یہ سرونٹ کوارٹر کوئی بھوت بنگلہ لگتا ہے۔ اسی سال کی عمر میں وہ خود بھی ایک بھوت بن چکا ہے۔ لاغر اور کمزور بھوت۔ وہ تنہائی کا شکار ہے۔ اس کے اردگرد سارا دن ایک ملازم کے سوا کوئی نہیں پھٹکتا۔ وہ تنہا ہے اور اکیلا ہے۔ وہ تو ایسا بھوت ہے جو کسی کو ڈرا بھی نہیں سکتا۔ وہ کمر سے ہاتھ اٹھاتا ہے تو کمر کچھ اور جھک جاتی ہے۔ اس کے ہاتھوں پر لرزہ طاری ہوجاتا ہے۔ کپکپی سی پھیل جاتی ہے۔

 

اس کی نظر کمزور ہوچکی ہے۔ ایک موٹے شیشوں کی پرانی عینک اس کے پاس ہے۔ اس عینک کے شیشوں پر گرد تہہ در تہہ جم چکی ہے اور شیشے دھندلا چکے ہیں۔ عینک کی ایک کمانی درمیان سے ٹوٹ چکی ہے۔ اس نے جھاڑ و کا تیلا رکھ کر اوپر دھاگا باندھ دیا ہے۔ اس بوجھ کی وجہ سے عینک ایک طرف جھکی رہتی ہے۔ یہ عینک اس کی نظر کی کمی کو کسی طور پورا نہیں کرتی۔ یہ بس اس کی تنہائی کی ساتھی ہے۔ اس کی صفائی میں کچھ لمحے بیت جاتے ہیں۔ زندگی موت کی طرف دو قدم آگے بڑھ جاتی ہے جیسے ٹرین نے دو اسٹیشن پار کرلیے ہوں۔

 

بھوت بنگلے کے صحن میں اس کی ٹوٹی پھوٹی چارپائی پہ کوئی بیٹھا ہے۔ یہ کون ہے؟ وہ جھکی کمر کے ساتھ دو قدم آگے بڑھا۔ اس نے آنکھیں سکیڑیں ہتھیلی کا چھجا بنا کے پیشانی پر رکھا۔ اس کا ہاتھ لرز رہا تھا۔ چارپائی پہ وہ خود ہی بیٹھا تھا یا اس کا کوئی ہم شکل، اس نے اپنا جسم ٹٹولا۔ وہ تو اپنی جگہ پر موجود تھا، سامنے کون تھا۔ وہ آگے بڑھا۔ وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا چارپائی پہ جا کے بیٹھ گیا۔ اب اس کا ایک ہم شکل بوڑھا دروازے سے اندر داخل ہو رہا تھا۔ اندر آکر وہ رک گیا۔ اس نے پیشانی پہ ہاتھ رکھا اور بغور اسے دیکھنے لگا۔

 

اوئے پتر اس عمر میں سب ساتھ چھوڑ جاتے ہیں سب دور دور رہتے ہیں۔۔۔۔۔اوئے نیند بھی پرائی ہوجاتی ہے۔ کبھی کبھی پھیرا ڈالتی ہے۔
دروازے پر دستک ہوئی۔ کواڑ کھلے۔ ملازم شبیر حسین اندر داخل ہوا۔ اس نے ہاتھ میں ٹرے اٹھا رکھی تھی۔ شبیر کے اندر آتے ہی بوڑھے کی شبیہہ غائب ہو گئی۔ شبیر نے ہاتھ میں پکڑی ٹرے چارپائی کی پائنتی کی طرف رکھ دی۔ ٹرے کے اندر سٹیل کا گلاس رکھا تھا۔ اس نے گلاس اٹھایا اور صحن میں ایک طرف لگے نلکے کی طرف بڑھا۔ اس نے نلکا چلایا۔ نل سے پانی کی دھار بہہ نکلی اس نے بہتے پانی کے ساتھ گلاس صاف کیا۔ پانی بھرا۔ واپس چارپائی کے پاس آ گیا۔
بابا جی آپ کی آنکھیں سرخ ہیں؟ سوجی ہوئی بھی ہیں۔

 

“ہاں۔۔۔۔۔” اس نے مختصر جواب دیا۔

 

“لگتا ہے رات بھر سوئے نہیں” اس نے پانی کا گلاس بابا جی کو پکڑایا۔

 

“اوئے پتر اس عمر میں سب ساتھ چھوڑ جاتے ہیں سب دور دور رہتے ہیں۔۔۔۔۔اوئے نیند بھی پرائی ہوجاتی ہے۔ کبھی کبھی پھیرا ڈالتی ہے۔۔۔۔۔” باباجی کی آواز میں لرزش تھی۔ ابھی اس کی بات جاری تھی کہ اسے چکر سا آگیا۔ وہ لہرا کے چارپائی پر گرنے ہی لگا تھا کہ شبیر نے اسے تھام لیا۔

 

باباجی کے جسم کا لمس اسے اپنے بازوؤں پہ محسوس ہوا۔

 

“آپ کو تو بہت سخت بخار ہے”شبیر کے لہجے میں پریشانی تھی۔

 

“اوئے پاگلا! بڑھاپے میں بیماری ہی تو سب سے زیادہ وفاداری دکھاتی ہے۔ ساتھ ساتھ رہتی ہے قریب قریب پھرتی ہے۔ قبر تک ساتھ نبھاتی ہے”باباجی کو کھانسی کا دورہ پڑا۔

 

“آپ کھانا کھائیں ۔ میں ڈاکٹر صاحب کو بلا کے لاتا ہوں” اتنا کہہ کر شبیر چلا گیا۔

 

ایک بار بتا کے وہ بھول جاتا تھا۔ پھر جب وہ بات بتاتا تو اسے لگتا کہ وہ پہلی مرتبہ بتا رہا ہے۔ بتاتے ہوئے اسے اچانک یاد آجاتا کہ یہ بات تو وہ پہلے بھی بتا چکا ہے۔
اس کے سامنے ٹرے میں ایک میلی کندوری کے اندر روٹیاں لپٹی تھیں۔ ٹھنڈی روٹیاں۔ سٹیل کی پلیٹ میں تھوڑا سا بچا کھچا سالن تھا۔ یہ سالن بھی اس کی ضرورت سے زیادہ تھا۔ اس نے دو تین نوالے منہ میں ڈالے۔ اس کا دل کھانا کھانے کا نہیں کر رہا تھا۔ اسٹیل کا گلاس اس نے منہ سے لگایا۔

 

پانی کے دو چار گھونٹ لیے۔ ٹرے نیچے زمین پر رکھ کر وہ چارپائی پہ لیٹ گیا۔ بوسیدہ چارپائی اس کے نحیف جسم کا زور پڑنے پر چرچرا اٹھی۔ وہ لیٹا رہا۔ کافی دیر گزر گئی۔ کواٹر کا دروازہ کھلا پڑا تھا۔ کھلے دروازے سے گھر کا پالتو کتا موتی اندر آ گیا تھا۔ اس نے چارپائی کے اردگرد چکر کاٹا۔ کھانے کی پلیٹ کو چاٹتا رہا۔ گلاس سونگھا۔ منہ اٹھا کے اس کی طرف دیکھتا رہا۔ پھر باہر نکل گیا۔

 

دس منٹ گزرے اور شبیر اندر داخل ہوا۔ اس کے ساتھ پینٹ شرٹ میں ملبوس خوش شکل ڈاکٹر تھا۔

 

“ڈاکٹر صاحب ! کریم صاحب کو بخار ہے جیسا کہ میں نے آپ کو پہلے بھی بتایا تھا، ان کا بدن تپ رہا ہے” شبیر جو بات کو بار بار دہراتا تھا کلینک سے لے کر اب تک چوتھی مرتبہ ڈاکٹر کو بتا رہا تھا۔ ایک بار بتا کے وہ بھول جاتا تھا۔ پھر جب وہ بات بتاتا تو اسے لگتا کہ وہ پہلی مرتبہ بتا رہا ہے۔ بتاتے ہوئے اسے اچانک یاد آجاتا کہ یہ بات تو وہ پہلے بھی بتا چکا ہے۔

 

ڈاکٹر صاحب نے کریم بابا کا ہاتھ تھاما۔۔۔۔۔ ہاتھ کافی گرم تھا۔ انہوں نے پیشانی کو چھوا۔ پیشانی بھی تپ رہی تھی۔ ڈاکٹر نے بیگ میں سے تھرما میٹر نکال کر اس کے منہ میں ڈال دیا۔ نبض پر ہاتھ رکھ کے اس نے نظریں گھڑی پر جما دیں۔ نبض معلوم کرنے کے بعد انہوں نے بلڈ پریشر ماپا۔ بیگ میں سے نکال کے ٹیکہ لگایا۔ پیڈپر کچھ دوائیں لکھ کر شبیر کے حوالے کیں۔

 

“یہ دوائیں لا کر باقاعدگی سے کھلا دینا۔ امید ہے دو تین دن میں ٹھیک ہوجائیں گے۔” ڈاکٹر نے اتنا کہہ کر بیگ سمیٹا اور باہر نکل گیا۔ شبیر اسے کلینک تک چھوڑنے گیا۔ واپسی پہ وہ دوائیں بھی لیتا آیا۔

 

“کریم صاحب! میں نصیر صاحب کو بتاؤں گا کہ آپ کی طبیعت خراب ہے۔ آپ یہ دوائیں کھالیجئے گا”

 

باباجی نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا۔ شبیر نے گلاس دھویا بھی نہیں تھا۔ وہی گلاس جسے کچھ دیر پہلے موتی سونگھ کے گیا تھا اس نے پانی کا بھرا ہوا گلاس چارپائی کے قریب رکھ دیا۔

 

وقت بھی تو انسان کا تعاقب کرتا ہے۔ پیچھے پیچھے آتا ہے۔ سائے کی طرح ساتھ ساتھ رہتا ہے۔
وہ بدستور چارپائی پہ لیٹا ہے۔ کوراٹر کے صحن میں چارپائی ہے ۔ کوارٹر کے دو کمروں میں کاٹھ کباڑ اور پرانا استعمال شدہ سامان رکھا ہے۔ ایک کمرے میں وہ رہتا ہے۔ وہ بھی تو کاٹھ کباڑ کی ہی حیثیت رکھتا ہے۔ جتنا فائدہ اس کی اولاد اس سے اٹھا سکتی تھی اٹھا چکی۔ اب وہ ان پہ بوجھ بن چکا تھا۔ بے فائدہ بے مصرف بوجھ۔ وقت کی بساط پر فقط ایک پٹا ہوا مہرہ تھا۔ وہ ایسی بیساکھی کی حیثیت رکھتا ہے جسے ا ستعمال کرتے ہوئے اس کی اولاد اپنی منزل تک پہنچ چکی تھیں۔ اب اسے ایک کونے میں پھینک دیا گیا تھا۔ وقت بھی تو انسان کا تعاقب کرتا ہے۔ پیچھے پیچھے آتا ہے۔ سائے کی طرح ساتھ ساتھ رہتا ہے۔ چالیس سال پہلے وہ اس گھر کا مختار کل تھا۔ اس وقت بھی یہ کوراٹر یہیں اسی جگہ موجود تھا۔ اس کے عالیشان بنگلے کے عقب میں۔ بنگلے کی سنگ مرمر کی اونچی دیواروں سے پھسل کر نظریں کبھی اس کے عقب میں واقعی اس کواٹر تک نہیں پہنچ سکتی تھیں۔ چالیس سال قبل اس نے اپنے باپ کو بھی ایک بوجھ سمجھ کر اسی صحن میں لا کر اتار دیا تھا۔

 

وہ چارپائی پر لیٹا ہے۔ اس کی نظریں آسمان کو گھور رہی ہیں۔ آسمان پر تارے مدھم لو کے ساتھ جل رہے ہیں۔ تاروں کی مدھم روشنی شاید وقت کے ساتھ اس کی آنکھوں کی طرح مدھم ہوگئی ہے۔ اسے کم کم دِکھتا ہے۔ چارپائی پہ لیٹتے ہوئے اس نے دھندلے شیشوں کی عینک بھی اتار دی تھی۔ مدھم لوکے ساتھ چمکتے تارے۔ اس نے گردن گھما کے کمروں کی طرف دیکھا۔ سو واٹ کے بلب کی پیلی روشنی اس کے چبوترے پر پھیلی تھی اور صحن سے ہو کر داخلی دروازے تک جار ہی تھی۔

 

کمروں کے سامنے چبوترے پر اس کا ہم شکل بوڑھا بیٹھا ہے۔ اس نے عینک لگا کے غور سے دیکھا وہ اس کا بوڑھا باپ تھا جسے چالیس سال قبل اس نے یہاں دھکیلا تھا۔ اس نے گردن گھماکے دروازے کی طرف دیکھا۔ سوواٹ کے بلب کی پیلی یرقان زدہ روشنی میں اس نے دیکھا کہ دروازے سے نصیر اندر داخل ہو رہا ہے۔ شاید وہ اس کا پتا کرنے آیا ہے۔ اس نے سوچا یہ نصیر کی کمر کیوں جھکی ہے اور اس نے ہاتھ کمر پہ کیوں رکھے ہوئے ہیں۔ اس نے کپڑے کیوں پھٹے پرانے پہن رکھے ہیں۔ اس کی آنکھوں پہ دھندلے شیشوں کی عینک بھی ہے ۔ یہ نصیر یک دم بوڑھا کیوں ہوگیا ہے۔ یہ پیشانی پہ ہاتھ رکھے اسے گھور کیوں رہا ہے۔ یہ کوارٹر اس کے لیے وقت کا بھوت بنگلہ بن چکا ہے۔ اس کی عینک کے دھندلے شیشوں کے سامنے کبھی چالیس سال پیچھے کبھی چالیس سال آگے کی شبیہیں ابھر تی رہتی ہیں۔

Original Painting: David Allen