Categories
فکشن

دکانداری اور دوسری کہانیاں

دکانداری

 

اس ملک میں ہڑتال کرا دینا معمولی سی بات تھی۔ چھوٹی چھوٹی بات پرہڑتال کرا دی جاتی تھی۔ ہڑتال کے دوران دکانیں جبراً بندکرائی جاتی تھیں اور اخباروں میں شائع کرایاجاتاتھاکہ ہڑتال دکانداروں کی رضامندی سے ہوئی۔ ملک میں کبھی حکمران جماعت کی طرف سے تو کبھی حزبِ اختلاف کی طرف سے ہڑتال کرائی جاتی تھی۔ ایسی ہی ایک ہڑتال کے دوران دکانیں زبردستی بندکرانے کے لیے آنے والے سیاسی کارکن سے ایک دکاندار اور وہیں کھڑے ہوئے کچھ مزدوروں نے پوچھا ”بھلا ہڑتال سے کیاحاصل ہوتا ہے۔ سوائے نقصان کے؟“ اس پر اس کارکن نے ٹیڑھی مسکراہٹ کے ساتھ کہا ”ہڑتال کے دوران ہماری دکانیں کھل جاتی ہیں۔“
“اب کیاکریں اپنی اپنی دکانداری ہے بھائی”۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

عابد

 

“اپنے باس کتنے شریف ہے نا؟ ہمیشہ بیٹابیٹاکہہ کر بات کرتے ہیں۔ بالکل ہی عابد رجحان کے ہیں۔“نوکری میں نئی نئی لگی ایک لڑکی نے اپنے ہی دفتر میں ساتھ میں کام کرنے والی ادھیڑعمر کی عورت سے کہا۔
“ارے تمہیں کچھ بھی معلوم نہیں ہے۔یہ بڑھؤ ایک نمبرکا ٹھرکی رہاہے۔ اپنی کھوئی ہوئی طاقت اور جوانی واپس پانے کے لیے اس نے کچھ دوائیاں لیں جن کے ری ایکشن سے یہ نامرد ہوگیا۔ تبھی سے یہ سبھی عورتوں کو بیٹابیٹا کہتا ہے۔ ارے اس پر تو چھیڑچھاڑکے کئی مقدمے درج ہیں۔ اس عورت نے عابد کی اصلیت سے اسے واقف کرایا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

غیرمحفوظ

 

“کیوں میاں، کافروں کے ساتھ گنیش کے چندے کی رسیدیں کاٹتے گھوم رہے ہو۔ کیاتمہیں معلوم نہیں کہ اسلام میں بت پرستی کی مناہی ہے؟”
“جناب، میں تواس پر صرف اتناہی کہوں گا کہ جان ہے توجہان ہے۔”

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

تماشائی
تیزقدموں سے آفس جاتے ہوئے میرے قدم ایک جگہ لگی بھیڑ کودیکھ کر رک گئے۔ میں نے دیکھا کہ دوآدمی ایک دوسرے کاکالر پکڑے آپس میں گالی گلوچ کرتے ہوئے لڑرہے تھے۔
اور لوگوں کی طرح میں بھی رک کر انہیں دیکھنے لگا، اور ان کے بیچ جھگڑابڑھنے کاانتظار کرنے لگا۔ تھوڑی دیربعد مجھے لگنے لگاکہ یقینی طور پر دونوں میں سے کوئی ایک چاقو نکالے گا، یا ہو سکتا ہے پستول ہی نکال لیں۔ اگر ایسے حالات بنے تومیں کیاکروں گا۔ کیاان میں صلح کرانے کی کوشش کروں گا، یاتیزی سے بھاگ لوں گا۔ میں یہ سب سوچ ہی رہاتھاکہ دونوں نے ایک دوسرے کا کالر چھوڑ دیا اور ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہوئے اپنے اپنے راستے چلے گئے۔ تماش بینوں کی بھیڑبھی چھٹ گئی۔ میں بھی بڑبڑاتے ہوئے نکلا: “سالے ہجڑوں کولڑنے کابھی شعورنہیں ہے۔ پھوکٹ میں ٹائم برباد کردیاجبکہ مجھے آج آفس جلدی پہنچنا تھا”۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

بازار

 

“ابھی توبازارمیں ٹماٹر اتنے سستے ہیں کہ ایک روپے کلو، یاروپے میں دوکلو تک مل رہے ہیں اور تم یہ سو گرام ٹماٹر سوپ کے پاؤچ کاپیکٹ52روپے میں خرید لائے ہو۔ بیوقوف کہیں کے”
“اس میں بیوقوفی والی کیابات ہے؟ ہم اسے تب پئیں گے جب بازارمیں ٹماٹر کی قیمتیں آسمان چھونے لگے گی۔”
Categories
فکشن

میرواہ کی راتیں- قسط نمبر 1

رفاقت حیات کے ناول ‘میر واہ کی راتیں‘ کی دیگر اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
آج کی رات اس کی بے کارر زندگی کی گزشتہ تمام راتوں سے بے حد مختلف تھی، شاید اسی لیے نیند اس کی آنکھوں سے پھسل کر رات کے گھپ اندھیرے میں کہیں گم ہو گئی تھی، مگر وہ اسے تلاش کرنے کی بے سود کوشش کر رہا تھا کیونکہ وہ گہری نیند سو کر خود کو اگلی شب کے رت جگے کے لیے تیار کرنا چاہتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ دماغ میں چلنے والے خیالات کے تیز جھکّڑوں اور ان سے اٹھنے والے سرکش بگولوں کی وجہ سے آج رات اس کے لیے پلک جھپکنا دشوار تھا اور آنکھیں موند کر سونا بالکل ناممکن۔ وہ محرابوں والے برآمدے میں چھت کی سیڑھیوں کے قریب چارپائی پر رضائی اوڑھے لیٹا ہوا رات گزارنے کی ترکیب ڈھونڈ رہا تھا۔ کوئی ترکیب سجھائی نہ دینے پر وہ اٹھ بیٹھا اور اس نے ہاتھ بڑھا کر اپنے تکیے کے نیچے سے ایک بوسیدہ اور مڑے تڑے صفحات والا رسالہ نکالا اور کئی مرتبہ کی پڑھی ہوئی کہانیوں پر نظرڈالنے لگا۔ اسے ’مومل رانا‘ کی کہانی بے حد پسند تھی مگر آج اپنی پسندیدہ کہانی پڑھتے ہوے نجانے کیوں اس کے سر میں درد ہونے لگا۔ باریک لفظوں کی سطریں جو کاغذ کی سطح پر قطار باندھے کھڑی تھیں، دھیرے دھیرے بکھرنے لگیں۔ باریک لفظ موقلم بن کر کاغذ کی سطح پر ایک خاکہ بنانے لگے۔ خاکہ مبہم اور غیرواضح تھا، مگر غور کرنے پرکسی عورت کی پشت معلوم ہوتا تھا۔ عورت کا خیال آتے ہی وہ خاکے پر اور زیادہ غور کرنے لگا، مگر یہ کیا؟ اچانک تمام لفظ کاغذ کی سطح سے یکسر غائب ہو گئے، اور ان کے ساتھ ہی لفظوں سے بنا وہ مبہم سا خاکہ بھی غائب ہو گیا۔ وہ حیرت سے رسالے کے اوراق پلٹنے لگا۔ رسالے کے تمام اوراق لفظوں سے یکسر خالی ہو چکے تھے۔ کسی بھی صفحے پر نہ تو کہانی کا عنوان لکھا نظر آ رہا تھا اور نہ ہی کہانی کی عبارت۔ سارے کے سارے کاغذ کورے نظر آ رہے تھے۔ اسے ایک لمحے کے لیے محسوس ہوا کہ وہ اس وقت مومل کے کاک محل میں موجود ہے۔ اس نے بلاتردد رسالے کو اس کی جگہ واپس رکھ دیا اور تکیے پر اپنا سر رکھ کر وہ سیدھا لیٹ گیا اور رضائی کو اپنے آدھے جسم پر اوڑھ لیا۔ اس نے کئی مرتبہ آنکھیں زور سے میچ کر نیند کے خمار کو اپنے ذہن پر طاری کرنے کی کوشش کی مگر ہر مرتبہ اس کے ذہن نے اس دھوکے کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ یکے بعد دیگرے کروٹیں لینے کے بعد وہ ایک بار پھر سیدھا ہو کرلیٹ گیا۔

 

تین یعنی تیسرا کئی شکوک کو جنم دیتا تھا، شاید اسی مشکوک تیسرے کو مومل کے پہلو میں سویا ہوا دیکھ کر رانا کاک محل چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے چلا گیا تھا۔
اس کی آنکھیں خودبخود محرابوں والے برآمدے کی اونچی چھت پر بھٹکنے لگیں۔ بے ضرورت اور بے سبب وہ چھت کی کڑیاں گننے لگا۔ اس نے پہلے دائیں سے بائیں اور پھر بائیں سے دائیں چھت کی کڑیوں کو شمار کیا مگر دونوں مرتبہ ان کی تعداد اکیس ہی نکلی۔ اکیس بظاہر تو گنتی کا سیدھا سادہ عدد ہے مگر اس کا خودسری پر آمادہ ذہن اس عدد سے کوئی خاص مطلب برآمد کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے اس نے اکیس کے دو اور ایک کو آپس میں جمع کر دیا اور اس کے حاصل جمع تین پر خوامخواہ غور کرنے لگا۔ یہ سادہ سا عدد اس کے ذہن کو اقلیدس کے مسئلے کی طرح پیچیدہ معلوم ہو رہا تھا۔اُس کے لئے دو کا عدد اُس پیچیدگی کا حامل نہیں تھا جو پیچیدگی اسے تین کے عدد میں پنہاں محسوس ہو رہی تھی۔ تین یعنی تیسرا کئی شکوک کو جنم دیتا تھا، شاید اسی مشکوک تیسرے کو مومل کے پہلو میں سویا ہوا دیکھ کر رانا کاک محل چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے چلا گیا تھا۔ وہ اس بات سے بے خبر تھا کہ مومل نے محض اس کے حاسدانہ جذبے کو انگیخت کرنے اور اس سے تفریح لینے کے لیے اپنی چھوٹی بہن سومل کو رانا کا روپ دیا ہوا تھا۔

 

مگر نذیر رانا مہندر سنگھ سوڈو نہیں تھا۔ وہ بہت دیر سے محرابوں والے برآمدے سے ملحقہ کمرے سے سنائی دینے والی عورت اور مرد کی دھیمی دھیمی اور مبہم سرگوشیاں سن رہا تھا۔ ان سرگوشیوں کے مختلف اتارچڑھاؤ محسوس کرتے ہوئے، جن میں بعض اوقات دبی دبی ہنسی اورگھٹا گھٹا سا قہقہہ بھی شامل ہوتا تھا، وہ حاسدانہ مخاصمت محسوس کر رہا تھا۔ اس نے ان کی سرگوشیوں میں چھپی باتوں کو سمجھنے کی بہت کوشش کی۔ وہ جتنی زیادہ کوشش کرتا اتنا ہی زیادہ رقابت کی دلدل میں دھنستا چلا جاتا۔ حسد اور رقابت کے جذبات نے اس کے رگ و پے میں عجیب سنسنی اور گرمی سی پیدا کر دی۔ وہ رضائی اتارنے پر مجبور ہو گیا۔ کچھ دیر بعد کمرے سے سرگوشیاں سنائی دینی بند ہو گئیں، شاید وہ دونوں اب سو گئے تھے۔
وہ کھاٹ سے اْتر کر صحن کے ٹھنڈے فرش پر ننگے پاؤں چلنے لگا۔ اس کے رگ وپے میں دوڑنے والی گرمی دھیرے دھیرے ختم ہو نے لگی مگر ایک عجیب سی سنسنی اب بھی باقی تھی۔ اس کی زندگی میں ایسی مضطرب اور اذیت بھری رات پہلے نہیں آئی تھی۔ اسے توقع تھی کہ اس کی زندگی کا سب سے خوبصورت اور لذیذ واقعہ صرف ایک رات کی مسافت پر تھا مگر اس کے درمیان حائل آج کی رات کسی طور کٹنے کا نام نہیں لیتی تھی۔ اس نے ٹھنڈی سانس لیتے ہوے آسمان پر ٹمٹماتے ہوے ستاروں کی ماند پڑتی روشنی کو دیکھا۔ آج آسمان پر چاند کا نام و نشان تک نہیں تھا۔ اس کا دل چاہا کہ وہ آئندہ شب پیش آنے والی مہم جوئی کے متعلق آسمان سے مدد کی درخواست کرے۔ مگر اگلے ہی لمحے اسے خیال آیا کہ آئندہ شب وہ کوئی کارِخیر انجام دینے تھوڑا ہی جا رہا ہے کہ وہ آسمان سے مدد کی درخواست کرے۔ ایسی درخواست کرنے کی صورت میں آئندہ شب اسے کسی افتاد کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا تھا۔ اس نے فوراً یہ خیال ترک کر دیا۔

 

صحن میں ٹہلتے ہوے اسے کسی کونے سے دھیمی سی شونکار سنائی دی۔ اسے فوراً یاد آیا کہ اس پرانے مکان میں اکثر رات کی خنکی میں سانپ اور بچھو اپنے اپنے بلوں سے باہر نکل آتے ہیں۔ وہ فوراً کھاٹ پر جا لیٹا اور ایک بار پھر نیند کی پری کو گرفت میں لینے کی کوشش کرنے لگا۔ اسی کوشش کے دوران کروٹیں لیتے ہوئے اسے نیند آ گئی۔آخر کار نیند کی پری اس پر مہربان ہو گئی۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

نذیر اس کے جانے کے بعد بھی اس کی خوشبو محسوس کرتا رہا۔ اس کے ہاتھ کا نرم گرم لمس اس کی پیشانی میں جذب ہو گیا تھا۔
صبح وہ رضائی میں سمٹا ہوا سو رہا تھاکہ ایک گنگناتی ہوئی نسوانی آواز نے اس کا نام پکارا۔ اس کی جانب سے کوئی جواب نہ پا کر وہ اس کے قریب چلی آئی اور اس کے چہرے سے رضائی ہٹا کر چند ثانیوں کے لئے اس کے سوئے ہوے چہرے کو دیکھتی رہی، پھر اپنے ٹھنڈے ٹھنڈے نرم ہاتھ سے اس نے اس کی پیشانی کو چھوا تو وہ فوراً جاگ گیا۔ وہ پلکیں جھپکائے بغیرحیرت سے چاچی خیرالنسا کو غیر متوقع طور پر اپنے نزدیک دیکھنے لگا۔

 

“نذیر، اب اْٹھ جا۔” یہ کہہ کر اس نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔

 

اس کا حکم سننے کے باوجودوہ بستر سے نہیں اْٹھا اور اس نے اپنے ہونٹوں سے بھی کچھ نہیں کہا۔ وہ حیران تھا کہ آج صبح چاچی خیرالنسا اسے پہلے سے زیادہ حسین اور پرکشش کیوں محسوس ہو رہی تھی۔ اس نے سوچا۔ شاید اپنے ہاتھ کی انگلیوں کے نرم لمس کی وجہ سے وہ اس کے لیے یک دم پہلے سے زیادہ حسین ہو گئی تھی۔

 

چاچی ایک عجیب ندامت میں لپٹی ہوئی اس کی کھاٹ کے پاس کھڑی تھی۔ اس کا لباس شکن آلود تھا اور اس کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ اس کے چہرے پر نیند کی سوگواری تھی۔ یکایک اس نے اپنے سینے سے چادر ہٹائی اور اپنے دونوں ہاتھوں سے پھیلا کراسے دوبارہ اپنے جسم پر تانا اورغسل خانے کی طرف چلی گئی۔

 

نذیر اس کے جانے کے بعد بھی اس کی خوشبو محسوس کرتا رہا۔ اس کے ہاتھ کا نرم گرم لمس اس کی پیشانی میں جذب ہو گیا تھا۔ کچھ دیر بعد اسے غسل خانے کے فرش پر پانی گرنے کی آواز سنائی دینے لگی۔ وہ کھاٹ پر لیٹے لیٹے پانی گرنے کی آواز سن کرکسمساتا رہا۔ اس کا جی چاہا کہ وہ اسی لمحے بھاگ کر غسل خانے میں جا گھسے اور ٹاٹ کا پردہ ہٹا کر چاچی کو بے لباس دیکھ لے، جسے وہ لباس میں کئی مرتبہ عریاں دیکھ چکا تھا۔ اس نے اپنے تصور میں ہینڈپمپ کے پانی کی دھار کے نیچے سمٹے اس کے جسم کو دیکھا اور ٹھنڈی سانس بھر کے رہ گیا۔ اس نے اپنے جسم سے رضائی ہٹا دی اور صحن کے ساتھ واقع خالی احاطے کی طرف دیکھنے لگا۔ وہاں ابھی تک شب کی تاریکی پھیلی ہوئی تھی۔

 

جب وہ ٹھٹھرتی ہوئی غسل خانے سے باہر آئی تو نذیر اسے ٹھیک طرح دیکھ نہیں سکا۔ اس نے اس کے بدن سے اٹھتی صابن کی مہک اور اس کے جسم کے گیلے پن کو محسوس کیا۔ وہ اپنے سامنے کھڑی بھرپور اور پرکشش عورت کو، اس کی نظروں کے سامنے، غور سے نہیں دیکھ سکتا تھا۔ یہ اس کی فطری کم ہمتی تھی یا بزدلی۔ وہ ایسے موقعے کی تلاش میں تھا جب وہ اس کی جانب سے توجہ ہٹا کر کسی اور طرف دیکھنے لگے، مگر وہ اسی کی طرف دیکھتی ہوئی تولیے سے اپنے بال سکھانے لگی۔
“اندر نلکے کا پانی کوسا کوسا اے۔ اْٹھ، تْو بھی نہا لے۔ نماز تو ویسے بھی قضا ہو چکی ہے۔” وہ نذیر کو مکمل طور پر مایوس کرتی اپنے کمرے میں چلی گئی۔

 

وہ خود کو کمزور و ناتواں محسوس کرنے لگا، جیسے وہ دھبہ کسی جان لیوا مرض کی علامت ہو۔ اسے لگا کہ اس کے بدن سے تمام قوت نکل گئی ہے اور اس کی تمام خواہشیں یکایک مرجھا گئی ہیں۔
نذیر نے جماہی لی اور چپلیں پہن کر غسل خانے کی طرف چلا گیا۔ اندر آ کر وہ گیلے فرش اور بھیگی ہوئی دیواروں کو دیکھنے لگا۔ معاً اس کی نظر کیل میں اٹکے ہوئے بلاؤز کی طرف اٹھی تو اس کی رگوں میں سنسنی پھیل گئی۔ اس نے پردہ ہٹا کر باہر دیکھا، کوئی اس طرف تو نہیں آ رہا۔ اطمینان کر لینے کے بعد اس نے کیل سے بلاؤزاْتار لیا اور اسے آنکھوں کے قریب لا کر دیکھنے لگا۔ وہ گلابی ریشمی کپڑے سے بنا ہوا اور ہاتھ سے سِلا ہوا بلاؤز تھا۔ وہ انگلیوں سے اسے ٹٹولنے لگا۔ بلاؤز کو دیکھنا اور چھونا اسے اچھا لگ رہا تھا۔ اس کے کناروں پر ہلکی سی گرد جمی ہوئی تھی اور کہیں کہیں اکادکا بال بھی اٹکے ہوے تھے۔ ان جزئیات کودیکھتے ہوئے وہ خود کو کسی عورت کے قرب میں محسوس کرنے لگا۔ وصل کی سرشاری جیسی سرشاری اس پر طاری ہونے لگی۔ اس نے بلاؤز کو اپنی آنکھوں کے قریب سے ہٹایا اور دوبارہ وہیں کیل پر لٹکا دیا۔

 

اس نے کچھ دیر ہینڈپمپ چلایا۔ جب اس میں سے کوسا پانی نکلنے لگا تو اس نے اپنی قمیض اْتار کر اسی کیل پر لٹکا دی۔ اب وہ اپنے سینے اور اپنے بازوؤں کا معائنہ کرنے لگا۔ اسے ان کی سپیدی اور نرمی اچھی لگی۔ اپنی چھاتی پر ابھرے نوخیز بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے اس کا ذہن ایک بار پھر چاچی خیرالنسا کے لذیذ تصورمیں گم ہو گیا۔ اس کے بارے میں سوچتے ہوئے اسے اپنی کم مایگی اور ناتجربہ کاری کا احساس ہونے لگا۔

 

جب وہ اپنی شلوار اتارنے لگا تو وہاں اسے ایک گدلاسا دھبا دکھائی دیا۔ دھبا دیکھتے ہی وہ اسے مسلتے ہوے اپنے دانت کچکچانے لگا۔

 

“آج یہ نہیں ہونا چاہیے تھا،” وہ جھلاہٹ سے بڑبڑایا۔

 

وہ خود کو کمزور و ناتواں محسوس کرنے لگا، جیسے وہ دھبہ کسی جان لیوا مرض کی علامت ہو۔ اسے لگا کہ اس کے بدن سے تمام قوت نکل گئی ہے اور اس کی تمام خواہشیں یکایک مرجھا گئی ہیں۔ آج کی رات، وہ جس کا انتظار شدید بیتابی کے ساتھ کرتا رہا تھا، اب زیادہ مسافت پر نہیں تھی۔ اس نے سوچا کہ ذرا دیر کے لیے اس کی آنکھ کیا لگی، نیند کی پری اس کی جان ہی نکال کر لے گئی۔ شاید اس نے کوئی خواب دیکھا تھا اور خواب میں کوئی عورت۔۔۔۔ مگر وہ عورت کون تھی؟ کیسی تھی؟ وہ اپنے ذہن کو ٹٹولتا رہا مگر اسے مطلق یاد نہیں آ سکا۔ خواب میں آنے والی عورت نہ تو چاچی خیرالنسا تھی اور نہ ہی رانا مہندر سنگھ سوڈو کی چہیتی مومل۔ سوچتے سوچتے وہ زچ ہو گیا۔ اِس نے افسردگی سے اپنی ٹانگوں کی طرف دیکھا تو وہ اسے سوکھی سڑی محسوس ہوئیں۔

 

بہ مشکل وہ اپنے ذہن سے تمام خیالات جھٹک کر ہینڈپمپ چلا کر غسل کرنے لگا۔ غسل کے بعد وہ اپنی شلوار پر چپکے ہوئے دھبے کوصابن سے رگڑ رگڑ کر دھونے لگا۔ کچھ ہی دیر میں اس نے دھبے کو شلوار سے مٹا ڈالا کیونکہ اسے نماز بھی تو پڑھنی تھی۔ نذیر نادانستہ سرزد ہونے والے عمل پر نادم تھا اس لیے وہ غسل خانے سے نکل کر بھی خود کو ملامت کرتا رہا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ نئے دن کا آغاز کسی بدشگونی سے ہو، مگر اس کی خواہش کے برخلاف بد شگونی رونما ہو چکی تھی۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ آج رات اس کے ساتھ کیا پیش آنے والا تھا۔ اس کی توقع کی تکمیل ہونی تھی یا اس کی امیدوں کو ملیامیٹ ہونا تھا۔

 

جب تک اس کی شلوار سوکھ نہیں گئی وہ بار بار اپنی شلوار کو دیکھتا رہا۔ اطمینان کر لینے کے بعد اس نے تکیے کے نیچے پڑا ہوا رومال اْٹھایا اور اسے اپنے سر پر باندھ لیا۔

 

اسے چاچی صحن اور برآمدے میں نظر نہیں آئی تو وہ دروازے سے اس کے کمرے کے نیم تاریک ماحول میں جھانکنے لگا۔ وہاں چاچی اسے نماز پڑھتی نظر آئی، جبکہ غفور چاچا اپنی چارپائی پرابھی تک گہری نیند سویا ہوا تھا۔ یہ دیکھ کر وہ مڑا، اورپچھلے دروازے کی طرف چلا گیا جو پیچھے والی گلی کی طرف نکلتا تھا۔

 

گلی میں صبح کی دھندلی سی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ مکانوں کے دروازوں اور کھمبوں پر جلتے بجلی کے بلب صبح کی پھیلتی روشنی کے سبب اپنی چمک کھوتے جا رہے تھے۔ وہ گلی کے پختہ اینٹوں سے بنے فرش پر چلتا رہا۔ اچٹتی ہوئی نیند کے دوران دکھائی دینے والا خواب تو اسے بھول چکا تھا، مگر اس خواب کے دوران ملنے والی لذت کی ہلکی سی رمق اس کے ذہن کے کسی گوشے میں اب بھی موجود تھی۔ وہ اس کے بارے میں سوچتا سوچتا رک گیا۔ ایک بار پھر وہ اپنی شلوار کو ٹٹول کر دوبارہ چل پڑا۔

 

اب روشنی خاصی پھیل چکی تھی۔ ابھی وہ مسجد سے کافی فاصلے پر تھا کہ اسے نمازی مسجد سے باہر نکلتے دکھائی دیے۔ فجر کی نماز پڑھی جا چکی تھی۔ وہ قصبے کی دو چار گلیاں گھوم کر واپس آ گیا تاکہ چاچی کے پوچھنے پر اْسے بتا سکے کہ وہ نماز پڑھ کر آیا ہے۔

 

فجر کی نماز پڑھی جا چکی تھی۔ وہ قصبے کی دو چار گلیاں گھوم کر واپس آ گیا تاکہ چاچی کے پوچھنے پر اْسے بتا سکے کہ وہ نماز پڑھ کر آیا ہے۔
وہ گھر میں داخل ہوا تو اسے باورچی خانے کی سمت سے آنکھوں میں چبھنے والا گاڑھا دھواں سارے گھر میں پھیلتا ہوا دکھائی دیا۔ وہ دھیرے دھیرے چلتا باورچی خانے میں چلا گیا۔ یہاں صرف دھواں ہی دھواں بھرا نظر آتا تھا۔ نذیر کی آنکھوں سے فوراً پانی بہنے لگا۔ بہت غور کرنے کے بعد اسے بہ مشکل چولھے کی آگ نظر آ سکی۔ وہ اپنے پیروں سے زمین ٹٹول کر چلتا ہوا چولھے کے پاس پہنچا تو اسے چاچی کی ناک اور آنکھوں سے بہتا ہوا پانی دکھائی دیا۔ وہ سمجھ گیا کہ ٹال والے نے ایک مرتبہ پھر گیلی لکڑیاں بھیج دی ہیں۔ اس نے دھونکنی اٹھائی اور اس کی مدد سے کچھ دیر تک پھونکیں مارتا رہا۔ اس عمل سے چولھے میں آگ بھڑک اٹھی۔ دھونکنی ایک طرف رکھ کر وہ گیلی لکڑیوں کو چولھے سے نکالنے لگا، جس سے آہستہ آہستہ باورچی خانے میں بھرا ہوا دھواں باہر نکلنے لگا اور دھویں کی چبھن بھی دھیرے دھیرے ختم ہونے لگی۔ اس نے چاچی خیرالنسا کی طرف دیکھا۔ وہ ڈوپٹے سے اپنی ناک اور آنکھیں پونچھ رہی تھی اور اس کا سفید چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔ چولھے میں جلتی آگ اس کے چہرے کی تابانی میں اضافہ کر رہی تھی۔ وہ کھنکار کر گلا صاف کرتی ہوئی کہنے لگی، “تیرے چاچے کی طبیعت آج خراب ہے۔”

 

اس نے تجسس سے پوچھا، “کیا ہوا؟”

 

“میرا خیال ہے اسے سردی لگ گئی ہے”۔ وہ اپنے ڈوپٹے کی مدد سے چائے کی دیگچی اْتارتے ہوے بولی۔

 

“چاچے کو سردی کیسے لگ گئی؟ وہ تو کل رات کہیں باہر گیا ہی نہیں تھا۔” وہ اپنے سوالوں میں چھپی حیرت کو چاچی سے پنہاں نہ رکھ سکا۔ اس کی حیرانی کو بھانپ کر چاچی نے جواب دینے کے بجائے اپنا سر جھکا لیا۔

 

اس سے پہلے کہ وہ اپنی کرید میں مزید کچھ پوچھتا، اسے چاچے کے کھانسنے کی آواز سنائی دی۔ کھانسی کی آواز سنتے ہی وہ نذیر کی موجودگی سے غافل ہو گئی اور اپنے لباس کی شکنیں درست کرنے لگی۔ اس کے بعد اس نے اپنی چادر کو سینے پر پھیلا لیا۔ کچھ دیر بعد کھانستا ہوا چاچا غفور سر سے پاؤں تک کھیس میں لپٹا ہوا باورچی خانے کی کوٹھڑی میں داخل ہوا۔

 

اسے دیکھ کرنذیر فوراً اٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے اپنی چوکی چاچے کو پیش کر دی اور خود زمین پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا۔

 

اس سے پہلے کہ وہ اپنی کرید میں مزید کچھ پوچھتا، اسے چاچے کے کھانسنے کی آواز سنائی دی۔ کھانسی کی آواز سنتے ہی وہ نذیر کی موجودگی سے غافل ہو گئی اور اپنے لباس کی شکنیں درست کرنے لگی۔
“جیتے رہو،” چاچا نقاہت سے بولا۔ اس نے اپنے سر سے کھیس اْتار لیا۔ شیو نہ کرنے کی وجہ سے اس کے چہرے پر سفید داڑھی نکل آئی تھی۔ گالوں کی ہڈیاں نمایاں تھیں اور آنکھیں اندر دھنس گئی تھیں۔ وہ ہانپ رہا تھا، جیسے اپنی سانسوں پر اسے کوئی اختیارنہ رہا ہو۔ چاچی نے ناگواری سے اس کی طرف دیکھا۔

 

” کمرے سے کیوں نکل آئے؟ میں چائے وہیں لے آتی۔ اگر ٹھنڈ لگ گئی تو؟” اس نے منھ بسورتے ہوئے شکایت کی۔
“میں نے سوچا آگ کے پاس بیٹھوں گا تو سردی کم لگے گی، اس لیے یہاں آ گیا،” وہ لفظوں پر زور دیتے ہوئے بہ دقت بولا اور دھیرے سے مسکرا کر اپنی بیوی کی طرف دیکھنے لگا۔

 

چاچی نے اس کی مسکراہٹ نظرانداز کرتے ہوے نظریں جھکا لیں اور دیگچی اْلٹا کر تام چینی کے پیالوں میں چائے انڈیلنے لگی۔

 

“پْٹر نذیر! آج میں دکان نہیں جاؤں گا۔ مجھے سردی لگ رہی ہے اور بدن میں کپکپاہٹ سی بھی ہے۔ تْو سویرے ہی دکان پر چلا جا اور دکان کھول لے۔ حاجی اللہ بخش کو بھریاروڈ جانا ہے۔ میں اس کے جوڑے کل ہی سی کر آیا تھا۔ تو اس سے پیسے لے لینا۔ اور ہاں، کل ماسٹر طفیل کے بیٹے کی شادی ہے۔ وہ بھی شام کو اپنے کپڑے لینے آئے گا۔ کوئی اگر میرا پوچھے تو کہنا کہ بخار چڑھا ہے۔ کل ضرور دکان آؤں گا۔” باتیں کرتے ہوے چاچے کی سانس پھول گئی اور وہ مزید بول نہیں سکا۔
نذیر چائے کی چسکیاں لیتے ہوے بے دھیانی سے سنتا، ہوں ہاں کرتا رہا۔

 

چاچی خیرالنسا پریشان لگ رہی تھی۔ اس کی آنکھیں چولھے میں راکھ ہوتے اور بجھتے ہوے انگاروں پر جمی تھیں۔

 

کچھ دیر بعد چاچا غفور نذیر کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوے بولا، “سلائی مشین پر تیرا ہاتھ صاف ہو گیا ہے۔ اب میری دکان تیرے حوالے۔” نذیر نے اثبات میں سر ہلایا۔ یہ بات سن کر چاچی زیرلب مسکرائی۔ اس نے تیکھی نظروں سے بھتیجے کو دیکھا اور اپنا نچلا ہونٹ کاٹنے لگی۔

 

چاچے غفور کی بات سن کر وہ نجانے کیوں ندامت محسوس کر رہا تھا۔ اپنے کندھے پر اس کا کمزور و ناتواں ہاتھ اسے بھاری بھرکم محسوس ہو رہا تھا۔ وہ دل ہی دل میں خود کو چاچے کے اس اعتماد کا مستحق نہیں سمجھتا تھا۔ اپنے ناکردہ گناہوں کا بوجھ اٹھائے وہ چاچی کی طرف دیکھنا چاہتا تھا مگر نہیں دیکھ سکا۔

 

تھوڑی دیر بعد وہ باورچی خانے سے باہر نکلا۔ معمول کے مطابق اس نے کمرے سے چارپائی نکال کر صحن کی دھوپ میں بچھائی، پھرچاچے کو سہارا دے کرباورچی خانے سے نکالا اور صحن میں چارپائی پر لٹا دیا۔ آنکھیں مچمچاتا، بہ دقت سانس لیتا چاچا غفور اس لمحے اسے بچے کی طرح معصوم دکھائی دیا۔

 

نہ جانے کیوں نذیر نے ارادہ باندھا کہ وہ آئندہ کبھی چاچی کو ایک نظر نہیں دیکھے گا۔

 

وہ چاچے کے پائینتی بیٹھ گیا اور اس کی ٹانگیں دبانے لگا۔

 

نذیر کو وہ ہڈیوں کا ڈھانچ معلوم ہو رہا تھا۔ اس نے کبھی چاچے کی جسمانی حالت پر غور نہیں کیا تھا۔ اس نے کبھی اس کی آنکھوں میں بھی نہیں جھانکا تھا۔ اب تک وہ صرف اس کی آواز سنتا رہا تھا۔ اس کی بھاری اور گونج دار آواز ہی اس کے لیے چاچے کے مکمل وجود کا درجہ رکھتی تھی، جو سننے والے کو محکوم بنا دیتی تھی۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ پاٹ دار آواز رکھنے والا شخص درحقیقت اس قدر کمزور بھی ہو سکتا تھا۔

 

نذیر کو وہ ہڈیوں کا ڈھانچ معلوم ہو رہا تھا۔ اس نے کبھی چاچے کی جسمانی حالت پر غور نہیں کیا تھا۔ اس نے کبھی اس کی آنکھوں میں بھی نہیں جھانکا تھا۔ اب تک وہ صرف اس کی آواز سنتا رہا تھا۔
چاچی خیرالنسا نذیر کے ناشتے کے لیے دیسی گھی سے بنے پراٹھے پر ساگ اور مکھن رکھ کر لے آئی۔ رکابی لیتے ہوے اس نے چاچی کی انگلیوں کے لمس کو اپنی ہتھیلی پر محسوس کیا۔ اس نے جھجکتے ہوئے چاچی کے چہرے کی طرف دیکھا تو کچھ پریشان ہو گیا۔ وہ اپنی آنکھوں میں پوشیدہ جذبے کی چمک لیے اب بھی زیرلب مسکرا رہی تھی۔ اس نے جلدی سے رکابی تھام لی اور فوراً اٹھ کر دوسری چارپائی پر جا بیٹھا۔ وہ چارپائی کی ادوائن کے سوراخوں سے سرخ اینٹوں کے فرش کو دیکھتے ہوے نوالے چباتا رہا۔ اس دوران وہ اپنے آپ کو جبراً چاچی کی طرف دیکھنے سے روکتا رہا۔ وہ اپنے شوہر سے دوچار باتیں کر کے اس کی چارپائی پر آ بیٹھی۔ نذیر نے اس کی آنکھوں کو خود پر گھومتے ہوئے محسوس کیا تو نوالے چباتے ہوئے اس کی زبان دانتوں کے نیچے آنے لگی، جس کی وجہ سے لذیذ ساگ اور پراٹھے کا مزہ خراب ہو گیا۔

 

اس نے نذیر سے کوئی بات نہیں کی، بس اپنی آنکھوں کے کونوں سے شریر انداز میں اسے دیکھتی رہی اور اسے دیکھتے ہوے اپنی چادر کے کونے کو شہادت کی انگلی پر لپیٹتی رہی۔ وہ بار بار اپنے دانتوں سے اپنے نچلے ہونٹ کو دبا رہی تھی۔ ایسے میں سانسوں کے زیروبم سے اس کا سینہ دھیرے دھیرے لرز رہا تھا۔

 

چاچا غفور اپنی چارپائی پر بیماری کے زیراثر غافل لیٹا ہوا تھا۔ وہ لاچاری سے ٹھنڈی سانس بھرتی ہوئی اٹھی اور تیز قدموں سے چلتی ہوئی باورچی خانے کی طرف چلی گئی۔ اس کے جاتے ہی نذیر نے پلٹ کر اسے دیکھا۔ وہ خود کو اس کی پشت دیکھنے سے باز نہیں رکھ سکا۔ چلتی ہوئی عورتوں کی پیٹھ دیکھنا اسے بہت اچھا لگتا تھا۔ ایسے میں وہ کہیں گم ہو جاتا۔ عورت کی پشت کا نظارہ اسے چاند کی چودھویں شب اوس میں بھیگے ہوے کسی صحرا کی یاد دلاتا تھا، جس کی بھیگی ہوئی نرم نرم ریت پر وہ کچھ دیر سستانا چاہتا تھا۔ اس لمحے بھی اس کے دل میں ایسی ہی خواہش نے سر اٹھایا۔ خوابیدہ جذبے بیدار ہوے مگر وہ آہ بھرنے کے سوا کچھ نہیں کر سکا۔ اس نے جلدی سے پراٹھے کا آخری نوالہ توڑ کر اپنے منھ میں ٹھونسا۔

 

اچانک چاچے غفور کے سینے سے خرخراتی ہوئی کچھ آوازیں سنائی دیں، جو اگلے لمحے کھانسی میں بدل گئیں۔ اس نے بہ دقت کروٹ لی اور زمین پر بلغم تھوکنے لگا۔

 

نذیر رکابی اٹھائے چاچے کے پاس آیا اور اس کا حال دریافت کیا۔ چاچے نے اس کی طرف دیکھے بغیر ہاتھ کا اشارہ کیا، جس کا مطلب تھا کہ میں ٹھیک ہوں، تم جاؤ۔ وہ باورچی خانے میں رکابی رکھنے گیا تو وہاں اس نے چاچی کو گھٹنوں میں اپنا سر دبائے ہوئے دیکھا۔ وہ اس کی آہٹ سن کر چونکی اور اپنا سر اٹھا کر اسے دیکھتی ہوئی خوامخواہ مسکرانے لگی۔ اس کی زرد آنکھیں اوراداس چہرہ دیکھ کر وہ اپنا دل مسوس کر رہ گیا۔

 

اس کی حوصلہ افزائی کی خاطر وہ گویا ہوا۔ “چاچی، پریشان مت ہو، چاچا شام تک بھلا چنگا ہوجائے گا۔” اس کی یہ بات سن کر چاچی نے حیرت سے اسے دیکھتے ہوئے اپنا سر ہلا دیا۔

 

وہ باورچی خانے میں کچھ دیر ٹھہرنے کے بجاے فوراً وہاں سے باہر چلا گیا۔ چاچے کو خداحافظ کہہ کر وہ گھر سے نکلا اور دکان کی راہ لی۔

 

عورت کی پشت کا نظارہ اسے چاند کی چودھویں شب اوس میں بھیگے ہوئے کسی صحرا کی یاد دلاتا تھا، جس کی بھیگی ہوئی نرم نرم ریت پر وہ کچھ دیر سستانا چاہتا تھا۔
گھر سے نکلنے سے پہلے اس نے کہانیوں والا رسالہ بھی ساتھ لے لیا تھا۔ آج اس کی طبیعت دکان پر کوئی کام کرنے پر مائل نہیں تھی۔ اس نے سوچا کہ یعقوب کاریگر اکیلا ہی شادی والے کپڑوں کی سلائی کر دے گا اور اس کی تساہل پسندی کے بارے میں چاچے سے شکایت بھی نہیں کرے گا۔

 

راستوں پر تیز ی سے چلنا اس کا معمول تھا، مگر وہ آج گلی کی ڈھلان سے بہت آہستگی سے اْتر رہا تھا۔ وہ زیادہ سوچنے کا عادی نہیں تھا مگر اس وقت اس کے ذہن میں خیالات کی ایک گتھی الجھی ہوئی تھی جسے سلجھانا بہت ضروری تھا۔ وہ اسے جلدازجلد سلجھانا چاہتا تھا مگر درمیان میں کوئی چیز مزاحم تھی۔

 

گلی کے درمیان چلتے چلتے بے دھیانی میں وہ داہنی طرف بدرو کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ گلی لوگوں سے یکسر خالی تھی اور اس وقت یہاں سے مویشیوں کے کسی ریوڑ کو بھی نہیں گزرنا تھا۔ رفیق حجام کا بیٹا شلوار اتارے نالی پر بیٹھا ٹٹی کر رہا تھا۔ نذیر کو دیکھ کر وہ شرمانے لگا اور بیٹھے بیٹھے اس نے اپنا چہرہ اپنی قمیض کے دامن میں چھپالیا۔
نذیر نے اسے دیکھا تک نہیں اور اپنی دھن میں اس کے قریب سے گزر گیا۔

 

وہ سوچتا جا رہا تھا کہ اسے چاچے کے پاس رہتے ہوئے چھ مہینے گزر گئے تھے۔ اس دوران اس نے کوئی ایسی حرکت نہیں کی تھی کہ چاچی خیرالنسا اس کے بارے میں کسی بدگمانی میں مبتلا ہو جاتی۔ وہ اسے اچھی لگتی تھی۔۔۔ بالکل جس طرح بھابی خدیجہ اسے اچھی لگتی تھی۔ چاچی کا جسم پرکشش تھا اور اسے چوری چھپے دیکھ کر وہ لطف اندوز ہوتا رہتا تھا۔ اس کی آنکھیں بھی اسے اچھی لگتی تھیں مگر وہ انہیں حسین خیال نہیں کرتا تھا۔

 

آج اس نے پیشانی پر ہاتھ رکھ کر اسے نیند سے جگایا تھا۔ کیوں؟ اس سے پہلے وہ ہمیشہ اسے آواز دے کر اٹھاتی تھی یا اس کی رضائی کو جھنجھوڑ دیا کرتی تھی۔ رکابی تھماتے ہوئے اس کی انگلی کا لمس۔۔۔۔ اسے لگتا تھا کہ چاچی نے جان بوجھ کر اسے چھوا تھا۔

 

وہ زیادہ سوچنے کا عادی نہیں تھا مگر اس وقت اس کے ذہن میں خیالات کی ایک گتھی الجھی ہوئی تھی جسے سلجھانا بہت ضروری تھا۔ وہ اسے جلدازجلد سلجھانا چاہتا تھا مگر درمیان میں کوئی چیز مزاحم تھی۔
جب وہ نیا نیا یہاں آیا تھا تو چاچی خیرالنسا نے کبھی اس کے سامنے اپنے سر سے ڈوپٹہ نہیں اْتارا تھا۔ وہ اس کے سامنے قہقہہ لگانے سے بھی گریز کرتی تھی۔ وہ اس کی موجودگی میں کبھی انگڑائی بھی نہیں لیتی تھی۔ لیکن کچھ دنوں سے وہ ان چیزوں کے حوالے سے لاپرواہ ہوتی جا رہی تھی۔ اب وہ اس کے سامنے ڈوپٹے کے بغیر گھومتی اوربے نیاز ہو کر انگڑائیاں لیتی۔ اپنا لباس سرکنے سے بے خوف ہو کر وہ گھربھر میں جھاڑو لگاتی۔ اور تو اور، بعض اوقات وہ اس کے سامنے کھاٹ پر لیٹ جاتی اور قمیض کا دامن بھی درست نہ کرتی۔

 

چھ مہینوں سے نذیر کے ذہن میں اس خیال کی پھانس اٹکی ہوئی تھی کہ چاچا غفور ساٹھ برس کا تھا اور چاچی خیرالنسا اس سے پچیس سال چھوٹی تھی۔ وہ اکثر سوچتا رہتا تھا کہ وہ لاغراندام بوڑھے شخص کے ساتھ کس طرح نباہ کرتی رہی تھی۔

 

چلتے چلتے اسے چاچی کی انگڑائی یاد آئی اور پیشانی پر اس کے ہاتھ کا لمس۔ وہ مسکرانے لگا مگر جب اس نے آس پاس نظر ڈالی تو ٹھٹک کے رہ گیا۔ گلی سے نکل کر اسے بازار والی سڑک کی جانب مڑنا تھا لیکن وہ خیالوں میں چلتے چلتے قصبے کے آخری مکانات تک پہنچ گیا تھا۔ اسے اپنے سامنے گندم کے کھیت دکھائی دے رہے تھے۔

 

وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا، گارے اور لکڑی کے مکانوں کو دیکھتا، واپس لوٹنے لگا۔ ایک بار پھر وہ خود کوسمجھانے لگا کہ اس کی جانب سے کسی قسم کی حوصلہ افزائی کا نتیجہ خطرناک ہو سکتا تھا کیونکہ آخرکار چاچا غفور اس کے والد کا سگا بھائی تھا۔

 

بازار کی سڑک پر واقع پرائمری اسکول سے بچوں کا شور سنائی دے رہا تھا۔ اس نے محکمہ بہبودِ آبادی کے دفتر کے باہر لگے ہوئے بورڈ کو دیکھا جس پر چہروں کے بغیر مرد، عورت اور ایک بچہ بنے ہوئے تھے۔ سڑک پر خاصی چہل پہل تھی۔ دکانیں کھلی ہوئی تھیں۔ دکانداروں کے چھڑکاؤ کی وجہ سے سڑک کیچڑآلود ہو گئی تھی۔ گردوپیش کے دیہات سے گدھاگاڑیوں، سوزوکیوں اور بسوں کے ذریعے قصبے میں لوگوں کی آمد شروع ہو گئی تھی۔ چائے خانے بھرنے لگے تھے اور وہاں ٹیپ ریکارڈر پر مشہور گانے بجنے لگے تھے۔

 

چاچے غفور کی دکان سڑک کے آخری سرے پر چھوٹی سی گلی میں واقع تھی۔ اس گلی میں صرف درزیوں کی دکانیں تھیں۔ یعقوب کاریگرنذیر کو راستے میں ہی مل گیا۔ وہ دکان کی چابیاں لینے گھر جا رہا تھا۔ نذیر نے چاچا غفور کی صحت کے بارے میں اسے بتایا تو اسے تشویش ہونے لگی۔

 

جب وہ نیا نیا یہاں آیا تھا تو چاچی خیرالنسا نے کبھی اس کے سامنے اپنے سر سے ڈوپٹہ نہیں اْتارا تھا۔ وہ اس کے سامنے قہقہہ لگانے سے بھی گریز کرتی تھی۔ وہ اس کی موجودگی میں کبھی انگڑائی بھی نہیں لیتی تھی۔
یعقوب کاریگر نے دکان کا تالا کھولا تو نذیر نے شٹر اْٹھانے میں اس کی مدد کی۔ وہ یعقوب کا احترام کرتا تھا، اس لیے کہ ایک تو وہ ادھیڑعمر آدمی تھا اور پھر چاچے کا دوست بھی تھا۔ دکان کے بیشترمعاملات اسی کے ہاتھ میں تھے۔ لوگوں کی نظر میں دکان کا مالک چاچا غفور نہیں بلکہ یعقوب کاریگر تھا۔ کئی بہت پرانے گاہکوں کے ناپ اسے زبانی یاد تھے۔ جب انھیں ردوبدل کروانا ہوتا یا وہ نئے فیشن کا ڈیزائن بنواتے تو اپنی فرمائشیں اِسی کو بتاتے۔ وہ دھاگوں، بٹنوں اور بْکرم کی خریداری میں خودمختار تھا۔

 

اسے بہ یک وقت مردانہ اور زنانہ کپڑوں کی سلائی پر دَسترس تھی۔ مگر نہ جانے کیوں قصبے کی عورتوں میں وہ ایک مثالی درزی کی حیثیت سے مقبول تھا۔ دوردراز گوٹھوں کی عورتوں تک بھی اس کی مہارت کی شہرت پھیل چکی تھی۔ کپڑے سِلوانے والی خواتین دیر تک اس کی فضول باتیں بھی سنتی رہتی تھیں۔

 

نذیر یعقوب کاریگر کو رشک کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔ اسے یقین تھا کہ کچھ عورتوں سے اس کے گہرے تعلقات تھے۔ شاید اسی لیے اتنی عمر گزرنے کے باوجوداِس نے شادی نہیں کی تھی۔

 

نذیر کی ہمیشہ یہی کوشش ہوتی تھی کہ دکان کا تالا اور شٹر وہی کھولے اور فرش کی صفائی بھی وہی کرے، لیکن یعقوب ہمیشہ ہی اس کا ہاتھ تھام لیتا تھا۔

 

“بابو، تم مالک، میں نوکر، یہ کام تمھارے کرنے کا نہیں۔”

 

مگر آج نذیرنے اپنے دل میں کچھ اور ہی ٹھانی ہوئی تھی۔ اس نے دکان میں داخل ہوتے ہی جھاڑو اْٹھا لی اور صفائی کرنے لگا۔ یعقوب نے اس کے ہاتھوں سے جھاڑو لینے کی کوشش کی تو اس نے مصنوعی غصہ ظاہر کرتے ہوئے اسے دکان سے باہر جانے کا اشارہ کر دیا۔ سفید بالوں والا کاریگر اپنے سیٹھ کے بھتیجے کا حکم سن کر ہنسی میں کندھے ہلاتا گلی میں جا کھڑا ہوا۔ اس نے قمیض کی جیب سے بیڑیوں کا بنڈل نکالا اور اسے اپنے ہاتھ سے نرمی سے دبانے لگا۔ پھر اس میں سے ایک بیڑی نکال کر اسے دانتوں میں چبا کر اس نے اسے سْلگایا۔

 

اس دوران نذیر نے کرسیوں، سلائی مشینوں اور میز کے نیچے سے کچرا صاف کیا۔ اس نے دھاگوں، لیروں اور بیڑی کے ٹکڑوں کو جمع کر کے اخبار میں سمیٹا اور اخبار کو دکان سے باہر پھینک دیا۔

 

بازار کی سڑک پر واقع پرائمری اسکول سے بچوں کا شور سنائی دے رہا تھا۔ اس نے محکمہ بہبودِ آبادی کے دفتر کے باہر لگے ہوئے بورڈ کو دیکھا جس پر چہروں کے بغیر مرد، عورت اور ایک بچہ بنے ہوئے تھے۔
یعقوب کاریگر آستینیں چڑھاتا دکان میں داخل ہوا اور اپنی مخصوص نشست پر جا بیٹھا۔ اس نے اپنی ٹانگیں کرسی پر سکیڑ لیں اور مزے سے بیڑی کے کش لیتا رہا۔ بیڑی ختم ہونے پر اس نے اسے چپل کے نیچے مَسل دیا۔ اس کے بعد میز کی دراز سے اگربتّی کا پیکٹ نکالا اور اس میں سے دو اگربتیاں نکال کر اس نے دیاسلائی کی مدد سے جلائیں، پھر زور سے پھونک مار کر اس نے اگربتیوں کے شعلے کو بجھایا اور ان کے خوشبودار دھویں میں لمبے سانس بھرنے لگا۔ یعقوب کے لیے صبح دکان کھولتے ہی اگربتی جلانا ایک مقدس رسم کی طرح تھا۔ اس کا خیال تھا کہ اگربتی کی خوشبو سے دکان پر پڑنے والا ہر قسم کے شر کا سایہ چھٹ جاتا ہے۔ اس نے سلگتی ہوئی ایک اگربتی کو میز کے کاؤنٹرمیں اٹکایا جبکہ دوسری کو دیوار کے رخنے میں لگا دیا۔

 

نذیر اپنی سلائی مشین صاف کر رہا تھا کہ اسے چاچے کی بات یاد آ گئی۔ سلائی مشین صاف کرتے ہوے اس نے اپنا ہاتھ روک لیا اور کاریگر سے مخاطب ہوا۔ “وہ، ماسٹر طفیل شام کو کپڑے لینے آئے گا۔ اس کے پانچ جوڑے ہیں شاید،” وہ ہچکچا کر بولا۔ بڑی عمر کے لوگوں سے بات کرتے ہوئے وہ اعتماد کھو بیٹھتا تھا؛ اس کی نگاہ جھک جاتی تھی اور زبان میں گرہ پڑنے لگتی تھی۔

 

یعقوب نے اس کی بات سنی اور مسکراتے ہوے بولا، “معلوم ہے۔ دو لیڈیز کے ہیں اور تین مردانہ جوڑے۔”

 

نذیر نے مطلوبہ دھاگے کی نلکی کو سلائی مشین پر چڑھایا اور دھاگے کو مختلف جگہوں سے گزار کر سوئی کے ناکے میں ڈال دیا۔ بے کار کپڑے کو سوئی کے نیچے رکھا اور مشین چلا کر ٹانکوں کا جائزہ لیتا رہا۔

 

گزشتہ صبح ہی ا نھوں نے ماسٹر طفیل کے کپڑوں کی کٹائی کر لی تھی اور شام تک آدھے جوڑوں کی سلائی بھی ہو چکی تھی۔ اب نذیر کا ہاتھ سلائی مشین پر رواں ہو گیا تھا۔ وہ اکیلا ہی شام تک بیٹھ کر پانچ جوڑوں کی سلائی کر سکتا تھا۔ مگر اس کا مزاج سیمابی تھا اس لیے اس کے لیے ایک جگہ دیر تک بیٹھنا مشکل تھا۔ یکسوئی سے کام کرتے کرتے اچانک اس پر بے قراری کا دورہ پڑتا اور وہ فوراً دکان سے باہر نکل جاتا؛کچھ دیر سڑک پر ٹہل کر اِدھراْدھر کی چیزوں کو دیکھتا اور پھر واپس آ کر اپنا کام کرنے لگتا۔

 

درزیوں کی اس گلی کی ہر دکان پر ٹیپ ریکارڈر اونچے سْروں میں بجتا تھا۔ ہر درزی اپنی پسند کے گانے سنتا تھا۔ نذیر بھی فلمی گانے سننے کا شوقین تھا۔ کئی مرتبہ وہ یعقوب کاریگر سے اپنی خواہش کا اظہار کر چکا تھا۔ اسے بھی موسیقی سننا پسند تھا مگر چاچے غفور کو موسیقی سے نفرت تھی۔ گلی میں کوئی درزی جب اونچی آواز میں گانے بجاتا تو چاچا غفور اسے گالیاں دینے لگتا اور ٹیپ بند کروا کے دم لیتا۔ مگر وہ درزی کچھ دیر بعد دوبارہ ٹیپ ریکارڈر بجانا شروع کر دیتا۔ چاچا غفور اس مرتبہ اٹھ کر جانے کے بجائے بیٹھا بڑبڑاتا رہتا۔

 

یعقوب کاریگر نے ایک اور شوق بھی پال رکھا تھا۔ اس نے کچھ ہٹ دھرمی اور کچھ بے شرمی سے اپنے اس عجیب شوق کی تکمیل کر لی تھی۔ اسے چاچا غفور کے طعنوں کی بھی پروا نہیں تھی۔ اس نے اخباروں، رسالوں، کتابوں اور پوسٹروں سے رنگین تصویریں کاٹ کاٹ کر دکان کی دیواروں پر چپکا دی تھیں۔ چھت سے فرش تک کوئی جگہ خالی نہیں چھوڑی تھی۔ تمام کی تمام تصاویر فلمی اداکاراؤں اور ٹی وی کی ماڈل لڑکیوں کی تھیں۔ وہ سب کی سب جوان اور پرْکشش دکھائی دیتی تھیں۔ یعقوب کا یہ مشغلہ بہت پرانا تھا اور اس میں کبھی کمی نہیں آتی تھی۔ وہ ہر دوسرے دن ڈھونڈ ڈھانڈ کر کوئی نئی نویلی تصویر لے آتا اور اسے کسی پرانی تصویر کی جگہ لگا دیتا۔ گلی میں ایک اور درزی نے بھی اس کی دیکھادیکھی یہی شغل اختیار کر لیا تھا۔ وہ گاہے گاہے یعقوب کاریگر کو اپنی تصویروں کے معائنے کے لیے بلاتا رہتا اور اس کی رائے بھی معلوم کرتا۔

 

نذیر نے بے دلی سے کٹا ہوا کپڑا اْٹھایا اور سلائی کرنے لگا۔

 

گلی میں گاہکوں کی آمدورفت شروع ہو چکی تھی۔ یہ مختصر بند گلی شام تک لوگوں سے بھری رہتی تھی۔ دکان داروں نے دکانوں پر کپڑوں کے سائبان لگا رکھے تھے، جس کی وجہ سے گلی صبح سے شام تک سایہ دار رہتی تھی۔

 

چاچے غفور کی بیماری کی خبر پوری گلی میں پھیل گئی۔ تمام دکان دار نذیر سے اس کی خیریت دریافت کرنے آئے اور اپنی دکانوں پر واپس جا کر انھوں نے ٹیپ ریکارڈر اونچی آواز میں بجانا شروع کر دیے۔ ہر دکان پر مختلف گانا چل رہا تھا۔ ملی جلی آوازوں کے ہنگامے کے بیچ کسی گانے کے بول سمجھ نہیں آتے تھے۔

 

اسے بہ یک وقت مردانہ اور زنانہ کپڑوں کی سلائی پر دَسترس تھی۔ مگر نہ جانے کیوں قصبے کی عورتوں میں وہ ایک مثالی درزی کی حیثیت سے مقبول تھا۔
جب دکان کے آگے سے گزرنے والے کسی شخص کا سایہ اندر پڑتا تو نذیر بے اختیار ہو کر باہر دیکھنے لگتا۔ وہ احتیاط سے کیے جانے والے کام میں جلدبازی برتنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس کا ایک ہاتھ تیزرفتاری سے سلائی مشین کے ہینڈل پر گھوم رہا تھا جبکہ دوسرا ہاتھ کپڑے کو تیزی سے آگے سرکاتا جا رہا تھا۔ سوئی چشم زدن میں کپڑے پر ٹانکے پر ٹانکا لگاتی جا رہی تھی۔ تھوڑی دیر بعد اس نے سلائی مشین روک دی۔

 

یعقوب کاریگرنے شلوار مکمل کر لی تھی۔ کچھ دیر سستانے کے لیے اس نے نئی بیڑی سلگائی۔ نذیر اپنی نشست سے اْٹھا اور دکان کے سرے پر کھڑا ہو گیا۔ ہوٹل کا باہروالا کیتلی اور پیالیاں اٹھائے اس کے سامنے سے گزرا تو اس نے اسے دو چائے کے لیے کہہ دیا۔ پھر وہ دکان کے اندر آ کر یعقوب کاریگر کے پاس جا کھڑا ہوا۔ وہ بیڑی کے کش پر کش لگاتا اپنی گدلی آنکھوں سے اپنے سامنے کھڑے نوجوان لڑکے کو دیکھتے ہوے مسکرایا۔

 

“آج کام میں دل نہیں لگ رہا،” نذیرجھجکتے ہوے بولا۔

 

“تمہاری جو عمر ہے نا چھوٹے سائیں، اس میں یہ دل بڑا تنگ کرتا ہے، جب کہ کپڑوں کی سلائی کاکام کرنے کے لیے پِتہّ مار کر بیٹھنا پڑتا ہے،” وہ اپنی سفید اور سیاہ داڑھی کھجاتے ہوے بولا۔ “پروا مت کروچھوٹے سائیں اور میرے ہوتے ہوے کوئی غم نہ کرو۔”

 

“چاچے کو کچھ نہ بتانا۔۔۔۔” نذیر نے اس سے درخواست کی۔ کاریگر نے یہ سن کرقہقہہ لگایا۔ اس کا قہقہہ سن کر نذیر بھی مسکرایا۔ وہ اسٹول کھینچ کر خوش مزاج کاریگر کے پاس بیٹھ گیا اور اس نے یونہی موسم کی شدت کا ذکر چھیڑ دیا۔

 

“اس مہینے سردی اور بڑھ جائے گی۔ سنا ہے کوئٹہ میں برف باری ہو رہی ہے!”

 

یعقوب کاریگرکندھے جھٹک کر ہنستے ہوے بولا، “تمہارے چاچے کو اسی لیے ٹھنڈ لگ گئی… مگر یار، اس کے پاس تو بہترین ہیٹر ہے۔ اسے ٹھنڈ نہیں لگنی چاہیے تھی۔”

 

اس کی یہ بات سن کر نذیر نے شرما کر سر جھکا لیا۔

 

یعقوب اس کے گھٹنے پر ہاتھ مار کر قہقہے میں لوٹنے لگا۔ “تم اب بچّے نہیں رہے۔ ماشا اللہ سمجھ دار ہو۔”

 

باتوں کے دوران چائے والا آ گیا۔ نذیر نے پیالیوں میں چائے ڈالی۔

 

کاریگر چائے پی کر اْٹھا اور انگڑائی لیتے ہوئے اس نے اپنی کمر کا پٹاخہ نکالا۔

 

نذیر نے اسے انگڑائی لیتے ہوئے دیکھا تو آج کی رات جو واقعہ پیش آنے والا تھا اس کے تصوّر سے ہی اس کے خون میں سنسنی سی پھیلنے لگی تھی۔ اس کا ذہن یعقوب کے فحش مذاق سے نکل کر یکایک کہیں اور پہنچ گیا۔ اسے چاچی خیرالنسا کا بھی خیال تک نہ آیا کیونکہ اس کا ذہن خیالات کے ایک اور بگولے کی زد میں آ کر اِدھراْدھر بھٹکنے لگا تھا۔ وہ واقعہ جو پینتالیس روز قبل پیش آیا تھا، آج اسے اس کا پھل ملنے والا تھا۔ وہ بالکل نہیں جانتا تھا کہ آج کی شب اس کی امیدوں کو بر آنا تھا یا انھیں ہمیشہ کے لیے نیست و نابود ہونا تھا۔ اس کے علاوہ آج شب جو واقعہ رونما ہونے والا تھا اس سے اس کی زندگی کو بھی خطرہ لاحق ہوسکتا تھا۔ اگر وہ اس سے کامیاب گزر گیا تو ٹھیک؛ ناکامی کی صورت میں اس کی موت بھی واقع ہو سکتی تھی۔

 

(جاری ہے)
Categories
فکشن

جہنم

وہ اُن کو آتے ہوئے دیکھ رہا تھا سب ایک ایک کر کے آ رہے تھے اور اُس کے گرد دائراہ بنا کر بیٹھنا شروع ہو گئے۔ ان کی تعداد شمار میں نہ آتی تھی۔ سب کے چہروں پر تھکن واضح تھی۔ وہ اتنے عجیب تھے کہ برہنگی سے بچنے کے لئے انہوں نے اپنی ہی چمڑیاں اورڑھ رکھی تھیں جو جگہ جگہ سے اُدھڑ چکی تھیں۔

 

وہ اتنے عجیب تھے کہ برہنگی سے بچنے کے لئے انہوں نے اپنی ہی چمڑیاں اورڑھ رکھی تھیں جو جگہ جگہ سے اُدھڑ چکی تھیں۔
ان میں کچھ بادشاہ بھی تھے جو اپنی سلطنت کی وسعت ماپنے نکلے تو انہیں اندازہ ہوا کہ ان کی سلطنت کتنی چھوٹی ہے۔ پھر وہ اس طرف چل پڑے۔ انہیں یہاں آنے کی اتنی جلدی تھی کہ یہ اپنا ولی عہد بھی مقرر نہ کر سکے۔

 

کچھ ایسے سپہ سالار بھی آئے تھے جو عین لڑائی میں اپنی فوج کو تنہا چھوڑ کر اس راستے کےمسافر ہوئے۔ اور فوج ان کی عدم موجودگی سے بے خبر صدیوں سے جنگ کرتی آ رہی ہے اورنہیں جانتی کہ یہ لڑائی کبھی ختم نہ ہو گی۔

 

وہ شوہر بھی ان پہنچنے والوں میں شامل تھے جو شبِ زفاف حُجلہءِ عروسی میں اپنی دلہنوں کی جگہ کسی اجنبی کو دیکھ کر ایسے بدکے کہ اس راہ کہ ہو لئے۔

 

کچھ ایسی عورتیں بھی اُس تک پہنچی تھیں جن کے پستانوں کو حیوانوں نے چھو لیا تھا اور اُن کی چھاتیوں سے زہر رسنا شروع ہو گیا تھا۔ وہ اپنے بچوں کے لئے دودھ کی تلاش میں گھر سے نکلیں تھی کہ کسی انجان آواز کہ تعاقب میں مبتلا ہو کر اپنے بچوں کو بلکتا چھوڑ کر نامعلوم کی پگڈنڈی پر چلنے لگیں۔

 

کچھ نیم خوابیدہ وہ لوگ تھے جو آدھی رات کو پیاس کی شدت سے اُٹھ بیٹھے تھے پھر انہیں یکایک خیال آیا کہ اُن کا خواب تو ادھوراہ رہ گیا ہے۔ وہ کسی مبہم خواب کی ڈور تھامنے اسی سمت چلتے آئے۔

 

کچھ آئینہ ساز بھی تھے جو غلطی سے ایسے آئینے بنانے لگ گئے تھے جس میں ہو بہو شکل نظر آتی تھی۔ یہ سب پتھروں سے بچتے بچاتے اس راہ پہ آ گئے تھے۔

 

آہ کہ وہ سفر کتنا طولانی تھا جس نے تمہارے بچوں کو بوڑھا کر دیا، جس نے تمہاری یاداشتوں کو محو کر دیا، جس نے تمہاری کمروں کو خمیدہ کر دیا اور تمہارے گالوں کے گوشت کو تمہارے سینوں تک کھسکا دیا۔
کچھ لوگ پھانسی گھاٹ سے سیدھے یہاں کے راہی ہوئے۔ کچھ ویٹنگ لاونج میں ٹہلتے ٹہلتے اس راہ کے مسافر ٹھہرےاور بار بار اپنا نام پکارے جانے پر بھی واپس نہ پلٹے۔

 

یہاں آنے والوں میں کچھ بچے بھی تھے جو تتلیوں کے پیچھے بھاگتے ہوئے شام ہونے پر کسی جگنو کی رہنمائی کی خواہش دل میں دبائے چلتے آئے تھے۔ اس میں وہ بچہ بھی تھا جو میلے میں اپنی ماں کے ساتھ آیا تھا جب اُس کی ماں مداری کے کسی نہ ختم ہونے والے کرتب کا حصہ بن گئی تو وہ اکتا کر چاٹ کی پلیٹ ہاتھ میں تھامے ادھر آ نکلا۔ اس میں گلابی ربن والی وہ بچی بھی تھی جو اپنی گڑیا ڈھونڈنے نکلی تھی جس کی شادی کا جوڑا بھی اُس نے تیار کر رکھا تھا۔ جب اُس کو گڑیا نہ ملی اور شادی کے جوڑے کا رنگ انتظار کی دھوپ سے سفید ہو گیا تو وہ روتی ہوئی چل پڑی۔

 

کچھ نوعمر لڑکیاں بھی تھیں جہنوں نے اپنے ہی بھائیوں کی آنکھوں میں ایسی وحشت دیکھی تھی کہ بھاگتی ہوئی یہاں تک آئیں تھیں۔ اُن کا سانس ابھی بھی پھولا ہوا تھا۔

 

ایک مقرر بھی آنے والوں میں تھا جو تقریر کرتے ہوئے کسی خیال کی گرہ میں ایسا الجھا کہ تقریر ادھوری چھوڑ کر یہاں آنے کا قصد کر بیٹھا۔ حالانکہ مجمع ابھی منتشر نہ ہوا تھا۔

 

ایک نوجوان لڑکا بھی تھا جو اپنی محبوبہ کی بے وفائی کا شکار ہو کر ٹرین کہ آگے خودکشی کرنے لیٹا تھا۔ پھر اپنا خیال ملتوی کر کے پٹریاں بدلتے ہوئے یہاں تک پہنچا تھا۔

 

ایک ایسی عورت بھی یہاں کی مسافر تھی جس کی بیوگی کے ٹھیک اٹھارہ سال بعد اُس کا بیٹا ملک کی خاطر شہید ہوا تھا اور وہ اُسی ملک کو تلاش کرتے ہوئے ان راہوں پر چل نکلی تھی۔ وہ بوڑھا بھی تو آیا تھا جس کے پاس اپنے جوان بیٹے کا کریاکرم کرنے کے لئے لکڑیاں خریدینے کے پیسے نہیں تھے اور لکڑیاں ڈھونڈتے اس طرف چل پڑا باوجود یہ کہ اُس کے اپنے ہاٹھ میں ایک لاٹھی تھی۔

 

کچھ لوگوں کے آنے کی وجہ تاحال نا معلوم تھی۔

 

اورتم اُس شاہراہ پر جا نکلے جہاں قدم قدم پر سُرخ سگنل تھے اور یہاں کا سفر تمہیں کہنیوں کہ بل رینگ رینگ کر کرنا پڑا دیکھو کہ تمہاری کہنیوں سے ابھی بھی خون ٹپک رہا ہے۔
رات کا آخری ستارہ غروب ہونے سے ذرا پہلے آخری شخص بھی آن پہنچا یہ اتنا دُبلا تھا کہ ہوا کہ دوش پر اُڑتا ہوا پہنچا۔
جب اُس نے دیکھا کہ دائرہ مکمل ہو گیا ہے اور سب سے پہلے آنے والے کا کندھا آخر میں آنے والے کے کندھے سے جڑ گیا ہے تو اُس نے ایک نظر سب پر ڈالی اور بولنے لگا۔

 

“میں تم سب کہ چہروں پر وہ تھکن پڑھ سکتا ہوں جو اس مسافت کی طوالت، سمتوں کی بے رُخی اور سنگِ میل کی عدم دستیابی کے باعث ہوئی۔ آہ کہ وہ سفر کتنا طولانی تھا جس نے تمہارے بچوں کو بوڑھا کر دیا، جس نے تمہاری یاداشتوں کو محو کر دیا، جس نے تمہاری کمروں کو خمیدہ کر دیا اور تمہارے گالوں کے گوشت کو تمہارے سینوں تک کھسکا دیا۔ بھلا تم میں سے کون ایسا ہے جس کے پیروں کے آبلوں نے خون کی لکیر نہ کھنچی ہوں۔ میں نے اس سفر کے دوران تمہاری دعاوں کو خودکشیاں کرتے دیکھا ہے۔ تم جو امید بھری نظروں سے میری سمت دیکھتے ہو۔ میں تمہیں تمہارے پہلے اور بعد کا حال سناوں، تو سنو۔ تم میں جو اپنی بیویوں کو بستر پر چھوڑ ائے تھے، یقین جانو کہ سپیدہ سحر سے پہلے تمہارے بھائیوں کی ہوس نے تمہاری بیویوں کو سیراب کر دیا تھا۔ جو مائیں اپنے شیر خوار بچوں کو ویران گھروں میں چھوڑ ائیں تھیں ان بچوں کے اندر آسیب نے بسیرا کر لیا ہے اور وہ روشنی سے یوں ڈرتے ہیں جیسے تم کبھی اندھیرے سے ڈرتی تھیں۔ سپہ سالار کی فوج کا آخری جوان ابھی مقتل میں پڑا تڑپتا ہے۔ خون نے اس کی داڑھی اور لباس کو رنگ دیا ہے اور وہ جنگ کے ختم ہونے کہ واہمے کا شکار ہو گیا ہے۔ بادشاہوں کی سلطنتوں پر چوہوں نے قبضہ کر لیا ہے اور وہ اُسے مسلسل کُتر رہے ہیں۔ کس کس کا حال سناوں کہ میں تمہارے ہونٹوں کی بڑبڑاہٹ اور سینوں کا گریہ سُن رہا ہوں۔

 

بالآخر تم ان میں سے نکلے تو سب سے پہلے وحشیتوں کے جنگل نے تمہارے قدم جکڑ لئے اور تم پر ایسی دیوانگی طاری ہوئی کہ تم ناخنوں سے اپنا چہرہ نوچتے تھے۔ مجھے خوف ہوا کہ تم سب ان جنگلوں میں خود کشی کر لو گے کہ جس سے نکلنے کا کوئی راستہ تمہیں نہیں بتایا گیا۔ لیکن تم نے اپنی دیوانگی سے اُن جنگلوں کو جلا کر راکھ کر دیا۔

 

اورتم اُس شاہراہ پر جا نکلے جہاں قدم قدم پر سُرخ سگنل تھے اور یہاں کا سفر تمہیں کہنیوں کہ بل رینگ رینگ کر کرنا پڑا دیکھو کہ تمہاری کہنیوں سے ابھی بھی خون ٹپک رہا ہے۔

 

پھر تم اُن سنگلاخ پہاڑوں پر پہنچے جن کی چوٹیاں ابد کو چھوتی تھیں۔ تم لاکھوں سال اُس میں سرپٹکتے رہے۔ تم نے ان پتھروں پر اپنے خون سے نشان ثبت کر دئیے اور جہدسے وہ چراغاں کیا کہ آسمان کو ان پہاڑوں پر اترنا پڑا۔ ممکن تھا کہ تم خدا کی کُرسی کو چھو لیتے۔ لیکں تم ان پہاڑوں کی دوسری سمت اُتر گئے۔

 

وہاں ریشم کے رنگ برنگے ملائم دھاگوں سے بنا ایک پُل تھا جس میں ہر تار دوسرے سے یوں الجھا تھا کہ تم صدیوں تک ان کی گرہوں میں ایک دوسرے کو تھامے لُڑھکتے رہے۔ یہاں اجتماع نے تمہارے حوصلوں کو مُردہ نہ ہونے دیا۔

 

ذرا سوچو وہ کیا شے تھی جو تمہیں یہاں لے کر آئی ورنہ تم یہاں تک پہنچنے کی اہلیت ہرگز نہ رکھتے تھے۔ یہ وہ راز ہے جو تم نے اپنے جسموں سے پرے بویا تھا۔
پھر تم اس گھاٹی میں اُترے۔ آہ کہ وہ کیا گھاٹی تھی کہ جس کے تمام سرے نامعلوم تھے۔ یہاں آ کر تم جن شریں چشموں سے سیراب ہوئے وہ شب زندہ دار کے آنسووں اور شہیدوں کے خون سے رنگین تھے۔ یہ گھاٹی تمہارے دلوں کو مطمئن اور تمہارے سفر کو کھوٹا کرتی تھی مگر تم نے شک کا چراغ جلائے رکھا اور بے چینی کا ایندھن ڈالتے رہے۔ بالآخر تمہیں یہاں سے نکلنا پڑا۔

 

اور پھر وہ وادی آئی جس نے تمہاری یادداشتوں کو ایسا محو کر دیا جیسا تم لوگوں کہ ذہنوں سے ہوئے تھے۔ قریب تھا کہ تم اُسے آخری منزل سمجھتے اور خیمے گاڑ دیتے۔ تمہاری حُریت کی قسم اگر تم ایسا کرتے تو کبھی اس گھاٹ تک نہ پہنچ پاتے۔

 

ذرا سوچو وہ کیا شے تھی جو تمہیں یہاں لے کر آئی ورنہ تم یہاں تک پہنچنے کی اہلیت ہرگز نہ رکھتے تھے۔ یہ وہ راز ہے جو تم نے اپنے جسموں سے پرے بویا تھا۔ ابد ایک جہنم ہے جسے تم اپنی آرزووں سے سینچتے آئے ہو۔ آو کہ میں تمہیں اس سے ایسا سیراب کر دوں جیسا میں نے اپنی روح کو کیا ہے۔ آو کہ ابد میں تا ابد جلتے ہیں۔”

 

اُس نے پیالہ بھرا اور سب کے سامنے رکھ دیا۔ سب ایک دوسرے کےچہروں کو دیکھ رہے تھے۔ ابد کا چشمہ نیلا پڑ چکا تھا۔ سب نے اپنا پنا ہاتھ آگے بڑھایا پھر ٹھٹھک گئے۔ پھر اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔ سورج اُن کے اندرطلوع ہو رہا تھا۔

Image: Slobodan Radosavljevic

Categories
فکشن

جبلت

پہلا منظر

 

گہری رات تھی۔ ہو کا عالم تھا۔ وہ دھیمے قدموں کھیتوں کی جانب چلا جا رہا تھا۔ گاؤں کی گلیاں جو ہر قدم کے ساتھ دور ہوتی جا رہیں تھیں، ان سے آوارہ کتوں کے بھونکنے کی آوازیں وقفے وقفے سے آ رہیں تھیں۔ وہ سر جھکائے چادر کی بکل لیے کھیت کے نسبتاً دور اور اندھیرے کونے کی جانب چلا جا رہا تھا۔ آخر کار اپنی پسندیدہ جگہ پہنچ کر اس نے حاجت رفع کی اور واپسی کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔ تقریباً پچاس فٹ کے فاصلے پر اسے ایک ہیولا نظر آیا۔ وہ کوئی عورت تھی۔ دفعتاً چادر والے شخص کے جسم کے روئیں روئیں سے اس عورت پر قابو پانے کی خواہش ابھرنے لگی۔ اس کی آنکھوں کے سامنے جھکڑ چل رہے تھے، اسے وہ عورت اپنے پاس آتی نظر آ رہی تھی۔ جیسے وہ اسے بلا رہی تھی۔ یہ تیز تیز قدموں سے چلتا اس عورت کے سر پر جا پہنچا اور اسے دبوچ لیا۔ ناقابل برداشت اشتہا کی وجہ سے چادر والے شخص کی تمام تر حسیات اپنے شکار پر مرکوز تھیں۔ کسی ہفتے مہینے سے بھوکے انسان کی طرح اس نے عورت کو بھنبھوڑنا شروع کیا اور کچھ ہی دیر میں اپنا قبیح فعل انجام دے دیا۔

 

دوسرا منظر

 

اس کی نگاہیں سامنے ٹکی تھیں۔ موٹاپے کے بدترین مرض کا شکار وہ شخص پرہیزی کھانے کھا کر زندہ تھا مگر آج مارکیٹ میں آ کر کباب اور تکوں کی دکان کے سامنے آ کھڑا ہوا تھا۔ اس کا ارادہ ہرگز کھانے کا نہ تھا۔ اس کے فربہ بدن سے پسینہ دھاروں کی طرح بہہ رہا تھا۔ اچانک اس کے جسم میں بھوک نے شیطانی انگڑائی لی۔ اس کے معدے نے جیسے چیخنا شروع کر دیا۔ وہ جنونی انداز میں ہوٹل میں داخل ہوا اور کھانے کا آرڈر دے کر کھانے پر ٹوٹ پڑا۔ کچھ دیر بے دریغ پیٹ پوجا کے بعد اس کے دل کی دھڑکن گھڑی کی سوئیوں کی طرح بجنے لگی۔ اس کا دل کسی الارم کی طرح تیز سے تیز ہوتا جا رہا تھا۔ وہ چند سیکنڈ بعد کرسی پر مردہ پایا گیا۔

 

تیسرا منظر

 

سامنے ہی ایک احتجاج ہو رہا تھا۔ وہ اپنے اوزار لیے مزدوری کے لیے جا رہا تھا۔ اچانک ایک نعرے نے نجانے کون سا جادو کیا کہ کسی پگھلے سیسے کی طرح وہ احتجاج میں شامل ہوا اور اپنی کدال سے گاڑیوں کے شیشے توڑنا شروع کر دیے۔ خون اس کی آنکھوں سے ابل رہا تھا۔ رگیں اس کے بازوؤں سے باہر نکلنے کو بے تاب تھیں۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے مگر وہ تسکین محسوس کر رہا تھا۔ چند گھنٹے بعد وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے تھا۔

 

چوتھا منظر

 

پاکستان کے بھارت پر قبضے کے بعد بالی وڈ کی تمام ہیروئنز کو مجاہدین کے سامنے پیش کیا جا رہا تھا۔ اس کے سامنے بھی معروف ہیروئنز کھڑی ہوتی ہیں، وہ ان میں سے چند ایک کو پکڑ کر اپنی لونڈی بنا لیتا ہے۔ امریکہ کی تباہی کے بعد اب مسلمانوں کی ساری دنیا پر حکومت ہے اور اسے یورپ کا حکمران بنا دیا گیا ہے، امی کی آواز آتی ہے اور وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھتا ہے اور دہی لینے چلا جاتا ہے۔

 

پانچواں منظر

 

لاہور کے مال روڈ پر اسکرٹ اور نیکر پہنے لڑکیاں گھوم رہی ہیں۔ لوگوں کے ہاتھوں میں شراب ہے۔ وہ سامنے بنے کلب میں داخل ہوتا ہے۔ اندر تیز موسیقی پر بے ہنگم رقص ہو رہا ہے۔ جسم تھرک رہے ہیں۔ وہ تھرکتے جسموں میں شامل ہوجاتا ہے۔ کچھ دیر پینے اور بہکنے کے بعد اسے لڑکے اور لڑکیاں اٹھا کر اوپر لے جاتے ہیں۔ وہ واپسی پر بہت تسکین محسوس کرتا ہے۔ اچانک ایک ہارن کی آواز اسے چونکا دیتی ہے۔ پچھلی گاڑی والا گالی دیتے ہوئے اسے سگنل کھل جانے کا بتا رہا ہے۔

 

چھٹا منظر

 

وہ دیکھتا ہے کہ اس کے دوست کو کچھ لوگ مار رہے ہیں۔ اس کی کنپٹیاں جلنا شروع ہوجاتی ہیں۔ وہ آگ بگولا ہوجاتا ہے۔ اس کے بدن میں بجلی بھر جاتی ہے۔ وہ اپنے ہاتھ میں بلا پکڑ کر ان لوگوں پر پل پڑتا ہے۔ ایک کے سر سے خون نکلتا دیکھ کر اس کے ہاتھوں میں مزید تیزی آ جاتی ہے۔ اس کا دوست اسے روکنے کی کوشش کرتا ہے مگر وہ نہیں رکتا۔ کچھ دن بعد قتل کے الزام میں اسے پھانسی کی سزا سنا دی جاتی ہے۔

Image: Taha Malasi

Categories
فکشن

لکھاری اور رہگیر

حکومت مخالف تحریک پورے زوروں پر تھی۔ اخبارات، ٹی وی چینلز اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس قائدین کی تقریروں اور بیانات سے بھرے ہوئے تھے۔

 

چائے خانوں، ڈھابوں، حماموں، دفاتر اور تعلیمی اداروں میں ایک ہی بات موضوعِ بحث تھی کہ حکومت ختم ہونی چاہیے مگر جب اس سے اگلے لائحہ عمل کی بات چھڑتی تو بحث تاش کے پتوں کی طرح بکھر جاتی۔

 

باتیں کرنا ایک آسان مشغلہ ہے اس شخص کے لئے اور بھی زیادہ جسے کوئی ہنر نہیں آتا۔۔۔۔ تم لکھاری سب سے بے ہنر قوم ہوتے ہو اور اس لئے صرف بولتے رہتے ہو چپڑ چپڑ
دن بھر سیاسی کارکن تقاریر سنتے، احکامات لیتے، جن میں سے زیادہ تر طاقت سے اگلے کو کچلنے کے ہوتے، اور کسی بھی چوک چوراہے میں ان احکامات پر عملدرآمدشروع کر دیتے۔

 

انقلابیوں اور رد انقلابیوں کی تقسیم اس قدر واضح ہو چکی تھی کہ حکومت نے اولین کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ فہرستیں تیار ہونے لگیں، سراسیمگی کا عالم کے لوگ اپنے سائے سے بھی خوف کھانے لگے۔ اس بات کا خوف کہ کہیں کوئی ذاتی دشمنی کی بنا پر مخالف کوانقلابی کہہ کر گرفتار نہ کروا دے۔ اس سلسلے میں حکومت کے لئے سب سے بڑا درد سر وہ لکھاری تھے جو پرانے انقلابات کو پڑھ چکے تھے اور اپنی تحریروں میں آگ بھرنے کے لئے انہی سے چنگاری لیتے تھے۔
شورش کے ان اوقات میں رات دن کا فرق ختم ہو چکا تھا۔ پولیس کسی بھی وقت مخالفین کو پکڑنے کے لئے پہنچ جاتی اور چوراچوری کے برعکس دن دیہاڑے تھانوں کو آگ لگائی جا رہی تھی۔

 

اس بھیانک دن سے چند روز پہلے جب بیسیوں بیمار لوگوں نے شہر میں کرفیو کی وجہ سے اسپتال نہ پہنچنے کی بدولت جانیں دے دی تھیں شہر سے کچھ دور ہائی وے کے ساتھ متصل ایک حویلی میں دو اجنبی آپس میں محو گفتگو تھے۔

 

گفتگو ہر گز روایتی نہ تھی۔کبھی کبھار وہ دونوں ایک دوسرے کے اوپر چلاتے،کبھی تحمل سے بولنے لگتے اور کبھی ایک دوسرے سے دور ہٹ کر سگریٹ پینے لگ جاتے۔ گفتگو اتنی بے ہنگم تھی کہ ہر تیسرے سوال پر اس کا موضوع تبدیل ہو جاتا اور اگر کوئی بعد میں چلا جاتا تو ہر گز نہ جان سکتا کہ ابتداء کہاں سے ہوئی تھی۔

 

“یہ حویلی تو ایک دم شیکسپئیر کے کسی المیے کا حصہ معلوم ہوتی تھی۔۔۔” دوسرے شخص نے کہا جو باہر سے اس جگہ آیا تھا۔۔۔۔ایک راہگیر جس کا مال واسباب لٹ چکا تھا اور اس نے رات گزارنے کے لئے قریب ترین جگہ کا رخ کیا تھا کہ صبح تھانے جا کر اس کی رپورٹ درج کرائے گا:

 

جب تمہیں ایک دن کا پتہ نہیں کہ جیو گے یا مرو گے تو اس ایک دن کے لئے تم نے اپنے دو سال ضائع کیوں کر دیے۔
تم نے شیکسپئیر کو پڑھا ہے؟ حویلی کے مالک نے، جو کسی چھوٹے سے مارکسی رسالے کا ادیب تھادریافت کیا۔
“نہیں”۔ اس نے جواب دیا۔

 

تو تم اسے ایسا کیسے کہہ سکتے ہو؟

 

“اس لئے کہ میں نے شیکسپئیر کے بارے میں کافی سن رکھا ہے، اور میں اس طرح سے بول بھی سکتا ہوں” اس نے کسی اداکار کی طرح بولتے ہوئے کہا۔

 

کیا سن رکھا ہے؟ لکھاری نے دریافت کرنا چاہا۔

 

“یہی کہ دنیا ایک اسٹیج ہے اور ہر انسان ایک اداکار!!”
“اس بات کا اس کے ساتھ کیا تعلق ہے؟”

 

“تم نے کبھی حویلی اور اس میں پھیلی اداسی کو محسوس نہیں کیا۔۔۔۔۔کیا دنیا اتنی اداس نہیں بنتی جا رہی جتنی کہ یہ حویلی ہے۔ تم بھی تو ایک اداس شخص کا کردار ادا کر رہے ہو۔ اگر تم اداس نہ ہوتے تو ہر گز یہاں رہنا گوارا نہ کرتے، اور ابھی تو بہت خون بہنے والا ہے۔ کیا تمہیں نہیں لگ رہا؟” راہ گیر نے پوچھا۔

 

“الوؤں کے مرنے سے حویلیاں ویران نہیں آباد ہوتی ہیں” لکھاری نے فلسفیانہ ہوتے ہوئے جواب دیا۔

 

“تم رائٹر لوگ دنگا فساد کو اتنا گلیمرائز کیوں کرتے ہو؟” راہگیر نے پوچھا۔

 

“اس لئے کہ شاید اسی طرح تم لڑنے کے لئے تیار ہو جاؤ” لکھاری نے جواب دیا…

 

“غسل خانہ کس طرف ہے؟”

 

“لڑائی کے نام سے ہی پیشاب آ گیا۔۔۔” ادیب نے سگریٹ مسلتے ہوئے کہا اور انگلی سے ایک طرف اشارہ کر دیا۔

 

“تم لوگ کہاں سے ایسی باتیں نکال لیتے ہو؟ اور یہ سگریٹ تم ادیبوں کی سلاجیت ہوتا ہے کہ سلگائی اور باتیں پیدا کرنا شروع ہو گئے”
“باتیں کرنا ایک آسان مشغلہ ہے اس شخص کے لئے اور بھی زیادہ جسے کوئی ہنر نہیں آتا۔۔۔۔ تم لکھاری سب سے بے ہنر قوم ہوتے ہو اور اس لئے صرف بولتے رہتے ہو چپڑ چپڑ۔۔۔۔۔ اور میری نظر میں تو لکھاری زمین کا بوجھ ہوتے ہیں اور یہ بوجھ اور بھی بڑھ جاتا ہے جب وہ کتابیں پیسہ کمانے کے لئے لکھنے لگتے ہی ۔کیا تمہاری باتوں کا اثر کسی مزدور،کسان یا تاجر پر ہوتا ہے؟ نہیں بلکہ چند طالب علموں پر جنہوں نے اپنی جوانیاں ان لوگوں کے لئے داؤ پر لگا رکھی ہیں جن کا مستقبل ایک وقت سے اگلے تک روٹی کے بارے میں سوچنا ہے۔ جب تک یہ نوجوان لڑتے رہیں گے ان کو روٹی ملتی رہے گی اور بالآخر وہ بھی تھک کے بیٹھ جائیں گے کہ ان کے گھر والوں نے انہیں دوسروں کے لئے نہیں جنا۔۔۔ اور پھر سب ختم۔۔۔۔کیا میں نے کچھ غلط کہا؟” راہگیر نے میز پر مکا مارتے ہوئے کہا۔

 

“تمہارے پاس کیا تھا جو چھین لیا گیا؟”لکھاری نےبات بدلتے ہوئے کہا۔

 

“ایک موٹر سائیکل اور کچھ پیسے تھے۔”اس نے جواب دیا۔

 

“تنخواہ کتنی ہےتمہاری؟” ادیب نے پوچھا

 

“بارہ ہزار۔۔۔۔جتنی ایک مزدور کی ہوتی ہے۔”

 

“اسکوٹر کتنے کا تھا؟”

 

“چالیس ہزار کا”

 

“اتنے پیسے کہاں سے آئے تمہارے پاس؟”

 

“بچت کر رہا تھا۔۔۔۔ دو سال سے کہ موٹر سائیکل خریدوں گا اور جب لی تب یہ ہو گیا۔۔۔ ایسوں کے لئے تم لوگوں کو لڑنے کا کہتے ہو؟ ان کے ساتھ یہی ہونا چاہیے جو ہو رہا ہے۔۔۔مرنے دو سالوں کو!!” راہگیر نے غصے اور دکھ کے ملے جلے تاثرات میں کہا۔

 

“تمہیں پتہ ہے تم کب تک زندہ رہو گے؟ مطلب تم کسی حادثے کا شکار ہو سکتے ہو، کسی پولیس مقابلے میں مارے جا سکتے ہو، کیا ایسا نہیں ہو سکتا؟” لکھاری نے استفسار کیا۔

 

“ہاں ہو سکتا ہے” راہگیر نے تائید کرتے ہوئے کہا۔

 

“جب تمہیں ایک دن کا پتہ نہیں کہ جیو گے یا مرو گے تو اس ایک دن کے لئے تم نے اپنے دو سال ضائع کیوں کر دیے۔کیا ان دو سال کے بے شمار گھنٹے جو تم نے پیسہ کمانے میں ضائع کیے ایک دن سے زیادہ نہیں بنتے اور بنتے ہیں تو تم نے اتنا گھاٹے کا سودا کیوں کیا؟ تم نے ایک دن بچانے کی خاطر دو سال ضائع کر دیے” لکھاری نے جذباتی انداز میں کہا۔

 

کیا ماحول تمہیں اپنے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی اجازت دیتا ہے، خاص کر کہ اس وقت جب تم میں سے ایک پیسہ اور عہدہ کے لحاظ سے دوسرے سے بہتر ہے۔
اس کے ایسا کہنے پر راہگیر نے کوئی جواب نہ دیا۔ شاید اسے اپنی بیوقوفی پر شرمندگی ہو رہی تھی یا پھر اس فلسفی کی حقیقت سے ناآشنا باتوں نے اسے چپ رہنے پر مجبور کر دیا تھا۔

 

“تم لوگ کہاں سے ایسی باتیں نکال لیتے ہو؟ اور یہ سگریٹ تم ادیبوں کی سلاجیت ہوتا ہے کہ سلگائی اور باتیں پیدا کرنا شروع ہو گئے”

 

“ہاں ہوتا ہے اور یہ باتیں تم لوگوں کے لئے پیدا کی جاتی ہیں، اتنی کہ ایک آدھ بھی تم لوگوں کو سمجھ آجائے تو کچھ پل چین سے گزر سکیں۔ مگر یہ باتیں کہاں تم لوگوں کی سمجھ میں آئیں گی۔ تمہارے کان یہ سننے کے لئے بنے ہی نہیں اور نہ تمہاری زبانیں یہ کہنے کے لئے۔ اور یہی فرق ہے تم میں اور ہم میں” لکھاری نے متکبرانہ انداز میں کہا۔

 

“ہاہاہا! تم بہت معصوم ہو، لاقانونیت میں حکمران اور عوام کے فرق کے علاوہ سب برابر ہوتے ہیں، تم کوئی اصول توڑو تو سہی,فرق خود ہی دیکھ لو گے۔ اور ہم تم پہ کیا اعتبار کریں؟ کیا تمہیں اپنے اوپر بٹھا لیں؟ لوگ بھوک سے مر رہے ہوں اور تمہیں تمباکو کے علاوہ کچھ سجھائی نہ دے؟” راہگیر نے رعونت سے کہا…

 

“ایسا میں نے کب کہا؟”لکھاری نے استفسار کیا۔

 

“تمہارا مطلب تو یہی ہے۔” راہ گیر نے جواب دیا۔

 

میرا مطلب ہے کہ ایک دفعہ دل کی سنو، دل کیا کہتا ہے، ضمیر کی کیا پکار ہے۔ کیا ماحول تمہیں اپنے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی اجازت دیتا ہے، خاص کر کہ اس وقت جب تم میں سے ایک پیسہ اور عہدہ کے لحاظ سے دوسرے سے بہتر ہے۔ اگر نہیں تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟ لکھاری نے کہا۔

 

لکھاری نے اسے روکنے کے لئے آوازیں دیں، چلایا کہ وہ اس کے ساتھ اسٹیشن جائے گا مگر وہ نہ رکا اور آن کی آن میں غائب ہو گیا۔
اس طرح بات کبھی مذہب پہ چھڑ جاتی تو کبھی کشمیر، اور فلسطین اسرائیل کی حالیہ لڑائی پر۔۔۔۔

 

باتیں کرتے ہوئے انہیں پتہ ہی نہ چلا کہ ستارہ کب ان کے سر کے اوپر سے گزر چکا تھا۔

 

وقت کیا ہو گیا ہے؟ راہ گیر نے پوچھا۔ “اذان ہوتے ہی میں یہاں سے چلا جاؤں گا۔”

 

“اذان ہونے میں تھوڑا وقت رہ گیا ہے۔” لکھاری نے گھڑی دیکھتے ہوئے کہا۔

 

تھوڑی دیر میں اذانیں ہونا شروع ہو گئیں اس نے جلدی سے ہاتھ ملایا اور حویلی سے باہر نکل گیا۔ لکھاری نے اسے روکنے کے لئے آوازیں دیں، چلایا کہ وہ اس کے ساتھ اسٹیشن جائے گا مگر وہ نہ رکا اور آن کی آن میں غائب ہو گیا۔
اگلے دن دوپہر کو اس کے چوکیدار نے اطلاع دی کہ انسپکٹر صاحب آئے ہیں،کل رات ہونے والی ڈکیتی کے سلسلے میں بات کرنا چاہتے ہیں۔ اس نے اسے اندر آنے کا کہا۔

 

انسپکٹر کے اندر داخل ہوتے ہی لکھاری کے اوسان خطا ہوگئے۔ انسپکٹر وہی راہگیر تھا جو ساری رات اس کے ساتھ رہا تھا۔
“مجھے پتہ چلا تھا کہ تم غیر ریاستی حرکات میں ملوث ہو۔ اس لئے مجھے بھیس بدلنا پڑا۔”

 

 

تو پھر تمہیں کیا لگا؟” لکھاری نے پوچھا۔
“سب الٹ!”

 

یہ کہہ کر وہ پیچھے مڑا اور بغیر ہاتھ ملائے باہر نکل گیا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

پس نوشت: یہ کہانی محمد علی نیکو کار جیسے افسران کے نام ہے۔ جو نوکری سے زیادہ اصولوں کو اہمیت دیتے ہیں۔ انہوں نے نوکری کی قربانی تو دے دی مگر عوام کے اوپر آنسو گیس چلانے سے انکار کر دیا کہ وہ ان کے جذبات کی ترجمانی قرار رہے تھے۔ حکومت سے زیادہ ریاست اہم ہوتی ہے۔ اور ریاست عوام کے بغیر وجود نہیں رکھتی۔
Categories
فکشن

تجربہ

سنہری دھوپ پرندے کے سفید پروں پر پڑتی اور وہ روپہلے ہو جاتے۔ پرندہ آج بہت خوش تھا۔ اس نے پیٹ بھر دانہ چُگا تھا اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ پانی میں کھیلا تھا اور اب بادلوں کی چھوٹی بڑی ٹکڑیوں سے بھرے آسمان کے نیچے دیر تک اڑنا چاہتا تھا۔

خوشی اس کی زبان سے چہچہے بن کر پھوٹنے لگی اور نئی بہار کی ٹھنڈی ہوا اس کے سینے سے سکھ بن کر لپٹی تو پرندے نے اُس کے استقبال کو بازو کھولے اور آنکھیں موندے ہوا میں ساکت تیرنے لگا۔

اسے جنگل سے گزرتی ندی کے چوڑے پاٹ پر یونہی اڑتے بہت دیر ہو گئی تو اس نے اپنی حسین، کالی اور دانائی سے پُر آنکھوں سے واپسی کا راستہ ماپا۔ ‘میں زیادہ دور نہیں آیا’۔ اس نے دو، چار بار پروں کو پھڑپھڑا کر پھر سے ہوا میں معلق کر لیا۔ کچھ دیر بعد اس نے پھر سے واپسی کا راستہ دیکھا اور مڑنے کو ہوا میں لمبی اڑان بھری۔ اب وہ پانی کی قربت میں اڑنا چاہتا تھا۔ مگر جیسے ہی وہ ہوا میں بلند ہوا، ایک ہولناک دھماکے نے اس کے کان سُن کر دیئے۔ پرندہ ہڑبڑا گیا مگر اڑان کے عادی پروں نے اسے سنبھالا دیا اور مزید بلندی پر لے گئے۔ پھرایک اور گولی چلی اور اس کے پروں کو چھو کر نکل گئی۔ پرندہ ہر ممکن تیزی سے اپنے گھر کی سمت لپکا۔ اسے خطرے کی حد سے نکلنے کو صرف چند لمحے درکار تھے۔ اس نے اپنے طاقتور پروں کو پوری قوت سے جھٹکا۔ اتنی شدت سے کہ پر آپس میں ٹکرانے لگے اور ان کی آواز دور تک سنائی دینے لگی۔

وہ جانتا تھا کہ بلندی پر رہنا خطرناک ہو سکتا ہے سو اس نے سانس لینے کی ساری طاقت بھی پروں کو پہنچائی اور ندی کی طرف غوطہ لگایا۔ اس سے بہت دور، اس کے ساتھی ، دھماکوں کی آوازیں سن کر اپنے محفوظ ٹھکانوں کی جانب اُڑ چکے تھے۔ پرندے نے ان کے بارے میں سوچنے پر وقت ضائع کیے بغیر پرواز جاری رکھی۔ تبھی تیسرا دھماکہ ہوا اور ہوا اس کے پروں کی گرفت سے نکل گئی۔ درد کی رگوں کا خوابیدہ جال ایک جھٹکے سے جاگا اور اس کے سارے بدن سے لپٹ گیا۔

کشش ثقل کی ظالم شدت نے اسے تیزی سے اپنی جانب کھینچا اور پرندے نے گرتے ہوے بھی ہوا کو پکڑنے کی کوشش جاری رکھی۔ درد سے اس کی آنکھیں مندنے لگیں تو اس نے پروں کا بچا کھچا زور بھی آنکھوں کو کھلے رکھنے کی جدوجہد میں لگا دیا۔ مگر اس سے نہ گرنے کی رفتار میں کمی آ سکی اور نہ ہی درد کی شدت میں۔ بالآخروہ پوری رفتار کے ساتھ پانی سے ٹکرایا اور پھردھیرے سے اس میں ڈوبنے لگا۔ پچھلے چند لمحے کی قیامت خیزی یک دم پر سکون ہوگئی۔ ٹھنڈے پانی نے اس کے زخم پر پھاہا رکھا اور اس کی آنکھیں کھل گئیں۔ پرندے کے درد سے تھکے ہوئے پر، پانی کی نرمی اور ٹھنڈک پر آرام کرنا چاہتے تھے مگر وہ جانتا تھا کہ یہ چند لمحے کی مہلت ہے۔

شکاری کتوں کی آوازیں قریب آتی جا رہی تھیں، اس نے ایک لمحے کو آنکھیں موندیں اور آج کے دن کی ساری خوشی پروں میں بھر کر انہیں پورے زور سے پھڑپھڑایا۔ اس کی آنکھوں میں اب صرف اپنے گھونسلے کو لوٹنے کی چاہ تھی۔ پرندے نے خود کو آوپر اٹھانے کی کوشش کی اور اس بار ہوا نے اچھے دوست کی طرح اس کا ہاتھ تھام لیا ۔ پرندہ پانی کی سطح کے ساتھ ساتھ اڑتا جنگل میں غائب ہو گیا۔

جس وقت سست رفتاری سے اڑتا ہوا، وہ اپنے گھونسلے تک پہنچا، تب تک شام ڈھل چکی تھی اور اس کی مادہ بے چینی سے ہوا میں چکرا رہی تھی۔ پرندہ تھکن اور درد سے اٹے پروں کو سمیٹتا، بہت آہستگی اور خاموشی سے اپنے گھر میں اترا۔ اس کی سنجیدگی جنگ سے لوٹے ان سورماوں جیسی تھی جو جیت کی خوشی اورہار کے دکھ کی بجائے، زندگی اور موت کے تصادم کی گھمبھیرتا لیے واپس لوٹتے ہیں۔ وہ ایک اور تجربہ کی پختگی سے گزر کر مزید حسین ہو گیا تھا مگر اس کے روپہلے پر، لہو سے لال ہو چکے تھے۔