Categories
نان فکشن

پروقار برطانوی حسینہ؛ کیٹ ونسلیٹ

‘بدن کی بینائی’ سلسلے کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

دُنیا میں دو ہی طرح کے لوگ جنم لیتے ہیں، ایک وہ جو دل میں اُتر جاتے ہیں اور دوسرے وہ جودل سے اُتر جاتے ہیں۔ اس وقت ہماری نگاہوں کا مرکز وہی چہرہ ہے، جس نے بہت تیزی سے دلوں پر حکمرانی قائم کی، دیکھتے ہی دیکھتے نصف سے زیادہ دنیا میں فلمی شائقین کے دلوں کو مسخر کر لیا۔ حیرت انگیز طور پر گزرتے وقت کے ساتھ، اس کی مقبولیت میں کمی آنے کی بجائے مزید اضافہ ہوا ہے۔ وقت نے اس کو سب سے حسین تحفہ یہ دیا کہ مزید حسین کر دینے کے ساتھ ساتھ باوقار بھی بنا دیا، اب یہ متانت بھرا حسن اور پُروقار خوبصورتی دیکھنے والوں کے ذہن اور دل پر جادو طاری کر دیتی ہے، اس سحر زادی کا نام’’کیٹ ونسلیٹ‘‘ ہے۔

سحرزادی “کیٹ ونسلیٹ”

کیٹ ونسلیٹ نے جس طرح اپنا فنی کیرئیر آگے بڑھایا، وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ اس نے اداکاری کی جستجو میں، کرداروں کا تعاقب کیا، تو سب سے پہلے تھیٹر کے اسٹیج سے ہو کر گزری، نہ صرف اداکاری کی، بلکہ اپنی آواز سے کرداروں کی منظرکشی کی، کئی گیتوں میں اپنی آواز کا جادو جگایا۔ لندن میں سجائے جانے والے عوامی مقابلے، جس میں نوآموز اداکار حصہ لیتے ہیں، وہاں تک پہنچی اور سخت مقابلے کے بعداپنے آپ کو نمایاں کیا، اس عرصے میں حاصل ہونے والی کامیابیوں نے، خواہش کے راستے وضع کیے، یوں اس نے اپنے لیے سنگ میل منتخب کیا کہ اس کے فن کی منزل اور جنون کی معراج کیا ہوگی۔

کیٹ ونسلیٹ نے اپنے کرداروں کا تعاقب کیا

کیٹ ونسلیٹ کی پیدائش 5 اکتوبر، 1975 کی ہے۔ محض 42 برس کی عمر میں اس کے فنی سفر پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالی جائے، تو ایسا محسوس ہوتا ہے، ایک جہان فتح ہوچکا ہے۔ اس نے عزم وحوصلے کی ایک داستان رقم کی ہے، یہ سلسلہ ابھی تھمانہیں، متحرک ہے۔ غریب مگر فنکار خاندان میں آنکھ کھولی۔ اس کے دادا دادی نے ایک ریپٹری تھیٹر کمپنی بنا رکھی تھی، جس کے ذریعے وہ اپنے شوق اور ضرورتوں کی تکمیل کا سامان کیا کرتے، اس کے والد میں بھی یہ شوق منتقل ہوا، پھر یہ خود بھی اس وراثت کو آگے لے کر بڑھی اور لندن کے گلی کوچوں سے نکل کر عالمی اداکاری کے منظرنامے پر چھا گئی۔ کم عمری میں معاشی تنگی کے سائے اپنے گھر پر پڑتے دیکھے، مگر والدین کی انتھک محنت نے ان بچوں کی تربیت کو متاثرنہ ہونے دیا۔ آج بھی کیٹ ونسلیٹ گفتگو کرتے ہوئے ان کٹھن دنوں کو یادکرتی ہے۔

کیٹ ونسلیٹ کو آج بھی اپنے کٹھن دن یاد ہیں

اس خوبرو حسینہ نے اپنے شوق کی شروعات اسکول کے زمانے سے کیں، اپنی بہن کے ہمراہ اسکول اور علاقہ میں ہونے والے مقامی تھیٹرکی سرگرمیوں میں حصہ لیا، اس کم عمری میں، جن کرداروں کو ادا کرنے کامظاہرہ، تھیٹر کے اسٹیج پریہ کررہی تھی، وہ اس کے خواب تھے، جن کو حقیقت میں بدلنے کاعزم کیے یہ چھوٹی سی لڑکی، اپنی عمر سے بڑے بڑے کام کر رہی تھی۔ اس کی رہائش گاہ سے قریب’’Redroofs Theatre School‘‘ قائم تھا، یہ اس سے وابستہ ہوگئی، اسکول بچوں کو پیشہ ورانہ اداروں کے آڈیشنز میں بھیجا کرتا تھا، کیٹ کے کیرئیر کا ابتدائی راستہ یہی سے دریافت ہوا۔ اسے ایک معمولی سے اشتہار میں کام کرنے کا موقع ملا۔ کئی ایک فنی منصوبوں کی نگرانی کا کام بھی اس کے ذمے آیا، انہی دنوں موسیقی پر مبنی کھیل ’’Peter Pan‘‘ میں مرکزی کردارنبھانے کی ذمے داری بھی پوری کی۔ اس کے علاقے میں ہی ایک مقامی تھیٹر کمپنی، جس کا نام’’اسٹار میکر‘‘ تھا، اس کمپنی کے ساتھ کام کرکے کافی کچھ سیکھا۔ 20 سے زاید کھیلوں میں کام کیا، یہاں سے اس کی اداکارانہ بنیاد مضبوط ہوئی اور تھیٹر کے ان کھیلوں نے، اس کے اندر کی اداکارہ کو نکھار دیا۔
یہ پہلی مرتبہ 1991 میں بی بی سی کی ایک سائنس فکشن ٹیلی وژن سیریز’’Dark Season‘‘ میں کام کرکے چھوٹی اسکرین پر جلوہ گر ہوئی۔ تھیٹر اور ٹیلی وژن پر ملنے والی کامیابیوں کے باوجود، اس کے معاشی حالات بہترنہ ہوئے۔ اس کی زندگی میں وہ موڑ بھی آیا، جب اس کو رقم نہ ہونے کی وجہ سے اپنا اسکول بھی چھوڑنا پڑا۔ یہ باصلاحیت اور باہمت تھی، مگر وزن زیادہ ہونے کی وجہ سے، ڈراموں میں اس کو مرکزی کردار دینے سے گریز کیا جاتا تھا۔ 1992 میں اسے ایک مختصر کردار، ٹیلی وژن فلم’’Anglo-Saxon Attitudes‘‘میں دیا گیا، اسی عرصے میں ایک ٹیلی وژن سٹ کوم’’Get Back‘‘میں کام کرنے کے ساتھ ساتھ، برطانیہ کی معروف میڈیکل ڈراما سیریز’’Casualty‘‘کی ایک قسط میں بطورمہمان اداکارہ دکھائی دی۔

1994میں اس کو، نیوزی لینڈ کے معروف ہدایت کارکے نفسیاتی اور مجرمانہ کہانی کے تناظر میں فلمائے گئے ڈرامے’’Heavenly Creatures‘‘ میں، آڈیشن دینے کے بعد 175 لڑکیوں میں سے منتخب کیا گیا۔ یہ اس کے کیرئیر کی سنہری ابتدا تھی۔ یہ ثابت کرنے میں کامیاب رہی کہ اس کے اندر ایک باصلاحیت اداکارہ چھپی ہوئی ہے۔ یہاں سے قسمت کی دیوی اس پر مہربان ہونے لگی، مگر اسی وقت میں، اس نے کڑی محنت بھی کی، اپنی آواز کو بہتر کیا، مطالعہ کی صلاحیت بڑھائی، جس نوعیت کے فنی منصوبوں سے وابستہ ہوئی، ان کے متعلق اپنی معلومات میں اضافہ کیا، اپنے کرداروں کو نکھارنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ اس کی اگلی فلم’’Sense and Sensibility‘‘میں بھی اس کی اداکاری کوبہت پسند کیا گیا۔ یہ فلم معروف برطانوی ناول نگار’’جین آسٹن‘‘کے ناول سے ماخوذ تھی، اس فلم نے باکس آفس پر بھی بے حد مثبت اثرات مرتب کیے۔ کیٹ ونسلیٹ نے پہلی مرتبہ’’اسکرین ایکٹرز گلڈ ایوارڈ‘‘ اور’’برٹش اکیڈمی فلم ایوارڈ‘‘ حاصل کیے اور کئی ایک ایوارڈز کے لیے نامزد بھی ہوئی۔

1996میں کیٹ ونسلیٹ نے دو تاریخی ڈراموں’’جوڈی‘‘ اور’’ہیملٹ‘‘ میں منجھے ہوئے اداکاروں کے ساتھ کام کیا۔ 20سال کی عمر میں شیکسپیئر کے لکھے ہوئے ان کرداروں کو نبھاتے وقت، اس کے دل پر ایک عجیب خوف طاری تھا، مگر اس نے خود پر قابو رکھا اور کامیاب رہی۔ 1997 میں شہر ہ آفاق فلم’’ٹائٹینک‘‘ میں کام کرنے کے بعد تو اس کی زندگی بدل گئی، گویااس نے نیاجنم لیا۔ اس فلم میں کام حاصل کرنے کے لیے اس نے بہت عجیب وغریب حرکات بھی کیں، فلم کی عکس بندی سے پہلے، کتنے ہی عرصے تک، یہ فلم کے ہدایت کار’’جیمز کیمرون‘‘ کو خط لکھا کرتی، جس کے ذریعے اس کو احساس دلاتی کہ تمہاری کہانی کی مرکزی کردار’’روز‘‘صرف میں ہی ہوں۔ اس کردار کو حاصل کرنے کے لیے اس کی اضطرابی کیفیت نے جلتی پر تیل کا کام کیا، دل کی دستک پر یہ دروازہ جب کھلا، تو پھر اس کے سامنے شہرت اور دولت کے دروازے بھی کھل گئے، یہ الگ بات ہے، اس فلم نے 11آسکر ایوارڈز اپنے نام کیے، مگر کیٹ ونسلیٹ نامزد ہونے کے باوجود ایوارڈ حاصل نہ کر پائی۔ اب عالم یہ ہے کہ سات مرتبہ نامزد ہونے کے بعد1مرتبہ آسکر ایوارڈزجیتنے کے ساتھ ساتھ، شوبز کی دنیا کے سارے بڑے ایوارڈز جیتنے کے علاوہ، برطانیہ اور فرانس کے شاہی ایوارڈز بھی اپنے نام کر چکی ہے۔ آسکر ایوارڈجیتنے کا باعث اس کی فلم’’دی ریڈر‘‘ تھی، جس کے ذریعے اس نے یادگار اداکاری کی۔

’’ٹائیٹنک‘‘ جیسی کامیاب فلم کے بعد2001 میں، اس نے’’Enigma‘‘ میں Dougray Scottجیسے اداکار کے ساتھ کام کیا، پھر 2004 میں اس نے ایک اور اہم فلم’’Eternal Sunshine of the Spotless Mind‘‘میں Jim Carreyکے ساتھ اداکاری کی۔ اسی برس اسے ایک اورمعروف اداکارJohnny Deppکے ہمراہ’’Finding Neverland‘‘جیسی رومانوی فلم میں اداکاری کاموقع ملا۔

آنے والے چند برسوں میں’’The Holiday‘‘ اور’’The Reader‘‘ جیسی اہم فلمیں اس کے کیرئیر کاحصہ بنیں۔ 2008 میں پھر ایک مرتبہ، اس کوLeonardo DiCaprioکے ساتھ ایک اہم فلم’’Revolutionary Road ‘‘ میں کام کرنے کا اتفاق ہوا۔ 2011میں یہ اہم ترین فلم’’Contagion‘‘ اور’’Divergent ‘‘ میں ہالی ووڈ کے دیگر اہم اورمعروف اداکاراوں کے مدمقابل ہوئی۔2015میں دو مزید اہم فلموں’’Insurgent‘‘ اور’’The Dressmaker‘‘سے شائقین کے دل موہ لیے۔ ’’Steve Jobs‘‘نامی فلم، ایپل کمپنی کے بانی’’ اسٹیوجابز‘‘ کی سوانح عمری پر مبنی تھی، اس فلم کے ذریعے یہ ساتویں بار آسکرایوارڈ کے لیے نامزد ہوئی۔

کیٹ ونسلیٹ کا فنی سفر جاری ہے، اب تک یہ تقریباً 50 فلموں میں کام کر چکی ہے، جس میں 2020 میں ریلیز ہونے والی جیمز کیمرون کی سائنس فکشن فلم’’Avatar 2‘‘ بھی شامل ہے۔ ٹیلی وژن کے 14 ڈراموں میں بھی اپنے فن کامظاہرہ کیا اور 5مختلف فنی منصوبوں میں اپنی آواز کا جادوبھی جگا چکی ہے۔ 4کتابوں کی پڑھت کاری، ایک میوزک ویڈیو اور ایک ویڈیو گیم بھی اس کے کریڈیٹس میں شامل ہے۔ تھیٹر کے شعبے میں 7منصوبے بھی اس کے کام کاحصہ رہے ہیں۔ 50مرتبہ اہم اعزازات کے لیے نامزدہونے کی وجہ سے، یہ منفرداعزاز بھی اس کے پاس ہے کہ یہ اتنی بار اہم ترین اعزاز ات کے لیے نامزدکی گئی۔ رواں برس 2017 میں ایک مسلمان اور سیاہ فام امریکی اداکار ’’ادریس ایلبا‘‘ کے ساتھ فلم’’The Mountain Between Us‘‘ میں متنازعہ مناظر کی وجہ سے تنقید کانشانہ بھی بنی، مگر یہ اپنے جھگڑوں اورتنازعات کو خوش اسلوبی سے نمٹا بھی لیتی ہے۔

اس کے حسن کو نظرانداز کرنا مشکل ہے

یہ ذاتی زندگی میں فلاحی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہے اور پلاسٹک سرجری کے خلاف ہے۔ تین شادیاں کیں، کئی معاشقے چلائے، تین بچے ہیں، اب اس کی پوری توجہ کیرئیر اور بچوں پر ہے، یہ ایک اچھی اداکارہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھی ماں بھی ہے۔ ایک محبوبہ کے طور پر شاید ناکام رہی، مگر عمومی طور پر اس کی شخصیت فلم بینوں اور ناقدین کے لیے بھی متاثر کن ہے۔

اس کا حسن ظاہری چمک سے اگلے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں روح کے ساتھ جذبات بھی شامل ہو جاتے ہیں

کیٹ ونسلیٹ کا کیرئیر تین دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط ہے، عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کے مزاج میں ٹھہراو اور حسن میں نکھار پیدا ہوا۔ مستقبل میں یہ اداکارہ اپنے فن کی بدولت اور دلوں میں مزید گھر کرے گی۔ اس کاحسن ظاہری چمک دمک سے آگے کے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے، جہاں روح بھی جذبات میں شامل ہو جاتی ہے، یہی وجہ ہے،اس کے کئی کردار ایسے ہیں، جن کودیکھتے ہوئے اداکاری کی بجائے حقیقت کا گمان ہوتا ہے’’دی ریڈر‘‘ میں کیا ہوا کردار اس کی روشن مثال ہے۔ یہی کیٹ ونسلیٹ کی صلاحیتوں کا کرشمہ ہے، اس کے حسن اور فن کو نظر انداز کرنابہت مشکل امر ہے۔

Categories
نان فکشن

شوبز کی ترک شہزادی؛ بیرین ساعت

‘بدن کی بینائی’ سلسلے کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

کچھ چہرے ایسے ہوتے ہیں، جن پر صرف نظر پڑتی ہے تو وہ دل کو بھا جاتے ہیں۔ ان چہروں کو پسند کرنے کی فوری کوئی وجہ نہیں ہوتی، بس ان کو دیکھنا اچھا لگتا ہے۔ ترکی میں ایک ایسا ہی چہرہ، شوبز کی دنیا میں نمودار ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے سب کی آنکھوں کا تارا بن گیا۔ اس حسین چہرے کو ’’بیرین ساعت‘‘ کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ تتلیوں جیسی اُڑان بھرنے والی اس کمسن اور خوبصورت اداکارہ نے اپنی پختہ اداکاری سے ناظرین کے دل موہ لیے۔ ترکی کی مقبول ترین اداکارہ نے اپنی اداکاری سے ایسی شناخت بنائی کہ آج ترکی سمیت دنیا کے کئی ممالک اس کے نام اورکام سے بخوبی واقف ہیں۔

بیرین سات اپنی اداکاری کے باعث کئی ممالک میں مشہور ہیں

پاکستان میں گزشتہ کچھ برسوں سے ترکی ڈراموں کو متعارف کروایا گیا، دیکھتے ہی دیکھتے یہ ڈرامے ناظرین کے دل کو چھو گئے۔ پاکستان میں نشر ہونے والا اولین ترکی ڈراما’’عشقِ ممنوع‘‘تھا، جبکہ اس کے علاوہ ایک ڈراما ’’فاطمہ گل۔میراقصورکیا‘‘ بھی نشر کیا گیا تھا۔ ان دونوں ڈراموں کے مرکزی کرداروں میں جس اداکارہ نے داد سمیٹی، اس کا نام’’بیرین ساعت۔Beren Saat‘‘ ہے۔ ترکی شوبز کی اس حسین شہزادی کی زندگی بھی کسی داستان سے کم نہیں، بالکل اس کے افسانوی حسن کی طرح، جس کو دیکھتے رہنے میں ہی عافیت محسوس ہوتی ہے۔

بیرین سات نے دوستوں کے مشورے پر اداکاری کے میدان میں قدم رکھا

ترکی کے شہرانقرہ میں پیدا ہونے والی اس اداکارہ کی پیدائش کابرس1984ہے۔ ایک مسلمان گھرانے میں پیداہوئی۔ کم عمری میں ہی اپنی صلاحیتوں کو پہچان لیا، یہی وجہ ہے، اس نے زندگی میں جو کام بھی کیا، اس میں مکمل کامیابی حاصل کی۔ انقرہ کالج اورباسکنٹ یونیورسٹی سے اپنی تعلیم مکمل کر کے مینجمنٹ فیکلٹی سے گریجویشن کیا۔ زمانہ ٔ طالب علمی میں اس کی شخصیت کاتاثر کچھ تخلیقی تھا، اس کے دوستوں کاخیال تھا کہ اگر یہ تھوڑی کوشش کرے، تو اچھی اداکارہ بن سکتی ہے مگر اپنے اس پہلو سے ’’بیرین ساعت‘‘واقف نہ تھی،مگرپھرایک وقت ایسا بھی آیا کہ اس کا شمار ترکی کی ان اداکارائوں میں بھی ہوا،جو اپنے خطیر معاوضے کے لیے مقبول رہیں۔

یہی وہ زمانہ ہے،جب ترکی کے ایک ٹیلی ویژن پراداکاری کے لیے مقابلے کا اعلان ہوااورنووارد اداکاروں نے اس میں حصہ لیا، ظاہر ہے اس میں ایک بڑی تعداد نوجوانوں کی تھی۔دوستوں کے بے حد اصرار پر’’بیرین ساعت‘‘ نے اداکاری کے مقابلے میں حصہ لیااور دوسرے نمبر پر آئی۔ اس جیت نے اس کے اندر ایک اعتماد پیدا کیا کہ وہ اداکاری کے میدان میں کچھ کرسکتی ہے۔ مقابلے کے منتظم نے بھی اس کو اداکاری کے شعبے میں کیرئیر بنانے کا مشورہ دیا۔ دوستوں کے کہنے اوراس مقابلے کی جیت کے بعد ’’بیرین ساعت‘‘ نے آخر کار اداکاری کے میدان میں قدم رکھنے کا فیصلہ کرلیا۔ دھیرے دھیرے اس میدان میں قدم رکھا اور آج اس کا شمارترکی کی صف اول کی اداکاراؤں میں ہوتا ہے۔

’’بیرن ساعت‘‘ نے 2004میں، اپنے کیرئیر کے پہلے ڈرامے میں مختصر سا کردار ’’Nermin‘‘ تھا۔ہر چند کے کردار مختصر تھالیکن اس کے ذریعے ترکی میں اسے شوبز کے ماہرین کی توجہ ملی۔2005 میں اس نے ایک اورسیریل میں کام کیا،یہ ایک مشرقی لڑکی جس کا نام’’Zilan‘‘ تھا، اس کا کردار تھا۔ اس ڈرامے کی کاسٹ میں ترکی کے نمایاں اداکاروں کے ساتھ’’بیرین ساعت‘‘ کو کام کرنے کا موقع ملا، یوں وہ منظر عام پرآگئی اور شناخت کے مراحل تیزی سے طے کرنے لگی اورشہرت کا دیوتا اس پر مہربان ہونے لگا۔

2006 میں اس کو ایک اورڈرامے میں کام کرنے کا موقع ملا،اس ڈرامے کانام’’Hatirala Sevgili‘‘تھا اور اس نے ’’یاسمین‘‘ نامی لڑکی کا کردار نبھایا۔ یہ ایک خوبصورت لڑکی کا کردار تھا اوراس کی خوبصورتی اس ڈرامے میں بہت کام آئی۔ اس کے قدرتی حسن اور معصومیت نے اس کے کردار میں جان ڈال دی۔ترکی میں ڈراما دیکھنے والے اس حسن کے کی شہزادی کے اسیر ہوکر رہ گئے۔ ان کی نظریں ہروقت اس ڈرامے اور’ ’یاسمین ‘‘ پر لگی رہتی تھیں۔ اس ڈرامے سے ’’بیرین ساعت‘‘ کے مداحوں کی تعداد میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا۔

’’بیرین ساعت‘‘ بہت تیزی سے اپنی مقبولیت کی سیڑھیاں چڑھ رہی تھی لیکن ابھی شہرت کی وہ بلندی اس کے انتظار میں تھی، جس کو پانے کے لیے کوئی فنکار خواب دیکھتا ہے۔ 2008میں اس کو ایک ڈرامے’’Forbidden Love‘‘میں کام دیا گیا۔ اس ڈرامے کی کہانی اُنیسویں صدی کے ترکی کے مشہور ناول نگار ’’Halad Zia Usakligil‘‘کے ناول سے ماخوذ تھی اور اس ڈرامے کا نام بھی ناول کے نام پر رکھاگیا۔اس میں ’’بیرین ساعت‘‘ کا کردار ایک خوبصورت کم عمربیوی کا ہے،جس کی شادی ایک رئیس شخص سے ہوئی، جوعمر رسیدہ ہے۔اس میں ’’Bihter‘‘کا کردار اس نے بخوبی نبھایا۔یہ ڈراما پاکستان میں ’’عشق ممنوع‘‘کے نام سے نشر کیاگیااوراس ڈرامے کو بے حد مقبولیت ملی۔ اس ڈرامے میں ’’بیرین ساعت‘‘ نے اپنی عمدہ اداکاری سے پاکستانی ناظرین کے دل بھی جیت لیے۔آج ہر پاکستانی شائق اس کے چہرے کو پہچانتا ہے۔

بیرین سات اپنے حسن اور اداکاری سے لوگوں کے دل جیت چکی ہیں

عشق ممنوع کو جب ترکی میں نشر کیاگیاتو اس نے ترکی ٹیلی ویژن کی ڈرامے کی تاریخ کے سارے ریکارڈ توڑدیے تھے۔ ڈرامے کی صنعت کے ناقدین نے بھی اس میں کام کرنے والوں کو مکمل اداکار کہا۔ حیرت انگیز طورپر پاکستان میں بھی اس کی مقبولیت نے رجحان ساز ماحول پیدا کر دیا اور اس ڈرامے کی مقبولیت کے بعد ہمارے نجی چینلز انڈین ڈرامے کو بھول کر ترکی ڈراموں کے پیچھے پڑگئے۔ ایک نجی چینل نے تو ایک نیاترکی ڈراما نشر کرتے ہوئے اپناٹائٹل یہ بنایا کہ ’’وہ عشق اب جو ممنوع نہ رہا‘‘۔

سب چیزیں اپنی جگہ مگر’’بیرین ساعت‘‘ کی عمدہ اداکاری نے اس کھیل پر اپنے گہرے اثرات مرتب کیے۔پاکستان میں یہ ڈراما ڈب کرکے پیش کیا گیا اور اس کے کرداروں پر پاکستانی فنکاروں نے اپنی آواز کے جوہر دکھائے اور وہ بھی اس کوشش میں مکمل طورپر کامیاب رہے۔’’بیرین ساعت‘‘ ترکی میں ڈراموں کے ساتھ ساتھ کئی فلموں میں بھی کام کیااوربہت کم عمری میں تیزی سے اپنی منزل کی مسافت طے کرتی چلی گئی۔ محبت اورعاشقی کے موسم بھی ساتھ ساتھ اس پر اترتے رہے، اس نے امریکا میں،ترکی کے گلوکار اورموسیقارKenan Dogulu سے شادی بھی کی،جس سے پہلے ایک شادی اور کئی معاشقے نمٹا چکی تھی۔

بیرین شوہر کے ہمراہ

’’بیرین ساعت‘‘ نے 2009میں فلموں میں اداکاری کی ابتدا کی۔اس کے فلمی کیرئیر کی پہلی فلم’’Pains of Autumn‘‘تھی۔اسی برس ایک اورفلم میں اس کو کام کرنے کا موقع ملا، اس کانام’’Wings of the Night‘‘تھا۔ ان فلموں نے اس کی اداکاری کو مزید چار چاند لگادیے۔2010میں اس نے ایک سیریل’’Fatmagul’un Sucu Ne‘‘میں کام کیا۔اس سیریل نے تو گزشتہ مقبولیت کے بھی ریکارڈ توڑ دیے۔ اس کو یہ ڈراما شہرت کی اعلی ترین بلندیوں پر لے گیا۔اس میں ’’بیرین سات‘‘ کا کردار ایک ایسی گواہ کا تھا جس نے ایک لڑکی کی آبروریزی ہوتے دیکھی تھی۔یہ ڈراما بھی ترکی کے ایک معروف ناول نگار’’Vedat Turkaliکے ناول سے ماخوذ تھا۔اس ڈرامے نے ’’بیرین سات‘‘ کو بین الاقوامی شہرت سے نوازا۔ یہ دنیا کے دو بڑے ایوارڈ ز کے لیے نامزد ہوئی،جن میں سے ایک اعزاز’’سیول انٹرنیشنل ڈراما ایوارڈ‘‘تھا۔پاکستان میں بھی اس ڈرامے کو ’’فاطمہ گل،میراقصورکیا‘‘کے نام سے نشر کیا گیا۔

’’بیرین ساعت‘‘ کی یہ کامیابی اوراس کی اداکاری کے شعبے میں تیز ترین مقبولیت کو دیکھ کر یہ اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ اس کامستقبل روشن ہے۔اس کو ایک ایرانی فلم’’Rhino Season‘‘میں بھی کام کرنے کاموقع ملااور اس فلم میں یہ معروف اطالوی اداکارہ’’مونیکا بیلوسی‘‘کی بیٹی بنی ہے۔اس فلم میں انقلاب ایران سے پہلے کی کہانی کو سیاسی پس منظر میں فلمایا گیا ہے۔ اس فلم کا ورلڈ پریمئر شو ٹورٹنو میں ہوا تھا۔
’’بیرین ساعت‘‘ نے 2012میں ایک اینی میٹیڈفلم ’’Brave‘‘کے مرکزی کردار میں اپنی آواز کاجادو بھی جگایا۔کئی اشتہاروں میں اس کا چہرہ زینت بنا۔ اس کو مشرقی یورپ اور عرب ممالک میں کافی شہرت ملی اور اس کے مداحوں کا حلقہ وسیع ہوا۔ترکی میں فیس بک پر ایک انتہائی مقبول اداکارہ بھی ہے۔ اس کے فیس بک اکاؤنٹ کو تقریباً 2ملین افراد پسند کرچکے ہیں۔ یہ سماجی خدمت پر بھی یقین رکھتی ہے اور اس کے لیے وقت نکالتی ہے۔ فلاحی سرگرمیوں کے لیے اس نے ہمیشہ اپنے آپ کو آگے آگے رکھا، شاید اس کی برکت بھی ہے،جو اس کا حسن کندن ہوتاجارہا ہے اور چہرے کی معصومیت کی کشش مزید بڑھنے لگی ہے۔

بیرین فلموں میں بھی اداکاری کے جوہر دکھا چکی ہیں

’’بیرین ساعت‘‘ دوبارہ ترکی ٹیلی ویژن کے لیے کام کررہی ہے۔ایک ڈراما جس کانام’’Revenge‘‘ہے۔انتقام پر مبنی یہ کہانی امریکا کی مشہورسیریز،جس کانام بھی یہی ہے،اس سے متاثر ہوکر لکھی گئی ہے۔ اس میں ’’بیرین سات‘‘ کا کردار ایک ایسی لڑکی کا ہے،جس کا نام’’Efsun‘‘ ہے اور اس کے ذہن میں ایک ہی کئی برسوں سے گردش کرتی ہے کہ اس نے واپس وہاں لوٹنا ہے، جہاں وہ پلی بڑھی تھی،جو کبھی اس کاگھر تھا اور وہاں کوئی رہتاہے۔

’’بیرین ساعت‘‘ نے اپنے مختصر فلمی کیرئیر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوالیا۔یہ ترکی کے چھوٹے بڑے 24اعزازات کے لیے نامزد ہوئی اورکئی اعزاز اپنے نام بھی کیے جن میں2008میںGolden Tulip Fine Artsبرائے بہترین اداکارہ شامل ہے۔ دوسرا نمایاں اعزاز جو اس نے اپنے نام کیا،وہ2009اور2010میں Golden Butterfly Awardsبرائے بہترین اداکارہ تھا۔اس نے 5فلموں میں کام کیا،جس میں ایک بین الاقوامی فلم بھی شامل ہے اور اس کے علاوہ ترکی ٹیلی ویژن کے 9بڑے ڈراموں میں کام کرچکی ہے۔ اشتہارات اور دیگر شوبز کے منصوبے ان کے علاوہ ہیں۔

پاکستان میں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ اس تُرک شہزادی نے پاکستانی ڈرامے کی مہارانیوں کی نیندیں اڑا دیں کیونکہ خوبصورتی کی کوئی زبان نہیں ہوتی اورنہ ہی علاقہ، اس کو صرف داد وتحسین سے غرض ہوتی ہے اوراس میں ہمارے ہاں کافی سخاوت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ہرگزرتے دن کے ساتھ ’’بیرین سات‘‘ کا جادو سرچڑھ کر بول رہاہے، کیوں نہ بولے، ترکی جیسی سرزمین سے شہزادی نے حسن اور محنت دونوںکی معاونت سے یہ موجودہ مقام حاصل کیا ہے، جہاں کوئی اس کی صورت دیکھنے کو بہت دیر تک انتظار کرسکتا ہے۔

Categories
نان فکشن

خوبصورتی کی سفیر۔۔۔ کارلا برونی

‘بدن کی بینائی’ سلسلے کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

انسان کو اپنا آپ ڈھونڈنے میں کبھی بہت وقت درکار ہوتا ہے اور کبھی اُسے ہوش سنبھالتے ہی اپنی پہچان ہوجاتی ہے۔ دنیا میں ایسے لوگ بہت کامیاب ہوتے ہیں، خود کو جو بہت جلدی دریافت کرلیتے ہیں۔ یہ خودی دریافت کرنے والوں پر تخلیق کے دروازے کھولتی ہے ، پھر وہ اپنے تصور کی آنکھ سے اُن مناظر کو دیکھتے اور دنیا کو بھی دکھاتے ہیں۔ فیشن کی دنیا اور سیاست کے منظر نامے کو دیکھا جائے، تو حسن کی جامع تعریف اور خوبصورتی کی تشریح ’’کارلا برونی‘‘ ہو گی۔

حسن کی جامع تعریف اور خوبصورتی کی تشریح ’’کارلا برونی ‘‘

کارلا برونی نسلاً اطالوی ہے، لیکن فرانس سے بھی اتنا ہی گہراتعلق ہے،جتنا اٹلی سے۔ وہ 23دسمبر 1967 کو اٹلی میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوئی۔ باپ دادا کے زمانے سے کاروبار عروج پر تھا۔ خاندان کی کئی نسلیں اسی کاروبار سے مستفید ہوئیں۔ معاشی آسودگی نے زندگی کو، اس پر جمالیاتی پہلوؤں سے وا کیا۔ حسن اور خوبصورتی نے اس کے جسم سے ہوکر روح میں قیام کیا۔آنکھ سے نظر بن کر حسین مناظر میں اترنے لگی۔ کہیں دل کو موہ لینے والے منظر اس کے دل کو چھو نے لگے، تو کہیں دل کو چھو لینے والے منظر کا مدار یہ خود بننے لگی۔ خاندانی کاروبار یورپ اورایشیا سمیت پوری دنیا میں پھیلاہواتھا، مگر وقتی طورپر اسے زوال کاسامنا بھی کرنا پڑا۔ سیاسی وجوہات کی بنا پراس کے والدین کو اٹلی چھوڑنا پڑا۔یہ بھی اس ہجرت میں اپنے والدین کے ساتھ تھی۔ معاشی طورپر آسودہ ہونا اس کے خاندان کا جرم تھا، مارکسی خیالات کے حامل انقلابی ان کو اغوا کرنا چاہتے تھے۔یہ وہ زمانہ ہے، جب لینن کا پیغام دنیا بھر میں پھیل رہاتھا۔ اٹلی میں بھی اس نظریے کے ماننے والے بہت متحرک تھے، یہ دور معاشی طور پر آسودہ حال لوگوں کے لیے اچھا نہ تھا، لہٰذا 1975 میں کارلابرونی اپنے کنبے سمیت فرانس منتقل ہو گئی۔

کارلا برونی نے باڈی پینٹنگ کی کتاب کے لیے بھی خود کو پیش کیا

کارلا برونی کا بچپن فرانس میں گزرا۔ سات سال کی عمر میں، سوئزرلینڈ کے ایک اسکول میں تعلیم حاصل کی، اعلیٰ تعلیم کے لیے فرانس آناپڑا۔ پیرس کے ایک اسکول میں آرٹ اورآرکیٹیکچر کے شعبہ میں داخلہ لے لیا۔یہی وہ وقت تھا جب اس نے اپنے اندر بھی جھانکا اوراپنی خواہشوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے آرٹ کی تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔آرٹ کو سمجھتے ہوئے انہوں نے اپنے اندر کی آرٹسٹ کو بھی پہچان لیا۔ اس پہچان کو اپنا کر خود کو ایک ماڈل کے طورپر دنیا کے سامنے پیش کردیا۔ دنیا کی خوبصورت اشیا کو دیکھتے ہوئے، خود کو بھی ایک خوبصورت ماڈل کے طورپروقف کردیا۔اب عالم یہ تھا، جو وہ اوڑھ لے، وہ لباس اور رنگ پھر کسی دوسرے پر کم ہی جچتاتھا، دنیائے ماڈلنگ پر اس نے اپنے نام کا سکہ چلایا۔

کارلا نے فیشن کی بلندی کو چھوکر موسیقی کے شعبے کارخ کیا

اس کے خاندانی پس منظر میں روشن خیالی کا عنصر بھی نمایاں تھا۔والدین کی طرف سے یہ روشن خیالی بھی حصے میں آئی۔ مغربی معاشروں میں اخلاقی اورجذباتی رشے جداجدا ہوتے ہیں، لہٰذا اس کی ولدیت میں یہ دونوں رشتے پہناں تھے۔کمسن حسینہ کے جذبات نے عشق ومحبت کے کئی جزیرے بھی دریافت کیے۔اس کی ایک بہن بھی شوبز میں متحرک رہی۔ فلموں میں اداکاری کے ساتھ ہدایت کاری کے شعبے میں اپنے جوہر دکھائے، ایک بھائی بھی تھا، جس کا انتقال کم عمری میں ہوگیا۔ خوشی کے نیلے رنگوں میں کہیں کہیں دکھ کا سیاہ رنگ بھی شامل تھا۔کارلا برونی کے کیرئیر کا ابتدائی عرصہ1987 سے 1996 کا ہے۔ 19سال کی عمر میں اس نے سٹی میلوڈی سے معاہدہ کیا۔ Guess Inc.کے لیے بحیثیت ماڈل کام کیا، پھر دنیا کے بہترین ڈیزائنرز اورفیشن کی دنیا میں، بڑے اداروں کے لیے کام کیا، ان میں Christian Dior،Givenchy،Paco Rabanne،Sonia Rykiel،Christian Lacroi،Karl Lagerfeld،John Galliano،Yves Saint،Shiatzy،ChanelاورVersaceسمیت دنیا بھر کے اداروں کا انتخاب کارلا برونی رہی۔

90 کی دہائی میں کارلا برونی کا شمار دنیا کی اُن 20ماڈلز میں تھا، جن کا معاوضہ ایک خطیر رقم تھی۔ جب دولت ہو تو اس کا نشہ بھی ہوتاہے۔ وہ نشہ سر چڑھ کر بولتا بھی ہے۔یہاں بھی وہ نشہ سرمست ہوا۔2008ء میں اس کے دومعاشقوں نے بھی جنم لیا،لیکن جلد ہی دم توڑ گئے۔ اس کی ایک رومانوی وجہ یہ سمجھ آتی ہے، دل اوردماغ میں کچھ ایسا چل رہاتھا، جس سے کارلا برونی میں بے قراری بڑھتی جارہی تھی، اس کادل چاہ رہاتھا ،کچھ ایساہو جس پر خوبصورتی کی حد، بے حد ہوجائے۔ 1993ء میں اس خواہش نے کارلا برونی کو مفتوح کرلیا۔ اس نے برہنہ فوٹو شوٹ کروایا جس نے فیشن اورماڈلنگ کی دنیا میں تہلکہ مچادیا۔

کارلا برونی نے باڈی پینٹنگ کی کتاب کے لیے بھی خود کو پیش کیا۔اپنی جسمانی خوبصورتی کو دونوں ہاتھوں سے لٹانے والی کارلا برونی نے دنیا کے سامنے خود کو ایک بے باک اور جمالیاتی ذوق کی آرٹسٹ ثابت کیا۔ ایک ایسی فنکارہ جس کا ظاہر وباطن ایک ہے، جس نے نیک نامی کے پردوں کا سہارا نہیں لیا، دل نے جیسا کہا،اس کا کہا مان لیا۔ دل کے سامنے ہار کر دنیا کو جیت لیا۔

1997 سے 2005ء تک کے عرصے میں کارلا برونی نے اپنی ذات کے مزید مخفی گوشے ڈھونڈے۔ فیشن کی بلندی کو چھوکر موسیقی کے شعبے کارخ کیا۔ منجھے ہوئے موسیقاروں سے دھنیں بنوائیں اوران سُریلے گیتوں میں اپنی آواز کو اُنڈیل دیا۔ یہ گیت گونجے تو کارلا برونی کے باطنی حسن کو سماعتوں نے محسوس کیا۔ 2002 میں اس کی پہلی اور2006ء میں دوسری البم ریلیز ہوئی۔اس کے گیت کئی فلموں میں بھی شامل کیے گئے۔ 2003 میں اس نے ایک فلمLe Divorveکا ٹائٹل سونگ بھی گایا۔2006ء کے اولمپکس میں ،اس نے اپنے آبائی وطن، اٹلی کے جھنڈے کو محبت کا سلام پیش کیا۔ مختلف موسیقاروں اور گلوکاروں کے ساتھ بھی کام کیا۔ 2006 میں ریلیز ہونے والی دوسری البم No Promisesمیں معروف انگریز شاعروں کی نظمیں منتخب کرکے گائیں۔

2008ء تیسری البمComme Side Riennietaitریلیز ہوئی۔ اس سے ملنے والے معاوضے سے فلاحی کام کیے۔2009 میں کارلا برونی نے نیلسن منڈیلا کی سالگرہ کے موقع پر 18جولائی کو ریڈیو سٹی میوزک ہال، نیویارک میں گیت گایا۔ ستمبر2009ء میں Harry Connick،JRکی سنگت میں اپنے فرنچ ایڈیشن کے لیے دوگانا گایا۔ یہ البم فرانس میں اکتوبر 2009ء میں ریلیز ہوئی۔ کارلا برونی نے 2011 میں ریلیز ہونے والی ایک فلم’’Midnight in Paris‘‘میں ایک میوزیم کی گائیڈ کا کردار بھی نبھایا۔ کارلا برونی نے جہاں بہت سی محبتیں سمیٹیں اورشہرت کی دیوی ان پر مہربان رہی،وہیں ان کی مخالفت بھی ہوئی۔اٹلی کے ایک موسیقار اورگلوکار نے ان کی شخصیت کو اپنے ایک گیت میں طنزیہ طورپر پیش کیا۔ اس کے عریاں فوٹوشوٹ کو ان کی شادی شدہ زندگی اورسابق فرانسیسی صدر سرکوزی کی مخالفت میں سیاسی ہتھکنڈے کے طورپر استعمال کیاگیا۔

کارلا برونی ایک ماڈل اور گلوکارہ کی حیثیت سے مقبول ہوئی مگر اس کو شاید یہ خبر نہ تھی کہ کبھی ان کے مداحوں میں فرانس کا مردِاوّل بھی شامل ہوجائےگا۔ 2007 میں سرکوزی سے کارلا برونی کی ملاقات ایک ڈنر پارٹی میں ہوئی۔ اس پارٹی میں ہونے والے تعارف نے دونوں کے دل کو تسخیر کرلیا،یوں دونوںشریک حیات ہوگئے۔ سر کوزی کی یہ تیسری اورکارلا برونی کی پہلی شادی تھی۔ دنیائے سیاست کی ایک بے مثال جوڑی بھی ثابت ہوئی، جس نے رومان کے رنگوں سے سیاست کے منظر نامے کو بھی شرابور کردیا۔ کسی کی پرواہ نہیں کی، ان کی بھی نہیں جنہوں نے کارلا برونی کے ماضی کی برہنہ تصویروں کو موضوع بنایا تھا۔ یہ لاپرواہی کے قدموں سے ان کے اعتراض کو کچل کر گزرگئے۔ ایران کے ایک اخبار نے کارلا برونی کے لیے لفظ ’’طوائف‘‘ استعمال کیا، جس پر دونوں ملکوں میں تنازعہ کھڑاہوا، مگر یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ مخلص رہے۔

کارلا برونی اور ان کے شوہر سرکوزی

یہی وہ احساس تھا، جس نے ان کے بندھن کو پختہ کیا۔ فرانسیسی صدر کی اطالوی بیوی نے سرکوزی کے ساتھ سرکاری دورے کیے۔ اپنی مقبولیت کی معراج کوپالیا۔ دونوں میاں بیوی نے سرکاری مصروفیت کے اختتام کے بعد اپنے نام کی ایک فاؤنڈیشن بنائی۔ اس کے پلیٹ فارم سے ایڈز سے تحفظ،جانوروں کے حقوق،بچوں اورمائوں کے تحفظ کے لیے فلاحی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔نیلسن منڈیلا کی فاؤنڈیشن کے لیے کام کیا اورفرانس کی کئی نامور تنظیموں کے ساتھ کام کیا۔قطر کے امیر کی بیوی کے ساتھ تعلیم کے فروغ کے لیے بھی کام کیا۔

خوبصورتی کی سفیر کارلا برونی اٹلی جیسے خوبصورت ملک میں پیدا ہوئی۔ سوئزر لینڈ جیسے حسین ملک میں پلی بڑھی۔ فرانس جیسے حسین ملک میں اپنے آپ کو دریافت کیا۔ برطانیہ جیسے تہذیبی ملک کا سرکاری دورہ کیا۔ اسپین جیسے تاریخی ملک سے سرکاری اعزاز حاصل کیا۔ امریکا جیسے آزاد منش ملک کی سرکاری سیاحت کی۔ دنیا کو گھوم پھر کر اوردل کے نہاں خانوں سے آرزوؤں کے موتی چن کر، زندگی میں پرونے والی اس شہزادی کو فیشن اورسیاست کی دنیا میں ایک طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خرم سہیل سے رابطہ کیجیے:
khurram.sohail99@gmail.com

Categories
تبصرہ

خوبصورتی کی اکائی اور دلکشی کا مجموعہ

‘بدن کی بینائی’ سلسلے کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

کچھ چہرے ایسے ہوتے ہیں،جن کی کشش اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ نگاہیں کہیں اورجانے کاسوچ بھی نہیں سکتیں،ایسے چہروں پرنظریں پڑائو ڈال لیتی ہیں۔حسن کی دنیامیں ایساہی ایک چہرہ’’کویوکی کاتو‘‘کاہے،جس پرنظرپڑنے کے بعد،ہمیں اس کے حسن کاقائل ہوناپڑتاہے۔وہ حسین ہی نہیں دلکش بھی ہے،جس کی تفصیل میں جائیں تواس کے عشق میں گرفتارہوناکچھ مشکل نہیں ہوگا۔

“کویوکی کاتو”کی بولتی ہوئی آنکھوں کے وسط میں،الف ناک دیکھ کر،اس کے شاہانہ مزاج ہونے کاشائبہ ہوتاہے۔صراحی دارگردن ،نشیلے ہونٹ اوربیضوی چہرہ،مخروطی انگلیاں،سیاہ گھنیرے بال،جیسے شب ٹھہری ہوئی ہو،چاندنی کی دمک لیے روشن چہرہ،جس جس کاجتنا بھی تذکرہ کرلیاجائے،بیان ادھوراہی رہے گا۔یہ جب مسکراتی ہے،توایسے لگتاہے،موسم بہارکی آمدہے،خوشبو کاجھونکااپنی آمد کااحساس دینے لگتاہے۔یہ کیفیت کی شہزادی ہے،اپنے حسن سے بے خبر،یہ نہیں جانتی،اس کے چاہنے والوں پر کیاقیامت گزرسکتی ہے۔یہ خوبصورتی کی ایسی اکائی ہے،اس پرکوئی بھی لباس،رنگ اترتاہے تویہ حسن کے مجموعے میں ڈھل جاتی ہے۔

“کویوکی کاتو”جاپان کی معروف اداکارہ اورماڈل ہے۔ جاپان کے صوبے کاناگاواکے ایک شہر”زاما”میں 1976کوپیداہوئی۔اس کی پیدائش کامہینہ دسمبرہے،مگرجاپانی فیشن اورفلم کی دنیا میں یہ موسم بہاربن کراتری ہے۔یہی وجہ ہے،اس نے کم عمری میں بہت شہرت حاصل کی۔19برس کی عمر میں ماڈل کی حیثیت سے ابتداکرنے والی ،اس خوبرو لڑکی ، 26سال کی عمر تک پہنچتے ہوئے، جاپان میں فیشن حلقوں کی کمزوری بن چکی تھی۔شاید ہی کوئی بڑامیگزین ہوگا،جس کے سرورق پر،اس کاچہرہ زینت نہ بناہو،جبکہ 21برس کی عمر میں اپنی زندگی کے پہلے ٹیلی وژن ڈرامے میں کام کرچکی تھی۔

گریجویشن کرنے کے فوراً بعد،اس نے ماڈل کی حیثیت سے کام کرنا شروع کردیاتھا،پھر نرسنگ کے شعبے میں جانے کی خواہش لیے،اس نے پیشہ ورانہ تربیت حاصل کرنا شروع کی،مگر یہ سلسلہ ٹوٹ گیا،اس نے اپنی پوری توجہ فیشن اوراداکاری کی طرف مبذول کی۔اس نے عمرکی تیسری دہائی میں ،اداکاری کے کیرئیر کی ابتدا،جاپانی فلم سازکی ہاررفلم”پلس”سے کی۔اس فلم کے ذریعے جاپان میں اس نے فلم بینوں اورشائقین کواپنی طرف متوجہ کرلیا،یوں اس پر کامیابی کے دروازے کھلنے لگے۔گھوڑوں کودوڑانے کی شوقین،موسیقی کے سازبجانے میں بھی دلچسپی رکھتی ہے۔رقص کی تعلیم بھی حاصل کی،تاکہ اس کی خوبصورتی دوآتشہ ہوسکے۔
زمانہ طالب علمی سے شروع ہونے والے سفر میں تیزی تب آئی،جب اس کوفیشن اورشوبز کے حلقوں میں پہچاناجانے لگا۔2000تک یہ اپنی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ کئی اخبارات اوررسائل وجرائد کے سرورق کی زینت بن چکی تھی،کئی کمرشلز اورٹیلی وژن ڈرامے بھی اس کے کریڈٹ پر تھے،مگراس کو ابتدائی شہرت 2001میں ،جاپانی ہاررفلم”پلس”سے ملی۔

نئی صدی کے سارے سہانے موسم اس کے لیے بانہیں کھولے کھڑے تھے۔کامیابی اس کے قدم چومنے کے لیے تیارتھی۔ٹھیک دوبرس بعد2003میں اس کی بین الاقوامی فلم”دی لاسٹ سمورائی”ریلیزہوئی،جس میں اس نے ہالی ووڈ کے نامور ستارے ٹام کروز اورجاپان کے معروف اداکاروں کے ساتھ کام کیاتھا،جن میں جاپانی اداکار”کین وتنابے”سرفہرست تھے۔

اس فلم کی کامیابی نے اسے شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا۔دنیابھرمیں اس کے حسن اور صلاحیت کاتعارف ہوگیا۔اس نے بھی فلم کے کردار میں جان ڈالنے کے لیے ہرممکن کوشش کی،کیونکہ اس کے خیال میں یہ ایک انتہائی ذمے دارانہ کردارتھا،جس میں جاپان کی عظیم روایات کاعکس تھا،اس لیے انہیں ہرممکن بہترین طورسے پیش کرنے کی سعی کی۔ٹام کروز جیسے منجھے ہوئے اداکار کے سامنے ،اس نے جم کر اداکاری کی،جس پر حقیقت کاگمان گزرا۔یہی وجہ تھی کہ فلم کی کامیابی نے اس کے خلوص،محنت کوثمرعطاکیا۔آج دنیااس کے نام اورکام سے واقف ہے۔

2011میں اس نے اپنے ساتھی اداکار”کینچی متسویاما”سے زندگی کانیاسفرشروع کیا۔ان دونوں کی قربت ایک جاپانی فلم”کاموئی گائیدین”میں ایک ساتھ کام کرتے ہوئے بڑھی،جس کااختتام شادی کے بندھن پر ہی ہوا۔یہ اپنے ہم سفر کے ساتھ پوری دنیا گھومتی ہے،جاپان میں فلم اورڈرامے کی صنعت کاایک اہم نام سمجھی جاتی ہے۔اب تک اس نے درجن بھر سے زیادہ جاپانی فلموں میں کام کیاہے،جبکہ دودرجن ڈراموں میں اپنے فن کے جوہر دکھاچکی ہے،فیشن کی دنیا میں ہونے والی سرگرمیاں اس کے علاوہ ہیں۔
ساری دنیا میں اس کے مداح موجود ہیں،یہ خود ہالی ووڈ کے علاوہ بالی ووڈ کے خان ہیروز کو پسند کرتی ہے۔گزرتے وقت کے ساتھ اس کی شخصیت فربہ مائل ہوئی ہے،مگراس کے باوجود چہرے کی کشش اورمعصومیت کے سارے رنگ اس کے چہرے پر موجود ہیں۔جاپان کے فیشن اورشوبز کے حلقوں میں اس کی شخصیت کے اثرات اب بھی قائم ہیں۔ دنیابھرمیں اس کے چاہنے والوںکے دل ،اس کی خوبصورتی کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔حسن کا یہ سادہ سبق ،خوبصورتی کوپسند کرنے والے ہرطالب علم کو ازبرہے،یہی اس کے حسن کی سچی گواہی ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خرم سہیل سے رابطہ کیجیے:
khurram.sohail99@gmail.com

Categories
فکشن

حکمرانوں کاحسین انتخاب: للی لینگٹری

‘بدن کی بینائی’ سلسلے کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

صورت میں خوب کا اضافہ ہوجائے ،تو خوبصورتی جنم لیتی ہے، اس میں قسمت اورمحنت دونوں کاحصہ ہوتا ہے، بہت کم ایسے لوگ دنیا میں گزرے ہیں، جن کو یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ ملی ہوں۔ للی ایسی ہی خوبصورت عورت تھی،جس کی قسمت میں حُسن تھااورمزاج میں محنت کاجذبہ بھی۔ شہرت کی دیوی اس پر مہربان رہی اوراس نے اپنے خوابوں کے تعاقب میں کئی دنیائوں کاسفر کیے۔ برطانیہ کی شاہی زندگی پر بھی اس کے حسن کا جادو سرچڑھ کر بولتا رہا۔

 

للی 1853کو’’جرسی‘‘نامی جزیرے کے ایک نمایاں گھرانے میں پیدا ہوئی۔ اس کے والد اپنے علاقے کے ناظم تھے۔ اس کی شادی آئرش زمیندارسے ہوئی، جس کانام”ایڈورڈ لینگٹری۔ ۔للی نے اپنی ذاتی اورپیشہ ورانہ زندگی میں کئی معاشقے کیے،جس میں سرفہرست معاشقہ جس سے چلا،اس عاشق کانام پرنس لوئس آف بیٹنبرگ۔Prince Louis of Battenberg”تھا۔ دونوں نے شادی تو نہ کی، مگر ان میں محبت کی گواہی کے طورپر ایک بیٹی کی پیدائش ہوئی اوربرطانیہ میں یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی۔

 

للی لینگٹری ایک کافی کمرشل میں

 

پرنس لوئس کی شادی برطانیہ کی ملکہ وکٹوریہ کی پوتی سے ہوئی،جس سے پیدا ہونے والی اولاد میں سے ایک بچہ آگے چل کر برصغیر کی سیاست پر بھی اثر انداز ہوا،اس کانام “لارڈ مائونٹ بیٹن۔Lord Mountbatten‘‘تھا،جوبرصغیر کا پہلا وائسرراے اور انڈیا کا پہلا گورنرجنرل بنا۔ جواہر لال نہرو نے اس کی بیوی سے معاشقہ بھی چلایا تھا، جس کی تفصیلات مورخین نے بیان کیں۔ایک طرح سے للی کو مائونٹ بیٹن کی سوتیلی ماں بھی کہا جا سکتا ہے، جبکہ للی کی حقیقی بیٹی”جینی مائر۔Jaenne Marie” بھی لارڈ مائونٹ بیٹن کی سوتیلی بہن ہوئی۔

للی کے دیگر معاشقوں میں ایک اور معروف معاشقہ ملکہ وکٹوریہ اول کے بیٹے،پرنس آف ویلز”البرٹ ایڈورڈ۔Alber Edward”سے ہوا، جو آگے چل کر برطانیہ کا بادشاہ”ایڈورڈ ہفتم۔Edward VII”بنا۔اس کاایک اورعاشق”رابرٹ پیل۔Robert Peel”تھا،جو برطانوی وزیراعظم بھی رہا۔ان کے علاوہ معروف آئرش ادیب “آسکر والڈ۔Oscar Wilde”اورامریکی آرٹسٹ “جیمزمیکنلی ویسلر۔James McNeill Whistler”بھی بہت قریبی دوستوں میں شامل رہے۔ان کے علاوہ کئی معروف شخصیات اس سے متاثر رہیں،جن میں سے بہت سارے طبقہ اشرافیہ سے تعلق تھے۔ پرنس لوئس اورایڈورڈ ہفتم سے معاشقوں میں للی نے جیسی شاہانہ زندگی گزاری،ا س طرح سے دیکھا جائے تو یہ شاہی خاندان کا حصہ ہوتے ہوئے بھی نہیں تھی۔ اس حسین خاتون کی زندگی کا یہ بیک وقت روشن اور تاریک پہلو تھا۔

ایک زمیندار کی بیوی تھی، زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کو اس سے اچھی ابتدا اور بھلا کیا ہو گی۔ اس میں بھرپور اداکارانہ صلاحیتیں تھیں، جن کا استعمال اس نے پیشہ ورانہ اورذاتی زندگی میں بھرپورطریقے سے کیا۔ تھیٹر کے شعبے سے وابستہ رہی اوراسٹیج پر حکمرانی کی۔شاعری کے ذریعے دلوں کوبھی فتح کیا۔اس وقت کے سماج میں اعلیٰ رتبے پر فائز رہی ،ہرتقریب کی رونق اورشمع محفل بنی۔

 

للی نے پیشہ ورانہ زندگی میں بڑے کامیاب فیصلے کیے،اس نے تھیٹر کمپنی بنائی،جس کی تشہیر اورکام کے لیے وہ امریکا تک جاپہنچی،اس نے ہر وہ طریقہ اختیارکیا،جس سے اس کی شہرت اورطلب میں اضافہ ہوسکتاتھا۔اس کی شخصیت میں ذہانت اور مزاج میں شگفتگی نے اس کے حسن کو دوآتشہ کردیا۔وکٹوریہ سماج میں اپنے خوابوں کو پانے کے لیے للی نے اپنی شخصیت کو کئی تنازعات میں الجھا دیا، مگر اپنے اہداف نہ بھولی۔محفلوں کی جان بننے والی اکثر اپنے گھر کے باغیچے میں تنہا اپنی زندگی کے نشیب وفرازکے بارے میں سوچتی تھی۔

 

آدھی صدی تک دلوں پر راج کرنے والی اس حسین خاتون نے کبھی ہمت نہ ہاری۔ ایک مرتبہ بیماری نے اس طرح آن گھیرا کہ بڑی مشکل سے یہ موت کے منہ سے واپس آئی۔ بنفشی آنکھوں والی اس حسینہ نے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کربات کی۔ فیشن کی دنیا میں بھی اپناحسن ثابت کیا،ایک وقت ایسا آیا،جب اس کے انداز اورادائیں ہی فیشن کے طورپر قبول کی جانے لگیں۔معاشرے میں بسنے والے ہرطبقہ اس کے جمال کی تپش محسوس کرتااورمنتظر رہتا،اب یہ اپنا جلوہ کس پر گرائے گی اوروہ خوش قسمت کون ہوگا،جس کویہ نگاہ بھر کے دیکھے گی۔1887میں للی نے امریکا کی شہریت حاصل کرکے کیلیفورنیامیں سکونت اختیار کرلی۔آئرش شوہر سے طلاق کے بعد اس نے اپنے سے کم عمر اورامیر ترین شخص “ہوگوگیرلڈ ڈی بیٹھ۔Hugo Gerald De Bathe”سے کی،جس کی شہرت گھوڑوں کے ریس سے وابستہ ممتاز کاروباری شخصیت کی تھی۔

 

للی کی زندگی پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالی جائے،تو دکھائی دیتاہے،1867میں جب یہ صرف ابھی 14برس کی تھی،اس کو شادی کا پہلا پیغام ملا۔اس کے حسن کا چرچا کم عمری میں ہونے لگاتھا۔1876میں شادی کی اوراگلے برس ہی پرنس لوئس کے ساتھ معاشقہ چلالیا۔1878میں ملکہ وکٹوریہ کے دربارتک رسائی بھی حاصل کرلی۔1881میں ،جب یہ ابھی صرف 27برس کی تھی،اس کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی،اس کی پیدائش کو خفیہ رکھاگیا،یہ اس عرصے میں فرانس کے شہر پیرس میں مقیم تھی۔اسی برس میں تھیٹر سے اس کی باقاعدی وابستگی ہوئی۔1882میں یہ اپنی زندگی کے پہلے اشتہار میں بطورماڈل زینت بنی۔1885میں اپنی تھیٹر کمپنی کے سلسلے میں امریکا کادورہ کیا اوراگلے 2سال میں یہ وہاں کی شہریت بھی حاصل کرلی، جبکہ ابھی تک اس کی عمر صرف 33برس تھی۔1901میں یہ تھیٹرریٹائرڈمنٹ لے لی۔ 1905میں 51برس کی ہوچکی تھی،جب اپنے محبوب برطانوی شہزادے کی بادشاہ بننے کی تاج پوشی کی رسم میں شریک ہوئی۔1925میں پہلی جنگ عظیم کے سلسلے میں امدادی رقم جمع کرنے کی خاطر اپنے تھیٹر کے میڈیم کا استعمال بھی کیا۔

 

للی لینگٹری کی زندگی پر بننے والا برطانوی ڈرامہ

 

زندگی بھرللی نے شاعری کی، تھیٹر کے اسٹیج پر خود کو اداکاری سے جوڑے رکھا، ادکاری کے علاوہ پروڈکشن میں بھی اپنی صلاحتیں آزمائیں۔ ماڈل کی حیثیت میں فیشن کے منظر نامے پر رہی۔کئی حکمرانوں کے تنہائی کی رازداں بنی۔ ایک فلم میں بھی کام کیا۔ ایک ناول بھی لکھا، اپنی خودنوشت بھی قلم بند کی۔ غرض کہ صرف اپنے حسن پر تکیہ نہیں کیا، بلکہ خوشبو کی طرح ایک سے دوسری جگہ اپنی مہک سے آگے بڑھتی چلی گئی۔ اس پر کئی کتابیں لکھی گئیں۔مصوروں نے اس کو پینٹ کیا، فلمیں اور ڈرامے بنے۔ غرض کہ ہر طرح سے للی کی شخصیت کو دریافت کیاگیا۔

 

1929کو امریکا میں ہی اس کاانتقال ہوا،اس کی میت برطانیہ لائی گئی،جہاں اس کوآبائی قبرستان میں دفن کیاگیا۔اس کی رحلت سے برطانوی تاریخ کا ایک اہم باب ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا۔ جس میں شاہی کرداروں کے تذکرے تھے اور زمانے کی غلام گردشوں کے قصے بھی، جس کو للی نے بے حد دلیری، بے باکی اورہمت سے جھیلا۔ حسین لوگ نازک ہوتے ہیں،مگر اس نے جس طرح وکٹوریہ سماج کی سختی میں اپنی نزاکت کو بے باکی کے لبادے میں چھپائے رکھا،وہ قابل تحسین ہے۔یہی وجہ ہے،برطانیہ کی شاہی تاریخ ہو یافنی تذکرے اورحسن کابیان،اس کے ذکر کے بغیر سب کچھ ادھوراہے۔