Categories
نان فکشن

ذہین شخصیت، حسین گلوکارہ : ٹیلر سوئفٹ

‘بدن کی بینائی’ سلسلے کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

زندگی میں کبھی کبھار کشمکش اور تڑپ کام آجاتی ہے، اس حالت میں ، ابہام محبوب اور وعدے بے وفا ہوتے ہیں۔ وعدے شخصیت میں سکون اور ٹھہرائو پیدا کرتے ہیں، جس کی وجہ سے جوش بھی سرد پڑتا ہے، جبکہ اضطراب سے توانائی فراہم ہوتی ہے اور نہ ہونے والے کام بھی ہونے لگتے ہیں۔ امریکی موسیقی کے منظر نامے پر’’ٹیلر ایلسن سوئفٹ‘‘ ایک ایسی ہی گلوکارہ اور گیت نگار ہے، جس نے کم عمری میں ہی اپنے فیصلے کیے، کمال یہ ہوا، وہ فیصلے کامیاب بھی ثابت ہوئے۔یہ عہد حاضر میں دنیا کی مقبول ترین گلوکارہ بن چکی ہے، جس نے میڈونا جیسی گلوکارہ کو بھی مقبولیت میں پیچھے دھکیل دیا، اس کے میوزک ویڈیوز دیکھ کر مائیکل جیکسن کی یاد تازہ ہوتی ہے۔ سب سے بڑھ کر اہم بات، وہ صرف ذہانت تک محدود نہیں، بلکہ اپنے حسن سے بھی بخوبی کام بھی لے رہی ہے۔ حسن ہے مگر دوآتشہ ہے۔

اس کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا، 27 برس بعدیہ دنیاکی نمبرون گلوکارہ ہوگی، اس کے فروخت ہونے والے البم کی تعداد کروڑوں میں ہوگی، اس کے کانسرٹس ایک ایک سال پہلے ایڈوانس بک ہو جایا کریں گے۔ اس کی شخصی ذہانت اور روحانی حرارت نے اس کو وقت سے پہلے باشعور کر دیا۔ اس نے زندگی کی ابتدا ہی عملی طورسے کی۔ صرف 14 برس کی عمر سے اپنے کیرئیر کی ابتدا’’کنٹری میوزک‘‘ سے کی، اس میوزک کی جڑیں امریکی افریقی لوک موسیقی میں پیوست ہیں، اس کو نئے انداز میں اپنایا اور پیش کیا۔

ٹیلر سوئفٹ امریکی ریاست’’پینسلوینیا‘‘ کے شہر’’ریڈینگ‘‘ میں دسمبر، 1989 میں پیدا ہوئی۔ اس کے والدین بھی اپنے اپنے شعبوں میں مہارت رکھتے تھے، انہوں نے اپنے بچوں کو اچھی تربیت دی اور ان کی مضبوط شخصی بنیاد رکھی۔ اس نے اپنی زندگی کا کچھ وقت دیہی پس منظر میں ایک زرعی خطے پر بھی گزرا، جہاں کرسمس کے درختوں کی کاشت ہوتی تھی۔ یہاں گزارے ہوئے وقت سے، اس کی شخصیت میں فطرت سے لگائو کا حسن پیدا ہوا۔ اس نے مختلف اسکولوں اور کالج سے اپنے تعلیمی مدارج طے کیے، ان میں راہبائوں کے ماتحت چلنے والا اسکول بھی شامل تھا، مگراس کے اندر موسیقی سے فطری رجحان موجود تھا، جس نے اس کو اپنا بنا کر چھوڑا۔

ٹیلر کے گیتوں میں ذات کے خدوخال، نا آسودہ خواہشیں، ادھورے وعدے، سسکیاں اور تمنائیں غالب محسوس ہوتی ہیں

اس نے 9برس کی عمر میں میوزیکل تھیٹر میں حصہ لیا۔ اپنے چھوٹے سے شہر سے باقاعدگی سے نیویارک سفر کیا، جس کا مقصد گلوکاری اور اداکاری کی تعلیم حاصل کرنا ہوتا تھا۔ یہی شوق اس کو میلوں ٹھیلوں کی طرف بھی لے آیا، جس کے ذریعے اس کاتعارف موسیقی کے عملی میدان سے ہوا۔ اسے یہ اندازہ ہوا، صرف گلوکاری کرنا ہی کافی نہیں ہوتا، بلکہ مارکیٹنگ کی کڑاہی میں بہت سارے فنی پاپڑ بیلنا پڑتے ہیں۔ عوامی اجتماعات، کانسرٹس اور میلوں ٹھیلوں سے خود کو جوڑ کر رکھنا ہوتا ہے، ٹیلی وژن اور ویڈیوز کی صورت میں سامعین اور مداحوں کے حواس پر طاری رہنا پڑتا ہے۔ اس عملی فن کی باریکیاں سمجھنے کے بعد، اس نے اس فنی کاریگری کا خوب استعمال کیا، یہی وجہ ہے، آج یہ پوری دنیا میں سب سے مصروف ترین گلوکارہ ہے، جس کے کریڈٹ پر دنیائے موسیقی کے سارے بڑے ایوارڈز بھی شامل ہیں۔ یہ کسی ایک دو شہروں یا ملکوں کا دورہ نہیں کرتی، ہر نئی البم پر پوری دنیا کا دورہ اس کے عام معموملات کا حصہ ہوتا ہے، اس مصروف تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے، اس کی ایک بہت بڑی ٹیم ہے، جس میں درجنوں کارکنان اس کے معاملات دیکھتے ہیں۔

ٹیلر سوئفٹ، خوش آواز بھی ہے اور خوبرو بھی

صرف 11برس کی عمر میں اس نے ایک دستاویزی فلم’’فیتھ ہل‘‘ دیکھنے کے بعد اپنی والدہ کے ہمراہ اس کو ریلیز کرنے والی کمپنی کے دفتر پہنچی اور اپنی آواز میں ریکارڈ کی ہوئی ایک ٹیپ جمع کروائی، جس کو مسترد کر دیا گیا، لیکن اس کم سن بچی نے ہمت نہ ہاری، اس کی آنکھوں سے خوابوں کی تتلیاں پرواز کرتی رہیں۔ ایک مقامی موسیقار کی مدد سے اس نے گٹار بجانا سیکھنا اور گیت نگاری کی ابتدا بھی کی۔ والدین کی مدد سے ایک امریکی ریکارڈ لیبل کمپنی کی تشہیری مہم کا حصہ بننے کے بعداس کے لیے بڑی امریکی ریکارڈلیبل کمپنیوں تک جانے کے راستے دریافت ہوئے۔ اس جدوجہد میں بھی یہ کم عمری لڑکی، اپنی والدہ کا ہاتھ تھامے سفر کرتی رہی، اپنی منزل کے نشان ڈھونڈتی رہی۔ 14 برس کی عمر میںاس کے پیشہ ورانہ رابطے بڑی کمپنیوں کے ساتھ استوار ہونے شروع ہوئے، ایکدم اس کی مقبولیت بڑھنے لگی، اس میں تعلیمی سفر بھی ادھورا رہ گیا، جو بعد میں گریجویشن کی شکل میں مکمل ہوا۔ اس کے گیتوں میں ذاتی زندگی کی جھلک بہت نمایاں ہے۔ چاہے وہ جدوجہد کے دنوں کی یاد ہو یا پھر محبت کے راستوں پر ٹوٹنے والے خوابوں کی کہانی ہو، اس نے گیتوں کی زبان میں اپنی ساری زندگی کو بیان کر دیا۔

ٹیلر سوئفٹ کی اب تک 6البم ریلیز ہوچکی ہیں، جن میں پہلی البم کا نام’’Taylor Swift‘‘ ہی ہے، جو 2006 میں ریلیز ہوئی اور بل بورڈ میوزک چارٹ کے دو سو بہترین البم میں پانچویں نمبر پر رہی۔ اس البم کے ایک گیت’’Our Song‘‘نے بہت دھوم مچائی۔ 2008 میں اس کی دوسری البم’’Fearless‘‘ ہے، جس میں اس کی صلاحیتیں مزید نکھر کر سامنے آئیں۔ ریلیز ہونے کے اگلے برس، اس البم کو امریکا میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی البم کا اعزاز بھی حاصل ہوا، جبکہ اس نے مغربی موسیقی کے سب سے بڑے ایوارڈ’’گریمی‘‘ کو چارمختلف شعبوں میں اپنے نام کیا، اس کے دو گیت’’لو اسٹوری‘‘ اور یو بلونگ وِد می‘‘ کو بہت پسند کیا گیا۔ اس کے بعد ریلیز ہونے والی اس کی دیگر البم’’Speak Now‘‘ اور’’Red‘‘ سمیت’’1989‘‘کے علاوہ، رواں برس ریلیز ہونے والا البم’’Reputation‘‘ شامل ہے، جس کی اب تک دو ملین کی فروخت کا ریکارڈ بن چکا ہے۔ اس کے علاوہ دنیا بھر کے کانسرٹس، میوزک ایوارڈز، شہرت اور دولت اس کا مقدر بن چکی ہے، یہی وجہ ہے’’ٹائم میگزین‘‘ نے اس کو دنیاکی 100بااثر شخصیات میں بھی شامل کیا۔ دیگررسائل و جرائد میں کسی نے اس کو طاقت ور عورت، تو کسی نے اس کو حسین دلربا سے تشبیہہ دی، مگر یہ ابھی تک ایک شہزادی کے روپ میں منتظرِمحبوب ہے۔

دنیا کے ہر ملک میں اس کی آمد کا انتظار ہوتا ہے، یہ اپنی مدھر آواز اور دلکش شخصیت سے مداحوں کا چین لوٹ لیتی ہے۔ اس کی شاعری میں ذات کے خدوخال، نا آسودہ خواہشیں، ادھورے وعدے، سسکیاں اور تمنائیں غالب محسوس ہوتی ہیں، یہ ویڈیوزبنانے میں بھی جدید ٹیکنالوجی کا بھرپور سہارا لیتی ہے، اس کے میوزک کی سب سے خاص بات ہے کہ یہ نوجوان نسل کے دلوں کی آواز ہے، پھر اس پر ٹیکنالوجی کا استعمال اس کو اور خاص بنا دیتا ہے، اس کو یہ بھی پتہ ہے، اپنے ہنر کی تشہیر کیسے کرنی ہے، اسی لیے اس کا ہر گانااور البم شائقین موسیقی کو اپنی طرف متوجہ کر لیتی ہے۔ ٹیلر سوئفٹ فکری لحاظ سے’’عورتوں کے حقوق‘‘کی بہت بڑی حامی ہے۔ فلاحی کاموں میں پیش پیش رہتی ہے،خطیر رقوم بطور عطیات دیتی ہے، سیاسی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتی ہے، سابق امریکی صدر اوبامہ کی انتخابی مہم میں بھی شریک رہی تھی۔ یہ تشہیری اداروں کا ایک ایسا چہرہ ہے، جو حسین تو ہے مگر دردمند دل لیے ہوئے۔

ٹیلر سوئفٹ کم عمری میں ہی کامیابی کی بلندیوں تک جا پہنچی ہے

ٹیلر سوئفٹ ایک ایسی خوش قسمت خاتون ہے، جس نے بہت کچھ قت سے پہلے حاصل کر لیا، مستقبل میں بھی اس کا شمار ایسے ہنر مندوں میں کیا جائے گا، جنہوں نے دل اور دماغ قابو میں رکھا، کامیابیوں کے تسلسل سے ان کے قدم نہ لڑکھڑائے۔ یہ کامیابیوں کو سنبھالنے کا فن جانتی ہے۔ ممکنہ حد تک خود کو تنازعات سے بچا کر رکھتی ہے اور اس کی پوری توجہ کیرئیر پر ہے، اس قدرکامیاب گلوکارہ کے دل کا خانہ ابھی تک خالی ہے، اس کے گیتوں میں بھی اداسی موجود ہے، اس کے سپنوں کا راج کمارابھی تک آیا نہیں، اس کے حسن کے دیپ پوری طرح روشن ہیں، مقدر کے ستارے کی طرح، مستقبل میں اس کے لیے ابھی بہت کچھ فتح کرنے کو باقی ہے۔۔۔

خرم سہیل سے رابطہ کیجیے:
khurram.sohail99@gmail.com

Categories
نان فکشن

پروقار برطانوی حسینہ؛ کیٹ ونسلیٹ

‘بدن کی بینائی’ سلسلے کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

دُنیا میں دو ہی طرح کے لوگ جنم لیتے ہیں، ایک وہ جو دل میں اُتر جاتے ہیں اور دوسرے وہ جودل سے اُتر جاتے ہیں۔ اس وقت ہماری نگاہوں کا مرکز وہی چہرہ ہے، جس نے بہت تیزی سے دلوں پر حکمرانی قائم کی، دیکھتے ہی دیکھتے نصف سے زیادہ دنیا میں فلمی شائقین کے دلوں کو مسخر کر لیا۔ حیرت انگیز طور پر گزرتے وقت کے ساتھ، اس کی مقبولیت میں کمی آنے کی بجائے مزید اضافہ ہوا ہے۔ وقت نے اس کو سب سے حسین تحفہ یہ دیا کہ مزید حسین کر دینے کے ساتھ ساتھ باوقار بھی بنا دیا، اب یہ متانت بھرا حسن اور پُروقار خوبصورتی دیکھنے والوں کے ذہن اور دل پر جادو طاری کر دیتی ہے، اس سحر زادی کا نام’’کیٹ ونسلیٹ‘‘ ہے۔

سحرزادی “کیٹ ونسلیٹ”

کیٹ ونسلیٹ نے جس طرح اپنا فنی کیرئیر آگے بڑھایا، وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ اس نے اداکاری کی جستجو میں، کرداروں کا تعاقب کیا، تو سب سے پہلے تھیٹر کے اسٹیج سے ہو کر گزری، نہ صرف اداکاری کی، بلکہ اپنی آواز سے کرداروں کی منظرکشی کی، کئی گیتوں میں اپنی آواز کا جادو جگایا۔ لندن میں سجائے جانے والے عوامی مقابلے، جس میں نوآموز اداکار حصہ لیتے ہیں، وہاں تک پہنچی اور سخت مقابلے کے بعداپنے آپ کو نمایاں کیا، اس عرصے میں حاصل ہونے والی کامیابیوں نے، خواہش کے راستے وضع کیے، یوں اس نے اپنے لیے سنگ میل منتخب کیا کہ اس کے فن کی منزل اور جنون کی معراج کیا ہوگی۔

کیٹ ونسلیٹ نے اپنے کرداروں کا تعاقب کیا

کیٹ ونسلیٹ کی پیدائش 5 اکتوبر، 1975 کی ہے۔ محض 42 برس کی عمر میں اس کے فنی سفر پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالی جائے، تو ایسا محسوس ہوتا ہے، ایک جہان فتح ہوچکا ہے۔ اس نے عزم وحوصلے کی ایک داستان رقم کی ہے، یہ سلسلہ ابھی تھمانہیں، متحرک ہے۔ غریب مگر فنکار خاندان میں آنکھ کھولی۔ اس کے دادا دادی نے ایک ریپٹری تھیٹر کمپنی بنا رکھی تھی، جس کے ذریعے وہ اپنے شوق اور ضرورتوں کی تکمیل کا سامان کیا کرتے، اس کے والد میں بھی یہ شوق منتقل ہوا، پھر یہ خود بھی اس وراثت کو آگے لے کر بڑھی اور لندن کے گلی کوچوں سے نکل کر عالمی اداکاری کے منظرنامے پر چھا گئی۔ کم عمری میں معاشی تنگی کے سائے اپنے گھر پر پڑتے دیکھے، مگر والدین کی انتھک محنت نے ان بچوں کی تربیت کو متاثرنہ ہونے دیا۔ آج بھی کیٹ ونسلیٹ گفتگو کرتے ہوئے ان کٹھن دنوں کو یادکرتی ہے۔

کیٹ ونسلیٹ کو آج بھی اپنے کٹھن دن یاد ہیں

اس خوبرو حسینہ نے اپنے شوق کی شروعات اسکول کے زمانے سے کیں، اپنی بہن کے ہمراہ اسکول اور علاقہ میں ہونے والے مقامی تھیٹرکی سرگرمیوں میں حصہ لیا، اس کم عمری میں، جن کرداروں کو ادا کرنے کامظاہرہ، تھیٹر کے اسٹیج پریہ کررہی تھی، وہ اس کے خواب تھے، جن کو حقیقت میں بدلنے کاعزم کیے یہ چھوٹی سی لڑکی، اپنی عمر سے بڑے بڑے کام کر رہی تھی۔ اس کی رہائش گاہ سے قریب’’Redroofs Theatre School‘‘ قائم تھا، یہ اس سے وابستہ ہوگئی، اسکول بچوں کو پیشہ ورانہ اداروں کے آڈیشنز میں بھیجا کرتا تھا، کیٹ کے کیرئیر کا ابتدائی راستہ یہی سے دریافت ہوا۔ اسے ایک معمولی سے اشتہار میں کام کرنے کا موقع ملا۔ کئی ایک فنی منصوبوں کی نگرانی کا کام بھی اس کے ذمے آیا، انہی دنوں موسیقی پر مبنی کھیل ’’Peter Pan‘‘ میں مرکزی کردارنبھانے کی ذمے داری بھی پوری کی۔ اس کے علاقے میں ہی ایک مقامی تھیٹر کمپنی، جس کا نام’’اسٹار میکر‘‘ تھا، اس کمپنی کے ساتھ کام کرکے کافی کچھ سیکھا۔ 20 سے زاید کھیلوں میں کام کیا، یہاں سے اس کی اداکارانہ بنیاد مضبوط ہوئی اور تھیٹر کے ان کھیلوں نے، اس کے اندر کی اداکارہ کو نکھار دیا۔
یہ پہلی مرتبہ 1991 میں بی بی سی کی ایک سائنس فکشن ٹیلی وژن سیریز’’Dark Season‘‘ میں کام کرکے چھوٹی اسکرین پر جلوہ گر ہوئی۔ تھیٹر اور ٹیلی وژن پر ملنے والی کامیابیوں کے باوجود، اس کے معاشی حالات بہترنہ ہوئے۔ اس کی زندگی میں وہ موڑ بھی آیا، جب اس کو رقم نہ ہونے کی وجہ سے اپنا اسکول بھی چھوڑنا پڑا۔ یہ باصلاحیت اور باہمت تھی، مگر وزن زیادہ ہونے کی وجہ سے، ڈراموں میں اس کو مرکزی کردار دینے سے گریز کیا جاتا تھا۔ 1992 میں اسے ایک مختصر کردار، ٹیلی وژن فلم’’Anglo-Saxon Attitudes‘‘میں دیا گیا، اسی عرصے میں ایک ٹیلی وژن سٹ کوم’’Get Back‘‘میں کام کرنے کے ساتھ ساتھ، برطانیہ کی معروف میڈیکل ڈراما سیریز’’Casualty‘‘کی ایک قسط میں بطورمہمان اداکارہ دکھائی دی۔

1994میں اس کو، نیوزی لینڈ کے معروف ہدایت کارکے نفسیاتی اور مجرمانہ کہانی کے تناظر میں فلمائے گئے ڈرامے’’Heavenly Creatures‘‘ میں، آڈیشن دینے کے بعد 175 لڑکیوں میں سے منتخب کیا گیا۔ یہ اس کے کیرئیر کی سنہری ابتدا تھی۔ یہ ثابت کرنے میں کامیاب رہی کہ اس کے اندر ایک باصلاحیت اداکارہ چھپی ہوئی ہے۔ یہاں سے قسمت کی دیوی اس پر مہربان ہونے لگی، مگر اسی وقت میں، اس نے کڑی محنت بھی کی، اپنی آواز کو بہتر کیا، مطالعہ کی صلاحیت بڑھائی، جس نوعیت کے فنی منصوبوں سے وابستہ ہوئی، ان کے متعلق اپنی معلومات میں اضافہ کیا، اپنے کرداروں کو نکھارنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ اس کی اگلی فلم’’Sense and Sensibility‘‘میں بھی اس کی اداکاری کوبہت پسند کیا گیا۔ یہ فلم معروف برطانوی ناول نگار’’جین آسٹن‘‘کے ناول سے ماخوذ تھی، اس فلم نے باکس آفس پر بھی بے حد مثبت اثرات مرتب کیے۔ کیٹ ونسلیٹ نے پہلی مرتبہ’’اسکرین ایکٹرز گلڈ ایوارڈ‘‘ اور’’برٹش اکیڈمی فلم ایوارڈ‘‘ حاصل کیے اور کئی ایک ایوارڈز کے لیے نامزد بھی ہوئی۔

1996میں کیٹ ونسلیٹ نے دو تاریخی ڈراموں’’جوڈی‘‘ اور’’ہیملٹ‘‘ میں منجھے ہوئے اداکاروں کے ساتھ کام کیا۔ 20سال کی عمر میں شیکسپیئر کے لکھے ہوئے ان کرداروں کو نبھاتے وقت، اس کے دل پر ایک عجیب خوف طاری تھا، مگر اس نے خود پر قابو رکھا اور کامیاب رہی۔ 1997 میں شہر ہ آفاق فلم’’ٹائٹینک‘‘ میں کام کرنے کے بعد تو اس کی زندگی بدل گئی، گویااس نے نیاجنم لیا۔ اس فلم میں کام حاصل کرنے کے لیے اس نے بہت عجیب وغریب حرکات بھی کیں، فلم کی عکس بندی سے پہلے، کتنے ہی عرصے تک، یہ فلم کے ہدایت کار’’جیمز کیمرون‘‘ کو خط لکھا کرتی، جس کے ذریعے اس کو احساس دلاتی کہ تمہاری کہانی کی مرکزی کردار’’روز‘‘صرف میں ہی ہوں۔ اس کردار کو حاصل کرنے کے لیے اس کی اضطرابی کیفیت نے جلتی پر تیل کا کام کیا، دل کی دستک پر یہ دروازہ جب کھلا، تو پھر اس کے سامنے شہرت اور دولت کے دروازے بھی کھل گئے، یہ الگ بات ہے، اس فلم نے 11آسکر ایوارڈز اپنے نام کیے، مگر کیٹ ونسلیٹ نامزد ہونے کے باوجود ایوارڈ حاصل نہ کر پائی۔ اب عالم یہ ہے کہ سات مرتبہ نامزد ہونے کے بعد1مرتبہ آسکر ایوارڈزجیتنے کے ساتھ ساتھ، شوبز کی دنیا کے سارے بڑے ایوارڈز جیتنے کے علاوہ، برطانیہ اور فرانس کے شاہی ایوارڈز بھی اپنے نام کر چکی ہے۔ آسکر ایوارڈجیتنے کا باعث اس کی فلم’’دی ریڈر‘‘ تھی، جس کے ذریعے اس نے یادگار اداکاری کی۔

’’ٹائیٹنک‘‘ جیسی کامیاب فلم کے بعد2001 میں، اس نے’’Enigma‘‘ میں Dougray Scottجیسے اداکار کے ساتھ کام کیا، پھر 2004 میں اس نے ایک اور اہم فلم’’Eternal Sunshine of the Spotless Mind‘‘میں Jim Carreyکے ساتھ اداکاری کی۔ اسی برس اسے ایک اورمعروف اداکارJohnny Deppکے ہمراہ’’Finding Neverland‘‘جیسی رومانوی فلم میں اداکاری کاموقع ملا۔

آنے والے چند برسوں میں’’The Holiday‘‘ اور’’The Reader‘‘ جیسی اہم فلمیں اس کے کیرئیر کاحصہ بنیں۔ 2008 میں پھر ایک مرتبہ، اس کوLeonardo DiCaprioکے ساتھ ایک اہم فلم’’Revolutionary Road ‘‘ میں کام کرنے کا اتفاق ہوا۔ 2011میں یہ اہم ترین فلم’’Contagion‘‘ اور’’Divergent ‘‘ میں ہالی ووڈ کے دیگر اہم اورمعروف اداکاراوں کے مدمقابل ہوئی۔2015میں دو مزید اہم فلموں’’Insurgent‘‘ اور’’The Dressmaker‘‘سے شائقین کے دل موہ لیے۔ ’’Steve Jobs‘‘نامی فلم، ایپل کمپنی کے بانی’’ اسٹیوجابز‘‘ کی سوانح عمری پر مبنی تھی، اس فلم کے ذریعے یہ ساتویں بار آسکرایوارڈ کے لیے نامزد ہوئی۔

کیٹ ونسلیٹ کا فنی سفر جاری ہے، اب تک یہ تقریباً 50 فلموں میں کام کر چکی ہے، جس میں 2020 میں ریلیز ہونے والی جیمز کیمرون کی سائنس فکشن فلم’’Avatar 2‘‘ بھی شامل ہے۔ ٹیلی وژن کے 14 ڈراموں میں بھی اپنے فن کامظاہرہ کیا اور 5مختلف فنی منصوبوں میں اپنی آواز کا جادوبھی جگا چکی ہے۔ 4کتابوں کی پڑھت کاری، ایک میوزک ویڈیو اور ایک ویڈیو گیم بھی اس کے کریڈیٹس میں شامل ہے۔ تھیٹر کے شعبے میں 7منصوبے بھی اس کے کام کاحصہ رہے ہیں۔ 50مرتبہ اہم اعزازات کے لیے نامزدہونے کی وجہ سے، یہ منفرداعزاز بھی اس کے پاس ہے کہ یہ اتنی بار اہم ترین اعزاز ات کے لیے نامزدکی گئی۔ رواں برس 2017 میں ایک مسلمان اور سیاہ فام امریکی اداکار ’’ادریس ایلبا‘‘ کے ساتھ فلم’’The Mountain Between Us‘‘ میں متنازعہ مناظر کی وجہ سے تنقید کانشانہ بھی بنی، مگر یہ اپنے جھگڑوں اورتنازعات کو خوش اسلوبی سے نمٹا بھی لیتی ہے۔

اس کے حسن کو نظرانداز کرنا مشکل ہے

یہ ذاتی زندگی میں فلاحی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہے اور پلاسٹک سرجری کے خلاف ہے۔ تین شادیاں کیں، کئی معاشقے چلائے، تین بچے ہیں، اب اس کی پوری توجہ کیرئیر اور بچوں پر ہے، یہ ایک اچھی اداکارہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھی ماں بھی ہے۔ ایک محبوبہ کے طور پر شاید ناکام رہی، مگر عمومی طور پر اس کی شخصیت فلم بینوں اور ناقدین کے لیے بھی متاثر کن ہے۔

اس کا حسن ظاہری چمک سے اگلے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں روح کے ساتھ جذبات بھی شامل ہو جاتے ہیں

کیٹ ونسلیٹ کا کیرئیر تین دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط ہے، عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کے مزاج میں ٹھہراو اور حسن میں نکھار پیدا ہوا۔ مستقبل میں یہ اداکارہ اپنے فن کی بدولت اور دلوں میں مزید گھر کرے گی۔ اس کاحسن ظاہری چمک دمک سے آگے کے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے، جہاں روح بھی جذبات میں شامل ہو جاتی ہے، یہی وجہ ہے،اس کے کئی کردار ایسے ہیں، جن کودیکھتے ہوئے اداکاری کی بجائے حقیقت کا گمان ہوتا ہے’’دی ریڈر‘‘ میں کیا ہوا کردار اس کی روشن مثال ہے۔ یہی کیٹ ونسلیٹ کی صلاحیتوں کا کرشمہ ہے، اس کے حسن اور فن کو نظر انداز کرنابہت مشکل امر ہے۔

Categories
نان فکشن

خوابیدہ امریکی حسن؛ فے ایمرسن

یہ چہرہ ان دنوں کی یاد ہے، جب حسن خوابیدہ ہوا کرتا تھا، جسم کی نمائش سے زیادہ، تخیل دل پذیر تھا۔ چہرے کے خدو خال ہی احساسات کی ترجمانی بھی کیا کرتے تھے۔ دل کے نہاں خانوں میں موجود بات، تصور کے زور پر بیان ہو جایا کرتی تھی۔ نمود و نمائش کی بجائے، ادائیں زینت بنا کرتی تھیں۔ اسی ماحول میں یہ چہرہ مغربی دنیا میں مقبول ہو کر شائقین کے دلوں پرکئی دہائیوں تک راج کرتارہا۔کلاسیکی حسن کی آبرو، بلیک اینڈ وائٹ دور کی خوبصورت علامت کا دوسرا نام’’فے ایمرسن۔Faye Emerson‘‘ ہے۔

فے ایمرسن: بلیک اینڈ وائٹ دور کا حسین چہرہ

ٹیکساس کی ایک عدالت میں بیٹھے، اسٹینو گرافر ملازم نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا کہ ایک وقت آئے گا، مریکی صدر کا بیٹا اس کا داماد ہوگا، مگر یہ سچ ثابت ہوا، جب اس کی حسین اور ذہین بیٹی 1917 کو اس کے گھر پیدا ہوئی۔ حُسن ہو تو نزاکت آہی جاتی ہے، ابتداسے ہی اس کے حسن میں ایک نزاکت اور اعتماد تھا، جس میں تمام زندگی رتی برابر فرق نہ آیا۔ امریکی دیہات میں پیدا ہونے والی اس خاتون نے یہ بہت جلدی سمجھا کہ ترقی کے زینے چڑھنے کے لیے کس سمت جانا ضروری ہے،لہٰذا آبائی علاقے کو خیر باد کہا، دوسری جنگ عظیم کے برپا ہونے سے قبل، کیلی فورنیا، سان ڈیاگو کی ہالی ووڈ نگری میں ڈیرے ڈال لیے۔

اس نے سان ڈیاگو میں رہتے ہوئے اعلی تعلیمی اداروں میں اپنی تعلیم مکمل کی، وہیں غیرنصابی سرگرمیوں میں بالخصوص اداکاری کے ساتھ خود کو جوڑے رکھا، 1935 میں زمانہ طالب علمی کے دور میں اپناپہلا کھیلRusset Mantleکھیلا۔ باقاعدہ کیرئیر کی ابتداکا سال 1940 تھا۔ ایک طرف دنیا کی عظیم طاقتیں آپس میں دست وگریباں ہونے کو تیار تھیں، تو دوسری طرف اس حسینہ نے بھی زندگی کی لڑائی میں حتمی محاذ پر جنگ لڑنے کا فیصلہ کرلیاتھا، اگلے کچھ برسوں میں یہ جنگیں کامیاب ہوئیں، ایک طرف اس کا وطن امریکا فتح یاب ہوا تو دوسری جانب اس نے شائقین کے دل جیت لیے۔ اس کی وضع دار شخصیت اور ذہانت سے بھرپور شخصیت نے اپنے تاثر کو ایسا جمایا، آنے والے کئی برسوں تک شائقین اس سحر میں گرفتار رہے۔

امریکہ دوسری جنگ عظیم جیتا اور اسی دوران فے ایمرسن مداحوں کے دل جیت لینے میں کامیاب ہوئی

’’فے ایمرسن۔Faye Emerson‘‘ کو ابتدائی طور پر کچھ ایسی فلمیں مل گئیں، جن کی وجہ سے بہت جلد وہ اپنی شناخت بنانے میں کامیاب رہی، ان میں سے1944میں ریلیز ہونے والی فلم The Mask of Dimitrios ہے۔ 1945میں Danger Signal اور 1950میں ریلیز ہونے والی فلمDanger Signalنے اس کو فلمی صنعت میں مزید کامیابی کی طرف دھکیل دیا۔حیرت کی بات یہ ہے، اس کو ایکشن اور جرائم پرمبنی فلموں کی فنکارہ کے طور پر شہرت حاصل ہوئی، جس میں شخصی حسن کادخل کم اور موضوعاتی دہشت کا عمل زیادہ تھا۔
اس کی دیگر معروف فلموں میں جنہیں شمار کیا جاتا ہے، ان میں Nobody Lives ForeverاورCrime by Nightسمیت Murder in the Big Houseاور دیگر شامل ہیں۔ اس نے طویل فنی رفاقت کے لیے Warner Brothersاور Paramountپروڈکشن ہائوسز میں سے پہلے والے کو چنا ، سب سے زیادہ کام ان کی فلموں میں کام کیا۔ فلم کے شعبے سے ٹیلی وژن کی طرف آتے آتے اس نے ایک مختصر دور تھیٹر سے وابستگی کا بھی گزارا، مگراس میں یہ کامیابی نہ سمیٹ سکی اور پھر یہ کلی طورپر ٹیلی وژن کی طرف آگئی۔ ٹیلی وژن کے کیرئیر کاآغاز کامیابی سے ہوا۔

فے ایمرسن ٹی وی اور فلم ہر جگہ کامیاب رہیں

اس زمانے کوٹیلی وژن کا مشکل دوربھی کہا جا سکتا ہے کیونکہ ،جب اس شعبے میں خواتین نہ ہونے کے برابر تھیں، اس نے نہایت اعتماد سے کام کیا، بعد میں وقت نے ثابت کیا، یہ واقعی باصلاحیت اور ذہین تھی ۔ 1948 کو ٹیلی وژن کے شعبے میں اس نے کئی معروف پروگراموں کی میزبانی کی، اپنے حسن کا جلوہ بھی دکھایا، ان میں سرفہرست ،جن پروگراموں کو بہت شہرت حاصل ہوئی، ان میں The Chevrolet Tele-Theatreجیسے پروگرام شامل ہیں، اسی طرح The Philco Television Playhouseکو بہت پسند کیا گیا۔

اس کی شہرت دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر میں پھیل گئی، یوں شوبز کی دنیا میں اس کانام ایک ستارے کی مانند چمکنے لگا ، جس کی پرچھائیاں اس کے حسن پر بھی مرتب ہوئیں اور اس کا حسن مزید نکھر گیا۔ 1950 تک دوسال کی قلیل مدت میں نے اس نے اپنے نام کا ڈنکا بجا دیا، اسی ٹیلی وژن پر اس کے نام سے بھی شوآن ایئر ہوتا رہا، جس نے اس کو عالمگیر شہرت عطا کی ، آگے چل کر یہ شہرت اتنی کام آئی کہ اس کی رسائی امریکی حکمرانوں کے ایوانوں تک ہوئی۔ اگلے کئی برس اس کی حکمرانی ٹیلی وژن پر برقرار رہی، اس کو ’’The First Lady of Television‘‘ کاخطاب بھی دیا گیا تھا، کیونکہ اس نے ان اولین ٹاک شوز کی میزبانی کی، جو پہلی مرتبہ رات گئے نشر ہوتے تھے۔ یہ اس کی کامیابی کا سنہرا ترین دور تھا۔ 1960میں اسے’’ہالی ووڈ واک آف فیم‘‘ کے ستاروں میں بھی شامل کر لیا گیا۔

’’فے ایمرسن۔Faye Emerson‘‘ کو متعدد محبتیں ہوئیں، مگر شادیاں صرف تین کیں، جن میں 1938میں William Crawfordسے پہلی شادی تھی، یہ زیادہ عرصہ برقرارنہ رہ سکی، اس عرصے میں یہ امریکی صدر Franklin D. Rooseveltکے صاحب زادے Elliott Rooseveltسے ملی جو عسکری اور سول کئی طرح کے اہم عہدوں پر فائز رہے، ان سے دوسری شادی کی۔ اس شادی کے ذریعے، اس نے امریکی حکمران طبقے تک اپنے تعلقات کا راستہ ہموار کر لیا۔ اس وقت کے اہم وفود میں اپنے شوہر اور امریکی صدر، سسر کی وجہ سے شامل رہی، دنیابھر کی اہم سیاسی شخصیات سے بھی ملاقاتیں ہوئیں، پانچ برس تک اس کی یہ مصروفیات شوبز کی ترجیحات پر حاوی رہیں۔ اس نے یہ اعلان بھی کیا، یہ شوبز ترک کردے گی، جبکہ اس وقت کئی ایک فلمیں نمائش کی جانے والی تھیں، جن میں Juke GirlاورLady Gangsterکے علاوہ Destination Tokyoجیسی فلموں کے علاوہ کئی فنی منصوبے زیرتکمیل تھے۔

یہ وہ زمانہ ہے، جب دوسری جنگ عظیم کے بادل امریکیوں کے سر پر منڈلا رہے تھے، اس فضا میں یہ حسینہ ایک فوجی کو عاشق بنانے میں کامیاب رہی ، اس عاشق نے اپنے جنگی جہاز کانام بھی محبوبہ کے نام پر رکھ چھوڑا، اس کے باوجودیہ عاشقی زیادہ عرصے تک نہ چل پائی۔ دونوں شوہروں سے اس کی ایک ایک اولاد پیداہوئی، پھر تیسری شادی کے لیے اس کی نگاہ انتخاب شوبزپر ہی ٹھہری، اس نے ایک میوزک بینڈ کے سربراہ اور پیانو بجانے والے Skitch Henderson سے شادی کرہی لی۔ عاشقانہ طبیعت نے اس کو تمام زندگی مضطرب رکھا۔
اس حسینہ نے اپنے فنی کیرئیر میں تقریباً 30فلموں اور درجنوں ٹیلی وژن شوز اور کمرشلز میں کام کیا۔کئی معاشقے کیے اور شادیاں کیں۔ اپنی زندگی کو خوب جی کر 1983کو65سال کی عمرمیں اس دنیا سے رخت سفر باندھا۔ ایک دیہات سے زندگی کی ابتدا کرنے والی اس حسین عورت نے سادے صفحہ جیسی زندگی میں، اپنی مرضی کے رنگ بھرے اور خوب بھرے، رنگین زندگی گزار کر امر ہوئی، اپنی زندگی کے آخری برس اسپین میں گزارے۔پہلے شوہر سے پیدا ہونے والے بیٹے نے، اس ڈھلتی زندگی کے کمزور دنوں میں اسے سہارا دیا۔
آج بھی اس کی مسکان میں ایک وقار اور طمانیت محسوس ہوتا ہے، کیونکہ اس کی تصویریں بھی بولتی ہیں۔ چہرے بہت ہوں گے، مگر یہ چہرہ امریکی شوبز میں اتنی آسانی سے فراموش نہیں کیا جا سکے گاکیونکہ اس کی مسکان میں ایک جادو ہے۔ اس کی زندگی کے منظر نامے پر امریکا کی فنی داستان اور سیاسی کہانیاں بھی درج ہیں، جن کو باریک بینی سے سمجھ کر پڑھا اورمحسوس کیا جا سکتا ہے۔

Categories
نان فکشن

نشیلی آنکھوں والی کورین اداکارہ؛ جی وون-ہا

‘بدن کی بینائی’ سلسلے کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں، ایک وہ جن کو خود اپنی تلاش ہوتی ہے، دوسرے وہ جنہیں کوئی اور دریافت کرتا ہے۔ وہ جن کو اپنی تلاش ہوتی ہے، خود سے بچھڑے ہوئے ہوتے ہیں اور خود سے بچھڑے کو کسی دوسرے سے بچھڑنے کا خوف نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے، وہ پوری تندہی سے اپنے آپ کو تلاش کرتا ہے، اس تلاش میں کبھی زندگی پر بہار کا موسم چھایا رہتا ہے اور کبھی زندگی ایک دی ہوئی مہلت کی طرح ختم ہو جاتی ہے۔ دنیا میں بہت کم ایسے لوگ ہوتے ہیں، جو مہلت ختم ہونے سے پہلے اپنے آپ کو تلاش کر لیتے ہیں، جنوبی کوریا کی اداکارہ’’جی وون۔ہا۔۔JI Won Ha‘‘ بھی ایسی ہی ایک خوش قسمت انسان ہے، جس نے اپنے آپ کو بہت جلدی تلاش کرلیا اور اب دنیا کو تسخیر کرنے نکلی ہوئی ہے۔

جی وون-ہا پر وقت ایک حسین لمحہ بن کر ٹھہر گیاہے

جنوبی کوریا کے دارالحکومت’’سیول‘‘ میں پیدا ہونے والی’’جی وون۔ہا‘‘ نے زندگی کی 39بہاریں دیکھ لی ہیں۔ ویسے بھی اس کا تعلق جس ملک اور معاشرے سے ہے، وہاں کی عورتیں عمر کی بڑی چور ہوتی ہیں، اپنی عمر سے کم دکھائی دیتی ہیں، یہ تو ہے ہی کم عمر، لیکن زندگی کو اتنے باشعور طریقے سے گزار رہی ہے، جس کو دیکھ کر اندازہ نہیں ہوتا کہ کوئی اتنا ذہین بھی ہوسکتا ہے۔ ویسے بھی ایشیا کے ممالک میں چین کے بعد جنوبی کوریا وہ دوسرا ملک ہے، جس کے ہاں ترقی کی رفتار بہت تیز ہے، یہ انٹرٹینمنٹ اور فیشن کی صنعت سے لے کر تعلیم اور دیگر شعبوں میں بہت آگے نکل رہے ہیں، اپنے پڑوسی ملک جاپان کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اپنے معاشرے کی برق رفتار ترقی کے ساتھ’’جی وون۔ہا‘‘ نے بھی اپنا فنی کیرئیر بہت تیزی سے پروان چڑھایا ہے۔ذاتی زندگی میں کامیاب ہے،اس نے ساتھی اداکار hyun binسے شادی کی،زندگی کا یہ کامیاب سفربھی اداکاری کے ساتھ ساتھ جاری ہے۔اس کاشمار اب جنوبی کوریا کی ان اداکاراؤں میں ہوتاہے،جن کا معاوضہ ایک خطیر رقم ہوتی ہے۔
’’جی وون۔ہا‘‘ نے فیشن، اداکاری اور گلوکاری کے شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ اسے زمانہ طالب علمی میں فیشن اور گلیمر سے رغبت تھی، اس نے اپنی کچھ تصویریں، اشتہارات کی ایجنسیوں کودے رکھی تھی، جنہوں نے اس کو متعدد بار ماڈلنگ کرنے کے مواقع بھی فراہم کیے۔ اسی بے فکر ی کے زمانے میں اس نے تھیٹر کے ذریعے اپنے کیرئیر کو شروع کرنی کی آرزوپرعمل درآمد کیا، جس میں ابتدائی طور پر کچھ رکاوٹیں آئیں، مگر پھر اس نے اپنے ہدف کو پالیا۔ 90کی دہائی کے آخری برسوں میں اس نے ماڈلنگ کے محدود منصوبوں پر کام کرتے ہوئے، تھیٹرکے شعبے میں اپنی پیشہ ورانہ اداکاری کی شروعات کی۔ جنوبی کوریا کی معروف یونیورسٹی Dankookسے فلم اور ٹیلی وژن میں گریجویشن کیا، اب بھی اس میں تعلیم حاصل کرنے کاجذبہ موجود ہے اور مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے نیوزی لینڈ جانا چاہتی ہے۔

جی وون ہا کی تلاش ابھی ختم نہیں ہوئی

جدوجہد کے ابتدائی برسوں میں ہی’’جی وون۔ہا‘‘کو ٹیلی وژن پر کام کرنے کا موقع مل گیا۔ 1996میں نوجوان نسل کے لیے بنائے جانے والے ایک ڈرامے ’’نیوجنریشن رپورٹ‘‘ میں اس نے ایک طالبہ کا کردار نبھایا، اگلے دوتین برسوں میں مزید کئی ڈراموں میں کام کرنے کا موقع ملا، اس کی صلاحیتیں نکھر کرسامنے آئیں، اس کوخود بھی اندازہ ہوگیا، یہ کہاں اور کس طرح کا کام کر سکتی ہے، ٹیلی وژن کے ہی ایک ڈرامے School 2سے اس کی مقبولیت کا آغاز ہوا اور آگے بڑھنے کے لیے مزید راہیں کشادہ ہوئیں۔

نئی صدی کی ابتدا، اس کے لیے اچھا شگون تھی، 2000میں اس کو بیک وقت تین فلموں میں کام کرنے کا موقع ملا، لیکن اس کی اصل شہرت کی وجہ ٹیلی وژن ہی بنا، جب اس کو ایک تاریخی ڈرامے’’دامو۔Damo‘‘ میں کام کرنے کاموقع ملا، یہ پورے جنوبی کوریا میں مشہور ہوگئی اور اسی کھیل کی بدولت، اس کی شہرت ملک کی سرحدوں سے باہر بھی نکلی، اس کی ایک سامنے کی مثال پاکستان ہے، ان دنوں جہاں اس کا یہ ڈراما اردو زبان میں ڈب ہوکر ایک نجی چینل سے ہر ہفتے نشر ہوتا ہے، پاکستانی ناظرین کی ایک بڑی تعداد اس کی صورت سے واقف اور اداکاری کی مداح ہوگئی ہے۔

معصوم چہرے کی مالک، تیکھے نقوش اور نشیلی آنکھوں والی’’جی وون۔ہا‘‘ نے، ٹیلی وژن کی مقبولیت سمیٹتے ہوئے، اپنے ڈرامے Damoکے علاوہ دیگر جن ڈراموں میں کام کرکے کامیابی حاصل کی، ان میںHwang JiniاورEmpress Ki شامل ہیں۔ یہ اب تک درجن بھر سے زیادہ ٹیلی وژن ڈراموں میں کام کر چکی ہے، جس میں سے زیادہ ترمقبول ہوئے۔ ٹیلی وژن کے بعد فلم کے شعبے میں اس نے اپنانام کمایا۔جنوبی کوریا میں ایک بڑے بجٹ کی فلم’’Tidal Wave‘‘کے ذریعے بے حد مقبولیت حاصل کی، یہ سمندری طوفان پر بنی ایک جدید ٹیکنالوجی کی شاہکارفلم تھی، جس نے اس کا فنی منظرنامہ ہی تبدیل کردیا۔

جی وون ہا دیکھنے والوں کو بے قرار کرنے کا ہنر جانتی ہے

اس کی دیگر مقبول فلموں میں Sex is ZeroاورDuelistشامل ہیں، Phoneبھی اس کے لیے ایک مقبول اور کامیاب فلم ثابت ہوئی، اس فلم کو اٹلی میں شہرت ملی، اس کو’’ایشیا کی خوفناک شہزادی‘‘ کا خطاب بھی ملا، کیونکہ یہ فلم انتہائی ڈراونی تھی۔ یہ اپنی سائنس فکشن فلم’’سیSector 7‘‘ کی بدولت چین میں بھی اپنی مقبولیت کے جھنڈے گھاڑ چکی ہے۔ 2016میں’’Life Risking Romance‘‘ نامی فلم میں ویت نام کے اداکار Chen Bolinکے ساتھ کام کررہی ہے، یہ فلم جنوبی کوریا اور چین کی مشترکہ پروڈکشن ہے۔ رواں برس 2017میں Manhuntنامی فلم کے ذریعے ایک ہالی ووڈ پروڈکشن کا حصہ بن چکی ہے، اس فلم کا ہدایت کار Jhon Wooہانگ کانگ کا معروف ہدایات کار ہے۔ ’جی وون۔ہا‘‘اب تک دو درجن سے زاید فلموں میں کام کرنے کے بعد عالمی شوبز میں ایک جانا پہچانا نام بن چکی ہے۔ اس نے مختصر کیرئیر میں جنوبی کوریااورمغرب کے درجنوں اعزازات بھی اپنے نام کیے ہیں۔

’’جی وون۔ہا‘‘نے موسیقی کی دنیا میں بھی قدم رکھا، پہلے ایک ماڈل کی حیثیت سے کئی میوزک ویڈیوز میں دکھائی دی، پھر خود بھی اپنی آواز کا جادو جگایا اور 2013میں Home Runکے نام سے ایک البم بھی ریلیز کی۔انفرادی حیثیت میں ریلیز کیے گئے گیت اس کے علاوہ ہیں۔ ٹیلی وژن کے کئی پروگراموں کی میزبانی اور فلاحی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ لکھنے پڑھنے سے بھی دلچسپی ہے، جس کی وجہ سے 2012میں اپنی یاد داشتوں پر مبنی کتاب’’At This Moment‘‘ لکھی اور ایک کافی ٹیبل بک بھی شایع ہوئی، جس میں اس کی زندگی کااحاطہ تصاویر کی مدد سے کیا گیا۔ یہ خود شاعری بھی کرتی ہے، اپنے کئی گیت لکھ کر گا بھی چکی ہے۔ کتابوں کی کمائی فلاحی مقصد کی خاطر عطیہ کر دیتی ہے۔ کئی تشہیری کمپنیوں اور ملک کے اہم اداروں نے اس کو اپنی سفارت کاری کا منصب بھی عطا کیا، مثال کے طور پر 2012میں لندن میں منعقد ہونے والے اولمپکس گیمز ہیں، جن کے لیے اسے اعزازی کوچ کے طورپر جنوبی کوریا کی طرف سے شرکت کرنے کا موقع ملا۔

’’جی وون۔ہا‘‘ایک عجیب مستانی سی طبیعت کی مالک لڑکی ہے۔ جب اس نے اپنا فنی کیرئیر شروع کیا تو اپنے اصل نام کی بجائے، اپنے پہلے منیجرکے نام پر اپنانام رکھ لیا، جو آج بھی برقرار ہے۔ بقول اس کے ’’یہ ایک دلکش اور بے باک نام ہے۔‘‘ زندگی میں اس کو فتح اور کامیابیاں تحفے میں نہیں ملیں، بلکہ اس نے انتھک محنت کی، تھیٹر اور ٹیلی وژن کے ابتدائی دور میں، اس کو کام کرنے کے لیے کئی مرتبہ آڈیشنز کے مراحل سے گزرنا پڑا، جس میں کئی بار اس کو رد بھی کیا گیا۔ فلم کے کیرئیر میں بھی ہزاروں کی تعداد موجود اداکاروں میں آڈیشن کے ذریعے منتخب ہوئی، اپنی پہلی فلم’’Truth Game‘‘میں اداکاری کی اور اسی کے ذریعے ہی کئی بڑے اعزازات اپنے نام کرلیے۔ اس نے پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا، ٹیلی وژن ہو یا فلم، اس نے تاریخی، ایکشن سے بھرپور اور رومانوی، ہر طرح کے کردار نبھائے۔
نشیلی آنکھوں والی جنوبی کورین اداکارہ اور شوبزکی شہزادی کا سفر کامیابیوں کے ساتھ جاری ہے۔ اس کے چہرے کوغور سے دیکھا جائے، تو ایسا لگتا ہے، ابھی اس کی تلاش ختم نہیں ہوئی، اس نے جاگتی آنکھوں بہت سارے خواب دیکھ رکھے ہیں، جن کو پانے کی چاہ میں، رتجگوں نے اس کی آنکھوں کا راستہ دیکھ لیا ہے، نیند کی تشنگی، کام کی زیادتی اور شباب کا نشیلا پن، اس کی آنکھوں کے راستے، سارے جسم کو مخمور کیے ہوئے ہے اور دیکھنے والوں کو بے قرار۔۔۔۔۔۔۔

Categories
تبصرہ

خرم سہیل کی تین کتابیں

خرم سہیل سے میری ملاقاتوں کو ایک برس سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔ کئی ادبی صحافیوں کی طرح میں ان کے بھی صرف نام سے ہی واقف تھا۔پہلی ملاقات گزشتہ سال حلقہ اربابِ ذوق کے اجلاس میں ہوئی، تب سے آج تک ہمار ملناا برابر رہتا ہے۔دیکھنے میں تو یہ بہت تھوڑا ساعرصہ ہے۔ لیکن میں نے اس عرصے میں انہیں علم و ادب و فن کاجویا اور متجسس پایا۔وہ متواتر اور مسلسل کئی چیزوں کے لیے متحرک اور سرگرداں رہتے ہیں اور ان سب چیزوں کا علم و ادب و فن کے ساتھ ہماری سماجی، ثقافتی اور تہذیبی زندگی سے بھی گہرا تعلق ہے۔ان کی دلچسپیوں کا دائرہ بے حد وسیع ہے، جو پھیلتا اور سکڑتا بھی رہتا ہے۔اس میں ریڈیو، فلم، تھیٹر، ٹی وی، ادب، کھیل، ترجمہ نگاری،کتابوں کی ترتیبِ و تدوین و اشاعت،غرض کہ اور بھی بہت کچھ ہے۔ حتی کہ وہ آج کل فکشن لکھنے کے حوالے سے بھی سوچ رہے ہیں۔ان سے کچھ بعید نہیں کہ وہ کسی روز فلم لکھنے اور بنانے کا بھی اعلان کردیں۔

سیمابی مزاج اوربے قرار دل و دماغ رکھنے والے خرم سہیل کی متنوع دل چسپیوں میں سے ایک ایسی ہے، جس میں وہ گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے مصروفِ کار ہیں اوروہ ہے انٹرویو نگاری۔یہ بات ان کی طبیعت میں موجودمستقل مزاجی کا بھی پتا دیتی ہے۔انٹرویو بنیادی طور پر دو افراد کے درمیان ایسی گفتگو ہے، جس میں انٹرویو لینے والا، دینے والے سے کسی بھی موضوع پر زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرتا ہے اور اسے دوسروں تک پہنچاتا ہے۔انٹرویو دینے والی شخصیت، اپنے اختصاص اور کسی شعبے یا شعبوں سے اپنی گہری وابستگی کے سبب ایک ایسی کان کی مانند ہوتی ہے، انٹرویو لینے والا اپنی اہلیت اور صلاحیت کے مطابق ہی جس میں سے معلومات کا سونا نکال سکتا ہے۔

انٹرویو ز کی ان کی پہلی کتاب ’’باتوں کی پیالی میں ٹھنڈی چائے‘‘اور دوسری کتاب ’’ سُر مایا‘‘ بہت پہلے ہی داد کی سند حاصل کرچکی ہیں۔جب کہ ابھی حال ہی میں ان کے کیے ہوئے انٹر ویوز کا ایک انگریزی ترجمہ چھپا ہے۔جس کا نام ہے۔A Conversation with legends– A History in session۔اس کتاب کا ترجمہ اور اس کی ایڈیٹنگ محترمہ عفرا جمال نے کی ہے۔میں ان تینوں کتابوں کے بارے میں چندخیالات کا اظہار کرنا چاہوں گا۔

عفرا جمال صاحبہ نے اس کتاب کے دیباچے میں لکھا ہے کہ اس کتاب پر کام کرنے کے منصوبے کا آغاز اس تجسس سے ہوا کہ کسی پڑھنے والے کو پاکستانی لیجینڈز کے بارے میں مواد کہاں سے میسر آسکتا ہے۔ کیوں کہ ان میں سے اکثر شخصیات اپنی زندگی میں خود تو تاریخ بنانے میں مصروف رہیں اور اپنی یادداشتیں لکھے بغیر دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ایسے میں ان کی نظرِ انتخاب خرم سہیل کے اردو میں کیے ہوئے انٹرویوز کے مجموعوں کی جانب گئی، جو خود ان انٹرویوز کے لیے مترجم کے منتظر بیٹھے تھے۔

اس کتاب میں شامل چند شخصیات کو پڑھنے کے دوران مجھے احساس ہوا کہ شاید یہ کتاب انٹرویوز کی کتاب نہیں ہے۔ اس کے بعد میں جوں جوں آگے بڑھا، یہ احساس ایک مضبوط خیال کی صورت اختیار کرتا چلا گیا۔ مجھے تو یہ کتاب مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات پر مختصر اور درمیانے درجے کے مضامین کا مجموعہ معلوم ہوئی۔جسے عفرا جمال صاحبہ نے بے حد تخلیقی اور تخئیل سے معمور انگریزی نثر سے آراستہ کیا ہے۔ اس لحاظ سے وہ اس کتاب کی صرف ایڈیٹر اور مترجم نہیں رہتیں بلکہ مصنفہ معلوم ہوتی ہیں۔۔انہوں نے خرم سہیل کے پوچھے ہوئے سوالوں اور ان کے حاصل کردہ جوابوں کو اس طرح لکھا ہے کہ کہیں کہیں خاکہ نگاری کا گمان گزرتا ہے اور کہیں کہیں مضمون نگاری کا۔بہر حال یہ ان دونوں کی مشترکہ کاوش ہے۔اس کتاب میں لگ بھگ پچاس مختلف شخصیات کے حوالے سے مضامین یا Write-upsشامل ہیں اور سب شخصیات کا تعلق مختلف شعبہ ہائے زندگی سے ہے۔ان کے بارے میں پڑھتے ہوئے ہم نہ صرف ان نادر افراد کے نادر خیالات سے روشناس ہوتے ہیں بلکہ اپنی آنکھوں سے ان کی ایک جھلک بھی دیکھ لیتے ہیں۔

نجانے کیوں کئی شخصیات کے بارے میں پڑھتے ہوئے ایک تشنگی سی بھی محسوس ہوتی ہے۔ مطالعے کے دوران جی چاہتا ہے کہ کاش ان منفرد اور یکتا انسانوں کے بارے میں تھوڑی سی معلومات اور مل جاتیں۔ فنون سے وابستہ یہ اشخاص اپنے فن کے بارے میں دو چار گہری باتیں اور کر لیتے۔اب یہ اس کتاب کی خوبی ہے یا خامی، میں اس بارے میں تشکیک میں مبتلا ہوں۔

عبداللہ حسین، ڈاکٹر جمیل جالبی،مستنصر حسین تارڑ، بانو قدسیہ،ڈاکٹر انور سجاد،انتظار حسین،جیسے بڑے فکشن نگاروں کی عمریں اور کام جتنے پھیلاو کا حامل ہے، وہ اس بات متقاضی تھا کہ ان سے ان کے کام اور ان کے زمانے کے حوالے سے طویل مکالمہ کیا جاتا۔ میری ناقص رائے میں کئی ہزار صفحات لکھنے والے ان اہم ترین ادیبوں کو چند صفحات کے انٹر ویو کے ذریعے دریافت کرنا کارِ دشوار ہے۔اس لیے اس کتاب میں شامل تحریروں کا تاثر تعارفی محسوس ہوتا ہے مگر یہ تعارف پاکستان میں اپنی زندگی گزارنے والے ادیبوں، شاعروں اور فنکاروں کا ہے، اس لیے اس کی تحسین ضروری ہے۔

کتاب کے ٹائیٹل میں شامل دو الفاظ ’’Legend‘‘ اور ’’ History‘‘ اپنے معانی میں جس گہرائی اور وسعت کے حامل ہیں، کاش اس میں شامل تمام کی تمام شحصیات بھی اس گہرائی اور وسعت کی حامل ہوتیں۔کچھ کمی بیشی کرنے سے کتاب پر یقیناً خوشگوار اثر مرتب ہوتا۔ جیسے خلیل الرحمن قمر،اصغر ندیم سید، امجد اسلام امجد، عاطف اسلم،ٹی وی آرٹسٹ نبیل،نعیم بخاری، شاہد آفریدی اور ایسے ہی کچھ اور نام بھی ہیں، جو کسی طرح لیجنڈز کہلانے کے مستحق نہیں۔میرے خیال میں ہر مشہور شخصیت لیجنڈ نہیں ہوا کرتی اور نہ ہی وہ کوئی تاریخ بناتی ہے۔اس کتاب میں شامل کئی مشہور شخصیات کو لیجنڈ قرار دینا درست رویہ نہیں ہے۔

اس کے بعد مجھے خرم سہیل کی اس کتاب کا ذکر کرنا ہے،جس میں اس کے انٹرویوز خوب نکھر کر آئے ہیں اور وہ ہے سُر مایا۔یہ ترتیب کے اعتبار سے ان کی دوسری کتاب ہے۔اس میں انہوں نے پاکستان کی دنیائے موسیقی کے اہم ترین ناموں کے انٹرویوز یکجا کیے ہیں۔ اس کا ہر انٹرویو موسیقی کے حوالے سے ہماری معلومات میں بیش قیمت اضافہ کرتا ہے۔ ہم کچھ نئی، انوکھی اور منفرد باتیں جانتے اور سیکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر مشہور ستار نواز استاد رئیس خان نے خرم کے ایک سوال کے جواب میں کلاسیکل ساز ’’سارنگی‘‘ کے بارے میں بتایا کہ اس کا اصل نام تو سو رنگی تھا، جو بعد میں سارنگی ہوگیا۔اس کتاب میں آپ کو شام چوراسی گھرانے سے تعلق رکھنے والے ریاض علی خان کی المیہ کہانی بھی پڑھنے کو ملے گی۔ موسیقاروں کو ان کی زندگی میں کیسی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا، اس کا احوال پڑھنے کو ملتا ہے۔یہ جاننے کو ملتا ہے کہ معروف موسیقارگھرانوں کے بزرگ اپنے بیٹوں کو یہ فن سکھانے کے لیے کتنی سخت گیری سے کام لیا کرتے تھے مگر اس سخت گیری کی وجہ سے ان کی اولادوں نے ان کیسے شان دار انداز میں اپنے بزرگوں کا نام روشن۔اس کتاب کے آخر میں گیت نگاری کا فن مستقل اختیار کرنے والے چند شاعروں کے بھی انٹرویوز شامل ہیں۔ان میں ممتاز غزل گو صابر ظفر بھی ہیں، جن سے بہت اچھی باتیں کی گئی ہیں۔ جنہیں پڑھ کر ان کی زندگی اور شاعری سے گہری وابستگی کا احوال پڑھنے کو ملتا ہے۔ اس کتاب مین اور بھی بہت کچھ ہے۔
معروف براڈکاسٹر اور ادیب رضا علی عابدی نے خرم کی اس محنت کو موسیقی سے خراجِ عقیدت کا انداز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موسیقی کی لطافتوں اور نزاکتوں کے بھیدخرم سہیل نے اپنی کتاب ’’سُر مایا‘‘ میں کھولے ہیں۔اس کتاب میں کوئی ساٹھ ایسے لوگوں کی باتیں جمع ہیںجن کو موسیقی کے کسی نہ کسی اسلوب سے نہ صرف گہرا تعلق رہا ہے بلکہ جنہوں نے سر کے ذریعے نام کمایا ہے اور موسیقی کے سراہنے والے والوں کے دل و دماغ پر اپنانقش چھوڑا ہے۔

گلزار نے سُر مایا کے فلیپ پر لکھا ہے کہ خرم سہیل کو سوال بہت پریشان کرتے ہیں۔وہ ہر آنے جانے والے سے اس کا پتا پوچھتا رہتا ہے۔وہ جانتا ہے کہ وہ لوگ گھروں میں نہیں رہتے، وہ فنکار ہیں، وہ گھروں میں تو صرف رکتے ہیں، رہتے کہیں اور ہیں۔وہ سروں میں رہتے ہیں اور بستے کہیں اور ہیں۔

میرا خیال ہے کہ خرم سہیل، سوال کی بھڑکتی لو میں ٹھٹھک کر چلتا اسرارِ موسیقی کی غلام گردش میں تنہا گھومتا رہا لیکن جب وہاں سے لوٹا تو سُر مایا جیسی کتاب ہمارے سامنے لایاتا کہ ہم بھی موسیقی کے بھید جاننے میں اس کے ساتھ شامل ہوجائیں۔

اب خرم کی پہلی کتاب’’ باتوں کی پیالی میں ٹھنڈی چائے‘‘کے بارے میں چند باتیں۔یہ کتاب 2009-10میں پہلی بار شا یع ہوئی تھی۔اس کا بیشتر حصہ ادب کے مختلف شعبوں یعنی افسانہ، ناول،نظم، غزل، تنقید، تحقیق سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے انٹرویوز پر مشتمل ہے جب کہ ایک حصے میں تھیٹر، فلم،ریڈیو اور ٹی وی سے وابستہ افراد اورا ایک حصہ بین الاقوامی شخصیات پر مشتمل ہے۔ انہیں پڑھ کر ہمیں ان تمام افراد کے بارے میں خاطر خواہ باتیں معلوم ہوتی ہیں۔یہ انٹر ویوز روزنامہ آج کل میں شایع ہوئے تھے۔

فراست رضوی صاحب اس کتاب کے دیباچے میں لکھتے ہیں؛’’خرم سہیل گو انٹرویو لینے کے فن میں نئے ہیں لیکن اتنے نئے لگتے نہیں۔وہ ادبی اور ثقافتی موضوعات پر بات کرتے ہوئے پختہ کار نظر آتے ہیں۔شاید اس کا سبب ان کی محنت اور اکتساب ہے۔‘‘

ادب، موسیقی یا دیگر شعبوں سے وابستہ افراد اپنی پوری زندگی اپنے کام کے لیے وقف کرتے ہیں۔ اسی لیے ان شخصیات کے کام کی وسعت، باریکی اور گہرائی کا احاطہ کرنے لیے ایک سے زائد نشستیں کی جانی چاہئیے تھیں۔ تاکہ اپنے کام کے ساتھ ایک عمر گزارنے والی شخصیات کا بہتر طور پر احاطہ کیا جاسکتا،کیوں کہ اسی طرح کوئی انٹرویو تاریخ میں مستقل حیثیت کا حامل بن سکتا ہے، ورنہ تاریخ تو ہر روز تبدیل ہوتی ہے اورہر روز کئی انٹر ویو شایع ہوتے ہیں۔خرم سہیل اب زیاد ہ پختہ کار ہوچکے ہیں، اس لیے میں ان سے توقع زیادہ رکھتا ہوں۔امید ہے وہ اس توقع پر پورا اتریں گے۔

Categories
نان فکشن

شوبز کی ترک شہزادی؛ بیرین ساعت

‘بدن کی بینائی’ سلسلے کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

کچھ چہرے ایسے ہوتے ہیں، جن پر صرف نظر پڑتی ہے تو وہ دل کو بھا جاتے ہیں۔ ان چہروں کو پسند کرنے کی فوری کوئی وجہ نہیں ہوتی، بس ان کو دیکھنا اچھا لگتا ہے۔ ترکی میں ایک ایسا ہی چہرہ، شوبز کی دنیا میں نمودار ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے سب کی آنکھوں کا تارا بن گیا۔ اس حسین چہرے کو ’’بیرین ساعت‘‘ کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ تتلیوں جیسی اُڑان بھرنے والی اس کمسن اور خوبصورت اداکارہ نے اپنی پختہ اداکاری سے ناظرین کے دل موہ لیے۔ ترکی کی مقبول ترین اداکارہ نے اپنی اداکاری سے ایسی شناخت بنائی کہ آج ترکی سمیت دنیا کے کئی ممالک اس کے نام اورکام سے بخوبی واقف ہیں۔

بیرین سات اپنی اداکاری کے باعث کئی ممالک میں مشہور ہیں

پاکستان میں گزشتہ کچھ برسوں سے ترکی ڈراموں کو متعارف کروایا گیا، دیکھتے ہی دیکھتے یہ ڈرامے ناظرین کے دل کو چھو گئے۔ پاکستان میں نشر ہونے والا اولین ترکی ڈراما’’عشقِ ممنوع‘‘تھا، جبکہ اس کے علاوہ ایک ڈراما ’’فاطمہ گل۔میراقصورکیا‘‘ بھی نشر کیا گیا تھا۔ ان دونوں ڈراموں کے مرکزی کرداروں میں جس اداکارہ نے داد سمیٹی، اس کا نام’’بیرین ساعت۔Beren Saat‘‘ ہے۔ ترکی شوبز کی اس حسین شہزادی کی زندگی بھی کسی داستان سے کم نہیں، بالکل اس کے افسانوی حسن کی طرح، جس کو دیکھتے رہنے میں ہی عافیت محسوس ہوتی ہے۔

بیرین سات نے دوستوں کے مشورے پر اداکاری کے میدان میں قدم رکھا

ترکی کے شہرانقرہ میں پیدا ہونے والی اس اداکارہ کی پیدائش کابرس1984ہے۔ ایک مسلمان گھرانے میں پیداہوئی۔ کم عمری میں ہی اپنی صلاحیتوں کو پہچان لیا، یہی وجہ ہے، اس نے زندگی میں جو کام بھی کیا، اس میں مکمل کامیابی حاصل کی۔ انقرہ کالج اورباسکنٹ یونیورسٹی سے اپنی تعلیم مکمل کر کے مینجمنٹ فیکلٹی سے گریجویشن کیا۔ زمانہ ٔ طالب علمی میں اس کی شخصیت کاتاثر کچھ تخلیقی تھا، اس کے دوستوں کاخیال تھا کہ اگر یہ تھوڑی کوشش کرے، تو اچھی اداکارہ بن سکتی ہے مگر اپنے اس پہلو سے ’’بیرین ساعت‘‘واقف نہ تھی،مگرپھرایک وقت ایسا بھی آیا کہ اس کا شمار ترکی کی ان اداکارائوں میں بھی ہوا،جو اپنے خطیر معاوضے کے لیے مقبول رہیں۔

یہی وہ زمانہ ہے،جب ترکی کے ایک ٹیلی ویژن پراداکاری کے لیے مقابلے کا اعلان ہوااورنووارد اداکاروں نے اس میں حصہ لیا، ظاہر ہے اس میں ایک بڑی تعداد نوجوانوں کی تھی۔دوستوں کے بے حد اصرار پر’’بیرین ساعت‘‘ نے اداکاری کے مقابلے میں حصہ لیااور دوسرے نمبر پر آئی۔ اس جیت نے اس کے اندر ایک اعتماد پیدا کیا کہ وہ اداکاری کے میدان میں کچھ کرسکتی ہے۔ مقابلے کے منتظم نے بھی اس کو اداکاری کے شعبے میں کیرئیر بنانے کا مشورہ دیا۔ دوستوں کے کہنے اوراس مقابلے کی جیت کے بعد ’’بیرین ساعت‘‘ نے آخر کار اداکاری کے میدان میں قدم رکھنے کا فیصلہ کرلیا۔ دھیرے دھیرے اس میدان میں قدم رکھا اور آج اس کا شمارترکی کی صف اول کی اداکاراؤں میں ہوتا ہے۔

’’بیرن ساعت‘‘ نے 2004میں، اپنے کیرئیر کے پہلے ڈرامے میں مختصر سا کردار ’’Nermin‘‘ تھا۔ہر چند کے کردار مختصر تھالیکن اس کے ذریعے ترکی میں اسے شوبز کے ماہرین کی توجہ ملی۔2005 میں اس نے ایک اورسیریل میں کام کیا،یہ ایک مشرقی لڑکی جس کا نام’’Zilan‘‘ تھا، اس کا کردار تھا۔ اس ڈرامے کی کاسٹ میں ترکی کے نمایاں اداکاروں کے ساتھ’’بیرین ساعت‘‘ کو کام کرنے کا موقع ملا، یوں وہ منظر عام پرآگئی اور شناخت کے مراحل تیزی سے طے کرنے لگی اورشہرت کا دیوتا اس پر مہربان ہونے لگا۔

2006 میں اس کو ایک اورڈرامے میں کام کرنے کا موقع ملا،اس ڈرامے کانام’’Hatirala Sevgili‘‘تھا اور اس نے ’’یاسمین‘‘ نامی لڑکی کا کردار نبھایا۔ یہ ایک خوبصورت لڑکی کا کردار تھا اوراس کی خوبصورتی اس ڈرامے میں بہت کام آئی۔ اس کے قدرتی حسن اور معصومیت نے اس کے کردار میں جان ڈال دی۔ترکی میں ڈراما دیکھنے والے اس حسن کے کی شہزادی کے اسیر ہوکر رہ گئے۔ ان کی نظریں ہروقت اس ڈرامے اور’ ’یاسمین ‘‘ پر لگی رہتی تھیں۔ اس ڈرامے سے ’’بیرین ساعت‘‘ کے مداحوں کی تعداد میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا۔

’’بیرین ساعت‘‘ بہت تیزی سے اپنی مقبولیت کی سیڑھیاں چڑھ رہی تھی لیکن ابھی شہرت کی وہ بلندی اس کے انتظار میں تھی، جس کو پانے کے لیے کوئی فنکار خواب دیکھتا ہے۔ 2008میں اس کو ایک ڈرامے’’Forbidden Love‘‘میں کام دیا گیا۔ اس ڈرامے کی کہانی اُنیسویں صدی کے ترکی کے مشہور ناول نگار ’’Halad Zia Usakligil‘‘کے ناول سے ماخوذ تھی اور اس ڈرامے کا نام بھی ناول کے نام پر رکھاگیا۔اس میں ’’بیرین ساعت‘‘ کا کردار ایک خوبصورت کم عمربیوی کا ہے،جس کی شادی ایک رئیس شخص سے ہوئی، جوعمر رسیدہ ہے۔اس میں ’’Bihter‘‘کا کردار اس نے بخوبی نبھایا۔یہ ڈراما پاکستان میں ’’عشق ممنوع‘‘کے نام سے نشر کیاگیااوراس ڈرامے کو بے حد مقبولیت ملی۔ اس ڈرامے میں ’’بیرین ساعت‘‘ نے اپنی عمدہ اداکاری سے پاکستانی ناظرین کے دل بھی جیت لیے۔آج ہر پاکستانی شائق اس کے چہرے کو پہچانتا ہے۔

بیرین سات اپنے حسن اور اداکاری سے لوگوں کے دل جیت چکی ہیں

عشق ممنوع کو جب ترکی میں نشر کیاگیاتو اس نے ترکی ٹیلی ویژن کی ڈرامے کی تاریخ کے سارے ریکارڈ توڑدیے تھے۔ ڈرامے کی صنعت کے ناقدین نے بھی اس میں کام کرنے والوں کو مکمل اداکار کہا۔ حیرت انگیز طورپر پاکستان میں بھی اس کی مقبولیت نے رجحان ساز ماحول پیدا کر دیا اور اس ڈرامے کی مقبولیت کے بعد ہمارے نجی چینلز انڈین ڈرامے کو بھول کر ترکی ڈراموں کے پیچھے پڑگئے۔ ایک نجی چینل نے تو ایک نیاترکی ڈراما نشر کرتے ہوئے اپناٹائٹل یہ بنایا کہ ’’وہ عشق اب جو ممنوع نہ رہا‘‘۔

سب چیزیں اپنی جگہ مگر’’بیرین ساعت‘‘ کی عمدہ اداکاری نے اس کھیل پر اپنے گہرے اثرات مرتب کیے۔پاکستان میں یہ ڈراما ڈب کرکے پیش کیا گیا اور اس کے کرداروں پر پاکستانی فنکاروں نے اپنی آواز کے جوہر دکھائے اور وہ بھی اس کوشش میں مکمل طورپر کامیاب رہے۔’’بیرین ساعت‘‘ ترکی میں ڈراموں کے ساتھ ساتھ کئی فلموں میں بھی کام کیااوربہت کم عمری میں تیزی سے اپنی منزل کی مسافت طے کرتی چلی گئی۔ محبت اورعاشقی کے موسم بھی ساتھ ساتھ اس پر اترتے رہے، اس نے امریکا میں،ترکی کے گلوکار اورموسیقارKenan Dogulu سے شادی بھی کی،جس سے پہلے ایک شادی اور کئی معاشقے نمٹا چکی تھی۔

بیرین شوہر کے ہمراہ

’’بیرین ساعت‘‘ نے 2009میں فلموں میں اداکاری کی ابتدا کی۔اس کے فلمی کیرئیر کی پہلی فلم’’Pains of Autumn‘‘تھی۔اسی برس ایک اورفلم میں اس کو کام کرنے کا موقع ملا، اس کانام’’Wings of the Night‘‘تھا۔ ان فلموں نے اس کی اداکاری کو مزید چار چاند لگادیے۔2010میں اس نے ایک سیریل’’Fatmagul’un Sucu Ne‘‘میں کام کیا۔اس سیریل نے تو گزشتہ مقبولیت کے بھی ریکارڈ توڑ دیے۔ اس کو یہ ڈراما شہرت کی اعلی ترین بلندیوں پر لے گیا۔اس میں ’’بیرین سات‘‘ کا کردار ایک ایسی گواہ کا تھا جس نے ایک لڑکی کی آبروریزی ہوتے دیکھی تھی۔یہ ڈراما بھی ترکی کے ایک معروف ناول نگار’’Vedat Turkaliکے ناول سے ماخوذ تھا۔اس ڈرامے نے ’’بیرین سات‘‘ کو بین الاقوامی شہرت سے نوازا۔ یہ دنیا کے دو بڑے ایوارڈ ز کے لیے نامزد ہوئی،جن میں سے ایک اعزاز’’سیول انٹرنیشنل ڈراما ایوارڈ‘‘تھا۔پاکستان میں بھی اس ڈرامے کو ’’فاطمہ گل،میراقصورکیا‘‘کے نام سے نشر کیا گیا۔

’’بیرین ساعت‘‘ کی یہ کامیابی اوراس کی اداکاری کے شعبے میں تیز ترین مقبولیت کو دیکھ کر یہ اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ اس کامستقبل روشن ہے۔اس کو ایک ایرانی فلم’’Rhino Season‘‘میں بھی کام کرنے کاموقع ملااور اس فلم میں یہ معروف اطالوی اداکارہ’’مونیکا بیلوسی‘‘کی بیٹی بنی ہے۔اس فلم میں انقلاب ایران سے پہلے کی کہانی کو سیاسی پس منظر میں فلمایا گیا ہے۔ اس فلم کا ورلڈ پریمئر شو ٹورٹنو میں ہوا تھا۔
’’بیرین ساعت‘‘ نے 2012میں ایک اینی میٹیڈفلم ’’Brave‘‘کے مرکزی کردار میں اپنی آواز کاجادو بھی جگایا۔کئی اشتہاروں میں اس کا چہرہ زینت بنا۔ اس کو مشرقی یورپ اور عرب ممالک میں کافی شہرت ملی اور اس کے مداحوں کا حلقہ وسیع ہوا۔ترکی میں فیس بک پر ایک انتہائی مقبول اداکارہ بھی ہے۔ اس کے فیس بک اکاؤنٹ کو تقریباً 2ملین افراد پسند کرچکے ہیں۔ یہ سماجی خدمت پر بھی یقین رکھتی ہے اور اس کے لیے وقت نکالتی ہے۔ فلاحی سرگرمیوں کے لیے اس نے ہمیشہ اپنے آپ کو آگے آگے رکھا، شاید اس کی برکت بھی ہے،جو اس کا حسن کندن ہوتاجارہا ہے اور چہرے کی معصومیت کی کشش مزید بڑھنے لگی ہے۔

بیرین فلموں میں بھی اداکاری کے جوہر دکھا چکی ہیں

’’بیرین ساعت‘‘ دوبارہ ترکی ٹیلی ویژن کے لیے کام کررہی ہے۔ایک ڈراما جس کانام’’Revenge‘‘ہے۔انتقام پر مبنی یہ کہانی امریکا کی مشہورسیریز،جس کانام بھی یہی ہے،اس سے متاثر ہوکر لکھی گئی ہے۔ اس میں ’’بیرین سات‘‘ کا کردار ایک ایسی لڑکی کا ہے،جس کا نام’’Efsun‘‘ ہے اور اس کے ذہن میں ایک ہی کئی برسوں سے گردش کرتی ہے کہ اس نے واپس وہاں لوٹنا ہے، جہاں وہ پلی بڑھی تھی،جو کبھی اس کاگھر تھا اور وہاں کوئی رہتاہے۔

’’بیرین ساعت‘‘ نے اپنے مختصر فلمی کیرئیر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوالیا۔یہ ترکی کے چھوٹے بڑے 24اعزازات کے لیے نامزد ہوئی اورکئی اعزاز اپنے نام بھی کیے جن میں2008میںGolden Tulip Fine Artsبرائے بہترین اداکارہ شامل ہے۔ دوسرا نمایاں اعزاز جو اس نے اپنے نام کیا،وہ2009اور2010میں Golden Butterfly Awardsبرائے بہترین اداکارہ تھا۔اس نے 5فلموں میں کام کیا،جس میں ایک بین الاقوامی فلم بھی شامل ہے اور اس کے علاوہ ترکی ٹیلی ویژن کے 9بڑے ڈراموں میں کام کرچکی ہے۔ اشتہارات اور دیگر شوبز کے منصوبے ان کے علاوہ ہیں۔

پاکستان میں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ اس تُرک شہزادی نے پاکستانی ڈرامے کی مہارانیوں کی نیندیں اڑا دیں کیونکہ خوبصورتی کی کوئی زبان نہیں ہوتی اورنہ ہی علاقہ، اس کو صرف داد وتحسین سے غرض ہوتی ہے اوراس میں ہمارے ہاں کافی سخاوت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ہرگزرتے دن کے ساتھ ’’بیرین سات‘‘ کا جادو سرچڑھ کر بول رہاہے، کیوں نہ بولے، ترکی جیسی سرزمین سے شہزادی نے حسن اور محنت دونوںکی معاونت سے یہ موجودہ مقام حاصل کیا ہے، جہاں کوئی اس کی صورت دیکھنے کو بہت دیر تک انتظار کرسکتا ہے۔

Categories
نان فکشن

وقت کے کینوس کا طلسمی رنگ-سنڈی کرافورڈ

‘بدن کی بینائی’ سلسلے کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

وقت کے کینوس پر بہت سارے رنگ آتے اور گزرتے رہتے ہیں، مگر کچھ رنگ ایسے خاص ہوتے ہیں، جن کا رخصت ہونا ٹھہر جاتا ہے، ان کی رنگت اور نکھار حُسن کو اور چمکدار بنا دیتی ہے۔ دنیا میں ایسی رنگت والے طلسمی چہرے کم، لیکن وارد تو ہوئے ہیں۔ عالمی فیشن کی دنیا میں ایسا ہی ایک چہرہ، جس نے عمر کو اپنی مٹھی میں تھام کے رکھا ہے۔ اس کے حسن کی چاندنی ابھی تک دمک رہی ہے۔ وہ وقت کی گردش میں بھی پورے غرورکے ساتھ قائم ہے، ہرچند کہ وقت کی پرچھائیوں نے اسے متاثر بھی کیا ہے، اس کے باوجودوہ بے پرواہ محبوب کی مانند ہے، جواپنے آپ میں مدہوش ہے۔

امریکی فیشن کا نمایاں ترین ستارہ-سنڈی کرافورڈ

اس حسینہ کا نام’’Cindy Crawford‘‘ ہے، وہ امریکی فیشن کے شعبے میں نمایاں ستارے کی مانند ہے۔اس کی بھوری آنکھوں اور زلفوں نے، اُوپری ہونٹ کے قریب اُبھرے ہوئے تل کے ساتھ مل کر عاشقوں کا خوب امتحان لیا۔ وہ تل کئی دہائیوں تک، مداحوں کے دلوں کو بے چین کرنے پر تلارہا۔ اس تل کی اہمیت سے وہ خود بھی واقف تھی، اسی لیے وہی تل اس کے بزنس کا ٹریڈ مارک بنا، ورنہ ایک وقت وہ بھی تھا، جب کیرئیر کے ابتدائی دنوں میں، اس کے عکس بند کیے ہوئے فوٹوشوٹس میں، اس تل کو،کمپیوٹر کی مدد سے ایڈیٹ کر دیا گیا، ہرچند کہ آگے چل کر یہی تل اس ہوشربا حسن کو نظربد سے بچانے کا سبب بنا۔

’’Cindy Crawford‘‘امریکی ماڈل اور ادکارہ ہے۔ زمانہ طالب علمی میں اپنی ذہانت کی وجہ سے نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی میں اسکالر شپ حاصل کی، یہی وہ زمانہ ہے، جب اس نے خود کو ماڈلنگ کی طرف راغب پایا، اسے ماڈلنگ کا کام بھی ملنے لگا، جس کی وجہ سے پڑھائی ادھوری رہ گئی اور اس کی توجہ کامرکزصرف کیرئیر بن گیا۔ طالب علمی کے دور ہی میں طلبا کے ایک جریدے کے لیے اس کی تصویر سرورق کی زینت بنی۔ دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں بھی فیشن سے متعلق، اس کا رجحان خصوصی طور پر زیادہ تھا۔ اسی وقت محدود پیمانے پر ہونے والے فیشن کے مقابلوں میں بھی اس نے شرکت کی، یوں لاشعوری طور پر ماڈلنگ کے کیرئیر کی طرف بڑھتی چلی گئی اورکامیابیوں نے اس کے قدم چومنے شروع کر دیے۔

سنڈی کرافورڈ فیشن اور شوبز کے تمام بڑے جرائد کے لئے ماڈلنگ کر چکی ہیں

وہ اپنے آبائی علاقے سے نیویارک منتقل ہونے کے بعد ایک ماڈلنگ ایجنسی سے وابستہ ہوئی اور یوں اس کے کیرئیر کا راستہ بنتا چلا گیا۔ اپنے خاندان میں یہ واحد شخصیت تھی، جس کو اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے کچھ بھی کر گزرنے کا جنون تھا۔ کم عمری میں بھی کسی خوف کی پرواہ کیے بغیر دنیا کو جیت لینے کی غرض سے عملی زندگی میں قدم رکھ دیا۔ اس کو آبائو اجداد کی طرف سے، امریکا کے علاوہ جرمنی، انگریزی اور فرانسیسی رشتے ناطے بھی ملے، شایداسی لیے وہ کئی ثقافتوں کا مظہر اور ملاپ محسوس ہوتی ہے۔

’’Cindy Crawford‘‘کے عروج کا دور 80 اور 90 کی دہائی ہے۔ اس نے دنیا کے تمام بڑے فیشن ریمپ پر چہل قدمی کی۔ دنیا کے تمام بڑے اور نامور رسائل و جرائد نے اپنے سرورق پر، اس کی تصویروں کو زینت بنایا۔ اس کی تصویریں ہزاروں بار چھاپی گئیں۔ یہاں ان رسائل اور اخبارات کے نام لکھے جائیں، تو تعداد سینکڑوں میں بنتی ہے۔ ہر چھوٹے بڑے اخبار اور رسالے نے اس کی زندگی اور روزوشب کا احوال لکھا۔ دنیا کے متعدد بڑے اشتہاری برانڈز کے لیے یہ سفیر بھی رہی اور اس کا ظہور اشتہارات میں بھی ہوا۔ پورے کیرئیر میں ساتھی ماڈلز کے لیے مقابلے کی فضا برقرار رکھی، جس میں ایک طرف اس کا حسن کام آرہا تھا تو دوسری طرف ذہانت بھی معاونت کر رہی تھی۔
’’امریکن سوسائٹی آف میگزین ایڈیٹرز‘‘ نے 40 برس میں شایع ہونے والے سرورق کی فہرست میں بائیسواں نمبر دیا، یہ اس کے پسند کیے جانے کی انتہا تھی۔ 1988 میں دو بار اپنے حسن کو تمام کرتے ہوئے، بدنام زمانہ جریدے Playboy کے لیے برہنہ فوٹوشوٹ عکس بند کروائے اور فیشن کے منظر نامے پر تہلکہ مچا دیا۔ اسی جریدے کی مرتب کردہ فہرست کے مطابق، اکیسویں صدی کی 100 اشتہا انگیز عورتوں میں اس کا نمبر پانچواں تھا۔ دیگر رسائل و جرائد میں کسی نے اسے کائنات کی سب سے حسین خاتون قرار دیا تو کسی نے خوبصورتی کی بے مثال شخصیت کہا۔ 2006 میں بھی Maximمیگزین نے اسے دنیا کی 100 ہوشربا خواتین میں 26ویں نمبر پر رکھا، جبکہ اس وقت یہ اپنی عمر کا چالیسواں ہندسہ عبور کر چکی تھی۔

معروف گلوکاروں نے اس کو اپنی میوزک ویڈیوز میں شامل کیا، چاہے وہ 1990میں جارج مائیکل کا کوئی گیت ہو یا 2015 میں ٹیلرسوئفٹ کی گائی ہوئی کوئی دھن، حسن کی یہ رانی اسکرین پر راج کرتی رہی۔ اشتہاری کمپنیوں نے ان کو منہ بولے معاوضے پر اپنے ہاں کام کرنے کی درخواست کی۔ فٹنس ویڈیوز بھی اس کے کام کاحصہ بنیں۔ ایک درجن کے قریب فلموں میں کام کیا، جبکہ میوزک اور فٹنس ویڈیوزکو ملا کر تقریباً 9 ویڈیوز میں اپنے فن کے جوہر دکھائے۔ ٹیلی وژن کی دنیا میں بھی درجن بھرسے زیادہ پروگراموں میں کام کرکے مزید شہر ت حاصل کی، جس میں مختلف ڈراما سیریز اور ٹاک شوز شامل ہیں۔ ٹیلی وژن میں اب تک کا آخری پروگرام 2016 نشر کیا گیا۔ فلم، ٹیلی وژن، میوزک ویڈیوز اور فیشن کی دنیاپر اس حسینہ کا راج اب تک جاری ہے۔

سنڈی کرافورڈ اب فلاحی کاموں میں حصہ لیتی ہیں

’’Cindy Crawford‘‘ نے 2000 تک آتے آتے فیشن کی دنیا کو خیر بادکہا، البتہ تجارتی اور فلاحی سرگرمیوں کی طرف رجحان برقرار رہا، پھر 2011 میں محدود پیمانے پر، ماڈلنگ کی طرف واپسی ہوئی۔ 2015 کو Becoming کے نام سے اپنے کیرئیر اورذاتی زندگی پر کافی ٹیبل کتاب کا اجرا بھی کیا، دیگر کئی معروف کافی ٹیبل کتابوں کاحصہ بنتی رہی۔صحت عامہ سے متعلق فلاحی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کا حصہ لیا۔ اس کی ذاتی زندگی کی ایک جھلک دیکھی جائے تو اس نے دو شادیا ں کیں، پہلی شادی ہالی ووڈ کے معروف اداکار Richard Gere سے کی، جو زیادہ عرصہ نہ چل سکی۔ دوسری شادی ایک بزنس مین سے کی، جو تا حال کامیابی سے جاری ہے، اس کے دو بچے بھی ہیں، جنہوں نے اپنی ماں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے فیشن کو ہی اپنے کیرئیر کے لیے منتخب کیا ہے۔ 2008 کے امریکی انتخابات میں بارک اوبامہ کے حق میں اپنی آواز ملائی جبکہ 2011 کے انتخابات میں ان کی نگاہ کامرکز Mitt Romney تھا۔

زندگی کی 50 بہاریں دیکھنے والی یہ حسین خاتون اب بھی بے حد پرکشش ہے اور اپنے بعد آنے والی حسین عورتوں کو بھی شہرت کے سفر میں پیچھے چھوڑ چکی ہے۔ اس کا شمار ان چند مقبول ترین امریکی شخصیات میں ہوتا ہے، جنہوں نے بڑے اعتماد سے اپنے کیرئیر کو آگے بڑھایا، خود کو زیادہ تنازعات میں گھرنے نہیں دیا، پوری دنیا کے فیشن میں خود کو شریک رکھا، فلاحی اور خیراتی کاموں میں بھی پیش پیش رہی۔

سنڈی کرافورڈ کا حسن اب کندن ہو چکا ہے

اس حسینہ نے اپنے حسن کو بحال رکھا، کہیں خود کو گل نہ ہونے دیا، اپنے دیدنی حسن کی روشنی سے مداحوں کو دیوانہ بناتی رہی۔ یہ پرکشش لڑکی، اب ایک باوقار عورت کے روپ میں ڈھل چکی ہے، ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ زندگی کے اتنے ادوار میں کوئی اپنی خوبصورتی کو برقرار رکھے، مگر اس نے ثابت کر دکھایا۔ شہرت کی شہزادی اب بھی اپنے اعتماد سے کسی کے حواس کو باختہ کر سکتی ہے، کیونکہ اس کا حسن کندن ہو چکا ہے۔

Categories
نان فکشن

خوبصورتی کی سفیر۔۔۔ کارلا برونی

‘بدن کی بینائی’ سلسلے کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

انسان کو اپنا آپ ڈھونڈنے میں کبھی بہت وقت درکار ہوتا ہے اور کبھی اُسے ہوش سنبھالتے ہی اپنی پہچان ہوجاتی ہے۔ دنیا میں ایسے لوگ بہت کامیاب ہوتے ہیں، خود کو جو بہت جلدی دریافت کرلیتے ہیں۔ یہ خودی دریافت کرنے والوں پر تخلیق کے دروازے کھولتی ہے ، پھر وہ اپنے تصور کی آنکھ سے اُن مناظر کو دیکھتے اور دنیا کو بھی دکھاتے ہیں۔ فیشن کی دنیا اور سیاست کے منظر نامے کو دیکھا جائے، تو حسن کی جامع تعریف اور خوبصورتی کی تشریح ’’کارلا برونی‘‘ ہو گی۔

حسن کی جامع تعریف اور خوبصورتی کی تشریح ’’کارلا برونی ‘‘

کارلا برونی نسلاً اطالوی ہے، لیکن فرانس سے بھی اتنا ہی گہراتعلق ہے،جتنا اٹلی سے۔ وہ 23دسمبر 1967 کو اٹلی میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوئی۔ باپ دادا کے زمانے سے کاروبار عروج پر تھا۔ خاندان کی کئی نسلیں اسی کاروبار سے مستفید ہوئیں۔ معاشی آسودگی نے زندگی کو، اس پر جمالیاتی پہلوؤں سے وا کیا۔ حسن اور خوبصورتی نے اس کے جسم سے ہوکر روح میں قیام کیا۔آنکھ سے نظر بن کر حسین مناظر میں اترنے لگی۔ کہیں دل کو موہ لینے والے منظر اس کے دل کو چھو نے لگے، تو کہیں دل کو چھو لینے والے منظر کا مدار یہ خود بننے لگی۔ خاندانی کاروبار یورپ اورایشیا سمیت پوری دنیا میں پھیلاہواتھا، مگر وقتی طورپر اسے زوال کاسامنا بھی کرنا پڑا۔ سیاسی وجوہات کی بنا پراس کے والدین کو اٹلی چھوڑنا پڑا۔یہ بھی اس ہجرت میں اپنے والدین کے ساتھ تھی۔ معاشی طورپر آسودہ ہونا اس کے خاندان کا جرم تھا، مارکسی خیالات کے حامل انقلابی ان کو اغوا کرنا چاہتے تھے۔یہ وہ زمانہ ہے، جب لینن کا پیغام دنیا بھر میں پھیل رہاتھا۔ اٹلی میں بھی اس نظریے کے ماننے والے بہت متحرک تھے، یہ دور معاشی طور پر آسودہ حال لوگوں کے لیے اچھا نہ تھا، لہٰذا 1975 میں کارلابرونی اپنے کنبے سمیت فرانس منتقل ہو گئی۔

کارلا برونی نے باڈی پینٹنگ کی کتاب کے لیے بھی خود کو پیش کیا

کارلا برونی کا بچپن فرانس میں گزرا۔ سات سال کی عمر میں، سوئزرلینڈ کے ایک اسکول میں تعلیم حاصل کی، اعلیٰ تعلیم کے لیے فرانس آناپڑا۔ پیرس کے ایک اسکول میں آرٹ اورآرکیٹیکچر کے شعبہ میں داخلہ لے لیا۔یہی وہ وقت تھا جب اس نے اپنے اندر بھی جھانکا اوراپنی خواہشوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے آرٹ کی تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔آرٹ کو سمجھتے ہوئے انہوں نے اپنے اندر کی آرٹسٹ کو بھی پہچان لیا۔ اس پہچان کو اپنا کر خود کو ایک ماڈل کے طورپر دنیا کے سامنے پیش کردیا۔ دنیا کی خوبصورت اشیا کو دیکھتے ہوئے، خود کو بھی ایک خوبصورت ماڈل کے طورپروقف کردیا۔اب عالم یہ تھا، جو وہ اوڑھ لے، وہ لباس اور رنگ پھر کسی دوسرے پر کم ہی جچتاتھا، دنیائے ماڈلنگ پر اس نے اپنے نام کا سکہ چلایا۔

کارلا نے فیشن کی بلندی کو چھوکر موسیقی کے شعبے کارخ کیا

اس کے خاندانی پس منظر میں روشن خیالی کا عنصر بھی نمایاں تھا۔والدین کی طرف سے یہ روشن خیالی بھی حصے میں آئی۔ مغربی معاشروں میں اخلاقی اورجذباتی رشے جداجدا ہوتے ہیں، لہٰذا اس کی ولدیت میں یہ دونوں رشتے پہناں تھے۔کمسن حسینہ کے جذبات نے عشق ومحبت کے کئی جزیرے بھی دریافت کیے۔اس کی ایک بہن بھی شوبز میں متحرک رہی۔ فلموں میں اداکاری کے ساتھ ہدایت کاری کے شعبے میں اپنے جوہر دکھائے، ایک بھائی بھی تھا، جس کا انتقال کم عمری میں ہوگیا۔ خوشی کے نیلے رنگوں میں کہیں کہیں دکھ کا سیاہ رنگ بھی شامل تھا۔کارلا برونی کے کیرئیر کا ابتدائی عرصہ1987 سے 1996 کا ہے۔ 19سال کی عمر میں اس نے سٹی میلوڈی سے معاہدہ کیا۔ Guess Inc.کے لیے بحیثیت ماڈل کام کیا، پھر دنیا کے بہترین ڈیزائنرز اورفیشن کی دنیا میں، بڑے اداروں کے لیے کام کیا، ان میں Christian Dior،Givenchy،Paco Rabanne،Sonia Rykiel،Christian Lacroi،Karl Lagerfeld،John Galliano،Yves Saint،Shiatzy،ChanelاورVersaceسمیت دنیا بھر کے اداروں کا انتخاب کارلا برونی رہی۔

90 کی دہائی میں کارلا برونی کا شمار دنیا کی اُن 20ماڈلز میں تھا، جن کا معاوضہ ایک خطیر رقم تھی۔ جب دولت ہو تو اس کا نشہ بھی ہوتاہے۔ وہ نشہ سر چڑھ کر بولتا بھی ہے۔یہاں بھی وہ نشہ سرمست ہوا۔2008ء میں اس کے دومعاشقوں نے بھی جنم لیا،لیکن جلد ہی دم توڑ گئے۔ اس کی ایک رومانوی وجہ یہ سمجھ آتی ہے، دل اوردماغ میں کچھ ایسا چل رہاتھا، جس سے کارلا برونی میں بے قراری بڑھتی جارہی تھی، اس کادل چاہ رہاتھا ،کچھ ایساہو جس پر خوبصورتی کی حد، بے حد ہوجائے۔ 1993ء میں اس خواہش نے کارلا برونی کو مفتوح کرلیا۔ اس نے برہنہ فوٹو شوٹ کروایا جس نے فیشن اورماڈلنگ کی دنیا میں تہلکہ مچادیا۔

کارلا برونی نے باڈی پینٹنگ کی کتاب کے لیے بھی خود کو پیش کیا۔اپنی جسمانی خوبصورتی کو دونوں ہاتھوں سے لٹانے والی کارلا برونی نے دنیا کے سامنے خود کو ایک بے باک اور جمالیاتی ذوق کی آرٹسٹ ثابت کیا۔ ایک ایسی فنکارہ جس کا ظاہر وباطن ایک ہے، جس نے نیک نامی کے پردوں کا سہارا نہیں لیا، دل نے جیسا کہا،اس کا کہا مان لیا۔ دل کے سامنے ہار کر دنیا کو جیت لیا۔

1997 سے 2005ء تک کے عرصے میں کارلا برونی نے اپنی ذات کے مزید مخفی گوشے ڈھونڈے۔ فیشن کی بلندی کو چھوکر موسیقی کے شعبے کارخ کیا۔ منجھے ہوئے موسیقاروں سے دھنیں بنوائیں اوران سُریلے گیتوں میں اپنی آواز کو اُنڈیل دیا۔ یہ گیت گونجے تو کارلا برونی کے باطنی حسن کو سماعتوں نے محسوس کیا۔ 2002 میں اس کی پہلی اور2006ء میں دوسری البم ریلیز ہوئی۔اس کے گیت کئی فلموں میں بھی شامل کیے گئے۔ 2003 میں اس نے ایک فلمLe Divorveکا ٹائٹل سونگ بھی گایا۔2006ء کے اولمپکس میں ،اس نے اپنے آبائی وطن، اٹلی کے جھنڈے کو محبت کا سلام پیش کیا۔ مختلف موسیقاروں اور گلوکاروں کے ساتھ بھی کام کیا۔ 2006 میں ریلیز ہونے والی دوسری البم No Promisesمیں معروف انگریز شاعروں کی نظمیں منتخب کرکے گائیں۔

2008ء تیسری البمComme Side Riennietaitریلیز ہوئی۔ اس سے ملنے والے معاوضے سے فلاحی کام کیے۔2009 میں کارلا برونی نے نیلسن منڈیلا کی سالگرہ کے موقع پر 18جولائی کو ریڈیو سٹی میوزک ہال، نیویارک میں گیت گایا۔ ستمبر2009ء میں Harry Connick،JRکی سنگت میں اپنے فرنچ ایڈیشن کے لیے دوگانا گایا۔ یہ البم فرانس میں اکتوبر 2009ء میں ریلیز ہوئی۔ کارلا برونی نے 2011 میں ریلیز ہونے والی ایک فلم’’Midnight in Paris‘‘میں ایک میوزیم کی گائیڈ کا کردار بھی نبھایا۔ کارلا برونی نے جہاں بہت سی محبتیں سمیٹیں اورشہرت کی دیوی ان پر مہربان رہی،وہیں ان کی مخالفت بھی ہوئی۔اٹلی کے ایک موسیقار اورگلوکار نے ان کی شخصیت کو اپنے ایک گیت میں طنزیہ طورپر پیش کیا۔ اس کے عریاں فوٹوشوٹ کو ان کی شادی شدہ زندگی اورسابق فرانسیسی صدر سرکوزی کی مخالفت میں سیاسی ہتھکنڈے کے طورپر استعمال کیاگیا۔

کارلا برونی ایک ماڈل اور گلوکارہ کی حیثیت سے مقبول ہوئی مگر اس کو شاید یہ خبر نہ تھی کہ کبھی ان کے مداحوں میں فرانس کا مردِاوّل بھی شامل ہوجائےگا۔ 2007 میں سرکوزی سے کارلا برونی کی ملاقات ایک ڈنر پارٹی میں ہوئی۔ اس پارٹی میں ہونے والے تعارف نے دونوں کے دل کو تسخیر کرلیا،یوں دونوںشریک حیات ہوگئے۔ سر کوزی کی یہ تیسری اورکارلا برونی کی پہلی شادی تھی۔ دنیائے سیاست کی ایک بے مثال جوڑی بھی ثابت ہوئی، جس نے رومان کے رنگوں سے سیاست کے منظر نامے کو بھی شرابور کردیا۔ کسی کی پرواہ نہیں کی، ان کی بھی نہیں جنہوں نے کارلا برونی کے ماضی کی برہنہ تصویروں کو موضوع بنایا تھا۔ یہ لاپرواہی کے قدموں سے ان کے اعتراض کو کچل کر گزرگئے۔ ایران کے ایک اخبار نے کارلا برونی کے لیے لفظ ’’طوائف‘‘ استعمال کیا، جس پر دونوں ملکوں میں تنازعہ کھڑاہوا، مگر یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ مخلص رہے۔

کارلا برونی اور ان کے شوہر سرکوزی

یہی وہ احساس تھا، جس نے ان کے بندھن کو پختہ کیا۔ فرانسیسی صدر کی اطالوی بیوی نے سرکوزی کے ساتھ سرکاری دورے کیے۔ اپنی مقبولیت کی معراج کوپالیا۔ دونوں میاں بیوی نے سرکاری مصروفیت کے اختتام کے بعد اپنے نام کی ایک فاؤنڈیشن بنائی۔ اس کے پلیٹ فارم سے ایڈز سے تحفظ،جانوروں کے حقوق،بچوں اورمائوں کے تحفظ کے لیے فلاحی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔نیلسن منڈیلا کی فاؤنڈیشن کے لیے کام کیا اورفرانس کی کئی نامور تنظیموں کے ساتھ کام کیا۔قطر کے امیر کی بیوی کے ساتھ تعلیم کے فروغ کے لیے بھی کام کیا۔

خوبصورتی کی سفیر کارلا برونی اٹلی جیسے خوبصورت ملک میں پیدا ہوئی۔ سوئزر لینڈ جیسے حسین ملک میں پلی بڑھی۔ فرانس جیسے حسین ملک میں اپنے آپ کو دریافت کیا۔ برطانیہ جیسے تہذیبی ملک کا سرکاری دورہ کیا۔ اسپین جیسے تاریخی ملک سے سرکاری اعزاز حاصل کیا۔ امریکا جیسے آزاد منش ملک کی سرکاری سیاحت کی۔ دنیا کو گھوم پھر کر اوردل کے نہاں خانوں سے آرزوؤں کے موتی چن کر، زندگی میں پرونے والی اس شہزادی کو فیشن اورسیاست کی دنیا میں ایک طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خرم سہیل سے رابطہ کیجیے:
khurram.sohail99@gmail.com

Categories
تبصرہ

خوبصورتی کی اکائی اور دلکشی کا مجموعہ

‘بدن کی بینائی’ سلسلے کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

کچھ چہرے ایسے ہوتے ہیں،جن کی کشش اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ نگاہیں کہیں اورجانے کاسوچ بھی نہیں سکتیں،ایسے چہروں پرنظریں پڑائو ڈال لیتی ہیں۔حسن کی دنیامیں ایساہی ایک چہرہ’’کویوکی کاتو‘‘کاہے،جس پرنظرپڑنے کے بعد،ہمیں اس کے حسن کاقائل ہوناپڑتاہے۔وہ حسین ہی نہیں دلکش بھی ہے،جس کی تفصیل میں جائیں تواس کے عشق میں گرفتارہوناکچھ مشکل نہیں ہوگا۔

“کویوکی کاتو”کی بولتی ہوئی آنکھوں کے وسط میں،الف ناک دیکھ کر،اس کے شاہانہ مزاج ہونے کاشائبہ ہوتاہے۔صراحی دارگردن ،نشیلے ہونٹ اوربیضوی چہرہ،مخروطی انگلیاں،سیاہ گھنیرے بال،جیسے شب ٹھہری ہوئی ہو،چاندنی کی دمک لیے روشن چہرہ،جس جس کاجتنا بھی تذکرہ کرلیاجائے،بیان ادھوراہی رہے گا۔یہ جب مسکراتی ہے،توایسے لگتاہے،موسم بہارکی آمدہے،خوشبو کاجھونکااپنی آمد کااحساس دینے لگتاہے۔یہ کیفیت کی شہزادی ہے،اپنے حسن سے بے خبر،یہ نہیں جانتی،اس کے چاہنے والوں پر کیاقیامت گزرسکتی ہے۔یہ خوبصورتی کی ایسی اکائی ہے،اس پرکوئی بھی لباس،رنگ اترتاہے تویہ حسن کے مجموعے میں ڈھل جاتی ہے۔

“کویوکی کاتو”جاپان کی معروف اداکارہ اورماڈل ہے۔ جاپان کے صوبے کاناگاواکے ایک شہر”زاما”میں 1976کوپیداہوئی۔اس کی پیدائش کامہینہ دسمبرہے،مگرجاپانی فیشن اورفلم کی دنیا میں یہ موسم بہاربن کراتری ہے۔یہی وجہ ہے،اس نے کم عمری میں بہت شہرت حاصل کی۔19برس کی عمر میں ماڈل کی حیثیت سے ابتداکرنے والی ،اس خوبرو لڑکی ، 26سال کی عمر تک پہنچتے ہوئے، جاپان میں فیشن حلقوں کی کمزوری بن چکی تھی۔شاید ہی کوئی بڑامیگزین ہوگا،جس کے سرورق پر،اس کاچہرہ زینت نہ بناہو،جبکہ 21برس کی عمر میں اپنی زندگی کے پہلے ٹیلی وژن ڈرامے میں کام کرچکی تھی۔

گریجویشن کرنے کے فوراً بعد،اس نے ماڈل کی حیثیت سے کام کرنا شروع کردیاتھا،پھر نرسنگ کے شعبے میں جانے کی خواہش لیے،اس نے پیشہ ورانہ تربیت حاصل کرنا شروع کی،مگر یہ سلسلہ ٹوٹ گیا،اس نے اپنی پوری توجہ فیشن اوراداکاری کی طرف مبذول کی۔اس نے عمرکی تیسری دہائی میں ،اداکاری کے کیرئیر کی ابتدا،جاپانی فلم سازکی ہاررفلم”پلس”سے کی۔اس فلم کے ذریعے جاپان میں اس نے فلم بینوں اورشائقین کواپنی طرف متوجہ کرلیا،یوں اس پر کامیابی کے دروازے کھلنے لگے۔گھوڑوں کودوڑانے کی شوقین،موسیقی کے سازبجانے میں بھی دلچسپی رکھتی ہے۔رقص کی تعلیم بھی حاصل کی،تاکہ اس کی خوبصورتی دوآتشہ ہوسکے۔
زمانہ طالب علمی سے شروع ہونے والے سفر میں تیزی تب آئی،جب اس کوفیشن اورشوبز کے حلقوں میں پہچاناجانے لگا۔2000تک یہ اپنی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ کئی اخبارات اوررسائل وجرائد کے سرورق کی زینت بن چکی تھی،کئی کمرشلز اورٹیلی وژن ڈرامے بھی اس کے کریڈٹ پر تھے،مگراس کو ابتدائی شہرت 2001میں ،جاپانی ہاررفلم”پلس”سے ملی۔

نئی صدی کے سارے سہانے موسم اس کے لیے بانہیں کھولے کھڑے تھے۔کامیابی اس کے قدم چومنے کے لیے تیارتھی۔ٹھیک دوبرس بعد2003میں اس کی بین الاقوامی فلم”دی لاسٹ سمورائی”ریلیزہوئی،جس میں اس نے ہالی ووڈ کے نامور ستارے ٹام کروز اورجاپان کے معروف اداکاروں کے ساتھ کام کیاتھا،جن میں جاپانی اداکار”کین وتنابے”سرفہرست تھے۔

اس فلم کی کامیابی نے اسے شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا۔دنیابھرمیں اس کے حسن اور صلاحیت کاتعارف ہوگیا۔اس نے بھی فلم کے کردار میں جان ڈالنے کے لیے ہرممکن کوشش کی،کیونکہ اس کے خیال میں یہ ایک انتہائی ذمے دارانہ کردارتھا،جس میں جاپان کی عظیم روایات کاعکس تھا،اس لیے انہیں ہرممکن بہترین طورسے پیش کرنے کی سعی کی۔ٹام کروز جیسے منجھے ہوئے اداکار کے سامنے ،اس نے جم کر اداکاری کی،جس پر حقیقت کاگمان گزرا۔یہی وجہ تھی کہ فلم کی کامیابی نے اس کے خلوص،محنت کوثمرعطاکیا۔آج دنیااس کے نام اورکام سے واقف ہے۔

2011میں اس نے اپنے ساتھی اداکار”کینچی متسویاما”سے زندگی کانیاسفرشروع کیا۔ان دونوں کی قربت ایک جاپانی فلم”کاموئی گائیدین”میں ایک ساتھ کام کرتے ہوئے بڑھی،جس کااختتام شادی کے بندھن پر ہی ہوا۔یہ اپنے ہم سفر کے ساتھ پوری دنیا گھومتی ہے،جاپان میں فلم اورڈرامے کی صنعت کاایک اہم نام سمجھی جاتی ہے۔اب تک اس نے درجن بھر سے زیادہ جاپانی فلموں میں کام کیاہے،جبکہ دودرجن ڈراموں میں اپنے فن کے جوہر دکھاچکی ہے،فیشن کی دنیا میں ہونے والی سرگرمیاں اس کے علاوہ ہیں۔
ساری دنیا میں اس کے مداح موجود ہیں،یہ خود ہالی ووڈ کے علاوہ بالی ووڈ کے خان ہیروز کو پسند کرتی ہے۔گزرتے وقت کے ساتھ اس کی شخصیت فربہ مائل ہوئی ہے،مگراس کے باوجود چہرے کی کشش اورمعصومیت کے سارے رنگ اس کے چہرے پر موجود ہیں۔جاپان کے فیشن اورشوبز کے حلقوں میں اس کی شخصیت کے اثرات اب بھی قائم ہیں۔ دنیابھرمیں اس کے چاہنے والوںکے دل ،اس کی خوبصورتی کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔حسن کا یہ سادہ سبق ،خوبصورتی کوپسند کرنے والے ہرطالب علم کو ازبرہے،یہی اس کے حسن کی سچی گواہی ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خرم سہیل سے رابطہ کیجیے:
khurram.sohail99@gmail.com

Categories
عکس و صدا

اطالوی حسن کی مکمل داستان: صوفیہ لورین

‘بدن کی بینائی’ سلسلے کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

دنیا میں کم ایسے چہرے ہوتے ہیں،جنہوں نے اتنے طویل عرصے تک،اپنی دلکشی کوبرقراررکھاہو،اپنے حسن کی تپش سے چاہنے والوں کوحدت مہیاکی ہو۔خوبصورتی کواتنی سخاوت سے تقسیم کیاہو۔صوفیہ لورین ایسی ہی ایک فنکارہ ہیں،جنہوں نے شوبز کی دنیا میں طویل عرصے تک راج کیااوراپنے حسن سے ایک جہان کومسحورکیے رکھا۔گزرتے وقت میں،ان کاحسن تو شاید ڈھل گیاہے،مگرماضی کی شاندار پرچھائیاں، شائقین کوبے چین کردینے کے لیے اب بھی کافی ہیں۔

1934کو،اٹلی میں پیداہونے والی خوبصورت اداکارہ نے اطالوی سینما،امریکی فلمی صنعت اورمغرب کے فیشن کے تمام قلعے فتح کرنے کے بعد،زندگی کومکمل سکون سے گزارنے کے لیے سوئٹزرلینڈ کاانتخاب کیا۔فطری حسن سے قربت رکھنے والی اس اداکارہ نے رہائش کے لیے بھی فطری مقام کومنتخب کیا،جس طرح ماضی میں قدرت نے اس کواچانک سے،ایک مقابلہ حسن میں شرکت کرنے پر، دنیائے شوبز کے لیے حاصل کیاتھا۔رومان،بے باکی،دلکشی،فطرت کاحسین امتزاج،صوفیہ لورین کے سواکون ہوسکتاہے۔

1951کو،15 برس کی نٹ کھٹ عمرمیں فلمی کیرئیر کاآغازکیا۔فن کے ابتدائی سفر میں چھوٹے موٹے کرداربھی نبھائے،لیکن 1956کوقسمت کی دیوی اس پر مہربان ہوگئی اورمعروف فلم ساز ادارے’’پیرامائونٹParamount‘‘کے ساتھ 5مشترکہ فلموں کامعاہدہ طے کرلینے کے بعد، بین الاقوامی شہرت کاسفرکی ابتداکی، یوں پھرThe Pride and the PassionاورHouseboatسے لے کرIt Started in Naplesتک،اس نے اپنی اداکارانہ مہارت کااحساس دلایا،مگرحقیقی معنوں میں ایک فلمTwo Womenسے اپنی اداکارانہ صلاحیتوں کالوہا منوایااور1962میں،بہترین اداکارہ کا آسکرایوارڈحاصل کرکے پوری دنیا کواپنی آمد کی اطلاع دی۔

اطالوی فلم سے بہترین اداکارہ تسلیم کیے جانے والی صوفیہ لورین نے اٹلی میں بھی اسی فلم کے ذریعے وہاں کے مستند فلمی ایوارڈزبھی اپنے نام کرکے تہلکہ مچادیا۔کامیابیوں کے اس سفر میں،یہ فلمی دنیا سے باہر نکل کرموسیقی اورفیشن کی دنیا میں بھی نام کمانے میں کامیاب رہی۔ موسیقی کے مستند ایوارڈگریمی سے لے کر،فیشن کے متعدد بڑے ایوارڈزسمیت،برطانیہ کامعروف ایوارڈBAFTAبھی اس کے نام رہا۔کئی ایک فلمی میلوں کے اعزازات سمیٹنے کے علاوہ 1991میں اعزازی آسکر ایوارڈ بھی حاصل کیا۔

صوفیہ لورین کے سفرمیں اس کی اداکارانہ صلاحیتوں سے انکار ممکن نہیں، مگر اس کی کامیابیوں کے چراغ میں، اس کاحسین بدن،دلکش چہرہ،بے باک ادائیں اورنشیلی آنکھیں بھی، دادوتحسین کا وہ شہد انڈیل رہی تھیں۔بلیک اینڈ وائٹ زمانے کی رنگین ادائیں ناقابل برداشت تھیں،کئی نسلیں اس کے حسن سے متاثر ہوئیں،کتنی آنکھوں کو اس نے خیرہ کیااورکتنے تھے،جن کے تصورِ محبوب پر اس کے نقوش کاغلبہ رہا۔ساتھی فنکاروں میں کتنے دلوں کواس نے تسخیر کیا،کتنوں کوکچل کرآگے بڑھ گئی اورکتنے تھے،جن کی آہوں اورسسکیوں میں اس کانام شامل تھا۔اطالوی حسن میں،اتنی تفصیل سے جن چہروں کوموضوع بنایاگیا،وہ کم کم ہیں۔اس کاشمار ان مقبول ترین 25چہروں میں بھی کیاجاتاہے،جنہوں نے امریکی شوبز میں سب سے زیادہ راج کیا۔

صوفیہ لورین کوپیدائشی فنکارہ کہاجاسکتاہے۔اس نے جب ہوش سنبھالاتواپنے اردگردکے ماحول میں ڈھلنے کی بجائے،اپناراستہ خود تراشنے کافیصلہ کیا۔خوبصورتی اوربہادری کے امتزاج نے اس کی شخصیت کو رنگین بنادیا۔کم عمری میں ہی اس نے خود کوموسیقی اوراداکاری کی طرف راغب پایا۔خواہشوں کی آہٹ پر کان دھرتے ہوئے،اپنی زندگی کے پہلے مقابلہ حسن تک آپہنچی،اس کوخبرنہ تھی،ایک زمانہ آئے گا،جب اس کے حسن کا کوئی ثانی نہ ہوگا۔دوسری جنگ عظیم کی دہشت نے اس پر بھی اثرکیا۔بمباری میں یہ اپنے خاندان سمیت محفوظ رہی،تب اس کو اندازہ ہوا،زندگی کتنی قیمتی شے ہے،اس کے بعد،زندگی کواس نے واقعی جی کردیکھا۔اس زمانے میں گزربسرکرنے کے لیے خاندان کے ہمراہ ریستوران میں بیراگیری بھی کی،لیکن اس مشقت سے اس کی صلاحیتوں اورخوبصورتی کی چمک دمک میں مزید اضافہ ہوگیا،اس میں برے حالات سے لڑنے کی ہمت آگئی۔

اپنے فنی کیرئیر میں بھی اسی بہادری سے ڈٹے رہنے کی بناپربے شمارکامیابیاں اس کے حصے میں آئیں۔اطالوی اورامریکی سینما پر راج کیا۔1950سے لے کر2014تک،100 سے زیادہ فلموں میں کام کیا۔نیوڈ فوٹوشوٹس کروانے سے بھی شہرت میں اضافہ ہوا۔اس کے ساتھ ساتھ کئی معاشقے کیے،جن میں سرفہرست معاشقہ Cary Grantکے ساتھ تھا،وہ خود بھی ایک وجیہہ اورتخلیقی ذہن کاشخص تھا،جس نے صوفیہ لورین کے ابتدائی کیرئیر کو مضبوط کرنے میں اپنا کلیدی کردار اداکیا،مگرشادی کے لیے انتخاب،اطالوی فلم سازCarlo Pontiہی ٹھہرا۔

موسیقی کے شعبے میں بھی اپنے ہنرکوآزمایااورکامیاب رہی۔فٹبال کے کھیل میں خاص دلچسپی ہے،اس کے حوالے سے وہ اپنی دلچسپیوں کااظہاربھی کرتی رہتی ہے۔زندگی کے اس موڑ پر جب وہ 9دہائی میں داخل ہوچکی ہے،اس کے ذہن میں زندگی کاخلاصہ بہت واضح ہے،وہ اپنی سوانح حیات لکھتے ہوئے بھی اس کی تشریح کرچکی ہے۔2007میں شوہر کے انتقال کے بعد،اس سے ایک انٹرویومیں پوچھاگیا،پھر شادی کرنا پسند کروگی،تواس کاجواب نفی میں تھا،کیونکہ اس کاخیال ہے کہ ’’محبت ہرایک کے لیے نہیں ہوتی۔‘‘

ظاہری حسن ڈھل جاتاہے،مگرگزاری ہوئی زندگی کے حسین لمحات،کبھی فراموش نہیں ہوسکتے۔ان لمحوں میں اگرشہوت اورمحبت کی پرچھائیاں بھی شامل ہوں توپھران کی لوسے یادوں کے چراغ،نوسٹلیجیاکے ایندھن سے،بہت دیر تک روشن رہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Categories
فکشن

حکمرانوں کاحسین انتخاب: للی لینگٹری

‘بدن کی بینائی’ سلسلے کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

صورت میں خوب کا اضافہ ہوجائے ،تو خوبصورتی جنم لیتی ہے، اس میں قسمت اورمحنت دونوں کاحصہ ہوتا ہے، بہت کم ایسے لوگ دنیا میں گزرے ہیں، جن کو یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ ملی ہوں۔ للی ایسی ہی خوبصورت عورت تھی،جس کی قسمت میں حُسن تھااورمزاج میں محنت کاجذبہ بھی۔ شہرت کی دیوی اس پر مہربان رہی اوراس نے اپنے خوابوں کے تعاقب میں کئی دنیائوں کاسفر کیے۔ برطانیہ کی شاہی زندگی پر بھی اس کے حسن کا جادو سرچڑھ کر بولتا رہا۔

 

للی 1853کو’’جرسی‘‘نامی جزیرے کے ایک نمایاں گھرانے میں پیدا ہوئی۔ اس کے والد اپنے علاقے کے ناظم تھے۔ اس کی شادی آئرش زمیندارسے ہوئی، جس کانام”ایڈورڈ لینگٹری۔ ۔للی نے اپنی ذاتی اورپیشہ ورانہ زندگی میں کئی معاشقے کیے،جس میں سرفہرست معاشقہ جس سے چلا،اس عاشق کانام پرنس لوئس آف بیٹنبرگ۔Prince Louis of Battenberg”تھا۔ دونوں نے شادی تو نہ کی، مگر ان میں محبت کی گواہی کے طورپر ایک بیٹی کی پیدائش ہوئی اوربرطانیہ میں یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی۔

 

للی لینگٹری ایک کافی کمرشل میں

 

پرنس لوئس کی شادی برطانیہ کی ملکہ وکٹوریہ کی پوتی سے ہوئی،جس سے پیدا ہونے والی اولاد میں سے ایک بچہ آگے چل کر برصغیر کی سیاست پر بھی اثر انداز ہوا،اس کانام “لارڈ مائونٹ بیٹن۔Lord Mountbatten‘‘تھا،جوبرصغیر کا پہلا وائسرراے اور انڈیا کا پہلا گورنرجنرل بنا۔ جواہر لال نہرو نے اس کی بیوی سے معاشقہ بھی چلایا تھا، جس کی تفصیلات مورخین نے بیان کیں۔ایک طرح سے للی کو مائونٹ بیٹن کی سوتیلی ماں بھی کہا جا سکتا ہے، جبکہ للی کی حقیقی بیٹی”جینی مائر۔Jaenne Marie” بھی لارڈ مائونٹ بیٹن کی سوتیلی بہن ہوئی۔

للی کے دیگر معاشقوں میں ایک اور معروف معاشقہ ملکہ وکٹوریہ اول کے بیٹے،پرنس آف ویلز”البرٹ ایڈورڈ۔Alber Edward”سے ہوا، جو آگے چل کر برطانیہ کا بادشاہ”ایڈورڈ ہفتم۔Edward VII”بنا۔اس کاایک اورعاشق”رابرٹ پیل۔Robert Peel”تھا،جو برطانوی وزیراعظم بھی رہا۔ان کے علاوہ معروف آئرش ادیب “آسکر والڈ۔Oscar Wilde”اورامریکی آرٹسٹ “جیمزمیکنلی ویسلر۔James McNeill Whistler”بھی بہت قریبی دوستوں میں شامل رہے۔ان کے علاوہ کئی معروف شخصیات اس سے متاثر رہیں،جن میں سے بہت سارے طبقہ اشرافیہ سے تعلق تھے۔ پرنس لوئس اورایڈورڈ ہفتم سے معاشقوں میں للی نے جیسی شاہانہ زندگی گزاری،ا س طرح سے دیکھا جائے تو یہ شاہی خاندان کا حصہ ہوتے ہوئے بھی نہیں تھی۔ اس حسین خاتون کی زندگی کا یہ بیک وقت روشن اور تاریک پہلو تھا۔

ایک زمیندار کی بیوی تھی، زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کو اس سے اچھی ابتدا اور بھلا کیا ہو گی۔ اس میں بھرپور اداکارانہ صلاحیتیں تھیں، جن کا استعمال اس نے پیشہ ورانہ اورذاتی زندگی میں بھرپورطریقے سے کیا۔ تھیٹر کے شعبے سے وابستہ رہی اوراسٹیج پر حکمرانی کی۔شاعری کے ذریعے دلوں کوبھی فتح کیا۔اس وقت کے سماج میں اعلیٰ رتبے پر فائز رہی ،ہرتقریب کی رونق اورشمع محفل بنی۔

 

للی نے پیشہ ورانہ زندگی میں بڑے کامیاب فیصلے کیے،اس نے تھیٹر کمپنی بنائی،جس کی تشہیر اورکام کے لیے وہ امریکا تک جاپہنچی،اس نے ہر وہ طریقہ اختیارکیا،جس سے اس کی شہرت اورطلب میں اضافہ ہوسکتاتھا۔اس کی شخصیت میں ذہانت اور مزاج میں شگفتگی نے اس کے حسن کو دوآتشہ کردیا۔وکٹوریہ سماج میں اپنے خوابوں کو پانے کے لیے للی نے اپنی شخصیت کو کئی تنازعات میں الجھا دیا، مگر اپنے اہداف نہ بھولی۔محفلوں کی جان بننے والی اکثر اپنے گھر کے باغیچے میں تنہا اپنی زندگی کے نشیب وفرازکے بارے میں سوچتی تھی۔

 

آدھی صدی تک دلوں پر راج کرنے والی اس حسین خاتون نے کبھی ہمت نہ ہاری۔ ایک مرتبہ بیماری نے اس طرح آن گھیرا کہ بڑی مشکل سے یہ موت کے منہ سے واپس آئی۔ بنفشی آنکھوں والی اس حسینہ نے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کربات کی۔ فیشن کی دنیا میں بھی اپناحسن ثابت کیا،ایک وقت ایسا آیا،جب اس کے انداز اورادائیں ہی فیشن کے طورپر قبول کی جانے لگیں۔معاشرے میں بسنے والے ہرطبقہ اس کے جمال کی تپش محسوس کرتااورمنتظر رہتا،اب یہ اپنا جلوہ کس پر گرائے گی اوروہ خوش قسمت کون ہوگا،جس کویہ نگاہ بھر کے دیکھے گی۔1887میں للی نے امریکا کی شہریت حاصل کرکے کیلیفورنیامیں سکونت اختیار کرلی۔آئرش شوہر سے طلاق کے بعد اس نے اپنے سے کم عمر اورامیر ترین شخص “ہوگوگیرلڈ ڈی بیٹھ۔Hugo Gerald De Bathe”سے کی،جس کی شہرت گھوڑوں کے ریس سے وابستہ ممتاز کاروباری شخصیت کی تھی۔

 

للی کی زندگی پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالی جائے،تو دکھائی دیتاہے،1867میں جب یہ صرف ابھی 14برس کی تھی،اس کو شادی کا پہلا پیغام ملا۔اس کے حسن کا چرچا کم عمری میں ہونے لگاتھا۔1876میں شادی کی اوراگلے برس ہی پرنس لوئس کے ساتھ معاشقہ چلالیا۔1878میں ملکہ وکٹوریہ کے دربارتک رسائی بھی حاصل کرلی۔1881میں ،جب یہ ابھی صرف 27برس کی تھی،اس کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی،اس کی پیدائش کو خفیہ رکھاگیا،یہ اس عرصے میں فرانس کے شہر پیرس میں مقیم تھی۔اسی برس میں تھیٹر سے اس کی باقاعدی وابستگی ہوئی۔1882میں یہ اپنی زندگی کے پہلے اشتہار میں بطورماڈل زینت بنی۔1885میں اپنی تھیٹر کمپنی کے سلسلے میں امریکا کادورہ کیا اوراگلے 2سال میں یہ وہاں کی شہریت بھی حاصل کرلی، جبکہ ابھی تک اس کی عمر صرف 33برس تھی۔1901میں یہ تھیٹرریٹائرڈمنٹ لے لی۔ 1905میں 51برس کی ہوچکی تھی،جب اپنے محبوب برطانوی شہزادے کی بادشاہ بننے کی تاج پوشی کی رسم میں شریک ہوئی۔1925میں پہلی جنگ عظیم کے سلسلے میں امدادی رقم جمع کرنے کی خاطر اپنے تھیٹر کے میڈیم کا استعمال بھی کیا۔

 

للی لینگٹری کی زندگی پر بننے والا برطانوی ڈرامہ

 

زندگی بھرللی نے شاعری کی، تھیٹر کے اسٹیج پر خود کو اداکاری سے جوڑے رکھا، ادکاری کے علاوہ پروڈکشن میں بھی اپنی صلاحتیں آزمائیں۔ ماڈل کی حیثیت میں فیشن کے منظر نامے پر رہی۔کئی حکمرانوں کے تنہائی کی رازداں بنی۔ ایک فلم میں بھی کام کیا۔ ایک ناول بھی لکھا، اپنی خودنوشت بھی قلم بند کی۔ غرض کہ صرف اپنے حسن پر تکیہ نہیں کیا، بلکہ خوشبو کی طرح ایک سے دوسری جگہ اپنی مہک سے آگے بڑھتی چلی گئی۔ اس پر کئی کتابیں لکھی گئیں۔مصوروں نے اس کو پینٹ کیا، فلمیں اور ڈرامے بنے۔ غرض کہ ہر طرح سے للی کی شخصیت کو دریافت کیاگیا۔

 

1929کو امریکا میں ہی اس کاانتقال ہوا،اس کی میت برطانیہ لائی گئی،جہاں اس کوآبائی قبرستان میں دفن کیاگیا۔اس کی رحلت سے برطانوی تاریخ کا ایک اہم باب ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا۔ جس میں شاہی کرداروں کے تذکرے تھے اور زمانے کی غلام گردشوں کے قصے بھی، جس کو للی نے بے حد دلیری، بے باکی اورہمت سے جھیلا۔ حسین لوگ نازک ہوتے ہیں،مگر اس نے جس طرح وکٹوریہ سماج کی سختی میں اپنی نزاکت کو بے باکی کے لبادے میں چھپائے رکھا،وہ قابل تحسین ہے۔یہی وجہ ہے،برطانیہ کی شاہی تاریخ ہو یافنی تذکرے اورحسن کابیان،اس کے ذکر کے بغیر سب کچھ ادھوراہے۔
Categories
تبصرہ

نیلے آسمان پر رُکی ہوئی رُت کی کتھا۔ ۔ ۔ سانوریا

زندگی صرف آگے بڑھ جانے کانام ہی نہیں، کبھی رُک کر پیچھے دیکھنے کاعمل بھی ہے۔ رواں برس کی شروعات پر، 2007میں ریلیز ہونے والی ایک فلم “سانوریا” کو اب کہیں جا کر دیکھنے کاموقع ملا۔ یہ حُسنِ اتفاق تھا، مگر صاحب، ایسا محسوس ہوا، جیسے کسی نے یاد کے کینوس پر، جاناپہچانا منظر کھول کر انڈیلاہے، اتنا وقت گزرجانے کے باوجود، جس کے رنگ تازہ بلکہ اب تک گیلے ہیں۔ یہ نمی شاید جذبے کی ہے، ورنہ گزرے ماہ وسال کے ہندسے، تو اسے نیا ماننے سے انکاری ہیں۔

 

زمانہ طالب علمی کاتھا اورموسم رومان کا۔ ایک صبح بیدار ہونے پراندازہ ہوا، تاخیر ہو گئی، یونیورسٹی پہنچنا تھا، وہاں یار دوست انتظار میں ہوں گے۔ اسی لمحے، ایک دم خیال آیا، ایک دن ہوگا، ایسے ہی آنکھ کھلے گی، مگر کہیں نہیں جانا ہو گا اور دوست بھی منتظر نہیں ہوں گے۔ یہ سوچ کر دل اداسی کی آماجگاہ بن گیا۔ اسی کیفیت میں یونیورسٹی پہنچے اوردوستوں کو اس حالت سے آگاہ کیا۔ دوستوں نے بات ہنسی مذاق میں اڑادی، لیکن کتنی سفاک حقیقت ہے، آج نیند سے بیدار ہوتے ہیں، تو یونیورسٹی میں کوئی دوست انتظار نہیں کر رہا ہوتا۔ سب دوست اپنی اپنی منزلوں کو روانہ ہو گئے۔ اب یادوں کی شاہراہ پر، دل کے مسافرخانے میں صرف خاک اڑتی ہے۔

 

زندگی کے اسی منظر نامے پر کبھی کوئی گیت، فلم، تصویر، نظم یا کوئی آواز سیدھی دل کے پردے چاک کرتی، اس گمشدہ احساس تک جاپہنچتی ہے، جس کی تلاش ہمیں بھی ہوتی ہے، مگر ہم اس کو ڈھونڈ نہیں پاتے۔ یہ فلم”سانوریا” بھی ایسے ہی دنوں کی یاد کا جھونکا ہے، جس احساس کو پلٹ کرآنے میں بہت وقت درکار ہوتاہے۔ وہ دوست، جو اپنے دوستوں سے بچھڑے ہوئے ہیں، یہ فلم اورتحریر انہی کے لیے ہے۔

 

فلم “سانوریا” 2007 میں نمائش کے لیے پیش کی گئی تھی۔ اس فلم نے رواں برس ایک دہائی مکمل کرلی، یعنی 10برس بیت گئے، لیکن اسے دیکھ کربالکل اندازہ نہیں لگایا جا سکتا، شاید اس کی تھیم، موسیقی، کہانی اور کرداروں میں زندگی کی رمق بہت تیز ہے، دھڑکنیں ابھی تک برقرار ہیں۔ ہجر وفراق کے مرحلے، پانے اورکھونے کے احساس سے لبریز، عشق کی سانسوں کے اتار چڑھاؤ، محبت کے طے ہوتے قدموں کی چاپ سے گونجتی، اس فلم میں محسوس کرنے کے لیے بہت کچھ ہے، بشرطیکہ آپ پر کبھی نہ کبھی رومان کاموسم اترا ہو۔

 

اس تخلیق کے پیش کار “سنجے لیلا بھنسالی” ہیں، جن کے کریڈٹ پر فلم سازی اورہدایت کاری کے شعبے ہیں۔ سنجے لیلا بھنسالی کی شخصیت کے دو واضح رخ بہت نمایاں ہیں، وہی ان کی فلموں میں بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ یہ دو طرح کی فلمیں بناتے ہیں، ایک تووہ فلمیں، جن میں یہ صرف فلم ساز کے طورپرشریک ہوتے ہیں اور وہ فلم کمرشل پہلوؤں سے بھی اپنا وزن رکھتی ہے، بلکہ یوں کہہ لیں، اس طرح کی فلموں میں، صرف اس بات کاہی خیال رکھا جاتاہے کہ وہ باکس آفس پر اچھے نتائج حاصل کریں۔ اس تناظر میں، ایک مثال “راؤڈی راٹھور” جیسی فلم ہے، جوخالص کمرشل تھی۔

 

دوسری طرح کی فلمیں وہ ہیں، جن میں یہ خود ہدایت کاربھی ہوتے ہیں، ان فلموں کوبناتے ہوئے، کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجاتا، نہ ہی باکس آفس کے نتائج کی پرواہ کی جاتی ہے، بس فلم کو اس کی پوری جمالیات کے ساتھ تخلیق کیا جاتا ہے، اس طرح کی فلموں میں، اگر مثال لی جائے، توباجی راؤ مستانی، گزارش، بلیک، دیوداس، ہم دل دے چکے صنم، خاموشی جیسی فلمیں ہیں، جبکہ زیر نظر فلم “سانوریا” بھی ان کا حسن نظر ہے، جس کو انہوں نے سینما کے پردے کے لیے فلمایا تھا۔ اب ان کی ہدایت کاری میں بننے والی اگلی فلم “پدماوتی” تاریخ کے ایک اہم کردار “علاؤ الدین خلجی” کے عہد کو تازہ کرنے کرنے کے لیے رواں برس کے اختتام پر نمائش کے لیے پیش کر دی جائے گی۔

 

فلم “سانوریا” اجنبی گلیوں میں ملنے والے پریمی جوڑے کی ہے، جن کی محبت نہایت اثر انگیز لیکن تکونی ہے۔ فلم کامرکزی کردار یعنی ہیرو، اس فلم میں اپنی ہیروئن سے محبت کرتا ہے، مگر اس کا محبوب کوئی اور ہے۔ اس کے باوجود وہ ہیرو کی محبت کوقدر کی نگاہ سے دیکھتی اوراس کو، دوستی کے تقاضوں میں نبھانے کی کوشش بھی کرتی ہے۔ اب صاحب دوستی بھلا محبوب کی محبت کابدل تو نہیں ہو سکتی۔ ایک طرف دیوانگی ہے، تو دوسری طرف عشق، دونوں میں گاڑھی چھنتی ہے، یہی اس فلم کا مرکزی خیال ہے۔ فلم کی کہانی کامرکزی خیال تو روس کے شہرہ آفاق ادیب “فیودور دستوئیفسکی” کی کہانی “وائٹ نائٹس” سے لیا گیا ہے، مگر سنجے لیلابھنسالی نے، اس میں اپنی محبتوں کے نیلے اور سنہرے رنگ ڈال کر، تصورکے پردے کو مزید خوبصورت کردیا۔ رہی سہی کسر موسیقی کے حسین امتزاج سے پوری ہو گئی ہے۔ فلم کے موسیقار مونٹی شرما ہیں۔

 

فلم کامنظر نامہ بے حد خوبصورت ہے۔ نیلے رنگ میں رنگے ہوئے درودیوار اور رات کے ماحول کے تناظر میں ایک شاندار سیٹ بنایا گیا، جس کے تخلیق کار “امنگ کمار”ہیں، جنہوں نے سنجے لیلا بھنسالی کے ساتھ اس سے پہلے، فلم “بلیک” میں بھی اپنی غیرمعمولی صلاحیتوں کوثابت کیا۔ نیم تاریکی میں گلیوں اوربل بورڈز کی تشکیل، ندی کے بہاؤ پرایک پل کی تعمیر، بڑے گھڑیال اوردیگر چیزوں سے سیٹ کو سجا دیا۔ اس پر چلتے پھرتے کردار آنکھوں کو بھلے لگتے ہیں۔ اس فلم میں جن اداکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا، ان میں مرکزی کرداروں میں رنبیر کپور، سونم کپورکے علاوہ دیگر اداکاروں میں سلمان خان، رانی مکھرجی، زہراسہگل، بیگم پارا اوردیگر شامل ہیں۔

 

کسی چھٹی کے دن، فراغت کے لمحوں میں، اس فلم کودیکھیے، مجھے یقین ہے، آپ کی ملاقات کسی نہ کسی گمشدہ احساس سے ضرور ہو جائے گی، یہی اس فلم کا کمال ہے اور سنجے لیلا بھنسالی کی ہدایت کاری کا جادو، سر چڑھ کر جو بول رہا ہے، دل کی تنہائی میں۔۔۔۔۔
Categories
تبصرہ

اے دل ہے مشکل

فلم کی دنیامیں کچھ کہانیاں فرض کرکے لکھی جاتی ہیں، مگر وہ کسی حقیقت پر مبنی بھی ہوسکتی ہیں۔ نہ جانے کیوں ”اے دل ہے مشکل” دیکھ کر یہی خیال وارد ہوا۔ اس کی کہانی کامرکزی خیال، وہ دوستی ہے، جس کو عشق کی پوشاک میں لپیٹ کر دکھایاگیاہے۔ جذبوں کی سردی گرمی کے موسم، اس کہانی سے ہوکر گزرے ہیں۔ احساسات کے اتارچڑھاؤ سے کہانی کوباندھ کر اس طرح پیش کیا گیاہے کہ فلم بین بھی بندھے رہیں گے، جب تک پوری کہانی سمجھ نہ لیں گے۔

 

ایک انتہائی روایتی انداز میں، کمرشل مقاصد کے تحت بنائی گئی، اس فلم نے بھی دل کے تاروں کو چھیڑدیاہے، یہ کمال کی بات ہے، ظاہر ہے، کمرشل چیزیں بنانے والے لوگ بھی تو انسان ہی ہوتے ہیں، کہیں نہ کہیں ان کا اپناپن بھی توچھلک پڑتاہوگا۔ یہی وجہ ہے، فلم میں کئی جگہ بے جا مناظر اور مکالموں کے باوجود کہیں کہیں دل کٹ سا گیا، کچھ مکالمے جان لیوا ہیں۔

 

کیا ہی اچھا ہوتا، اس فلم کو دوملکوں کی محبت کی علامت بھی بنا دیا جاتا، مگر افسوس نفرت انڈیل کر اپنی ہی بہترین کاوش کی تاثیر کوبالی ووڈ نے زائل کر دیا۔ ان تمام نفرتوں کے باوجود فلم سے نہ تو محبت کم ہوئی اورنہ پاکستانیت، نفرت کرنے والے کیاجانیں، تاثیر کی مار کیاہوتی ہے۔ اس فلم میں یہی مار ہے، جس کی ضربیں کبھی کبھی روح پر بھی پڑیں، مکالمے حروف کی معنویت میں پگھل کر اظہار میں کیا ڈھلے، ایسا محسوس ہوتاہے، کوئی سیال مادہ روح میں اتارا جا رہا ہے، اس آتشِ خیال کے بعد کہنے کو باقی کیا رہ جاتا ہے، پھر بھی بیان کیے دیتے ہیں۔

 

کہانی

 

فلم کی سب سے جاندار چیز اس کی کہانی ہے، جس کے مرکزی خیال کو ”کرن جوہر” نے تراشا۔ وہ اس فلم کے ہدایت کار اور شریک فلمسازبھی ہیں۔ کہانی کے مکالمے تخلیق کرنے میں “نرانجان لینگر” نے ساتھ نبھایا اوربہت حد تک اپنی کاوش میں کامیاب رہے، البتہ فلم کی کہانی میں کرن جوہر نے ماضی کی طرح، انگریزی ادب اورفلموں سے استفادہ کرنے کی روایت بھی برقرار رکھی، حیرت انگیز طورپر اس فلم کے لیے پاکستانی شعروادب سے بھی خوب استفادہ کیا۔

 

[blockquote style=”3″]

فلم کی سب سے جاندار چیز اس کی کہانی ہے، جس کے مرکزی خیال کو ”کرن جوہر” نے تراشا۔

[/blockquote]

اس فلم کی کہانی میں، پروین شاکر کے شعر”یہ بازی عشق کی بازی ہے”کاعکس بھی مکالموں میں کہیں کہیں دکھائی دیا، فیض احمد فیض کی غزل “مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ” کے گہرے رنگ بھی مکالمات میں نچھاور کیے گئے۔ فیاض ہاشمی کی “آج جانے کی ضد نہ کرو” کی صدائیں بھی جگائی گئیں، فواد خان اورعمران عباس نے اپنی اداکاری سے دل کو بھی موہ لیا۔ مرکزی کرداروں میں آیان، الیزے خان، صباخان، طاہر خان، ڈاکٹر فیصل، ڈی جے علی، جیسے مانوس نام بھی کہانی کا حصہ بنے، فریدہ خانم کی گائی ہوئی مدھر غزل ”آج جانے کی ضد نہ کرو”عجیب مگر بے حد لطف دیا۔ بلھے شاہ کا ذکر بھی آیا، مگر افسوس، مکمل جذبات کی فلم میں کئی کریڈیٹ ادھورے رہ گئے، کسی کاتذکرہ ملا اور کسی کانہیں، محبت کے احساس پر بننے والی فلم میں کافی کچھ نفرت کی نذرکر دیا گیا۔ اس کے باجود کہانی کااثر ابھی تک باقی ہے۔

 

کردار

 

کمرشل اداکاروں میں، رنبیرکپور مکمل اداکار ہے، نہ جانے ایک گلوکار کے کردار میں یہ کیوں اتنا جچتا ہے، اس طرح کے کردار وہ اپنے فلمی کیرئیر میں پہلے بھی ادا کر چکا ہے۔ اس سے قبل فلم “راک اسٹار” میں رنبیر نے ‘جے جے’ کے کردار میں اپنی اداکارانہ صلاحیتوں کامظاہرہ کیا۔ حسب توقع فلم کی کہانی میں جس قدر ٹوٹ کر جذبات کابیان چاہیے تھا، اس کو وہ ہی ادا کر سکتا تھا، اس کی اداکاری میں تصنع نہیں، اس کے اداکیے ہوئے مکالموں پریقین کرنے کو دل کرتا ہے۔

 

[blockquote style=”3″]

رنبیر کی اداکاری میں تصنع نہیں، اس کے اداکیے ہوئے مکالموں پریقین کرنے کو دل کرتا ہے۔

[/blockquote]

انوشکا شرما کی اداکاری ایک خاص بناوٹی انداز کی ہے، اس کی پہلی فلم”رب نے بنادی جوڑی”سے لے کر آج تک اس میں کوئی زیادہ تبدیلی نہیں آئی، مگر نہ جانے کہانی کا اثر تھا، جو اس فلم میں کہیں کہیں جذبات اس کی بناوٹ پر غالب آ گئے۔ حیرت انگیز طور پر ایشوریہ رائے نے اچھی اداکاری کامظاہرہ کیا، فلمی دنیا میں طویل عرصے بعد واپسی کا کرشمہ بھی ہے، اس نے اپنے تئیں کردار کو خوب نبھایا۔ فواد خان نے بھی اپنے مختصر لیکن مرکزی کردار میں اپنی اداکارانہ صلاحیتوں کابھرپور مظاہرہ کیا۔ مہمان اداکاروں میں شاہ رخ خان، عمران عباس، لیزاہیڈون، عالیہ بھٹ نے بھی اپنے کردار بخوبی نبھائے۔

 

رنبیر اور ایشوریہ نے اپنے کردار بخوبی نبھائے
رنبیر اور ایشوریہ نے اپنے کردار بخوبی نبھائے
فلمسازی و ہدایت کاری

 

فلم سازی کے شعبے میں تین پروڈیوسروں، اپرووا مہتا، ہیرویش جوہر اور کرن جوہر نے مل کر یہ فلم بنائی، سوکروڑ کے بجٹ میں تین بڑے شہروں، ویانا، پیرس اور لندن میں اس کی عکس بندی کی۔ تمام لوکیشن کرن جوہر کی دیگر فلموں کی طرح خوبصورت اور رومانوی تھیں۔ فلم کی ہدایت کاری میں کہیں کہیں جھول دکھائی دیئے، جیسے فلم کی ہیروئن کاتعلق لکھنو کے ایک مسلمان خاندان سے دکھایا گیاہے، مگر فلم میں اس کے کردار میں نہ تو مسلم ثقافت کا کوئی شائبہ محسوس ہوا اور نہ ہی وہ لکھنو والی کوئی بات دکھائی دی۔ ہدایت کاروں کے ذہن سے ـ”رب نے بنادی جوڑی“والی انوشکاشرما نکل نہیں رہی۔ اس لیے وہی اکھڑا اور دوٹوک انداز باربار دہرایا جاتا ہے۔

 

موسیقی

 

فلم کے موسیقار “پریتم”ہیں، جن کی صلاحیتوں کا اعتراف نہ کرنا تو ناانصافی ہوگی، لیکن اس موسیقار کے ساتھ یہ مسئلہ ہے کہ یہ دوسرے لوگوں کی چیزوں پر ہاتھ صاف کرنے کے بھی ماہر ہیں، بغیر کریڈٹ کے کافی کچھ اپنے نام سے بالی ووڈ میں جعلی نوٹ کی طرح بغیر بتائے چلا دیتے ہیں، جس طرح اس فلم میں انہوں نے ایک معروف پاکستانی غزل ”آج جانے کی ضد نہ کرو” کے ساتھ کیا۔ فلم کی تشہیر میں اس گیت کا کہیں تذکرہ ہی نہیں، بس اس کو ذرا ری میکس کر کے اپنے کھاتے میں ڈال لیا، یہ کوئی اچھی بات نہیں، جبکہ اس فلم کے دیگر گیت اچھے ہیں، البتہ کسی کا کریڈٹ ہے، تو وہ دینے میں بخل سے کام نہیں لینا چاہے، نہ جانے پریتم یہ ہنر کب سیکھ پائیں گے۔

 

گلوکاروں اورگیت نگاروں نے اپناکام بخوبی اداکیاہے، گلوکاروں میں ارجیت سنگھ امیت مشرا، شلپا راؤ، جونیتا گاندھی، بادشاہ، نقش عزیز، پردیپ سنگھ سرن، ایش کنگ اورششویت سنگھ نے اپنی آوازوں سے گیتوں کو سجایااورگیت نگاروں میں بالخصوص مرکزی گیت ”اے دل ہے مشکل” کے گیت نگار ”امیتابھ بھٹاچاریہ” نے خوب لکھااوردوسرے گیت ”بلھیا” کی گیت نگاری اوردھن نے دل کو چھو لیا۔ ان تمام گیتوں کی دھنوں سے لے کر عکس بندی تک سب اچھا کی رپورٹ ہے۔

 

رنبیر ایک گلوکار کا کردار بخوبی نبھاتے ہیں
رنبیر ایک گلوکار کا کردار بخوبی نبھاتے ہیں
حرف آخر
فلم نے ریلیز سے پہلے ہی مقبولیت حاصل کر لی تھی، کیونکہ رواں برس پاکستان اور انڈیا کے مابین تلخیوں نے زور پکڑا، توساران زلہ پاکستانی فنکاروں پر اترا، جس میں سرفہرست، یہ فلم متاثر ہوئی۔ کرن جوہرنے بڑی منتوں سماجتوں کے بعد، انڈیامیں سیاسی پنڈتوں سے اس فلم کو ریلیز کرنے کی اجازت لی، اس طرح یہ فلم ریلیز ہوئی اورباکس آفس پر اپنی کامیابی کے جھنڈے گھاڑ دیے۔ لکھنوکے علاوہ، لندن، پیرس اورویانامیں فلمائی جانے والی فلم کے پس منظر بھی انتہائی حسین اور کہانی کے لحاظ سے رومانوی تھے، جنہوں نے کہانی کا حسن مزید نکھار دیا۔ فلمی ناقدین نے یہ بھی کہا، یہ فلم کرن جوہر کی گزشتہ دو فلموں “کل ہو نہ ہو”اور”کبھی الوداع نہ کہنا”کا سیکوئل محسوس ہوئی۔ میرے خیال میں کرن جوہر اپنی ہر فلم ایک احساس سے دوسرا احساس تراش کربناتے ہیں، اس لیے ان کی فلموں مسابقت محسوس ہوتی ہے۔

 

[blockquote style=”3″]

اس فلم کو دیکھتے ہوئے دماغ کی بتی بند اور دل کاجگنو ٹمٹماتا رہے گا توفلم اورلطف دے گی، اس بات کی ضمانت ہے۔

[/blockquote]

آپ نے زندگی میں کوئی ایسا دوست بنایا ہے، جو کسی محبوب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہو اور پھر اسے کئی بار کھویا اور پایا بھی ہو، خاص طور پر وہ آپ کی بے وقوفیوں کا ہم راز ہو، دیوانگی کے احساس سے بھی واقف ہو، مگر آپ کی سمت آنے کی بجائے، مخالف سمت کی طرف چلا جائے، تو سمجھ لیں، یہ فلم آپ کے دیکھنے کی ہے، اس فلم کو دیکھتے ہوئے دماغ کی بتی بند اور دل کاجگنو ٹمٹماتا رہے گا توفلم اورلطف دے گی، اس بات کی ضمانت ہے۔