Categories
نان فکشن

خوابیدہ امریکی حسن؛ فے ایمرسن

یہ چہرہ ان دنوں کی یاد ہے، جب حسن خوابیدہ ہوا کرتا تھا، جسم کی نمائش سے زیادہ، تخیل دل پذیر تھا۔ چہرے کے خدو خال ہی احساسات کی ترجمانی بھی کیا کرتے تھے۔ دل کے نہاں خانوں میں موجود بات، تصور کے زور پر بیان ہو جایا کرتی تھی۔ نمود و نمائش کی بجائے، ادائیں زینت بنا کرتی تھیں۔ اسی ماحول میں یہ چہرہ مغربی دنیا میں مقبول ہو کر شائقین کے دلوں پرکئی دہائیوں تک راج کرتارہا۔کلاسیکی حسن کی آبرو، بلیک اینڈ وائٹ دور کی خوبصورت علامت کا دوسرا نام’’فے ایمرسن۔Faye Emerson‘‘ ہے۔

فے ایمرسن: بلیک اینڈ وائٹ دور کا حسین چہرہ

ٹیکساس کی ایک عدالت میں بیٹھے، اسٹینو گرافر ملازم نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا کہ ایک وقت آئے گا، مریکی صدر کا بیٹا اس کا داماد ہوگا، مگر یہ سچ ثابت ہوا، جب اس کی حسین اور ذہین بیٹی 1917 کو اس کے گھر پیدا ہوئی۔ حُسن ہو تو نزاکت آہی جاتی ہے، ابتداسے ہی اس کے حسن میں ایک نزاکت اور اعتماد تھا، جس میں تمام زندگی رتی برابر فرق نہ آیا۔ امریکی دیہات میں پیدا ہونے والی اس خاتون نے یہ بہت جلدی سمجھا کہ ترقی کے زینے چڑھنے کے لیے کس سمت جانا ضروری ہے،لہٰذا آبائی علاقے کو خیر باد کہا، دوسری جنگ عظیم کے برپا ہونے سے قبل، کیلی فورنیا، سان ڈیاگو کی ہالی ووڈ نگری میں ڈیرے ڈال لیے۔

اس نے سان ڈیاگو میں رہتے ہوئے اعلی تعلیمی اداروں میں اپنی تعلیم مکمل کی، وہیں غیرنصابی سرگرمیوں میں بالخصوص اداکاری کے ساتھ خود کو جوڑے رکھا، 1935 میں زمانہ طالب علمی کے دور میں اپناپہلا کھیلRusset Mantleکھیلا۔ باقاعدہ کیرئیر کی ابتداکا سال 1940 تھا۔ ایک طرف دنیا کی عظیم طاقتیں آپس میں دست وگریباں ہونے کو تیار تھیں، تو دوسری طرف اس حسینہ نے بھی زندگی کی لڑائی میں حتمی محاذ پر جنگ لڑنے کا فیصلہ کرلیاتھا، اگلے کچھ برسوں میں یہ جنگیں کامیاب ہوئیں، ایک طرف اس کا وطن امریکا فتح یاب ہوا تو دوسری جانب اس نے شائقین کے دل جیت لیے۔ اس کی وضع دار شخصیت اور ذہانت سے بھرپور شخصیت نے اپنے تاثر کو ایسا جمایا، آنے والے کئی برسوں تک شائقین اس سحر میں گرفتار رہے۔

امریکہ دوسری جنگ عظیم جیتا اور اسی دوران فے ایمرسن مداحوں کے دل جیت لینے میں کامیاب ہوئی

’’فے ایمرسن۔Faye Emerson‘‘ کو ابتدائی طور پر کچھ ایسی فلمیں مل گئیں، جن کی وجہ سے بہت جلد وہ اپنی شناخت بنانے میں کامیاب رہی، ان میں سے1944میں ریلیز ہونے والی فلم The Mask of Dimitrios ہے۔ 1945میں Danger Signal اور 1950میں ریلیز ہونے والی فلمDanger Signalنے اس کو فلمی صنعت میں مزید کامیابی کی طرف دھکیل دیا۔حیرت کی بات یہ ہے، اس کو ایکشن اور جرائم پرمبنی فلموں کی فنکارہ کے طور پر شہرت حاصل ہوئی، جس میں شخصی حسن کادخل کم اور موضوعاتی دہشت کا عمل زیادہ تھا۔
اس کی دیگر معروف فلموں میں جنہیں شمار کیا جاتا ہے، ان میں Nobody Lives ForeverاورCrime by Nightسمیت Murder in the Big Houseاور دیگر شامل ہیں۔ اس نے طویل فنی رفاقت کے لیے Warner Brothersاور Paramountپروڈکشن ہائوسز میں سے پہلے والے کو چنا ، سب سے زیادہ کام ان کی فلموں میں کام کیا۔ فلم کے شعبے سے ٹیلی وژن کی طرف آتے آتے اس نے ایک مختصر دور تھیٹر سے وابستگی کا بھی گزارا، مگراس میں یہ کامیابی نہ سمیٹ سکی اور پھر یہ کلی طورپر ٹیلی وژن کی طرف آگئی۔ ٹیلی وژن کے کیرئیر کاآغاز کامیابی سے ہوا۔

فے ایمرسن ٹی وی اور فلم ہر جگہ کامیاب رہیں

اس زمانے کوٹیلی وژن کا مشکل دوربھی کہا جا سکتا ہے کیونکہ ،جب اس شعبے میں خواتین نہ ہونے کے برابر تھیں، اس نے نہایت اعتماد سے کام کیا، بعد میں وقت نے ثابت کیا، یہ واقعی باصلاحیت اور ذہین تھی ۔ 1948 کو ٹیلی وژن کے شعبے میں اس نے کئی معروف پروگراموں کی میزبانی کی، اپنے حسن کا جلوہ بھی دکھایا، ان میں سرفہرست ،جن پروگراموں کو بہت شہرت حاصل ہوئی، ان میں The Chevrolet Tele-Theatreجیسے پروگرام شامل ہیں، اسی طرح The Philco Television Playhouseکو بہت پسند کیا گیا۔

اس کی شہرت دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر میں پھیل گئی، یوں شوبز کی دنیا میں اس کانام ایک ستارے کی مانند چمکنے لگا ، جس کی پرچھائیاں اس کے حسن پر بھی مرتب ہوئیں اور اس کا حسن مزید نکھر گیا۔ 1950 تک دوسال کی قلیل مدت میں نے اس نے اپنے نام کا ڈنکا بجا دیا، اسی ٹیلی وژن پر اس کے نام سے بھی شوآن ایئر ہوتا رہا، جس نے اس کو عالمگیر شہرت عطا کی ، آگے چل کر یہ شہرت اتنی کام آئی کہ اس کی رسائی امریکی حکمرانوں کے ایوانوں تک ہوئی۔ اگلے کئی برس اس کی حکمرانی ٹیلی وژن پر برقرار رہی، اس کو ’’The First Lady of Television‘‘ کاخطاب بھی دیا گیا تھا، کیونکہ اس نے ان اولین ٹاک شوز کی میزبانی کی، جو پہلی مرتبہ رات گئے نشر ہوتے تھے۔ یہ اس کی کامیابی کا سنہرا ترین دور تھا۔ 1960میں اسے’’ہالی ووڈ واک آف فیم‘‘ کے ستاروں میں بھی شامل کر لیا گیا۔

’’فے ایمرسن۔Faye Emerson‘‘ کو متعدد محبتیں ہوئیں، مگر شادیاں صرف تین کیں، جن میں 1938میں William Crawfordسے پہلی شادی تھی، یہ زیادہ عرصہ برقرارنہ رہ سکی، اس عرصے میں یہ امریکی صدر Franklin D. Rooseveltکے صاحب زادے Elliott Rooseveltسے ملی جو عسکری اور سول کئی طرح کے اہم عہدوں پر فائز رہے، ان سے دوسری شادی کی۔ اس شادی کے ذریعے، اس نے امریکی حکمران طبقے تک اپنے تعلقات کا راستہ ہموار کر لیا۔ اس وقت کے اہم وفود میں اپنے شوہر اور امریکی صدر، سسر کی وجہ سے شامل رہی، دنیابھر کی اہم سیاسی شخصیات سے بھی ملاقاتیں ہوئیں، پانچ برس تک اس کی یہ مصروفیات شوبز کی ترجیحات پر حاوی رہیں۔ اس نے یہ اعلان بھی کیا، یہ شوبز ترک کردے گی، جبکہ اس وقت کئی ایک فلمیں نمائش کی جانے والی تھیں، جن میں Juke GirlاورLady Gangsterکے علاوہ Destination Tokyoجیسی فلموں کے علاوہ کئی فنی منصوبے زیرتکمیل تھے۔

یہ وہ زمانہ ہے، جب دوسری جنگ عظیم کے بادل امریکیوں کے سر پر منڈلا رہے تھے، اس فضا میں یہ حسینہ ایک فوجی کو عاشق بنانے میں کامیاب رہی ، اس عاشق نے اپنے جنگی جہاز کانام بھی محبوبہ کے نام پر رکھ چھوڑا، اس کے باوجودیہ عاشقی زیادہ عرصے تک نہ چل پائی۔ دونوں شوہروں سے اس کی ایک ایک اولاد پیداہوئی، پھر تیسری شادی کے لیے اس کی نگاہ انتخاب شوبزپر ہی ٹھہری، اس نے ایک میوزک بینڈ کے سربراہ اور پیانو بجانے والے Skitch Henderson سے شادی کرہی لی۔ عاشقانہ طبیعت نے اس کو تمام زندگی مضطرب رکھا۔
اس حسینہ نے اپنے فنی کیرئیر میں تقریباً 30فلموں اور درجنوں ٹیلی وژن شوز اور کمرشلز میں کام کیا۔کئی معاشقے کیے اور شادیاں کیں۔ اپنی زندگی کو خوب جی کر 1983کو65سال کی عمرمیں اس دنیا سے رخت سفر باندھا۔ ایک دیہات سے زندگی کی ابتدا کرنے والی اس حسین عورت نے سادے صفحہ جیسی زندگی میں، اپنی مرضی کے رنگ بھرے اور خوب بھرے، رنگین زندگی گزار کر امر ہوئی، اپنی زندگی کے آخری برس اسپین میں گزارے۔پہلے شوہر سے پیدا ہونے والے بیٹے نے، اس ڈھلتی زندگی کے کمزور دنوں میں اسے سہارا دیا۔
آج بھی اس کی مسکان میں ایک وقار اور طمانیت محسوس ہوتا ہے، کیونکہ اس کی تصویریں بھی بولتی ہیں۔ چہرے بہت ہوں گے، مگر یہ چہرہ امریکی شوبز میں اتنی آسانی سے فراموش نہیں کیا جا سکے گاکیونکہ اس کی مسکان میں ایک جادو ہے۔ اس کی زندگی کے منظر نامے پر امریکا کی فنی داستان اور سیاسی کہانیاں بھی درج ہیں، جن کو باریک بینی سے سمجھ کر پڑھا اورمحسوس کیا جا سکتا ہے۔

Categories
نان فکشن

معصوم امنگوں کا ترجمان چہرہ؛ کیرا نائٹلی

‘بدن کی بینائی’ سلسلے کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

کیرا کرسٹینا نائٹلی۔ Keira Chirstina Knightleyکا شمار ہالی ووڈ کی اُن حسین عورتوں میں ہوتا ہے، جن پر پہلی نظر پڑتے ہی سینکڑوں نظروں میں تبدیل ہو جاتی ہے، اسی لیے جب وہ کوئی کردار نبھاتی ہے، تو فلم بین اس کی کرشمہ سازی میں کھوئے ہوتے ہیں۔ معصوم چہرہ اور حسین سراپا دیکھنے والوں کے دل چھو لیتا ہے، اداکاری سونے پر سہاگے کا کام کرتی ہے۔ ہالی ووڈ اور یورپی سینما میں، جن لوگوں نے اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے اونچی پرواز بھری، یہ ان میں سے ایک ہے۔ اب عالم یہ ہے بین الاقوامی فلمی دنیا میں، اس کا فن عروج پر اور حسن کی حشرسامانیاں زوروں پر ہیں۔

1985 کو برطانیہ کے شہر لندن میں پیدا ہونے والی اس لڑکی نے کم عمری میں ہی، انتہائی برق رفتاری سے آگے بڑھنے کے سارے راستے ڈھونڈ نکالے۔ بچپن میں اس پر اداکاری کا بھوت سوار ہوا، جس عمر میں لڑکیاں گڑیا سے کھیلتی ہیں، یہ جذبات اور احساسات سے کھیلنے کی کوشش کر رہی تھی۔ 1995 میں، اپنی عمر کے ٹھیک 10 برس مکمل ہونے پر، زندگی کی پہلی فلم’’Innocent Lies‘‘میں کام کیا، پھر اداکاری سے دامن چھڑا نہ سکی۔ اُس وقت سے لے کر اب تک یہ تقریباً کوئی 40سے زائد فلموں میں کام کر چکی ہے، ٹیلی وژن اور تھیٹرکا کام اس کے علاوہ ہے۔ ماڈلنگ کی مصروفیات بھی ساتھ ساتھ جاری ہیں۔ مستقبل قریب میں اس کی فلموں کے کئی منصوبے بھی زیر تکمیل ہیں۔

کیرانائٹلی نے یوں تو کئی فلموں میں کام کیا، مگر اس کی بین الاقوامی شہرت 2003میں ریلیز ہونے والی فلم’’Pirates of The Caribben‘‘ سے ہوئی۔ فلم کی کامیابی نے اس پر شہرت اور دولت کے سارے دروازے کھول دیے۔ اس کا چہرہ ہالی ووڈ سمیت پوری دنیا میں موجود فلمی شائقین کے لیے شناسا ہوگیا۔ اس فلم کی سیریز میں بننے والی تمام فلموں میں اس نے کام کیا۔ 2017میں اسی سلسلے کی ریلیز ہونے والی فلم میں بھی اس نے اہم کردار نبھایاہے۔ فلم سیریزکی کامیابی کے بعد اس کوفلمی صنعت میںکام کرنے کے کئی سنہری مواقع ملے۔ جین آسٹن کے ناول پر بننے والی ایک اہم فلم’’Pride and Prejudice‘‘ میں اہم کردار نبھایا۔ 2012 میں لیوٹالسٹائی کے ناول پر بننے والی فلم’’ایناکارنینا‘‘ میں بھی اپنی اداکاری سے فلم بینوں کے دل موہ لیے۔ سائنس فکشن، ایکشن، تھرل، رومان سمیت ہر طرح کی فلموں میں کام کرنے کی صلاحیت رکھنے والی یہ اداکارہ اب پوری دنیا میں اپنا نام کما چکی ہے۔

اس کا اتنی فلموں میں بنا کسی وقفے کے کام کرلینا صرف اسی صورت میں ممکن ہے، جب آپ پر اپنی منزل کو پالینے کاجنون سوار ہوجائے۔ اس نے اپنے کام سے محبت کی اور صرف اپنی ظاہری خوبصورتی کو سہارا نہیں بنایابلکہ عملی طورپر اداکاری جیسے مشکل شعبے میں کرداروں کی نفسیات کو سمجھا، ان کی کیفیت میں ڈھل کر فلمی پنڈتوں اور فلم بینوں کو حیران کردیا۔ یہ اپنے مختصر فلمی کیرئیر میں سینکڑوں ایوارڈز کے لیے نامزد ہوئی، جس میں بہترین اداکارہ برائے’’اکیڈمی ایوارڈ‘‘ اور’’گولڈن گلوب ایوارڈ‘‘ کے علاوہ’’برٹش اکیڈمی آف فلم اینڈ ٹیلی ویژن آرٹس ایوارڈ‘‘ شامل ہیں، جبکہ بہت سارے ایوارڈز اپنے نام کرنے میں کامیاب رہی، جس طرح ہالی ووڈ فلم ایوارڈز اوردیگر کئی ایوارڈزہیں۔امریکی بزنس میگزینForbesکے مطابق، ایک مخصوص وقت میں یہ ہالی وو ڈ کی دوسری مہنگی ترین اداکارہ ثابت ہوئی اور زیادہ معاوضہ لینے والی واحد غیر امریکی اداکارہ ہے۔

اس کو اداکاری ورثے میں گھر سے ملی کیونکہ اس کے والدین کا تعلق بھی شوبز سے تھا۔ والدSharman Macdonaldاور والدہ Will Knightlyاداکارہ سے وابستہ رہے۔ اس کی والدہ ڈراما نگاری کے حوالے سے اعزاز یافتہ بھی تھیں۔ انہوں نے تھیٹر اور ٹیلی ویژن میں بھی اداکاری کی۔ اس کی ماں اسکاٹش جبکہ والد انگریز تھے۔ اس نے ابتدائی تعلیم اسٹینلے جونیئر ہائی اسکول ،ٹڈنیکون اسکول اورایشر کالج سے پڑھائی مکمل کی۔6برس کی عمر میں اس پر ایک بیماری کا انکشاف ہوا، اس بیماری کا نام Dyslexiaتھا۔ اس میں لکھنے پڑھنے میں مشکل پیش آتی ہے مگر اس نے ہمت کی، بیماری کو شکست دے کر اسکول میں داخلہ لیااور کامیابی سے اپنی پڑھائی مکمل کی۔ اس بیماری میں انسان پر یہ خوف بھی طاری ہوجاتاہے کہ وہ زیادہ کھائے گا تو اس کاوزن بڑھ جائے گا۔یہ بیماری عمومی طورپر عورتوں میں زیادہ پائی جاتی ہے۔ اس کیفیت میں عورتیں خود کو دبلا پتلا کرنے کے لیے کئی طرح کی کڑی مشقیں کرتی ہیں اور ذہنی اذیتیں مول لیتی ہیں۔ کیرانائٹلی بھی ایسی ہی کیفیات میں گھری ہوئی تھی لیکن جلداس نے پنے اس خوف پر قابو پالیا۔

اس نے بچپن میں اپنی ماں کے لکھے ہوئے ایک کھیل، جوکہ مقامی طورپر کھیلا جا رہا تھا، اس میں بھی اداکاری کی۔اس کی توجہ اداکاری کے ساتھ ساتھ مصوری، تاریخ اور انگریزی ادب پر بھی تھی۔ کچھ عرصہ ان مضامین کی محبت میں گزارکر، کلی طورپر خود کواداکاری کے لیے وقف کردیا۔ اس نے اداکاری کی خاطر اپنے دیگر شوق ترک کر دیے، اپنے خوابوں کے حصول کے لیے London Academy of Music and Dramatic Artمیں داخلہ لے لیا۔ بچپن سے اداکاری میں دلچسپی کی وجہ سے اس کو آگے بڑھنے کے اچھے مواقع ملنے لگے۔ 6سال کی عمر میں اداکاری شروع کرنے والی یہ کمسن بچی نے اشتہارات اور ٹی وی کے چھوٹے موٹے کرداروں میں کام کیا۔

شوبز کے میدان میں کامیابی کمانے کے ساتھ کیرانائٹلی نے بدنامی بھی کمائی۔ اس کاایک فوٹوشوٹ، جو اس نے ایک ساتھی اداکارہ Scarlett Johanssonکے ساتھ شوٹ کروایا، وہ بہت متنازعہ ہوا، اس فوٹوشوٹ کے متنازع ہونے کی وجہ ،اس کامکمل طورپر برہنہ فوٹو شوٹ ہونا تھا۔اس کے علاوہ یہ پنا ایک برہنہ شوٹ بھی کرواچکی ہے،جس کے لیے اس کاموقف ہے کہ وہ عورتوں کے حقوق کے تناظر میں احتجاج کے طورپر کیاگیاایک بامقصد کام ہے۔ اس کی بولڈ اور کھلی ڈھلی شخصیت کی وجہ سے FHMاور Maximجیسے بولڈ میگزینز نے ’’ہوشربا عورتوں‘‘ کی فہرست اس کو اوپری اعداد میں جگہ دی۔ اس نے ایک آئرش اداکارJamie Dornanکے ساتھ معاشقہ چلایا، کچھ عرصے بعد اپنی ایک فلمPride and Prejudiceکے ہیروکے ساتھ معاشقہ کیا، جس کانامRupert Friendہے۔ کچھ برس محبت کایہ سفر جاری رہا،پھر اس کارومان ایک موسیقار James Rightonسے پروان چڑھا اور 2013میں دونوں نے شادی بھی کرلی، جو ابھی تک برقرار ہے۔

یہ سوشل ورک بھی کرتی ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل کی اور اقوام متحدہ کی طرف سے بھی انسانی حقوق کے لیے خدمات انجام دیتی رہی ہے، جن میں بالخصوص افغانستان میں عورتوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا شامل ہے۔ اس کی سماجی سرگرمیوں کا محور زیادہ تر افریقی ممالک رہے۔ اس نے اپنے اس مقصد کی خاطر ایتھوپیا کا سفر بھی کیا۔ خیرات کی۔ اپنی کئی چیزیں اور خطیر رقم مدد میں دے دی۔ عورتوں میں ایڈز سے بچاؤ کی مہم کے لیے بھی کام کیا۔اس کاشمار ان چند اداکاراؤں میں ہوتا ہے، جنہوں نے قلیل مدت میں کثرت سے کام کیا اور بے پناہ شہرت سمیٹی، بعض اوقات ایک فنکار کو پوری زندگی بسر کر کے بھی اتنی کامیابی نہیں ملتی۔ بی بی سی کے ایک سروے کے مطابق اس کاشمار ان منتخب افراد میں ہوتا ہے، جنہوں نے برطانوی ثقافت پر اپنے گہرے نقوش چھوڑے۔

معصوم چہرے کی مالک، یہ خوبصورت عورت ایک درد مند دل رکھتی ہے۔ اپنی ذاتی زندگی پر بات کرنا پسند نہیں کرتی، شہرت کی بلندیوں پر فائز ہوکر بھی زمین پر بسنے والے عام انسانوں میں رہنا چاہتی ہے، اس لیے، خود کو اس نے سماجی خدمت سے جوڑ رکھا ہے اور انسانیت کی خدمت میں بھی خواتین کے حقوق اس کی ترجیحات میں سب سے پہلے ہیں۔ خدا کو نہیں مانتی، لیکن خلق خدا کی خدمت میں پیش پیش ہے۔ بظاہر حسین دکھائی دینے والی اس اداکارہ کی روح بھی اتنی ہی خوبصورت ہے، ورنہ احساسات کاشور اس کو نہ ستاتا، جس کی تکمیل میں یہ مادی اور تخلیقی دونوں شاہراؤں پر تیزی سے اپنی منزل کی جانب گامزن ہے۔

Categories
نان فکشن

وقت کے کینوس کا طلسمی رنگ-سنڈی کرافورڈ

‘بدن کی بینائی’ سلسلے کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

وقت کے کینوس پر بہت سارے رنگ آتے اور گزرتے رہتے ہیں، مگر کچھ رنگ ایسے خاص ہوتے ہیں، جن کا رخصت ہونا ٹھہر جاتا ہے، ان کی رنگت اور نکھار حُسن کو اور چمکدار بنا دیتی ہے۔ دنیا میں ایسی رنگت والے طلسمی چہرے کم، لیکن وارد تو ہوئے ہیں۔ عالمی فیشن کی دنیا میں ایسا ہی ایک چہرہ، جس نے عمر کو اپنی مٹھی میں تھام کے رکھا ہے۔ اس کے حسن کی چاندنی ابھی تک دمک رہی ہے۔ وہ وقت کی گردش میں بھی پورے غرورکے ساتھ قائم ہے، ہرچند کہ وقت کی پرچھائیوں نے اسے متاثر بھی کیا ہے، اس کے باوجودوہ بے پرواہ محبوب کی مانند ہے، جواپنے آپ میں مدہوش ہے۔

امریکی فیشن کا نمایاں ترین ستارہ-سنڈی کرافورڈ

اس حسینہ کا نام’’Cindy Crawford‘‘ ہے، وہ امریکی فیشن کے شعبے میں نمایاں ستارے کی مانند ہے۔اس کی بھوری آنکھوں اور زلفوں نے، اُوپری ہونٹ کے قریب اُبھرے ہوئے تل کے ساتھ مل کر عاشقوں کا خوب امتحان لیا۔ وہ تل کئی دہائیوں تک، مداحوں کے دلوں کو بے چین کرنے پر تلارہا۔ اس تل کی اہمیت سے وہ خود بھی واقف تھی، اسی لیے وہی تل اس کے بزنس کا ٹریڈ مارک بنا، ورنہ ایک وقت وہ بھی تھا، جب کیرئیر کے ابتدائی دنوں میں، اس کے عکس بند کیے ہوئے فوٹوشوٹس میں، اس تل کو،کمپیوٹر کی مدد سے ایڈیٹ کر دیا گیا، ہرچند کہ آگے چل کر یہی تل اس ہوشربا حسن کو نظربد سے بچانے کا سبب بنا۔

’’Cindy Crawford‘‘امریکی ماڈل اور ادکارہ ہے۔ زمانہ طالب علمی میں اپنی ذہانت کی وجہ سے نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی میں اسکالر شپ حاصل کی، یہی وہ زمانہ ہے، جب اس نے خود کو ماڈلنگ کی طرف راغب پایا، اسے ماڈلنگ کا کام بھی ملنے لگا، جس کی وجہ سے پڑھائی ادھوری رہ گئی اور اس کی توجہ کامرکزصرف کیرئیر بن گیا۔ طالب علمی کے دور ہی میں طلبا کے ایک جریدے کے لیے اس کی تصویر سرورق کی زینت بنی۔ دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں بھی فیشن سے متعلق، اس کا رجحان خصوصی طور پر زیادہ تھا۔ اسی وقت محدود پیمانے پر ہونے والے فیشن کے مقابلوں میں بھی اس نے شرکت کی، یوں لاشعوری طور پر ماڈلنگ کے کیرئیر کی طرف بڑھتی چلی گئی اورکامیابیوں نے اس کے قدم چومنے شروع کر دیے۔

سنڈی کرافورڈ فیشن اور شوبز کے تمام بڑے جرائد کے لئے ماڈلنگ کر چکی ہیں

وہ اپنے آبائی علاقے سے نیویارک منتقل ہونے کے بعد ایک ماڈلنگ ایجنسی سے وابستہ ہوئی اور یوں اس کے کیرئیر کا راستہ بنتا چلا گیا۔ اپنے خاندان میں یہ واحد شخصیت تھی، جس کو اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے کچھ بھی کر گزرنے کا جنون تھا۔ کم عمری میں بھی کسی خوف کی پرواہ کیے بغیر دنیا کو جیت لینے کی غرض سے عملی زندگی میں قدم رکھ دیا۔ اس کو آبائو اجداد کی طرف سے، امریکا کے علاوہ جرمنی، انگریزی اور فرانسیسی رشتے ناطے بھی ملے، شایداسی لیے وہ کئی ثقافتوں کا مظہر اور ملاپ محسوس ہوتی ہے۔

’’Cindy Crawford‘‘کے عروج کا دور 80 اور 90 کی دہائی ہے۔ اس نے دنیا کے تمام بڑے فیشن ریمپ پر چہل قدمی کی۔ دنیا کے تمام بڑے اور نامور رسائل و جرائد نے اپنے سرورق پر، اس کی تصویروں کو زینت بنایا۔ اس کی تصویریں ہزاروں بار چھاپی گئیں۔ یہاں ان رسائل اور اخبارات کے نام لکھے جائیں، تو تعداد سینکڑوں میں بنتی ہے۔ ہر چھوٹے بڑے اخبار اور رسالے نے اس کی زندگی اور روزوشب کا احوال لکھا۔ دنیا کے متعدد بڑے اشتہاری برانڈز کے لیے یہ سفیر بھی رہی اور اس کا ظہور اشتہارات میں بھی ہوا۔ پورے کیرئیر میں ساتھی ماڈلز کے لیے مقابلے کی فضا برقرار رکھی، جس میں ایک طرف اس کا حسن کام آرہا تھا تو دوسری طرف ذہانت بھی معاونت کر رہی تھی۔
’’امریکن سوسائٹی آف میگزین ایڈیٹرز‘‘ نے 40 برس میں شایع ہونے والے سرورق کی فہرست میں بائیسواں نمبر دیا، یہ اس کے پسند کیے جانے کی انتہا تھی۔ 1988 میں دو بار اپنے حسن کو تمام کرتے ہوئے، بدنام زمانہ جریدے Playboy کے لیے برہنہ فوٹوشوٹ عکس بند کروائے اور فیشن کے منظر نامے پر تہلکہ مچا دیا۔ اسی جریدے کی مرتب کردہ فہرست کے مطابق، اکیسویں صدی کی 100 اشتہا انگیز عورتوں میں اس کا نمبر پانچواں تھا۔ دیگر رسائل و جرائد میں کسی نے اسے کائنات کی سب سے حسین خاتون قرار دیا تو کسی نے خوبصورتی کی بے مثال شخصیت کہا۔ 2006 میں بھی Maximمیگزین نے اسے دنیا کی 100 ہوشربا خواتین میں 26ویں نمبر پر رکھا، جبکہ اس وقت یہ اپنی عمر کا چالیسواں ہندسہ عبور کر چکی تھی۔

معروف گلوکاروں نے اس کو اپنی میوزک ویڈیوز میں شامل کیا، چاہے وہ 1990میں جارج مائیکل کا کوئی گیت ہو یا 2015 میں ٹیلرسوئفٹ کی گائی ہوئی کوئی دھن، حسن کی یہ رانی اسکرین پر راج کرتی رہی۔ اشتہاری کمپنیوں نے ان کو منہ بولے معاوضے پر اپنے ہاں کام کرنے کی درخواست کی۔ فٹنس ویڈیوز بھی اس کے کام کاحصہ بنیں۔ ایک درجن کے قریب فلموں میں کام کیا، جبکہ میوزک اور فٹنس ویڈیوزکو ملا کر تقریباً 9 ویڈیوز میں اپنے فن کے جوہر دکھائے۔ ٹیلی وژن کی دنیا میں بھی درجن بھرسے زیادہ پروگراموں میں کام کرکے مزید شہر ت حاصل کی، جس میں مختلف ڈراما سیریز اور ٹاک شوز شامل ہیں۔ ٹیلی وژن میں اب تک کا آخری پروگرام 2016 نشر کیا گیا۔ فلم، ٹیلی وژن، میوزک ویڈیوز اور فیشن کی دنیاپر اس حسینہ کا راج اب تک جاری ہے۔

سنڈی کرافورڈ اب فلاحی کاموں میں حصہ لیتی ہیں

’’Cindy Crawford‘‘ نے 2000 تک آتے آتے فیشن کی دنیا کو خیر بادکہا، البتہ تجارتی اور فلاحی سرگرمیوں کی طرف رجحان برقرار رہا، پھر 2011 میں محدود پیمانے پر، ماڈلنگ کی طرف واپسی ہوئی۔ 2015 کو Becoming کے نام سے اپنے کیرئیر اورذاتی زندگی پر کافی ٹیبل کتاب کا اجرا بھی کیا، دیگر کئی معروف کافی ٹیبل کتابوں کاحصہ بنتی رہی۔صحت عامہ سے متعلق فلاحی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کا حصہ لیا۔ اس کی ذاتی زندگی کی ایک جھلک دیکھی جائے تو اس نے دو شادیا ں کیں، پہلی شادی ہالی ووڈ کے معروف اداکار Richard Gere سے کی، جو زیادہ عرصہ نہ چل سکی۔ دوسری شادی ایک بزنس مین سے کی، جو تا حال کامیابی سے جاری ہے، اس کے دو بچے بھی ہیں، جنہوں نے اپنی ماں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے فیشن کو ہی اپنے کیرئیر کے لیے منتخب کیا ہے۔ 2008 کے امریکی انتخابات میں بارک اوبامہ کے حق میں اپنی آواز ملائی جبکہ 2011 کے انتخابات میں ان کی نگاہ کامرکز Mitt Romney تھا۔

زندگی کی 50 بہاریں دیکھنے والی یہ حسین خاتون اب بھی بے حد پرکشش ہے اور اپنے بعد آنے والی حسین عورتوں کو بھی شہرت کے سفر میں پیچھے چھوڑ چکی ہے۔ اس کا شمار ان چند مقبول ترین امریکی شخصیات میں ہوتا ہے، جنہوں نے بڑے اعتماد سے اپنے کیرئیر کو آگے بڑھایا، خود کو زیادہ تنازعات میں گھرنے نہیں دیا، پوری دنیا کے فیشن میں خود کو شریک رکھا، فلاحی اور خیراتی کاموں میں بھی پیش پیش رہی۔

سنڈی کرافورڈ کا حسن اب کندن ہو چکا ہے

اس حسینہ نے اپنے حسن کو بحال رکھا، کہیں خود کو گل نہ ہونے دیا، اپنے دیدنی حسن کی روشنی سے مداحوں کو دیوانہ بناتی رہی۔ یہ پرکشش لڑکی، اب ایک باوقار عورت کے روپ میں ڈھل چکی ہے، ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ زندگی کے اتنے ادوار میں کوئی اپنی خوبصورتی کو برقرار رکھے، مگر اس نے ثابت کر دکھایا۔ شہرت کی شہزادی اب بھی اپنے اعتماد سے کسی کے حواس کو باختہ کر سکتی ہے، کیونکہ اس کا حسن کندن ہو چکا ہے۔

Categories
فکشن

حکمرانوں کاحسین انتخاب: للی لینگٹری

‘بدن کی بینائی’ سلسلے کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

صورت میں خوب کا اضافہ ہوجائے ،تو خوبصورتی جنم لیتی ہے، اس میں قسمت اورمحنت دونوں کاحصہ ہوتا ہے، بہت کم ایسے لوگ دنیا میں گزرے ہیں، جن کو یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ ملی ہوں۔ للی ایسی ہی خوبصورت عورت تھی،جس کی قسمت میں حُسن تھااورمزاج میں محنت کاجذبہ بھی۔ شہرت کی دیوی اس پر مہربان رہی اوراس نے اپنے خوابوں کے تعاقب میں کئی دنیائوں کاسفر کیے۔ برطانیہ کی شاہی زندگی پر بھی اس کے حسن کا جادو سرچڑھ کر بولتا رہا۔

 

للی 1853کو’’جرسی‘‘نامی جزیرے کے ایک نمایاں گھرانے میں پیدا ہوئی۔ اس کے والد اپنے علاقے کے ناظم تھے۔ اس کی شادی آئرش زمیندارسے ہوئی، جس کانام”ایڈورڈ لینگٹری۔ ۔للی نے اپنی ذاتی اورپیشہ ورانہ زندگی میں کئی معاشقے کیے،جس میں سرفہرست معاشقہ جس سے چلا،اس عاشق کانام پرنس لوئس آف بیٹنبرگ۔Prince Louis of Battenberg”تھا۔ دونوں نے شادی تو نہ کی، مگر ان میں محبت کی گواہی کے طورپر ایک بیٹی کی پیدائش ہوئی اوربرطانیہ میں یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی۔

 

للی لینگٹری ایک کافی کمرشل میں

 

پرنس لوئس کی شادی برطانیہ کی ملکہ وکٹوریہ کی پوتی سے ہوئی،جس سے پیدا ہونے والی اولاد میں سے ایک بچہ آگے چل کر برصغیر کی سیاست پر بھی اثر انداز ہوا،اس کانام “لارڈ مائونٹ بیٹن۔Lord Mountbatten‘‘تھا،جوبرصغیر کا پہلا وائسرراے اور انڈیا کا پہلا گورنرجنرل بنا۔ جواہر لال نہرو نے اس کی بیوی سے معاشقہ بھی چلایا تھا، جس کی تفصیلات مورخین نے بیان کیں۔ایک طرح سے للی کو مائونٹ بیٹن کی سوتیلی ماں بھی کہا جا سکتا ہے، جبکہ للی کی حقیقی بیٹی”جینی مائر۔Jaenne Marie” بھی لارڈ مائونٹ بیٹن کی سوتیلی بہن ہوئی۔

للی کے دیگر معاشقوں میں ایک اور معروف معاشقہ ملکہ وکٹوریہ اول کے بیٹے،پرنس آف ویلز”البرٹ ایڈورڈ۔Alber Edward”سے ہوا، جو آگے چل کر برطانیہ کا بادشاہ”ایڈورڈ ہفتم۔Edward VII”بنا۔اس کاایک اورعاشق”رابرٹ پیل۔Robert Peel”تھا،جو برطانوی وزیراعظم بھی رہا۔ان کے علاوہ معروف آئرش ادیب “آسکر والڈ۔Oscar Wilde”اورامریکی آرٹسٹ “جیمزمیکنلی ویسلر۔James McNeill Whistler”بھی بہت قریبی دوستوں میں شامل رہے۔ان کے علاوہ کئی معروف شخصیات اس سے متاثر رہیں،جن میں سے بہت سارے طبقہ اشرافیہ سے تعلق تھے۔ پرنس لوئس اورایڈورڈ ہفتم سے معاشقوں میں للی نے جیسی شاہانہ زندگی گزاری،ا س طرح سے دیکھا جائے تو یہ شاہی خاندان کا حصہ ہوتے ہوئے بھی نہیں تھی۔ اس حسین خاتون کی زندگی کا یہ بیک وقت روشن اور تاریک پہلو تھا۔

ایک زمیندار کی بیوی تھی، زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کو اس سے اچھی ابتدا اور بھلا کیا ہو گی۔ اس میں بھرپور اداکارانہ صلاحیتیں تھیں، جن کا استعمال اس نے پیشہ ورانہ اورذاتی زندگی میں بھرپورطریقے سے کیا۔ تھیٹر کے شعبے سے وابستہ رہی اوراسٹیج پر حکمرانی کی۔شاعری کے ذریعے دلوں کوبھی فتح کیا۔اس وقت کے سماج میں اعلیٰ رتبے پر فائز رہی ،ہرتقریب کی رونق اورشمع محفل بنی۔

 

للی نے پیشہ ورانہ زندگی میں بڑے کامیاب فیصلے کیے،اس نے تھیٹر کمپنی بنائی،جس کی تشہیر اورکام کے لیے وہ امریکا تک جاپہنچی،اس نے ہر وہ طریقہ اختیارکیا،جس سے اس کی شہرت اورطلب میں اضافہ ہوسکتاتھا۔اس کی شخصیت میں ذہانت اور مزاج میں شگفتگی نے اس کے حسن کو دوآتشہ کردیا۔وکٹوریہ سماج میں اپنے خوابوں کو پانے کے لیے للی نے اپنی شخصیت کو کئی تنازعات میں الجھا دیا، مگر اپنے اہداف نہ بھولی۔محفلوں کی جان بننے والی اکثر اپنے گھر کے باغیچے میں تنہا اپنی زندگی کے نشیب وفرازکے بارے میں سوچتی تھی۔

 

آدھی صدی تک دلوں پر راج کرنے والی اس حسین خاتون نے کبھی ہمت نہ ہاری۔ ایک مرتبہ بیماری نے اس طرح آن گھیرا کہ بڑی مشکل سے یہ موت کے منہ سے واپس آئی۔ بنفشی آنکھوں والی اس حسینہ نے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کربات کی۔ فیشن کی دنیا میں بھی اپناحسن ثابت کیا،ایک وقت ایسا آیا،جب اس کے انداز اورادائیں ہی فیشن کے طورپر قبول کی جانے لگیں۔معاشرے میں بسنے والے ہرطبقہ اس کے جمال کی تپش محسوس کرتااورمنتظر رہتا،اب یہ اپنا جلوہ کس پر گرائے گی اوروہ خوش قسمت کون ہوگا،جس کویہ نگاہ بھر کے دیکھے گی۔1887میں للی نے امریکا کی شہریت حاصل کرکے کیلیفورنیامیں سکونت اختیار کرلی۔آئرش شوہر سے طلاق کے بعد اس نے اپنے سے کم عمر اورامیر ترین شخص “ہوگوگیرلڈ ڈی بیٹھ۔Hugo Gerald De Bathe”سے کی،جس کی شہرت گھوڑوں کے ریس سے وابستہ ممتاز کاروباری شخصیت کی تھی۔

 

للی کی زندگی پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالی جائے،تو دکھائی دیتاہے،1867میں جب یہ صرف ابھی 14برس کی تھی،اس کو شادی کا پہلا پیغام ملا۔اس کے حسن کا چرچا کم عمری میں ہونے لگاتھا۔1876میں شادی کی اوراگلے برس ہی پرنس لوئس کے ساتھ معاشقہ چلالیا۔1878میں ملکہ وکٹوریہ کے دربارتک رسائی بھی حاصل کرلی۔1881میں ،جب یہ ابھی صرف 27برس کی تھی،اس کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی،اس کی پیدائش کو خفیہ رکھاگیا،یہ اس عرصے میں فرانس کے شہر پیرس میں مقیم تھی۔اسی برس میں تھیٹر سے اس کی باقاعدی وابستگی ہوئی۔1882میں یہ اپنی زندگی کے پہلے اشتہار میں بطورماڈل زینت بنی۔1885میں اپنی تھیٹر کمپنی کے سلسلے میں امریکا کادورہ کیا اوراگلے 2سال میں یہ وہاں کی شہریت بھی حاصل کرلی، جبکہ ابھی تک اس کی عمر صرف 33برس تھی۔1901میں یہ تھیٹرریٹائرڈمنٹ لے لی۔ 1905میں 51برس کی ہوچکی تھی،جب اپنے محبوب برطانوی شہزادے کی بادشاہ بننے کی تاج پوشی کی رسم میں شریک ہوئی۔1925میں پہلی جنگ عظیم کے سلسلے میں امدادی رقم جمع کرنے کی خاطر اپنے تھیٹر کے میڈیم کا استعمال بھی کیا۔

 

للی لینگٹری کی زندگی پر بننے والا برطانوی ڈرامہ

 

زندگی بھرللی نے شاعری کی، تھیٹر کے اسٹیج پر خود کو اداکاری سے جوڑے رکھا، ادکاری کے علاوہ پروڈکشن میں بھی اپنی صلاحتیں آزمائیں۔ ماڈل کی حیثیت میں فیشن کے منظر نامے پر رہی۔کئی حکمرانوں کے تنہائی کی رازداں بنی۔ ایک فلم میں بھی کام کیا۔ ایک ناول بھی لکھا، اپنی خودنوشت بھی قلم بند کی۔ غرض کہ صرف اپنے حسن پر تکیہ نہیں کیا، بلکہ خوشبو کی طرح ایک سے دوسری جگہ اپنی مہک سے آگے بڑھتی چلی گئی۔ اس پر کئی کتابیں لکھی گئیں۔مصوروں نے اس کو پینٹ کیا، فلمیں اور ڈرامے بنے۔ غرض کہ ہر طرح سے للی کی شخصیت کو دریافت کیاگیا۔

 

1929کو امریکا میں ہی اس کاانتقال ہوا،اس کی میت برطانیہ لائی گئی،جہاں اس کوآبائی قبرستان میں دفن کیاگیا۔اس کی رحلت سے برطانوی تاریخ کا ایک اہم باب ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا۔ جس میں شاہی کرداروں کے تذکرے تھے اور زمانے کی غلام گردشوں کے قصے بھی، جس کو للی نے بے حد دلیری، بے باکی اورہمت سے جھیلا۔ حسین لوگ نازک ہوتے ہیں،مگر اس نے جس طرح وکٹوریہ سماج کی سختی میں اپنی نزاکت کو بے باکی کے لبادے میں چھپائے رکھا،وہ قابل تحسین ہے۔یہی وجہ ہے،برطانیہ کی شاہی تاریخ ہو یافنی تذکرے اورحسن کابیان،اس کے ذکر کے بغیر سب کچھ ادھوراہے۔