Categories
نان فکشن

وراداتِ کلبی بسلسہ ہائے فروغ کلبی: قسط اول (اسد رضا)

[divider]حالتِ دل، کہ تھی خراب،اور خراب کی گئی[/divider]

ہمارا ایک یار جانی جو کہ دانشور بھی ہے۔ جب ہم نے پایا کہ اُس کے کتے کی شہرت اُس کتے سے زیادہ ہو چکی ہے تو ہم نے فوراً ارداہ باندھا کہ دنیا کو اس کت شناس سے مزید روشناس کروایا جائے۔ ویسے بھی بکر کا کہنا ہے ‘جانی! کسی حسین عورت کو کسی کتے کے ساتھ دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے میری ذاتی حق تلفی ہوئی ہے’۔‘’ بکر کے بارے میں کچھ لکھتے ہوئے مجھے تامل ہوتا ہے کہ دنیا حاسدان بد سے خالی نہیں اگر کسی نے کہہ دیا کہ ہم نے تو اس شخص کو کبھی بکر کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے نہیں دیکھا تو کون ان کا اُنگوٹھا پکڑ سکتا ہے۔ پھر بعض باتیں ایسی ہیں کہ لکھتے ہوئے خیال ہوتا ہے کہ آیا یہ لکھنے کی ہیں بھی یا نہیں’’ اس پارچے کو لکھنے کا بنیادی سبب تو بکر کی کلبی حالت سے متعلق معاشرے کو متنبہ کرنا ہے مگر ہو سکتا ہے تحریر کے دوران کچھ مزید شقی الکلب شخصیات کی تشفی ہو جائے۔

بدھا سا بے چین دل لئے ٹکے کے صبر سے محروم وہ دوزخی روح کب میری روح سے متصل ہوئی سن و سال لکھنے کا یارا نہیں۔ ویسے بھی جہنم میں ابدیت فیصلہ کن سزاہے یا کیفئت اس پر ہم آج تک متفق نہیں ہو سکے۔ یہ لگ بھگ ایک دہائی پہلے کی بات ہے کہ “اقبال اور ختم نبوت” جیسے عبث موضوع پر منعقد ایک سیمنار میں میری اس سے پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ اس پر ان دنوں سرخ رنگ غالب تھا اور میری سرخی ماند پڑ چکی تھی اور کالک میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ یہ وہ شاید پہلا اور آخری موقع تھا جب ہم نے نہایت پرجوش انداز میں سرخ انقلاب کی بابت گفتگو کی تھی۔ اس کے بعد وقفے وقفے سے ملاقاتوں کا ایک دور شروع ہوا۔ یہی وہ دور تھا جب بکر پر جنسی اور فلسفیانہ ہشیاری وقفے وقفے سے طاری رہتی تھی کہ پہچان مشکل تھی کہ وہ لمحہ موجود میں کس جذبے کے زیر اثر ہے۔ اس کا حل یار لوگوں نے یہ نکالا کہ دیکھا جائے کہ وہ کس لمحے کون سے بال کُھجا رہا ہے۔ اس زمانے کو شوذب تلاش النسا کا دورقرار دیتا ہے۔ بکر اس زمانے میں عموماً کہا کرتا تھا یار جانی کوئی ایسی بات کر کے کانوں سے لیس دار مادہ نکلنے لگے جس پر ہم انہیں سمجھاتے کہ اس کی خواہش بیجا نہیں۔ رطوبت کا انتخاب بھی عمر کے مطابق ہی ہے مگر خدارا جائے اخراج کی بابت تھوڑی درستی کر لے۔ بہرحال ان دنوں ہم نے اپنی ہر جاننے والی دوست سے التجا کی کے وہ التفات کا رخ بکر کی سمت موڑ لے مگر یہاں بھی بکر نے حرمزدگی سے کام لیا کہ کسی بھی عورت سے بات کرتے ہی کچھ ایسی حرکتیں شروع کر دیتا جو کسی شہدے عاشق ہونے کی خبر دیتی سو تمام خواتین کنی کترا کے نکل جاتیں اور بکر ہمیں عورت کی عظمت سے متعلق نطشے کے اقوال سُنا کر اپنا غم غلط کرتا شوذب اس دوران مختلف مقامات پر حضرت علی کے اقوال ٹانکتا رہتا۔ شوذب کا مسئلہ یہ ہے کہ اسے بہر طور بولنا ہے جب اس کے پاس بولنے کے لئے کچھ بھی نہ ہو تو عربی گردانیں دُہرائے گا یا درجہ دوئم کی اردو کی کتاب کی نظمیں سنانے لگے گا۔

قصہ مختصر یہ کہ آخرکار فون پر بکر کا ایک خاتون سے معاشقے کا آغاز ہو گیا جو سرگودھا یونیورسٹی میں شعبہ کیمسٹری کی طالبہ تھی۔ اگرچہ ایسے ناہنجار مضمون کی طالبہ سے کسی بھی قسم کی پینگیں بڑھانے پر ہم تو سخت معترض تھے مگر بکر تھا کہ مان کے ہی نہیں دے رہا تھا۔ ایک صبح ملاقات کا وقت طے کیا جانے لگا۔ اس دوران وہ خاتون مخلف زاویوں سے بکر سے سوال کرنے لگی اور بکر اپنی فہم کے مطابق اس کے جواب دے کر اس کو مطمئن کرتا رہا۔ یکایک اس نے پوچھا ‘’ ابوبکر آپ دیکھنے میں کیسے لگتے ہو’’ اب بکر نے میری سمت دیکھا، میں نے اس کی سمت دیکھا پھر ہم دونوں دیوار کی سمت دیکھنے لگے۔ میں نے اور بکر نے اپنے اپنے طور پر بکر کی ہیت سے متعلق غور کرنا شروع کر دیا۔ میں اس بات کا نہایت شرمندگی سے اقرارکرتا ہوں کہ پہلے پہل تو میرے دماغ کچھ حشرات کا تصور گردش کرتا رہا پھرمیں نے بددقت اس خیال قبیح سے پیچھا چھڑایا اور اس ذہنی کمینگی پر دو حرف بھیجے۔ خیر جب ہم انفرادی طور پر کوئی حل سوچ نہ پائے تو ہم نے اجتماعی طور پر اس مسئلے سے عہدہ برا ہونے فیصلہ کیا۔ کافی غوروخوص اور طرفین کے دلائل کی روشنی میں اس نتیجے پر متفق ہوئے کہ بکر کم ازکم ایک دو پایہ حیوان ہے۔ ہم نے دیگر تفصیلات میں جانا غیر ضروری خیال کیا اور موصوفہ تک اپنا نتیجہ پہنچایا۔ بات یہیں تک رہتی تو خیر تھی لیکن وہ ظالم تو دخل در دیگر معاملات بھی کرنے لگیں۔ سب سے پہلے تو اس نے ملاقات کے حوالے سے چند ضروری ہدایات بکر کے گوش گزار کیں کہ ملاقات کے لئے بکر کو کم سے کم منہ دھو کر آنا ہو گیا۔ ڈریس پینٹ پہننی ہو گی اور شرٹ کے بازو کے بٹن بند ہو ں گے نیر شرٹ اور دیگر اشیا پینٹ کے اندر رہیں گی۔ اس کے علاوہ دوران ملاقات شرٹ کا اوپر والا بٹن، بکر کا منہ اور پینٹ کی زپ بند رہنی چاہیے۔مزید براں یہ کہ ملاقات کے خاتمے تک بکر کے سر کے بال بھی کھڑے نہیں ہونے چاہیں۔ ہمارا ماننا تھا کہ ایسی رذیل شرائط رکھنے والی لڑکی سے ملنا ہی شرف مردانگی کے خلاف ہے مگر بکر کے سر ان دنوں مادہ حیات سوار تھا اور وہ اس کا اخراج باوسیلہ مادہ ہی کرنے پر بضد۔ ہم نے ہر چند بکر کی توجہ ایک اور معقول مادہ حیوان کی طرف کروانا چاہی مگر اپنے سوشلسٹ خیالات کی بنا پر وہ کسی محنت کش کلاس کے نمائندہ جانور کا استحصال کرنے پر کسی طور آمادہ نہیں تھا۔ بہرطور یہ ملاقات اختتام پذیر ہوئی۔ خدا جانے اس ملاقات میں کیا بیتی ہم نے تو بکر کی شکل دیکھ کر کچھ بھی اندازہ لگانے سے قصداً خود کو روک دیا مگر بس سٹاپ پر موجود دعوت اسلامی کے کسی بھائی نے مسکراتے ہوئے “جلق لگانے کے نقصانات ” کے عنوان سے ایک کتابچہ بکر کو زبردستی تھما دیا بکر کچھ چوں چراں کرنا ہی چاہتا تھا کہ میں نے اس کی توجہ صاحب کتاب کے ہاتھوں میں موجود دوسری کتا ب “اغلام بازی سے بچاو کے مدنی طریقے” کی طرف کروائی تو اس کا جوش کچھ ٹھنڈا پڑا۔ میرا خیال ہے کہ یہ عشق جلد ہی اپنی موت آپ مر گیا اور دعوت اسلامی کی کتاب بھی بکر کے ہاتھ باندھنے میں ناکام قرار پائی۔ بہرحال بفضل خدا اسی عرصے کے دوران بکر کو جنسی تجربے کا موقع ملا جس سے پہلے وہ میرے پاس آیا اور کہا جانی نیلی گولی درکار ہے میں اپنے پہلے تجربے کا کو یادگار بنانا چاہتا ہوں۔ ہم ہرگز اس کو گولی دینے کے طرفدار نہ تھے مگر کچھ عرصہ پہلے ہمارے ایک اور معتبر دوست کے ساتھ ایک ناخوشگوار واقعہ گزرا تھا کہ وہ جب رن سے نامراد لوٹے تھے اور ہمارے استفسار پر فرمایا تھا “نادان گر گیا سجدے میں جب وقت قیام آیا”۔ ایسے ہی خطرے کے پیش نظر ہم نے بکر کو گولی دلوا دی۔

ہماری ملاقاتیں چلتی رہیں۔ میری اور بکر کی ان ملاقاتوں میں کبھی کبھار شوذب، راجہ سمرہ، اسد کاظمی اور ملک عبدالعزیز شامل تھے۔ یہ تمام احباب حق رکھتے ہیں کہ ان پر الگ سے باب لکھے جاویں۔ ان ملاقاتوں میں مذہب، فلسفہ، سائنس، ادب، نفسیات وغیرہ کے مضامین پر گپ شپ لگتی۔ کبھی کبھار ہم ادریس آزاد کے بیکراں علم سے کماحقہ فیض حاصل کرنے کے لئے ڈیڑھ رات خوشاب میں بھی بسر کرتے۔ بکر اور میں اعلانیہ لادین تھے سو کاظمی کا جابرانہ، ادریس کا منافقانہ، سمرہ کا مدافعانہ اور شوذب کا ڈھکوانہ اسلام ہم پر چاروں طرف سے یلغار کر دیتا اور بکر اس سے بچنے کے لئے علم کا چراغ بجھا دیتا اور چرس کا دیا روشن ہو جاتا پھر نہ کوئی بندہ رہتا نہ بندہ نواز۔ ان میں سے ہرصاحب کی ضد تھی کہ اسے اسلام پر اتھارٹی سمجھا جائے۔ ادریس آزاد کہیں سے فلسفیانہ دلیل لاتا تو کاظمی اس کا نطفائی توڑ پیش کرتا۔ شوذب کا ماننا تھا کہ دین کے معاملات میں اُسے حجت تسلیم کیا جائے چونکہ وہ ڈھکو صاحب کی گود میں بالغ ہوا ہے (یا مظہر العجائب)۔ کاظمی کی موجودگی بکر کو سخت جز بز کرتی کہ کاظمی جنسی اعضا کا نام بھی عربی میں سننے کا عادی تھا۔ اس کی موجودگی میں لطائف میں موجود جنسی اعضا بھی پردوں کے اندر چھپ کر کلبلانے لگتے اور ایسی مقدس عریانی کا دور دوراں ہوتا جس کا تصور صرف جنت میں کیا جا سکتا ہے۔ اوائل کے سلسلہ ہائے گفتگو میں ایک بار بکر پوری شدت سے گویا ہوا “یار یہ کچھ غیر منطقی نہیں لگتا کہ کچھ پل میں کئے گئے گناہوں کی سزا ابدی جہنم ہو” کاظمی بولا فکر نہ کر منطقیوں کے لئے دوزخ میں مخصوص سزا وں کا بندوبست کیا جاوئے گا۔ ہم مادہ اور شعور اور ان کے باہمی تعلق پر فلسفہ بگھار رہے ہوتے کہ شوذب کی آواز گونجتی” ٹوٹ بٹوٹ کے دو مرغے تھے دونوں تھے ہوشیار”۔ اس کے بعد بغیر کوئی پہلو بدلے تھوگ اگلتے شوذب لگ بھگ پچیس نظمیں سُنا کر بس کرتا۔ اس گفتگو کا خاتمہ باہمی طور پر کسی نا کسی بڑی کائناتی حقیقت کو مان کر ہوتا مثلاً” یوں تو چھوٹی ہے ذات بکری کی ” یا پھر “نہیں کوئی شے نکمی قدرت کے کارخانے میں”۔ اکثر یوں بھی ہوا کہ رات بھر ہم “پیپل کے پتے گرتے رہیں گے ” جیسے آفاقی طرح مصرعہ پر قافیہ پیمائی کرتے رہے۔

جیسے جیسے رات گزرتی جاتی تھی ہمارے موضوعات پیچیدہ سے پیچدہ تر ہوتے چلے جاتے۔ تاریخ کے کسی نکتے سے شروع ہونے والی بحث الہیات سے ہوتی ہوئی زمان و مکاں کی گتھیاں کھولتے کھولتے متوازی دنیاوں اور مصنوعی ذہانت کے خدوخال تک جا پہنچتی۔ بات ہیگل کے بینگ اور نتھنگنس سےبڑھتے ہوئے سارتر کے بینگ اور ایگزسٹنس تک جا پہنچی۔ نطشے کا سپر مین کیرکیگارڈ کا تباہ حال شخص بن چکا ہے۔ اس دوران کتنے ہی کپ چائے اور سگریٹ پی جاتی۔ اب ہماری گفتگو کسی قدیم مصحف کی طرح بوسیدہ، بوجھل اور محض قابل احترام رہ جاتی سو ہم اسے عقیدت سے طاق پر جون ایلیاء کی کتب کے بغل میں رکھ دیتے۔ اب رات کے سائے گہرے ہو چلے ہیں۔ یکایک گفتگو میں خاموشی کا پل آ گیا ہے۔ وجودی کرب گہرا ہو چلا ہے۔ شوذب سو چکا ہے۔ میں اور بکر خاموش ہیں۔ شاید واقف ہیں کہ اب مزید گفتگو نہیں ہو سکتی۔ رحم طلب نظروں سے ایک دوجے کو دیکھتے۔ آہ کہ کوئی چارہ نہیں۔ وائے افسوس کہ کوئی چارہ گر نہیں۔ سب گفتگو لا یعنی ٹھہری ہے۔ رات بلکنے لگتی۔ شعوری دھوکا ہاتھ چھڑانے لگتا۔ ہم اپنے اپنے سایوں میں تحلیل ہونے لگتے۔ میں چور نظروں سے اس کی سمت دیکھنے لگتا۔ اگر یہ رو دیا تو کیا ہو گا۔ رات کی تاریکی میں مسیحائی کا بھیانک فریب دینا نہیں چاہتا تھا۔

صبح ایسے آنکھ کھلتی کہ جیسے رات کو رو کر سونے والا بچہ سب بھول چکا ہوتا ہے۔ شب بھر تلاش خدا کے تھکے مارے جسم تلاش مسجد کو نکل پڑتے۔ بے شک مسجد ہی رافع حاجات ہے۔ میں آج تک یہی سوچتا ہوں کہ بیت الخلاء کے دروازے کے باہر باری کے انتظار میں کھڑا دوست کیا سوچتا رہتا ہو گا۔جب کہ اندر والے کی تمام سوچ اس جمع تفریق پر خرچ ہوتی ہے کہ لوٹے میں پانی کی دستیابی کس سطح پر ہے اور اس سے کس عضو کو کس حد تک دھویا جا سکتا ہے اور کون سے اعضاء ایسے ہیں جنہیں دھوئے بغیر بھی کام چل سکتا ہے۔ ابوبکر کا اس سلسلے میں ماننا ہے کہ اگر اس ہاتھ کو نہ دھویا جائے جس سے کل ہم نے اپنا نامہ اعمال تھامنا ہے تو یہ مالک یوم الدین کے خلاف ایک قسم کا شریفانہ احتجاج ہو گا۔ صبح سویرے میں اور بکر اس کے گھر کے قریب واقع جنگل میں جا بیٹھتے جہاں میں بکر کے مستقبل کے حوالے سے نہایت رقت انگیز پیشنگوئیاں کرتا جس پر وہ آنکھوں اور منہ میں آئی ہوئی نمی کو نہایت عقیدت سے سگریٹ پر لگاتے ہوئے کپکپاتے لہجے میں کہتا ” یار تیرے جانے میں تین گھنٹے رہ گئے ہیں اور سگریٹ صرف دو باقی ہیں”۔

اسی دور کی بات ہے کہ بشیر حیدر میرے اور بکر کے پاس ایک شاعر کو لایا کے زرا اس کی ٹیونگ تو کر دو۔ خیر ہم اس کو لئے کر خوشاب دریا کے کنارے بیٹھ گئے اور مختلف موضوعات پر بات شروع ہو گئی۔ یہی کوئی رات بارہ سوا بارہ کا وقت ہو گا ک ایک پولیس وین پاس آ کے رکی۔ دو مشٹنڈے ہماری پاس آئے اور بولے رات کے اس وقت کس تخریب کاری کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔ ہم نے پُرامن شہری ہونے کی لاکھ یقین دہانی کرانی چاہی مگر بے سود۔ وہ بولے چلو اٹھو بھاگو یہاں سے۔ اس پر بشیر حیدر آگے بڑھا اور بولا ” قبلہ جانے دیں بچے ہیں۔ میں خود ایک استاد ہوں”ایک پولیس والا آگے بڑھ کر پہلے تو بشیر حیدر کو اوپر نیچے سے گھورنے لگا مگر جب اس نے پشیر کے وجود میں کوئی قابل گرفت چیز نہ پائی تو کہنے لگا ابے استاد دو منٹ سے پہلے پہلے یہاں سے نکل ورنہ ساری استادی گا۔۔۔ کے راستے نکال دوں گا” بشیر حیدر اس واقعے کے بعد اکثر کہتا ہے اگر ان کی چشم تخیل مستقبل میں جھانک سکتی اور انہیں پتہ چلتا کہ مستقبل میں بکر نے بھی استاد بننا ہے تو وہ میرے ساتھ اس قدر تحقیر آمیز رویہ اختیار نہ کرتے۔ وہاں سے جب اس طور اٹھائے گئے تو نجانے کیوں مجھے پطرس بخاری کا مضمون کتے پوری شدت سے یاد آنے لگا۔ ماحول کی مطابقت کے علاوہ بکر کی موجودگی بھی اس احساس کو تیز کرنے کی ایک بڑی وجہ تھی۔ خیر ہم دریا کے کنارے سے اٹھ کر ایک نامعقول سے ہوٹل کے بیت الخلاء کے سامنے کرسیاں ڈال کر بیٹھ گئے اور گفتگو کا سلسلہ وہیں سے شروع کیا جہاں سے وہ ٹوٹا تھا۔ میں بولا “یار تجھے نہیں لگتا کہ خدا کا علم اور قدرت باہم متضاد ہیں” اس پر بشیر نے ٹھنڈی سانس اور بکر نے سگریٹ بھرتے ہوئے مری سمت دیکھ کر کہا۔ “یار خدا کا تو پتہ نہیں پر ہمارا علم اور قدرت تو باہم دست و گریباں ہیں”۔ ہماری اکثر محفلیں اسی طرز اختتام کو پہنچتیں۔

جیسے جیسے بکر کی عمر بڑھ رہی تھی اس کی ذہنی پیچیدگیوں میں اضافہ ہو رہا تھا جس کا بڑا سبب فلسفہ اور جون ایلیا کی شاعری تھی۔ اس وجودی کرب نے بکر کو ادھ موا کر دیا تھا اس کی ذہنی حالت قابل رحم ہوتی جا رہی تھی۔ یہاں تک کہ اس کے سائکاٹریسٹ کے سیشن شروع ہو گئے۔ ایک وقت تو اسے باقاعدہ اسپتال میں داخل ہونا پڑا۔ اس دور میں ہم نے حق دوستی ادا کرتے ہوئے اسے استپال کے بستر پر کافکا کی کہانیاں پیش کیں تا کہ اس کا بیڑہ غرق ہونے میں کوئی کسر نہ رہ جائے مگر بدبخت سخت جان تھا اسے بھی سہار گیا۔ بکر گھنٹوں اپنی نشست پر بیٹھا خلاوں کو گھورتا رہتا ایسے میں اکثر سگریٹ اس کی انگلیوں میں دبی دم توڑ جاتی۔ اس کا بولنا چلنا بہت کم ہو گیا تھا۔ ایسے ہی ایک دن اس کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ بکر نے عالم محویت میں میری ران کھجانی شروع کر دی جب اس کا ہاتھ نامعقولت کی سطح سے کچھ آگے بڑا تو ہم نے ٹہوکا دیا مگر قبلہ شاید جسمانیات سے مبرا ہو چکے تھے سو اُسی طرح مشغول رہے۔ بلا آخر ہم پکارے “حضور یہ میری ران ہے” تس پر چند لمحوں نیم وا آنکھوں سے ہماری سمت دیکھا پھر عالم بالا میں دیکھتے ہوئے فرمانے لگے “میاں کیا فرق پڑتا ہے” ہم نے کہا حضور بادشاہ ہیں مگر خادم کو فرق پڑتا ہے’’ اب اس نے قدرے ناگواری سے اپنا ہاتھ میری ران سے اٹھا کر ساتھ بیٹھے شوذب کی ران کھجانی شروع کر دی۔ جس پر میں نے اپنی آنکھیں چرا لیں اور شوذب نے بند کر لیں۔ بکر کے ابا نہایت مذہبی قسم کے شب زندہ دار آدمی ہیں وہ اپنے اکلوتے بیٹے کی اس حالت پر سخت مشوشش تھے میں انہیں کیسے سمجھاتا کہ جب جوان بیٹے کی کلائیاں سگریٹوں سے دغدار ہوں تو پیشانی سجدوں کے داغوں سے آلودہ کرنے سے غم کم نہیں ہوتے۔ ایک دن جب وہ بستر پر سویا ہوا تھا اور اس کی رالوں نے تکیے کو بھگو رکھا تھا اس کے ابا کمرے میں آئے بکر کے چہرے سے رخ پھیرتے ہوئے بمشکل آنسووں چھپاتے ہوئے ان کی نظر طاق پر پڑی جون ایلیا کی کتابوں پر پڑی تو کہنے لگے “اس بہن چود نے میرے بیٹے کو تباہ کر دیا ہے”۔ جون کے لئے ایسا خراج عقیدت خاکسار نے کم سے کم پہلے کبھی نہیں سُنا تھا جو جون کی اثر پذیری پر ایسی مہر ثبت کرتا ہو۔

ایک دفعہ میں شاہپور سے بکر کی امی کے ساتھ سرگودھا آیا تھا ڈائیو بس سٹاپ سے بکر کا کچھ سامان لینا تھا۔ اب میں اور آنٹی شاہ پور سے سرگودھا ولی ویگن پر بیٹھ گئے۔ تیس منٹ کے اس سفر میں آنٹی نے کم سے کم چالیس مرتبہ مجھ سے پوچھا “:پتر بوتل پینی اے” اور میں ہر دفعہ شکریہ کہہ کر انکار میں سر ہلا دیتا۔ بعد میں بکر سے جب بات ہوئی تو وہ ناسٹلیجا کی کیفئت کا شکار ہو گیا کہنے لگا” یاراتنے سالوں بعد یاد آیا کہ کبھی بوتل سے مراد محض سوڈا کی بوتل ہوا کرتی تھی۔ افسوس کے ہم بڑے ہو گئے مگر ہمارے والدین بڑے نہ ہو سکے” اس پر میں نے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ چلو کوئی بات نہیں بڑے ہونے کے ناطے ہمیں ان کی غلطیوں سے درگزر کرنا چاہیے۔ ان واقعات کا تذکرہ اس لئے بھی کیا کہ یہ بتایا جا سکے کہ اگر بکر میں معصومیت کی ایک رمق باقی ہے وہ محض جنیاتی ہے۔

اب بکر بڑا ہو رہا تھا اور اس سے ملاقاتیں کم پر ہمیں کیا خبر تھی کہ اس کی نحوست اسلام آباد اور اس کے گردونواح میں پہنچنے والی ہے۔
(جاری ہے)

Categories
نان فکشن

دی جون ایلیا

جون ایلیا پر ایک تعزیتی نظم ” ایلیا کو کون جانتا ہے ” میں انور سن رائے نے کہا تھا کہ خودانہدامی پر یقین رکھنے والے زود و بسیار نویس انارکسٹ جون ایلیا کے لیے اب تعزیتی جلسے ہوں گے۔ کیا عجب ہے کہ جون ایلیا صرف اتنا نہیں تھا۔ اس کی مثال تو اس وبا سی ہے جو اپنے گردوپیش کو بھی مرض و موت سےدوچار کرتی ہے۔ وہ ایسی میت ہے جو اپنے نوحہ گروں کو بددعائیں دیتی ہے۔ جون ایلیا بطورشخص ایک استشنائی صورتحال ہے جسے صرف شاعرانہ کمال کے اتفاق کی صورت برداشت کیا جا سکتا ہے۔ اگر ہم میں سے ہر تیسرا شخص جون ایلیا بن جائے تو چوتھے دن ہی قیامت آجائے۔نظام دنیا پامال ہوجائے ۔

ایلیا نے زندگی کو ابتدائی صورت میں ہندوستان کے ثقافتی مرکز لکھنو اور امروہہ میں دیکھا ۔ان کا خاندان عالمانہ پس منظر رکھنے کی وجہ سے ایک مخصوص تہذیبی شعور اور ذوق کا حامل تھا۔تاہم ایلیا کی پیدائش کے دنوں میں یہ ثقافتی مراکز تیزی سے اپنے انجام کو پہنچ رہے تھے۔اس سماجی ادھیڑ نے جون کو ایک مریضانہ ناسٹیلجیا میں مبتلا کیا جس سے وہ عمر بھر آزاد نہ ہو سکے۔ ان کے بڑے بھائی تحریک پاکستان کے کارکن تھے۔ایک اور بھائی کمیونسٹ پارٹی سےتعلق رکھتے تھے۔ آزادی کے بعد یہ سب لوگ پاکستان ہجرت کر گئے لیکن جون اپنے والد ین کےپاس امروہہ ہی مقیم رہے۔ ان کی طبیعت اپنے بھائیوں کی طرح تعمیری نہیں تھی۔ وہ بغاوت اور انکار کی بھٹی میں جلتے ہوئے شاعر تھے جو ماضی کے ملبے پرحساب سود و زیاں کرتا ہے۔ والدین کی وفات کے بعد ایلیا نے کراچی ہجرت کی تو ایک اور مرض میں مبتلا ہو گئے۔ دیار بدری کا یہی مرض لاہور میں منٹو اور ناصر کاظمی کو بھی لاحق تھا۔ امروہہ کے ماحول نے جون کو جنم دیا تھا لہذا اس کو برداشت بھی کرتا تھا۔ پاکستان آکر جون کو اپنا پس منظر تخلیق بھی کرنا تھا جو بوجوہ ان کے لیے ممکن نہ تھا۔ جون یہ ماحول نہ بنا سکے اور ایک تاریخی مذاق بن کر رہ گئے۔

جون پرشور تضادات کا ایسا مجموعہ تھے جس کا کیفتی اظہار صرف شاعری میں ممکن ہے۔ انہوں نے چن چن کر اپنے آپ میں وہ سب جمع کر لیا تھا جس کا بار شعر تو اٹھا سکتا ہے لیکن زندگی نہیں اٹھا سکتی۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ جون نے اپنی زندگی کا سودا کر کے شاعری خریدی۔ اس المیے کا انہیں خود بھی شعور تھا چنانچہ انہوں نے جتنے سانس لیے پردہ سخن میں لیے۔ وہ جانتے تھے کہ شاعری کی پناہ سے نکل کر زندگی سے سامنا کرنا ان کے بس کی بات نہیں۔ بطور شاعر ان کے کلام میں زندگی کی ان گنت کیفیات اپنی پوری شدت سے موجود ہیں لیکن بطور فرد ان کی زندگی میں کوئی آہنگ موجود نہ تھا۔ وہ نسباً شیعہ تھے لیکن دیوبند سے منسلک ایک مدرسے میں پڑھے اور عمر بھر علمائے دیوبند کی وطن پرست سیاست کے گن گاتے رہے۔ مرتے دم تک ایک ایسی محبوبہ کی تلاش میں رہے جو ان کے عشق میں خودکشی کرے۔جون اپنے معیارات میں بیمار شخص تھے بلکہ یوں کہا جائے کہ انہوں نے بیماری کو ایک معیار کی صورت پیش کیا۔ اس معیار کو شعر میں پوری شدت سے بیان کرنے کا فن انہوں نے خدائے سخن میر تقی میر سے سیکھا تھا جو اردو ادب میں اس مریضانہ خود پسندی کی سب سے بڑی مثال ہیں۔ اپنے عہد کے ترقی پسندوں کے عمومی چلن کے برعکس جون نے ادب میں روایت پسندی اختیار کی اور غزل کو اپنے ذاتی معیار کی حسیت پر ازسرنو ایجاد کیا۔ پرانے موضوعات کی صورت بدلی اور نئی کیفیات کا راستہ نکالا۔ تاہم یہاں بھی ان کی نفی پسندی غالب رہی۔ انہوں نے اپنی شاعری میں جا بجا اعتراف کیا کہ وہ بڑے نہیں ہو سکے اور رائیگاں گزر گئے۔ وہ ایک بچہ تھے جو اپنی روایت میں منجمد ہو گیا تھا۔ ان کی رائیگانی بھی اس روایت کے شکست کا شخصی اظہار تھی۔ جون وہ بچہ تھا جو پرنیت انہماک سے اپنے شکستہ گھر کی بنیادوں میں بارود بھرتا رہا۔ وہ اس گھر کو توانا دیکھنا چاہتا تھا چاہے سب کچھ ملیا میٹ بھی کیوں نہ کرنا پڑے۔

وہ اعلانیہ ملحد اور نہلسٹ ہونے کے باوجود مذہب کے ساتھ ایک تہذیبی رشتہ رکھتے تھے۔ ان کا الحاد بھی محض الحاد نہیں بلکہ جون ایلیا کا الحاد تھا۔ طبعاً پیکار طلب تھے لہذا ایک مخصوص کائناتی منظر کے اندر ہی زندہ رہنا چاہتے تھے تاکہ ہر لمحہ کسی سے گتھم گتھا رہیں۔ وہ خدا کے قائل نہ تھے لیکن اسے چھوڑ بھی نا سکتے تھے۔ وہ سینے میں بغض پالنے، رنج رکھنے اور شکوہ کرنے کے خوگر تھے۔ وہ خدا کو اتنی آسانی سے منہا نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ایسا ہو جاتا تو ان کے کوسنے کے لیے صرف انسان باقی رہتے۔ ایلیا انسان پسند بھی نہ تھے۔ وہ انسان سے نطشے کی طرح مغائرت رکھتے تھے۔ شاید اسی وجہ سے وہ تہذیب کے قائل بھی نہ تھے۔ لکھنوی فضا میں سانس لیتے جون ایلیا کو تہذیب اور تاریخ سے نفرت تھی۔ وہ اسے بیکار کا کھیل سمجھتے تھے لیکن اس کھیل میں بھی بطور کھلاڑی ایک منفرد مقام چاہتے تھے۔ وہ سرتاپا مجموعہ اضداد تھے لیکن اس جہت سے انسان کے فطری روپ کا وہ اظہار تھے جو اپنی حقیقت کے خام ہونے کا شعور رکھتا ہے۔ انہوں نے اس فطری خامی پر مذہب ، تمدن ، روحانیت اور جاہ طلبی کا میک اپ نہ کیا بلکہ ” جیسا ہے جہاں ہے ” کی بنیاد پر پیش کیا۔ وہ نہایت معیار پسند تھے لیکن اس بات کو جان گئے تھے کہ معیار وجود نہیں رکھتے۔ وہ تصور کو بے مایہ اور حقیقت کو لاچار تسلیم کرتے تھے۔ شاعری کے اس شخصی تناظر میں انہوں نے حسی تجربیت سے کام لیا اور نفس انسانی کی عمیق کیفیات کو متصادم صورتحال میں ہی پیش کیا۔

گاہے گاہے بس اب یہی ہو کیا
تم سے مل کر بہت خوشی ہو کیا
کیا کہا عشق جاودانی ہے
آخری بار مل رہی ہو کیا

بطور فرد جون کی زندگی ایک پیچدار ترین موضوع ہے جس پر مفصل گفتگو ایک تحریر میں ممکن نہیں۔ یہی معاملہ جون ایلیا بطور شاعر کے ساتھ بھی ہے۔ اس پر مسلسل گفتگو کی ضرورت ہے۔تاہم کچھ اشارے لازمی محسوس ہوتے ہیں۔

جون ایلیا کا شعری قد ان کی پہلی کتاب ” شاید” کے مناسبت سے طے کیا جائے۔ اگر غالب اور اقبال سمیت دیگر ان گنت شعرا یہ حق رکھتے ہیں کہ وہ اپنے کلام کی ترتیب اور انتخاب خود کریں تو یہ حق جون ایلیا کو بھی ہونا چائیے۔ غالب نے اپنی شاعری کا ایک پورا دفتر ضائع کردیا کیونکہ وہ اسے پیش نہیں کرنا چاہتے تھے۔ یہ حق تمام تخلیق کارو ں کو حاصل ہے۔ میں نے یوسفی صاحب کے بارے میں ایک مصدقہ ذریعے سے سنا ہے کہ وہ طباعت سے پہلے اپنی تحریر کی کانٹ چھانٹ پر انتہائی توجہ دیتے ہیں اور جب تک مطمئن نہ ہوں ایک سطر تک شائع نہیں ہونے دیتے۔ جون ایلیا ایک زود گو شاعر تھے جو طبعاً قادر الکلام تھے۔ ان کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ کئی کئی گھنٹے منظوم گفتگو کرتے تھے۔ اس بات کی تصدیق جناب احمد جاوید سمیت کئی صاحبان فرما چکے ہیں۔ شعر کہنا جون کے ہر سانس کی مشق تھی۔ ایسے میں ان گنت کلام انہوں نے محض ریاضت ، وقت گزاری ، فرمائش اور خواہ مخواہ بھی کہا ہوگا۔ لیکن اپنی کتابوں کی طباعت کے حوالے سے اس قدر حساس تھے کہ ”شاید” کے بعد دوسری کتاب کے لیے پریشان رہتے کہ کیا یہ بھی اتنی ہی مقبول ہوگی یا نہیں۔ تاہم افسوس یہ ہے کہ ان کے چل بسنے کے بعد ان کی شاعری مرتب کرنے والے حضرات اس تخلیقی حساسیت اور لطافت انتخاب سے کماحقہ آگاہ نہیں تھے۔چنانچہ محض قارئین کو خوش کرنے کرلیے جون کا کوئی بھی شعر کہیں سے بھی ملا اسے چھاپ دیا گیا۔ کتاب کا ایڈیشن نکل گیا تو اگلے ایڈیشن میں ”جمع” کے نشان کے ساتھ نودریافت اشعار بھی چھاپے جاتے رہے۔ اس سنگین ترین غلطی نے جون کی ادبی حیثیت کو نہایت نقصان پہنچایا۔ جون کا مقام اگر خلوص نیت سے طے کرنا ہو تو ”شاید” پڑھیے۔

یہی معاملہ ایک بڑی حد تک جون کی نثر کے ساتھ بھی ہے۔ ”فرنود” نامی ان کی کتاب میں وہ تمام اداریے چھاپے گئے ہیں جو بقول شکیل عادل زادہ ضرورتاً لکھے گئے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں نے فرنود کے چھپنے کا سنا تو نہایت خوش ہوا تھا لیکن جب مطالعہ کیا تو ”شاید” کے دیباچے کا تاثر بھی کمزور پڑنے لگا۔ گزارش یہ ہے کہ ہزاروں سال سے ادیب قارئین کا پیٹ نہیں بھر سکے۔ محض جون کے لکھے کو قارئین تک پہنچانے کے لیے خود جون کے ادبی مقام کو نقصان مت پہنچایا جائے۔

آخر میں عظیم روسی شاعر پشکن کا ایک ترجمہ شدہ اقتباس جو جون ایلیا نے اپنے یار عزیز عبید اللہ علیمؔ کی نذر کیا تھا یہاں نذرِ جون کیا جاتا ہے۔

” کوئی اجر طلب نا کر اس لیے کہ تیرا اجر تیرے سوا کوئی بھی نہیں دے سکتا۔ تو خود ہی اپنے بارے میں داوری اور فیصلہ دہی کرنے والا ہے کہ تیرے بارے میں کوئی بھی تجھ سے زیادہ سخت گیر نہیں ہے۔ اے مشکل طلب شاعر ! کیا تو اپنے کام سے راضی ہے ؟ کیا تو اپنے دل کو خرسند پاتا ہے ؟ اگر ایسا ہے تو بھلا اس کی کیا پرواہ ہے کہ لوگ تجھ سے دشمنی رکھتے ہیں ، تجھے برا بھلا کہتے ہیں۔ احمقوں کو اس عبادت گاہ کی دہلیز پر تھوکنے بھی نہ دے جس کی محراب میں تیرے کمالِ فن کی آگ شعلہ زن ہے۔”

پاس رہ کر جدائی کی تجھ سے
دور ہو کر تجھے تلاش کیا
میں نے تیرا نشان گم کر کے
اپنے اندر تجھے تلاش کیا