خدا معبدوں میں گم ہو گیا ہے (نصیر احمد ناصر)

خدا معبدوں کی راہداریوں میں گم ہو گیا ہے دلوں سے تو وہ پہلے ہی رخصت ہو چکا تھا خود کش حملوں کے خوف سے اب اس نے مسجدوں کی سیڑھیوں پر بیٹھنا بھی چھوڑ دیا ہے خدا واحدِ حقیقی ہے اسے کیا پڑی ہے کہ انسانوں کی طرح ٹکڑے ٹکڑے ہو کر جوتوں اور […]
میں خوف ہوں (ایچ-بی-بلوچ)

حلیے اور شکلیں بدل بدل کر مجھ سے مت پوچھو کہ میں کون ہوں میں محنت اور اطاعت کا کالا رنگ ہوں جس سے تم نے نسلی تعصب گھڑ ڈالا میں گول چکرا ہوں جس سے موہن جو دڑو کے باسیوں نے پہیہ بنایا اور جس سے تم نے دار کی چرخیاں بنا ڈالیں میں […]
ایک منتظر نظم (ثاقب ندیم)

بھوگ رہا ہوں سرد رُتوں کی سائیں سائیں روح کے پیڑ سے گِرنے والی زرد اداسی آوازوں کا رستہ دیکھتے کانوں سے بس مُٹھی بھر ہمدردی بھوگ رہا ہوں بِستر کی شِکنوں کو دیکھنا، دیکھتے جانا کمپیوٹر سکرین پہ تجھ کو ڈھونڈتی آنکھوں کی ویرانی کھِڑکی کے کونے پہ بیٹھی ایک عدد حیرانی شکلیں بدل […]
چیزیں جب کھو جاتی ہیں (عذرا عباس)

چیزیں جب کھو جاتی ہیں انھیں ڈھونڈتے ڈھونڈتے تھک جاتی ہوں جو شامل ہو جاتی ہیں ان چیزوں میں جو بہت پہلے کھو گئیں تھیں مجھ سے خفا ہو کرغائب ہو گئیں تھیں نہیں آتی ہیں یہ میرے سامنے مرے ہوئے لوگوں کی طرح میں اداس ہوتی ہوں اور انھیں ان مرے ہوئے لوگوں میں […]
گلوب کے مرغولے میں گردش کرتی رات (جمیل الرحمٰن)

پرکار کی نوک پر کاغذی گلوب نے تیزی سے حرکت کی اور مجھے کئی حصوں میں منقسم کردیا میں نہیں جانتا میرا کون سا ٹکڑا گلوب کے کس حصے میں گرا یا اس کی سطح میں جذب ہو کر رہ گیا جن سلگتے ہوئے لمحوں کے گہرے کش لے کر زندگی نے اُن کے ٹکڑوں […]
کتبہ (فیثا غورث)

میں نے اک گیت لکھا اور اس نے اپنی نبضیں کاٹ لیں میں نے اک نظم کہی اور وہ چھت سے کود گئی میں نے اک کہانی بُنی اور وہ پھندے سے لٹک گئی میں نے اک بچہ جنا اور اس نے مجھے قتل کر دیا
اِک نظم (عظمیٰ طور)

اِک نظم ابھی ابھی الماری کے اک کونے سے ملی ہے دبک کر بیٹھی پچھلے برس کی کھوئی یہ نظم کب سے میں ڈھونڈ رہی تھی اس نظم میں مَیں بھی تھی تم بھی تھے ہم دونوں کی باتیں تھیں دروازے پہ ٹھہری اک دستک تھی گہرے نیلے رنگ کے پردے تھے اِک اکلوتی پینٹنگ […]
آدمی زندہ ہے، آدمی زندہ ہے!، آدمی زندہ ہے؟ (زاہد امروز)

ریڈیو گا رہا ہے ‘‘ماٹی قدم کریندی یار’’ ماٹی قتل کریندی یار آدمی سو رہا ہے آدمی ٹھنڈی لاشوں کے درمیان سو رہا ہے آدمی جاگ رہاہے آدمی مردہ عورت سے ہم بستری کے لیے جاگ رہا ہے بچہ تصویر بناناکھیل رہا ہے بچہ آدمی کی تصویر بنا رہا ہے بچہ فیڈر پی رہا ہے […]
Self Actualization (حمیرا فضا)

میں اکثر اعتراف کر جاتی ہوں تم ایک اچھے مرد ہو تم بھی ماننے پر مجبور ہوجاتے ہو میں ایک اچھی عورت ہوں مگر تم نے کبھی سوچا ہے! تمھاری باتیں ہر سمے خوشبوؤں سے بھیگی نہیں رہتیں نہ وقت کی وصیت میں تم مجھے اُتنا حصہ دیتے ہو جتنا تم نے مجھے لکھ کر […]
جنگل اور سمندر کے درمیان اور دوسری نظمیں (صفیہ حیات)

آدھا جھوٹ بلاشبہ وہ بہت اچھا ہے میری کتھا سن کر رودیتا ہے آج کل اپنی پہلی محبوبہ کے ساتھ ہوتا ہے محبوبہ کا بیٹا اسے بہت عزیز ہے۔ ونٹر کی چھٹیوں میں اسے گھمانا ایک الگ کام ہے روز شام کو یہ کہتے ہکلا جاتا ہے کہ آج کسی کو ڈنر پہ لے جانا […]
خواب اور دیگر عشرے (رحمان راجہ)

ع//خواب کھلی آنکھوں سے دیکھے جانے والے خواب اپنے پورا ہونے کے امکانات ساتھ لیے پھرتے ہیں تمھارے خواب دیکھنے کے لیے میں رات کا انتظار نہیں کرتا نرم بستر آنسووں کو خوابوں سمیت جذب کر لیتے ہیں تمھارے خواب تنہائی یا ہجوم کہیں بھی دیکھے جا سکتے ہیں میں تمھارا خواب کینٹن میں تمھارے […]
بودا درخت (رضی حیدر)

یہ کون کٌھنڈی آری سے میرا تنا کاٹ رہا ہے کون میری وکھیوں کی ٹہنیاں توڑ رہا ہے مجھ سے نیانوں کے جھولے بنانا، یا سکول کی نِکی نِکی کرسیاں میرے ہاتھوں سے سالنوں کے ڈونگے چمچ میرے پیٹ سے سہاگ رات کے رنگلے پلنگ چل بھانوے، مجھے انگیٹھی میں ڈال دے میری آنکھیں بس […]
ضامن عباس کے عشرے

[blockquote style=“3”] عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر [/blockquote] مزید […]
سورج کا بانجھ پن (سدرہ سحر عمران)

ہم نہیں جانتے دھوپ کا ذائقہ کیا ہے روشنی کی شکل کس سے ملتی جلتی ہے یہ پرندے کون ہیں ہم درختوں کو چراغ لکھتے ہیں ہوا کو موت یہ پتے ہمارے آنسو ہیں ہمیں کیا خبر کہ آسمان کا رنگ تمہارے لہجے کی طرح نیلا کیوں ہے؟ ہم نے سیڑھیوں کے ہجے نہیں سیکھے […]
میں پتھر کے نیچے پیدا ہوا ہوں! (ایچ۔ بی۔ بلوچ)

میں صدیوں سے پتھر کے نیچے ہوں کبھی پانیوں کی خوفناک گہرائیوں اور وسعتوں میں کبھی لامحدود اور سوکھے بیابان کے اندر دم سادھے چپ چاپ موسموں کو گزرتے دیکھتا ہوں میں کھلے اور پھیلے ہوئے برفیلے میدانوں کا ذکر ہرگز نہیں کروں گا معذرت کے ساتھ مجھے برفباری اور برف کے ساتھ کھیلنے سے […]