Categories
نان فکشن

ذہین شخصیت، حسین گلوکارہ : ٹیلر سوئفٹ

‘بدن کی بینائی’ سلسلے کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

زندگی میں کبھی کبھار کشمکش اور تڑپ کام آجاتی ہے، اس حالت میں ، ابہام محبوب اور وعدے بے وفا ہوتے ہیں۔ وعدے شخصیت میں سکون اور ٹھہرائو پیدا کرتے ہیں، جس کی وجہ سے جوش بھی سرد پڑتا ہے، جبکہ اضطراب سے توانائی فراہم ہوتی ہے اور نہ ہونے والے کام بھی ہونے لگتے ہیں۔ امریکی موسیقی کے منظر نامے پر’’ٹیلر ایلسن سوئفٹ‘‘ ایک ایسی ہی گلوکارہ اور گیت نگار ہے، جس نے کم عمری میں ہی اپنے فیصلے کیے، کمال یہ ہوا، وہ فیصلے کامیاب بھی ثابت ہوئے۔یہ عہد حاضر میں دنیا کی مقبول ترین گلوکارہ بن چکی ہے، جس نے میڈونا جیسی گلوکارہ کو بھی مقبولیت میں پیچھے دھکیل دیا، اس کے میوزک ویڈیوز دیکھ کر مائیکل جیکسن کی یاد تازہ ہوتی ہے۔ سب سے بڑھ کر اہم بات، وہ صرف ذہانت تک محدود نہیں، بلکہ اپنے حسن سے بھی بخوبی کام بھی لے رہی ہے۔ حسن ہے مگر دوآتشہ ہے۔

اس کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا، 27 برس بعدیہ دنیاکی نمبرون گلوکارہ ہوگی، اس کے فروخت ہونے والے البم کی تعداد کروڑوں میں ہوگی، اس کے کانسرٹس ایک ایک سال پہلے ایڈوانس بک ہو جایا کریں گے۔ اس کی شخصی ذہانت اور روحانی حرارت نے اس کو وقت سے پہلے باشعور کر دیا۔ اس نے زندگی کی ابتدا ہی عملی طورسے کی۔ صرف 14 برس کی عمر سے اپنے کیرئیر کی ابتدا’’کنٹری میوزک‘‘ سے کی، اس میوزک کی جڑیں امریکی افریقی لوک موسیقی میں پیوست ہیں، اس کو نئے انداز میں اپنایا اور پیش کیا۔

ٹیلر سوئفٹ امریکی ریاست’’پینسلوینیا‘‘ کے شہر’’ریڈینگ‘‘ میں دسمبر، 1989 میں پیدا ہوئی۔ اس کے والدین بھی اپنے اپنے شعبوں میں مہارت رکھتے تھے، انہوں نے اپنے بچوں کو اچھی تربیت دی اور ان کی مضبوط شخصی بنیاد رکھی۔ اس نے اپنی زندگی کا کچھ وقت دیہی پس منظر میں ایک زرعی خطے پر بھی گزرا، جہاں کرسمس کے درختوں کی کاشت ہوتی تھی۔ یہاں گزارے ہوئے وقت سے، اس کی شخصیت میں فطرت سے لگائو کا حسن پیدا ہوا۔ اس نے مختلف اسکولوں اور کالج سے اپنے تعلیمی مدارج طے کیے، ان میں راہبائوں کے ماتحت چلنے والا اسکول بھی شامل تھا، مگراس کے اندر موسیقی سے فطری رجحان موجود تھا، جس نے اس کو اپنا بنا کر چھوڑا۔

ٹیلر کے گیتوں میں ذات کے خدوخال، نا آسودہ خواہشیں، ادھورے وعدے، سسکیاں اور تمنائیں غالب محسوس ہوتی ہیں

اس نے 9برس کی عمر میں میوزیکل تھیٹر میں حصہ لیا۔ اپنے چھوٹے سے شہر سے باقاعدگی سے نیویارک سفر کیا، جس کا مقصد گلوکاری اور اداکاری کی تعلیم حاصل کرنا ہوتا تھا۔ یہی شوق اس کو میلوں ٹھیلوں کی طرف بھی لے آیا، جس کے ذریعے اس کاتعارف موسیقی کے عملی میدان سے ہوا۔ اسے یہ اندازہ ہوا، صرف گلوکاری کرنا ہی کافی نہیں ہوتا، بلکہ مارکیٹنگ کی کڑاہی میں بہت سارے فنی پاپڑ بیلنا پڑتے ہیں۔ عوامی اجتماعات، کانسرٹس اور میلوں ٹھیلوں سے خود کو جوڑ کر رکھنا ہوتا ہے، ٹیلی وژن اور ویڈیوز کی صورت میں سامعین اور مداحوں کے حواس پر طاری رہنا پڑتا ہے۔ اس عملی فن کی باریکیاں سمجھنے کے بعد، اس نے اس فنی کاریگری کا خوب استعمال کیا، یہی وجہ ہے، آج یہ پوری دنیا میں سب سے مصروف ترین گلوکارہ ہے، جس کے کریڈٹ پر دنیائے موسیقی کے سارے بڑے ایوارڈز بھی شامل ہیں۔ یہ کسی ایک دو شہروں یا ملکوں کا دورہ نہیں کرتی، ہر نئی البم پر پوری دنیا کا دورہ اس کے عام معموملات کا حصہ ہوتا ہے، اس مصروف تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے، اس کی ایک بہت بڑی ٹیم ہے، جس میں درجنوں کارکنان اس کے معاملات دیکھتے ہیں۔

ٹیلر سوئفٹ، خوش آواز بھی ہے اور خوبرو بھی

صرف 11برس کی عمر میں اس نے ایک دستاویزی فلم’’فیتھ ہل‘‘ دیکھنے کے بعد اپنی والدہ کے ہمراہ اس کو ریلیز کرنے والی کمپنی کے دفتر پہنچی اور اپنی آواز میں ریکارڈ کی ہوئی ایک ٹیپ جمع کروائی، جس کو مسترد کر دیا گیا، لیکن اس کم سن بچی نے ہمت نہ ہاری، اس کی آنکھوں سے خوابوں کی تتلیاں پرواز کرتی رہیں۔ ایک مقامی موسیقار کی مدد سے اس نے گٹار بجانا سیکھنا اور گیت نگاری کی ابتدا بھی کی۔ والدین کی مدد سے ایک امریکی ریکارڈ لیبل کمپنی کی تشہیری مہم کا حصہ بننے کے بعداس کے لیے بڑی امریکی ریکارڈلیبل کمپنیوں تک جانے کے راستے دریافت ہوئے۔ اس جدوجہد میں بھی یہ کم عمری لڑکی، اپنی والدہ کا ہاتھ تھامے سفر کرتی رہی، اپنی منزل کے نشان ڈھونڈتی رہی۔ 14 برس کی عمر میںاس کے پیشہ ورانہ رابطے بڑی کمپنیوں کے ساتھ استوار ہونے شروع ہوئے، ایکدم اس کی مقبولیت بڑھنے لگی، اس میں تعلیمی سفر بھی ادھورا رہ گیا، جو بعد میں گریجویشن کی شکل میں مکمل ہوا۔ اس کے گیتوں میں ذاتی زندگی کی جھلک بہت نمایاں ہے۔ چاہے وہ جدوجہد کے دنوں کی یاد ہو یا پھر محبت کے راستوں پر ٹوٹنے والے خوابوں کی کہانی ہو، اس نے گیتوں کی زبان میں اپنی ساری زندگی کو بیان کر دیا۔

ٹیلر سوئفٹ کی اب تک 6البم ریلیز ہوچکی ہیں، جن میں پہلی البم کا نام’’Taylor Swift‘‘ ہی ہے، جو 2006 میں ریلیز ہوئی اور بل بورڈ میوزک چارٹ کے دو سو بہترین البم میں پانچویں نمبر پر رہی۔ اس البم کے ایک گیت’’Our Song‘‘نے بہت دھوم مچائی۔ 2008 میں اس کی دوسری البم’’Fearless‘‘ ہے، جس میں اس کی صلاحیتیں مزید نکھر کر سامنے آئیں۔ ریلیز ہونے کے اگلے برس، اس البم کو امریکا میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی البم کا اعزاز بھی حاصل ہوا، جبکہ اس نے مغربی موسیقی کے سب سے بڑے ایوارڈ’’گریمی‘‘ کو چارمختلف شعبوں میں اپنے نام کیا، اس کے دو گیت’’لو اسٹوری‘‘ اور یو بلونگ وِد می‘‘ کو بہت پسند کیا گیا۔ اس کے بعد ریلیز ہونے والی اس کی دیگر البم’’Speak Now‘‘ اور’’Red‘‘ سمیت’’1989‘‘کے علاوہ، رواں برس ریلیز ہونے والا البم’’Reputation‘‘ شامل ہے، جس کی اب تک دو ملین کی فروخت کا ریکارڈ بن چکا ہے۔ اس کے علاوہ دنیا بھر کے کانسرٹس، میوزک ایوارڈز، شہرت اور دولت اس کا مقدر بن چکی ہے، یہی وجہ ہے’’ٹائم میگزین‘‘ نے اس کو دنیاکی 100بااثر شخصیات میں بھی شامل کیا۔ دیگررسائل و جرائد میں کسی نے اس کو طاقت ور عورت، تو کسی نے اس کو حسین دلربا سے تشبیہہ دی، مگر یہ ابھی تک ایک شہزادی کے روپ میں منتظرِمحبوب ہے۔

دنیا کے ہر ملک میں اس کی آمد کا انتظار ہوتا ہے، یہ اپنی مدھر آواز اور دلکش شخصیت سے مداحوں کا چین لوٹ لیتی ہے۔ اس کی شاعری میں ذات کے خدوخال، نا آسودہ خواہشیں، ادھورے وعدے، سسکیاں اور تمنائیں غالب محسوس ہوتی ہیں، یہ ویڈیوزبنانے میں بھی جدید ٹیکنالوجی کا بھرپور سہارا لیتی ہے، اس کے میوزک کی سب سے خاص بات ہے کہ یہ نوجوان نسل کے دلوں کی آواز ہے، پھر اس پر ٹیکنالوجی کا استعمال اس کو اور خاص بنا دیتا ہے، اس کو یہ بھی پتہ ہے، اپنے ہنر کی تشہیر کیسے کرنی ہے، اسی لیے اس کا ہر گانااور البم شائقین موسیقی کو اپنی طرف متوجہ کر لیتی ہے۔ ٹیلر سوئفٹ فکری لحاظ سے’’عورتوں کے حقوق‘‘کی بہت بڑی حامی ہے۔ فلاحی کاموں میں پیش پیش رہتی ہے،خطیر رقوم بطور عطیات دیتی ہے، سیاسی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتی ہے، سابق امریکی صدر اوبامہ کی انتخابی مہم میں بھی شریک رہی تھی۔ یہ تشہیری اداروں کا ایک ایسا چہرہ ہے، جو حسین تو ہے مگر دردمند دل لیے ہوئے۔

ٹیلر سوئفٹ کم عمری میں ہی کامیابی کی بلندیوں تک جا پہنچی ہے

ٹیلر سوئفٹ ایک ایسی خوش قسمت خاتون ہے، جس نے بہت کچھ قت سے پہلے حاصل کر لیا، مستقبل میں بھی اس کا شمار ایسے ہنر مندوں میں کیا جائے گا، جنہوں نے دل اور دماغ قابو میں رکھا، کامیابیوں کے تسلسل سے ان کے قدم نہ لڑکھڑائے۔ یہ کامیابیوں کو سنبھالنے کا فن جانتی ہے۔ ممکنہ حد تک خود کو تنازعات سے بچا کر رکھتی ہے اور اس کی پوری توجہ کیرئیر پر ہے، اس قدرکامیاب گلوکارہ کے دل کا خانہ ابھی تک خالی ہے، اس کے گیتوں میں بھی اداسی موجود ہے، اس کے سپنوں کا راج کمارابھی تک آیا نہیں، اس کے حسن کے دیپ پوری طرح روشن ہیں، مقدر کے ستارے کی طرح، مستقبل میں اس کے لیے ابھی بہت کچھ فتح کرنے کو باقی ہے۔۔۔

خرم سہیل سے رابطہ کیجیے:
khurram.sohail99@gmail.com

Categories
نان فکشن

خوبصورتی کی سفیر۔۔۔ کارلا برونی

‘بدن کی بینائی’ سلسلے کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

انسان کو اپنا آپ ڈھونڈنے میں کبھی بہت وقت درکار ہوتا ہے اور کبھی اُسے ہوش سنبھالتے ہی اپنی پہچان ہوجاتی ہے۔ دنیا میں ایسے لوگ بہت کامیاب ہوتے ہیں، خود کو جو بہت جلدی دریافت کرلیتے ہیں۔ یہ خودی دریافت کرنے والوں پر تخلیق کے دروازے کھولتی ہے ، پھر وہ اپنے تصور کی آنکھ سے اُن مناظر کو دیکھتے اور دنیا کو بھی دکھاتے ہیں۔ فیشن کی دنیا اور سیاست کے منظر نامے کو دیکھا جائے، تو حسن کی جامع تعریف اور خوبصورتی کی تشریح ’’کارلا برونی‘‘ ہو گی۔

حسن کی جامع تعریف اور خوبصورتی کی تشریح ’’کارلا برونی ‘‘

کارلا برونی نسلاً اطالوی ہے، لیکن فرانس سے بھی اتنا ہی گہراتعلق ہے،جتنا اٹلی سے۔ وہ 23دسمبر 1967 کو اٹلی میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوئی۔ باپ دادا کے زمانے سے کاروبار عروج پر تھا۔ خاندان کی کئی نسلیں اسی کاروبار سے مستفید ہوئیں۔ معاشی آسودگی نے زندگی کو، اس پر جمالیاتی پہلوؤں سے وا کیا۔ حسن اور خوبصورتی نے اس کے جسم سے ہوکر روح میں قیام کیا۔آنکھ سے نظر بن کر حسین مناظر میں اترنے لگی۔ کہیں دل کو موہ لینے والے منظر اس کے دل کو چھو نے لگے، تو کہیں دل کو چھو لینے والے منظر کا مدار یہ خود بننے لگی۔ خاندانی کاروبار یورپ اورایشیا سمیت پوری دنیا میں پھیلاہواتھا، مگر وقتی طورپر اسے زوال کاسامنا بھی کرنا پڑا۔ سیاسی وجوہات کی بنا پراس کے والدین کو اٹلی چھوڑنا پڑا۔یہ بھی اس ہجرت میں اپنے والدین کے ساتھ تھی۔ معاشی طورپر آسودہ ہونا اس کے خاندان کا جرم تھا، مارکسی خیالات کے حامل انقلابی ان کو اغوا کرنا چاہتے تھے۔یہ وہ زمانہ ہے، جب لینن کا پیغام دنیا بھر میں پھیل رہاتھا۔ اٹلی میں بھی اس نظریے کے ماننے والے بہت متحرک تھے، یہ دور معاشی طور پر آسودہ حال لوگوں کے لیے اچھا نہ تھا، لہٰذا 1975 میں کارلابرونی اپنے کنبے سمیت فرانس منتقل ہو گئی۔

کارلا برونی نے باڈی پینٹنگ کی کتاب کے لیے بھی خود کو پیش کیا

کارلا برونی کا بچپن فرانس میں گزرا۔ سات سال کی عمر میں، سوئزرلینڈ کے ایک اسکول میں تعلیم حاصل کی، اعلیٰ تعلیم کے لیے فرانس آناپڑا۔ پیرس کے ایک اسکول میں آرٹ اورآرکیٹیکچر کے شعبہ میں داخلہ لے لیا۔یہی وہ وقت تھا جب اس نے اپنے اندر بھی جھانکا اوراپنی خواہشوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے آرٹ کی تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔آرٹ کو سمجھتے ہوئے انہوں نے اپنے اندر کی آرٹسٹ کو بھی پہچان لیا۔ اس پہچان کو اپنا کر خود کو ایک ماڈل کے طورپر دنیا کے سامنے پیش کردیا۔ دنیا کی خوبصورت اشیا کو دیکھتے ہوئے، خود کو بھی ایک خوبصورت ماڈل کے طورپروقف کردیا۔اب عالم یہ تھا، جو وہ اوڑھ لے، وہ لباس اور رنگ پھر کسی دوسرے پر کم ہی جچتاتھا، دنیائے ماڈلنگ پر اس نے اپنے نام کا سکہ چلایا۔

کارلا نے فیشن کی بلندی کو چھوکر موسیقی کے شعبے کارخ کیا

اس کے خاندانی پس منظر میں روشن خیالی کا عنصر بھی نمایاں تھا۔والدین کی طرف سے یہ روشن خیالی بھی حصے میں آئی۔ مغربی معاشروں میں اخلاقی اورجذباتی رشے جداجدا ہوتے ہیں، لہٰذا اس کی ولدیت میں یہ دونوں رشتے پہناں تھے۔کمسن حسینہ کے جذبات نے عشق ومحبت کے کئی جزیرے بھی دریافت کیے۔اس کی ایک بہن بھی شوبز میں متحرک رہی۔ فلموں میں اداکاری کے ساتھ ہدایت کاری کے شعبے میں اپنے جوہر دکھائے، ایک بھائی بھی تھا، جس کا انتقال کم عمری میں ہوگیا۔ خوشی کے نیلے رنگوں میں کہیں کہیں دکھ کا سیاہ رنگ بھی شامل تھا۔کارلا برونی کے کیرئیر کا ابتدائی عرصہ1987 سے 1996 کا ہے۔ 19سال کی عمر میں اس نے سٹی میلوڈی سے معاہدہ کیا۔ Guess Inc.کے لیے بحیثیت ماڈل کام کیا، پھر دنیا کے بہترین ڈیزائنرز اورفیشن کی دنیا میں، بڑے اداروں کے لیے کام کیا، ان میں Christian Dior،Givenchy،Paco Rabanne،Sonia Rykiel،Christian Lacroi،Karl Lagerfeld،John Galliano،Yves Saint،Shiatzy،ChanelاورVersaceسمیت دنیا بھر کے اداروں کا انتخاب کارلا برونی رہی۔

90 کی دہائی میں کارلا برونی کا شمار دنیا کی اُن 20ماڈلز میں تھا، جن کا معاوضہ ایک خطیر رقم تھی۔ جب دولت ہو تو اس کا نشہ بھی ہوتاہے۔ وہ نشہ سر چڑھ کر بولتا بھی ہے۔یہاں بھی وہ نشہ سرمست ہوا۔2008ء میں اس کے دومعاشقوں نے بھی جنم لیا،لیکن جلد ہی دم توڑ گئے۔ اس کی ایک رومانوی وجہ یہ سمجھ آتی ہے، دل اوردماغ میں کچھ ایسا چل رہاتھا، جس سے کارلا برونی میں بے قراری بڑھتی جارہی تھی، اس کادل چاہ رہاتھا ،کچھ ایساہو جس پر خوبصورتی کی حد، بے حد ہوجائے۔ 1993ء میں اس خواہش نے کارلا برونی کو مفتوح کرلیا۔ اس نے برہنہ فوٹو شوٹ کروایا جس نے فیشن اورماڈلنگ کی دنیا میں تہلکہ مچادیا۔

کارلا برونی نے باڈی پینٹنگ کی کتاب کے لیے بھی خود کو پیش کیا۔اپنی جسمانی خوبصورتی کو دونوں ہاتھوں سے لٹانے والی کارلا برونی نے دنیا کے سامنے خود کو ایک بے باک اور جمالیاتی ذوق کی آرٹسٹ ثابت کیا۔ ایک ایسی فنکارہ جس کا ظاہر وباطن ایک ہے، جس نے نیک نامی کے پردوں کا سہارا نہیں لیا، دل نے جیسا کہا،اس کا کہا مان لیا۔ دل کے سامنے ہار کر دنیا کو جیت لیا۔

1997 سے 2005ء تک کے عرصے میں کارلا برونی نے اپنی ذات کے مزید مخفی گوشے ڈھونڈے۔ فیشن کی بلندی کو چھوکر موسیقی کے شعبے کارخ کیا۔ منجھے ہوئے موسیقاروں سے دھنیں بنوائیں اوران سُریلے گیتوں میں اپنی آواز کو اُنڈیل دیا۔ یہ گیت گونجے تو کارلا برونی کے باطنی حسن کو سماعتوں نے محسوس کیا۔ 2002 میں اس کی پہلی اور2006ء میں دوسری البم ریلیز ہوئی۔اس کے گیت کئی فلموں میں بھی شامل کیے گئے۔ 2003 میں اس نے ایک فلمLe Divorveکا ٹائٹل سونگ بھی گایا۔2006ء کے اولمپکس میں ،اس نے اپنے آبائی وطن، اٹلی کے جھنڈے کو محبت کا سلام پیش کیا۔ مختلف موسیقاروں اور گلوکاروں کے ساتھ بھی کام کیا۔ 2006 میں ریلیز ہونے والی دوسری البم No Promisesمیں معروف انگریز شاعروں کی نظمیں منتخب کرکے گائیں۔

2008ء تیسری البمComme Side Riennietaitریلیز ہوئی۔ اس سے ملنے والے معاوضے سے فلاحی کام کیے۔2009 میں کارلا برونی نے نیلسن منڈیلا کی سالگرہ کے موقع پر 18جولائی کو ریڈیو سٹی میوزک ہال، نیویارک میں گیت گایا۔ ستمبر2009ء میں Harry Connick،JRکی سنگت میں اپنے فرنچ ایڈیشن کے لیے دوگانا گایا۔ یہ البم فرانس میں اکتوبر 2009ء میں ریلیز ہوئی۔ کارلا برونی نے 2011 میں ریلیز ہونے والی ایک فلم’’Midnight in Paris‘‘میں ایک میوزیم کی گائیڈ کا کردار بھی نبھایا۔ کارلا برونی نے جہاں بہت سی محبتیں سمیٹیں اورشہرت کی دیوی ان پر مہربان رہی،وہیں ان کی مخالفت بھی ہوئی۔اٹلی کے ایک موسیقار اورگلوکار نے ان کی شخصیت کو اپنے ایک گیت میں طنزیہ طورپر پیش کیا۔ اس کے عریاں فوٹوشوٹ کو ان کی شادی شدہ زندگی اورسابق فرانسیسی صدر سرکوزی کی مخالفت میں سیاسی ہتھکنڈے کے طورپر استعمال کیاگیا۔

کارلا برونی ایک ماڈل اور گلوکارہ کی حیثیت سے مقبول ہوئی مگر اس کو شاید یہ خبر نہ تھی کہ کبھی ان کے مداحوں میں فرانس کا مردِاوّل بھی شامل ہوجائےگا۔ 2007 میں سرکوزی سے کارلا برونی کی ملاقات ایک ڈنر پارٹی میں ہوئی۔ اس پارٹی میں ہونے والے تعارف نے دونوں کے دل کو تسخیر کرلیا،یوں دونوںشریک حیات ہوگئے۔ سر کوزی کی یہ تیسری اورکارلا برونی کی پہلی شادی تھی۔ دنیائے سیاست کی ایک بے مثال جوڑی بھی ثابت ہوئی، جس نے رومان کے رنگوں سے سیاست کے منظر نامے کو بھی شرابور کردیا۔ کسی کی پرواہ نہیں کی، ان کی بھی نہیں جنہوں نے کارلا برونی کے ماضی کی برہنہ تصویروں کو موضوع بنایا تھا۔ یہ لاپرواہی کے قدموں سے ان کے اعتراض کو کچل کر گزرگئے۔ ایران کے ایک اخبار نے کارلا برونی کے لیے لفظ ’’طوائف‘‘ استعمال کیا، جس پر دونوں ملکوں میں تنازعہ کھڑاہوا، مگر یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ مخلص رہے۔

کارلا برونی اور ان کے شوہر سرکوزی

یہی وہ احساس تھا، جس نے ان کے بندھن کو پختہ کیا۔ فرانسیسی صدر کی اطالوی بیوی نے سرکوزی کے ساتھ سرکاری دورے کیے۔ اپنی مقبولیت کی معراج کوپالیا۔ دونوں میاں بیوی نے سرکاری مصروفیت کے اختتام کے بعد اپنے نام کی ایک فاؤنڈیشن بنائی۔ اس کے پلیٹ فارم سے ایڈز سے تحفظ،جانوروں کے حقوق،بچوں اورمائوں کے تحفظ کے لیے فلاحی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔نیلسن منڈیلا کی فاؤنڈیشن کے لیے کام کیا اورفرانس کی کئی نامور تنظیموں کے ساتھ کام کیا۔قطر کے امیر کی بیوی کے ساتھ تعلیم کے فروغ کے لیے بھی کام کیا۔

خوبصورتی کی سفیر کارلا برونی اٹلی جیسے خوبصورت ملک میں پیدا ہوئی۔ سوئزر لینڈ جیسے حسین ملک میں پلی بڑھی۔ فرانس جیسے حسین ملک میں اپنے آپ کو دریافت کیا۔ برطانیہ جیسے تہذیبی ملک کا سرکاری دورہ کیا۔ اسپین جیسے تاریخی ملک سے سرکاری اعزاز حاصل کیا۔ امریکا جیسے آزاد منش ملک کی سرکاری سیاحت کی۔ دنیا کو گھوم پھر کر اوردل کے نہاں خانوں سے آرزوؤں کے موتی چن کر، زندگی میں پرونے والی اس شہزادی کو فیشن اورسیاست کی دنیا میں ایک طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خرم سہیل سے رابطہ کیجیے:
khurram.sohail99@gmail.com