Categories
شاعری

مکاشفہ – جون ایلیا

[blockquote style=”3″]

جون ایلیا کی یہ طویل نظم ‘نئی آگ کا عہد نامہ’ ہے جسے جون نے “راموز” کا نام دیا۔ اس نظم کے ہر حصے کے لیے جون نے “لوح” کی اصطلاح استعمال کی۔ ہم محترم خالد احمد انصاری کے ممنون ہیں کہ انہوں نے لالٹین کے قارئین کے لیے ان الواح کی اشاعت کی اجازت دی۔ یہ لالٹین کے لیے اعزاز کی بات ہے کہ اسے ان الواح کی اشاعت کا موقع مل رہا ہے۔ خالد احمد انصاری 1991 سے 2002 کے درمیان جون ایلیا کے نہایت قریب رہے۔ آپ نے جون کا کلام اکٹھا کیا اور اس کی اشاعت کا اہتمام بھی کیا۔ “راموز” کی ایک اور خاص بات اس میں شامل الواح کے لیے دانش رضا کی تصویر کشی ہے۔ دانش رضا کے اجداد امروہہ سے تھے، آپ نے ابلاغِ عامہ اور فائن آرٹس کی تعلیم حاصل کی۔

[/blockquote]

راموز میں شامل مزید الواح پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
مکاشفہ
پناہ مانگو، پناہ مانگو!
فاصلے بدرنگ فتنوں سے نام زد کر دیئے گئے
زمین کے حاشیے زمینی بلاؤں سے بھر دیئے گئے
تمام صدیوں کے جرم اپنی سزا کو پہنچیں گے
داد خواہوں کے داعیے انتہا کو پہنچیں گے
سفید روحوں نے اور میں نے
تمہاری راتوں کے فیصلوں پر نگاہ ڈالی
ہراس، تاریکیوں کے گنبد میں قہقہوں کے مہیب کوندے اُگل رہا تھا
ہمارے رخسار تربتر تھے
سفید روحوں نے اور میں نے
وقت کی خوں گرفتہ رُوحوں کا غم منایا
ہماری پرچھائیاں بغل گیر ہو کے فریاد کر رہی تھیں
“ایاہ حزناہ و احز یناہ”
ہماری پرچھائیوں کے مابین ایک آواز اپنے قامت کے اُسطوانے
پہ شعلہ زن تھی
“میری نفرت کا رنگ نامہرباں ہے
اور اس کے حاشیے سرخ اور گہری سیاہ سمتوں میں پھیلتے ہیں
میں اُن کی آبادیوں پہ جھپٹوں گی
اُن کے محلوں کو چاب جاؤں گی
اُن کی راہوں کو ساری سمتوں سے کاٹ دوں گی
مرے عقب میں دریدہ ملبوس داد خواہوں کا سِیلِ سیال آ رہا ہے”

Art Work: Danish Raza

Categories
شاعری

اَلایَلَلّی

[blockquote style=”3″]

جون ایلیا کی یہ طویل نظم ‘نئی آگ کا عہد نامہ’ ہے جسے جون نے “راموز” کا نام دیا۔ اس نظم کے ہر حصے کے لیے جون نے “لوح” کی اصطلاح استعمال کی۔ ہم محترم خالد احمد انصاری کے ممنون ہیں کہ انہوں نے لالٹین کے قارئین کے لیے ان الواح کی اشاعت کی اجازت دی۔ یہ لالٹین کے لیے اعزاز کی بات ہے کہ اسے ان الواح کی اشاعت کا موقع مل رہا ہے۔ خالد احمد انصاری 1991 سے 2002 کے درمیان جون ایلیا کے نہایت قریب رہے۔ آپ نے جون کا کلام اکٹھا کیا اور اس کی اشاعت کا اہتمام بھی کیا۔ “راموز” کی ایک اور خاص بات اس میں شامل الواح کے لیے دانش رضا کی تصویر کشی ہے۔ دانش رضا کے اجداد امروہہ سے تھے، آپ نے ابلاغِ عامہ اور فائن آرٹس کی تعلیم حاصل کی۔

[/blockquote]

راموز میں شامل مزید الواح پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
اَلایَلَلّی
مرے اِدھر ہی نہیں اُدھر بھی، مرے وَرے ہی نہیں پرے بھی
جو دیکھنے اور دکھائی دینے میں ہے (وہ جو بھی ہے) میرا قاتل ہے
اور میں ہوں جو ہر طرف قتل ہو رہا ہے
میں اپنے چاروں طرف سے کتنی ہی اپنی لاشوں کا انبوہ سَہ رہا ہوں
میں اپنے بیروں کے اندروں میں نڈھال ہوں اور ڈھے رہا ہوں
مرے جنازے اٹھائے جاتے ہیں، مرے کاندھوں پہ لائے جاتے ہیں
کہاں کہاں دفن ہو رہا ہوں
ہزار لاشوں کا اک جنازہ، کہاں کہاں دفن ہو رہا ہے
یہ مرنے والے عجب ہی کچھ تھے (یہ مرنے والے)
اَلایَلَلّی، اَلایَلَلّی
میں اپنے ہر دفن سے، کفن سے، وجود کا اِک نیا بہانہ اُچک رہا ہوں
(یہ مرنے والا عجب ہی کچھ ہے)
مجھے مری ریزہ ریزہ لاشوں نَو بہ نَو کالُبد ملے ہیں
یہ سب کے سب جا چُکیں تو میں اپنی قبر کھودوں
کہ قبر میری بجز مرے اور کون کھودے گا؟
چلے گئے سب، یہ مرنے والے چلے گئے سب؟
تو، لے میں اب اپنی قبر کھودوں
اور اپنی لاش اپنے آپ میں۔۔۔۔۔ اپنے زندہ سینے میں دفن کر دوں
میں مر چکا ہوں، میں جی اُٹھا ہوں
اَلایَلَلّی، اَلایَلَلّی

Art Work: Danish Raza

Categories
شاعری

لوحِ وجود

[blockquote style=”3″]

جون ایلیا کی یہ طویل نظم ‘نئی آگ کا عہد نامہ’ ہے جسے جون نے “راموز” کا نام دیا۔ اس نظم کے ہر حصے کے لیے جون نے “لوح” کی اصطلاح استعمال کی۔ ہم محترم خالد احمد انصاری کے ممنون ہیں کہ انہوں نے لالٹین کے قارئین کے لیے ان الواح کی اشاعت کی اجازت دی۔ یہ لالٹین کے لیے اعزاز کی بات ہے کہ اسے ان الواح کی اشاعت کا موقع مل رہا ہے۔ خالد احمد انصاری 1991 سے 2002 کے درمیان جون ایلیا کے نہایت قریب رہے۔ آپ نے جون کا کلام اکٹھا کیا اور اس کی اشاعت کا اہتمام بھی کیا۔ “راموز” کی ایک اور خاص بات اس میں شامل الواح کے لیے دانش رضا کی تصویر کشی ہے۔ دانش رضا کے اجداد امروہہ سے تھے، آپ نے ابلاغِ عامہ اور فائن آرٹس کی تعلیم حاصل کی۔

[/blockquote]

راموز میں شامل مزید الواح پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

لوحِ وجود
میں سو رہا تھا
میں جوں ہی جاگا اور آنکھ کھولی تو دیکھتا ہوں
کہ میرے سینے پہ شہر تعمیر ہو چکا ہے
مرے بدن میں اِدھر اُدھر آہنیں سلاخیں گڑی ہوئی ہیں
کہ مجھ میں شہتیر نصب ہیں جو بلند ہوتے چلے گئے ہیں
میرے ہاتھوں، ہتھیلیوں اور سارے ڈھانچے پہ اینٹ پتھر پڑا ہوا ہے
اور اس پہ روڑا کُٹا ہوا ہے
اور اس پہ قیر و کزف کہ تہ ہے
پھر اس پہ سنگیں پَرَت جما ہے کہ جس میں قیر و کزف کے ٹانکے
لگے ہوئے ہیں
یہ کوی و برزن کے سلسلے ہیں جو پھیلتے ہی چلے گئے ہیں
بہم فشار آوری کا از ہم گستہ غوغا مری سماعت پہ یاں سے پیہم
شدید پتھراؤ کر رہا ہے
شکستہ ڈھانچوں کے خُن خُنے سائے اپنے کاندھوں پہ نیلے دھبّوں کا بوجھ اٹھائے
سیاہ جھونجل میں خُن خُناتے، خبیث مخروط پوش خُنگروں کے آگے پیچھے
گِھسٹ رہے ہیں
یہ زندہ بنیاد شہر ہے اور میں اس کے نیچے دبا پڑا ہوں
وہ کون ہے جو مجھے نکالے
وہ کون ہے جو مجھے نکالے

Art Work: Danish Raza

Categories
شاعری

لوحِ طمع – جون ایلیا

[blockquote style=”3″]

جون ایلیا کی یہ طویل نظم ‘نئی آگ کا عہد نامہ’ ہے جسے جون نے “راموز” کا نام دیا۔ اس نظم کے ہر حصے کے لیے جون نے “لوح” کی اصطلاح استعمال کی۔ ہم محترم خالد احمد انصاری کے ممنون ہیں کہ انہوں نے لالٹین کے قارئین کے لیے ان الواح کی اشاعت کی اجازت دی۔ یہ لالٹین کے لیے اعزاز کی بات ہے کہ اسے ان الواح کی اشاعت کا موقع مل رہا ہے۔ خالد احمد انصاری 1991 سے 2002 کے درمیان جون ایلیا کے نہایت قریب رہے۔ آپ نے جون کا کلام اکٹھا کیا اور اس کی اشاعت کا اہتمام بھی کیا۔ “راموز” کی ایک اور خاص بات اس میں شامل الواح کے لیے دانش رضا کی تصویر کشی ہے۔ دانش رضا کے اجداد امروہہ سے تھے، آپ نے ابلاغِ عامہ اور فائن آرٹس کی تعلیم حاصل کی۔

[/blockquote]

راموز میں شامل مزید الواح پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

لوحِ طمع

[/vc_column_text][vc_column_text]

ملامتوں اور نفرتوں کے سوا مرے پاس اور کیا ہے
اور اِن دیاروں میں جو بھی رمز آگہی کے ایما پہ اپنا سینہ جلا رہے ہیں
جو اپنے غصوں کو آپ سہتے ہیں اُن کا سرمایہ اور کیا ہے
یہ وہ تبرک ہے جس کو لینے کے واسطے کوئی کیوں بڑھے گا
جو خون کے گھونٹ پی رہا ہے وہ جانتا ہے کہ نسلِ آدم کی سزا کیا ہے
میں چاہتا ہوں کہ نسلِ آدم کے ہر ٹھکانے کو
ناخنوں سے کھُرچ کے رکھ دوں
لبوں کی جنبش کا پردہءِ گوش سے جو رشتہ ہے اس میں کیا ہے
جو بولتا ہے وہ کرتبی ہے’ جو سن رہا ہے وہ مطلبی ہے

Art Work: Danish Raza
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

لوحِ آمد – جون ایلیا

[blockquote style=”3″]

جون ایلیا کی یہ طویل نظم ‘نئی آگ کا عہد نامہ’ ہے جسے جون نے “راموز” کا نام دیا۔ اس نظم کے ہر حصے کے لیے جون نے “لوح” کی اصطلاح استعمال کی۔ ہم محترم خالد احمد انصاری کے ممنون ہیں کہ انہوں نے لالٹین کے قارئین کے لیے ان الواح کی اشاعت کی اجازت دی۔ یہ لالٹین کے لیے اعزاز کی بات ہے کہ اسے ان الواح کی اشاعت کا موقع مل رہا ہے۔ خالد احمد انصاری 1991 سے 2002 کے درمیان جون ایلیا کے نہایت قریب رہے۔ آپ نے جون کا کلام اکٹھا کیا اور اس کی اشاعت کا اہتمام بھی کیا۔ “راموز” کی ایک اور خاص بات اس میں شامل الواح کے لیے دانش رضا کی تصویر کشی ہے۔ دانش رضا کے اجداد امروہہ سے تھے، آپ نے ابلاغِ عامہ اور فائن آرٹس کی تعلیم حاصل کی۔

[/blockquote]

راموز میں شامل مزید الواح پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

لوحِ آمد

[/vc_column_text][vc_column_text]

میں آگیا ہوں
خدا کا بھیدی، تمہاری بستی میں آ گیا ہے
میں آدمی اور خدا کے بیچ اک بچولیا ہوں
کہا گیا ہے
نہ ہونے والے کو ہونے والوں کے دُکھ نہ سونپو
نہ ہونے والوں کو ہونے والوں سے شرم آتی ہے
کہا گیا ہے کہ میں جو اب تک کہیں نہیں ہوں اگر ہُوا بھی
تو میں کسی کا خدا نہ ہوں گا

Art Work: Danish Raza
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]