Laaltain

کیچڑ سے بھرے جوتے

سدرہ سحر عمران: اس منظر نامے میں تھا بھی کیا ؟
ہوا کے زور پہ پھڑ پھڑا تے شاپنگ بیگز کے ہیبت ناک قہقہے، گلے سڑے آلوؤں سے اٹھتی بساند، زرد ٹماٹروں کے پچکے ہوئے رخساروں پر جمی مٹی کی تہیں۔ پکے ہوئے خربوزوں کی انتڑیاں با ہر ڈھلک رہی تھیں۔

ہم خدا کا اگلا سوال سننا چاہتے ہیں

سدرہ سحر عمران: جب آسمان سرخ بادلوں کے دل سے
ایک نہر نکالے گا
وہ آنسو پھر سے کربلائی نظموں کا حصہ بن جائیں گے
جنہیں دسویں رات کے کنارے
موت کی نیند سلا دیا گیا تھا

فرات میں پھینکی ہوئی پیاس

سدرہ سحر عمران: ہم حسینؓ کے نام کی پرچیا ں
ان آ نکھوں میں ڈال آ ئیں گے
جن کی ویرانی سے زمین اندھی ہوتی جا رہی ہے

شامِ مطالعات

سقراط ایک فلسفی تھا منطقی طرز فکر کا جسے سرخیل سمجھا جاتا ہے جبکہ فکری دنیا میں سقراط ایک ایسی مِتھ بن گیا ہے، اصولوں پر سمجھوتے کی جگہ جس نے زہر کا پیالہ پینے کو ترجیح دی

بندوق کے نمازی

ان میں سے ہر ایک کے اندر ایک جرگہ ہے
جہاں کلہاڑی کے وار سے لکھا ہوا
“سزائے موت”

تم عورت سے باہر نہیں آ سکتے

تمہاری آنکھیں سنبھال سکتی ہیں
دنیا بھر کی بے لباسی
اور۔۔۔ تمہارے ہاتھ کی لکیریں منسوب ہو سکتی ہیں
فحش اشارے والی بالکونیوں سے
تم اپنے جسم کے مسئلے پر
خدا سے دوبارہ مذاکرات کر سکتے ہو

وہیل چیئرز پہ چلتے ہوئے مکان

ہم ۔۔۔۔
پیتل کے برتنو ں میں
مری ہوئی با رشیں اکٹھی کر تے ہیں
اور۔۔۔۔زندگی کے برساتی نالوں میں
پھدکتے پھرتے ہیں
مینڈکوں کی طرح!!