لوحِ وجود

جون ایلیا: یہ زندہ بنیاد شہر ہے اور میں اس کے نیچے دبا پڑا ہوں
وہ کون ہے جو مجھے نکالے
وہ کون ہے جو مجھے نکالے
وہ کون ہے جو مجھے نکالے
وہ کون ہے جو مجھے نکالے
لوحِ طمع — جون ایلیا

جون ایلیا: جو خون کے گھونٹ پی رہا ہے وہ جانتا ہے کہ نسلِ آدم کی سزا کیا ہے
میں چاہتا ہوں کہ نسلِ آدم کے ہر ٹھکانے کو
ناخنوں سے کھُرچ کے رکھ دوں
میں چاہتا ہوں کہ نسلِ آدم کے ہر ٹھکانے کو
ناخنوں سے کھُرچ کے رکھ دوں
