Categories
نان فکشن

وراداتِ کلبی بسلسہ ہائے فروغ کلبی: قسط اول (اسد رضا)

[divider]حالتِ دل، کہ تھی خراب،اور خراب کی گئی[/divider]

ہمارا ایک یار جانی جو کہ دانشور بھی ہے۔ جب ہم نے پایا کہ اُس کے کتے کی شہرت اُس کتے سے زیادہ ہو چکی ہے تو ہم نے فوراً ارداہ باندھا کہ دنیا کو اس کت شناس سے مزید روشناس کروایا جائے۔ ویسے بھی بکر کا کہنا ہے ‘جانی! کسی حسین عورت کو کسی کتے کے ساتھ دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے میری ذاتی حق تلفی ہوئی ہے’۔‘’ بکر کے بارے میں کچھ لکھتے ہوئے مجھے تامل ہوتا ہے کہ دنیا حاسدان بد سے خالی نہیں اگر کسی نے کہہ دیا کہ ہم نے تو اس شخص کو کبھی بکر کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے نہیں دیکھا تو کون ان کا اُنگوٹھا پکڑ سکتا ہے۔ پھر بعض باتیں ایسی ہیں کہ لکھتے ہوئے خیال ہوتا ہے کہ آیا یہ لکھنے کی ہیں بھی یا نہیں’’ اس پارچے کو لکھنے کا بنیادی سبب تو بکر کی کلبی حالت سے متعلق معاشرے کو متنبہ کرنا ہے مگر ہو سکتا ہے تحریر کے دوران کچھ مزید شقی الکلب شخصیات کی تشفی ہو جائے۔

بدھا سا بے چین دل لئے ٹکے کے صبر سے محروم وہ دوزخی روح کب میری روح سے متصل ہوئی سن و سال لکھنے کا یارا نہیں۔ ویسے بھی جہنم میں ابدیت فیصلہ کن سزاہے یا کیفئت اس پر ہم آج تک متفق نہیں ہو سکے۔ یہ لگ بھگ ایک دہائی پہلے کی بات ہے کہ “اقبال اور ختم نبوت” جیسے عبث موضوع پر منعقد ایک سیمنار میں میری اس سے پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ اس پر ان دنوں سرخ رنگ غالب تھا اور میری سرخی ماند پڑ چکی تھی اور کالک میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ یہ وہ شاید پہلا اور آخری موقع تھا جب ہم نے نہایت پرجوش انداز میں سرخ انقلاب کی بابت گفتگو کی تھی۔ اس کے بعد وقفے وقفے سے ملاقاتوں کا ایک دور شروع ہوا۔ یہی وہ دور تھا جب بکر پر جنسی اور فلسفیانہ ہشیاری وقفے وقفے سے طاری رہتی تھی کہ پہچان مشکل تھی کہ وہ لمحہ موجود میں کس جذبے کے زیر اثر ہے۔ اس کا حل یار لوگوں نے یہ نکالا کہ دیکھا جائے کہ وہ کس لمحے کون سے بال کُھجا رہا ہے۔ اس زمانے کو شوذب تلاش النسا کا دورقرار دیتا ہے۔ بکر اس زمانے میں عموماً کہا کرتا تھا یار جانی کوئی ایسی بات کر کے کانوں سے لیس دار مادہ نکلنے لگے جس پر ہم انہیں سمجھاتے کہ اس کی خواہش بیجا نہیں۔ رطوبت کا انتخاب بھی عمر کے مطابق ہی ہے مگر خدارا جائے اخراج کی بابت تھوڑی درستی کر لے۔ بہرحال ان دنوں ہم نے اپنی ہر جاننے والی دوست سے التجا کی کے وہ التفات کا رخ بکر کی سمت موڑ لے مگر یہاں بھی بکر نے حرمزدگی سے کام لیا کہ کسی بھی عورت سے بات کرتے ہی کچھ ایسی حرکتیں شروع کر دیتا جو کسی شہدے عاشق ہونے کی خبر دیتی سو تمام خواتین کنی کترا کے نکل جاتیں اور بکر ہمیں عورت کی عظمت سے متعلق نطشے کے اقوال سُنا کر اپنا غم غلط کرتا شوذب اس دوران مختلف مقامات پر حضرت علی کے اقوال ٹانکتا رہتا۔ شوذب کا مسئلہ یہ ہے کہ اسے بہر طور بولنا ہے جب اس کے پاس بولنے کے لئے کچھ بھی نہ ہو تو عربی گردانیں دُہرائے گا یا درجہ دوئم کی اردو کی کتاب کی نظمیں سنانے لگے گا۔

قصہ مختصر یہ کہ آخرکار فون پر بکر کا ایک خاتون سے معاشقے کا آغاز ہو گیا جو سرگودھا یونیورسٹی میں شعبہ کیمسٹری کی طالبہ تھی۔ اگرچہ ایسے ناہنجار مضمون کی طالبہ سے کسی بھی قسم کی پینگیں بڑھانے پر ہم تو سخت معترض تھے مگر بکر تھا کہ مان کے ہی نہیں دے رہا تھا۔ ایک صبح ملاقات کا وقت طے کیا جانے لگا۔ اس دوران وہ خاتون مخلف زاویوں سے بکر سے سوال کرنے لگی اور بکر اپنی فہم کے مطابق اس کے جواب دے کر اس کو مطمئن کرتا رہا۔ یکایک اس نے پوچھا ‘’ ابوبکر آپ دیکھنے میں کیسے لگتے ہو’’ اب بکر نے میری سمت دیکھا، میں نے اس کی سمت دیکھا پھر ہم دونوں دیوار کی سمت دیکھنے لگے۔ میں نے اور بکر نے اپنے اپنے طور پر بکر کی ہیت سے متعلق غور کرنا شروع کر دیا۔ میں اس بات کا نہایت شرمندگی سے اقرارکرتا ہوں کہ پہلے پہل تو میرے دماغ کچھ حشرات کا تصور گردش کرتا رہا پھرمیں نے بددقت اس خیال قبیح سے پیچھا چھڑایا اور اس ذہنی کمینگی پر دو حرف بھیجے۔ خیر جب ہم انفرادی طور پر کوئی حل سوچ نہ پائے تو ہم نے اجتماعی طور پر اس مسئلے سے عہدہ برا ہونے فیصلہ کیا۔ کافی غوروخوص اور طرفین کے دلائل کی روشنی میں اس نتیجے پر متفق ہوئے کہ بکر کم ازکم ایک دو پایہ حیوان ہے۔ ہم نے دیگر تفصیلات میں جانا غیر ضروری خیال کیا اور موصوفہ تک اپنا نتیجہ پہنچایا۔ بات یہیں تک رہتی تو خیر تھی لیکن وہ ظالم تو دخل در دیگر معاملات بھی کرنے لگیں۔ سب سے پہلے تو اس نے ملاقات کے حوالے سے چند ضروری ہدایات بکر کے گوش گزار کیں کہ ملاقات کے لئے بکر کو کم سے کم منہ دھو کر آنا ہو گیا۔ ڈریس پینٹ پہننی ہو گی اور شرٹ کے بازو کے بٹن بند ہو ں گے نیر شرٹ اور دیگر اشیا پینٹ کے اندر رہیں گی۔ اس کے علاوہ دوران ملاقات شرٹ کا اوپر والا بٹن، بکر کا منہ اور پینٹ کی زپ بند رہنی چاہیے۔مزید براں یہ کہ ملاقات کے خاتمے تک بکر کے سر کے بال بھی کھڑے نہیں ہونے چاہیں۔ ہمارا ماننا تھا کہ ایسی رذیل شرائط رکھنے والی لڑکی سے ملنا ہی شرف مردانگی کے خلاف ہے مگر بکر کے سر ان دنوں مادہ حیات سوار تھا اور وہ اس کا اخراج باوسیلہ مادہ ہی کرنے پر بضد۔ ہم نے ہر چند بکر کی توجہ ایک اور معقول مادہ حیوان کی طرف کروانا چاہی مگر اپنے سوشلسٹ خیالات کی بنا پر وہ کسی محنت کش کلاس کے نمائندہ جانور کا استحصال کرنے پر کسی طور آمادہ نہیں تھا۔ بہرطور یہ ملاقات اختتام پذیر ہوئی۔ خدا جانے اس ملاقات میں کیا بیتی ہم نے تو بکر کی شکل دیکھ کر کچھ بھی اندازہ لگانے سے قصداً خود کو روک دیا مگر بس سٹاپ پر موجود دعوت اسلامی کے کسی بھائی نے مسکراتے ہوئے “جلق لگانے کے نقصانات ” کے عنوان سے ایک کتابچہ بکر کو زبردستی تھما دیا بکر کچھ چوں چراں کرنا ہی چاہتا تھا کہ میں نے اس کی توجہ صاحب کتاب کے ہاتھوں میں موجود دوسری کتا ب “اغلام بازی سے بچاو کے مدنی طریقے” کی طرف کروائی تو اس کا جوش کچھ ٹھنڈا پڑا۔ میرا خیال ہے کہ یہ عشق جلد ہی اپنی موت آپ مر گیا اور دعوت اسلامی کی کتاب بھی بکر کے ہاتھ باندھنے میں ناکام قرار پائی۔ بہرحال بفضل خدا اسی عرصے کے دوران بکر کو جنسی تجربے کا موقع ملا جس سے پہلے وہ میرے پاس آیا اور کہا جانی نیلی گولی درکار ہے میں اپنے پہلے تجربے کا کو یادگار بنانا چاہتا ہوں۔ ہم ہرگز اس کو گولی دینے کے طرفدار نہ تھے مگر کچھ عرصہ پہلے ہمارے ایک اور معتبر دوست کے ساتھ ایک ناخوشگوار واقعہ گزرا تھا کہ وہ جب رن سے نامراد لوٹے تھے اور ہمارے استفسار پر فرمایا تھا “نادان گر گیا سجدے میں جب وقت قیام آیا”۔ ایسے ہی خطرے کے پیش نظر ہم نے بکر کو گولی دلوا دی۔

ہماری ملاقاتیں چلتی رہیں۔ میری اور بکر کی ان ملاقاتوں میں کبھی کبھار شوذب، راجہ سمرہ، اسد کاظمی اور ملک عبدالعزیز شامل تھے۔ یہ تمام احباب حق رکھتے ہیں کہ ان پر الگ سے باب لکھے جاویں۔ ان ملاقاتوں میں مذہب، فلسفہ، سائنس، ادب، نفسیات وغیرہ کے مضامین پر گپ شپ لگتی۔ کبھی کبھار ہم ادریس آزاد کے بیکراں علم سے کماحقہ فیض حاصل کرنے کے لئے ڈیڑھ رات خوشاب میں بھی بسر کرتے۔ بکر اور میں اعلانیہ لادین تھے سو کاظمی کا جابرانہ، ادریس کا منافقانہ، سمرہ کا مدافعانہ اور شوذب کا ڈھکوانہ اسلام ہم پر چاروں طرف سے یلغار کر دیتا اور بکر اس سے بچنے کے لئے علم کا چراغ بجھا دیتا اور چرس کا دیا روشن ہو جاتا پھر نہ کوئی بندہ رہتا نہ بندہ نواز۔ ان میں سے ہرصاحب کی ضد تھی کہ اسے اسلام پر اتھارٹی سمجھا جائے۔ ادریس آزاد کہیں سے فلسفیانہ دلیل لاتا تو کاظمی اس کا نطفائی توڑ پیش کرتا۔ شوذب کا ماننا تھا کہ دین کے معاملات میں اُسے حجت تسلیم کیا جائے چونکہ وہ ڈھکو صاحب کی گود میں بالغ ہوا ہے (یا مظہر العجائب)۔ کاظمی کی موجودگی بکر کو سخت جز بز کرتی کہ کاظمی جنسی اعضا کا نام بھی عربی میں سننے کا عادی تھا۔ اس کی موجودگی میں لطائف میں موجود جنسی اعضا بھی پردوں کے اندر چھپ کر کلبلانے لگتے اور ایسی مقدس عریانی کا دور دوراں ہوتا جس کا تصور صرف جنت میں کیا جا سکتا ہے۔ اوائل کے سلسلہ ہائے گفتگو میں ایک بار بکر پوری شدت سے گویا ہوا “یار یہ کچھ غیر منطقی نہیں لگتا کہ کچھ پل میں کئے گئے گناہوں کی سزا ابدی جہنم ہو” کاظمی بولا فکر نہ کر منطقیوں کے لئے دوزخ میں مخصوص سزا وں کا بندوبست کیا جاوئے گا۔ ہم مادہ اور شعور اور ان کے باہمی تعلق پر فلسفہ بگھار رہے ہوتے کہ شوذب کی آواز گونجتی” ٹوٹ بٹوٹ کے دو مرغے تھے دونوں تھے ہوشیار”۔ اس کے بعد بغیر کوئی پہلو بدلے تھوگ اگلتے شوذب لگ بھگ پچیس نظمیں سُنا کر بس کرتا۔ اس گفتگو کا خاتمہ باہمی طور پر کسی نا کسی بڑی کائناتی حقیقت کو مان کر ہوتا مثلاً” یوں تو چھوٹی ہے ذات بکری کی ” یا پھر “نہیں کوئی شے نکمی قدرت کے کارخانے میں”۔ اکثر یوں بھی ہوا کہ رات بھر ہم “پیپل کے پتے گرتے رہیں گے ” جیسے آفاقی طرح مصرعہ پر قافیہ پیمائی کرتے رہے۔

جیسے جیسے رات گزرتی جاتی تھی ہمارے موضوعات پیچیدہ سے پیچدہ تر ہوتے چلے جاتے۔ تاریخ کے کسی نکتے سے شروع ہونے والی بحث الہیات سے ہوتی ہوئی زمان و مکاں کی گتھیاں کھولتے کھولتے متوازی دنیاوں اور مصنوعی ذہانت کے خدوخال تک جا پہنچتی۔ بات ہیگل کے بینگ اور نتھنگنس سےبڑھتے ہوئے سارتر کے بینگ اور ایگزسٹنس تک جا پہنچی۔ نطشے کا سپر مین کیرکیگارڈ کا تباہ حال شخص بن چکا ہے۔ اس دوران کتنے ہی کپ چائے اور سگریٹ پی جاتی۔ اب ہماری گفتگو کسی قدیم مصحف کی طرح بوسیدہ، بوجھل اور محض قابل احترام رہ جاتی سو ہم اسے عقیدت سے طاق پر جون ایلیاء کی کتب کے بغل میں رکھ دیتے۔ اب رات کے سائے گہرے ہو چلے ہیں۔ یکایک گفتگو میں خاموشی کا پل آ گیا ہے۔ وجودی کرب گہرا ہو چلا ہے۔ شوذب سو چکا ہے۔ میں اور بکر خاموش ہیں۔ شاید واقف ہیں کہ اب مزید گفتگو نہیں ہو سکتی۔ رحم طلب نظروں سے ایک دوجے کو دیکھتے۔ آہ کہ کوئی چارہ نہیں۔ وائے افسوس کہ کوئی چارہ گر نہیں۔ سب گفتگو لا یعنی ٹھہری ہے۔ رات بلکنے لگتی۔ شعوری دھوکا ہاتھ چھڑانے لگتا۔ ہم اپنے اپنے سایوں میں تحلیل ہونے لگتے۔ میں چور نظروں سے اس کی سمت دیکھنے لگتا۔ اگر یہ رو دیا تو کیا ہو گا۔ رات کی تاریکی میں مسیحائی کا بھیانک فریب دینا نہیں چاہتا تھا۔

صبح ایسے آنکھ کھلتی کہ جیسے رات کو رو کر سونے والا بچہ سب بھول چکا ہوتا ہے۔ شب بھر تلاش خدا کے تھکے مارے جسم تلاش مسجد کو نکل پڑتے۔ بے شک مسجد ہی رافع حاجات ہے۔ میں آج تک یہی سوچتا ہوں کہ بیت الخلاء کے دروازے کے باہر باری کے انتظار میں کھڑا دوست کیا سوچتا رہتا ہو گا۔جب کہ اندر والے کی تمام سوچ اس جمع تفریق پر خرچ ہوتی ہے کہ لوٹے میں پانی کی دستیابی کس سطح پر ہے اور اس سے کس عضو کو کس حد تک دھویا جا سکتا ہے اور کون سے اعضاء ایسے ہیں جنہیں دھوئے بغیر بھی کام چل سکتا ہے۔ ابوبکر کا اس سلسلے میں ماننا ہے کہ اگر اس ہاتھ کو نہ دھویا جائے جس سے کل ہم نے اپنا نامہ اعمال تھامنا ہے تو یہ مالک یوم الدین کے خلاف ایک قسم کا شریفانہ احتجاج ہو گا۔ صبح سویرے میں اور بکر اس کے گھر کے قریب واقع جنگل میں جا بیٹھتے جہاں میں بکر کے مستقبل کے حوالے سے نہایت رقت انگیز پیشنگوئیاں کرتا جس پر وہ آنکھوں اور منہ میں آئی ہوئی نمی کو نہایت عقیدت سے سگریٹ پر لگاتے ہوئے کپکپاتے لہجے میں کہتا ” یار تیرے جانے میں تین گھنٹے رہ گئے ہیں اور سگریٹ صرف دو باقی ہیں”۔

اسی دور کی بات ہے کہ بشیر حیدر میرے اور بکر کے پاس ایک شاعر کو لایا کے زرا اس کی ٹیونگ تو کر دو۔ خیر ہم اس کو لئے کر خوشاب دریا کے کنارے بیٹھ گئے اور مختلف موضوعات پر بات شروع ہو گئی۔ یہی کوئی رات بارہ سوا بارہ کا وقت ہو گا ک ایک پولیس وین پاس آ کے رکی۔ دو مشٹنڈے ہماری پاس آئے اور بولے رات کے اس وقت کس تخریب کاری کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔ ہم نے پُرامن شہری ہونے کی لاکھ یقین دہانی کرانی چاہی مگر بے سود۔ وہ بولے چلو اٹھو بھاگو یہاں سے۔ اس پر بشیر حیدر آگے بڑھا اور بولا ” قبلہ جانے دیں بچے ہیں۔ میں خود ایک استاد ہوں”ایک پولیس والا آگے بڑھ کر پہلے تو بشیر حیدر کو اوپر نیچے سے گھورنے لگا مگر جب اس نے پشیر کے وجود میں کوئی قابل گرفت چیز نہ پائی تو کہنے لگا ابے استاد دو منٹ سے پہلے پہلے یہاں سے نکل ورنہ ساری استادی گا۔۔۔ کے راستے نکال دوں گا” بشیر حیدر اس واقعے کے بعد اکثر کہتا ہے اگر ان کی چشم تخیل مستقبل میں جھانک سکتی اور انہیں پتہ چلتا کہ مستقبل میں بکر نے بھی استاد بننا ہے تو وہ میرے ساتھ اس قدر تحقیر آمیز رویہ اختیار نہ کرتے۔ وہاں سے جب اس طور اٹھائے گئے تو نجانے کیوں مجھے پطرس بخاری کا مضمون کتے پوری شدت سے یاد آنے لگا۔ ماحول کی مطابقت کے علاوہ بکر کی موجودگی بھی اس احساس کو تیز کرنے کی ایک بڑی وجہ تھی۔ خیر ہم دریا کے کنارے سے اٹھ کر ایک نامعقول سے ہوٹل کے بیت الخلاء کے سامنے کرسیاں ڈال کر بیٹھ گئے اور گفتگو کا سلسلہ وہیں سے شروع کیا جہاں سے وہ ٹوٹا تھا۔ میں بولا “یار تجھے نہیں لگتا کہ خدا کا علم اور قدرت باہم متضاد ہیں” اس پر بشیر نے ٹھنڈی سانس اور بکر نے سگریٹ بھرتے ہوئے مری سمت دیکھ کر کہا۔ “یار خدا کا تو پتہ نہیں پر ہمارا علم اور قدرت تو باہم دست و گریباں ہیں”۔ ہماری اکثر محفلیں اسی طرز اختتام کو پہنچتیں۔

جیسے جیسے بکر کی عمر بڑھ رہی تھی اس کی ذہنی پیچیدگیوں میں اضافہ ہو رہا تھا جس کا بڑا سبب فلسفہ اور جون ایلیا کی شاعری تھی۔ اس وجودی کرب نے بکر کو ادھ موا کر دیا تھا اس کی ذہنی حالت قابل رحم ہوتی جا رہی تھی۔ یہاں تک کہ اس کے سائکاٹریسٹ کے سیشن شروع ہو گئے۔ ایک وقت تو اسے باقاعدہ اسپتال میں داخل ہونا پڑا۔ اس دور میں ہم نے حق دوستی ادا کرتے ہوئے اسے استپال کے بستر پر کافکا کی کہانیاں پیش کیں تا کہ اس کا بیڑہ غرق ہونے میں کوئی کسر نہ رہ جائے مگر بدبخت سخت جان تھا اسے بھی سہار گیا۔ بکر گھنٹوں اپنی نشست پر بیٹھا خلاوں کو گھورتا رہتا ایسے میں اکثر سگریٹ اس کی انگلیوں میں دبی دم توڑ جاتی۔ اس کا بولنا چلنا بہت کم ہو گیا تھا۔ ایسے ہی ایک دن اس کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ بکر نے عالم محویت میں میری ران کھجانی شروع کر دی جب اس کا ہاتھ نامعقولت کی سطح سے کچھ آگے بڑا تو ہم نے ٹہوکا دیا مگر قبلہ شاید جسمانیات سے مبرا ہو چکے تھے سو اُسی طرح مشغول رہے۔ بلا آخر ہم پکارے “حضور یہ میری ران ہے” تس پر چند لمحوں نیم وا آنکھوں سے ہماری سمت دیکھا پھر عالم بالا میں دیکھتے ہوئے فرمانے لگے “میاں کیا فرق پڑتا ہے” ہم نے کہا حضور بادشاہ ہیں مگر خادم کو فرق پڑتا ہے’’ اب اس نے قدرے ناگواری سے اپنا ہاتھ میری ران سے اٹھا کر ساتھ بیٹھے شوذب کی ران کھجانی شروع کر دی۔ جس پر میں نے اپنی آنکھیں چرا لیں اور شوذب نے بند کر لیں۔ بکر کے ابا نہایت مذہبی قسم کے شب زندہ دار آدمی ہیں وہ اپنے اکلوتے بیٹے کی اس حالت پر سخت مشوشش تھے میں انہیں کیسے سمجھاتا کہ جب جوان بیٹے کی کلائیاں سگریٹوں سے دغدار ہوں تو پیشانی سجدوں کے داغوں سے آلودہ کرنے سے غم کم نہیں ہوتے۔ ایک دن جب وہ بستر پر سویا ہوا تھا اور اس کی رالوں نے تکیے کو بھگو رکھا تھا اس کے ابا کمرے میں آئے بکر کے چہرے سے رخ پھیرتے ہوئے بمشکل آنسووں چھپاتے ہوئے ان کی نظر طاق پر پڑی جون ایلیا کی کتابوں پر پڑی تو کہنے لگے “اس بہن چود نے میرے بیٹے کو تباہ کر دیا ہے”۔ جون کے لئے ایسا خراج عقیدت خاکسار نے کم سے کم پہلے کبھی نہیں سُنا تھا جو جون کی اثر پذیری پر ایسی مہر ثبت کرتا ہو۔

ایک دفعہ میں شاہپور سے بکر کی امی کے ساتھ سرگودھا آیا تھا ڈائیو بس سٹاپ سے بکر کا کچھ سامان لینا تھا۔ اب میں اور آنٹی شاہ پور سے سرگودھا ولی ویگن پر بیٹھ گئے۔ تیس منٹ کے اس سفر میں آنٹی نے کم سے کم چالیس مرتبہ مجھ سے پوچھا “:پتر بوتل پینی اے” اور میں ہر دفعہ شکریہ کہہ کر انکار میں سر ہلا دیتا۔ بعد میں بکر سے جب بات ہوئی تو وہ ناسٹلیجا کی کیفئت کا شکار ہو گیا کہنے لگا” یاراتنے سالوں بعد یاد آیا کہ کبھی بوتل سے مراد محض سوڈا کی بوتل ہوا کرتی تھی۔ افسوس کے ہم بڑے ہو گئے مگر ہمارے والدین بڑے نہ ہو سکے” اس پر میں نے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ چلو کوئی بات نہیں بڑے ہونے کے ناطے ہمیں ان کی غلطیوں سے درگزر کرنا چاہیے۔ ان واقعات کا تذکرہ اس لئے بھی کیا کہ یہ بتایا جا سکے کہ اگر بکر میں معصومیت کی ایک رمق باقی ہے وہ محض جنیاتی ہے۔

اب بکر بڑا ہو رہا تھا اور اس سے ملاقاتیں کم پر ہمیں کیا خبر تھی کہ اس کی نحوست اسلام آباد اور اس کے گردونواح میں پہنچنے والی ہے۔
(جاری ہے)

Categories
فکشن

مُردوں کا روزنامچہ (اسد رضا)

موت کے قیدی کی گفتگو سے زیادہ اداس کیا چیز ہو سکتی ہے سوائے اس کی خاموشی کے۔ میں پچھلے تیس سال سے سنٹرل جیل میں سزائے موت کے قیدیوں کے روزنامچے لکھنے پر مامور ہوں۔ میں پچھلے تیس سال سے ایک پل کے لئے بھی نہیں سویا کیونکہ ایسے میں بہت سی قیمتی معلومات کھوجانے کا اندیشہ تھا۔ میں سزائے موت ہو جانے سے لے کر پھندے پر جھول جانے تک کے عرصے کی سبھی جزئیات اپنے بڑے سے سیاہ رجسٹر میں لکھتا ہوں۔ اب تک بلا مبالغہ سینکڑوں موت کے قیدیوں کی آخری دنوں کی تفصیلات کا اندراج کرچکا ہوں۔ میں اتنا با برکت ہوں کہ جس قیدی کو بھی ایک دفعہ درج کرلیتا پھر کوئی بھی واقعہ اسے پھندے تک پہنچنے سے نہ بچا سکتا۔ یہاں تک کہ آج تک کسی قیدی کو دل کا دورہ بھی نہیں پڑا تھا نہ ہی کسی قیدی کو کسی دوسرے قیدی نے ہلاک کیا تھا۔ صدر بھی رحم کی اپیلوں پر فیصلہ دینے سے پہلے میرے رجسٹر کی طرف رجوع کرتا ہے۔ میرے اس رجسٹر میں، شاہی خاندان کے افراد، فوجی جرنیلوں، باغیوں، بڑے بڑے ڈاکو، پیشہ ور قاتلوں، سیریل کلرز، غیرت کے نام پر قتل کرنے والے، تفریحاً قتل کرنے والے اور سبھی طرح کے لوگوں کے آخری ایام کے حالات قلم بند ہیں جن کو سزائے موت سنائی گئی تھی۔ میں نے ان کو چیخ و پکار سے لےکر بڑ بڑاہٹ تک ہر شے لکھ رکھی ہے۔ میں نے وہ دلاسے، وہ دعائیں، وہ خواہشیں اور وہ معافی نامے سن رکھے ہیں جو قیدی رات کی تنہائی میں سبق کی طرح بار بار دہراتے ہیں۔ موت کا قیدی ایک ہی یاد کو اتنی بار دہراتا ہے کہ کوفت ہونے لگتی ہے۔ میں قدموں کی تعداد بھی بتا سکتا ہوں جو قیدی زندان کے اندر چہل قدمی کرتے ہوئے لیتے ہیں۔ کوٹھری سے لے کر پھانسی گھاٹ کا فاصلہ (جس کا حساب معین ہے) اس کو طے کرنے میں کس قیدی نے کتنی دیر لگائی میرے پاس سب درج ہے۔ میں نے اپنے رجسٹر کے باب لڑکھڑاہٹ میں وہ سب تفصیلات لکھی ہیں کہ قیدی جب پھانسی گھاٹ کی طرف جا رہا ہوتا ہے تو وہ کتنی بار لڑکھڑاتا ہے۔ میں قیدیوں کے آنسوؤں کے قطروں سے لے کر کپڑوں میں پیشاب خطاء ہونے تک کی گیلاہٹ کا حساب بھی بخوبی جانتا ہوں۔ دیواروں پر کندہ نام، قیدیوں کی محبوباؤں کے نام، ان کے ناجائز بچوں کی تفصیلات، ان کی آدھی ادھوری تحریریں اور پینٹنگز، ان کے خفیہ وصیت نامے اور ایسی لاکھوں چیزوں کے بارے میں میں مکمل آگاہی رکھتا ہوں۔ میں نے قیدیوں کے وہ اعترافات لکھ رکھے ہیں جو وہ پادریوں کے سامنے کرنے سے گریزاں رہے ہیں۔ کتنے ہی قیدیوں کو میں نے موت سے چند دن بیشتر دونوں ہاتھوں سے مشت زنی کرتے دیکھا ہے۔ اففف ان میں کچھ تو اتنے جنونی تھے کہ اگران کی ریڑھ ہڈی نہ ہوتی تو وہ اپنے دانتوں سے اپنے عضوء تناسل کو چبا جاتے۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ کتنے قیدیوں نے اپنے ملنے والوں کے بعد کتنی دیر تک کوٹھری کی ٹھنڈی سلاخوں پراپنے چاہنے والوں کا لمس ڈھونڈا ہے۔ اس کے علاوہ یہ چیز بھی میرے علم میں ہے کہ صبح سورج کی روشنی سب سے پہلے جیل کے کس حصے پر پڑتی ہے اوراس روشنی کو اپنے وجود کے انتہائی تاریک گوشوں میں اتارنے کے لئے بعض قیدی کتنی مضحکہ خیز حرکتیں کرتے ہیں۔ روشنی ہی پر کیا منحصر میں تو یہ بھی جانتا ہوں کہ باہر کی تازہ ہوا جیل کی جالیوں میں کس حصے میں کتنی دیر بعد قیدیوں تک پہنچتی ہے۔ میں نے قیدیوں کو پورے اشتیاق کے ساتھ باسی بدبودار کھانا کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔ شاید آپ لوگ یہ بات نہ جانتے ہوں مگرایک قیدی کو کھانا کھاتے دیکھ کر اس میں موجود موت کے خوف کو جانچا جا سکتا ہے۔ میں نے رات کی تاریکی میں دعاؤں کو خود کشی کرتے دیکھا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ جب قیدی “چکی” کی سزا کاٹ کر پہلی بار روشنی میں آتا ہے تو وہ ایک معصوم پاگل بچے کی طرح دکھتا ہے۔ وہ یا تو بالکل خاموش ہو جاتا ہے یا جیلر سے بات کرتے ہوئے نہایت منافقانہ خوش اخلاقی سے کام لینے لگتا ہے۔ میرے رجسٹر میں ایک باب “رسومات” کے نام سے ہے جس میں ان تمام رسومات کا ذکر ہے جو موت کے قیدی ایجاد یا دریافت کرتے ہیں۔ ان میں سے سب سے دلچسپ رسم “مکالمہ” ہے۔ اس میں ایک قیدی خود کو دو، تین یا اس سے زیادہ افراد میں بدل لیتا ہے اور سنجیدگی کے ساتھ مکالمہ کرنے لگتا ہے۔ یقین جانیے یہ محض وقت گزاری کے لئے نہیں ہوتا۔ عام طورپر قیدی یا تو اس شخص سے گفتگو کرتا ہے جسے اس نے قتل کیا ہوتا ہے یا پھر اپنے کسی قریبی عزیز دوست یا رشتہ دار سے۔ بعض اوقات وہ اپنے آپ سے بھی مکالمہ کرتا ہے لیکن اس کا تجربہ زیادہ خوشگوار نہیں ہوتا لہذا وہ جلد ہی اسے ترک کردیتا ہے۔ اس کے علاوہ دوسری اہم رسم “پراسرار طاقتوں کا حصول” ہے۔ یہ رسم عام طور پر رات کی تنہائی میں ادا کی جاتی ہے۔ قیدی کافی دیر تک مراقبے میں رہتا ہے اور بنیادی طورپر دو طاقتوں کا حصول چاہتا ہے۔ ماضی میں واپسی یا غائب ہو جانا، کچھ قیدی اسے مرنے کے بعد زندہ رہنے کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں۔ لیکن یہ رسم صرف غیر سنجیدہ قیدیوں ہی میں مقبول ہے۔ اس کے علاوہ کچھ رسمیں جسموں پر نام کندوانے، راتوں کو عریاں پھرنے، کھانے میں پیشاب ملانے وغیرہ جیسی بھی میں نے تفصیل سے درج کی ہوئی ہیں۔ عموماً قیدی موت سے کئی دن پہلے اپنی کوٹھری میں ان مردہ لوگوں کی روحوں سے بات چیت کرتے ہیں جو ان سے پہلے اس کوٹھری کے مکین رہے ہوں۔ میں نے بہت بار قیدیوں سے کہا کہ مجھے بھی اس گفتگو میں شامل کرلو میں اس کی تفصیلات اپنے رجسٹر کے باب بعد از موت میں لکھنا چاہتا تھا پروہ کبھی بھی اس پر تیار نہ ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ مردہ لوگوں کی روح سے بات کرنے کے لئے موت کا قیدی ہونا ضروری ہے۔ میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ میری بور خیس سے ملاقات ہوتی تو میں اسے بتاتا کہ قیدی کے خیالات قلمبند کرتے ہوئے اس سے کہاں کہاں چوک ہوئی، میں سارتر کو بتاتا کہ وہ باغیوں کی گفتگو بیان کرتے ہوئے کس قدر مبالغے سے کام لیتا رہا ہے۔ میں کافکا کو بتانا چاہتا تھا کہ مرتے ہوئے شخص کی آنکھوں کی پتلیاں کس سمت کتنی دفعہ حرکت کرتی ہیں۔ میں وکٹر ہیو گو کو یہ بات بھی سمجھانا چاہتا ہوں کہ ایک موت کے قیدی کو اپنی بچپن سے جوانی تک سب یاد کرنے میں کل چودہ منٹ لگتے ہیں جنہیں چودہ صفحات میں لکھنا ناممکن ہے۔ میں مارکیز کی۔ ٹالسٹائی اور دیگر بے شمار مصنفوں کی غلطیوں کو درست کرنا چاہتا ہوں پر مجھے فرصت ہی نہیں ملتی اور ایمانداری کی بات ہے کہ میں خود بھی ابھی تک سیکھ رہا ہوں۔ ہر قیدی کچھ نہ کچھ ایسا مختلف ضرور کرتا ہے کہ میرے اندازے غلط ہو جاتے ہیں۔ اب میں نے کسی بھی قیدی کے متعلق پیشگی اندازے لگانا بند کردیئے ہیں۔ پچھلے تیس سالوں میں چھ جلاد اور چودہ جیلربدل چکے ہیں۔ تین کوٹھریوں کی از سرِ نو تعمیر ہوئی ہیں، چارکا رنگ و روغن ہوا ہے۔ پھانسی گھاٹ کے لیور کو چھ سو تیرہ مرتبہ تیل دیا گیا ہے اور پھندے کی رسی کی لمبائی میں چار دفعہ کمی بیشی کی گئی ہے۔ اگرچہ یہ سب لکھنا میرے فرائض میں نہیں تھا۔ جیسے ہی کوئی قیدی پھندے پر جھول جاتا ہے میں سگریٹ سلگا لیتا ہوں اور آنکھیں بند کرلیتا ہوں۔ ایسے لمحے بڑے الہامی ہوتے ہیں اگرمیں شاعر ہوتا تو ایسے ہی لمحوں میں شاعری کرتا۔ بعض اوقات جب جیلر اور جلاد سوئے ہوتے ہیں تو میں خاموشی سے پھانسی گھاٹ کی طرف نکل جاتا ہوں۔ میں اس کی ایک ایک شے کو اپنی انگلیوں سے محسوس کرتا ہوں۔ پھندے کی رسی کو چھوتے ہوئے جو کپکپی میرے وجود پر طاری ہوتے ہے میں پہروں اس کی لذت سے سرشار رہتا ہوں۔ میں نے ایک دوبار سوچا کہ اس رسی کو اپنے گلے میں ڈال کر دیکھوں مگرایک انتہائی بزدل شخص ہوں لہذا ایسا کبھی نہیں کرپایا۔

مجھے بتایا جا رہا ہے کہ نئے صدارتی احکامات کے تحت ملک بھر میں سزائے موت کے قانون کو ختم کردیا گیا ہے۔ حکومت میری خدمات کے پیشِ نظر چاہتی ہے کہ اب میں عمر قید کے مجرموں کا روزنامچہ لکھوں پر میں نے معذرت کرلی ہے کیونکہ میں مردہ لوگوں کا روزنامچہ نہیں لکھ سکتا۔ میں اپنا رجسٹر جیلر کے حوالے کرنا چاہتا ہوں مگراُسے اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ایک آخری دفعہ کوٹھری سے پیدل پھانسی گھاٹ تک چل کرجاؤں مگریہ فاصلہ یکایک کئی نوری سال پر محیط ہوگیا ہے اور مجھے لگتا ہے کہ اگرمیں نے چلنا شروع کیا تو میں نہ نظرآنے والی بھول بلیوں میں کھو جاؤں گا اور یہ سفر کبھی طے نہیں ہوپائے گا۔ میں نے جانے کتنے برسوں کے بعد آج آئینے میں اپنی شکل دیکھی ہے۔ میں خود کو پہچان نہیں پا رہا۔ ایسا لگتا ہے کہ بہت سے چہرے میرے چہرے پر تھوپ دیئے گئے ہیں۔ یہ سب بہت خوفزدہ کردینے والا ہے۔ میں نے اپنے رجسٹر کو بغل میں دبایا اور چپکے سے تھانے کی حدود سے باہر نکل آیا۔

میں ٹھیک سے یاد نہیں کرپا رہا کہ کب پہلی دفعہ میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ اب مجھے مرجانا چاہیے۔ شایدسگریٹ پیتے ہوئے یا جیل کا دروازہ کراس کرتے ہوئے یا شاید آخری بارمڑکر دیکھتے ہوئے۔ بہرحال یہ خیال پوری طرح میرے وجود پر طاری ہو چکا تھا۔ جیل کے باہر سڑکوں پر لوگ ایسے سکون سے چل رہے ہیں گویا انہیں صدارتی حکم کی خبرہی نہیں۔ ان کے چہروں پر نہ ہی خوشی ہے نہ کوئی دُکھ۔ میں ان کے چہروں میں آنے والے دنوں کے قاتلوں کا چہرہ ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اب میری نظرایک دم کٹے کتے پر پڑی جو ایک ٹانگ سے لنگڑا کرچل رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ وہ لڑائی کتنی زبردست ہوگی جس میں اس نے اپنی دُم کھوئی ہے۔ یہ یقیناً انا کی جنگ نہیں تھی اور نہ ہی یہ اپنے مالک کو خوش کرنے کے لئے اپنے سے طاقت ورکتے سے لڑا ہو گا۔ بلکہ اسے بقاء کی جنگ کہنا بھی شاید مناسب نہ ہو بلکہ یہ تو محض زندگی کی وحشت تھی جو موت کی خاموشی پر حملہ آور ہوئی تھی۔

چلتے چلتے میں ایک پرانے سے درخت کے نیچے موجود ایک بینچ پر بیٹھ گیا ہوں۔ میں سوچتا ہوں کہ اس درخت کے پاس بھی یادوں کا کتنا عظیم الشان ذخیرہ ہو گا۔ وہ پریمی جوڑا جس نے اس کے سائے میں بیٹھ کر مستقبل کے عہدو پیمان باندھے ہوں گے اور درخت کے کسی حصے پرشاید اپنے نام کندہ کئے ہوں یا وعدے کی یاداشت کے طورپر کوئی سُرخ کپڑا باندھا ہو۔ اب وہ جوڑا اس درخت کو مکمل طورپر فراموش کرچکا ہوگا۔ یا کوئی قیدی پولیس سے بھاگتے ہوئے کچھ پل کے لئے اس درخت کے پیچھے چھپا ہوگا۔ درخت ان سب یادوں کو لئے ہوئے خاموشی سے اپنی جگہ کھڑا تھا۔ وہ اس بات سے قطعی طورپر لا علم تھا کہ اگلی خزاں کے آنے سے پہلے اسے کاٹ دیا جانا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ ہم زندگی وہ یادیں جمع کرنے میں گزاردیتے ہیں جنہیں ہمارے مرنے کے بعد دوسرے لوگ دہرائیں گے۔ ہماری زندگی زندہ رہنے کی خواہش کے ایک پُر فریب بندوبست کے سوا کچھ نہ تھی۔ میرے پاس سیاہ رجسٹر میں تیس سالوں کی یادوں کے کباڑخانے کے سوا کچھ نہ تھے۔ یہ وہ یادیں تھیں جن میں میرا پنا آپ کہیں بھی موجود نہیں تھا۔ مجھ سے کچھ فاصلے پر دو بچے نہایت انہماک سے فٹ بال کھیل رہے ہیں اورایک لڑکی جو شاید ان کی والدہ ہے میرے بالمقابل بینچ پر بیٹھی ہے۔ اس نے ایک زردرنگ کا کوٹ پہن رکھا ہے اورایک ٹوپی سے اپنے سراورکان چھپا رکھے ہیں ایک کتاب پڑھنے میں مصروف ہے۔ وہ ایک نظرمیری طرف مسکرا کر دیکھتی ہے اورپھر کتاب پڑھنے میں مصروف ہوجاتی ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں اس کتاب میں لکھی کہانی سے واقف ہوں بلکہ میں تمام ترکتابوں میں لکھی تمام کہانیوں سے واقف ہوں۔ مجھے وہ سارے موت کے قیدی یاد آنے لگے جو رات کی تاریکی میں سُرنگ کھود کر جیل سے فرار ہونے کی خواہش رکھتے تھے۔ میرے دل میں اس لڑکی سے بات کرنے کی شدید ترین خواہش پیدا ہوئی۔ میں اس کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں مگراس کا دھیان اس کتاب کی طرف ہے۔ لڑکیاں فرار کی داستانوں کو ایسے انہماک سے پڑھتی ہیں گویا وہ سچی داستانیں ہوں۔ میں اس لڑکی کے پاس جاتا ہوں اوراس سے سگریٹ مانگتا ہوں۔ وہ اپنے بیگ کو کھول کر سگریٹ نکال کر مجھے دیتی ہے۔ میری انگلیاں کوٹ میں ماچس ٹٹولنے کی کوشش کرتی ہیں۔ وہ لائٹر جلاتی ہے جب میں جھک کر سگریٹ سلگانے لگتا ہوں تو مجھے اس کے جسم سے سستے پرفیوم، زنگ، پسینے اور کچے پیاز کی ملی جلی خوشبو آنے لگتی ہے۔ میرے دل میں آتا ہے کاش میں ایک لمبی سے رسی نکالوں اور اس لڑکی کو اسی درخت پر پھانسی دے دوں اور اس کے نرخرے سے ابھرنے والی گڑگڑاہٹ کی گنتی اپنے رجسٹر میں نوٹ کرلوں۔ آہستہ آہستہ شام کے سائے پھیل رہے ہیں سورج کسی بھی لمحے غروب ہونے والا ہے۔ میرے لئے یہ بڑا حیران کن ہے کہ جیل کے باہر کسی کو بھی سورج کے غروب ہونے سے کوئی دلچسپی نہیں۔ کسی کو اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ ایک دن ختم ہونے والا ہے ایک اور شخص اپنے گلے میں پھندا لٹکا کر جھولنے والا ہے۔ یہ خیال مجھے غم زدہ کررہا ہے۔ مجھے وہ دس برس کا لڑکا یاد آتا ہے جو آج سے تیس سال پہلے اپنے والد کے ہمراہ جیل میں آیا تھا۔ اس کے والد پرالزام تھا کہ اس نے شہر کے تین پادریوں کو قتل کیا ہے جس کے سامنے وہ اپنے اعترافات کیا کرتا تھا۔ یہ لڑکا جو اپنے والد کو ایک پیغمبر سمجھتا تھا اس امید پر جیل میں آیا تھا کہ وہ شام کے کھانے سے قبل اپنے گھرواپس پہنچ جائے گا۔ مگراسے روک دیا گیا۔ یہاں وہ اگلے تین ماہ تک اپنے باپ کی تنہائیوں کا ساتھی بنا رہا اوراپنے باپ کے اعترافات اپنی ڈائری میں لکھتا تھا۔ اس نے اپنے باپ کو بتائے بغیر بہت سی دیگر معلومات بھی اس ڈائری میں لکھ لیں۔ اسے پہلا نکتہ یہ سمجھ آیا تھا کہ انسان ہمیشہ جھوٹ بولتا ہے۔ تنہائی میں بھی، پھانسی کے پھندے پر جھولتے ہوئے بھی۔ میں سوچنے لگا کہ آج اس لڑکے کی زندگی کا آخری دن ہے جلد ہی وہ تھکا دینے والی یادوں سےپیچھا چھڑا لے گا مگرایسا نہیں ہوا۔ میں بینچ سے اٹھ کر دکان پر گیا۔ وہاں سے ایک رسی لی اور لالچی شخص سے ایک ماہ کا ایڈوانس دے کر ایک کمرہ لیا۔ میں نے ڈائری کو آگ کے شعلوں کے حوالے کیا۔ پنکھے کے ساتھ رسی باندھی۔ ایک بینچ پر چڑھ کر رسی اپنے گلے میں ڈالی۔ مگراس کے بعد کے واقعات کچھ مبہم سے ہیں۔ میں رات بھرمردوں کی چیخیں سنتا رہا میں تلاش کرتا رہا کہ ان چیخوں میں دس سالہ بچے کی چیخیں کون سی ہیں۔ مگرمیرا خیال ہے وہ ایک رونے والی بلی کی منحوس آوازیں تھیں۔

اب میں ہرماہ اپنی پنشن لینے آتا ہوں لیکن میں نے کبھی قیدیوں کی بیرک کی طرف جانے کی کوشش نہیں کی۔ ویسے ان دنوں میں ایک خفیہ روزنامچہ لکھ رہا ہوں جس کی بابت میں نے کسی سے ذکر نہیں کیا۔