Categories
نان فکشن

زندگی کی تاریکی پر فتح پانے والی حسینہ؛ فاطمہ سیاد

دنیا خوبصورت لوگوں کے اشتراک سے حسین بنی ہے، کسی نے اپنے جمال کا حصہ ڈالا، تو کسی کے بلند حوصلوں نے۔ افریقہ کے ایک غریب ترین ملک صومالیہ میں پیدا ہونے والی کم عمر لڑکی نے کچھ خواب دیکھے، اس کے راستے میں وحشتیں، قتل و غارت، غربت، فاقہ کشی سمیت سارے کانٹے قدرت نے بوئے، وہ ایک ایک کر کے انہیں عبور کرتی چلی گئی، اب بھی وہ راستے میں ہے، لیکن اپنی ہمت سے منزل کی طرف رواں دواں ہے، اس کا نام’’فاطمہ سیاد‘‘ ہے، والدہ کا تعلق صومالیہ سے جبکہ والد کا ایتھوپیا سے ہے۔

فاطمہ کبھی ہمت نہیں ہاری اور ہمیشہ اپنی خوبصورتی کو سمیٹے رکھا

’’فاطمہ سیاد‘‘ عالمی فیشن کی دنیا میں اس وقت نمبرون ہے۔ عہد حاضر میں فیشن کی دنیا سے مقبول ترین سیاہ فام ماڈلز میں ممتاز ترین ہے، اس کا شمار سیاہ رنگت والی دس معروف ترین ماڈلز میں سے دوسرے نمبر پر ہوتا ہے۔ اس کا کیرئیر مختصر اور عمر کم ہے، مگر ہر گزرتے دن کے ساتھ کامیابیوں کا تناسب بڑھتا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے یہ شہرت کی نت نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ اس میں ایک حد تک اس کی ہمت اور حوصلہ کا کمال ہے، لیکن سب سے دلکش پہلو اس کی خوبصورتی ہے، اس نے اپنے اندر اور باہر کی خوبصورتی کے امتزاج سے ایک ایسی کشش پیدا کر لی ہے، بہت غور سے دیکھنے پر فنی کمال کا یہ سحر محسوس ہوتا ہے۔

فاطمہ سیاد ووگ سمیت متعدد موقر جرائد کے سرورق کی زینت بن چکی ہیں

افریقہ کے ایک غریب ملک میں پیدا ہونے والی’’فاطمہ سیاد‘‘ کی پیدائش کا سال 1986 ہے، اس کا ملک طویل عرصے سے خانہ جنگی کا شکار ہے، جب اس نے ہوش سنبھالا، تو یہی ماحول اس کے اردگرد تھا۔ ابھی کم عمر ہی تھی، تو والدین کے درمیان طلاق ہوگئی، زمانے کی تلخیاں، گھر سے ملنے والے ذاتی دکھ کم نہ ہوئے تھے کہ ملک میں جاری خانہ جنگی نے اس کی دو بہنوں کی جان لے لی، وہ صومالی فوج کے ہاتھوں ماری گئیں، اس کے بعد زندہ رہ جانے والی ماں بیٹی اپنی جان بچا کر امریکا پہنچیں، اس وقت یہ صرف 13 برس کی تھی، اس کو بالکل اندازہ نہیں تھا، زندگی اس کے بارے میں کیا طے کر رہی ہے۔ اتنی کمسنی میں جھیلنے والے عذاب نے اس کی شخصیت کو وقتی طور پر کم گو اور خاموش بنا دیا۔

امریکا میں قیام کے دوران اس نے تعلیم حاصل کرنا شروع کی، تو اس کی شخصیت میں اعتماد آنا شروع ہوگیا اور یہ ایک نارمل زندگی گزارنے کی طرف لوٹنے لگی۔ اس نے امریکی شہروں بوسٹن اور نیویارک سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد فیشن کی صنعت میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اپنی خواہش کو عملی جامہ پہنانے کے لیے راہیں تلاش کرنا شروع کیں، یوں اس کو فیشن کی دنیا میں داخل ہونے کا راستہ مل گیا۔ سب سے شاندار بات یہ تھی، اس نے ہمت نہ ہاری اور اپنی ظاہری و باطنی خوبصورتی کو سمیٹے رکھا، یہی حسن اس کی زندگی میں مشعل راہ بنا۔ چند برسوں کی جدوجہد کے بعد فیشن کی طرف جانے والے راستوں اور حوالوں سے اس کی شناسائی بڑھنے لگی، جس کے نتائج بھی جلد برآمد ہونے لگے۔

’’فاطمہ سیاد‘‘ نے جہاں ایک طرف اپنے کیرئیر کو آگے بڑھانے کے لیے کوششیں کی اور ماڈلنگ سے عملی زندگی کا آغاز کیا، وہیں کچھ ایسے منصوبوں کا بھی حصہ بنی، جس کو کہا جا سکتا ہے، اس نے زندگی کے چیلنج کے طور پر قبول کیا، اس میں سے ایک امریکی ٹیلی وژن کا مقبول پروگرام’’America’s Next Top Model-ANTM‘‘ تھا، جس میں سخت مقابلے کے بعد اس نے تیسری پوزیشن حاصل کی، اس پروگرام پر امریکی نوجوان نسل کی نظریں تھیں، یہاں سے اس کی شاندار شہرت کی ابتدا ہوئی۔

اس وقت وہ جرمنی میں رہائش پذیر ہے، شادی کر چکی ہے، د وبیٹے ہیں اور کامیابی کے ساتھ کیرئیر کو آگے بڑھا رہی ہے اور ایسی عورتوں کے لیے مثال ہے، جنہیں زندگی میں بیک وقت کئی محاذوں کا سامنا ہوتا ہے، مگر وہ پھر بھی فاتح رہتی ہیں۔ امریکا، جرمنی، فرانس، برطانیہ، یونان سمیت دنیا بھر کی فیشن کمپنیوں کے ساتھ کام کر رہی ہے، اب تک کئی بڑے معروف فیشن برانڈز اور مصنوعات کی تشہیری مہم میں شامل ہے، اس میں کوکا کولا کا اشتہار سرفہرست ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ کئی فیشن میگزین کے سرورق کی زینت بھی بن چکی ہے۔ ان رسائل میں امریکا کا معروف جریدہ ووگ، آسڑیلیا کا ہارپر بازار اور کاسموپولیٹین اور برطانیہ کالُک میگزین شامل ہیں۔ ان ممالک کے علاوہ یورپ، افریقہ اور ایشیا کے کئی ممالک میں شائع ہونے والے جرائد کے سرورق بھی اس کی تصاویر سے مزین ہو چکے ہیں۔ سوئزرلینڈ کی مصنوعات سمیت دنیا کے بڑے بڑے برانڈز کے ساتھ اس کا اشتراک اور کیا جانے والا کام قابل رشک ہے، دنیا کے تمام بڑے فیشن شوز میں بھی اس کی شمولیت لازمی ہوتی ہے۔ اتنی کم عمری میں جس برق رفتاری سے کامیابیاں سمیٹی ہیں، وہ بے مثال ہے۔

زندگی میں اتنی کامیابیاں سمیٹنے کے بعد یہ اب ایک مکمل طور پر بدلی ہوئی اور پراعتماد لڑکی ہے، پوری دنیا سے اس کے مداحین سوالات پوچھتے ہیں، جن کے جوابات یہ بڑی خندہ پیشانی سے دیتی ہے۔ اپنے اب تک کیے ہوئے فوٹو شوٹس میں اس کو وہ فوٹوشوٹ بہت پسند ہے، جس میں اس کے سیاہ بدن کو ہرے لال اور پیلے رنگوں میں نہلایا گیا۔ رنگوں کے امتزاج سے اس کی سیاہ رنگت بھی دو آتشہ ہو جاتی ہے۔ امریکی اداکار آرنلڈ شوازنیگر اور پاکستان سے تعلق رکھنے والی ملالہ یوسف زئی بطور شخصیات اسے بہت پسند ہے۔

زندگی نے جب اس کو راحت لوٹائی، تو اس نے اپنی جڑوں کے بارے میں سوچا، پھر ایک بار اپنے آبائی ملک صومالیہ گئی، وہاں کے مقامی افراد میں گھل مل گئی، اس دورے میں اس نے اپنے آپ کو ایک نئے سرے سے تلاش کیا۔ زندگی کا دیا ہوا اعتماد اب بھی اس کے کام آرہا ہے، یہ دنیا بھر کے اہم موضوعات پر بات کرتی ہے، امریکی اور یورپی فیشن انڈسٹری کی منافقت اور گروہ بندیوں کو بھی زیربحث لاتی ہے، سب سے بڑھ کر اس نے خود کو ہر طرح کے اسکینڈل سے بچا کر رکھا ہوا ہے اور پوری توجہ کام پر ہے، یہی وجہ ہے، وہ بہت کم وقت میں تیزی سے اپنے خوابوں کی تعبیر حاصل کر رہی ہے، یہی اس کی کامیابی کا راز ہے، جس کو اس نے کامل ایمان سے اپنی زندگی کا حصہ بنا رکھا ہے۔

شہرت پانے کے بعد فاطمہ سیاد نے صومالیہ میں اپنی جڑوں کو پھر سے تلاش کیا

سیاہ رنگت والی اس حسینہ نے، زندگی کی تاریکیوں پر مکمل فتح حاصل کرلی ہے۔ اب یہ جرمنی کے پوش علاقے میں اپنے خاندان کے ہمراہ رہتی ہے، کبھی کبھار ماضی کی پرچھائیاں، والدین کی جدائی، بہنوں کا دردناک قتل اور ایسی کئی یادیں اس کو پریشان ضرور کرتی ہیں، مگر وقتی طور پر۔۔۔۔ اب اس نے تقدیر سے ہر کام کا حساب اپنی محنت کے ذریعے وصول کرلیا ہے۔ زندگی کی تاریکیوں پر فتح پانے والی ایسی سیاہ حسینہ، جس نے زندگی کی سیاہ راتوں کا مقابلہ اپنے حوصلہ اور حسن کی طلسمی سیاہی سے کیا اور اس جادو کااثر،کامیابیوں کی شکل میں تا حال جاری ہے۔۔۔۔۔۔

Categories
نان فکشن

وقت کے کینوس کا طلسمی رنگ-سنڈی کرافورڈ

‘بدن کی بینائی’ سلسلے کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

وقت کے کینوس پر بہت سارے رنگ آتے اور گزرتے رہتے ہیں، مگر کچھ رنگ ایسے خاص ہوتے ہیں، جن کا رخصت ہونا ٹھہر جاتا ہے، ان کی رنگت اور نکھار حُسن کو اور چمکدار بنا دیتی ہے۔ دنیا میں ایسی رنگت والے طلسمی چہرے کم، لیکن وارد تو ہوئے ہیں۔ عالمی فیشن کی دنیا میں ایسا ہی ایک چہرہ، جس نے عمر کو اپنی مٹھی میں تھام کے رکھا ہے۔ اس کے حسن کی چاندنی ابھی تک دمک رہی ہے۔ وہ وقت کی گردش میں بھی پورے غرورکے ساتھ قائم ہے، ہرچند کہ وقت کی پرچھائیوں نے اسے متاثر بھی کیا ہے، اس کے باوجودوہ بے پرواہ محبوب کی مانند ہے، جواپنے آپ میں مدہوش ہے۔

امریکی فیشن کا نمایاں ترین ستارہ-سنڈی کرافورڈ

اس حسینہ کا نام’’Cindy Crawford‘‘ ہے، وہ امریکی فیشن کے شعبے میں نمایاں ستارے کی مانند ہے۔اس کی بھوری آنکھوں اور زلفوں نے، اُوپری ہونٹ کے قریب اُبھرے ہوئے تل کے ساتھ مل کر عاشقوں کا خوب امتحان لیا۔ وہ تل کئی دہائیوں تک، مداحوں کے دلوں کو بے چین کرنے پر تلارہا۔ اس تل کی اہمیت سے وہ خود بھی واقف تھی، اسی لیے وہی تل اس کے بزنس کا ٹریڈ مارک بنا، ورنہ ایک وقت وہ بھی تھا، جب کیرئیر کے ابتدائی دنوں میں، اس کے عکس بند کیے ہوئے فوٹوشوٹس میں، اس تل کو،کمپیوٹر کی مدد سے ایڈیٹ کر دیا گیا، ہرچند کہ آگے چل کر یہی تل اس ہوشربا حسن کو نظربد سے بچانے کا سبب بنا۔

’’Cindy Crawford‘‘امریکی ماڈل اور ادکارہ ہے۔ زمانہ طالب علمی میں اپنی ذہانت کی وجہ سے نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی میں اسکالر شپ حاصل کی، یہی وہ زمانہ ہے، جب اس نے خود کو ماڈلنگ کی طرف راغب پایا، اسے ماڈلنگ کا کام بھی ملنے لگا، جس کی وجہ سے پڑھائی ادھوری رہ گئی اور اس کی توجہ کامرکزصرف کیرئیر بن گیا۔ طالب علمی کے دور ہی میں طلبا کے ایک جریدے کے لیے اس کی تصویر سرورق کی زینت بنی۔ دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں بھی فیشن سے متعلق، اس کا رجحان خصوصی طور پر زیادہ تھا۔ اسی وقت محدود پیمانے پر ہونے والے فیشن کے مقابلوں میں بھی اس نے شرکت کی، یوں لاشعوری طور پر ماڈلنگ کے کیرئیر کی طرف بڑھتی چلی گئی اورکامیابیوں نے اس کے قدم چومنے شروع کر دیے۔

سنڈی کرافورڈ فیشن اور شوبز کے تمام بڑے جرائد کے لئے ماڈلنگ کر چکی ہیں

وہ اپنے آبائی علاقے سے نیویارک منتقل ہونے کے بعد ایک ماڈلنگ ایجنسی سے وابستہ ہوئی اور یوں اس کے کیرئیر کا راستہ بنتا چلا گیا۔ اپنے خاندان میں یہ واحد شخصیت تھی، جس کو اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے کچھ بھی کر گزرنے کا جنون تھا۔ کم عمری میں بھی کسی خوف کی پرواہ کیے بغیر دنیا کو جیت لینے کی غرض سے عملی زندگی میں قدم رکھ دیا۔ اس کو آبائو اجداد کی طرف سے، امریکا کے علاوہ جرمنی، انگریزی اور فرانسیسی رشتے ناطے بھی ملے، شایداسی لیے وہ کئی ثقافتوں کا مظہر اور ملاپ محسوس ہوتی ہے۔

’’Cindy Crawford‘‘کے عروج کا دور 80 اور 90 کی دہائی ہے۔ اس نے دنیا کے تمام بڑے فیشن ریمپ پر چہل قدمی کی۔ دنیا کے تمام بڑے اور نامور رسائل و جرائد نے اپنے سرورق پر، اس کی تصویروں کو زینت بنایا۔ اس کی تصویریں ہزاروں بار چھاپی گئیں۔ یہاں ان رسائل اور اخبارات کے نام لکھے جائیں، تو تعداد سینکڑوں میں بنتی ہے۔ ہر چھوٹے بڑے اخبار اور رسالے نے اس کی زندگی اور روزوشب کا احوال لکھا۔ دنیا کے متعدد بڑے اشتہاری برانڈز کے لیے یہ سفیر بھی رہی اور اس کا ظہور اشتہارات میں بھی ہوا۔ پورے کیرئیر میں ساتھی ماڈلز کے لیے مقابلے کی فضا برقرار رکھی، جس میں ایک طرف اس کا حسن کام آرہا تھا تو دوسری طرف ذہانت بھی معاونت کر رہی تھی۔
’’امریکن سوسائٹی آف میگزین ایڈیٹرز‘‘ نے 40 برس میں شایع ہونے والے سرورق کی فہرست میں بائیسواں نمبر دیا، یہ اس کے پسند کیے جانے کی انتہا تھی۔ 1988 میں دو بار اپنے حسن کو تمام کرتے ہوئے، بدنام زمانہ جریدے Playboy کے لیے برہنہ فوٹوشوٹ عکس بند کروائے اور فیشن کے منظر نامے پر تہلکہ مچا دیا۔ اسی جریدے کی مرتب کردہ فہرست کے مطابق، اکیسویں صدی کی 100 اشتہا انگیز عورتوں میں اس کا نمبر پانچواں تھا۔ دیگر رسائل و جرائد میں کسی نے اسے کائنات کی سب سے حسین خاتون قرار دیا تو کسی نے خوبصورتی کی بے مثال شخصیت کہا۔ 2006 میں بھی Maximمیگزین نے اسے دنیا کی 100 ہوشربا خواتین میں 26ویں نمبر پر رکھا، جبکہ اس وقت یہ اپنی عمر کا چالیسواں ہندسہ عبور کر چکی تھی۔

معروف گلوکاروں نے اس کو اپنی میوزک ویڈیوز میں شامل کیا، چاہے وہ 1990میں جارج مائیکل کا کوئی گیت ہو یا 2015 میں ٹیلرسوئفٹ کی گائی ہوئی کوئی دھن، حسن کی یہ رانی اسکرین پر راج کرتی رہی۔ اشتہاری کمپنیوں نے ان کو منہ بولے معاوضے پر اپنے ہاں کام کرنے کی درخواست کی۔ فٹنس ویڈیوز بھی اس کے کام کاحصہ بنیں۔ ایک درجن کے قریب فلموں میں کام کیا، جبکہ میوزک اور فٹنس ویڈیوزکو ملا کر تقریباً 9 ویڈیوز میں اپنے فن کے جوہر دکھائے۔ ٹیلی وژن کی دنیا میں بھی درجن بھرسے زیادہ پروگراموں میں کام کرکے مزید شہر ت حاصل کی، جس میں مختلف ڈراما سیریز اور ٹاک شوز شامل ہیں۔ ٹیلی وژن میں اب تک کا آخری پروگرام 2016 نشر کیا گیا۔ فلم، ٹیلی وژن، میوزک ویڈیوز اور فیشن کی دنیاپر اس حسینہ کا راج اب تک جاری ہے۔

سنڈی کرافورڈ اب فلاحی کاموں میں حصہ لیتی ہیں

’’Cindy Crawford‘‘ نے 2000 تک آتے آتے فیشن کی دنیا کو خیر بادکہا، البتہ تجارتی اور فلاحی سرگرمیوں کی طرف رجحان برقرار رہا، پھر 2011 میں محدود پیمانے پر، ماڈلنگ کی طرف واپسی ہوئی۔ 2015 کو Becoming کے نام سے اپنے کیرئیر اورذاتی زندگی پر کافی ٹیبل کتاب کا اجرا بھی کیا، دیگر کئی معروف کافی ٹیبل کتابوں کاحصہ بنتی رہی۔صحت عامہ سے متعلق فلاحی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کا حصہ لیا۔ اس کی ذاتی زندگی کی ایک جھلک دیکھی جائے تو اس نے دو شادیا ں کیں، پہلی شادی ہالی ووڈ کے معروف اداکار Richard Gere سے کی، جو زیادہ عرصہ نہ چل سکی۔ دوسری شادی ایک بزنس مین سے کی، جو تا حال کامیابی سے جاری ہے، اس کے دو بچے بھی ہیں، جنہوں نے اپنی ماں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے فیشن کو ہی اپنے کیرئیر کے لیے منتخب کیا ہے۔ 2008 کے امریکی انتخابات میں بارک اوبامہ کے حق میں اپنی آواز ملائی جبکہ 2011 کے انتخابات میں ان کی نگاہ کامرکز Mitt Romney تھا۔

زندگی کی 50 بہاریں دیکھنے والی یہ حسین خاتون اب بھی بے حد پرکشش ہے اور اپنے بعد آنے والی حسین عورتوں کو بھی شہرت کے سفر میں پیچھے چھوڑ چکی ہے۔ اس کا شمار ان چند مقبول ترین امریکی شخصیات میں ہوتا ہے، جنہوں نے بڑے اعتماد سے اپنے کیرئیر کو آگے بڑھایا، خود کو زیادہ تنازعات میں گھرنے نہیں دیا، پوری دنیا کے فیشن میں خود کو شریک رکھا، فلاحی اور خیراتی کاموں میں بھی پیش پیش رہی۔

سنڈی کرافورڈ کا حسن اب کندن ہو چکا ہے

اس حسینہ نے اپنے حسن کو بحال رکھا، کہیں خود کو گل نہ ہونے دیا، اپنے دیدنی حسن کی روشنی سے مداحوں کو دیوانہ بناتی رہی۔ یہ پرکشش لڑکی، اب ایک باوقار عورت کے روپ میں ڈھل چکی ہے، ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ زندگی کے اتنے ادوار میں کوئی اپنی خوبصورتی کو برقرار رکھے، مگر اس نے ثابت کر دکھایا۔ شہرت کی شہزادی اب بھی اپنے اعتماد سے کسی کے حواس کو باختہ کر سکتی ہے، کیونکہ اس کا حسن کندن ہو چکا ہے۔

Categories
عکس و صدا

اطالوی حسن کی مکمل داستان: صوفیہ لورین

‘بدن کی بینائی’ سلسلے کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

دنیا میں کم ایسے چہرے ہوتے ہیں،جنہوں نے اتنے طویل عرصے تک،اپنی دلکشی کوبرقراررکھاہو،اپنے حسن کی تپش سے چاہنے والوں کوحدت مہیاکی ہو۔خوبصورتی کواتنی سخاوت سے تقسیم کیاہو۔صوفیہ لورین ایسی ہی ایک فنکارہ ہیں،جنہوں نے شوبز کی دنیا میں طویل عرصے تک راج کیااوراپنے حسن سے ایک جہان کومسحورکیے رکھا۔گزرتے وقت میں،ان کاحسن تو شاید ڈھل گیاہے،مگرماضی کی شاندار پرچھائیاں، شائقین کوبے چین کردینے کے لیے اب بھی کافی ہیں۔

1934کو،اٹلی میں پیداہونے والی خوبصورت اداکارہ نے اطالوی سینما،امریکی فلمی صنعت اورمغرب کے فیشن کے تمام قلعے فتح کرنے کے بعد،زندگی کومکمل سکون سے گزارنے کے لیے سوئٹزرلینڈ کاانتخاب کیا۔فطری حسن سے قربت رکھنے والی اس اداکارہ نے رہائش کے لیے بھی فطری مقام کومنتخب کیا،جس طرح ماضی میں قدرت نے اس کواچانک سے،ایک مقابلہ حسن میں شرکت کرنے پر، دنیائے شوبز کے لیے حاصل کیاتھا۔رومان،بے باکی،دلکشی،فطرت کاحسین امتزاج،صوفیہ لورین کے سواکون ہوسکتاہے۔

1951کو،15 برس کی نٹ کھٹ عمرمیں فلمی کیرئیر کاآغازکیا۔فن کے ابتدائی سفر میں چھوٹے موٹے کرداربھی نبھائے،لیکن 1956کوقسمت کی دیوی اس پر مہربان ہوگئی اورمعروف فلم ساز ادارے’’پیرامائونٹParamount‘‘کے ساتھ 5مشترکہ فلموں کامعاہدہ طے کرلینے کے بعد، بین الاقوامی شہرت کاسفرکی ابتداکی، یوں پھرThe Pride and the PassionاورHouseboatسے لے کرIt Started in Naplesتک،اس نے اپنی اداکارانہ مہارت کااحساس دلایا،مگرحقیقی معنوں میں ایک فلمTwo Womenسے اپنی اداکارانہ صلاحیتوں کالوہا منوایااور1962میں،بہترین اداکارہ کا آسکرایوارڈحاصل کرکے پوری دنیا کواپنی آمد کی اطلاع دی۔

اطالوی فلم سے بہترین اداکارہ تسلیم کیے جانے والی صوفیہ لورین نے اٹلی میں بھی اسی فلم کے ذریعے وہاں کے مستند فلمی ایوارڈزبھی اپنے نام کرکے تہلکہ مچادیا۔کامیابیوں کے اس سفر میں،یہ فلمی دنیا سے باہر نکل کرموسیقی اورفیشن کی دنیا میں بھی نام کمانے میں کامیاب رہی۔ موسیقی کے مستند ایوارڈگریمی سے لے کر،فیشن کے متعدد بڑے ایوارڈزسمیت،برطانیہ کامعروف ایوارڈBAFTAبھی اس کے نام رہا۔کئی ایک فلمی میلوں کے اعزازات سمیٹنے کے علاوہ 1991میں اعزازی آسکر ایوارڈ بھی حاصل کیا۔

صوفیہ لورین کے سفرمیں اس کی اداکارانہ صلاحیتوں سے انکار ممکن نہیں، مگر اس کی کامیابیوں کے چراغ میں، اس کاحسین بدن،دلکش چہرہ،بے باک ادائیں اورنشیلی آنکھیں بھی، دادوتحسین کا وہ شہد انڈیل رہی تھیں۔بلیک اینڈ وائٹ زمانے کی رنگین ادائیں ناقابل برداشت تھیں،کئی نسلیں اس کے حسن سے متاثر ہوئیں،کتنی آنکھوں کو اس نے خیرہ کیااورکتنے تھے،جن کے تصورِ محبوب پر اس کے نقوش کاغلبہ رہا۔ساتھی فنکاروں میں کتنے دلوں کواس نے تسخیر کیا،کتنوں کوکچل کرآگے بڑھ گئی اورکتنے تھے،جن کی آہوں اورسسکیوں میں اس کانام شامل تھا۔اطالوی حسن میں،اتنی تفصیل سے جن چہروں کوموضوع بنایاگیا،وہ کم کم ہیں۔اس کاشمار ان مقبول ترین 25چہروں میں بھی کیاجاتاہے،جنہوں نے امریکی شوبز میں سب سے زیادہ راج کیا۔

صوفیہ لورین کوپیدائشی فنکارہ کہاجاسکتاہے۔اس نے جب ہوش سنبھالاتواپنے اردگردکے ماحول میں ڈھلنے کی بجائے،اپناراستہ خود تراشنے کافیصلہ کیا۔خوبصورتی اوربہادری کے امتزاج نے اس کی شخصیت کو رنگین بنادیا۔کم عمری میں ہی اس نے خود کوموسیقی اوراداکاری کی طرف راغب پایا۔خواہشوں کی آہٹ پر کان دھرتے ہوئے،اپنی زندگی کے پہلے مقابلہ حسن تک آپہنچی،اس کوخبرنہ تھی،ایک زمانہ آئے گا،جب اس کے حسن کا کوئی ثانی نہ ہوگا۔دوسری جنگ عظیم کی دہشت نے اس پر بھی اثرکیا۔بمباری میں یہ اپنے خاندان سمیت محفوظ رہی،تب اس کو اندازہ ہوا،زندگی کتنی قیمتی شے ہے،اس کے بعد،زندگی کواس نے واقعی جی کردیکھا۔اس زمانے میں گزربسرکرنے کے لیے خاندان کے ہمراہ ریستوران میں بیراگیری بھی کی،لیکن اس مشقت سے اس کی صلاحیتوں اورخوبصورتی کی چمک دمک میں مزید اضافہ ہوگیا،اس میں برے حالات سے لڑنے کی ہمت آگئی۔

اپنے فنی کیرئیر میں بھی اسی بہادری سے ڈٹے رہنے کی بناپربے شمارکامیابیاں اس کے حصے میں آئیں۔اطالوی اورامریکی سینما پر راج کیا۔1950سے لے کر2014تک،100 سے زیادہ فلموں میں کام کیا۔نیوڈ فوٹوشوٹس کروانے سے بھی شہرت میں اضافہ ہوا۔اس کے ساتھ ساتھ کئی معاشقے کیے،جن میں سرفہرست معاشقہ Cary Grantکے ساتھ تھا،وہ خود بھی ایک وجیہہ اورتخلیقی ذہن کاشخص تھا،جس نے صوفیہ لورین کے ابتدائی کیرئیر کو مضبوط کرنے میں اپنا کلیدی کردار اداکیا،مگرشادی کے لیے انتخاب،اطالوی فلم سازCarlo Pontiہی ٹھہرا۔

موسیقی کے شعبے میں بھی اپنے ہنرکوآزمایااورکامیاب رہی۔فٹبال کے کھیل میں خاص دلچسپی ہے،اس کے حوالے سے وہ اپنی دلچسپیوں کااظہاربھی کرتی رہتی ہے۔زندگی کے اس موڑ پر جب وہ 9دہائی میں داخل ہوچکی ہے،اس کے ذہن میں زندگی کاخلاصہ بہت واضح ہے،وہ اپنی سوانح حیات لکھتے ہوئے بھی اس کی تشریح کرچکی ہے۔2007میں شوہر کے انتقال کے بعد،اس سے ایک انٹرویومیں پوچھاگیا،پھر شادی کرنا پسند کروگی،تواس کاجواب نفی میں تھا،کیونکہ اس کاخیال ہے کہ ’’محبت ہرایک کے لیے نہیں ہوتی۔‘‘

ظاہری حسن ڈھل جاتاہے،مگرگزاری ہوئی زندگی کے حسین لمحات،کبھی فراموش نہیں ہوسکتے۔ان لمحوں میں اگرشہوت اورمحبت کی پرچھائیاں بھی شامل ہوں توپھران کی لوسے یادوں کے چراغ،نوسٹلیجیاکے ایندھن سے،بہت دیر تک روشن رہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Categories
فکشن

حکمرانوں کاحسین انتخاب: للی لینگٹری

‘بدن کی بینائی’ سلسلے کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

صورت میں خوب کا اضافہ ہوجائے ،تو خوبصورتی جنم لیتی ہے، اس میں قسمت اورمحنت دونوں کاحصہ ہوتا ہے، بہت کم ایسے لوگ دنیا میں گزرے ہیں، جن کو یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ ملی ہوں۔ للی ایسی ہی خوبصورت عورت تھی،جس کی قسمت میں حُسن تھااورمزاج میں محنت کاجذبہ بھی۔ شہرت کی دیوی اس پر مہربان رہی اوراس نے اپنے خوابوں کے تعاقب میں کئی دنیائوں کاسفر کیے۔ برطانیہ کی شاہی زندگی پر بھی اس کے حسن کا جادو سرچڑھ کر بولتا رہا۔

 

للی 1853کو’’جرسی‘‘نامی جزیرے کے ایک نمایاں گھرانے میں پیدا ہوئی۔ اس کے والد اپنے علاقے کے ناظم تھے۔ اس کی شادی آئرش زمیندارسے ہوئی، جس کانام”ایڈورڈ لینگٹری۔ ۔للی نے اپنی ذاتی اورپیشہ ورانہ زندگی میں کئی معاشقے کیے،جس میں سرفہرست معاشقہ جس سے چلا،اس عاشق کانام پرنس لوئس آف بیٹنبرگ۔Prince Louis of Battenberg”تھا۔ دونوں نے شادی تو نہ کی، مگر ان میں محبت کی گواہی کے طورپر ایک بیٹی کی پیدائش ہوئی اوربرطانیہ میں یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی۔

 

للی لینگٹری ایک کافی کمرشل میں

 

پرنس لوئس کی شادی برطانیہ کی ملکہ وکٹوریہ کی پوتی سے ہوئی،جس سے پیدا ہونے والی اولاد میں سے ایک بچہ آگے چل کر برصغیر کی سیاست پر بھی اثر انداز ہوا،اس کانام “لارڈ مائونٹ بیٹن۔Lord Mountbatten‘‘تھا،جوبرصغیر کا پہلا وائسرراے اور انڈیا کا پہلا گورنرجنرل بنا۔ جواہر لال نہرو نے اس کی بیوی سے معاشقہ بھی چلایا تھا، جس کی تفصیلات مورخین نے بیان کیں۔ایک طرح سے للی کو مائونٹ بیٹن کی سوتیلی ماں بھی کہا جا سکتا ہے، جبکہ للی کی حقیقی بیٹی”جینی مائر۔Jaenne Marie” بھی لارڈ مائونٹ بیٹن کی سوتیلی بہن ہوئی۔

للی کے دیگر معاشقوں میں ایک اور معروف معاشقہ ملکہ وکٹوریہ اول کے بیٹے،پرنس آف ویلز”البرٹ ایڈورڈ۔Alber Edward”سے ہوا، جو آگے چل کر برطانیہ کا بادشاہ”ایڈورڈ ہفتم۔Edward VII”بنا۔اس کاایک اورعاشق”رابرٹ پیل۔Robert Peel”تھا،جو برطانوی وزیراعظم بھی رہا۔ان کے علاوہ معروف آئرش ادیب “آسکر والڈ۔Oscar Wilde”اورامریکی آرٹسٹ “جیمزمیکنلی ویسلر۔James McNeill Whistler”بھی بہت قریبی دوستوں میں شامل رہے۔ان کے علاوہ کئی معروف شخصیات اس سے متاثر رہیں،جن میں سے بہت سارے طبقہ اشرافیہ سے تعلق تھے۔ پرنس لوئس اورایڈورڈ ہفتم سے معاشقوں میں للی نے جیسی شاہانہ زندگی گزاری،ا س طرح سے دیکھا جائے تو یہ شاہی خاندان کا حصہ ہوتے ہوئے بھی نہیں تھی۔ اس حسین خاتون کی زندگی کا یہ بیک وقت روشن اور تاریک پہلو تھا۔

ایک زمیندار کی بیوی تھی، زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کو اس سے اچھی ابتدا اور بھلا کیا ہو گی۔ اس میں بھرپور اداکارانہ صلاحیتیں تھیں، جن کا استعمال اس نے پیشہ ورانہ اورذاتی زندگی میں بھرپورطریقے سے کیا۔ تھیٹر کے شعبے سے وابستہ رہی اوراسٹیج پر حکمرانی کی۔شاعری کے ذریعے دلوں کوبھی فتح کیا۔اس وقت کے سماج میں اعلیٰ رتبے پر فائز رہی ،ہرتقریب کی رونق اورشمع محفل بنی۔

 

للی نے پیشہ ورانہ زندگی میں بڑے کامیاب فیصلے کیے،اس نے تھیٹر کمپنی بنائی،جس کی تشہیر اورکام کے لیے وہ امریکا تک جاپہنچی،اس نے ہر وہ طریقہ اختیارکیا،جس سے اس کی شہرت اورطلب میں اضافہ ہوسکتاتھا۔اس کی شخصیت میں ذہانت اور مزاج میں شگفتگی نے اس کے حسن کو دوآتشہ کردیا۔وکٹوریہ سماج میں اپنے خوابوں کو پانے کے لیے للی نے اپنی شخصیت کو کئی تنازعات میں الجھا دیا، مگر اپنے اہداف نہ بھولی۔محفلوں کی جان بننے والی اکثر اپنے گھر کے باغیچے میں تنہا اپنی زندگی کے نشیب وفرازکے بارے میں سوچتی تھی۔

 

آدھی صدی تک دلوں پر راج کرنے والی اس حسین خاتون نے کبھی ہمت نہ ہاری۔ ایک مرتبہ بیماری نے اس طرح آن گھیرا کہ بڑی مشکل سے یہ موت کے منہ سے واپس آئی۔ بنفشی آنکھوں والی اس حسینہ نے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کربات کی۔ فیشن کی دنیا میں بھی اپناحسن ثابت کیا،ایک وقت ایسا آیا،جب اس کے انداز اورادائیں ہی فیشن کے طورپر قبول کی جانے لگیں۔معاشرے میں بسنے والے ہرطبقہ اس کے جمال کی تپش محسوس کرتااورمنتظر رہتا،اب یہ اپنا جلوہ کس پر گرائے گی اوروہ خوش قسمت کون ہوگا،جس کویہ نگاہ بھر کے دیکھے گی۔1887میں للی نے امریکا کی شہریت حاصل کرکے کیلیفورنیامیں سکونت اختیار کرلی۔آئرش شوہر سے طلاق کے بعد اس نے اپنے سے کم عمر اورامیر ترین شخص “ہوگوگیرلڈ ڈی بیٹھ۔Hugo Gerald De Bathe”سے کی،جس کی شہرت گھوڑوں کے ریس سے وابستہ ممتاز کاروباری شخصیت کی تھی۔

 

للی کی زندگی پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالی جائے،تو دکھائی دیتاہے،1867میں جب یہ صرف ابھی 14برس کی تھی،اس کو شادی کا پہلا پیغام ملا۔اس کے حسن کا چرچا کم عمری میں ہونے لگاتھا۔1876میں شادی کی اوراگلے برس ہی پرنس لوئس کے ساتھ معاشقہ چلالیا۔1878میں ملکہ وکٹوریہ کے دربارتک رسائی بھی حاصل کرلی۔1881میں ،جب یہ ابھی صرف 27برس کی تھی،اس کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی،اس کی پیدائش کو خفیہ رکھاگیا،یہ اس عرصے میں فرانس کے شہر پیرس میں مقیم تھی۔اسی برس میں تھیٹر سے اس کی باقاعدی وابستگی ہوئی۔1882میں یہ اپنی زندگی کے پہلے اشتہار میں بطورماڈل زینت بنی۔1885میں اپنی تھیٹر کمپنی کے سلسلے میں امریکا کادورہ کیا اوراگلے 2سال میں یہ وہاں کی شہریت بھی حاصل کرلی، جبکہ ابھی تک اس کی عمر صرف 33برس تھی۔1901میں یہ تھیٹرریٹائرڈمنٹ لے لی۔ 1905میں 51برس کی ہوچکی تھی،جب اپنے محبوب برطانوی شہزادے کی بادشاہ بننے کی تاج پوشی کی رسم میں شریک ہوئی۔1925میں پہلی جنگ عظیم کے سلسلے میں امدادی رقم جمع کرنے کی خاطر اپنے تھیٹر کے میڈیم کا استعمال بھی کیا۔

 

للی لینگٹری کی زندگی پر بننے والا برطانوی ڈرامہ

 

زندگی بھرللی نے شاعری کی، تھیٹر کے اسٹیج پر خود کو اداکاری سے جوڑے رکھا، ادکاری کے علاوہ پروڈکشن میں بھی اپنی صلاحتیں آزمائیں۔ ماڈل کی حیثیت میں فیشن کے منظر نامے پر رہی۔کئی حکمرانوں کے تنہائی کی رازداں بنی۔ ایک فلم میں بھی کام کیا۔ ایک ناول بھی لکھا، اپنی خودنوشت بھی قلم بند کی۔ غرض کہ صرف اپنے حسن پر تکیہ نہیں کیا، بلکہ خوشبو کی طرح ایک سے دوسری جگہ اپنی مہک سے آگے بڑھتی چلی گئی۔ اس پر کئی کتابیں لکھی گئیں۔مصوروں نے اس کو پینٹ کیا، فلمیں اور ڈرامے بنے۔ غرض کہ ہر طرح سے للی کی شخصیت کو دریافت کیاگیا۔

 

1929کو امریکا میں ہی اس کاانتقال ہوا،اس کی میت برطانیہ لائی گئی،جہاں اس کوآبائی قبرستان میں دفن کیاگیا۔اس کی رحلت سے برطانوی تاریخ کا ایک اہم باب ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا۔ جس میں شاہی کرداروں کے تذکرے تھے اور زمانے کی غلام گردشوں کے قصے بھی، جس کو للی نے بے حد دلیری، بے باکی اورہمت سے جھیلا۔ حسین لوگ نازک ہوتے ہیں،مگر اس نے جس طرح وکٹوریہ سماج کی سختی میں اپنی نزاکت کو بے باکی کے لبادے میں چھپائے رکھا،وہ قابل تحسین ہے۔یہی وجہ ہے،برطانیہ کی شاہی تاریخ ہو یافنی تذکرے اورحسن کابیان،اس کے ذکر کے بغیر سب کچھ ادھوراہے۔